جمعہ, مارچ 20, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 429

بہار اسمبلی: بی جے پی کے وجے سنہا 17 ویں اسمبلی کے اسپیکر منتخب

0

 

بہار اسمبلی میں آج اسپیکر عہدہ کیلئے کرائے گئے انتخاب میں بی جے پی کے وجے سنہا کو 126 اور مہا گٹھ بندھن کے راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) امیدوار اوودھ بہاری چودھری کو 114 ووٹ حاصل ہوئے۔

پٹنہ: قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وجے سنہا نے آج اپوزیشن جماعتوں کے مہا گٹھ بندھن کے امیدوار اوودھ بہاری چودھری کو شکست دے کر 17 ویں اسمبلی کے اسپیکر منتخب کئے گئے۔

اسمبلی میں آج اسپیکر عہدہ کیلئے کرائے گئے انتخاب میں بی جے پی کے مسٹر وجے سنہا کو 126 اور مہا گٹھ بندھن کے راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی) امیدوار مسٹر چودھری کو 114 ووٹ حاصل ہوئے۔

مسٹر سنہا کے حق میں این ڈی اے کی حلیف بی جے پی کے 74، جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے 43، ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) کے 04، ویکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے 04 اور ایک آزاد رکن اسمبلی نے ووٹ کیا۔ مسٹر سنہا کو لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے ایک اور آزاد رکن کی حمایت ملی لیکن ہم کے جیتن رام مانجھی کے پروٹیم اسپیکر ہونے کی وجہ سے وہ ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکے۔

وہیں مسٹر چودھری کو مہا گٹھ بندھن کی حلیف آر جے ڈی کے 75، کانگریس کے 19، سی پی آئی ایم ایل کے 12، سی پی آئی اور سی پی آئی ایم کے 2-2، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے پانچ اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ایک سمیت 116 اراکین کی حمایت ملی۔ لیکن دو اراکین کے ووٹنگ میں حصہ نہیں لینے کی وجہ سے مسٹر چودھری کو 114 ووٹ ملے۔

احمد پٹیل کا انتقال، صدر جمہوریہ، وزیر اعظم و گاندھی خاندان کا اظہار تعزیت

0
کانگریس کے قدآور لیڈر احمد پٹیل کا انتقال
کانگریس کے قدآور لیڈر احمد پٹیل کا انتقال

کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کا انتقال ہوگیا۔ ان کے بیٹے فیصل پٹیل نے ٹویٹر پر اپنے والد کے انتقال کی اطلاع دی۔ جناب پٹیل ایک ماہ قبل کورونا سے متاثر ہوئے تھے۔ انہیں 15 نومبر کو میدانتا اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا۔

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کا بدھ کی صبح ساڑھے تین بجے انتقال ہوگیا۔ انہیں گروگرام کے میدانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انہوں نے اپنی آخری سانس لی۔ علاج کے دوران ان کے کئی اعضا نے کام کرنا بند کردیا تھا۔

ان کے بیٹے فیصل پٹیل نے ٹویٹر پر اپنے والد کے انتقال کی اطلاع دی۔

فیصل نے لکھا، ’’ایک ساتھ کئی اعضا نے کام کرنا بند کردیا تھا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔ اپنے سبھی خیر خواہوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس وقت کورونا وائرس کے اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور سماجی دوری کے سلسلے میں پرعزم رہیں اور کسی بھی اجتماعی انعقاد میں جانے سے بچیں۔‘‘

71 سالہ جناب پٹیل ایک مہینے پہلے کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ انہیں 15 نومبر کو میدانتا اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا۔

وزیر اعظم کا احمد پٹیل کے انتقال پر اظہار تعزیت

وزیراعظم نریندر مودی نے کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔مسٹر پٹیل کا کورونا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے گڑگاؤں کے میدانتا اسپتال علاج چل رہا تھا جہاں ان کی موت ہوگئی۔

جناب مودی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ "احمد پٹیل جی کے انتقال سے دکھی ہوں۔انہوں نے عوامی زندگی میں طویلے وقت تک سماج کی خدمت کی ہے۔ اپنے تیز دماغ کےلئے جانے جانے والوں مسٹر پٹیل کا کانگریس پارٹی کو مضبوط کرنے میں تعاون ہمیشہ یاد کیا جائےگا۔”

ان کے بیٹے فیصل سے بات کرکے اپنی تعزیت کا اظہار کیا۔ ایشور سے دعا کی ہے کہ احمد بھائی کی روح کو سکون پہنچے۔

صدر جمہوریہ کا اظہار تعزیت

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کے انتقال پر گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ مسٹر کووند نے بدھ کو ٹویٹ کے ذریعہ دئے گئے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا،’’کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کے انتقال کے سلسلے میں جان کر دکھ ہوا۔ مسٹر پٹریل نہ صرف اہل رکن پارلیمنٹ تھے،بلکہ ان میں بہترین سیاست داں کی صلاحیت اور عوامی رہنما کا جادو بھی تھا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ "اپنے دوستانہ جذبے کی وجہ سے پارٹی کے باہر بھی انہوں نے دوست بنائے تھے۔ ان کے گھروالوں اور دوستوں کو میری تعزیت۔”

سونیا گاندھی کا اظہار غم

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پارٹی کے سینئر لیڈر احمد پٹیل کے انتقال پر گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کے لئے مختص اور بھروسے مند رہنما تھے اور ان کے انتقال سے پارٹی کو بڑا نقصان ہوا ہے۔

محترمہ گاندھی نےیہاں جاری تعزیتی پیغام میں کہا کہ "مسٹر احمد پٹیل کی شکل میں ،میں نے اپنا ایک ایسا ساتھ کھو دیا ہے جس کی زندگی کانگریس کو مختص رہی ہے۔ ان کی ایمانداری ،قربانی اور کام کے تئیں جو عزم رہا ہے وہ انہیں دوسروں سے الگ رہنما کے طورپرپیش کرتا ہے۔”


انہوں نے کہا،’’ میں نے ایک ایسا پرعزم ساتھ اور دوست کھو دیا ہے جس کا متبادل ممکن نہیں ہے ۔ میں ان کے انتقال سے صدمے میں ہوں اور سوگوار کنبے کےتئیں تعزیت کا اظہار کرتی ہوں۔” ادھر راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے سچا مشیر کھو دیا۔ پرینکا گاندھی و دیگر کانگریس رہنماؤں نے بھی اظہار تعزیت کیا۔

کانگریس پارٹی کے رہنماؤں کے تعزیت کے علاوہ بی جے پی، ایس پی، بی ایس پی رہنماؤں نے بھی جناب احمد پٹیل کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔

جناب احمد پٹیل کی سیاسی زندگی

سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر رہے حناب پٹیل کی پیدائش 21 اگست 1949 کو گجرات میں بھروچ ضلع کے پیرامل گاؤں میں ہوئی تھی۔ اس وقت بھروچ کانگریس کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ وہ پہلی بار 1977 میں 26 سال کی عمر میں بھروچ سے لوک سبھا کا الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ جناب پٹیل یہاں سے تین لوک سبھا رکن پارلیمنٹ منتخب کئے گئے۔ پارٹی میں رفتہ رفتہ ان کا قد بڑھتا گیا اور 1985 میں اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی کے پارلیمانی سکریٹری بنائےگئے۔

جناب پٹیل کو 1986 میں گجرات کانگریس کا صدر بنایا گیا۔ وہ 1988 گاندھی – نہرو خاندان کے ذریعہ چلائے گئے جواہر بھون ٹرسٹ کے سکریٹری بنائے گئے۔ وہ سونیا اور راجیو دونوں کے بھروسے مند شخص رہے۔ وہ تین بار لوک سبھا رکن پارلیمنٹ بننے کے علاوہ پانچ بار راجیہ سبھا رکن بھی رہ چکے تھے۔ پردے کے پیچھے سے سیاست کرنے والے جناب پٹیل کو 2018 میں کانگریس پارٹی کا خزانچی مقرر کیا گیا تھا۔

لو جہاد قانون بنانے والے محبت سے ناآشنا: ابھیشیک مشرا

0
لو جہاد قانون بنانے والے محبت سے ناآشنا: ابھیشیک مشرا
لو جہاد قانون بنانے والے محبت سے ناآشنا: ابھیشیک مشرا

ابھیشیک مشرا نے کہا کہ حکومت میں کسان اور بے روزگار نوجوان پریشان ہیں۔ جرائم کے سبھی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ بیٹیاں، خواتین غیر محفوظ ہیں اور جو ‘پیار’ کے مطلب سے ناآشنا ہیں وہ لو جہاد قانون بنا رہے ہیں۔

اٹاوہ: اترپردیش میں حکمراں جماعت کی جانب سے مجوزہ لو جہاد قانون پر سوال اٹھاتے ہوئے سماج وادی پارٹی(ایس پی) لیڈر و سابق کابینہ وزیر ابھیشیک مشرا نے کہا کہ جو ‘پیار’ کے مطلب سے ناآشنا ہیں وہ لوجہاد قانون بنا رہے ہیں۔

جناب مشرا منگل کو میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ اس حکومت میں کسان اور بے روزگار نوجوان پریشان ہیں۔ جرائم کے سبھی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ بیٹیاں، خواتین غیر محفوظ ہیں۔ ریاست کے ہر شہر میں جرائم اپنی شباب پر ہے۔ قتل، لوٹ اور عصمت دری کے واقعات عام ہوچکے ہیں۔ ریاست میں جنگل راج قائم ہے۔

اکھلیش یادو کو ریاست کی کمان سونپنے کا دعویٰ

انہوں نے دعوی کیا کہ سال 2022 کے اسمبلی انتخابات میں عوام ریاست کا نظام بدل کر اکھلیش یادو کو ریاست کی کمان سونپیں گے۔

انہوں نے کہا ‘ہم لوگ سماج وادی حکومت کے ذریعہ کرائے گئے ترقیاتی کاموں کو عوام سے متعارف کرا رہے ہیں۔ 2022 کے انتخابات میں عوام ریاست کا نظام تبدیل کرنے والے ہیں۔ عوام میں اکھلیش یادو کو ایک بار پھر اترپردیش کا وزیر اعلی بنانے کی گفتگو عام ہے۔

ایس پی لیڈر نے کہا کہ بیشک ابھی اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کی آہٹ نہ ہو لیکن اس کے باوجود ابھی سے ہی ہر جانب ریاست کے نئے وزیر اعلی کے طور پر ایس پی کے سربراہ اکھلیش یادو کے نام موضوع گفتگو ہے۔ ریاست میں حکمراں جماعت بی جے پی کی عوام مخالف پالیسیوں سے خفا عوام اب ایک بار پھر سے ریاست میں سماج وادی حکومت کی امید کرنے لگے ہیں۔

بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے جناب مشرا نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں برہمنوں کا استحصال ہورہا ہے۔ آئے دن برہمنوں کا قتل ہورہا ہے۔ وزیر اعلی یوگی نے برہمن سماج کے خلاف مہم کھول رکھی ہے۔

ٹرمپ نے مان لی شکست، نو منتخب صدر بائیڈن کی انتظامیہ کو ملی اقتدار کی منتقلی کی منظوری

0

 

امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جوزف بائیڈن کو فاتح قرار دیئے جانے کے کوئی دو ہفتے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار شکست تسلیم کی ہے۔ ٹرمپ نے نو منتخب صدر بائیڈن کی انتظامیہ کو اختیارات منتقلی کی منظوری دے دی۔

واشنگٹن: انجام کار صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نو منتخب صدر جوزف بائیڈن کی انتظامیہ کو اختیارات منتقلی کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ہی شش و پنج کا وہ ماحول ختم ہوا جو ٹرمپ کے مسلسل ٹال مٹول کا نتیجہ تھا۔

جنرل سروس ایڈمنسٹریشن کی سربراہ ایملی مرفی نے تحریری طور پر نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کو آگاہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اقتدار کی باضابطہ منتقلی کا عمل شروع کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔

ایملی مرفی کا ئی مکتوب مل جانے کے بعد اب بائیڈن انتطامیہ حکومت سازی کے لئے سرکاری فنڈ استعمال کرنے کی متحمل ہو گئی ہے۔ نومنتخب صدر جو بائیڈن نے اقتدار کی پرامن منتقلی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو فاتح قرار دیئے جانے کے کوئی دو ہفتے بعد صدر ٹرمپ نے اس اولین اقدام کے ذریعہ پہلی بار شکست تسلیم کی ہے۔

ایملی مرفی کے مکتوب کے مطابق یہ فیصلہ قانون اور دستیاب حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا بہر حال کہنا ہے کہ جہاں تک قانونی جنگ کا سوال ہے تو وہ جاری رہے گی۔

حج 2021 کورونا کی وجہ سے ہوگا مہنگا: عباس نقوی

0
حج 2021 کے لیے بڑی تبدیلیوں کا اعلان، انکم ریٹرن کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ
حج 2021 کے لیے بڑی تبدیلیوں کا اعلان، انکم ریٹرن کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

 

2021 کا حج کورونا کی وجہ سے الگ ہی صورتحال میں ہوگا، جس سے حج کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ بھارت سے حاجیوں کا پہلا قافلہ 26 جون کو جبکہ آخری قافلہ 13 جولائی کو سعودی عرب روانہ ہونے کی توقع ہے۔

سری نگر: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے اگلے سال یعنی سال 2021 کے حج کے اخراجات مہنگے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے یہ حج ایک الگ صورتحال میں انجام پذیر ہوگا۔
ان کا کہنا ہے: ‘سال 2021 کا حج جو ہوگا وہ کورونا کی وجہ سے الگ ہی صورتحال میں ہوگا، اس صورتحال میں حج کے اخراجات میں اضافہ ہوگا جس سے حج کے خرچہ جات بڑھیں گے’۔
انہوں نے کہا: ‘حج چونکہ سعودی عرب میں ہوتا ہے وہاں کی حکومت کے پروٹوکال کے مطابق جس کمرے میں آٹھ نو لوگ رہتے تھے اس میں اب صرف دو یا تین ہی لوگ رہ سکتے ہیں۔ جس گاڑی میں 45 حاجی سفر کرتے تھے اس میں زیادہ سے زیادہ بیس حاجی ہی سفر کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی دیگر اخراجات بڑھیں گے’۔

عازمین حج کا روانگی سے 72 گھنٹے قبل کورونا ٹیسٹ

جناب نقوی نے کہا کہ عازمین حج کا سفر پر روانہ ہونے سے 72 گھنٹے قبل کورونا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس سے قبل کورونا ختم ہوا ہوگا۔

موصوف وزیر نے کہا کہ ہمارا سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کے ساتھ ماہ دسمبر میں دو طرفہ معاہدہ طے ہونے والا ہے جس میں دیکھا جائے گا کہ ہمیں کتنا کوٹا مل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے پیش نظر حاجیوں کی عمر کی حد کو بھی 18 سے 65 برس تک محدود کر دیا گیا ہے۔

جناب نقوی نے کہا کہ محرم کے بغیر حج کرنے والی خواتین امسال بھی درخواست جمع کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کورونا کے پیش نظر سعودی عرب جانے کے لئے پروازوں کے ایمبارکیشن پوائنٹس کو 21 سے گھٹا کر 10 کر دیا ہے تاہم ان دس پوائنٹس میں سری نگر شامل ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حج سال 2021 کے لئے بھارت سے حاجیوں کا پہلا قافلہ 26 جون کو جبکہ آخری قافلہ 13 جولائی کو سعودی عرب روانہ ہونے کی توقع ہے۔ حاجیوں کی واپسی کا سلسلہ 14 اگست سے شروع ہونے کی امید ہے۔ کورونا وبا کی وجہ سے سال 2020 کا حج متاثر ہی رہا۔

ایتھوپیا کے 45 ہزار سے زائد مہاجرین نے سوڈان میں لی پناہ

0

ایتھوپیا سے نقل مکانی کرکے سوڈان میں پناہ لینے والے افراد کی تعداد 45،000 سے تجاوز کر چکی ہے، حالانکہ مقامی مسائل جیسے مہاجرین کے لئے رہائش کے انتظامات انسانی امدادی تنظیموں کے سست کام کی وجہ سے باقی ہیں۔

قاہرہ: ایتھوپیا کے ٹگری خطے میں تنازعہ کے آغاز سے اب تک ملک چھوڑنے والے 45 ہزار سے زیادہ مہاجرین سوڈان میں پناہ لے چکے ہیں۔ یہ معلومات سوڈان کی مہاجر ایجنسی کے سربراہ السیر خالد نے دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا سے نقل مکانی کرکے سوڈان میں پناہ لینے والے افراد کی تعداد 45،000 سے تجاوز کر چکی ہے، حالانکہ انسانی امدادی تنظیموں کے سست کام کی وجہ سے مہاجرین کے لئے رہائش کے انتظامات جیسے مقامی مسائل بدستور برقرار ہیں۔
ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد نے اتوار کے روز کہا تھا کہ ٹگری پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کے باغیوں نے پرامن ہتھیار ڈالنے کے لئے تین دن مانگے ہیں اور سرکاری افواج سے شہریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مطالبہ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایتھوپیا کی حکومت نے فوجی اڈے پر حملہ کرنے کے الزامات کے بعد سرکاری فوج اور ٹی پی ایل ایف کے مابین تنازعہ کی صورتحال ہے۔

دہلی فسادات: فیضان کی ضمانت کے خلاف دہلی پولیس کی عرضی کو سپریم کورٹ نے کیا مسترد

0

دہلی ہائی کورٹ نے گذشتہ ماہ دہلی پولیس کو فیضان خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ دہلی پولیس نے فیضان کو ضمانت پر رہا کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی فسادات معاملے کے ملزم فیضان خان کی ضمانت رد کرنے سے متعلق عرضی پیر کے روز مسترد کردی۔

فیضان کے خلاف جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے طلباء کو واٹس ایپ گروپ بنانے کے لئے سم کارڈ فراہم کروانے کے معاملے پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، (یو اے پی اے) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے گذشتہ ماہ دہلی پولیس کو فیضان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ دہلی پولیس نے فیضان کو ضمانت پر رہا کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔

جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے آج سماعت کے دوران دہلی پولیس کی عرضی خارج کردی۔

واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے گزشتہ 24 اکتوبر کو فیضان کو اس بنیاد پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا کہ پولیس کے پاس ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔

کورونا: سپریم کورٹ کا اظہار تشویش، سبھی ریاستوں سے حالات کی تازہ ترین رپورٹ کا مطالبہ

0
ملک بھر میں کورونا وائرس کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے سپریم کورٹ کا اظہار تشویش
ملک بھر میں کورونا وائرس کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے سپریم کورٹ کا اظہار تشویش

ملک بھر سے کورونا کے معاملوں میں تیزی سے اضافے کی خبر ہے۔ پچھلے دو ہفتے میں دہلی میں حالات خطرناک ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے دہلی سمیت ملک کے سبھی ریاستوں سے حالات کی رپورٹ طلب کی ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی سمیت ملک کے مختلف ریاستوں میں کورونا وائرس کی وبا کے خطرناک ہوتے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پیر کو سبھی ریاستوں سے حالات کی رپورٹ طلب کی ہے۔
جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ کی بینچ نے کورونا پر از خود نوٹس لینے والے معاملے کی سماعت کے دوران کہا کہ ملک بھر سے کورونا کے معاملوں میں تیزی سے اضافے کی خبر آرہی ہے۔ پچھلے دو ہفتے میں دہلی میں حالات خطرناک ہوئے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ کورونا معاملے کی خطرناک شکل کے پیش نظر سبھی ریاستوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ کورونا انفیکشن اور اس کیلئے کئے جارہے اقدامات سے متعلق تازہ حالات رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کریں۔

دہلی حکومت سے مریضوں کے انتظام سے متعلق حالات کی تازہ ترین رپورٹ کا مطالبہ

سماعت کے دوران جسٹس بھوشن نے دہلی حکومت سے پوچھا کہ وہ حالات کو کیسے سنبھال رہی ہے اور کورونا انفیکشن کے مریضوں کا علاج کیسے کیا جارہا ہے؟ کیا دہلی کے اسپتالوں میں مریضوں کیلئے مناسب بستروں کا انتظام ہے؟
اس کے جواب میں دہلی حکومت کے وکیل نے کہا کہ دہلی کے سبھی اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کیلئے بستر ریزرو کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد بینچ نے دہلی حکومت سے مریضوں کے انتظام کے سلسلے میں حالات کی تازی رپورٹ پیش کرنے کو کہا۔
اس دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے اس بات کے سلسلے میں اتفاق کا اظہار کیا کہ دہلی حکومت کو کورونا معاملے میں اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ (امت شاہ) نے گزشتہ 13 نومبر کو اس سلسلے میں ایک میٹنگ کی تھی اور کئی ہدایات جاری کئے تھے۔
عدالت نے اس معاملے کی سماعت جمعہ تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے دہلی سمیت سبھی ریاستوں کو ہدایت دی کہ وہ اس دوران انفیکشن سے متعلق حالات کی تازہ رپورٹ اس کے سامنے پیش کریں۔ بینچ نے کہا کہ اگر ریاستی حکومتیں پوری طرح سے تیار نہیں ہوتی ہیں تو دسمبر میں حالات بد سے بدتر ہوسکتے ہیں۔

پٹرول – ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے دن بھی اضافہ

0

آئل مارکیٹنگ کی معروف کمپنی انڈین آئل کے مطابق، آج ملک کے چار بڑے شہروں میں ڈیزل کی قیمتوں میں 17 سے 19 پیسے اور پٹرول میں سات پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: کورونا وائرس کی ویکسین کی اچھی خبروں کے درمیان بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمتوں میں پیر کو مسلسل چوتھے روز زبردست اضافہ ہوا ہے۔

برینٹ کروڈ 45 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ جمعہ کے روز، دونوں ایندھن کی قیمتوں میں 48 دن تک مستحکم رہنے کے بعد پہلی بار اضافہ کیا گیا۔

عوامی شعبہ کی آئل مارکیٹنگ کی ایک معروف کمپنی انڈین آئل کے مطابق، آج ملک کے چار بڑے شہروں میں ڈیزل کی قیمتوں میں 17 سے 19 پیسے اور پٹرول میں سات پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

دہلی میں ڈیزل 18 پیسے اور پٹرول 07 پیسے فی لیٹر مہنگا ہے۔ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی ایک معروف کمپنی انڈین آئل کے مطابق، دہلی میں آج پٹرول 81.53 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 71.25 روپے فی لیٹر تھی۔

تجارتی شہر ممبئی میں پٹرول 88.23 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 77.73 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ کولکاتہ میں پٹرول 83.10 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 74.82 روپے فی لیٹر پر آگیا۔ چنئی میں پٹرول کی قیمت 84.53 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 76.72 روپے فی لیٹر تھی۔

آئی او سی ایل کے مطابق، آج ملک کے چار بڑے میٹرو میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت مندرجہ ذیل ہے۔

سٹی….. ڈیزل……. پٹرول…..
دہلی.   71.25       81.53
ممبئی.  77.73      88.23
کولکاتہ 74.82      83.10
چنئی.  76.72      84.53

وزیر اعظم مودی کا جی – 20 سے کووڈ – 19 پر فیصلہ کن اقدام کرنے کا مطالبہ

0
وزیر اعظم مودی کا جی - 20 سے کووڈ - 19 پر فیصلہ کن اقدام کرنے کا مطالبہ
وزیر اعظم مودی کا جی - 20 سے کووڈ - 19 پر فیصلہ کن اقدام کرنے کا مطالبہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود کی دعوت پر دیگر 19 سربراہان حکومت کے ساتھ اس کانفرنس میں شرکت کی، جو کووڈ – 19 کے پیش نظر ورچوئل طور پر منعقد ہورہی ہے۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے کورونا وائرس کی عالمی وبا کو دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کو درپیش ہونے والا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے جی- 20 سے اس کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جو صرف اقتصادی باز آبادکاری، روزگار یا تجارت تک محدود نہ ہو بلکہ کرہ ارض کے تحفظ کوبھی محیط ہو۔

وزیر اعظم نے ہفتہ کے روز سعودی عرب کے زیر اہتمام ہونے والی 15 ویں جی- 20 کانفرنس میں ورچوئل طریقے سے حصہ لیا۔ 21 سے 22 نومبر تک ہونے والی اس کانفرنس سے اپنے خطاب میں کورونا وائرس کے مابعد کی دنیا کے لیے نیا عالمی انڈیکس تیار کرنے کی اپیل کی جن میں سماج کے تمام طبقات کے لیے ٹیکنالوجی کی رسائی، مہارت سازی، نظام حکومت کی شفافیت اور کرہ ارضی کے ساتھ تحفظ کا سلوک کرنے کے چار اہم عناصر شامل ہوں۔ ان اہم عناصر پر جی-20 ایک نئی دنیا کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

وزیر اعظم کی شاہ سلمان کی دعوت پر دیگر 19 سربراہان حکومت کے ساتھ کانفرنس میں شرکت

وزیر اعظم مودی نے سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود کی دعوت پر دیگر 19 سربراہان حکومت کے ساتھ اس کانفرنس میں شرکت کی، جو کووڈ -19 کے پیش نظر ورچوئل طور پر منعقد ہورہی ہے۔ مسٹر مودی کے علاوہ اس اہم کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، روسی صدر ولادیمر پوتن اور چینی صدر شی جنپنگ بھی شریک ہورہے ہيں۔

نریندر مودی نے ٹویٹ کرکے کہا، "میں نے جی – 20 رہنماؤں کے ساتھ بہت اچھی گفتگو کی ہے۔ ہم یقینی طور پر دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں کی مربوط کوششوں سے اس عالمی وبا کے چنگل سے نکل جائیں گے۔ میں اس ورچوئل کانفرنس کی میزبانی کرنے پر سعودی عرب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں”۔

وزیر اعظم نے کہا، "ہمارے عمل میں شفافیت ہمارے معاشرے کو اجتماعی اور اعتماد کے ساتھ بحران سے لڑنے پر آمادہ کرتی ہے۔ کرہ ارضی کے تحفظ کا احساس ہمیں صحتمند اور اجتماعی طرز زندگی گزارنے کی ترغیب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ کووڈ-19 کے مابعد ‘کہیں سے بھی کام کرنا’ ایک نیا معمول بن چکا ہے، اس لیے جی – 20 کی ورچوئل سکریٹریٹ بنانے کی تجویز پر بھی غور کیا جائے۔

واضح رہے کہ موجودہ جی – 20 کانفرنس میں سربراہان کے ذریعہ اعلامیہ کو منظور کیے جانے کے بعد جی – 20 کی صدارت اٹلی کو سونپی جائے گی۔