بڑے پیمانے پر ووٹر جانچ، لاکھوں نام زیر سماعت اور حذف کی شرح سے بڑھی تشویش
مغربی بنگال میں آنے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے ووٹر لسٹ کی نظر ثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے ایک بڑا سیاسی اور سماجی تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ خاص طور پر ایک واقعہ جس کی وجہ سے اس پورے عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، وہ بشیرہاٹ نارتھ اسمبلی حلقے کا ہے جہاں ایک ہی بوتھ سے بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام اچانک حذف کر دیے گئے، جس سے عوامی سطح پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 23 مارچ کی رات دیر گئے ووٹر لسٹ کی پہلی سپلیمنٹری لسٹ جاری کی گئی۔ یہ وہ فہرست ہوتی ہے جس میں ان لوگوں کے نام شامل یا خارج کیے جاتے ہیں جن کے کیسز “under adjudication” یعنی "زیر سماعت” تھے۔ اسی فہرست کے جاری ہوتے ہی بشیرہاٹ نارتھ میں ایک غیر معمولی صورتحال سامنے آئی۔ یہاں کے ایک مخصوص بوتھ سے جو بیگم پور بی بی پور گرام پنچایت کے تحت آتا ہے، ایک ساتھ 340 ووٹروں کے نام ہٹا دیے گئے۔ یہ تمام افراد ایک ہی طبقہ سے تعلق رکھتے تھے جس کی وجہ سے معاملہ مزید حساس ہو گیا۔
دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے نام حذف کیے گئے، ان میں خود اس بوتھ کے بوتھ لیول آفیسر (BLO) محمد شفیع الاسلام کا نام بھی شامل تھا۔ BLO وہ شخص ہوتا ہے جو گاؤں یا علاقے کی سطح پر ووٹر لسٹ کی تیاری اور تصدیق کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کا نام خود لسٹ سے ہٹ جانا نہ صرف ایک تکنیکی خامی کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ پورے عمل کی شفافیت پر بھی سوال کھڑا کرتا ہے۔

اس بوتھ پر کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد تقریباً 992 تھی۔ ان میں سے 340 لوگوں کو پہلے ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں “under adjudication” کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا، یعنی ان کے کاغذات یا شناخت کی مزید جانچ ہونی تھی۔ لیکن جب سپلیمنٹری لسٹ جاری ہوئی، تو ان تمام لوگوں کے نام براہ راست حذف کر دیے گئے جس سے متاثرہ افراد میں بے چینی اور غصہ پیدا ہوگیا۔
اس کے بعد مقامی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا۔ سو سے زیادہ لوگوں نے سڑکوں پر آ کر اپنے غصے کا اظہار کیا۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے اور انہیں مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ الیکشن کمیشن کے عمل میں شفافیت کی کمی رہی اور ان کے کیسز کو مناسب طریقے سے نہیں دیکھا گیا۔
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ایک متاثرہ شخص کجیروال منڈل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق صرف ایک درست دستاویز کافی ہوتی ہے، لیکن یہاں کئی لوگوں نے تین یا چار دستاویزات جمع کروائے تھے، اس کے باوجود ان کے نام حذف کر دیے گئے۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر کاغذات مکمل تھے، تو پھر نام کیوں ہٹائے گئے؟ کیا یہ محض ایک تکنیکی غلطی تھی یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟

خود اس معاملے سے متاثر ہونے والے شخص محمد شفیع الاسلام نے کہا کہ انہوں نے خود ان ووٹروں کی مدد کی تھی تاکہ وہ اپنے فارم درست طریقے سے بھر سکیں اور تمام ضروری دستاویزات اپ لوڈ کر سکیں۔ ان کے مطابق تمام کام قواعد کے مطابق کیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود نام حذف کر دیے گئے، جو انتہائی حیران کن ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے کو قانونی سطح پر لے جائیں گے اور ٹریبونل میں چیلنج کریں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب انہوں نے اس معاملے پر بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (BDO) سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہیں بتایا گیا کہ اب اس پر کوئی کارروائی ممکن نہیں ہے۔ جبکہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) سے رابطہ بھی نہیں ہو سکا۔ اس طرح متاثرہ افراد کو ایک طرح سے بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، جس نے ان کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔
یہ واقعہ صرف ایک بوتھ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پورے عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کیونکہ جب ایک ہی بوتھ پر اس طرح کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے تو یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اور بھی ایسے معاملات پیش آ سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا یہ صرف ایک انتظامی غلطی ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑا پیٹرن موجود ہے۔

اب اگر ہم اس معاملے کو بڑے تناظر میں دیکھیں تو پورے مغربی بنگال میں تقریباً 60 لاکھ ووٹرز کو “under adjudication” کے زمرے میں رکھا گیا تھا۔ ان میں سے تقریباً 32 لاکھ کیسز کو اب تک حل کیا جا چکا ہے، اور ان میں سے قریب 40 فیصد کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو کل حذف شدہ ناموں کی تعداد 87 سے 88 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہر حذف شدہ نام غلط نہیں ہوتا۔ بہت سے معاملات میں حذف ہونا جائز ہوتا ہے، جیسے ایک ہی شخص کے دو نام ہونا، کسی کا دوسرے علاقے میں منتقل ہو جانا، یا کسی کا انتقال ہو جانا۔ اس لیے صرف تعداد دیکھ کر نتیجہ نکالنا درست نہیں ہوگا۔
اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں صحیح ووٹر کا نام بھی کسی وجہ سے حذف ہو جائے۔ عام طور پر ایسے عمل میں 60 سے 70 فیصد حذف درست ہوتے ہیں، لیکن 30 سے 40 فیصد ایسے ہو سکتے ہیں جہاں یا تو دستاویزات میں کمی ہو، یا کوئی تکنیکی غلطی ہو جائے، یا پھر ووٹر وقت پر جواب نہ دے سکے۔ یہی وہ حصہ ہے جہاں حقیقی تشویش پیدا ہوتی ہے۔
اگر ہم اس تناسب کو موجودہ صورتحال پر لاگو کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً 5 سے 18 فیصد ووٹرز ایسے ہو سکتے ہیں جن کے نام کا حذف ہونا واقعی ایک مسئلہ ہے۔ اور چونکہ کل تعداد لاکھوں میں ہے، اس لیے یہ “چھوٹا فیصد” بھی ایک بڑی تعداد بن جاتا ہے۔
اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے کو جذبات کے بجائے سمجھداری سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف جہاں یہ ضروری ہے کہ ووٹر لسٹ کو صاف اور درست رکھا جائے، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ کسی مستحق ووٹر کا حق ضائع نہ ہو۔
آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی کا نام “under adjudication” میں ہے تو وہ اسے نظر انداز نہ کرے۔ فوراً اپنی حیثیت چیک کرے، ضروری دستاویزات تیار رکھے اور متعلقہ حکام سے رابطہ کرے۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ وقت پر کارروائی نہیں کرتے، ان کے نام بعد میں لسٹ سے ہٹا دیے جاتے ہیں۔
یہ معاملہ صرف ایک علاقے یا ایک کمیونٹی کا نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کی ساکھ کا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے، تاکہ ہر ووٹر کو یہ یقین ہو کہ اس کا حق محفوظ ہے۔













