اتوار, مئی 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 428

حکومت کسانوں سے بلاشرط و تعصب کے مذاکرات کرے گی: پوری

0

وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے وزیر نریندر سنگھ تومر نے بار بار کہا ہے کہ تحریک کررہے کسانوں کے مسائل کو بلاتعصب یا شرط کے سنا جائے گا کھلے دل سے غور و خوض کیا جائے گا۔ حکومت کسانوں کے ہر مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے۔

نئی دہلی: حکومت نے آج دہرایا کہ وہ تحریک چلا رہے کسانوں سے بات چیت کرکے ان کے معاملات کو حل کرنا چاہتی ہے اور بات چیت کے لئے نہ کوئی شرط لگائی گئی ہے اور نہ ہی دل میں کوئی تعصب ہے۔
شہری ترقیات کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے یہاں ایک پروگرام کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کسانوں کے تمام مسائل حل کرنے اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے پرعزم ہے۔

حکومت کسانوں کے ہر مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے

وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے وزیر نریندر سنگھ تومر نے بار بار کہا ہے کہ تحریک کررہے کسانوں کے مسائل کو بلاتعصب یا شرط کے سنا جائے گا کھلے دل سے غور و خوض کیا جائے گا۔ حکومت کسانوں کے ہر مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کے درمیان گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے کہ کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) اور منڈی کا نظام ختم کردیا جائے گا۔ جبکہ پنجاب میں اس برس اناج کی خرید ہدف سے کہیں زیادہ ہوئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعطم نریندر مودی پارلیمنٹ میں بیان دے چکے ہیں کہ ایم ایس پی اور منڈ ی کا نظا م برقرار رہے گا۔ وزیر زراعت مسٹر تومر نے بھی ایک خط میں لکھ کر کہا ہے کہ یہ دونوں نظام قائم رہیں گے۔

ڈاکٹر پوری نے کہا کہ تحریک کررہے کسانوں کو حکومت کی طرف سے بات چیت کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ ہم نے کہا ہے کہ کسان ایک مقررہ مقام پر جمع ہوجائیں جہاں ان کے لئے ضروری سہولیات دستیاب کرائی گئی ہیں تاکہ باقی شہریوں کو دقت نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھیڑ کے ساتھ بات چیت نہیں ہوسکتی ہے۔ کسان ایک وفد کے طور پر آئیں اور حکومت ان کے ساتھ بلا شرط بات چیت کرے گی۔

راہل کے وزیراعظم پر الزامات کے جواب

کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی کے وزیراعظم مودی پر الزامات کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈاکٹر پوری نے کہا کہ وہ مسٹر گاندھی کے الزامات کے بارے میں نہیں جانتے لیکن جہاں تک مودی حکومت کا سوال ہے تو مسٹر گاندھی دیکھیں کہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کے دس برس کے دور اقتدار میں کھیتی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے جتنی رقم خرچ کی گئی اور جتنا خرچ 2014 کے بعد قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے دور اقتدار میں ا ب تک ہوچکا ہے اس کا مقابلہ کرلیں تو ان کے الزامات کی سچائی سامنے آجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے کسانوں کی سہولیت، خوشحالی اور فلاح و بہود کے لئے بہت کام کیا ہے اور آئندہ کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ کسانوں کو اگر کوئی غلط فہمی ہے یا واقعی ان کا کوئی واجب مسئلہ ہے تو اسے دور کیا جائے گا۔

سکھ برادری کی فلاح و بہبود کے لئے مودی حکومت کے اقدمات پر کتاب کا اجرا

ڈاکٹر پوری اطلاعات و نشریاست کے وزیر پرکاش جاوڈیکر کی رہائش گاہ پر گرو نانک دیو کے 551ویں پرکاش فیسٹول پر سکھ برادری کی فلاح و بہبود کی سمت میں مودی حکومت کے اقدمات پر ایک کتاب کا اجرا کرنے آئے تھے۔ یہ کتاب اطلاعات و نشریات کی وزارت نے تیار کی ہے۔

کتاب کے اجرا کے بعد ڈاکٹر پوری نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ وزیراعظم مسٹر مودی کا سکھ برادری کے ساتھ اٹوٹ تعلق ہے۔ ان کی حکومت نے پہلی بار ایسے اقدامات کئے ہیں جن سے سکھ برادری فخر محسوس کررہی ہے۔

لو جہاد: حکومت تبدیلی مذہب آرڈیننس پر از سر نو غور کرے: مایاوتی

0

بہوجن سماج پارٹی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ یوپی حکومت کے ذریعہ جلد بازی میں لایا گیا تبدیلی مذہب قانون متعدد شبہات سے بھرا ہوا ہے۔ لہذا یوگی آدتیہ ناتھ حکومت اس پر از سر نو غور کرے۔

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مبینہ لوجہاد کے ضمن میں لائے گئے تبدیلی مذہب آرڈیننس پر از سر نو غور کرے۔

پیر کو بی ایس پی سپریمو نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ‘لو جہاد کے سلسلے میں یوپی حکومت کے ذریعہ جلد بازی میں لایا گیا تبدیلی مذہب قانون متعدد شبہات سے بھرا ہوا ہے۔”

انہوں نے مزید لکھا کہ ‘ملک میں کہیں بھی زبردستی و دھوکہ سے تبدیلی مذہب کو نہ تو کوئی خاص معنویت ہے اور نہ ہی قابل قبول۔ اس ضمن میں کئی قانون پہلے سے ہی موجود ہیں۔ ایسے میں بی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس پر از سر نو غور کرے’۔

دیر رات نڈا، شاہ اور تومر کی اعلی سطحی میٹنگ، کسانوں کا احتجاج جاری، ہریانہ کے کسانوں کا دہلی مارچ کا اعلان

0

کسان رہنما یوگیندر یادو نے کہا ہے کہ کسان تنظیمیں مذاکرات کے لئے حکومت کی کسی بھی شرط کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ پنجاب کی 20 سے زیادہ کسان تنظیموں کا احتجاج و مظاہرہ کے مقام پر ہی بات چیت پر اصرار۔ کسان تنظیمیں اپنے ساتھ راشن پانی لے کر آئی ہیں اور ایک طویل وقت تک احتجاج کی تیاری میں ہیں۔

نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی میں کسانوں کے جاری احتجاج و مظاہرہ سے فکر مند بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر جے پی نڈا، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے دیر رات میٹنگ کی، جبکہ دوسری جانب کسان تنظیموں نے حکومت سے بات چیت کیلئے کسی بھی شرط کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔

نڈا، شاہ اور تومر نے کسانوں کی حکمت عملی کے حوالے سے دیر رات بات کی لیکن اس کی کوئی سرکاری تفصیلات دستیاب نہیں ہوسکی۔ شاہ نے کسان رہنماؤں کو روڈ جام ختم کرکے اور براری میدان میں آکر جمہوری انداز میں احتجاج کرنے کی تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ ایسا ہونے کے ساتھ ہی اگلے دن کسانوں سے بات چیت کی جائے گی۔

کسان تنظیموں کا مظاہرہ کے مقام پر ہی بات چیت پر اصرار

کسان رہنما یوگیندر یادو نے کہا ہے کہ کسان تنظیمیں مذاکرات کے لئے حکومت کی کسی بھی شرط کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کل کسان تنظیموں کی میٹنگ ہوئی جس میں پنجاب کی 20 سے زیادہ کسان تنظیموں نے احتجاج و مظاہرہ کے مقام پر ہی بات چیت پر اصرار کیا۔

تومر نے کہا ہے کہ حکومت کسانوں سے کھلے ذہن کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ زرعی اصلاحات کے قوانین کا زرعی مصنوعات کی کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ حکومت نے 3 دسمبر کو پہلے ہی کسان تنظیموں کو مذاکرات کے لئے مدعو کیا ہے۔

من کی بات پروگرام

وزیر اعظم نریندر مودی نے ’من کی بات پروگرام‘ میں کہا تھا کہ کسانوں کو زرعی اصلاحات کے قوانین کے ذریعے نئے حقوق اور مواقع ملے ہیں۔ پارلیمنٹ نے غور و خوض کے بعد زرعی اصلاحات کے قوانین منظور کرلیے ہیں۔ ان اصلاحات سے کسانوں کے بہت سے بندھن ختم ہوگئے ہیں۔

حکومت ماضی میں کسان تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کے دو دور کر چکی ہے، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ کاشتکار تنظیمیں ماضی میں نافذ کردہ تین زرعی قوانین کے خاتمے، ایم ایس پی کو قانونی حیثیت دینے، احتجاج و مظاہرہ کرنے والے کسانوں پر درج مقدمات واپس لینے اور دیگر بہت سے مطالبات کرتی رہی ہیں۔

رام لیلا میدان یا جنتر منتر پر احتجاج کسان تنظیموں کا اگلا قدم

کسان تنظیمیں اور ان کے کارکنان دہلی کی سرحد پر جمے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے گزشتہ چار دنوں سے دہلی جانے والے اہم راستے بند ہیں جس سے بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، کچھ کسان تنظیمیں دارالحکومت کے رام لیلا میدان یا جنتر منتر پر احتجاج کرنا چاہتی ہیں۔

کسان تنظیمیں اپنے ساتھ راشن پانی لے کر آئی ہیں اور ایک طویل وقت تک احتجاج کی تیاری میں ہیں۔

دریں اثنا ہریانہ کی کھاپ پنچایتوں نے کسانوں کی تحریک کی حمایت کرنے اور آج دہلی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز کھاپ پنچایتوں کی میٹنگ میں لیا گیا ہے۔

نائیجیریا میں کسانوں کا قتل عام، 110 کسان ہلاک

0

نائیجیریا میں ایک قتل عام میں 110 افراد ہلاک ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق موٹرسائیکلوں پر سوار کچھ بندوق برداروں نے کھیتوں میں کام کرنے والے مرد اور خواتین کسانوں پر حملہ کیا۔ حملے کے بعد بہت ساری خواتین کو بھی اغوا کرلیا کیا گیا۔

ابوجا: نائیجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں ایک قتل عام میں کم از کم 110 افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر کسان شامل ہیں۔ اتوار کے روز افسران نے یہ اطلاع دی۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ ہلاکتیں ہفتہ کے روز دوپہر سے قبل تشدد زدہ صوبے بورنو کے علاقے میدوگوری کے قریب کوشوبے نامی گاؤں میں ہوئی ہیں۔ اس واقعہ میں بنیادی طور پر کسانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق موٹرسائیکلوں پر سوار کچھ بندوق برداروں نے کھیتوں میں کام کرنے والے مرد اور خواتین کسانوں پر حملہ کیا۔ حملے کے بعد بہت ساری خواتین کو بھی اغوا کرلیا کیا گیا۔

ابھی تک کسی دہشت گرد گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ نائجیریا میں عام طور پر بوکو حرام اور اسلامک اسٹیٹ ان ویسٹ افریقہ (آئی ایس ڈبلیو اے پی) کہلانے والی تنظیموں نے حالیہ برسوں میں ایسے حملے کیے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں دہشت گرد گروہ افریقی خطے میں کافی سرگرم ہیں اور انہوں نے گذشتہ ایک دہائی میں 30 ہزار سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے جبکہ نائجر، چاڈ اور کیمرون سمیت دیگر افریقی ممالک میں 2 لاکھ سے زیادہ افراد کو پناہ لینے پر مجبور کیا ہے۔

امیت شاہ نے کہا حیدرآباد کو نظام کی تہذیب سے کیا جائے گا آزاد

0
امیت شاہ نے کہا حیدرآباد کو نظام کی تہذیب سے کیا جائے گا آزاد
امیت شاہ نے کہا حیدرآباد کو نظام کی تہذیب سے کیا جائے گا آزاد

وزیر داخلہ امیت شاہ نے روہنگیائیوں کے مسئلہ پر کہا کہ جب وہ کوئی کارروائی کرتے ہیں تو پارلیمنٹ میں گڑبڑ کی جاتی ہے۔ امیت شاہ نے الزام لگایا کہ ٹی آر ایس نے حیدرآباد کو ڈبو دیا کیوں کہ اس نے مجلس اتحاد المسلمین کی خوشامد کی ہے۔

حیدرآباد: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ بی جے پی حیدرآبادکو نظام کے کلچر سے پاک کرتے ہوئے جمہوری اصولوں کے ساتھ عصری و نئے شہر کی تعمیر کرے گی۔ انہوں نے جی ایچ ایم سی انتخابات کے سلسلہ میں بی جے پی امیدواروں کی مہم کے دوران کہا کہ خاندانی سیاست کو دور کیا جائے گا۔

بی جے پی جی ایچ ایم سی انتخابات میں نشستوں میں اضافہ کے لئے حصہ نہیں لے رہی ہے بلکہ اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لئے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس مرتبہ حیدرآباد کا میئر بی جے پی کا ہوگا۔

انہوں نے پوچھا کہ حالیہ سیلاب کے موقع پر وزیراعلی چندرشیکھرراو نے کہا کہ اس کا جواب ان کے پاس کیا ہے۔ ٹی آر ایس اور مجلس حیدرآباد کو عالمی شہر اور آئی ٹی کا مرکز نہیں بناسکتے کیوں کہ وہ نااہل ہیں اور غیرذمہ دار ہیں۔ حیدرآبادکو آئی ٹی کا عالمی مرکز بنانے کے لئے بی جے پی اہلیت رکھتی ہے۔

ٹی آر ایس اور مجلس

امیت شاہ نے حیدرآباد کو عصری عالمی شہر بنانے کی بات کہی۔ اس شہر کو نواب اور نظام میں پھنسا نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے روہنگیائیوں کے مسئلہ پر کہا کہ جب وہ کوئی کارروائی کرتے ہیں تو پارلیمنٹ میں گڑبڑ کی جاتی ہے۔ امیت شاہ نے الزام لگایا کہ ٹی آر ایس نے حیدرآباد کو ڈبو دیا کیوں کہ اس نے مجلس (اتحاد المسلمین) کی خوشامد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے مجلس کو تمام تالابوں، نہروں اور نالوں پر غیرقانونی قبضوں کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ گذشتہ 5 برس سے ڈرینس کی صفائی کے بغیر اورنالوں پر سے غیرمجاز قبضوں کو ہٹائے بغیر ٹی آر ایس کیا کررہی تھی۔

یہ دعوی کرتے ہوئے میت شاہ نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام برہم اور حکمراں جماعت ٹی آر ایس و اویسی کے اتحاد سے مایوس ہیں۔ انہوں نے پیش گوئی کہ اس مرتبہ بلدیہ پر بی جے پی پرچم لہرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے عوام بہتر حکمرانی چاہتے ہیں۔ وہ نریندر مودی کی قیادت اور بی جے پی پر یقین رکھتے ہیں۔

بلدیہ انتخابات بی جے پی کا اگلا قدم

وزیر داخلہ نے کہا کہ جس طرح 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں تلنگانہ سے بی جے پی سے 4 نشستیں حاصل کی ہیں، اسی طرح اگلا قدم بلدیہ کے انتخابات ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بی جے پی میئر کا عہدہ حاصل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے عوام کو چاہئے کہ وہ بی جے پی کو ایک موقع دیں کیوں کہ ان کی پارٹی نظام کے کلچر سے حیدرآباد کو آزاد کروانا چاہتی ہے۔ جہاں کہیں بھی بی جے پی کامیاب ہوئی فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے۔ انہوں نے ٹی آر ایس کے لیڈروں کے الزامات پر کہا کہ حیدرآباد میں حالیہ سیلاب کے بعد مرکز کی امداد دی گئی ہے۔

[یو این آئی]

لو جہاد کا پہلا معاملہ بریلی ضلع میں ہوا درج

0

 

لو جہاد کا پہلا معاملہ بریلی ضلع کے دیوریان تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ پریشان حال فریق کا الزام ہے کہ دوسرے مذہب کا نوجوان مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ بناکر شادی کرنا چاہتا ہے۔

بریلی: گورنر کے دستخط کے بعد کل نافذ ہونے والے لو جہاد کے نئے قانون کے بعد پہلا معاملہ بریلی ضلع کے دیوریان تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ پریشان حال فریق کا الزام ہے کہ دوسرے مذہب کا نوجوان مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ بناکر شادی کرنا چاہتا ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس روہت سنگھ سجوان نے آج بتایا کہ اترپردیش غیر قانونی طریقہ سے تبدیلی مذہب کی روک تھام سے متعلق آرڈیننس2020 کے تحت ضلع کے دیوریان پولیس اسٹیشن میں انکت نامی ایک شخص نے معاملہ درج کرایا۔ انکت نے اپنی تحریر میں کہا ہے کہ گاؤں میں رہنے والے ایک نوجوان اویس احمد نے ٹیکا رام کی بیٹی کو بہلا پھسلا کر مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ بنایا ہے۔ اسی بنیاد پر، سیکشن 504/506 آئی ایم یو اور 3/5 اترپردیش غیر قانونی طریقہ سے تبدیلی مذہب کی روک تھام سے متعلق آرڈیننس2020 بنام اویس احمد کے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

معاملے کا پس منظر

ضلع کے دیوریان تھانے کے گاؤں شریف نگر کے رہائشی ٹیکا رام کی بیٹی کی اس گاؤں کے رہائشی اویس احمد سے جان پہچان تھی۔ دونوں انٹر کالج تک ایک ہی کالج میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ لڑکی کے مطابق، تین سال قبل اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، اس نے دوسرے کالج میں تعلیم حاصل کرنا شروع کردیا۔ اویس احمد ایک سال سے مسلسل دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ مذہب بدل کر اس سے نکاح کرلے۔ شروع میں، وہ ٹالتی رہی۔ ڈر تھا کہ اگر معاملے کو طول دیا تو بدنامی ہوگی۔ بعد میں مزاحمت کی تو اس نے اغوا کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ اس نے یہ بات اپنے اہل خانہ کو بتائی۔

اس کے بعد ملزم کو سمجھانے کی کوشش کی گئی، لیکن اس کی ہمت بڑھتی گئی۔ جھگڑے سے بچنے کے لئے لڑکی کے باپ ٹیکا رام نے جون میں اس کی شادی دوسری جگہ کردی تھی۔ لڑکی کی شادی ہونے کے بعد بھی اویس اس کے گھر والوں کو پریشان کرتا تھا۔ آئے دن گھر پہنچ کر بدتمیزی کرتا تھا۔

لڑکی کے باپ کا کہنا ہے کہ ہفتے کو اویس گھر آگیا اور کہنے لگا کہ اپنی بیٹی کو سسرال سے گھر بلاؤ اسے مجھ سے نکاح کرنا ہوگا، مذہب تبدیل کرنا ہوگا۔ تبھی تم لوگوں کی جان بچ سکے گی اس کے بعد پستول دکھا کر جان سے مارنے کی دھمکی دینے لگا۔ ہفتے کی قریب آٹھ بجے لڑکی کے والد تھانہ دیوریان پہنچے اور پورا واقعہ بتایا اور رات قریب گیارہ بجے پولیس نے اس کے خلاف نئے قانون کے تحت معاملہ درج کیا۔

مسٹر سجوان نے بتایا کہ پولیس کی چار ٹیمیں ملزم کی تلاش کررہی ہیں۔

من کی بات: زرعی اصلاحات کے قوانین نے امکانات کے نئے دروازے کھولے: مودی

0
وزیر اعظم مودی کا جی - 20 سے کووڈ - 19 پر فیصلہ کن اقدام کرنے کا مطالبہ
وزیر اعظم مودی کا جی - 20 سے کووڈ - 19 پر فیصلہ کن اقدام کرنے کا مطالبہ

18 ویں ’من کی بات‘ پروگرام میں نریندر مودی نے کہا کہ ان قوانین نے نہ صرف کسانوں کے بہت سے بندھن ختم ہوئے ہیں بلکہ انہیں حقوق اور مواقع بھی فراہم کئے ہیں۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز زرعی اصلاحات کے قوانین کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان قوانین سے کسانوں کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھلے ہیں۔
اپنی دوسری مدت کے 18 ویں ’من کی بات‘ پروگرام میں نریندر مودی نے کہا کہ ان قوانین نے نہ صرف کسانوں کے بہت سے بندھن ختم ہوئے ہیں بلکہ انہیں حقوق اور مواقع بھی فراہم کئے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا ’’ہندوستان میں زراعت اور اس سے وابستہ چیزوں میں نئی ​​جہتیں شامل کی جارہی ہیں۔ گزشتہ دنوں ہونے والے زرعی اصلاحات نے کسانوں کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’برسوں سے کسانوں کی مانگ تھی اور ان مطالبات کی تکمیل کے لئے ہر سیاسی پارٹی نے ان سے وعدہ کیا تھا وہ مانگیں اور مطالبات پورے ہوچکے ہیں‘‘۔

انتہائی غور وخوض کے بعد زرعی اصلاحات کو قانونی شکل دی گئی

انہوں نے مزید کہا کہ انتہائی غور وخوض کے بعد پارلیمنٹ نے زرعی اصلاحات کو قانونی شکل دی۔ ان اصلاحات سے نہ صرف کسانوں کے بہت سے بندھن ختم ہوئے ہیں، بلکہ انہیں نئے حقوق، نئے مواقع بھی ملے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سے کسانوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان حقوق نے بہت ہی کم وقت میں کسانوں کی پریشانیوں کو کم کرنا شروع کردیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قانون میں ایک اور بہت بڑی بات ہے کہ ان قوانین میں یہ التزامات کئے گئے ہیں کہ اس علاقے کے ایس ڈی ایم کو کسانوں کی شکایات کو ایک ماہ کے اندر تدارک کرنا ہوگا۔
انہوں نے ’من کی بات پروگرام‘ کی شروعات وارنسی سے چوری ہونے والی دیوی انا پورنا کی قدیم مورتی کے کینیڈا سے واپس لائے جانے کی خوشخبری سے کی۔ یہ مورتی تقریبا 100 سال پہلے وارانسی کے ایک مندر سے چرائی گئی تھی۔
نریندر مودی نے کہا کہ ماتا انا پورنا کے مجسمے کی طرح ہی ہندوستانی ثقافتی ورثے کے بیش قیمتی چیزیں بھی بین الاقوامی گروہوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہ گروہ انہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ اب ان پر سختی کی جارہی ہے اور ہندوستان نے ان کی واپسی کے لئے بھی کوششیں تیز کردی ہیں۔

تلنگانہ: کورٹلہ سوشل ویلفیئر ریزیڈنشل کالج میں 75طالبات کورونا سے متاثر

0

کالج کے عہدیداروں نے طالبات سے آن لائن کلاسس میں شرکت کے لئے نصابی کتب حاصل کرنے کے مقصد سے کالج آنے کو کہا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ کالج آنے والی طالبات وقفہ وقفہ سے بخار سے متاثر ہوگئیں اور 250 میں سے 75 طالبات کورونا سے مثبت پائی گئیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع جگتیال کے کورٹلہ میں 75طالبات کورونا سے متاثر پائی گئیں جس سے والدین اور عہدیداروں میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے۔ یہ واقعہ کورٹلہ سوشل ویلفیر ریزیڈنشل کالج میں پیش آیا۔

ذرائع نے بتایا کہ کالج کے عہدیداروں نے طالبات سے خواہش کی کہ وہ آن لائن کلاسس میں شرکت کے لئے نصابی کتب حاصل کرنے کالج آئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کالج کو آنے والی طالبات وقفہ وقفہ سے بخار سے متاثر ہوگئیں اور 250 میں سے 75 طالبات کورونا سے مثبت پائی گئیں۔

عہدیداروں نے طالبات سے خواہش کی کہ وہ اقامتی ہاسٹل میں ہی رہیں۔ ان کے لئے تمام انتظامات کئے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اساتذہ بھی اس سے متاثر ہوگئے ہیں۔

لندن میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرہ میں 60 افراد گرفتار

0
لندن میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرہ میں 60 افراد گرفتار
لندن میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرہ میں 60 افراد گرفتار

برطانیہ میں کورونا وبا کے آغاز کے بعد سے ہی لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل نومبر میں پولیس نے لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کے دوران 190 مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔

لندن: عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے پولیس نے ہفتے کے روز برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں حکومت کی جانب سے لگائے گئے لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے میں 60 مظاہرین کو گرفتار کیا۔
سینکڑوں افراد لندن کے وسطی علاقے میں سڑکوں پر احتجاج و مظاہرہ کیلئے جمع ہوئے اس دوران کچھ مظاہرین نے پولیس افسران کے ساتھ جھڑپیں بھی کیں۔
لندن پولیس کا کہنا تھا ’’پولیس اہلکاروں نے آج لندن میں گروپس میں جمع ہونے کے لئے 60 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری مختلف جرائم کے لئے کی گئی ہیں جن میں کورونا وائرس سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی بھی شامل ہے۔ گرفتار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے اور ہم لوگوں سے اپنے گھروں کو واپس جانے کی اپیل کرتے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ برطانیہ میں کورونا وبا کے آغاز کے بعد سے ہی لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل نومبر میں پولیس نے لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کے دوران 190 مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔

امریکہ کا ممبئی حملہ کے مجرم ساجد پر50 لاکھ ڈالر کےانعام کا اعلان

0
امریکہ کا ممبئی حملہ کے مجرم ساجد پر50 لاکھ ڈالر کےانعام کا اعلان
امریکہ کا ممبئی حملہ کے مجرم ساجد پر50 لاکھ ڈالر کےانعام کا اعلان

امریکی محکمہ خارجہ نے ابھی دو روز قبل ہی ایک بیان جاری کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ ہندوستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

نئی دہلی: امریکہ نے 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملہ کے قصوروار اور لشکر طیبہ کے دہشت گرد ساجد میرکے بارے میں معلومات دینے والے کو 50لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

’یوایس ایوارڈز فار جسٹس پروگرام‘ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ساجد میر پاکستانی شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کا فعال ممبر ہے اور نومبر 2008 میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد انہ حملے میں مطلوب ہے۔

میر کو کسی بھی ملک میں سزا دیئے جانے یا اس کی گرفتاری کے بارے میں مطلع کرنے والے شخص کو 50 لاکھ ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ میر پاکستان میں موجود ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ابھی دو روز قبل ہی ایک بیان جاری کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ ہندوستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

قابل غور ہے کہ 26 نومبر 2008 میں شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے 10 عسکریت پسند ممبئی میں داخل ہوئے اور انہوں نے ہندوستان کے معاشی دارالحکومت میں متعدد اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کئے۔ ان حملوں میں چھ امریکی شہریوں سمیت 166 افراد مارے گئے۔