اتوار, مئی 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 427

کسان تنظیموں نے دارالحکومت میں بڑھایا دباؤ، کہا ‘مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو دہلی آنے کے تمام راستے بند کر دیے جائیں گے’

0

کسانوں نے نوئیڈا سے غازی آباد کو آنے والے اور قومی دارالحکومت کو آنے والے کئی راستوں میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے جس کی وجہ سے مختلف مقامات پر جام کا مسئلہ ہو گیا ہے۔ کسان تنظمیوں نے 5 دسمبر کو قومی سطح پر دھرنے کی اپیل کی ہے۔

نئی دہلی: کسان تنظیموں نے زرعی اصلاحی قوانین کو واپس لینے کے مطالبے میں قومی دارالحکومت میں دباؤ بڑھا دیا ہے اور کہا ہے کہ مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ہی وہ واپس جائیں گے۔

کسانوں نے نوئیڈا سے غازی آباد کو آنے والے اور قومی دارالحکومت کو آنے والے کئی راستوں میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے جس کی وجہ سے مختلف مقامات پر جام کا مسئلہ ہو گیا ہے۔ اس دوران وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ کسانوں کے مسائل کا حل ضرور نکلے گا۔

مسٹر تومر نے کہا کہ کسان تحریک کا راستہ چھوڑ کر بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ دہلی کے راستے بند ہونے سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ دہلی کے عوام برداشت اور خندہ پیشانی کا ثبوت دیں۔

 3 دسمبر کو حکومت کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کا لائحہ عمل تیار

کسان تنظیموں کی آج دن بھر میٹنگ ہوتی رہی اور تین دسمبر کو حکومت کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کا لائحہ عمل تیار کیا گیا۔ کسانوں نے کہا ہے کہ اگر ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے تو دہلی آنے کے تمام راستے بند کر دیے جائیں گے۔

 

کسان تنظمیوں نے پانچ دسمبر کو قومی سطح پر دھرنے کی اپیل کی ہے۔

کسان رہنما راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ہی کسان دہلی سے واپس جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو قومی زرعی پالیسی بنانی چاہیے اور کسانوں کے مسائل حل کرنے چاہییں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے بار بار کسانوں کو دھوکہ دیا۔

آرٹسٹوں کی کسانوں کے مطالبات کی حمایت

اس درمیان کچھ آرٹسٹوں نے کسانوں کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔ پنجاب اور ہریانہ سے خاتون کسانوں کا آنا بھی شروع ہو گیا ہے۔ گذشتہ 32 کسانوں تنظیموں کے ساتھ حکومت کے چوتھے دور کی بات چیت ہوگی۔

کسان تنظیموں نے حکومت سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا کر زرعی اصلاحی قوانین کو رد کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور فصلوں کے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کو قانونی درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دنیا کی پہلی کورونا ویکسین کے عام استعمال کی برطانیہ نے دی اجازت، اگلے ہفتے سے ٹیکے لگانے کا آغاز

0

برطانوی میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت نے انگلینڈ کے ہسپتالوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ آئندہ ہفتے سے کورونا ویکسین کو سب سے پہلے طبی رضاکاروں پر استعمال شروع کر دیا جائے۔

لندن: برطانیہ نے کورونا کی امریکہ کی فائزر اور جرمنی کی بائیو این ٹیک کمپنیوں کے ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی۔ ان ویکسینوں کو ہنگامی بنیادوں پر استعمال کرنے کے ساتھ ہی عام استعمال کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔

اس طرح برطانیہ دنیا کا پہلی کورونا ویکسین کے استعمال کی اجازت دینے والا ملک بن گیا۔ جلد ہی وہاں اس ویکسین کا عام استعمال بھی شروع ہو جائے گا۔

ادویہ ساز کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک نے گزشتہ ماہ 10 نومبر کو دعویٰ کیا تھا کہ ان کی تیار کردہ ویکسین بیماری سے تحفظ کے لیے 90 فیصد سے زیادہ مؤثر ہیں۔

برطانوی میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت نے انگلینڈ کے ہسپتالوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ آئندہ ہفتے سے کورونا ویکسین کو سب سے پہلے طبی رضاکاروں پر استعمال شروع کر دیا جائے۔

برطانوی حکومت نے پہلے ہی مذکورہ کمپنی کو 4 کروڑ ویکسینز کا آرڈر دے رکھا ہے جو 2 کروڑ افراد کو لگائی جائیں گی۔

ہر ایک آدمی کو مذکورہ ویکسین کے دو ڈوز دیئے جائیں گے۔ ابتدائی طور پر میڈیکل اسٹاف اور اولڈ ہومز میں رہنے والے عمر رسیدہ لوگوں کو ویکسین کے ڈوز لگائے جائیں گے۔

برطانیہ کے بعد امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی یورپی یونین اور امریکہ میں بھی ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی جائے گی جس کے بعد ممکنہ طور پر اس ویکسین کے استعمال کی اجازت کچھ ایشیائی ممالک بھی دیں گے۔

بابری مسجد کی شہادت پر ممبئی میں یوم سیاہ، پولیس الرٹ جاری

0

رضا اکیڈمی کے روح رواں الحاج سعید نوری نے کہا کہ بابری مسجد کی یوم شہادت پر باقاعدگی سے بطور احتجاج یوم سیاہ منایا جاتا ہے۔ یہ ملک کی تاریخ پر بدنما داغ ہے کہ ایک مسجد کو دن دہاڑے کارسیوکوں اور غنڈوں نے شہید کردیا اور فیصلہ بھی خلاف توقع ہی آیا ہے۔

ممبئی: ممبئی شہر و مضافات میں چھ دسمبر کے پیش نظر پولیس نے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے دوسری طرف مسلم تنظیموں نے یہاں بابری مسجد کی شہادت کی برسی پر یوم سیاہ اور اذان دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت 6 دسمبر 1992 کو باقاعدہ طور پر یوم شہادت منایا جائے گا۔

بابری مسجد کی ملکیت پر رام مندر کی تعمیر اور سنگ بنیاد کے بعد بھی رضا اکیڈمی نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ بابری مسجد کے قضیہ کے بعد بھی وہاں قیامت تک مسجد ہی مانتے ہیں کیونکہ عرش سے لے کر فرش تک یہ جگہ مسجد ہی رہے گی اس کا کوئی بدل نہیں ہے۔ اس لئے مسلمانوں کا عقیدہ اور ایمان ہے کہ جس جگہ پر مسجد قائم ہو وہاں قیامت تک مسجد ہی رہے گی۔ اس لئے برسہا برس سے یوم شہادت پر رضا اکیڈمی مسجد کی باز یافت اور اس کی آزادی کے لئے دعا کرتی ہے یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری ہے گا۔

ملک کی تاریخ پر بدنما داغ

رضا اکیڈمی کے روح رواں الحاج سعید نوری نے کہا کہ بابری مسجد کی یوم شہادت پر باقاعدگی سے بطور احتجاج یوم سیاہ منایا جاتا ہے۔ یہ ملک کی تاریخ پر بدنما داغ ہے کہ ایک مسجد کو دن دہاڑے کارسیوکوں اور غنڈوں نے شہید کردیا اور فیصلہ بھی خلاف توقع ہی آیا ہے۔ اس لئے مسلمان یہ مانتا ہے کہ آج بھی یہاں بابری مسجد ہی ہے اور یہ ملکیت تاقیامت بابری مسجد ہی رہے گی اس لئے مسجد کی بازیابی کے لئے چھ دسمبر کو دعا اور اذانیں دی جائے گی۔

ملک بھر میں سہ پہر 3:45 منٹ پر اذان دی جائے گی

انہوں نے کہا کہ کھتری مسجد، مینارہ مسجد، نواب ایاز مسجد سمیت ممبئی ہی نہیں ملک میں سہ پہر 3:45 منٹ کو باقاعدہ طور پر اذان دی جائے گی اور یوم سیاہ بھی منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک بابری مسجد کی بازیافت نہیں ہو جاتی کیونکہ مسلمان کے لئے آج بھی اس جگہ مسجد ہی ہے۔

مسلمان یوم سیاہ کے طور پر چھ دسمبر مناتے ہیں

ایسی صورتحال میں مسلمان یوم سیاہ کے طور پر چھ دسمبر مناتے ہیں اور اذان کا بھی انعقاد کرتے ہیں کیونکہ غنڈوں نے چھ دسمبر کو سہ پہر گنبدوں پر چڑھ کر ایک قدیم اورتاریخی مسجد کو شہید کر دیاتھا۔ یہ کھلی دہشت گردی تھی جسے ملک نے دیکھا تھا۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے فیصلہ کے بعد بھی ملک میں مسلم تنظیموں نے یوم سیاہ اور تین بجکر 45 منٹ پر اذان دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ پہلی بابری مسجد کی برسی ہے جسے مسلمانوں نے یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بابری مسجد کی برسی اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی یوم وفات پر ممبئی شہر میں الرٹ جاری کیا گیا ہے شہر میں حکم امنتاعی کا نفاذ ہے۔

اٹارنی جنرل کی خواتین ججوں کی تعداد بڑھانے کی وکالت

0
اٹارنی جنرل نے خواتین ججوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی وکالت کی
اٹارنی جنرل نے خواتین ججوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی وکالت کی

عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی کو بہتر بنانے سے جنسی تشدد سے متعلق کیسز میں زیادہ متوازن اور بااختیار انداز اختیار کیا جاسکے گا۔

نئی دہلی: اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے خواتین پر بڑھتے تشدد کے واقعات کو روکنے کے لئے عدالتوں میں خاتون ججوں کی تعداد بڑھانے کی وکالت کی ہے۔

مسٹر وینوگوپال نے ملزم کو متاثرہ سے راکھی بندھوانے کی شر ط پر ضمانت دیئے جانے کے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف دائر درخواست میں اپنے تحریری حلف نامے میں عدالتوں میں خواتین کی تعداد بڑھانے کی وکالت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی کو بہتر بنانے سے جنسی تشدد سے متعلق کیسز میں زیادہ متوازن اور بااختیار انداز اختیار کیا جاسکے گا۔

انہوں نے کہا ’’عدالتوں میں خاتون ججوں کی تعداد ان کے حقوق کا خیال رکھاجانا چاہئے ، تاکہ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم اور ان سے متعلق مقدمات پر سختی سے کارروائی کی جاسکے۔”

فخری زادے کے قتل کے الزام پر سعودی عرب نے ایران کو لتاڑا

0

سعودی عرب کے ایک وزیر نے کل ایران کے وزیر خارجہ پر اس بات کے لیے طنز کیا تھا کہ انہیں ایرانی نیوکلیائی سائنسدان محسن فخری زادے کے قتل میں سعودی ہاتھ نظر آتا ہے۔

ریاض: سعودی عرب کے ایک اہم وزیر نے کل ایران کے وزیر خارجہ پر اس بات کے لیے طنز کیا کہ انہیں ممتاز ایرانی نیوکلیائی سائنسدان محسن فخری زادے کے قتل میں سعودی ہاتھ نظر آتا ہے۔

ایران کے نیوکلیائی ہتھیاروں کے پروگرام کے معمار سمجھے جانے والے فخری زادہ کو جمعہ کے روز دارالحکومت تہران کے باہر سڑک پر بم اور بندوق کے حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے سے ایران اور اس کے دشمنوں کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

پرسوں یعنی پیر کے روز ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے انسٹاگرام پر کہا تھا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مابین سعودی عرب میں ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کا اس قتل سے تعلق ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ ایک "سازش” تھی۔

سعودی وزیر برائے امور خارجہ عادل الزبیر نے ٹویٹ کیا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ ظریف ایران میں کسی بھی منفی واقعے پر سعودی عرب کو مورد الزام ٹھہرانے کے لئے بے چین رہتے ہیں۔ تو کیا وہ اگلے زلزلے یا سیلاب کے لئے بھی سعودی عرب پر ہی الزام لگائیں گے؟

دیگر خلیجی ریاستوں کے برعکس، سعودی عرب نے مذکورہ قتل کی باضابطہ مذمت نہیں کی ہے۔ سعودی عرب ایک طاقتور سنی ملک ہے۔ اس کے اور شیعہ طاقت والے ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے پرانی دشمنی چلی آرہی ہے۔

اسے بھی پڑھیں

اسرائیلی میڈیا رپورٹس اور ایک اسرائیلی حکومت کے ذریعہ کے مطابق ، گذشتہ ماہ اسرائیلی وزیار اعظم نیتن یاہو نے سعودی ولی عہد کے ساتھ سعودی عرب میں تاریخی گفتگو کی۔

ذرائع کے مطابق نیتن یاہو اور جاسوس ایجنسی موساد کے سربراہ یوسف میرکوہین نے بحر احمر کے شہر نیوم میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی معیت میں سعودی ولی عہد محمد سے ملاقات کی۔ سعودی عرب نے بہرا حال نے ایسی کسی ملاقات سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سرکاری سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن دونوں بظاہرایران کے ساتھ مشترکہ عداوت کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے میں لگے ہیں۔

اسرائیل نے ابھی اسی سال متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے سنی خلیجی ملکوں کے ساتھ جو سعودی عرب سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں، اپنے تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار اور انٹیلیجنس کے دو دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فخری زادہ پر حملے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ اسرائیل نے اس قتل پر باقاعدہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

کسانوں نے کمیٹی بنانے کی حکومت کی تجویز کو کیا مسترد، احتجاج کو جاری رکھنے کے عزم کا کیا اظہار

0

 

ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد، وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت اور کسان تنظیموں کے مابین اچھا مکالمہ ہوا ہے۔  کسانوں کے نمائندوں نے کہا کہ اگر حکومت امن چاہتی ہے تو اسے کسانوں کی مشکلات کو حل کرنا چاہئے۔ کسان اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

نئی دہلی: کسان تنظیموں نے منگل کو زرعی مسائل کے حل کے لئے کمیٹی بنانے کی حکومت کی تجویز کو مسترد کردیا اور احتجاج کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

تقریبا ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ کے بعد، وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت اور کسان تنظیموں کے مابین اچھا مکالمہ ہوا ہے اور بات چیت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کی مشکلات کے حل کے لئے کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن اس پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

اس میٹنگ میں وزیر خوراک و سپلائی وزیر پیوش گوئل اور وزیر مملکت برائے تجارت سوم پرکاش اور 35 کسان قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس سہ پہر 3 بجے وگیان بھون میں شروع ہوا۔

کسانوں کے نمائندوں نے کہا کہ اگر حکومت امن چاہتی ہے تو اسے کسانوں کی مشکلات کو حل کرنا چاہئے۔ کسان اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

دریں اثنا، مہاراشٹر اور کئی دیگر ریاستوں کے کسان نمائندے اس تحریک سے اظہار یکجہتی کے لئے قومی دارالحکومت آئے۔

کسان تنظیموں کی حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ شروع

0

میٹنگ میں ان سبھی تنظیموں کو مدعو کیا گیا ہے، جنہیں پچھلی میٹنگ میں بلایا گیا تھا۔ پولیس کی حفاظت میں دو بسوں میں کسان رہنماؤں کو میٹنگ کے مقام تک لایا گیا۔

نئی دہلی: زرعی قانون کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کرنے والی کسان تنظیموں کے ساتھ 32 اراکین کی حکومت کے ساتھ اعلی سطحی بات چیت شروع ہوگئی۔

اس سے پہلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پنجاب کے کسان رہنماؤں سے بات کی اور مسٹر یوگیندر یادو کو اس میٹنگ میں شامل نہ کرنے کی اپیل کی۔ اس پر کسان تنظیموں نے بات چیت کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن مسٹر یادو کو جب اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے خود میٹنگ میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔

میٹنگ میں شامل ہونے سے پہلے مشترکہ کسان محاذ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان کی حکومت کے ساتھ بات چیت تبھی ممکن ہو پائے گی جب ان کے ساتھ مسٹر یوگیندر یادو، حنان مولا، شیو کمار ککا جی اور گرنام سنگھ چودونی کو میٹنگ میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

مسٹر یادو نے کہا کہ بات چیت اہم ہے اس لئے ان کی وجہ سے بات چیت کو روکنا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کسان رہنماؤں سے کہا کہ بغیر ان کے بارے میں سوچے اپنا فیصلہ کریں۔

واضح رہے کہ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے دیر رات کسان تنظیموں کو یکم دسمبر کو دوپہر تین بجے سائنس سینٹر، نئی دہلی میں بات چیت کے لئے مدعو کیا تھا۔ اس میٹنگ میں ان سبھی تنظیموں کو مدعو کیا گیا ہے، جنہیں پچھلی میٹنگ میں بلایا گیا تھا۔ پولیس کی حفاظت میں دو بسوں میں کسان رہنماؤں کو میٹنگ کے مقام تک لایا گیا۔

لو جہاد قانون سے بے روزگاری، پسماندگی اور غریبی ختم ہو جائے تو ہمیں کوئی دقت نہیں: دگوجے

0

مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلی دگوجے سنگھ بی جے پی حکومت پر اہم مسئلوں سے توجہ بھٹکانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آج جو مسئلے ہیں، حکومت ان پر کیوں توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اگر لو جہاد قانون سے بے روزگاری، پسماندگی اور غریبی ختم ہوجائے تو ہمیں کوئی دقت نہیں ہے۔

دموہ: مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلی دگوجے سنگھ نے لو جہاد کے سلسلے میں کہا ہے کہ اگر اس سے بے روزگاری، پسماندگی اور غریبی ختم ہوجائے تو ہمیں کوئی دقت نہیں۔
مسٹر سنگھ نے ایک نجی پروگرام میں بھوپال سے پنا جاتے وقت کل رات دموہ میں بی جے پی حکومت پر اہم مسئلوں سے توجہ بھٹکانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آج جو مسئلے ہیں، حکومت ان پر کیوں توجہ نہیں دے رہی ہے۔
انہوں نے کورونا ویکسن کے مدھیہ پردیش میں لوگوں پر ہونے والے ٹیسٹ پر کہا کہ اس میں پروٹوکول پر عمل ہونا چاہئے۔ حکومت کو جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔ اگر کوئی برا اثر ہوا تو ذمہ داری کس کی ہوگی۔
کسان تحریک پر انہوں نے کہا کہ کسان اپنی بنیادی سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بی جے پی کو اس پر بات چیت کرنی تھی۔ اس قانون سے بڑے لوگوں اور ملٹی نیشنل سطح کے لوگوں کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے، اس لئے کسان تحریک کر رہے ہیں۔ اگر قانون لانے سے پہلے ہی حکومت کسانوں سے بات کرلیتی، تو یہ نوبت ہی نہیں آتی۔

مسٹر سنگھ نے ضمنی انتخابات کے نتائج کے سلسلے میں کہا کہ الیکشن کے نتائج کانگریس کی امید کے مطابق نہیں رہے۔ اس بات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ مستقبل میں ہونے والے علاقائی بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کو موقع دیا جائےگا۔

کورونا سے متاثر سینئر صحافی منگلیش ڈبرال کے لئے فنڈ کی اپیل

0

ساہتیہ اکیڈمی انعام یافتہ ہندی کے معروف شاعر اور سینئر صحافی منگلیش ڈبرال کے علاج کے لئے ادیبوں نے لوگوں سے مالی مدد کی اپیل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان ادیبوں اور صحافیوں نے کراؤڈ فنڈنگ کی اپیل کی ہے تاکہ جناب ڈبرال کا علاج کیا جاسکے۔

نئی دہلی: ساہتیہ اکیڈمی انعام یافتہ ہندی کے معروف شاعر اور سینئر صحافی منگلیش ڈبرال کورونا سے متاثر ہونے کے سبب اسپتال میں داخل ہیں اور ان کی حالت کافی نازک ہے۔
بہتر (72) سالہ جناب ڈبرال کو تین دن قبل نصف شب کے بعد اچانک سانس لینے میں تکلیف کے سبب غازی آباد کے وسندھرا کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ وہ اسپتال کے آئی سی یو میں ہیں اور انہیں آکسیجن سپورٹ پر رکھا گیا ہے۔ ان کے پھیپھڑے میں نمونیا ہوگیا ہے جس کے سبب انکی حالت سنگین ہے۔

پرتی پکش، جن ستا، سہارا، شکروار جیسے اخبارات اور رسالوں کی ایڈیٹنگ سے وابستہ جناب ڈبرال کے علاج کے لئے ادیبوں نے لوگوں سے مالی مدد کی اپیل کی ہے۔

سوشل میڈیا پر ان ادیبوں اور صحافیوں نے کراؤڈ فنڈنگ کی اپیل کی ہے تاکہ جناب ڈبرال کا علاج کیا جاسکے۔ جناب ڈبرال سبکدوش ہونے کے بعد فری لانس ایڈیٹر کے طور پر صحافت کر رہے ہیں۔

ریموٹ کنٹرول ہتھیاروں سےفخری زادہ کو قتل کیا گیا: ایران

0

ایران کے مطابق محسن فخری زادہ کے قتل کے لئے اسرائیل اور ایک جلاوطن اپوزیشن گروپ ذمہ دار ہے اور اس کے لئے ریموٹ کنٹرول ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ حملہ آور وہاں موجود نہیں تھے۔

تہران: ایران کے مطابق اس کے اعلی نیوکلیائی سائنس داں محسن فخری زادہ کے قتل کے لئے اسرائیل اور ایک جلاوطن اپوزیشن گروپ ذمہ دار ہے اور اس کے لئے ریموٹ کنٹرول ہتھیار کا استعمال کیا گیا۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق نیوکلیائی سائنس داں فخری زادہ کی تدفین کے موقع پر سیکیورٹی کے سربراہ علی شمخانی نے کہا کہ حملہ آوروں نے الیکٹرانک آلات کا استعمال کیا اور وہ جائے واقعہ پر موجود نہیں تھے۔
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ شمخانی نے کہا ’’ان کی سیکیورٹی کے سلسلے میں سبھی ضروری طریقے اختیار کئے گئے تھے لیکن دشمنوں نے بالکل نیا طریقہ استعمال کیا۔ اس قتل کو پیشہ ور اور ماہر طریقے سے انجام دیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے دشمن اس میں کامیاب رہے۔ یہ بہت ہی مشکل مشن تھا کیونکہ اس میں الیکٹرانک آلات کا استعمال کیا گیا ہے۔ جائے واقعہ پر کوئی بھی موجود نہیں تھا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ایران خفیہ اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو فخری زادہ کے قتل کی سازش کا اندیشہ پہلے سے ہی تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حملے کا اندیشہ پہلے سے ہی تھا۔