اتوار, مئی 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 426

پانچویں دور کی بات چیت ہوگی آج، کسانوں نے بھارت بند کی پکار دیکر بڑھایا دباؤ

0

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین ہفتے کے روز پانچویں دور کی بات چیت ہوگی، جبکہ کسان تنظیموں نے کہا ہے کہ اگر تین نئے زرعی قوانین منسوخ نہیں ہوئے تو 8 دسمبر کو بھارت بند کیا جائے گا۔ پچھلے دس دن سے قومی دارالحکومت میں جاری اس تحریک کی کامیابی کے پیش نظر دوسری ریاستوں میں بھی اس تحریک کا آغاز ہوگیا ہے۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحاتی قوانین کے بارے میں کسانوں اور حکومت کے مابین ہفتے کے روز پانچویں دور کی بات چیت ہوگی جبکہ کسان تنظیموں نے بھارت بند کی پکار دیکر دباؤ بڑھایا ہے۔
کسان تنظیموں نے کہا ہے کہ اگر تین نئے زرعی قوانین منسوخ نہیں ہوئے تو 8 دسمبر کو بھارت بند کیا جائے گا۔ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا ہے کہ کسان تنظیمیں احتجاج کا راستہ چھوڑ دیں اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کو حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ اگر بھارت بند بھی کیا جاتا ہے تو صرف مذاکرات سے ہی راستہ نکل سکتا ہے۔

دیگر ریاستوں میں بھی اس تحریک کا آغاز

پچھلے دس دن سے قومی دارالحکومت میں جاری اس تحریک کی کامیابی کے پیش نظر دوسری ریاستوں میں بھی اس تحریک کا آغاز ہوگیا ہے یا ریاستوں کی جانب سے کسانوں کی حمایت کی گئی ہے۔
بہار میں راشٹریہ جنتا دل نے آج سے دھرنے مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی (مارکسی لیننسٹ) نے بھی کسانوں کے مسائل پرتحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کل ترنمول کانگریس کی جانب سے پارٹی کے سینئر لیڈر ڈیرک او برائن کو کسانوں سے ملاقات کے لئے بھیجا اور وہ تقریباً چار گھنٹے کسانوں کے ساتھ رہے۔ اس دوران محترمہ بنرجی نے متعدد کسان لیڈروں سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور ان کو ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔

دارالحکومت کے تمام راستوں کو بند کرنے کی دھمکی

دہلی کی سرحد پر کسانوں کی تحریک بڑھتی ہی جارہی ہے اور وہ قومی دارالحکومت کے تمام راستوں کو بند کرنے کی دھمکی بھی دے رہے ہیں۔
دریں اثنا ہریانہ، پنجاب، اترپردیش اور متعدد ریاستوں کے احتجاجی کسانوں کو کھانے کی اشیاء کی بھرپور مدد کی جارہی ہے۔ اس تحریک کو ٹریڈ یونین تنظیموں، ٹرانسپورٹ یونینوں اور کچھ دیگر افراد کی بھی حمایت مل رہی ہے۔

ممتا بنرجی کی کسان رہنماؤں سے فون پر بات چیت، ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی

0

ترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ڈیرک او برائن ممتا بنرجی کی ہدایت پر دہلی ۔ ہریانہ سنگھو بارڈر پر پہنچ کر سکھ رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ممتا نے ڈیرک کے ذریعہ کسان رہنماؤں سے بات کر کے اخلاقی ہمدردی اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے دہلی میں کسان تحریک کے رہنما پرمجیت سنگھ سے فون پر بات کرکے اخلاقی ہمدردی اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کسان لیڈروں سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔

ترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ڈیرک او برائن ممتا بنرجی کی ہدایت پر دہلی ۔ ہریانہ سنگھو بارڈر پر پہنچ کر سکھ رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس کے بعد ممتا نے ڈیرک کے ذریعہ کسان لیڈروں سے بات کی۔ ترنمول کانگریس شروعات سے ہی زرعی قوانین کی مخالفت کر رہی ہیں۔

نئے زرعی قوانین کو واپس نہ لیا گیا تو ملک گیر احتجاج

ممتا بنرجی نے جمعرات کو دھمکی دی ہے کہ اگر ’’کسان مخالف‘‘ نئے زرعی قوانین کو واپس نہیں لیا گیا تو ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ میں کسانوں کی زندگی اور ان کے معاش کو لے کر فکر مند ہوں، مرکزی حکومت کو بہر صورت ’’کسان مخالف بل‘‘ واپس لینا ہی ہوگا۔ اگر مرکزی حکومت کسانوں کی آواز نہیں سنتی ہے تو ہم ریاست بھر میں احتجاج کریں گے اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی ہم احتجاج کریں گے۔

سنگور تحریک کے 14سال مکمل ہونے پر ممتا کا ٹویٹ

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سنگور تحریک کے 14سال مکمل ہونے پر ٹویٹ کیا کہ ’’14 سال پہلے، 4 دسمبر، 2008 کو، میں کلکتہ میں 26 دن کی بھوک ہڑتال پر بیٹھی تھی۔” بھوک ہڑتال کا مقصد یہ تھا کہ زرعی زمین کو صنعتی مقاصد کے لئے نہ لی جائے۔ میں مرکز کے سخت زرعی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کرنے کے لئے ملک میں کسانوں کی نقل و حرکت کی مکمل حمایت کرتی ہوں۔ بل کاشتکاروں سے مشورہ کیے بغیر منظور کیا گیا ہے۔ اس ٹویٹ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اسمبلی ووٹ سے قبل ممتا ترنمول کانگریس ایک بار پھر اس تحریک کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہی ہیں۔

ممتا بنرجی نے لکھا تھا کہ مرکزی حکومت ریلوے، ایئر انڈیا، کوئلہ، بی ایس این ایل، بی ایچ ای ایل، بینک، دفاع وغیرہ بیچ نہیں سکتی ہے۔ غیر منقولہ تخریب کاری اور نجکاری کی پالیسی کو واپس لے لیں۔ ہمیں اپنی قوم کے خزانوں کو بی جے پی پارٹی میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

آئندہ کچھ ہفتوں میں کورونا ویکسین تیار ہوجائے گی: وزیراعظم

0

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ماہرین اور سائنس دانوں سے ہوئی بات چیت کی بنیاد پر یہ کہا جارہا ہے کہ ملک میں آئندہ کچھ ہفتوں میں کورونا کی ویکسین تیار ہوجائے گی۔ ویکسین آنے کے بعد ملک میں ٹیکہ کاری کا کام شروع کردیا جائے گا۔

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ کورونا ویکسین اگلے کچھ ہفتوں میں تیار ہوجائے گی۔ اس کے تیار ہونے کے بعد ملک بھر میں ٹیکہ کاری کا کام شروع ہوجائے گا۔ نریندر مودی نے کہا کہ کورونا ویکسین کی قیمت کا تعین عوامی صحت کو ترجیحات تسلیم کرکے ریاستوں کے ساتھ غور و خوض کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
وزیراعظم مودی نے آج یہاں سبھی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ملک میں کورونا وبا سے پیدا صورتحال پر تبادلہ خیال کے لئے طلب کی گئی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ماہرین اور سائنس دانوں سے ہوئی بات چیت کی بنیاد پر یہ کہا جارہا ہے کہ ملک میں آئندہ کچھ ہفتوں میں کورونا کی ویکسین تیار ہوجائے گی۔ ویکسین آنے کے بعد ملک میں ٹیکہ کاری کا کام شروع کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک اور سوال سب کی ذہنوں میں ہے کہ ویکسین کی قیمت کیا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی قیمت کا تعین عوامی صحت کو اولین ترجیح سمجھتے ہوئے کیا جائے گا۔ اس کے لئے مرکزی حکومت ریاستوں کے ساتھ بات کر رہی ہے اور ان کی صلاح کو بھی ان میں ترجیح دی جائے گی۔

فیس بک کا کووڈ – 19 ویکسین سے متعلق فرضی معلومات والی پوسٹ کو ہٹانے کا فیصلہ

0

فیس بک اور انسٹاگرام نے کووڈ – 19 ویکسین سے متعلق فرضی معلومات والی پوسٹ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ کووڈ – 19 ویکسین میں مائکروچپس یا کوئی ایسی چیز لگی ہونا جو ویکسین کی سرکاری فہرست میں شامل نہیں ہے، جیسے پوسٹ کو ہٹایا جائے گا۔

واشنگٹن: فیس بک اور انسٹاگرام نے سوشل میڈیا پر کووڈ – 19 ویکسین سے متعلق فرضی اطلاعات کی تشہیر کرنے والی پوسٹ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیس بک نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا ’’جیسا کہ حالیہ خبروں میں کووڈ – 19 ویکسین کے اس ہفتے کو مارکیٹ میں آنے کا امکان ہے، ہم فیس بک اور انسٹاگرام پر اس سے متعلق گمراہ کن ان پوسٹوں کو ہٹانا شروع کردیں گے جنہیں ماہرین صحت نے مسترد کر دیا ہے‘‘۔

کمپنی نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ کووڈ – 19 ویکسین میں مائکروچپس یا کوئی ایسی چیز لگی ہونا جو ویکسین کی سرکاری فہرست میں شامل نہیں ہے، جیسے پوسٹ کو ہٹایا جائے گا۔

کمپنی نے بیان میں ایک دیگر جھوٹے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ویکسین کی حفاظت کی جانچ کرنے کے لئے گروپوں کو ان کی منظوری کے بغیر لگایا جارہا ہے۔ ایسی پوسٹ کو بھی کمپنی نے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ ویکسین کے بارے میں حقائق تیار ہوتے رہیں گے، اس لئے باقاعدہ طور پر اپنی پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دینا ضروری ہے۔

مجلس نے زرعی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کی حمایت کی

0
مجلس نے زرعی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کی حمایت کی
مجلس نے زرعی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کی حمایت کی

اسد الدین اویسی نے آج ٹویٹ کرکے ایک پوسٹر شیئر کیا جس میں انہوں نے حال ہی میں مرکز کے ذریعہ پاس کیے گئے زرعی قانون کے مخالفت کی اور ان قانونوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کسانوں کی پرزور حمایت کی۔

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر نے زرعی قانون کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کرنے والے کسانوں کی آج حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کسانوں کے احتجاجی مظاہرے ایسے وقت میں شروع ہوئے تھے جب حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے تھے۔

مذکورہ بلدیاتی انتخابات میں جناب اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم پارٹی اہم کردار ادا کر رہی تھی۔ کسانوں کی حمایت کا تاخیر سے اعلان حیدر آباد کے بلدیاتی انتخابات بتایا جاتا ہے۔

مجلس سپریمو اسد الدین اویسی نے آج ٹویٹ کرکے ایک پوسٹر شیئر کیا جس میں انہوں نے حال ہی میں مرکز کے ذریعہ پاس کیے گئے زرعی قانون کے مخالفت کی اور ان قانونوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کسانوں کی پرزور حمایت کی۔

بیرسٹر اسد الدین اویسی نے مظاہرے کرنے والے کسان تنظیموں کی حمایت میں پوسٹر کو سوشل میڈیا کے دوسرے پلیٹ فارموں جیسے فیس بک وغیرہ پر بھی شیئر کیا۔ پوسٹر کی سرخی میں لکھا گیا ہے کہ "مجلس کسانوں کے ساتھ ہے۔”

پوسٹر میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہم اور ہماری پارٹی کسانوں کے ساتھ ہیں، ان کے مطالبات واجب ہیں۔ وزیر اعظم کو کسانوں سے خود بات کرنی چاہیے۔”

تلنگانہ کے مختلف مقامات پر بھی احتجاج

ادھر تلنگانہ کے مختلف مقامات پر بھی کل جماعتی کسانوں کی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ قومی دارالحکومت نئی دہلی میں کسانوں کے ساتھ مرکز کے نامناسب رویہ کے خلاف کسانوں کی تنظیموں کی اپیل پر یہ احتجاج کیا گیا، جس میں دہلی کے کسانوں کی حمایت کی گئی۔

احتجاجی کسان تنظیموں نے کہا کہ مرکز کے نامناسب رویہ کے خلاف اس ماہ کی پانچ تاریخ کو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت کے خلاف اور کسانوں کی حمایت میں نعرے بازی کی گئی۔

حیدرآباد ۔ گولکنڈہ چوراہا پر کسانوں کی بڑی تعداد نے راستہ روکو احتجاج کیا۔ احتجاجیوں نے کسانوں کے ساتھ نامناسب رویہ کا مرکزی حکومت پر الزام لگایا۔

[ہمس لائیو]

سرکار سے بات چیت کر رہے کسان رہنماؤں نے سرکاری کھانا ٹھکرایا، گردوارے کا لنگر کھایا

0

کسان رہنماؤں نے سرکاری کھانا ٹھکراتے ہوئے حکومت کو سخت پیغام دیا۔ اس میٹنگ کے دوران، جو بارہ بجے سے جاری تھی، جب کھانے کا وقت ہوا تو کسانوں نے گردوارے سے لنگر منگایا اور زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔

نئی دہلی: مشتعل کسان قائدین نے جمعرات کو زرعی اصلاحات کے قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے سرکار کی طرف سے کھانے کو ٹھکراتے ہوئے حکومت کو سخت پیغام دیا۔ فصلوں کی کم سے کم امدادی قیمت کی ضمانت کی فراہمی کے لئے یہاں وگیان بھون میں کسانوں کی تنظیموں اور حکومت کے مابین مذاکرات کا چوتھا دور جاری ہے۔
وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر، خوراک اور فراہمی کے وزیر پیوش گوئل اور وزیر مملکت برائے تجارت سوم پرکاش اجلاس میں شریک ہیں۔ حکومت کسان تنظیموں کے چالیس نمائندوں سے بات چیت کر رہی ہے۔

اس میٹنگ کے دوران، جو بارہ بجے سے جاری تھی، جب کھانے کا وقت ہوا تو کسانوں نے گردوارے سے لنگر منگایا اور زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔ اس کے بعد، بات چیت دوبارہ شروع ہوئی جو اب بھی جاری ہے۔

ممتا بنرجی کا سرکاری ملازمین کے لئے 3 فیصد کی شرح سے ڈی اے دینے کا اعلان

0

ورکر یونین سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے ریاستی سرکاری ملازمین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے مرکزی حکومت کے ملازمین کی حالت خراب ہے ۔ مگر ہم اپنے ملازمین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کلکتہ: اسمبلی انتخابات سے عین قبل وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج سرکاری ملازمین کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اگلے سال جنوری میں 3 فیصد کی شرح کے حساب سے ڈی اے دیا جائے گا۔

ریاستی سیکریٹریٹ میں ورکر یونین سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے ریاستی سرکاری ملازمین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے مرکزی حکومت کے ملازمین کی حالت خراب ہے ۔ مگر ہم اپنے ملازمین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

26 جولائی 2019 کو ایس اے ٹی نے ریاستی حکومت کو آئندہ چھ ماہ میں ریاستی سرکاری ملازمین کو ڈی اے ادا کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ریاستی حکومت کے ذریعہ نہیں ادا کئے جانے کے بعد سرکاری کارکنوں کی تنظیم ایس اے ٹی نے توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا۔

ریاست نے ایس اے ٹی میں ایک بار پھر نظرثانی کی درخواست دائر کردی۔ اس قانونی لڑائی کے درمیان سرکاری ملازمین کی یونین نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو خط لکھا۔ اس خط کے تناظر میں ممتا بنرجی نے میٹنگ طلب کی اور کہا کہ مرکزی حکومت کے ملازمین کو غیریقینی صورت حال کا سامنا ہے۔

اس موقع پر وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مرکز کے بقایا جات کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بقایا جات تقریبا 75,000 کروڑ روپئے ہیں۔ وہ 2000 روپے کی بات کر رہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ کووڈ کے علاج پر روپے خرچ ہوتے ہیں۔ امفان طوفان کے متاثرین کی مدد کے لئے مرکزی حکومت نے ایک روپے نہیں دیا ہے۔

انجینئرس فیڈریشن کا بھی کسان تحریک کی حمایت کا فیصلہ

0

انجینئرس فیڈریشن نے زرعی قوانین اور الیکٹرسٹی (ترمیمی) بل کی واپسی کا مطالبہ کیا اور کسانوں کو حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکٹرسٹی (ترمیمی) بل کا ڈرافٹ جاری ہوتے ہی بجلی انجینئروں نے اس کی مخالفت کی تھی۔

لکھنؤ: آل انڈیا پاور انجینئرس فیڈریشن نے زرعی قوانین اور الیکٹرسٹی (ترمیمی) بل کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے گذشتہ سات دنوں سے سراپا احتجاج کسانوں کے حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

آل انڈیا پاور انجینئرس فیڈریشن کے چیئرمین شیلندر دوبے نے آج یہاں کہا کہ الیکٹرسٹی (ترمیمی) بل کا ڈرافٹ جاری ہوتے ہی بجلی انجینئروں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اس بل میں اس بات کی تجویز ہے کہ کسانوں کو بجلی ٹیرف میں مل رہی سبسڈی ختم کردی جائے اور بجلی کے اخراجات سے کم قیمت پر کسانوں سمیت کسی بھی صارف کو بجلی نہ دی جائے۔

اگر بل میں اس بات کی تجویز ہے کہ حکومت کو چاہے تو ڈائریکٹر بنیفٹ ٹرانسفر کے ذریعہ کسانوں کو سبسڈی دے سکتی ہے مگر اس سے پہلے کسانوں کو بجلی بل کے پوری ادائیگی کرنی پڑے گی جو سبھی کسانوں کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسان مشترکہ مورچہ کی اپیل پر چل رہی تحریک میں زرعی قوانین کی واپسی کے ساتھ کسانوں کی یہ ایک اہم مطالبہ ہے کہ بجلی (ترمیمی) بل 2020 واپس لیا جائے۔

دہلی کے کسانوں کی حمایت میں حیدرآباد میں کسانوں کا احتجاج

0
دہلی کے کسانوں کی حمایت میں حیدرآباد میں کسانوں کا احتجاج
دہلی کے کسانوں کی حمایت میں حیدرآباد میں کسانوں کا احتجاج

قومی دارالحکومت میں کسانوں کے ساتھ مرکز کے نامناسب رویہ کے خلاف کسانوں کی تنظیموں کی اپیل پر حیدرآباد میں کسانوں نے احتجاج کیا، جس میں دہلی کے کسانوں کی حمایت کی گئی۔

حیدرآباد: مرکزی حکومت کی جانب سے حال ہی میں پارلیمنٹ میں منظور شدہ زرعی قوانین اور بجلی کے ترمیمی بل کے خلاف تلنگانہ کے مختلف مقامات پر کل جماعتی کسانوں کی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔

قومی دارالحکومت نئی دہلی میں کسانوں کے ساتھ مرکز کے نامناسب رویہ کے خلاف کسانوں کی تنظیموں کی اپیل پر یہ احتجاج کیا گیا، جس میں دہلی کے کسانوں کی حمایت کی گئی۔

اس موقع پر مودی زیر قیادت مرکزی حکومت کے خلاف اور کسانوں کی حمایت میں نعرے بازی کی گئی۔ حیدرآباد ۔ گولکنڈہ چوراہا پر کسانوں کی بڑی تعداد نے راستہ روکو احتجاج کیا۔ احتجاجیوں نے کسانوں کے ساتھ نامناسب رویہ کا مرکزی حکومت پر الزام لگایا۔

احتجاجی کسان تنظیموں نے کہا کہ مرکز کے نامناسب رویہ کے خلاف اس ماہ کی پانچ تاریخ کو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ اس احتجاج کے نتیجہ میں ٹریفک میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔ پولیس نے احتجاجیوں کو گرفتار کرلیا۔

اے پی میں حیرت انگیز واقعہ، کلاس روم میں نابالغ لڑکے اور لڑکی کی شادی، ویڈیو وائرل

0
اے پی میں حیرت انگیز واقعہ، کلاس روم میں نابالغ لڑکے اور لڑکی کی شادی، ویڈیو وائرل
اے پی میں حیرت انگیز واقعہ، کلاس روم میں نابالغ لڑکے اور لڑکی کی شادی، ویڈیو وائرل

اے پی کے ضلع مشرقی گوداوری کے راجمندری جونیر کالج میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکی اور لڑکے نے کلاس روم میں شادی کی۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔

حیدرآباد: کالج کی کلاس روم میں نابالغ طالبہ اور طالب علم کی شادی کا چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ اے پی کے ضلع مشرقی گوداوری کے راجمندری جونیر کالج میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکی اور لڑکے نے کلاس روم میں شادی کی۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق انٹرمیڈیٹ سکنڈری ایم پی سی میں تعلیم حاصل کرنے والے ان دونوں نے گذشتہ ماہ کی 17 تاریخ کو کلاس روم میں شادی کی۔ یہ معاملہ تاخیر سے اُس وقت منظر عام پر آیا جب اس واقعہ کے سلسلہ میں ایک ویڈیو وائرل ہوا۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ طالب علم اپنی معشوقہ کے گلے میں منگل سوتر ڈال رہا ہے۔

کلاس روم میں نابالغ لڑکے اور لڑکی کی شادی
کلاس روم میں نابالغ لڑکے اور لڑکی کی شادی

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے ساتھ ہی اس کالج کے پرنسپل نے دونوں کو ٹی سی دے دی جس کے ساتھ ہی سب نے یہ سمجھا کہ یہ معاملہ یہیں ختم ہوگیا ہے تاہم مزید حیرت انگیز بات یہ سامنے آئی کہ یہ دونوں نابالغ ہیں۔

اس واقعہ کے ویڈیو کو دیکھنے کے بعد دونوں کے والدین سکتہ سے دو چار ہوگئے۔ اس بات کا ہنوز پتہ نہیں چل سکا کہ یہ شادی مزاح کے لئے کی گئی تھی یا پھر یہ شادی حقیقی معنوں میں شادی تھی۔