اتوار, مئی 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 430

کورونا وائرس سے کرہ ارض کا نظام ہوا تہہ و بالا، انسانی زندگی مفلوج

0
کورونا وائرس سے کرہ ارض کا نظام ہوا تہہ و بالا، انسانی زندگی مفلوج
کورونا وائرس سے کرہ ارض کا نظام ہوا تہہ و بالا، انسانی زندگی مفلوج

کورونا وائرس کے اس سال میں معاشرت، معیشت، سیاست، نفسیات، صحت اور تمدن میں ہوئی انقلابی تبدیلیاں۔ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنا ہے اور بارگاہ الہی میں اپنے گناہوں کی تلافی بھی کرنا ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

صدی کی خطرناک ترین وبا کورونا وائرس کو ایک سال مکمل ہو گیا۔ نومبر 2019 میں نئے کورونا وائرس (SARS-CoV-2) نے جس زبردست وبا کووڈ19- کو جنم دیا، وہ ایک ایسا تایخی واقعہ ثابت ہوا، جس نےزمین پر بسنے والے انسانوں کی زندگی کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا ہے۔ کرہ ارض پرتقریباً 200 ممالک آباد ہیں۔ اس وباء نے کم و بیش اور کسی نہ کسی شکل میںتقریباً ان سبھی ملکوں کو اپنا شکار بنایا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ بیماری کی سب سے خطرناک شکل وباء ہوتی ہے۔ جب یہ وبا انسانی زندگیوں کو اپنی گرفت میں لیتی ہے تو پوری کی پوری سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں اور عوام و خواص، دونوں کی زندگی تہہ و بالا ہو جاتی ہے۔ نئے کروناوائرس کے بطن سے پھوٹی وباء نے پوری دنیا میں مختلف  انسانی شعبوں خصوصاً معاشرت، معیشت، سیاست، نفسیات، صحت اور تمدن میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ اس وباء نے انسانی معاشرتی زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ بھی ایک دوسرے سے ’معاشرتی دوری‘ (سوشل ڈسٹینسنگ) اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اس وبائی حملے نے بنی نوع انسان کو کئی نقصان پہنچائے، تو بہت سے نئے سبق بھی عطا کیے۔

پہلا کیس رپورٹ

چین کے شہر ووہان میں 17 نومبر 2019 کو کورونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا۔ ہندوستان میں 30 جنوری  2020کو کورونا وائرس کا پہلا معاملہ درج کیا گیا۔ حکومت نے اس بات کی تصدیق کی چین کی ووہان یونیورسٹی سے آئے ایک طالب علم میں کورونا وائرس کی علامتیں پائی گئی ہیں۔

اس طالب علم کو کیرلہ میں طبی عملہ کی نگرانی میں رکھا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ سب سے پہلے ووہان میں ہی کورونا وائرس پر قابو پالیا گیا۔ کہا گیا کہ کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ جب سائنسدانوں نے ایک مریض کے جسم سے لیے جانے والے وائرس کا جائزہ لیا تو سیدھا اشارہ چمگادڑوں کی جانب کیا گیا۔ اس کے بعد بھی مختلف تحقیقات کی گئیں اور یہ جاننے کی کوشیں اب تک جاری ہیں کہ آخر اس وباء کا خاتمہ کس طرح کیا جائے۔

کورونا وائرس کی عام علامات میں نظام تنفس کے مسائل (کھانسی، سانس پھولنا، سانس لینے میں دشواری)، نزلہ، نظام انہضام کے مسائل (الٹی، اسہال وغیرہ) اور تھکاوٹ جیسی علامات شامل ہیں۔ شدید انفیکشن نمونیہ، سانس نہ آنے یہاں تک کہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔

کورونا وائرس ایک عالمی وبا

کورونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی زد میں لے لیا اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 11  مارچ 2020 کو اسے عالمی وبا قرار دیا۔ اس کے بعد عام لوگوں پر اس کا براہ راست اثر ہونا شراع ہوا۔ پھر حکومتوں کی جانب سے بھی احتیاطی اقدامات کئے گئے اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

کورونا وائرس کی مزید روک تھام کے لیے سفری پابندیاں، لاک ڈاؤن، کرفیو، قرنطینہ، اجتماعات اور تقریبوں کی منسوخی، عبادت گاہوں اور سیاحتی مقامات کو مقفل کر دینے جیسے سخت اقدامات بھی کیے گئے۔ تعلیمی اداروں کو بھی بند کر دیا گیا، درس و تدریس کا سلسلہ منقطع  ہو گیا، جو آج بھی معمول پر نہیں ہے۔ اگرچہ لمبے عرصہ تک اسکول کالج بند رہنے کے سبب بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی، تاہم آن لائن کی صورت میں اداروں نے تعلیمی نقصان کو کم کرنے کی کوشش کی۔

تعلیمی ادارے متاثر

ہندوستان میں آج بھی کوئی وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اسکول کب کھلیں گے۔ بلکہ دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے تو کہہ دیا ہے کہ جب تک ویکسین نہیں آئے گی، اسکول نہیں کھولے جائیں گے۔ کورونا وائرس اگرچہ چین سے پھیلنا شروع ہوا، لیکن سب سے زیادہ  امریکہ اور یورپی ممالک متاثر ہوئے، جبکہ ایک سال کے دوران اس مہلک وائرس سے تقریبا 13 لاکھ سے زائد زندگیاں ختم ہو گئیں۔ جبکہ دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ساڑھےپانچ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ کورونا وائرس کی وباء نے کئی ممالک میں روزمرہ زندگی لاک ڈاؤن کردی، کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ متعدد ادارے بند ہو گئے۔ جس کے سبب لاکھوں اور کروڑوں لوگ ذریعہ معاش سے ہاتھ دھوبیٹھے۔

جب کورونا وائرس کا سلسلہ شروع ہوا تھا، اس وقت ایسا مانا گیا تھا کہ ایک سال میں اس وبا پر قابو پا لیا جائے گا اور کوئی نہ کوئی دوا تیار کر لی جائے گی۔  لیکن ایسا کہنے والوں نے شاید اس بارے میںنہیں سوچاکہ خالق کائنات کے آگے انسان کتنا بے بس اور لاچار ہے۔ اب ایک سال مکمل ہوچکا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر بھی آ گئی ہے۔ امریکہ، یوروپ اور ہند و پاک وغیرہ میں اس وباء کی ہلاکت خیزی میں بھی کوئی کمی نہیں آ رہی ہے۔ لیکن آج بھی سوائے احتیاطی تدابیر کے ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔

ویکسین اور احتیاطی تدابیر

مختلف ویکسین ابھی بھی تیاری کے مرحلے میں ہیں اور کب تک یہ ہر متاثر شخص تک پہنچے گی، کوئی دعوے کے ساتھ نہیں کہہ سکتا۔ اسی کالم میں پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ کورونا وائرس پوری دنیا کے لیے خالق  کائنات کی جانب سے ایک آزمائش ہے۔ ایک ایسی آزمائش، جس میں سوچنے اور سمجھنے والوں کے لیے بہت کچھ ہے۔  اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اقدس کے آگے پوری دنیا کے سائنسداں، تحقیق داں اور میر ترین افراد مل کر بھی سارا زور لگالیں تو انسان کو مشکلات سے نہیں نکال سکتے۔

کورونا وائرس نے ایک سال کے دوران جہاں پورا نظام زندگی بدل کر رکھ دیا ہے، وہیں کوئی بھی شخص اس وباء کے خوف سے نہیں نکل سکاہے۔ کسی بھی دنیاوی چیز کی اب کوئی اہمیت نہیں رہ گئی۔ روپیہ، پیسہ، گاڑی، بنگلہ، کاروبار، آرائش کے سامان، لگژری زندگی سب بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک انجانے سے خوف نے انسانوں کو دنیا کے جلووں اور رنگینیوں سے متنفر کردیاہے۔ بہر حال، ماہرین کا ماننا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ کورونا وائرس کی خبروں سے خود کو دور رکھیں۔

روز مرہ کی سرگرمی

ایک دوسرے کی فکر ضرور کریں، لیکن ہمیشہ کورونا کے بارے میں سوچتے رہنے سے آپ ڈپریشن یا نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ قرآن مجید، دینی تعلیم یا پسندیدہ کتابیں پڑھ کر اپنا وقت گزاریں۔ والدین اور بیوی بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریںاور بے فکر رہنے کی کوشش کریں۔ اس سے آپ کی قوت مدافعت میں اضافہ ہو گا، جس کی آج کل بہت ضرورت ہے۔

خدا کی ذات اور اس کی رحمت پر بھروسہ کریں اور یہ یقین رکھیں کہ جس طرح ہر بلا ایک دن ٹل جاتی ہے، یہ بلا بھی ٹل جائے گی۔ ہمیں اس عالمی وباء نے بتا دیا ہے قدرت کا بنایا ہوا نظام ہی بہتر ہے، اسی میں انسان کی بھلائی ہے۔ دنیا کتنی بھی ترقی کرلے قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

کورونا کے مجاہدین

کورونا کی وباء جہاں انسانی زندگی میں بہت سی مشکلات لے کر آئی اور اس مشکل وقت میں بھی تخریب کاروں اور شر پسندوں نے غیر انسانی سلوک کا مظاہرہ کیا، وہیں اسی کرہ ارض پر ایسے لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر دوسروں کی جان بچانے کو فوقیت دی۔

ہندوستان سمیت مختلف  ملکوں میں ڈاکٹر اور نرسیں چوبیس گھنٹے مریضوں کی جانیں بچانے اور ان کی خدمت کرنے میں مصروف رہے۔ اس دوران نہ جانے کتنے ڈاکٹر اور نرسیں کورونا وائرس کا نشانہ بن کر چل بسے، مگر انہوں نے اپنے فرض سے منہ نہیں موڑا اور پوری استقامت سے وباء کا مقابلہ کرتے رہے۔

اسی طرح دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی انسانیت نواز افراد نے  اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اس وبا کے شکار لوگوں کی ہر طرح سے مدد کی۔ ایثار اور ہمدردی کی مثالیں قائم کرنے والے انہی افراد نے کرہ ارض میں ایک امید کی کرن پیدا کی ہے۔ انہوں نے ثابت کردیا کہ جب بنی نوع انسان کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہو تو دنیا بھر کے مردو خواتین اپنی توانائی مشکل حالات کا مقابلہ کرنے میں صرف کردیتے  ہیں۔

ترکی میں دسمبر سے کورونا وائرس کے ٹیکے لگائے جائیں گے: رجب طیب ایردوان

0

صدر رجب طیب ایردوان  نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہم اگلے مہینے سے ہی ویکسین کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔

انقرہ: صدر رجب طیب ایردوان نے بدھ کو کہا ہے کہ ترکی میں دسمبر سے کورونا وائرس کے ٹیکے لگائے جانے کی امید ہے۔

ترکی کے وزارت صحت کے مطابق ترکی چینی کمپنی سینوویک سے ویکسین کی ایک کروڑ خوراک خریدنا چاہتا ہے۔

جناب ایردوان نے ترکی کی پارلیمنٹ میں بتایا کہ ’’ہم روس، چین، امریکہ اور دیگر ممالک میں ٹیکوں کے ڈویلپمنٹ کی باریکی سے نگرانی کر رہے ہیں اور پہلے ہی ایک ابتدائی حکم دے چکے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم اگلے مہینے سے ہی ویکسین کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔‘‘

بہار اسمبلی: بی جے پی کے وجے سنہا 17 ویں اسمبلی کے اسپیکر منتخب

0

 

بہار اسمبلی میں آج اسپیکر عہدہ کیلئے کرائے گئے انتخاب میں بی جے پی کے وجے سنہا کو 126 اور مہا گٹھ بندھن کے راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) امیدوار اوودھ بہاری چودھری کو 114 ووٹ حاصل ہوئے۔

پٹنہ: قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وجے سنہا نے آج اپوزیشن جماعتوں کے مہا گٹھ بندھن کے امیدوار اوودھ بہاری چودھری کو شکست دے کر 17 ویں اسمبلی کے اسپیکر منتخب کئے گئے۔

اسمبلی میں آج اسپیکر عہدہ کیلئے کرائے گئے انتخاب میں بی جے پی کے مسٹر وجے سنہا کو 126 اور مہا گٹھ بندھن کے راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی) امیدوار مسٹر چودھری کو 114 ووٹ حاصل ہوئے۔

مسٹر سنہا کے حق میں این ڈی اے کی حلیف بی جے پی کے 74، جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے 43، ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) کے 04، ویکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے 04 اور ایک آزاد رکن اسمبلی نے ووٹ کیا۔ مسٹر سنہا کو لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے ایک اور آزاد رکن کی حمایت ملی لیکن ہم کے جیتن رام مانجھی کے پروٹیم اسپیکر ہونے کی وجہ سے وہ ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکے۔

وہیں مسٹر چودھری کو مہا گٹھ بندھن کی حلیف آر جے ڈی کے 75، کانگریس کے 19، سی پی آئی ایم ایل کے 12، سی پی آئی اور سی پی آئی ایم کے 2-2، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے پانچ اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ایک سمیت 116 اراکین کی حمایت ملی۔ لیکن دو اراکین کے ووٹنگ میں حصہ نہیں لینے کی وجہ سے مسٹر چودھری کو 114 ووٹ ملے۔

احمد پٹیل کا انتقال، صدر جمہوریہ، وزیر اعظم و گاندھی خاندان کا اظہار تعزیت

0
کانگریس کے قدآور لیڈر احمد پٹیل کا انتقال
کانگریس کے قدآور لیڈر احمد پٹیل کا انتقال

کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کا انتقال ہوگیا۔ ان کے بیٹے فیصل پٹیل نے ٹویٹر پر اپنے والد کے انتقال کی اطلاع دی۔ جناب پٹیل ایک ماہ قبل کورونا سے متاثر ہوئے تھے۔ انہیں 15 نومبر کو میدانتا اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا۔

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کا بدھ کی صبح ساڑھے تین بجے انتقال ہوگیا۔ انہیں گروگرام کے میدانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انہوں نے اپنی آخری سانس لی۔ علاج کے دوران ان کے کئی اعضا نے کام کرنا بند کردیا تھا۔

ان کے بیٹے فیصل پٹیل نے ٹویٹر پر اپنے والد کے انتقال کی اطلاع دی۔

فیصل نے لکھا، ’’ایک ساتھ کئی اعضا نے کام کرنا بند کردیا تھا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔ اپنے سبھی خیر خواہوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس وقت کورونا وائرس کے اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور سماجی دوری کے سلسلے میں پرعزم رہیں اور کسی بھی اجتماعی انعقاد میں جانے سے بچیں۔‘‘

71 سالہ جناب پٹیل ایک مہینے پہلے کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ انہیں 15 نومبر کو میدانتا اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا۔

وزیر اعظم کا احمد پٹیل کے انتقال پر اظہار تعزیت

وزیراعظم نریندر مودی نے کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔مسٹر پٹیل کا کورونا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے گڑگاؤں کے میدانتا اسپتال علاج چل رہا تھا جہاں ان کی موت ہوگئی۔

جناب مودی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ "احمد پٹیل جی کے انتقال سے دکھی ہوں۔انہوں نے عوامی زندگی میں طویلے وقت تک سماج کی خدمت کی ہے۔ اپنے تیز دماغ کےلئے جانے جانے والوں مسٹر پٹیل کا کانگریس پارٹی کو مضبوط کرنے میں تعاون ہمیشہ یاد کیا جائےگا۔”

ان کے بیٹے فیصل سے بات کرکے اپنی تعزیت کا اظہار کیا۔ ایشور سے دعا کی ہے کہ احمد بھائی کی روح کو سکون پہنچے۔

صدر جمہوریہ کا اظہار تعزیت

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کے انتقال پر گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ مسٹر کووند نے بدھ کو ٹویٹ کے ذریعہ دئے گئے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا،’’کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کے انتقال کے سلسلے میں جان کر دکھ ہوا۔ مسٹر پٹریل نہ صرف اہل رکن پارلیمنٹ تھے،بلکہ ان میں بہترین سیاست داں کی صلاحیت اور عوامی رہنما کا جادو بھی تھا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ "اپنے دوستانہ جذبے کی وجہ سے پارٹی کے باہر بھی انہوں نے دوست بنائے تھے۔ ان کے گھروالوں اور دوستوں کو میری تعزیت۔”

سونیا گاندھی کا اظہار غم

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پارٹی کے سینئر لیڈر احمد پٹیل کے انتقال پر گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کے لئے مختص اور بھروسے مند رہنما تھے اور ان کے انتقال سے پارٹی کو بڑا نقصان ہوا ہے۔

محترمہ گاندھی نےیہاں جاری تعزیتی پیغام میں کہا کہ "مسٹر احمد پٹیل کی شکل میں ،میں نے اپنا ایک ایسا ساتھ کھو دیا ہے جس کی زندگی کانگریس کو مختص رہی ہے۔ ان کی ایمانداری ،قربانی اور کام کے تئیں جو عزم رہا ہے وہ انہیں دوسروں سے الگ رہنما کے طورپرپیش کرتا ہے۔”


انہوں نے کہا،’’ میں نے ایک ایسا پرعزم ساتھ اور دوست کھو دیا ہے جس کا متبادل ممکن نہیں ہے ۔ میں ان کے انتقال سے صدمے میں ہوں اور سوگوار کنبے کےتئیں تعزیت کا اظہار کرتی ہوں۔” ادھر راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے سچا مشیر کھو دیا۔ پرینکا گاندھی و دیگر کانگریس رہنماؤں نے بھی اظہار تعزیت کیا۔

کانگریس پارٹی کے رہنماؤں کے تعزیت کے علاوہ بی جے پی، ایس پی، بی ایس پی رہنماؤں نے بھی جناب احمد پٹیل کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔

جناب احمد پٹیل کی سیاسی زندگی

سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر رہے حناب پٹیل کی پیدائش 21 اگست 1949 کو گجرات میں بھروچ ضلع کے پیرامل گاؤں میں ہوئی تھی۔ اس وقت بھروچ کانگریس کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ وہ پہلی بار 1977 میں 26 سال کی عمر میں بھروچ سے لوک سبھا کا الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ جناب پٹیل یہاں سے تین لوک سبھا رکن پارلیمنٹ منتخب کئے گئے۔ پارٹی میں رفتہ رفتہ ان کا قد بڑھتا گیا اور 1985 میں اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی کے پارلیمانی سکریٹری بنائےگئے۔

جناب پٹیل کو 1986 میں گجرات کانگریس کا صدر بنایا گیا۔ وہ 1988 گاندھی – نہرو خاندان کے ذریعہ چلائے گئے جواہر بھون ٹرسٹ کے سکریٹری بنائے گئے۔ وہ سونیا اور راجیو دونوں کے بھروسے مند شخص رہے۔ وہ تین بار لوک سبھا رکن پارلیمنٹ بننے کے علاوہ پانچ بار راجیہ سبھا رکن بھی رہ چکے تھے۔ پردے کے پیچھے سے سیاست کرنے والے جناب پٹیل کو 2018 میں کانگریس پارٹی کا خزانچی مقرر کیا گیا تھا۔

لو جہاد قانون بنانے والے محبت سے ناآشنا: ابھیشیک مشرا

0
لو جہاد قانون بنانے والے محبت سے ناآشنا: ابھیشیک مشرا
لو جہاد قانون بنانے والے محبت سے ناآشنا: ابھیشیک مشرا

ابھیشیک مشرا نے کہا کہ حکومت میں کسان اور بے روزگار نوجوان پریشان ہیں۔ جرائم کے سبھی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ بیٹیاں، خواتین غیر محفوظ ہیں اور جو ‘پیار’ کے مطلب سے ناآشنا ہیں وہ لو جہاد قانون بنا رہے ہیں۔

اٹاوہ: اترپردیش میں حکمراں جماعت کی جانب سے مجوزہ لو جہاد قانون پر سوال اٹھاتے ہوئے سماج وادی پارٹی(ایس پی) لیڈر و سابق کابینہ وزیر ابھیشیک مشرا نے کہا کہ جو ‘پیار’ کے مطلب سے ناآشنا ہیں وہ لوجہاد قانون بنا رہے ہیں۔

جناب مشرا منگل کو میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ اس حکومت میں کسان اور بے روزگار نوجوان پریشان ہیں۔ جرائم کے سبھی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ بیٹیاں، خواتین غیر محفوظ ہیں۔ ریاست کے ہر شہر میں جرائم اپنی شباب پر ہے۔ قتل، لوٹ اور عصمت دری کے واقعات عام ہوچکے ہیں۔ ریاست میں جنگل راج قائم ہے۔

اکھلیش یادو کو ریاست کی کمان سونپنے کا دعویٰ

انہوں نے دعوی کیا کہ سال 2022 کے اسمبلی انتخابات میں عوام ریاست کا نظام بدل کر اکھلیش یادو کو ریاست کی کمان سونپیں گے۔

انہوں نے کہا ‘ہم لوگ سماج وادی حکومت کے ذریعہ کرائے گئے ترقیاتی کاموں کو عوام سے متعارف کرا رہے ہیں۔ 2022 کے انتخابات میں عوام ریاست کا نظام تبدیل کرنے والے ہیں۔ عوام میں اکھلیش یادو کو ایک بار پھر اترپردیش کا وزیر اعلی بنانے کی گفتگو عام ہے۔

ایس پی لیڈر نے کہا کہ بیشک ابھی اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کی آہٹ نہ ہو لیکن اس کے باوجود ابھی سے ہی ہر جانب ریاست کے نئے وزیر اعلی کے طور پر ایس پی کے سربراہ اکھلیش یادو کے نام موضوع گفتگو ہے۔ ریاست میں حکمراں جماعت بی جے پی کی عوام مخالف پالیسیوں سے خفا عوام اب ایک بار پھر سے ریاست میں سماج وادی حکومت کی امید کرنے لگے ہیں۔

بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے جناب مشرا نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں برہمنوں کا استحصال ہورہا ہے۔ آئے دن برہمنوں کا قتل ہورہا ہے۔ وزیر اعلی یوگی نے برہمن سماج کے خلاف مہم کھول رکھی ہے۔

ٹرمپ نے مان لی شکست، نو منتخب صدر بائیڈن کی انتظامیہ کو ملی اقتدار کی منتقلی کی منظوری

0

 

امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جوزف بائیڈن کو فاتح قرار دیئے جانے کے کوئی دو ہفتے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار شکست تسلیم کی ہے۔ ٹرمپ نے نو منتخب صدر بائیڈن کی انتظامیہ کو اختیارات منتقلی کی منظوری دے دی۔

واشنگٹن: انجام کار صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نو منتخب صدر جوزف بائیڈن کی انتظامیہ کو اختیارات منتقلی کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ہی شش و پنج کا وہ ماحول ختم ہوا جو ٹرمپ کے مسلسل ٹال مٹول کا نتیجہ تھا۔

جنرل سروس ایڈمنسٹریشن کی سربراہ ایملی مرفی نے تحریری طور پر نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کو آگاہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اقتدار کی باضابطہ منتقلی کا عمل شروع کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔

ایملی مرفی کا ئی مکتوب مل جانے کے بعد اب بائیڈن انتطامیہ حکومت سازی کے لئے سرکاری فنڈ استعمال کرنے کی متحمل ہو گئی ہے۔ نومنتخب صدر جو بائیڈن نے اقتدار کی پرامن منتقلی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو فاتح قرار دیئے جانے کے کوئی دو ہفتے بعد صدر ٹرمپ نے اس اولین اقدام کے ذریعہ پہلی بار شکست تسلیم کی ہے۔

ایملی مرفی کے مکتوب کے مطابق یہ فیصلہ قانون اور دستیاب حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا بہر حال کہنا ہے کہ جہاں تک قانونی جنگ کا سوال ہے تو وہ جاری رہے گی۔

حج 2021 کورونا کی وجہ سے ہوگا مہنگا: عباس نقوی

0
حج 2021 کے لیے بڑی تبدیلیوں کا اعلان، انکم ریٹرن کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ
حج 2021 کے لیے بڑی تبدیلیوں کا اعلان، انکم ریٹرن کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

 

2021 کا حج کورونا کی وجہ سے الگ ہی صورتحال میں ہوگا، جس سے حج کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ بھارت سے حاجیوں کا پہلا قافلہ 26 جون کو جبکہ آخری قافلہ 13 جولائی کو سعودی عرب روانہ ہونے کی توقع ہے۔

سری نگر: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے اگلے سال یعنی سال 2021 کے حج کے اخراجات مہنگے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے یہ حج ایک الگ صورتحال میں انجام پذیر ہوگا۔
ان کا کہنا ہے: ‘سال 2021 کا حج جو ہوگا وہ کورونا کی وجہ سے الگ ہی صورتحال میں ہوگا، اس صورتحال میں حج کے اخراجات میں اضافہ ہوگا جس سے حج کے خرچہ جات بڑھیں گے’۔
انہوں نے کہا: ‘حج چونکہ سعودی عرب میں ہوتا ہے وہاں کی حکومت کے پروٹوکال کے مطابق جس کمرے میں آٹھ نو لوگ رہتے تھے اس میں اب صرف دو یا تین ہی لوگ رہ سکتے ہیں۔ جس گاڑی میں 45 حاجی سفر کرتے تھے اس میں زیادہ سے زیادہ بیس حاجی ہی سفر کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی دیگر اخراجات بڑھیں گے’۔

عازمین حج کا روانگی سے 72 گھنٹے قبل کورونا ٹیسٹ

جناب نقوی نے کہا کہ عازمین حج کا سفر پر روانہ ہونے سے 72 گھنٹے قبل کورونا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس سے قبل کورونا ختم ہوا ہوگا۔

موصوف وزیر نے کہا کہ ہمارا سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کے ساتھ ماہ دسمبر میں دو طرفہ معاہدہ طے ہونے والا ہے جس میں دیکھا جائے گا کہ ہمیں کتنا کوٹا مل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے پیش نظر حاجیوں کی عمر کی حد کو بھی 18 سے 65 برس تک محدود کر دیا گیا ہے۔

جناب نقوی نے کہا کہ محرم کے بغیر حج کرنے والی خواتین امسال بھی درخواست جمع کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کورونا کے پیش نظر سعودی عرب جانے کے لئے پروازوں کے ایمبارکیشن پوائنٹس کو 21 سے گھٹا کر 10 کر دیا ہے تاہم ان دس پوائنٹس میں سری نگر شامل ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حج سال 2021 کے لئے بھارت سے حاجیوں کا پہلا قافلہ 26 جون کو جبکہ آخری قافلہ 13 جولائی کو سعودی عرب روانہ ہونے کی توقع ہے۔ حاجیوں کی واپسی کا سلسلہ 14 اگست سے شروع ہونے کی امید ہے۔ کورونا وبا کی وجہ سے سال 2020 کا حج متاثر ہی رہا۔

ایتھوپیا کے 45 ہزار سے زائد مہاجرین نے سوڈان میں لی پناہ

0

ایتھوپیا سے نقل مکانی کرکے سوڈان میں پناہ لینے والے افراد کی تعداد 45،000 سے تجاوز کر چکی ہے، حالانکہ مقامی مسائل جیسے مہاجرین کے لئے رہائش کے انتظامات انسانی امدادی تنظیموں کے سست کام کی وجہ سے باقی ہیں۔

قاہرہ: ایتھوپیا کے ٹگری خطے میں تنازعہ کے آغاز سے اب تک ملک چھوڑنے والے 45 ہزار سے زیادہ مہاجرین سوڈان میں پناہ لے چکے ہیں۔ یہ معلومات سوڈان کی مہاجر ایجنسی کے سربراہ السیر خالد نے دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا سے نقل مکانی کرکے سوڈان میں پناہ لینے والے افراد کی تعداد 45،000 سے تجاوز کر چکی ہے، حالانکہ انسانی امدادی تنظیموں کے سست کام کی وجہ سے مہاجرین کے لئے رہائش کے انتظامات جیسے مقامی مسائل بدستور برقرار ہیں۔
ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد نے اتوار کے روز کہا تھا کہ ٹگری پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کے باغیوں نے پرامن ہتھیار ڈالنے کے لئے تین دن مانگے ہیں اور سرکاری افواج سے شہریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مطالبہ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایتھوپیا کی حکومت نے فوجی اڈے پر حملہ کرنے کے الزامات کے بعد سرکاری فوج اور ٹی پی ایل ایف کے مابین تنازعہ کی صورتحال ہے۔

دہلی فسادات: فیضان کی ضمانت کے خلاف دہلی پولیس کی عرضی کو سپریم کورٹ نے کیا مسترد

0

دہلی ہائی کورٹ نے گذشتہ ماہ دہلی پولیس کو فیضان خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ دہلی پولیس نے فیضان کو ضمانت پر رہا کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی فسادات معاملے کے ملزم فیضان خان کی ضمانت رد کرنے سے متعلق عرضی پیر کے روز مسترد کردی۔

فیضان کے خلاف جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے طلباء کو واٹس ایپ گروپ بنانے کے لئے سم کارڈ فراہم کروانے کے معاملے پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، (یو اے پی اے) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے گذشتہ ماہ دہلی پولیس کو فیضان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ دہلی پولیس نے فیضان کو ضمانت پر رہا کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔

جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے آج سماعت کے دوران دہلی پولیس کی عرضی خارج کردی۔

واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے گزشتہ 24 اکتوبر کو فیضان کو اس بنیاد پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا کہ پولیس کے پاس ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔

کورونا: سپریم کورٹ کا اظہار تشویش، سبھی ریاستوں سے حالات کی تازہ ترین رپورٹ کا مطالبہ

0
ملک بھر میں کورونا وائرس کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے سپریم کورٹ کا اظہار تشویش
ملک بھر میں کورونا وائرس کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے سپریم کورٹ کا اظہار تشویش

ملک بھر سے کورونا کے معاملوں میں تیزی سے اضافے کی خبر ہے۔ پچھلے دو ہفتے میں دہلی میں حالات خطرناک ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے دہلی سمیت ملک کے سبھی ریاستوں سے حالات کی رپورٹ طلب کی ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی سمیت ملک کے مختلف ریاستوں میں کورونا وائرس کی وبا کے خطرناک ہوتے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پیر کو سبھی ریاستوں سے حالات کی رپورٹ طلب کی ہے۔
جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ کی بینچ نے کورونا پر از خود نوٹس لینے والے معاملے کی سماعت کے دوران کہا کہ ملک بھر سے کورونا کے معاملوں میں تیزی سے اضافے کی خبر آرہی ہے۔ پچھلے دو ہفتے میں دہلی میں حالات خطرناک ہوئے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ کورونا معاملے کی خطرناک شکل کے پیش نظر سبھی ریاستوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ کورونا انفیکشن اور اس کیلئے کئے جارہے اقدامات سے متعلق تازہ حالات رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کریں۔

دہلی حکومت سے مریضوں کے انتظام سے متعلق حالات کی تازہ ترین رپورٹ کا مطالبہ

سماعت کے دوران جسٹس بھوشن نے دہلی حکومت سے پوچھا کہ وہ حالات کو کیسے سنبھال رہی ہے اور کورونا انفیکشن کے مریضوں کا علاج کیسے کیا جارہا ہے؟ کیا دہلی کے اسپتالوں میں مریضوں کیلئے مناسب بستروں کا انتظام ہے؟
اس کے جواب میں دہلی حکومت کے وکیل نے کہا کہ دہلی کے سبھی اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کیلئے بستر ریزرو کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد بینچ نے دہلی حکومت سے مریضوں کے انتظام کے سلسلے میں حالات کی تازی رپورٹ پیش کرنے کو کہا۔
اس دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے اس بات کے سلسلے میں اتفاق کا اظہار کیا کہ دہلی حکومت کو کورونا معاملے میں اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ (امت شاہ) نے گزشتہ 13 نومبر کو اس سلسلے میں ایک میٹنگ کی تھی اور کئی ہدایات جاری کئے تھے۔
عدالت نے اس معاملے کی سماعت جمعہ تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے دہلی سمیت سبھی ریاستوں کو ہدایت دی کہ وہ اس دوران انفیکشن سے متعلق حالات کی تازہ رپورٹ اس کے سامنے پیش کریں۔ بینچ نے کہا کہ اگر ریاستی حکومتیں پوری طرح سے تیار نہیں ہوتی ہیں تو دسمبر میں حالات بد سے بدتر ہوسکتے ہیں۔