جمعہ, مارچ 20, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 428

مجلس کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی اور بی جے پی صدر بنڈی سنجے کے خلاف معاملہ درج

0
مجلس کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی اور بی جے پی صدر بنڈی سنجے کے خلاف معاملہ درج
مجلس کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی اور بی جے پی صدر بنڈی سنجے کے خلاف معاملہ درج

سنجے کمار نے مجلس کے دفتر دارالسلام کو دو گھنٹے میں بی جے پی کارکنوں کے ساتھ منہدم کردینے کی دھمکی دی تھی اور اکبرالدین اویسی نے ٹینک بنڈپر واقع سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی سمادھی اور این ٹی آر گھاٹ کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا تھا

حیدرآباد: حیدرآباد سٹی پولیس نے بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے اور تلنگانہ اسمبلی میں مجلس کے فلورلیڈر اکبرالدین اویسی کے خلاف معاملات درج کئے ہیں۔

یہ معاملات،ان دونوں کی تقاریر پر درج کئے گئے۔ اشتعال انگیز بیان دینے پر ایس آر نگر پولیس نے آئی پی ایس کے سیکشن 505 کے تحت معاملہ درج کرلیا ہے۔ ایرہ گڈا ڈویژن کے روڈ شو میں شریک سنجے کمار نے مجلس کے دفتر دارالسلام کو دو گھنٹے میں بی جے پی کارکنوں کے ساتھ منہدم کردینے کی دھمکی دی تھی اور انہوں نے پرانا شہر میں سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا بھی متنازعہ بیان دیا تھا۔

اسی طرح، اکبرالدین اویسی نے غیر مجاز قبضوں کو برخواست کرنے کے لئے پہلے ٹینک بنڈپر واقع سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی سمادھی اور این ٹی آر گھاٹ کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے اشتعال انگیز بیان قرار دیتے ہوئے پولیس نے ازخود کاروائی کے تحت دونوں لیڈروں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔

محسن فخری زادہ: ایران کے ٹاپ جوہری سائنسداں کا قتل

0
محسن فخری زادہ: ایران کے ٹاپ جوہری سائنسداں کا قتل
محسن فخری زادہ: ایران کے ٹاپ جوہری سائنسداں کا قتل

محسن فخری زادہ وہ واحد ایرانی سائنسدان تھے جن کا نام ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے مقصد سے متعلق سوالات کے حوالے سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے 2015 کے ’حتمی تجزیے‘ میں شامل تھا۔

تہران: ایران کے ٹاپ جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو دارالحکومت تہران کے قریب فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ دہشت گردوں نے محسن فخری زادہ کی کار کو نشانہ بنایا۔ جس میں تجربہ کار سائنسدان شدید طور پر زخمی ہوگئے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت دفاع نے اطلاع دی ہے کہ جدید اسلحوں سے لیس دہشت گردوں نے دماوند کاؤنٹی کے ابسرد شہر میں سینئر جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کی کار کو نشانہ بنایا۔ فخری زادہ کے محافظوں اور دہشت گردوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں تجربہ کار سائنسدان شدید طور پر زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود ڈاکٹروں کی ٹیم اسے بچا نہیں سکی۔

محسن فخری زادہ کو مغرب، اسرائیل اور ایران کے جلاوطن دشمنوں کی جانب سے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے خفیہ پروگرام کا مشتبہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا تھا، حالانکہ طویل عرصے سے جوہری ہتھیار بنانے کی تردید کرتا آیا ہے۔

ایرانی میڈیا نے مسلح افواج کے بیان کے حوالے سے کہا، ’’بدقسمتی سے طبی ٹیم ان کی جان نہیں بچا سکی اور چند لمحے قبل محسن فخری زادہ نے کئی برسوں کی محنت اور جدوجہد کے بعد شہادت کا اعلیٰ مقام حاصل کرلیا‘‘۔

محسن فخری زادہ کو اقوام متحدہ کے ایٹمی واچ ڈاگ اور امریکی انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے مربوط پروگرام کا سربراہ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم ایران کا موقف رہا ہے کہ اس نے یہ پروگرام 2003 میں ملتوی کردیا تھا۔

ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے ٹویٹ کرکے کہا ہے کہ ‘دہشت گردوں نے آج ایک نامور ایرانی سائنس دان کا قتل کر دیا ہے۔ یہ ایک بزدلانہ حرکت ہے جس میں اسرائیلی کردار کے اشارے ملتے ہیں، مجرموں کو شدت سے دیکھتی ہے۔ ایران نے عالمی برادری اور خاص طور پر یورپی اتحاد سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے شرمناک دوہرے معیارات کو ختم کریں اور ریاستی دہشت گردی کے اس اقدام کی مذمت کریں۔’

محسن فخری زادہ واحد ایرانی سائنسدان

محسن فخری زادہ وہ واحد ایرانی سائنسدان تھے جن کا نام ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے مقصد سے متعلق سوالات کے حوالے سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے 2015 کے ’حتمی تجزیے‘ میں شامل تھا۔

آئی اے ای اے کا کہنا تھا کہ محسن فخری زادہ، نام نہاد عمَد منصوبے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کی ممکنہ فوجی جہت کے حوالے سے سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔

اسرائیل نے بھی عمد منصوبے کو ایران کا جوہری ہتھیاروں کا خفیہ پروگرام قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے ایران کی جوہری ’آرکائیو‘ تفصیلات کے بڑے حصے تک رسائی حاصل کر لی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے 2018 میں اپنی ایک تقریر کے دوران آرکائیو سے حاصل ہونے والی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا، ’’یہ نام یاد رکھیں، فخری زادہ، جو عمد کے سربراہ ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ عمد کو بند کرنے کے بعد محسن فخری زادہ، ایرانی وزارت دفاع کے ماتحت تنظیم میں ’خصوصی منصوبوں‘ پر کام جاری رکھے ہوئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد اسلامک ریولیوشنری گارڈ کارپس کے میجر جنرل حسین سلامی نے کہا ’’جوہری سائنسدانوں کا قتل کرنے اور ہمیں جدید سائنس تک پہنچنے سے روکنے کی یہ واضح کوشش ہے‘‘۔

صومالیہ میں دہشت گردانہ حملے میں 6 افراد ہلاک، 12 زخمی

0

یہ حملہ سیکیورٹی کے ایک اعلی افسر اور انٹیلی جنس افسر کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا جس میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔ ایتھوپیائی سفارت خانے کا ایک عملہ بھی ہلاک ہوا ہے۔

موغادیشو: صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ہوائی اڈے کے قریب ایک خودکش حملے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔ یہ اطلاع صومالیہ کی مقامی میڈیا کے حوالہ سے دی گئی ہے۔
گیروے آن لائن ریڈیو براڈکاسٹر کے مطابق یہ حملہ ایئر پورٹ کے چیک پوائنٹ کے قریب ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملہ سیکیورٹی کے ایک اعلی افسر اور انٹیلی جنس افسر کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ اس دہشت گردانہ حملے میں ایتھوپیائی سفارت خانے کا ایک عملہ بھی ہلاک ہوا ہے۔

مغربی بنگال: یکم دسمبر سے میڈیکل کالجوں میں کلاسز شروع

0

مغربی بنگال میں یکم دسمبر سے میڈیکل کالجوں میں کلاسز شروع ہوجائیں گے۔ مارچ میں لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے کے بعد سے ہی ریاست کے میڈیکل کالجوں میں کلاسز نہیں ہو رہے ہیں۔

کلکتہ: مغربی بنگال کے تمام میڈیکل کالجوں میں یکم دسمبر سے کلاسز دوبارہ شروع ہوجائیں گے۔

ریاستی محکمہ صحت کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بتایا کہ انفیکشن کی روک تھام کے بعد طبی تعلیمی اداروں کی کلاسیں مرحلہ وار انداز میں شروع ہوں گے۔

خیال رہے کہ مارچ میں لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے کے بعد سے ہی ریاست کے میڈیکل کالجوں میں کلاسز نہیں ہو رہے ہیں۔

شوبھندو ادھیکاری نے پارٹی نہیں چھوڑی ہے، انہیں منانے کی کوششیں جاری رہیں گی: سوگت رائے

0

شوبھندو ادھیکاری نے آج وزیر ٹرانسپورٹ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سوگت رائے نے کہا کہ وزارت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ ان کا ذاتی قدم ہے۔ میں ان سے بات کروں گا اور انہیں پارٹی نہ چھوڑنے کی اپیل کروں گا۔

کلکتہ: ترنمول کانگریس کے سینئر ممبر پارلیمنٹ سوگت رائے نے کہا کہ گرچہ نندی گرام سے ممبر پارلیمنٹ شوبھندو ادھیکاری وزارت سے استعفیٰ دیدیا ہے تاہم انہوں نے پارٹی نہیں چھوڑی ہے۔ انہیں منانے کی کوشش جاری رہے گی اور امید ہے کہ وہ پارٹی چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔

خیال رہے کہ آج شوبھندو ادھیکاری نے وزیر ٹرانسپورٹ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ ای میل کے ذریعہ گورنر کو بھیجا جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیرا علیٰ ممتا بنرجی کو خط لکھ کر ریاست کے عوام کی خدمت کرنے کے لئے شکریہ ادا کیا۔

سوگت رائے نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک ممبر اسمبلی کے عہدے سے استعفی نہیں دیا ہے۔ اور پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے بھی استعفیٰ نہیں دیا۔ جب تک وہ ایم ایل اے ہیں، وہ پارٹی کے ممبر ہیں۔ وزارت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ ان کا ذاتی قدم ہے۔ میں ان سے بات کروں گا اور انہیں پارٹی نہیں چھوڑنے کی اپیل کروں گا۔ انہوں نے جمعرات کو ہوگلی ریور برج کمیشن (ایچ آر بی سی) کے چیئرمین کے عہدے سے استعفی دے دیا۔ کلیان بینرجی کو اس جگہ پر نیا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

سوگت رائے کی شوبھندو ادھیکاری کو منانے کی ذمہ داری

سوگت رائے کو پارٹی نے شوبھندو ادھیکاری سے بات چیت کرنے اور انہیں منانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ رائے نے ان سے ملاقات کر کے ان کی ناراضگی کے وجوہات کو جاننے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق شوبھندو ادھیکاری میں پارٹی میں اپنے پرانے عہدے کو بحال کرنا چاہتے تھے۔ وہ کئی اضلاع کے انچارج تھے۔

اس درمیان شوبھندو ادھیکاری نے ذاتی طور پر مشرقی مدنی پور اور دیگر اضلاع میں پروگرام کرتے رہے اور اشاروں میں پارٹی قیادت کے تئیں ناراضگی ظاہر کرتے رہے۔ ایک طرف جہاں کلیان بنرجی نے شوبھندو ادھیکاری کے خلاف مورچہ کھلا تو دوسری طرف ترنمول کانگریس کے کئی ممبران پارلیمنٹ ادھیکاری کو منانے اور نرم رویہ اختیار کیا جاتا رہا۔ شوبھندو ادھیکاری نے وزارت چھوڑنے کے بعد ہلدیہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

راج کوٹ کے کووڈ اسپتال میں خوفناک آتشزدگی، 5 ہلاک، 28 جھلسے

0
راج کوٹ کے کووڈ اسپتال میں خوفناک آتشزدگی، 5 ہلاک، 28 جھلسے
راج کوٹ کے کووڈ اسپتال میں خوفناک آتشزدگی، 5 ہلاک، 28 جھلسے

گجرات کے راج کوٹ کے کووڈ اسپتال میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اسپتال میں کل 33 مریض داخل تھے۔ آئی سی یو میں داخل 11 مریضوں میں سے 5 کی موت ہوگئی، جبکہ دیگر 6 مریض سمیت 28 افراد جھلس گئے۔

راج کوٹ: گجرات کے شہر راج کوٹ کے مالویہ نگر علاقے میں واقع ایک کووڈ اسپتال میں جمعرات کو نصف شب میں خوفناک آتشزدگی میں پانچ افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوگئے۔
تھانہ انچارج کے این بھوکان نے بتایا کہ آنند بنگلہ چوک کے قریب واقع تین منزلہ ادے شیوانند کووڈ سنٹر اسپتال کی پہلی منزل پر اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اسپتال میں کل 33 مریض داخل تھے۔ واقعہ میں آئی سی یو میں داخل 11 مریضوں میں سے 5 کی موت ہوگئی، جبکہ آئی سی یو کے دیگر 6 مریضوں سمیت 28 افراد جھلس گئے۔
جھلسے ہوئے افراد کو دوسرے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہلاک شدگان کی شناخت اے راٹھود (57)، رام سنگھ بھائی (65)، نتن بھائی، کیشو بھائی اکبری (50) اور رسک لال اگروات (69) کی گئی ہے۔
فائر ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے بتایا کہ فائر فائٹرز نے آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی چھ فائر بریگیڈ گاڑیوں کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ آگ بجھانے والے عملے نے آج صبح تقریبا چھ گھنٹے کی مشقت کے بعد آگ پر قابو پالیا۔ آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔
https://twitter.com/drharshvardhan/status/1332197231051476993?s=20
مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے مرنے والوں کے لیے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہون نے ٹویت کرکے کہا کہ ‘گجرات کے راجکوٹ کے ایک اسپتال میں خوفناک آگ سے متعدد مریضوں کی بے وقت موت بے حد افسوسناک ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ معذور افراد کی روح کو سکون اور غمزدہ کنبہ کو صبر جمیل عطا کرے۔ اس حادثے میں زخمی مریضوں کی جلد صحت یابی کی ہم تمنا کرتے ہیں۔’
[ہمس لائیو]

مزدوروں-کسانوں کی ملک گیر ہڑتال کامیاب: سی پی آئی

0

ہزاروں کسان مزدور’گرامین بھارت بند‘ کا نعرہ لے کر اپنے مطالبات کی حمایت میں اترے۔ بینک، ایل آئی سی جنرل انشورنس، کوئلہ کان، متعدد ریاستوں کے روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں مکمل بندی رہی۔

نئی دہلی: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے سینئر لیڈر و اکھل بھارتیہ کسان مہاسبھا کے جنرل سکریٹری اتل کمار انجان نے مزدوروں اور کسانوں کی ملک گیر ہڑتال کو کامیاب قرار دیتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ہڑتال کے سبب پبلک سیکٹر کے ادارے اور دیہی بازار 80 فیصد بند رہے۔

جناب انجان نے یہاں ایک بیان میں کہا کہ ملک کے بینک، ایل آئی سی جنرل انشورنس، کوئلہ کان، متعدد ریاستوں کے روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں مکمل بندی رہی اور ہزاروں کسان مزدور’گرامین بھارت بند‘ کا نعرہ لے کر اپنے مطالبات کی حمایت میں اترے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیاں، بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور حال ہی میں پارلیمنٹ میں پاس کئے گئے مزدور و کسان مخالف قوانین کے خلاف ملک کی ٹریڈ یونیوں اور کسان تنظیموں نے مل کر ملک گیر ہڑتال اور گرامین بھارت بند کا انعقاد کیا۔ اس سے ملک میں معاشرتی اور معاشی زندگی رک سی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ 27 نومبر کو کسانوں کے ’’دہلی چلو‘‘ کی اپیل کے تحت دہلی کو چاروں جانب سے مرکزی حکومت نے پولیس کے ذریعہ سے گھیر لیا اور لاکھوں کی تعداد میں آرہے پنجاب، ہریانہ، اترپردیش، اتراکھنڈ اور جنوب کی ریاستوں کے کسانوں کا داخلہ دارالحکومت میں تقریباً روک دیا۔

’نوار‘ طوفان سے پڈوچیری میں تباہی، درختوں اور بجلی کے کھمبے اکھڑے

0
نوار طوفان سے پڈوچیری میں تباہی، درختوں اور بجلی کے کھمبے اکھڑے
نوار طوفان سے پڈوچیری میں تباہی، درختوں اور بجلی کے کھمبے اکھڑے

پڈوچیری کے سمندری طوفان ’نوار‘ نے بدھ کی رات تمل ناڈو کے ضلع ولپورم کے مرکنم کو عبور کیا، بڑے پیمانے پر تباہی

پڈوچیری: سمندری طوفان ’نوار‘نے پڈوچیری میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا ئی ہے ،طوفان سے متعدد مقامات پر درختوں اور بجلی کے کھمبے اکھڑنے کی اطلاعات ہیں۔

سمندری طوفان ’نوار‘نے بدھ کی رات تمل ناڈو کے ضلع ولپورم کے مرکنم کو عبور کیا۔ پڈوچیری کے ایجل نگر ، وینکٹ نگر ، بالاجی نگر اور دیگر نشیبی علاقوں میں سیلاب آ گیا ہے۔ کچھ مکانات سیلاب کی زد میں ہیں ، جس کی وجہ سے لوگ گھروں سے نکلنے سے قاصر ہیں۔

لیفٹیننٹ گورنر کرن بیدی نے واٹس ایپ پوسٹ میں بتایا ہے کہ صرف گرینڈ بازارپولیس ایریا سے سات درخت گرنے کے واقعات کی اطلاع ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رینبو نگر میں ایک گھر میں بے ہوشی کی حالت میں ایک بوڑھی خاتون اور بچے کو بچایا گیا ہے۔

بارش کے دوران پڈوچیری کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں خلل پڑا، جسے بحال کردیا گیا ہے۔ سمندری طوفان کے نتیجے میں جان و مال کے نقصان کو روکنے کے لئے احتیاطی تدابیرکے اقدامات کیے گئے تھے۔ سمندری طوفان کے انتباہ دینے والے تمام نشانات کو پڈوچری بندرگاہ سے ہٹا دیئے گئے تھے۔

ادھر وزیر اعلی وی نارائن سامی آج ’نوار‘ سے ہونے والے نقصانات کاجائزہ لینے کے لئے شہر کا دورہ کر رہے ہیں۔

[یواین آئی]

کورونا وائرس سے کرہ ارض کا نظام ہوا تہہ و بالا، انسانی زندگی مفلوج

0
کورونا وائرس سے کرہ ارض کا نظام ہوا تہہ و بالا، انسانی زندگی مفلوج
کورونا وائرس سے کرہ ارض کا نظام ہوا تہہ و بالا، انسانی زندگی مفلوج

کورونا وائرس کے اس سال میں معاشرت، معیشت، سیاست، نفسیات، صحت اور تمدن میں ہوئی انقلابی تبدیلیاں۔ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنا ہے اور بارگاہ الہی میں اپنے گناہوں کی تلافی بھی کرنا ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

صدی کی خطرناک ترین وبا کورونا وائرس کو ایک سال مکمل ہو گیا۔ نومبر 2019 میں نئے کورونا وائرس (SARS-CoV-2) نے جس زبردست وبا کووڈ19- کو جنم دیا، وہ ایک ایسا تایخی واقعہ ثابت ہوا، جس نےزمین پر بسنے والے انسانوں کی زندگی کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا ہے۔ کرہ ارض پرتقریباً 200 ممالک آباد ہیں۔ اس وباء نے کم و بیش اور کسی نہ کسی شکل میںتقریباً ان سبھی ملکوں کو اپنا شکار بنایا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ بیماری کی سب سے خطرناک شکل وباء ہوتی ہے۔ جب یہ وبا انسانی زندگیوں کو اپنی گرفت میں لیتی ہے تو پوری کی پوری سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں اور عوام و خواص، دونوں کی زندگی تہہ و بالا ہو جاتی ہے۔ نئے کروناوائرس کے بطن سے پھوٹی وباء نے پوری دنیا میں مختلف  انسانی شعبوں خصوصاً معاشرت، معیشت، سیاست، نفسیات، صحت اور تمدن میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ اس وباء نے انسانی معاشرتی زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ بھی ایک دوسرے سے ’معاشرتی دوری‘ (سوشل ڈسٹینسنگ) اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اس وبائی حملے نے بنی نوع انسان کو کئی نقصان پہنچائے، تو بہت سے نئے سبق بھی عطا کیے۔

پہلا کیس رپورٹ

چین کے شہر ووہان میں 17 نومبر 2019 کو کورونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا۔ ہندوستان میں 30 جنوری  2020کو کورونا وائرس کا پہلا معاملہ درج کیا گیا۔ حکومت نے اس بات کی تصدیق کی چین کی ووہان یونیورسٹی سے آئے ایک طالب علم میں کورونا وائرس کی علامتیں پائی گئی ہیں۔

اس طالب علم کو کیرلہ میں طبی عملہ کی نگرانی میں رکھا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ سب سے پہلے ووہان میں ہی کورونا وائرس پر قابو پالیا گیا۔ کہا گیا کہ کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ جب سائنسدانوں نے ایک مریض کے جسم سے لیے جانے والے وائرس کا جائزہ لیا تو سیدھا اشارہ چمگادڑوں کی جانب کیا گیا۔ اس کے بعد بھی مختلف تحقیقات کی گئیں اور یہ جاننے کی کوشیں اب تک جاری ہیں کہ آخر اس وباء کا خاتمہ کس طرح کیا جائے۔

کورونا وائرس کی عام علامات میں نظام تنفس کے مسائل (کھانسی، سانس پھولنا، سانس لینے میں دشواری)، نزلہ، نظام انہضام کے مسائل (الٹی، اسہال وغیرہ) اور تھکاوٹ جیسی علامات شامل ہیں۔ شدید انفیکشن نمونیہ، سانس نہ آنے یہاں تک کہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔

کورونا وائرس ایک عالمی وبا

کورونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی زد میں لے لیا اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 11  مارچ 2020 کو اسے عالمی وبا قرار دیا۔ اس کے بعد عام لوگوں پر اس کا براہ راست اثر ہونا شراع ہوا۔ پھر حکومتوں کی جانب سے بھی احتیاطی اقدامات کئے گئے اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

کورونا وائرس کی مزید روک تھام کے لیے سفری پابندیاں، لاک ڈاؤن، کرفیو، قرنطینہ، اجتماعات اور تقریبوں کی منسوخی، عبادت گاہوں اور سیاحتی مقامات کو مقفل کر دینے جیسے سخت اقدامات بھی کیے گئے۔ تعلیمی اداروں کو بھی بند کر دیا گیا، درس و تدریس کا سلسلہ منقطع  ہو گیا، جو آج بھی معمول پر نہیں ہے۔ اگرچہ لمبے عرصہ تک اسکول کالج بند رہنے کے سبب بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی، تاہم آن لائن کی صورت میں اداروں نے تعلیمی نقصان کو کم کرنے کی کوشش کی۔

تعلیمی ادارے متاثر

ہندوستان میں آج بھی کوئی وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اسکول کب کھلیں گے۔ بلکہ دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے تو کہہ دیا ہے کہ جب تک ویکسین نہیں آئے گی، اسکول نہیں کھولے جائیں گے۔ کورونا وائرس اگرچہ چین سے پھیلنا شروع ہوا، لیکن سب سے زیادہ  امریکہ اور یورپی ممالک متاثر ہوئے، جبکہ ایک سال کے دوران اس مہلک وائرس سے تقریبا 13 لاکھ سے زائد زندگیاں ختم ہو گئیں۔ جبکہ دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ساڑھےپانچ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ کورونا وائرس کی وباء نے کئی ممالک میں روزمرہ زندگی لاک ڈاؤن کردی، کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ متعدد ادارے بند ہو گئے۔ جس کے سبب لاکھوں اور کروڑوں لوگ ذریعہ معاش سے ہاتھ دھوبیٹھے۔

جب کورونا وائرس کا سلسلہ شروع ہوا تھا، اس وقت ایسا مانا گیا تھا کہ ایک سال میں اس وبا پر قابو پا لیا جائے گا اور کوئی نہ کوئی دوا تیار کر لی جائے گی۔  لیکن ایسا کہنے والوں نے شاید اس بارے میںنہیں سوچاکہ خالق کائنات کے آگے انسان کتنا بے بس اور لاچار ہے۔ اب ایک سال مکمل ہوچکا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر بھی آ گئی ہے۔ امریکہ، یوروپ اور ہند و پاک وغیرہ میں اس وباء کی ہلاکت خیزی میں بھی کوئی کمی نہیں آ رہی ہے۔ لیکن آج بھی سوائے احتیاطی تدابیر کے ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔

ویکسین اور احتیاطی تدابیر

مختلف ویکسین ابھی بھی تیاری کے مرحلے میں ہیں اور کب تک یہ ہر متاثر شخص تک پہنچے گی، کوئی دعوے کے ساتھ نہیں کہہ سکتا۔ اسی کالم میں پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ کورونا وائرس پوری دنیا کے لیے خالق  کائنات کی جانب سے ایک آزمائش ہے۔ ایک ایسی آزمائش، جس میں سوچنے اور سمجھنے والوں کے لیے بہت کچھ ہے۔  اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اقدس کے آگے پوری دنیا کے سائنسداں، تحقیق داں اور میر ترین افراد مل کر بھی سارا زور لگالیں تو انسان کو مشکلات سے نہیں نکال سکتے۔

کورونا وائرس نے ایک سال کے دوران جہاں پورا نظام زندگی بدل کر رکھ دیا ہے، وہیں کوئی بھی شخص اس وباء کے خوف سے نہیں نکل سکاہے۔ کسی بھی دنیاوی چیز کی اب کوئی اہمیت نہیں رہ گئی۔ روپیہ، پیسہ، گاڑی، بنگلہ، کاروبار، آرائش کے سامان، لگژری زندگی سب بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک انجانے سے خوف نے انسانوں کو دنیا کے جلووں اور رنگینیوں سے متنفر کردیاہے۔ بہر حال، ماہرین کا ماننا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ کورونا وائرس کی خبروں سے خود کو دور رکھیں۔

روز مرہ کی سرگرمی

ایک دوسرے کی فکر ضرور کریں، لیکن ہمیشہ کورونا کے بارے میں سوچتے رہنے سے آپ ڈپریشن یا نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ قرآن مجید، دینی تعلیم یا پسندیدہ کتابیں پڑھ کر اپنا وقت گزاریں۔ والدین اور بیوی بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریںاور بے فکر رہنے کی کوشش کریں۔ اس سے آپ کی قوت مدافعت میں اضافہ ہو گا، جس کی آج کل بہت ضرورت ہے۔

خدا کی ذات اور اس کی رحمت پر بھروسہ کریں اور یہ یقین رکھیں کہ جس طرح ہر بلا ایک دن ٹل جاتی ہے، یہ بلا بھی ٹل جائے گی۔ ہمیں اس عالمی وباء نے بتا دیا ہے قدرت کا بنایا ہوا نظام ہی بہتر ہے، اسی میں انسان کی بھلائی ہے۔ دنیا کتنی بھی ترقی کرلے قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

کورونا کے مجاہدین

کورونا کی وباء جہاں انسانی زندگی میں بہت سی مشکلات لے کر آئی اور اس مشکل وقت میں بھی تخریب کاروں اور شر پسندوں نے غیر انسانی سلوک کا مظاہرہ کیا، وہیں اسی کرہ ارض پر ایسے لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر دوسروں کی جان بچانے کو فوقیت دی۔

ہندوستان سمیت مختلف  ملکوں میں ڈاکٹر اور نرسیں چوبیس گھنٹے مریضوں کی جانیں بچانے اور ان کی خدمت کرنے میں مصروف رہے۔ اس دوران نہ جانے کتنے ڈاکٹر اور نرسیں کورونا وائرس کا نشانہ بن کر چل بسے، مگر انہوں نے اپنے فرض سے منہ نہیں موڑا اور پوری استقامت سے وباء کا مقابلہ کرتے رہے۔

اسی طرح دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی انسانیت نواز افراد نے  اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اس وبا کے شکار لوگوں کی ہر طرح سے مدد کی۔ ایثار اور ہمدردی کی مثالیں قائم کرنے والے انہی افراد نے کرہ ارض میں ایک امید کی کرن پیدا کی ہے۔ انہوں نے ثابت کردیا کہ جب بنی نوع انسان کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہو تو دنیا بھر کے مردو خواتین اپنی توانائی مشکل حالات کا مقابلہ کرنے میں صرف کردیتے  ہیں۔

ترکی میں دسمبر سے کورونا وائرس کے ٹیکے لگائے جائیں گے: رجب طیب ایردوان

0

صدر رجب طیب ایردوان  نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہم اگلے مہینے سے ہی ویکسین کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔

انقرہ: صدر رجب طیب ایردوان نے بدھ کو کہا ہے کہ ترکی میں دسمبر سے کورونا وائرس کے ٹیکے لگائے جانے کی امید ہے۔

ترکی کے وزارت صحت کے مطابق ترکی چینی کمپنی سینوویک سے ویکسین کی ایک کروڑ خوراک خریدنا چاہتا ہے۔

جناب ایردوان نے ترکی کی پارلیمنٹ میں بتایا کہ ’’ہم روس، چین، امریکہ اور دیگر ممالک میں ٹیکوں کے ڈویلپمنٹ کی باریکی سے نگرانی کر رہے ہیں اور پہلے ہی ایک ابتدائی حکم دے چکے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم اگلے مہینے سے ہی ویکسین کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔‘‘