ہفتہ, مارچ 21, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 427

دیر رات نڈا، شاہ اور تومر کی اعلی سطحی میٹنگ، کسانوں کا احتجاج جاری، ہریانہ کے کسانوں کا دہلی مارچ کا اعلان

0

کسان رہنما یوگیندر یادو نے کہا ہے کہ کسان تنظیمیں مذاکرات کے لئے حکومت کی کسی بھی شرط کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ پنجاب کی 20 سے زیادہ کسان تنظیموں کا احتجاج و مظاہرہ کے مقام پر ہی بات چیت پر اصرار۔ کسان تنظیمیں اپنے ساتھ راشن پانی لے کر آئی ہیں اور ایک طویل وقت تک احتجاج کی تیاری میں ہیں۔

نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی میں کسانوں کے جاری احتجاج و مظاہرہ سے فکر مند بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر جے پی نڈا، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے دیر رات میٹنگ کی، جبکہ دوسری جانب کسان تنظیموں نے حکومت سے بات چیت کیلئے کسی بھی شرط کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔

نڈا، شاہ اور تومر نے کسانوں کی حکمت عملی کے حوالے سے دیر رات بات کی لیکن اس کی کوئی سرکاری تفصیلات دستیاب نہیں ہوسکی۔ شاہ نے کسان رہنماؤں کو روڈ جام ختم کرکے اور براری میدان میں آکر جمہوری انداز میں احتجاج کرنے کی تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ ایسا ہونے کے ساتھ ہی اگلے دن کسانوں سے بات چیت کی جائے گی۔

کسان تنظیموں کا مظاہرہ کے مقام پر ہی بات چیت پر اصرار

کسان رہنما یوگیندر یادو نے کہا ہے کہ کسان تنظیمیں مذاکرات کے لئے حکومت کی کسی بھی شرط کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کل کسان تنظیموں کی میٹنگ ہوئی جس میں پنجاب کی 20 سے زیادہ کسان تنظیموں نے احتجاج و مظاہرہ کے مقام پر ہی بات چیت پر اصرار کیا۔

تومر نے کہا ہے کہ حکومت کسانوں سے کھلے ذہن کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ زرعی اصلاحات کے قوانین کا زرعی مصنوعات کی کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ حکومت نے 3 دسمبر کو پہلے ہی کسان تنظیموں کو مذاکرات کے لئے مدعو کیا ہے۔

من کی بات پروگرام

وزیر اعظم نریندر مودی نے ’من کی بات پروگرام‘ میں کہا تھا کہ کسانوں کو زرعی اصلاحات کے قوانین کے ذریعے نئے حقوق اور مواقع ملے ہیں۔ پارلیمنٹ نے غور و خوض کے بعد زرعی اصلاحات کے قوانین منظور کرلیے ہیں۔ ان اصلاحات سے کسانوں کے بہت سے بندھن ختم ہوگئے ہیں۔

حکومت ماضی میں کسان تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کے دو دور کر چکی ہے، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ کاشتکار تنظیمیں ماضی میں نافذ کردہ تین زرعی قوانین کے خاتمے، ایم ایس پی کو قانونی حیثیت دینے، احتجاج و مظاہرہ کرنے والے کسانوں پر درج مقدمات واپس لینے اور دیگر بہت سے مطالبات کرتی رہی ہیں۔

رام لیلا میدان یا جنتر منتر پر احتجاج کسان تنظیموں کا اگلا قدم

کسان تنظیمیں اور ان کے کارکنان دہلی کی سرحد پر جمے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے گزشتہ چار دنوں سے دہلی جانے والے اہم راستے بند ہیں جس سے بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، کچھ کسان تنظیمیں دارالحکومت کے رام لیلا میدان یا جنتر منتر پر احتجاج کرنا چاہتی ہیں۔

کسان تنظیمیں اپنے ساتھ راشن پانی لے کر آئی ہیں اور ایک طویل وقت تک احتجاج کی تیاری میں ہیں۔

دریں اثنا ہریانہ کی کھاپ پنچایتوں نے کسانوں کی تحریک کی حمایت کرنے اور آج دہلی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز کھاپ پنچایتوں کی میٹنگ میں لیا گیا ہے۔

نائیجیریا میں کسانوں کا قتل عام، 110 کسان ہلاک

0

نائیجیریا میں ایک قتل عام میں 110 افراد ہلاک ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق موٹرسائیکلوں پر سوار کچھ بندوق برداروں نے کھیتوں میں کام کرنے والے مرد اور خواتین کسانوں پر حملہ کیا۔ حملے کے بعد بہت ساری خواتین کو بھی اغوا کرلیا کیا گیا۔

ابوجا: نائیجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں ایک قتل عام میں کم از کم 110 افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر کسان شامل ہیں۔ اتوار کے روز افسران نے یہ اطلاع دی۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ ہلاکتیں ہفتہ کے روز دوپہر سے قبل تشدد زدہ صوبے بورنو کے علاقے میدوگوری کے قریب کوشوبے نامی گاؤں میں ہوئی ہیں۔ اس واقعہ میں بنیادی طور پر کسانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق موٹرسائیکلوں پر سوار کچھ بندوق برداروں نے کھیتوں میں کام کرنے والے مرد اور خواتین کسانوں پر حملہ کیا۔ حملے کے بعد بہت ساری خواتین کو بھی اغوا کرلیا کیا گیا۔

ابھی تک کسی دہشت گرد گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ نائجیریا میں عام طور پر بوکو حرام اور اسلامک اسٹیٹ ان ویسٹ افریقہ (آئی ایس ڈبلیو اے پی) کہلانے والی تنظیموں نے حالیہ برسوں میں ایسے حملے کیے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں دہشت گرد گروہ افریقی خطے میں کافی سرگرم ہیں اور انہوں نے گذشتہ ایک دہائی میں 30 ہزار سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے جبکہ نائجر، چاڈ اور کیمرون سمیت دیگر افریقی ممالک میں 2 لاکھ سے زیادہ افراد کو پناہ لینے پر مجبور کیا ہے۔

امیت شاہ نے کہا حیدرآباد کو نظام کی تہذیب سے کیا جائے گا آزاد

0
امیت شاہ نے کہا حیدرآباد کو نظام کی تہذیب سے کیا جائے گا آزاد
امیت شاہ نے کہا حیدرآباد کو نظام کی تہذیب سے کیا جائے گا آزاد

وزیر داخلہ امیت شاہ نے روہنگیائیوں کے مسئلہ پر کہا کہ جب وہ کوئی کارروائی کرتے ہیں تو پارلیمنٹ میں گڑبڑ کی جاتی ہے۔ امیت شاہ نے الزام لگایا کہ ٹی آر ایس نے حیدرآباد کو ڈبو دیا کیوں کہ اس نے مجلس اتحاد المسلمین کی خوشامد کی ہے۔

حیدرآباد: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ بی جے پی حیدرآبادکو نظام کے کلچر سے پاک کرتے ہوئے جمہوری اصولوں کے ساتھ عصری و نئے شہر کی تعمیر کرے گی۔ انہوں نے جی ایچ ایم سی انتخابات کے سلسلہ میں بی جے پی امیدواروں کی مہم کے دوران کہا کہ خاندانی سیاست کو دور کیا جائے گا۔

بی جے پی جی ایچ ایم سی انتخابات میں نشستوں میں اضافہ کے لئے حصہ نہیں لے رہی ہے بلکہ اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لئے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس مرتبہ حیدرآباد کا میئر بی جے پی کا ہوگا۔

انہوں نے پوچھا کہ حالیہ سیلاب کے موقع پر وزیراعلی چندرشیکھرراو نے کہا کہ اس کا جواب ان کے پاس کیا ہے۔ ٹی آر ایس اور مجلس حیدرآباد کو عالمی شہر اور آئی ٹی کا مرکز نہیں بناسکتے کیوں کہ وہ نااہل ہیں اور غیرذمہ دار ہیں۔ حیدرآبادکو آئی ٹی کا عالمی مرکز بنانے کے لئے بی جے پی اہلیت رکھتی ہے۔

ٹی آر ایس اور مجلس

امیت شاہ نے حیدرآباد کو عصری عالمی شہر بنانے کی بات کہی۔ اس شہر کو نواب اور نظام میں پھنسا نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے روہنگیائیوں کے مسئلہ پر کہا کہ جب وہ کوئی کارروائی کرتے ہیں تو پارلیمنٹ میں گڑبڑ کی جاتی ہے۔ امیت شاہ نے الزام لگایا کہ ٹی آر ایس نے حیدرآباد کو ڈبو دیا کیوں کہ اس نے مجلس (اتحاد المسلمین) کی خوشامد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے مجلس کو تمام تالابوں، نہروں اور نالوں پر غیرقانونی قبضوں کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ گذشتہ 5 برس سے ڈرینس کی صفائی کے بغیر اورنالوں پر سے غیرمجاز قبضوں کو ہٹائے بغیر ٹی آر ایس کیا کررہی تھی۔

یہ دعوی کرتے ہوئے میت شاہ نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام برہم اور حکمراں جماعت ٹی آر ایس و اویسی کے اتحاد سے مایوس ہیں۔ انہوں نے پیش گوئی کہ اس مرتبہ بلدیہ پر بی جے پی پرچم لہرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے عوام بہتر حکمرانی چاہتے ہیں۔ وہ نریندر مودی کی قیادت اور بی جے پی پر یقین رکھتے ہیں۔

بلدیہ انتخابات بی جے پی کا اگلا قدم

وزیر داخلہ نے کہا کہ جس طرح 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں تلنگانہ سے بی جے پی سے 4 نشستیں حاصل کی ہیں، اسی طرح اگلا قدم بلدیہ کے انتخابات ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بی جے پی میئر کا عہدہ حاصل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے عوام کو چاہئے کہ وہ بی جے پی کو ایک موقع دیں کیوں کہ ان کی پارٹی نظام کے کلچر سے حیدرآباد کو آزاد کروانا چاہتی ہے۔ جہاں کہیں بھی بی جے پی کامیاب ہوئی فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے۔ انہوں نے ٹی آر ایس کے لیڈروں کے الزامات پر کہا کہ حیدرآباد میں حالیہ سیلاب کے بعد مرکز کی امداد دی گئی ہے۔

[یو این آئی]

لو جہاد کا پہلا معاملہ بریلی ضلع میں ہوا درج

0

 

لو جہاد کا پہلا معاملہ بریلی ضلع کے دیوریان تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ پریشان حال فریق کا الزام ہے کہ دوسرے مذہب کا نوجوان مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ بناکر شادی کرنا چاہتا ہے۔

بریلی: گورنر کے دستخط کے بعد کل نافذ ہونے والے لو جہاد کے نئے قانون کے بعد پہلا معاملہ بریلی ضلع کے دیوریان تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ پریشان حال فریق کا الزام ہے کہ دوسرے مذہب کا نوجوان مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ بناکر شادی کرنا چاہتا ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس روہت سنگھ سجوان نے آج بتایا کہ اترپردیش غیر قانونی طریقہ سے تبدیلی مذہب کی روک تھام سے متعلق آرڈیننس2020 کے تحت ضلع کے دیوریان پولیس اسٹیشن میں انکت نامی ایک شخص نے معاملہ درج کرایا۔ انکت نے اپنی تحریر میں کہا ہے کہ گاؤں میں رہنے والے ایک نوجوان اویس احمد نے ٹیکا رام کی بیٹی کو بہلا پھسلا کر مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ بنایا ہے۔ اسی بنیاد پر، سیکشن 504/506 آئی ایم یو اور 3/5 اترپردیش غیر قانونی طریقہ سے تبدیلی مذہب کی روک تھام سے متعلق آرڈیننس2020 بنام اویس احمد کے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

معاملے کا پس منظر

ضلع کے دیوریان تھانے کے گاؤں شریف نگر کے رہائشی ٹیکا رام کی بیٹی کی اس گاؤں کے رہائشی اویس احمد سے جان پہچان تھی۔ دونوں انٹر کالج تک ایک ہی کالج میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ لڑکی کے مطابق، تین سال قبل اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، اس نے دوسرے کالج میں تعلیم حاصل کرنا شروع کردیا۔ اویس احمد ایک سال سے مسلسل دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ مذہب بدل کر اس سے نکاح کرلے۔ شروع میں، وہ ٹالتی رہی۔ ڈر تھا کہ اگر معاملے کو طول دیا تو بدنامی ہوگی۔ بعد میں مزاحمت کی تو اس نے اغوا کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ اس نے یہ بات اپنے اہل خانہ کو بتائی۔

اس کے بعد ملزم کو سمجھانے کی کوشش کی گئی، لیکن اس کی ہمت بڑھتی گئی۔ جھگڑے سے بچنے کے لئے لڑکی کے باپ ٹیکا رام نے جون میں اس کی شادی دوسری جگہ کردی تھی۔ لڑکی کی شادی ہونے کے بعد بھی اویس اس کے گھر والوں کو پریشان کرتا تھا۔ آئے دن گھر پہنچ کر بدتمیزی کرتا تھا۔

لڑکی کے باپ کا کہنا ہے کہ ہفتے کو اویس گھر آگیا اور کہنے لگا کہ اپنی بیٹی کو سسرال سے گھر بلاؤ اسے مجھ سے نکاح کرنا ہوگا، مذہب تبدیل کرنا ہوگا۔ تبھی تم لوگوں کی جان بچ سکے گی اس کے بعد پستول دکھا کر جان سے مارنے کی دھمکی دینے لگا۔ ہفتے کی قریب آٹھ بجے لڑکی کے والد تھانہ دیوریان پہنچے اور پورا واقعہ بتایا اور رات قریب گیارہ بجے پولیس نے اس کے خلاف نئے قانون کے تحت معاملہ درج کیا۔

مسٹر سجوان نے بتایا کہ پولیس کی چار ٹیمیں ملزم کی تلاش کررہی ہیں۔

من کی بات: زرعی اصلاحات کے قوانین نے امکانات کے نئے دروازے کھولے: مودی

0
وزیر اعظم مودی کا جی - 20 سے کووڈ - 19 پر فیصلہ کن اقدام کرنے کا مطالبہ
وزیر اعظم مودی کا جی - 20 سے کووڈ - 19 پر فیصلہ کن اقدام کرنے کا مطالبہ

18 ویں ’من کی بات‘ پروگرام میں نریندر مودی نے کہا کہ ان قوانین نے نہ صرف کسانوں کے بہت سے بندھن ختم ہوئے ہیں بلکہ انہیں حقوق اور مواقع بھی فراہم کئے ہیں۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز زرعی اصلاحات کے قوانین کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان قوانین سے کسانوں کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھلے ہیں۔
اپنی دوسری مدت کے 18 ویں ’من کی بات‘ پروگرام میں نریندر مودی نے کہا کہ ان قوانین نے نہ صرف کسانوں کے بہت سے بندھن ختم ہوئے ہیں بلکہ انہیں حقوق اور مواقع بھی فراہم کئے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا ’’ہندوستان میں زراعت اور اس سے وابستہ چیزوں میں نئی ​​جہتیں شامل کی جارہی ہیں۔ گزشتہ دنوں ہونے والے زرعی اصلاحات نے کسانوں کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’برسوں سے کسانوں کی مانگ تھی اور ان مطالبات کی تکمیل کے لئے ہر سیاسی پارٹی نے ان سے وعدہ کیا تھا وہ مانگیں اور مطالبات پورے ہوچکے ہیں‘‘۔

انتہائی غور وخوض کے بعد زرعی اصلاحات کو قانونی شکل دی گئی

انہوں نے مزید کہا کہ انتہائی غور وخوض کے بعد پارلیمنٹ نے زرعی اصلاحات کو قانونی شکل دی۔ ان اصلاحات سے نہ صرف کسانوں کے بہت سے بندھن ختم ہوئے ہیں، بلکہ انہیں نئے حقوق، نئے مواقع بھی ملے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سے کسانوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان حقوق نے بہت ہی کم وقت میں کسانوں کی پریشانیوں کو کم کرنا شروع کردیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قانون میں ایک اور بہت بڑی بات ہے کہ ان قوانین میں یہ التزامات کئے گئے ہیں کہ اس علاقے کے ایس ڈی ایم کو کسانوں کی شکایات کو ایک ماہ کے اندر تدارک کرنا ہوگا۔
انہوں نے ’من کی بات پروگرام‘ کی شروعات وارنسی سے چوری ہونے والی دیوی انا پورنا کی قدیم مورتی کے کینیڈا سے واپس لائے جانے کی خوشخبری سے کی۔ یہ مورتی تقریبا 100 سال پہلے وارانسی کے ایک مندر سے چرائی گئی تھی۔
نریندر مودی نے کہا کہ ماتا انا پورنا کے مجسمے کی طرح ہی ہندوستانی ثقافتی ورثے کے بیش قیمتی چیزیں بھی بین الاقوامی گروہوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہ گروہ انہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ اب ان پر سختی کی جارہی ہے اور ہندوستان نے ان کی واپسی کے لئے بھی کوششیں تیز کردی ہیں۔

تلنگانہ: کورٹلہ سوشل ویلفیئر ریزیڈنشل کالج میں 75طالبات کورونا سے متاثر

0

کالج کے عہدیداروں نے طالبات سے آن لائن کلاسس میں شرکت کے لئے نصابی کتب حاصل کرنے کے مقصد سے کالج آنے کو کہا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ کالج آنے والی طالبات وقفہ وقفہ سے بخار سے متاثر ہوگئیں اور 250 میں سے 75 طالبات کورونا سے مثبت پائی گئیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع جگتیال کے کورٹلہ میں 75طالبات کورونا سے متاثر پائی گئیں جس سے والدین اور عہدیداروں میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے۔ یہ واقعہ کورٹلہ سوشل ویلفیر ریزیڈنشل کالج میں پیش آیا۔

ذرائع نے بتایا کہ کالج کے عہدیداروں نے طالبات سے خواہش کی کہ وہ آن لائن کلاسس میں شرکت کے لئے نصابی کتب حاصل کرنے کالج آئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کالج کو آنے والی طالبات وقفہ وقفہ سے بخار سے متاثر ہوگئیں اور 250 میں سے 75 طالبات کورونا سے مثبت پائی گئیں۔

عہدیداروں نے طالبات سے خواہش کی کہ وہ اقامتی ہاسٹل میں ہی رہیں۔ ان کے لئے تمام انتظامات کئے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اساتذہ بھی اس سے متاثر ہوگئے ہیں۔

لندن میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرہ میں 60 افراد گرفتار

0
لندن میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرہ میں 60 افراد گرفتار
لندن میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرہ میں 60 افراد گرفتار

برطانیہ میں کورونا وبا کے آغاز کے بعد سے ہی لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل نومبر میں پولیس نے لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کے دوران 190 مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔

لندن: عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے پولیس نے ہفتے کے روز برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں حکومت کی جانب سے لگائے گئے لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے میں 60 مظاہرین کو گرفتار کیا۔
سینکڑوں افراد لندن کے وسطی علاقے میں سڑکوں پر احتجاج و مظاہرہ کیلئے جمع ہوئے اس دوران کچھ مظاہرین نے پولیس افسران کے ساتھ جھڑپیں بھی کیں۔
لندن پولیس کا کہنا تھا ’’پولیس اہلکاروں نے آج لندن میں گروپس میں جمع ہونے کے لئے 60 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری مختلف جرائم کے لئے کی گئی ہیں جن میں کورونا وائرس سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی بھی شامل ہے۔ گرفتار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے اور ہم لوگوں سے اپنے گھروں کو واپس جانے کی اپیل کرتے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ برطانیہ میں کورونا وبا کے آغاز کے بعد سے ہی لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل نومبر میں پولیس نے لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کے دوران 190 مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔

امریکہ کا ممبئی حملہ کے مجرم ساجد پر50 لاکھ ڈالر کےانعام کا اعلان

0
امریکہ کا ممبئی حملہ کے مجرم ساجد پر50 لاکھ ڈالر کےانعام کا اعلان
امریکہ کا ممبئی حملہ کے مجرم ساجد پر50 لاکھ ڈالر کےانعام کا اعلان

امریکی محکمہ خارجہ نے ابھی دو روز قبل ہی ایک بیان جاری کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ ہندوستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

نئی دہلی: امریکہ نے 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملہ کے قصوروار اور لشکر طیبہ کے دہشت گرد ساجد میرکے بارے میں معلومات دینے والے کو 50لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

’یوایس ایوارڈز فار جسٹس پروگرام‘ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ساجد میر پاکستانی شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کا فعال ممبر ہے اور نومبر 2008 میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد انہ حملے میں مطلوب ہے۔

میر کو کسی بھی ملک میں سزا دیئے جانے یا اس کی گرفتاری کے بارے میں مطلع کرنے والے شخص کو 50 لاکھ ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ میر پاکستان میں موجود ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ابھی دو روز قبل ہی ایک بیان جاری کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ ہندوستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

قابل غور ہے کہ 26 نومبر 2008 میں شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے 10 عسکریت پسند ممبئی میں داخل ہوئے اور انہوں نے ہندوستان کے معاشی دارالحکومت میں متعدد اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کئے۔ ان حملوں میں چھ امریکی شہریوں سمیت 166 افراد مارے گئے۔

عام آدمی پارٹی کی کسانوں کی حمایت میں مَوڑ منڈی میں اگلے ماہ ہونے والی ریلیاں ملتوی

0

جرنیل سنگھ نے کہا کہ پہلے یہ امید تھی کہ 26-27 کے دن کسانوں کی تحریک کے پیش نظر مودی حکومت مطالبات تسلیم کرے گی۔ مودی حکومت کے ہٹ دھرمی کے رویے کے سبب یہ تحریک طول پکڑ سکتی ہے لہٰذا یہ ریلیاں ملتوی کر دی گئی ہیں۔

چنڈی گڑھ: پنجاب عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے کسان، مزدور، تاجر بچاؤ مہم کے تحت دسمبر کے مہینے میں موڑ منڈی میں کی جانے والی ریلیاں ملتوی کر دی ہیں۔ 

پنجاب امور کے پارٹی انچارج جرنیل سنگھ نے آج یہاں ایک بیان میں کہا کہ کسان تحریک کی حمایت میں یہ ریلیاں ملتوی کر دی گئی ہیں۔ ملک کا کسان دہلی میں اپنے مطالبات کے سلسلے میں تحریک چلا رہا ہے۔ اسی کا خیال کرتے ہوئے پارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ چار، 13 اور 20 دسمبر کی ریلیاں ملتوی کر دی گئی ہیں۔ ان ریلیوں کی اگلی تاریخ بعد میں اعلان کی جائے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنما، والنٹیئرز بڑی تعداد میں کسانوں کی دہلی میں جاری مظاہرے میں شامل ہیں۔ پہلے یہ امید تھی کہ 26-27 کے دن کسانوں کی تحریک کے پیش نظر مودی حکومت مطالبات تسلیم کرے گی۔ مودی حکومت کے ہٹ دھرمی کے رویے کے سبب یہ تحریک طول پکڑ سکتی ہے لہٰذا یہ ریلیاں ملتوی کر دی گئی ہیں۔ 

ان کے مطابق کسان ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی جانب سے اپنے حقوق کے لیے چلائی جانے والی تحریک عام آدمی پارٹی کے رہنما اور والنٹیئرز بغیر پارٹی کے بینر جھنڈے کے اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی کیجریوال حکومت کی جانب سے کسانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔

لو جہاد: یوگی حکومت کے تبدیلی مذہب مخالف آرڈیننس کو یوپی گورنر کی منظوری

0

آرڈیننس پر گورنر نے جمعہ کو اپنے دستخط کردئیے تھے۔ آرڈیننس کا نوٹیفکیشن محکمہ داخلہ کے ذریعہ ہفتہ کو جاری کیا گیا اور آرڈیننس میں بین مذہبی شادی کے لئے اجازت طلب کرنے کی غرض سے عرضی کا ایک ڈرافٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔

لکھنؤ: اترپردیش کی گورنر نے ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی جانب سے مبینہ لو جہاد کو روکنے کے لئے کابینہ کے ذریعہ منظور کئے گئے تبدیلی مذہب آرڈیننس کو آج اپنی منظوری فراہم کردی جس کے ساتھ ہی یہ ریاست میں نافذ العمل ہوگیا۔

آفیشیل ذرائع نے یہاں بتایا کہ اس آرڈیننس پر گورنر نے جمعہ کو اپنے دستخط کردئیے تھے۔ آرڈیننس کا نوٹیفکیشن محکمہ داخلہ کے ذریعہ ہفتہ کو جاری کیا گیا۔ آرڈیننس میں بین مذہبی شادی کے لئے اجازت طلب کرنے کی غرض سے عرضی کا ایک ڈرافٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں گذشتہ منگل کو ہوئی کابینی میٹنگ میں کابینہ نے ‘غیر قانونی تبدیلی مذہب مانع آرڈیننس 2020’ کو منظوری فراہم کی تھی۔ تاکہ ریاست میں ایسے قانون کو نافذ کیا جاسکے جس کے تحت جبری تبدیلی مذہب، شادی کے لئے بہلا پھسلا کر مذہب تبدیل کرانے جیسے عمل کو قابل سزا اور غیر ضمانتی جرم قرا ر دیا جاسکے۔

تبدیلی مذہب مخالف آرڈیننس کی تفصیل

تبدیلیِ مذہب کی صورت میں اس کو چیلنج کرنے والے کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس ضمن میں ثبوت فراہم کرے۔ نئے قانون کے مطابق دو مختلف مذاہب والے جوڑے کو شادی سے 2 مہینے قبل ڈسٹرک مجسٹریٹ کو اپنی شادی کے لئے اجازت لینے کی غرض سے نوٹس دینی ہوگی۔ بغیر اجازت کے بین مذہبی شادی کرنے کی صورت میں 6 ماہ سے 3 سال کی جیل اور 10ہزار روپئے جرمانہ کی سزا کا مستحق ہوگا۔ شادی سے قبل نام چھپانے کی صورت میں 10سال کی قید کی سزا قانون میں رکھی گئی ہے۔

آفیشیل ذرائع نے بتایا کہ تبدیلی مذہب کو سزاوار اور غیر ضمانتی جرم میں رکھا گیا ہے۔ اس سے متعلق کیس کی سماعت فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی عدالت میں ہوگئی۔ قانون کی تجاویز کے مطابق ایسی تمام شادیاں جو تبدیلی مذہب کی مقصد سے کی جائیں گی وہ غیرقانونی قرار دیا جائے گا۔ جبکہ بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب کی صورت میں اس متعلقہ تنظیم کے رجسٹریشن کو منسوخ کردیا جائے گا۔

نئے قانون کے مطابق ایسے معاملے جس میں ایس سی ایس ٹی سماج کی خاتون نے مذہب تبدیل کیا ہوگا تو ایسی صور ت میں سخت سزا کی شق رکھی گئی ہے۔ایسی صورت میں 3 تا 5 سال کی جیل اور 25 ہزار روپے کی سزا ہوسکتی ہے۔ عام صورتحال میں قانونی دفعات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک تا 5 سال کی قید اور 15 ہزار روپے کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ جبکہ بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب کی صورت میں کم سے کم 3 سال اور زیادہ سے زیادہ 10 سال کی جیل اور 50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا جائےگا۔