ڈبلیو ایچ او نے بایوٹک اور فائزر ویکسین کو دی منظوری
ریلائنس جیو کا اپنے گاہکوں کو نئے سال کا تحفہ، یکم جنوری سے سبھی نیٹ ورک پر کال فری
ریلائنس جیو نے اپنے گاہکوں کو نئے سال کا شاندار تحفہ دیتے ہوئے یکم جنوری سے سبھی نیٹ ورک پر کال فری کیا۔
ممبئی: مکیش انبانی کی ریلائنس جیو نے اپنے گاہکوں کو نئے سال کا شاندار تحفہ دیتے ہوئے وعدے کے مطابق یکم جنوری سے انٹرکنیکٹ یوز چارج ( آئی یو سی) کو ختم کرنے کا جمعرات کو اعلان کیا۔
آئی یو سی کے تحت جیو سروس کے گاہک کو اسے پلان سے ملے منٹ ختم ہوجانے پر گراہک کو دوسرے نیٹ ور ک پر کال کرنے کیلئے ری چارج کروانا پڑتا تھا اور چھ پیسے فی منٹ یا فی کال چارج دینا پڑتا تھا جبکہ جیو کے گاہکوں کو آپس میں ان لمیٹڈ فری کال کی سہولت تھی۔
جیو نے جمعرات کو بیان جاری کر کہا کہ بھارتی ٹیلی مواصلات ریگولیٹری اتھارٹی (ٹرائی) کی ہدایت کے مطابق ’بل اور کیپ دور‘ ملک میں یکم جنوری 2021 سے لاگو ہورہا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے جیو گاہکوں سے کئے گئے وعدے کے مطابق آئی یو سی چارج ختم ہورہا ہے اور جمعہ یکم جنوری سے جیو گاہک بھی سبھی نیٹ ورک پر گھریلو وائس کال کا فری میں لطف اٹھا سکیں گے۔
جیو نے کہا ہے کہ ستمبر 2019 سے ٹرائی نے جب ’بل اینڈ کیپ دور‘ عمل درآمد کی مدت کو بڑھایا تو اس کے پاس آئی یو سی چارج لگانے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا تھا۔ جیو نے کہا کہ ٹرائی کے اس بندوبست کو لاگو کرنے کے ساتھ ہی وہ اپنے گاہکوں سے کئے گئے وعدے کو فوری اثر سے عمل میں لارہا ہے۔
جیو نے اکتوبر 2019 میں آئی یو سی چارج شروع کیا تھا
ٹرائی نے یکم اکتوبر 2017 کو آئی یو سی چارج 14 پیسے سے گھٹا کر 6 پیسے کیا تھا اور اسے یکم جنوری 2020 سے پوری طر ح ختم کرنے کی تجویز تھی لیکن ریگولیٹری اس پر پھر سے کنسلٹیشن پیپر لے آیا تھا جسے دیکھتے ہوئے جیو نے اکتوبر 2019 میں آئی یو سی چارج شروع کیا تھا۔
جیو نے چارج شروع کرتے وقت کہا تھا کہ پچھلے تین سالوں میں وہ آئی یو سی چارج کے طو ر پر 13,500 کروڑ روپے کا بھگتان دوسرے آپریٹروں کو کرچکا ہے۔ پچھلے تین سالوں سے آئی یو سی چارج کا بوجھ گاہکوں پر نہیں ڈال رہے تھے۔ کمپنی نے کہا تھا کہ چارج 31 دسمبر 2019 کے بعد بھی جاری رہنے کے امکان کو دیکھتے ہوئے مجبوراً اس کا بوجھ گاہکوں پر ڈال رہی ہے۔
ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کو ایک دوسرے کو آئی یو سی چارج کا بھگتان کرنا پڑتا ہے۔ آئی یو سی چارج گراہکوں کے ذریعہ ایک دوسرے نیٹ ورک پر کال کرنے کی وجہ سے دینا پڑتاہے۔ جیسے کہ اگر جیو کے گاہک ایئر ٹیل پر کال کرتا ہے تو جیو کو ایئر ٹیل کو آئی یو سی چارج دینے ہونگے۔ اس کی شرح ٹرائی طے کرتی تھی۔
جیو کے آئی یو سی چارج ختم کرنے سے ملک کے نجی سیکٹر کی سرکردہ کمپنی کے 40 کروڑ سے زیادہ گاہک مستفیض ہونگے۔
کپوارہ: ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری، 5 افراد زخمی، مسجد سمیت کئی مکانوں کو نقصان

ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری کے نتیجے میں کم سے کم پانچ افراد زخمی جبکہ ایک مسجد سمیت کئی مکانوں کو نقصان پہنچا۔
سری نگر: شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں لائن آف کنٹرول پر ٹنگڈار اور کرناہ سیکٹروں میں بدھ کی شب ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں کم سے کم پانچ افراد زخمی جبکہ ایک مسجد سمیت کئی مکانوں کو نقصان پہنچا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع کپوارہ میں لائن آف کنٹرول پر ٹنگڈار اور کرناہ سیکٹروں میں بدھ کی شب پاکستانی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرکے گولہ باری شروع کردی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں کم سے کم پانچ افراد زخمی جبکہ ایک مسجد سمیت کئی رہائشی مکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔
مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ وہاں تعینات بھارتی فوجی جوانوں نے حملوں کا بھر پور جواب دیا اور طرفین کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کا سلسلہ رک رک کر رات بھر جاری رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال 2003 میں جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے باوجود بھی جموں و کشمیر کے سرحدوں پر طرفین کے درمیان ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔
اسے بھی پڑھیں:
ارجنٹینا میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے والا قانون منظور
ارجنٹینا کی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے والے قانون کو منظور کر لیا ہے۔ ارجنٹینا میں اس قانون سے پہلے خواتین عصمت دری یا طبی تعلق سے ہی اسقاط حمل کرا سکتی تھیں۔
بیونس آئرس: ارجنٹینا میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے کے لئے طویل عرصے سے جاری جدوجہد کو مدِ نظر رکھتے ہوئےارجنٹینا کی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے والے قانون کو منظور کر لیا ہے۔ ایسا کرنے والا ارجنٹینا پہلا لاطینی امریکی ملک ہے۔ ارجنٹائن میں یہ قانون اس لئے بھی تاریخی ہے کیونکہ ملک کی خواتین طویل عرصے سے اس قانون کو منظور کرنے کا مطالبہ کررہی تھیں، جو اب بالآخر پورا ہو گیا ہے۔ ملک میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے کے لئے اس سے قبل سنہ 2018 میں بھی اس پر بحث ہوئی تھی اور اس وقت کے زیادہ تر اراکین پارلیمنٹ نے اس بل کے خلاف ووٹ دیا تھا۔
ارجنٹینا کے ایوان میں بارہ گھنٹے جاری بحث کے بعد ہوئی ووٹنگ میں اس بل کے حق میں 38 ووٹ، جبکہ مخالفت میں 29 ووٹ پڑے اور ایک رکن غیر حاضر رہا۔ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ’چیمبر آف ڈپٹیز‘ نے حالانکہ دسمبر کے شروع میں ہی اس بل کی منظوری دے دی تھی اور اس کی صدر البرٹو فرنانڈیز نے بھی حمایت کی تھی۔
ارجنٹینا میں اس قانون سے پہلے خواتین عصمت دری یا طبی تعلق سے ہی اسقاط حمل کرا سکتی تھیں۔ انتہائی بااثر کیتھولک چرچ اور ملک میں بڑھتے انجیلی فرقے نے اس قانون کی مخالفت کی اور اراکین سے صدر کی طرف سے حمایت یافتہ بل کی مخالفت کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
چھٹے دور کی بات چیت: کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز
حکومت نے کسان رہنماؤں سے چھٹے دور کی بات چیت میں کہا کہ کسانوں کے مطالبات کے بارے میں بیچ کا راستہ نکالنا پڑے گا۔
نئی دہلی: حکومت نے بدھ کو احتجاج کر رہے کسانوں کے مطالبات کے تعلق سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز رکھی اور کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے درمیانی راستہ نکالنا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے کسان رہنماؤں سے چھٹے دور کی بات چیت میں کہا کہ کسانوں کے مطالبات کے بارے میں بیچ کا راستہ نکالنا پڑے گا۔ ایک کمیٹی تین زرعی اصلاحاتی قوانین کے بارے میں ان کے مطالبات پر غور کرنے کے لیے تشکیل دی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے حالانکہ اس تعلق سے ابھی کوئی بیان نہیں آیا ہے۔
حکومت نے اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز رکھی تھی جسے کسانوں نے مسترد کردیا تھا۔
اس میٹنگ کے آغاز سے قبل حالانکہ کسان لیڈران نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کی بات پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ اس سے کم انہیں کچھ منظور نہیں ہے۔ میٹنگ سے پہلے مرکزی وزیر پیوش گوئل اور نریندر تومر نے کسانوں کے ساتھ گرودوارے سے لایا گیا لنگر کھایا۔
مزید اسے بھی پڑھیں:
پانچویں دور کی بات چیت ہوگی آج، کسانوں نے بھارت بند کی پکار دیکر بڑھایا دباؤ
گورنر کے خلاف ترنمول کانگریس کے پانچ ارکان پارلیمنٹ نے صدر کو لکھا خط
گورنر کے خلاف خط ایک ایسے وقت میں لکھا گیا ہے کہ جب اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بنگال میں سیاسی ماحول تیز ہے۔ گورنر یومیہ بنگال حکومت کے خلاف تنقید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
کلکتہ: ترنمول کانگریس کے پانچ ممبران پارلیمنٹ جگدیپ دھنکر نے صدر جمہوریہ کو خط لکھ کر گورنر کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر سیاسی تعصب سے کام لے رہے ہیں اور آئین کی کھلے عام خلاف ورزی کررہے ہیں۔
صدر جمہوریہ کو خط لکھنے والوں میں ممبر پارلیمنٹ سندیپ بندو پادھیائے، ڈیریک اوبرائن، کلیان بنرجی، سکھیندر شیکھر رائے اور کاکولی گھوش دستیدار نے مشترکہ طور پر دستخط کرکے صدر جمہوریہ کو خط لکھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ گورنر ریاستی حکومت کی مشنیری کو مسلسل غیر مستحکم کررہے ہیں۔ گورنر کے خلاف خط ایک ایسے وقت میں لکھا گیا ہے کہ جب اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بنگال میں سیاسی ماحول تیز ہے۔ گورنر یومیہ بنگال حکومت کے خلاف تنقید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ممبران پارلیمنٹ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ گورنر لگاتار وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ترنمو ل کانگریس کے خلاف مسلسل بیانات اور ٹوئیٹس کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سےلا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس طرح کے رجحانات ایک آئینی سربراہ کو زیب نہیں دیتا ہے۔ گورنر کا کھلے عام ایک سیاسی جماعت کی حمایت میں اقدام کرنا ملک وفاقی ڈھانچہ کے لئے نقصان دہ ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ گورنر الیکشن کمیشن اور کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل جیسے آزادانہ ادارے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
گورنر کا ممتا بنرجی سے معافی مانگنے کا مطالبہ سنگین جرم
اسی مہینے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے قافلے پر حملے کے بعد گورنر کے ذریعہ اس واقعے پر ممتا بنرجی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرنا نامناسب اور سنگین غلطی ہے۔
خط میں لکھا گیا ہے کہ گورنر نے ریاستی اسمبلی کو بھی نہیں بخشا ہے۔ مغربی بنگال اسمبلی سے پاس متعدد بلوں پر دستخط کرنے سے وہ انکار کررہے ہیں۔ وہ نہ صرف بلوں پر دستخط نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ اسپیکر سے بھی وضاحت طلب کرتے ہیں۔ اس کے ذریعہ وہ اسپیکر کے عہدہ کی توہین کررہے ہیں۔ یہ ریاستی اسمبلی کی خودمختاری کی براہ راست توہین اور حملہ ہے۔
گزشتہ سال جولائی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی گورنر ممتا بنرجی اور ان کی حکومت کے خلاف تنقید کررہے ہیں۔ دونوں کے درمیا ن تعلقات انتہائی کشیدہ ہے۔ دوسری جانب اس پورے معاملے میں گورنر کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر اپنے آئینی پیرامیٹر کے تحت کام کرتے ہیں۔ ترنمو ل کانگریس اس سے خوفز دہ ہے۔ کیلاش وجے ورگی نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کے خط سے گورنر کو ہٹایا جائے گا۔
اسے بھی پڑھیں:
سری نگر تصادم میں 3 دہشت گرد ہلاک، آپریشن جاری
سری نگر میں سال رواں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان 9 تصادم آرائیاں ہوئیں جن میں 19 دہشت گرد مارے گئے۔
آذر بائیجان پر ٹماٹر کی درآمد سے متعلق پابندی کو ہٹائےگا روس
روس یکم جنوری سے آذربائیجان پر سے ٹماٹر کی درآمد پر عائد پابندیاں ختم کردے گا اور آذربائیجان کے 15 کاشت کار روس کو ٹماٹر برآمد کرسکیں گے۔
ماسکو: روس ٹماٹر کی درآمد سے متعلق آذربائیجان پر عائد کی گئیں پابندیوں کو ہٹائے گا اور یکم جنوری سے آذربائیجان کی 15 مصنوعات کی برآمدات کو منظوری دے گا۔
منگل کے روز روس کی زرعی سیکیورٹی نگران تنظیم نے کہا کہ روس یکم جنوری سے آذربائیجان پر سے ٹماٹر کی درآمد پر عائد پابندیاں ختم کردے گا اور آذربائیجان کے 15 کاشت کار روس کو ٹماٹر برآمد کرسکیں گے۔
روس نے 10 دسمبر کو آذربائیجان سے ٹماٹر اور سیب کی درآمد پر پابندی عائد کردی تھی کیونکہ وہ جن جگہوں پر ان کی کاشت کی جاتی تھی وہ زمین جراثیم سے متاثر تھی اور اس سے ملک میں فصل کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
پٹنہ میں گورنر ہاﺅس مارچ کر رہے کسانوں پر لاٹھی چارج، کئی مظاہرین زخمی
مارچ میں شامل ہونے کیلئے بڑی تعداد میں پورنیہ، ارریہ، سیمانچل کے اضلاع کے ساتھ ہی چمپارن، سیوان اور گوپال گنج ضلع سے کسان پہنچے۔
پٹنہ: زرعی قوانین کی مخالفت میں دہلی میں تحریک کر رہے کسانوں کی حمایت میں بہار کے دار الحکومت پٹنہ میں آج گورنر ہاﺅس مارچ کر رہے کسانوں کو روکنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ جس میں کئی مظاہرین زخمی ہوگئے۔
آل انڈیا کسان سنگھرش کوآرڈینیشن کمیٹی کی اپیل پر آل انڈیا کسان سبھا کے قومی صدر اشوک دھاﺅلے، آل انڈیا کسان مہا سبھا کے ریاستی سکریٹری رامادھار سنگھ کے ساتھ ہی بائیں بازو کی جماعتوں کے لیڈران کی قیادت میں کھیگرامس، آل انڈیا پروگریسیو خواتین یونین (ایپوا)، آل انڈیا اسٹوڈینٹس ایسوسی ایشن (آئیسا)، اینوس اور آل انڈیا سینٹر فار ٹریڈ یونینس کے قریب دس ہزار لیڈران اور کارکنان نے تینوں زرعی قوانین کی مخالفت میں منگل کو یہاں تاریخی گاندھی میدان سے گورنر ہاﺅس کیلئے مارچ نکالا۔ مارچ کے ڈاک بنگلہ چوراہا پہنچتے ہی وہاں پہلے سے موجود پولیس کے جوانوں نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس پر مارچ میں شامل کسان مشتعل ہوگئے اور پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپ ہوگئی۔
مظاہرین کے تیور دیکھتے ہوئے اور تعداد میں کم ہونے کی وجہ سے پولیس کو فوری طور پر پیچھے ہٹنا پڑا۔ کچھ دیر بعد ہی اطلاع ملنے پر بڑی تعداد میں پہنچی پولیس نے پہلے تو مشتعل کسانوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن جب وہ نہیں مانے تو ان پر لاٹھی چارج کر دی۔ لاٹھی چارج کی وجہ سے کچھ دیر کیلئے افرا تفری کا ماحول بن گیا۔ لاٹھی چارج اور بھاگنے کے دوان کئی مظاہرین زخمی ہوگئے۔
پورنیہ، ارریہ سمیت متعدد اضلاع سے کسان مارچ میں ہوئے شامل
دریں اثناء آل انڈیا کسان مہا سبھا کے ریاستی سکریٹری رامادھار سنگھ نے دعویٰ کیا کہ مارچ میں شامل ہونے کیلئے بڑی تعداد میں کسان یہاں پہنچے۔ ٹرینوں کی آمد و رفت نہیں ہونے کے باوجود پورنیہ، ارریہ، سیمانچل کے اضلاع کے ساتھ ہی مشرقی اور مغربی چمپارن، سیوان اور گوپال گنج ضلع سے کسان پہنچے۔ لوگوں سے اس تحریک کو اپنی حمایت دینے کی اپیل کی۔
کوٹہ: سڑک حادثہ میں 5 دوستوں کی دردناک موت
پولیس نے بتایا کہ ہلاک شدگان کی شناخت راشد (23)، بلال (22)، پرویز (24)، حسن (24) اور مجاہد (23) کتھون رہائشی کے طور پر ہوئی ہے۔
کوٹہ: راجستھان کے ضلع کوٹہ میں ٹائر پھٹ جانے کے بعد کار الٹنے سے 5 دوستوں کی موت اور سات زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق وہ ایک گھریلو تقریب میں شرکت کے بعد ضلع کے کتھون لوٹ رہے تھے کہ پیر کی شام کوٹہ سے 15- 20 کلومیٹر دور پولائی کلاں گاؤں کے قریب ان کی کار کے ٹائر اچانک کوٹہ – باراں قومی شاہراہ پر پھٹ گئی اور بے قابو ہوکر سڑک کے نیچے جاگری۔ حادثے میں چار نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک نے کوٹہ کے ایم بی ایس اسپتال میں دم توڑ دیا۔
پولیس نے بتایا کہ ہلاک شدگان کی شناخت راشد (23)، بلال (22)، پرویز (24)، حسن (24) اور مجاہد (23) کتھون رہائشی کے طور پر ہوئی ہے۔ ہلاک شدگان کی لاشوں کو آج پوسٹ مارٹم کے بعد لواحقین کے حوالے کردیا گیا۔
ان میں ایک نوجوان تو دو دن پہلے ہی حیدرآباد سے کتھون آیا تھا اور یہ سبھی اسی گاڑی سے باران گئے تھے اور واپسی کے دوران یہ حادثہ پیش آگیا۔









