بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 363

بی جے پی کے کئی سینئر لیڈر، اداکار اور ترنمول کے باغی لیڈروں کو کراری شکست کا سامنا، ممتا بنرجی نے 214 سیٹیں جیت کر بنگال میں رقم کردی تاریخ

0
بی جے پی کے کئی سینئر لیڈر، اداکار اور ترنمول کے باغی لیڈروں کو کراری شکست کا سامنا، ممتا بنرجی نے 214 سیٹیں جیت کر بنگال میں رقم کردی تاریخ
بی جے پی کے کئی سینئر لیڈر، اداکار اور ترنمول کے باغی لیڈروں کو کراری شکست کا سامنا، ممتا بنرجی نے 214 سیٹیں جیت کر بنگال میں رقم کردی تاریخ

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے 200 نشستوں پر کامیابی کے دعوے کی ہوا نکل چکی ہے اور پارٹی نے صرف 77 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ممتا بنرجی کی اس جیت نے بی جے پی کے کئی بڑے سورمائوں اور ترنمول کانگریس چھوڑ کر جانے والوں میں سے بیشتر لیڈروں کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں 200 سیٹیں جیتنے کے بی جے پی کے دعوے کی ہوا نکل چکی ہے اور پارٹی صرف 77 سیٹیں ہی جیت سکی ہیں۔ ممتا بنرجی 214 سیٹیں جیت کر بنگال میں ایک تاریخ رقم کردی ہے۔ ممتا بنرجی کی اس جیت سے بی جے پی کے کئی بڑے سورمائوں اور ترنمول کانگریس چھوڑ کر جانے والوں میں سے بیشتر لیڈروں کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ہوڑہ کے ڈومجور سیٹ پر 2016 کے اسمبلی انتخابات میں ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے راجیب بنرجی 42 ہزار سے زائد ووٹوں سے ہار گئے ہیں۔ راجیب بنرجی وزارت سے استعفیٰ دینے کے بعد بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں اور انہیں پارٹی میں شامل کرانے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے خصوصی طیارہ کلکتہ بھیجا تھا۔

سینگور تحریک میں ممتا بنرجی کے ساتھ شانہ بشانہ رہنے والے رابندر ناتھ بھٹا چاریہ کو ترنمول کانگریس نے 90 سال عمر ہونے کی وجہ سے ٹکٹ نہیں دیا مگر وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ گرچہ بی جے پی میں ٹکٹ ملنے کی وجہ سے بھی پرانے ورکرو ں نے سخت مخالفت کی تھی۔ وہ سینگور سے اپنے پرانے ساتھی بیچارامنا کے ہاتھوں ہار گئے ہیں۔

اسی طرح آسنسول کے سابق میئر جتیندر تیواری اور ودھان نگر کے سابق میئر اور سابق ممبر اسمبلی سبیاسچی دتہ کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ممبران پارلیمنٹ، بالی ووڈ اور کھیل کی دنیا سے وابستہ کئی اہم شخصیات کو بھی شکست کا سامنا

بی جے پی نے اس مرتبہ اپنے چار ممبران پارلیمنٹ، بالی ووڈ اور کھیل کی دنیا سے وابستہ کئی اہم شخصیات کو ٹکٹ دیا تھا۔ مگر ان میں سے بیشتر لیڈروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مرکزی وزیر بابل سپریہ جو مشہور گلو گار بھی ہیں کو بی جے پی نے ٹالی گنج سے امیدوار بنایا تھا۔ ان کے لئے متھن چکرورتی جیسی اہم شخصیت نے مہم چلائی تھی۔ کئی مرکزی وزراء نے روڈ شو کیا تھا مگر اس کے باوجود ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر ریاستی وزیر کھیل اروپ بسواس نے انہیں 50 ہزار سے زائد ووٹو ں سے شکست دیدیا۔

ہگلی سے رکن پارلیمنٹ اور سابقہ اداکارہ لاکیٹ چٹرجی بھی اپنے پارلیمانی حلقہ انتخاب کے تحت چنسورہ سیٹ سے 18 ہزار سے زائد ووٹوں سے ہار گئی ہیں۔ اسی طرح اسمبلی انتخاب کے لئے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر انتخاب لڑنے والے سوپن داس گپتا بھی ہگلی کی تارکیشور سیٹ پر سات ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہار گئے۔

سابق ہندوستانی کرکٹر اشوک ڈنڈا مشرقی مدنی پور کی موئینا نشست سے بی جے پی کے ٹکٹ پر کھڑے تھے نو ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہار گئے۔ اسی دوران کلکتہ کے راس بیہاری سیٹ پر بی جے پی نے سابق آرمی ڈپٹی چیف لیفٹیننٹ جنرل سبرت ساہا (ریٹائرڈ) کو امیدوار بنایا تھا انہیں بھی 21 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہار کا سامنا کرنا پڑٓ ہے۔

بی جے پی کے مشہور اداکاروں اور اداکاراؤں کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا

اسی طرح بنگالی فلم انڈسٹری کے بہت سارے مشہور اداکاروں اور اداکاراؤں کو، جنہوں نے حال ہی میں بی جے پی کے ساتھ اپنی سیاسی اننگز کا آغاز کیا، کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی نے بہالا مغربی سیٹ پر اداکارہ شروونتی چٹرجی کو 41,608 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔

اداکارہ پائیل سرکار بھی بہالہ مشرقی نشست پر ترنمول کی رتنا چٹرجی سے 1337 ووٹوں سے ہار گئیں ہیں۔ اسی طرح اداکار رودرانیل گھوش بھی کلکتہ کے بھوانی پور نشست پر 28 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہار گئے ہیں۔ رودرنیل نے انتخابات سے عین قبل بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اداکارہ پاپیا ادھیکاری بھی الوبیڑیا جنوبی نشست سے ہار گئی ہیں۔ اسی طرح ہگلی کی چنڈیٹلہ سیٹ پر اداکار یش داس گپتا بھی 41 ہزار سے زائد ووٹوں سے ہار گئے۔ اداکار ہیران چٹرجی کھڑگ پور نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ترنمول کے اداکارہ اداکاراؤں میں دو کو چھوڑ کر باقی سب جیتنے میں کامیاب

دوسری طرف، ترنمول نے متعدد اداکارہ اداکاراؤں کو امیدوار بنایا تھا ان میں دو کو چھوڑ کر باقی سب جیتنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں جانے والے شوبھندو ادھیکاری نے کڑے مقابلے میں ممتا بنرجی کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ مگر جس طرح وہ دعویٰ کررہے تھے ان کے آنے سے مشرقی مدنی پور کی تمام سیٹیں بی جے پی جیت جائیں گی مگر وہ کچھ خاص کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

رتین چکرورتی جو ہوڑہ کے سابق میئر تھے مگر انتخابات سے قبل وہ ترنمول کانگریس کو چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ انہیں کرکٹر سے سیاستدان بنے منوج تیواری نے شیب پور سے 32,000 ووٹوں سے شکست دی۔

تاہم بی جے پی کے نائب صدر مکل رائے، جو 2017 میں بی جے پی میں شامل ہوئے، کرشنا نگر شمال سے جیت گئے ہیں۔ انہوں نے ترنمول کے امیدوار کوشانی مکھرجی کو 35 ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ مہیر گوسوامی، جنہوں نے کچھ ماہ قبل بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی، نے بھی ناتبری (کوچ بہار) سیٹ سے ترنمول کے امیدوار رابندر ناتھ گھوش کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے۔

کرناٹک میں آکسیجن کی کمی سے مختلف اسپتالوں میں 24 کورونا مریضوں کی موت

0
کرناٹک میں آکسیجن کی کمی سے مختلف اسپتالوں میں 24 کورونا مریضوں کی موت
کرناٹک میں آکسیجن کی کمی سے مختلف اسپتالوں میں 24 کورونا مریضوں کی موت

کرناٹک کے چامراج نگر ضلع میں، آکسیجن کی کمی کی وجہ سے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف اسپتالوں میں 24 کورونا مریضوں کی موت ہوچکی ہے۔ مرنے والوں کے اہل خانہ نے اسپتال کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور قصوروار حکام کے خلاف کارروائی کی مانگ کی۔

چامراج نگر: کرناٹک کے چامراج نگر ضلع میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مختلف اسپتالوں میں 24 کورونا مریضوں کی موت ہوگئی۔

چامراج نگر کے ڈپٹی کمشنر روی نے کہا کہ ان میں سے 23 مریضوں کی موت سرکاری اسپتالوں میں ہوئی جبکہ ایک دیگر مریض نے پرائیویٹ اسپتال میں دم توڑا۔ انہوں نے بتایا کہ مریضوں کی موت اتوار کو آٹھ بجے سے پیر کے آٹھ کے بجے کے درمیان ہوئی ہے اس کے علاوہ 11دیگر مریضوں کی موت مختلف طرح کی سنگین بیماریوں کی وجہ سے ہونے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔

چامراج نگر کے لوگوں میں آکسیجن کی کمی کے سبب دہشت

ڈاکٹر روی نے کہا کہ جن مریضوں کی موت ہوئی وہ تمام وینٹی لیٹر پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان مریضوں کی موت آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہوئی ہو یہ ضروری نہیں ہے۔ چامراج نگر میں کورونا کے مریضوں کی موت کی وجہ سے یہاں نزدیکی علاقوں کے لوگوں میں آکسیجن کی کمی کے سبب دہشت پھیل گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتوار سے پیر کی صبح تک 24 کورونا مریضوں کی موت ہوئی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمام کی موت آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔

ضلع انچارج اور پرائمر ی اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر سریش کمار نے بنگلورو میں نامہ نگاروں سے کہا کہ انہوں چامراج نگر ضلع سے اموات کے اعداد و شمار مانگے ہیں اور موت کی صحیح وجہ کا پتہ لگایا جائے گا۔ قصوروار پائے جانے والے لوگوں کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مرنے والوں کے اہل خانہ نے اسپتال کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور قصوروار حکام کے خلاف کارروائی کی مانگ کی۔

بنگلہ دیش: دو کشتیوں کے درمیان تصادم، 25 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

0
بنگلہ دیش: دو کشتیوں کے درمیان تصادم، 25 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ
بنگلہ دیش: دو کشتیوں کے درمیان تصادم، 25 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

بنگلہ دیش میں شبچار شہر کے قریب دریائے پدما میں دو کشتیوں کے درمیان تصادم میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں شبچار شہر کے قریب دریائے پدما میں دو کشتیوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس کے مطابق دریائے پدما میں گنجائش سے زیادہ مسافروں والی کشتی ریت سے بھری کشتی سے ٹکرا گئی۔

اس حادثہ کے سلسلہ میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ میں ریسکیو اہلکاروں نے 5 افراد کو بچا لیا جبکہ 25 ہلاک ہو گئے جن کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مزید افراد لاپتہ ہیں جبکہ فائر سروس کے اہلکاروں اور مقامی افراد نے امدادی کارروائیوں کو جاری رکھا ہوا ہے۔

سعودی عرب میں تجارتی مراکز اور بازار 24 گھنٹے کھولنے کی اجازت

0
سعودی عرب میں تجارتی مراکز اور بازار 24 گھنٹے کھولنے کی اجازت
سعودی عرب میں تجارتی مراکز اور بازار 24 گھنٹے کھولنے کی اجازت

سعودی عرب وزارت تجارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فیصلہ صارفین کا رش کم کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ایکشن ہوگا۔

الریاض: مملکت سعودی عرب میں تجارتی مراکز اور بازار 24 گھنٹے کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

سعودی وزارت تجارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فیصلہ صارفین کا رش کم کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ایکشن ہوگا۔

دریں اثنا سعودی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین لگوانے والے سعودی شہریوں کو 17 مئی سے سفر کی اجازت ہوگی۔

وزارت داخلہ کے مطابق 17 مئی رات ایک بجے سے سعودی شہریوں کے بیرون ملک سفر سے پابندی اٹھالی جائے گی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں عالمی وبا کورونا وائرس سے اب تک 4 لاکھ 19 ہزار 348 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 6 ہزار 979 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کی ممتا بنرجی کو شاندار جیت درج کرنے پر مبارکباد

0
محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کی ممتا بنرجی کو شاندار جیت درج کرنے پر مبارکباد
محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کی ممتا بنرجی کو شاندار جیت درج کرنے پر مبارکباد

محبوبہ مفتی نے اتوار کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘آج کی شاندار جیت پر ممتا بنرجی کو مبارکباد۔ عمر عبداللہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا: ‘مغربی بنگال میں قابل ذکر جیت پر دیدی ممتا بنرجی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس سے جڑے سبھی لوگوں کو دلی مبارکباد۔

سری نگر: جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے ممتا بنرجی کو مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں شاندار جیت درج کرنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔

محبوبہ مفتی نے اتوار کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘آج کی شاندار جیت پر ممتا بنرجی کو مبارکباد۔ خلل انداز اور تقسیمی طاقتوں کو مسترد کرنے پر مغربی بنگال کے لوگ شاباشی کے مستحق’۔

عمر عبداللہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا: ‘مغربی بنگال میں قابل ذکر جیت پر دیدی ممتا بنرجی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس سے جڑے سبھی لوگوں کو دلی مبارکباد۔ بی جے پی اور جانبدار الیکشن کمیشن نے آپ کو ہرانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن باوجود اس کے آپ جیت گئے۔ اگلے پانچ سال کے لئے نیک خواہشات’۔

مالدہ میں ترنمول کانگریس کی شاندار جیت، کانگریس کا قلعہ منہدم

0
مالدہ میں ترنمول کانگریس کی شاندار جیت، کانگریس کا قلعہ منہدم
مالدہ میں ترنمول کانگریس کی شاندار جیت، کانگریس کا قلعہ منہدم

مالدہ ضلع کا سوجا پور اسمبلی حلقہ جہاں سے کانگریس کے سینئر رہنما غنی خان چوہدری کی سیاست کا آغاز ہوا تھا اور گذشتہ 50 سالوں سے یہ نشست کانگریس اور غنی خان چوہدری کے خاندان کی نشست رہی ہے۔ لیکن اس بار ممتا بنرجی کی لہر میں، غنی خان چودھری کے بھتیجے عیسیٰ خان چوہدری کو صرف 7781 ووٹ ملے اور ترنمول کانگریس کے امیدوار عبدالغنی نے 50،000 سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔

کلکتہ: مالدہ ضلع کا سوجا پور اسمبلی حلقہ جہاں سے کانگریس کے سینئر لیڈر غنی خان چودھری کی سیاست شروع ہوئی تھی اور گزشتہ 50 سال سے یہ سیٹ کانگریس اور غنی خان چودھری کے خاندان کی سیٹ تھی۔ مگر ممتا بنرجی کی لہر میں اس مرتبہ غنی خان چودھری کے بھتیجے عیسی خان چودھری محض 7781 ووٹ حاصل کرسکے اور ترنمول کانگریس کے امیدوار عبد الغنی 50 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیا ہے۔

کسی بھی سیاسی تجزیہ کار کو مالدہ کے سوجا پور حلقے میں ایسی توقع نہیں تھی۔ تاہم، ترنمول کے رہنماؤں نے پہلے ہی اس کی پیش گوئی کی تھی۔ ترنمول کے لیڈروں نے کہا تھا کہ اس بار سوجا پور کے عوام دونوں ہاتھوں سے وزیر اعلی ممتا بنرجی کو ووٹ دیں گے اور ایسا ہی ہوا ہے۔ سوجا پور سے کانگریس اور غنی خان چودھری کے خاندان کے فرد کا ہار جانا اپنے آپ میں حیرت انگیز ہے۔ عیسی خان چودھری نے کہا کہ وہ عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔

یہاں سے بی جے پی نے مسلم امیدوار کو ہی ٹکٹ دیا تھا۔ انہیں محض 6 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ جبکہ انڈین سیکولر فرنٹ جو ریاست کے دیگر حصوں میں کانگریس کی حلیف جماعت ہے نے یہاں سے امیدوار دیا تھا۔

مالدہ کی 9 سیٹوں میں سے 8 پر ترنمول کانگریس کو سبقت حاصل ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں کانگریس اور ترنمول کانگریس کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی کو ملا تھا اور مالدہ شمال کی سیٹ پر جیت حاصل کی تھی۔

بنگال میں ترنمول کانگریس کو 202 سیٹوں پر سبقت، ممتا بنرجی کو نندیگرام سیٹ پر ہلکی برتری

0
بنگال میں ترنمول کانگریس کو 202 سیٹوں پر سبقت، ممتا بنرجی کو نندیگرام سیٹ پر ہلکی برتری
بنگال میں ترنمول کانگریس کو 202 سیٹوں پر سبقت، ممتا بنرجی کو نندیگرام سیٹ پر ہلکی برتری

مغربی بنگال میں برسراقتدار ترنمول کانگریس نے 202 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی 77 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔ ابتدائی راؤنڈ میں اپنے قریبی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی کے شوبھندو ادھیکاری کو پیچھے چھوڑنے کے بعد وزیر اعلی ممتا بنرجی نے نندیگرام سیٹ پر ہلکی برتری حاصل کرلی ہے۔

کولکتہ: مغربی بنگال میں برسراقتدار ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے 202 نشستوں پر برتری حاصل کر لی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی 77 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔

ابتدائی راؤنڈ میں اپنے قریبی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی کے شوبھندو ادھیکاری کو پیچھے چھوڑنے کے بعد وزیر اعلی ممتا بنرجی نے نندیگرام سیٹ پر ہلکی برتری حاصل کرلی ہے۔

ریاستی اسمبلی میں 294 نشستیں ہیں جن میں سے 292 انتخابات ہوئے ہیں۔ دوامیدواروں کی موت کی وجہ سے ان نشستوں پر انتخابات ملتوی کردیئے گئے ہیں۔

کانگریس اور اے جے ایس یو ایک نشست پر برتری اور دو سیٹوں پر آزاد امیدوار آگے ہیں۔

ترنمول کانگریس شمالی 24 پرگنہ، جنوبی 24 پرگنہ اور جنگل محل علاقوں میں برتری حاصل کررہی ہے۔ دوسری جانب ہوڑہ، ہگلی، بانکورہ، پوربا اور مغربی بردوان اضلاع میں بھی ٹی ایم سی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

مغربی بنگال: ابتدائی رجحانات میں بی جے پی اور ترنمول کے درمیان کانٹے کی ٹکر

0
مغربی بنگال: ابتدائی رجحانات میں بی جے پی اور ترنمول کے درمیان کانٹے کی ٹکر
مغربی بنگال: ابتدائی رجحانات میں بی جے پی اور ترنمول کے درمیان کانٹے کی ٹکر

بنگال اسمبلی انتخابات میں 294 میں سے 292 نشستوں کے لئے ووٹوں کی گنتی اتوار کی صبح 8 بجے شروع ہوئی تھی اور ابتدائی رجحانات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ترنمول کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر نظر آرہی ہے۔

کولکتہ: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں 294 میں سے 292 سیٹوں کے لئے اتوار صبح آٹھ سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی اور ابتدائی رجحانات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ترنمول کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر نظر آرہی ہے۔

صبح 9 بجے تک ترنمول کانگریس کو 53 سیٹوں پر برتری حاصل تھی اور بی جے پی 49 سیٹوں پر آگے تھی۔

سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان صبح آٹھ بجے ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔  ریاست کی 292 سیٹوں پر ہوئی ووٹنگ میں سے 102 کے رحجان سامنے آئے ہیں۔ جہاں پوسٹل ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ریاست کی 292 سیٹوں کے لئے 2116 امیدواروں نے انتخاب لڑا تھا، جن کی انتخابی قسمت کا فیصلہ آج ہو جائے گا۔

پانچ ریاستوں میں سخت سیکیورٹی کے درمیان اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی شروع

0
پانچ ریاستوں میں سخت سیکیورٹی کے درمیان اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی شروع
پانچ ریاستوں میں سخت سیکیورٹی کے درمیان اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی شروع

اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہی مختلف ریاستوں کی تین لوک سبھا اور 14 اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور کووڈ 19 کے ضابطوں پر عمل کرتے ہوئے اتوار کی صبح آٹھ بجے شروع ہو گئی ہے۔

نئی دہلی: مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ، آسام اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہی مختلف ریاستوں کی تین لوک سبھا اور 14 اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور کووڈ 19 کے ضابطوں پر عمل کرتے ہوئے اتوار کی صبح آٹھ بجے شروع ہو گئی ہے۔

طے شدہ انتظامات کے تحت پہلے پوسٹل ووٹوں کی گنتی کی جائے گی اور دوپہر تک گنتی کے رجحانات آنا شروع ہو جائیں گے۔

بنگال میں کل 294 اسمبلی سیٹوں میں سے 292 سیٹوں ہوئے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی

مغربی بنگال میں کل 294 اسمبلی سیٹوں میں سے 292 سیٹوں پر آٹھ مرحلوں میں ووٹنگ کرائی گئی تھی جبکہ شمشیرجنگ اور جنگی پور اسمبلی حلقوں سے دو امیدواروں کی موت کی وجہ سے انتخابات ملتوی کردیئے گئے۔ ریاست کے 108 ووٹ شماری مراکز پر تین سطحی سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں قائم سٹرانگ روم میں ای وی ایم اور وی وی پیٹ کو سخت سیکیورٹی میں رکھا گیا ہے۔

ووٹ شماری مراکز میں کم از کم 292 مبصرین اور مرکزی سیکیورٹی فورسز کی 256 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ انتخابات میں 2116 امیدواروں نے اپنی قسمت آزمائی ہے۔ یہاں اصل مقابلہ حکمراں ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان ہے، حالانکہ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔

تمل ناڈو میں 234 سیٹوں پر ہوئے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی

تمل ناڈو میں 234 سیٹوں پر ہوئے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کے لئے تین سطحی سیکیورٹی کے لئے ریاستی پولیس اہلکاروں کے علاوہ مرکزی نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ تمام ووٹ شماری مراکز میں ویڈیو گرافی اور سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ گزشتہ 6 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں 3،998 امیدوار میدان میں تھے۔ یہاں حکمراں اے این اے ڈی ایم کے جیت کی ہیٹ ٹرک پر نظر بنائے ہوئے ہے، جبکہ حکومت مخالف لہر کا دعوی کرنے والی ڈی ایم کے 10 سال تک حزب اختلاف میں رہنے کے بعد اقتدار میں آنے کے لئے بیتاب ہے۔

کیرالہ میں 140 سیٹوں پر ہوئے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی

کیرالہ میں 140 سیٹوں پر انتخابات کے ووٹوں کی گنتی ہو رہی ہے۔ جہاں اپنی قسمت آزمانے والوں میں وزیر اعلی پنارائی وجین (دھرم دام)، بی جے پی کے ریاستی صدر کے سریندرن (منجیشورم)، میٹرو مین ای شری دھرن، وزیر صحت کے کے شیلجا (مٹنور)، سابق وزیر اعلی اومان چانڈی (پتھپلی)، وزیر ای چندرشیکھرن اور سابق ڈی جی پی جیکب تھامس شامل ہیں۔

آسام میں 126 سیٹوں پر ہوئے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی

شمال مشرق میں 126 سیٹوں والے آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرقیادت ’میترجوت‘ اور کانگریس کی زیرقیادت ’مہاجوت‘ دونوں ہی اتحادی جماعتوں نے ریاست میں اگلی حکومت بنانے کا دعوی کیا ہے۔

مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری اسمبلی کی 30 سیٹوں پر اصل مقابلہ ترقی پسند اتحاد اور قومی جمہوری اتحاد کے درمیان ہے۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش کی تروپتی، کرناٹک کی بیلگام اور تامل ناڈو کی کنیاکماری لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی انتخابات سمیت راجستھان کی سہارا، راجسمند، کرناٹک کی باسوکلیان اور مسکی، دموہ (مدھیہ پردیش)، پنڈھر پور (مہاراشٹرا)، سالٹ (اتراکھنڈ)، سیرچھپ (میزورم)، نوکسین (ناگالینڈ)، پپلی (اڈیشہ) اور ناگ ارجن ساگر (تلنگانہ) اسمبلی سیٹوں پر ہوئےضمنی انتخابات کےووٹوں کی گنتی بھی شروع ہوگئی ہے۔

آر جے ڈی کے سابق رکن پارلیمان محمد شہاب الدین کا کورونا سے انتقال

0
آر جے ڈی لیڈر محمد شہاب الدین کا کورونا سے انتقال
آر جے ڈی لیڈر محمد شہاب الدین کا کورونا سے انتقال

شہاب الدین کو کورونا سے متاثر ہونے کے بعد دین دیال اپادھیائے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انہوں نے آج آخری سانس لی۔ آر جے ڈی کے دبنگ لیڈر قتل کے سنگین معاملے میں دہلی کی تہاڑ جیل میں سزا کاٹ رہے تھے۔

نئی دہلی: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر اور سابق رکن پارلیمان محمد شہاب الدین کا ہفتہ کے روز کورونا سے انتقال ہوگیا۔ تہاڑ جیل کے ڈی جی سندیپ گوئل نے شہاب الدین کی موت کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شہاب الدین کو کورونا سے متاثر ہونے کے بعد دین دیال اپادھیائے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انہوں نے آج آخری سانس لی۔ آر جے ڈی کے دبنگ لیڈر قتل کے سنگین معاملے میں دہلی کی تہاڑ جیل میں سزا کاٹ رہے تھے۔

پارٹی لیڈر تجسوی یادو نے شہاب الدین کی موت پر افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے ٹویٹ کر کے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ’’سابق رکن پارلیمان محمد شہاب الدین کی کورونا انفیکشن کی وجہ سے بے وقت موت کی خبر افسوسناک ہے۔ خدا ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، سوگوار کنبے اور بہی خواہوں کو قوت برداشت عطا کرے۔ ان کی موت پارٹی کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے‘‘۔

دکھ کی اس گھڑی میں آر جے ڈی کنبہ پسماندگان کے ساتھ ہے۔