منگل, مئی 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 364

محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کی ممتا بنرجی کو شاندار جیت درج کرنے پر مبارکباد

0
محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کی ممتا بنرجی کو شاندار جیت درج کرنے پر مبارکباد
محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کی ممتا بنرجی کو شاندار جیت درج کرنے پر مبارکباد

محبوبہ مفتی نے اتوار کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘آج کی شاندار جیت پر ممتا بنرجی کو مبارکباد۔ عمر عبداللہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا: ‘مغربی بنگال میں قابل ذکر جیت پر دیدی ممتا بنرجی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس سے جڑے سبھی لوگوں کو دلی مبارکباد۔

سری نگر: جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے ممتا بنرجی کو مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں شاندار جیت درج کرنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔

محبوبہ مفتی نے اتوار کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘آج کی شاندار جیت پر ممتا بنرجی کو مبارکباد۔ خلل انداز اور تقسیمی طاقتوں کو مسترد کرنے پر مغربی بنگال کے لوگ شاباشی کے مستحق’۔

عمر عبداللہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا: ‘مغربی بنگال میں قابل ذکر جیت پر دیدی ممتا بنرجی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس سے جڑے سبھی لوگوں کو دلی مبارکباد۔ بی جے پی اور جانبدار الیکشن کمیشن نے آپ کو ہرانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن باوجود اس کے آپ جیت گئے۔ اگلے پانچ سال کے لئے نیک خواہشات’۔

مالدہ میں ترنمول کانگریس کی شاندار جیت، کانگریس کا قلعہ منہدم

0
مالدہ میں ترنمول کانگریس کی شاندار جیت، کانگریس کا قلعہ منہدم
مالدہ میں ترنمول کانگریس کی شاندار جیت، کانگریس کا قلعہ منہدم

مالدہ ضلع کا سوجا پور اسمبلی حلقہ جہاں سے کانگریس کے سینئر رہنما غنی خان چوہدری کی سیاست کا آغاز ہوا تھا اور گذشتہ 50 سالوں سے یہ نشست کانگریس اور غنی خان چوہدری کے خاندان کی نشست رہی ہے۔ لیکن اس بار ممتا بنرجی کی لہر میں، غنی خان چودھری کے بھتیجے عیسیٰ خان چوہدری کو صرف 7781 ووٹ ملے اور ترنمول کانگریس کے امیدوار عبدالغنی نے 50،000 سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔

کلکتہ: مالدہ ضلع کا سوجا پور اسمبلی حلقہ جہاں سے کانگریس کے سینئر لیڈر غنی خان چودھری کی سیاست شروع ہوئی تھی اور گزشتہ 50 سال سے یہ سیٹ کانگریس اور غنی خان چودھری کے خاندان کی سیٹ تھی۔ مگر ممتا بنرجی کی لہر میں اس مرتبہ غنی خان چودھری کے بھتیجے عیسی خان چودھری محض 7781 ووٹ حاصل کرسکے اور ترنمول کانگریس کے امیدوار عبد الغنی 50 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیا ہے۔

کسی بھی سیاسی تجزیہ کار کو مالدہ کے سوجا پور حلقے میں ایسی توقع نہیں تھی۔ تاہم، ترنمول کے رہنماؤں نے پہلے ہی اس کی پیش گوئی کی تھی۔ ترنمول کے لیڈروں نے کہا تھا کہ اس بار سوجا پور کے عوام دونوں ہاتھوں سے وزیر اعلی ممتا بنرجی کو ووٹ دیں گے اور ایسا ہی ہوا ہے۔ سوجا پور سے کانگریس اور غنی خان چودھری کے خاندان کے فرد کا ہار جانا اپنے آپ میں حیرت انگیز ہے۔ عیسی خان چودھری نے کہا کہ وہ عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔

یہاں سے بی جے پی نے مسلم امیدوار کو ہی ٹکٹ دیا تھا۔ انہیں محض 6 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ جبکہ انڈین سیکولر فرنٹ جو ریاست کے دیگر حصوں میں کانگریس کی حلیف جماعت ہے نے یہاں سے امیدوار دیا تھا۔

مالدہ کی 9 سیٹوں میں سے 8 پر ترنمول کانگریس کو سبقت حاصل ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں کانگریس اور ترنمول کانگریس کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی کو ملا تھا اور مالدہ شمال کی سیٹ پر جیت حاصل کی تھی۔

بنگال میں ترنمول کانگریس کو 202 سیٹوں پر سبقت، ممتا بنرجی کو نندیگرام سیٹ پر ہلکی برتری

0
بنگال میں ترنمول کانگریس کو 202 سیٹوں پر سبقت، ممتا بنرجی کو نندیگرام سیٹ پر ہلکی برتری
بنگال میں ترنمول کانگریس کو 202 سیٹوں پر سبقت، ممتا بنرجی کو نندیگرام سیٹ پر ہلکی برتری

مغربی بنگال میں برسراقتدار ترنمول کانگریس نے 202 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی 77 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔ ابتدائی راؤنڈ میں اپنے قریبی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی کے شوبھندو ادھیکاری کو پیچھے چھوڑنے کے بعد وزیر اعلی ممتا بنرجی نے نندیگرام سیٹ پر ہلکی برتری حاصل کرلی ہے۔

کولکتہ: مغربی بنگال میں برسراقتدار ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے 202 نشستوں پر برتری حاصل کر لی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی 77 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔

ابتدائی راؤنڈ میں اپنے قریبی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی کے شوبھندو ادھیکاری کو پیچھے چھوڑنے کے بعد وزیر اعلی ممتا بنرجی نے نندیگرام سیٹ پر ہلکی برتری حاصل کرلی ہے۔

ریاستی اسمبلی میں 294 نشستیں ہیں جن میں سے 292 انتخابات ہوئے ہیں۔ دوامیدواروں کی موت کی وجہ سے ان نشستوں پر انتخابات ملتوی کردیئے گئے ہیں۔

کانگریس اور اے جے ایس یو ایک نشست پر برتری اور دو سیٹوں پر آزاد امیدوار آگے ہیں۔

ترنمول کانگریس شمالی 24 پرگنہ، جنوبی 24 پرگنہ اور جنگل محل علاقوں میں برتری حاصل کررہی ہے۔ دوسری جانب ہوڑہ، ہگلی، بانکورہ، پوربا اور مغربی بردوان اضلاع میں بھی ٹی ایم سی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

مغربی بنگال: ابتدائی رجحانات میں بی جے پی اور ترنمول کے درمیان کانٹے کی ٹکر

0
مغربی بنگال: ابتدائی رجحانات میں بی جے پی اور ترنمول کے درمیان کانٹے کی ٹکر
مغربی بنگال: ابتدائی رجحانات میں بی جے پی اور ترنمول کے درمیان کانٹے کی ٹکر

بنگال اسمبلی انتخابات میں 294 میں سے 292 نشستوں کے لئے ووٹوں کی گنتی اتوار کی صبح 8 بجے شروع ہوئی تھی اور ابتدائی رجحانات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ترنمول کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر نظر آرہی ہے۔

کولکتہ: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں 294 میں سے 292 سیٹوں کے لئے اتوار صبح آٹھ سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی اور ابتدائی رجحانات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ترنمول کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر نظر آرہی ہے۔

صبح 9 بجے تک ترنمول کانگریس کو 53 سیٹوں پر برتری حاصل تھی اور بی جے پی 49 سیٹوں پر آگے تھی۔

سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان صبح آٹھ بجے ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔  ریاست کی 292 سیٹوں پر ہوئی ووٹنگ میں سے 102 کے رحجان سامنے آئے ہیں۔ جہاں پوسٹل ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ریاست کی 292 سیٹوں کے لئے 2116 امیدواروں نے انتخاب لڑا تھا، جن کی انتخابی قسمت کا فیصلہ آج ہو جائے گا۔

پانچ ریاستوں میں سخت سیکیورٹی کے درمیان اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی شروع

0
پانچ ریاستوں میں سخت سیکیورٹی کے درمیان اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی شروع
پانچ ریاستوں میں سخت سیکیورٹی کے درمیان اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی شروع

اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہی مختلف ریاستوں کی تین لوک سبھا اور 14 اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور کووڈ 19 کے ضابطوں پر عمل کرتے ہوئے اتوار کی صبح آٹھ بجے شروع ہو گئی ہے۔

نئی دہلی: مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ، آسام اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہی مختلف ریاستوں کی تین لوک سبھا اور 14 اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور کووڈ 19 کے ضابطوں پر عمل کرتے ہوئے اتوار کی صبح آٹھ بجے شروع ہو گئی ہے۔

طے شدہ انتظامات کے تحت پہلے پوسٹل ووٹوں کی گنتی کی جائے گی اور دوپہر تک گنتی کے رجحانات آنا شروع ہو جائیں گے۔

بنگال میں کل 294 اسمبلی سیٹوں میں سے 292 سیٹوں ہوئے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی

مغربی بنگال میں کل 294 اسمبلی سیٹوں میں سے 292 سیٹوں پر آٹھ مرحلوں میں ووٹنگ کرائی گئی تھی جبکہ شمشیرجنگ اور جنگی پور اسمبلی حلقوں سے دو امیدواروں کی موت کی وجہ سے انتخابات ملتوی کردیئے گئے۔ ریاست کے 108 ووٹ شماری مراکز پر تین سطحی سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں قائم سٹرانگ روم میں ای وی ایم اور وی وی پیٹ کو سخت سیکیورٹی میں رکھا گیا ہے۔

ووٹ شماری مراکز میں کم از کم 292 مبصرین اور مرکزی سیکیورٹی فورسز کی 256 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ انتخابات میں 2116 امیدواروں نے اپنی قسمت آزمائی ہے۔ یہاں اصل مقابلہ حکمراں ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان ہے، حالانکہ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔

تمل ناڈو میں 234 سیٹوں پر ہوئے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی

تمل ناڈو میں 234 سیٹوں پر ہوئے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کے لئے تین سطحی سیکیورٹی کے لئے ریاستی پولیس اہلکاروں کے علاوہ مرکزی نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ تمام ووٹ شماری مراکز میں ویڈیو گرافی اور سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ گزشتہ 6 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں 3،998 امیدوار میدان میں تھے۔ یہاں حکمراں اے این اے ڈی ایم کے جیت کی ہیٹ ٹرک پر نظر بنائے ہوئے ہے، جبکہ حکومت مخالف لہر کا دعوی کرنے والی ڈی ایم کے 10 سال تک حزب اختلاف میں رہنے کے بعد اقتدار میں آنے کے لئے بیتاب ہے۔

کیرالہ میں 140 سیٹوں پر ہوئے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی

کیرالہ میں 140 سیٹوں پر انتخابات کے ووٹوں کی گنتی ہو رہی ہے۔ جہاں اپنی قسمت آزمانے والوں میں وزیر اعلی پنارائی وجین (دھرم دام)، بی جے پی کے ریاستی صدر کے سریندرن (منجیشورم)، میٹرو مین ای شری دھرن، وزیر صحت کے کے شیلجا (مٹنور)، سابق وزیر اعلی اومان چانڈی (پتھپلی)، وزیر ای چندرشیکھرن اور سابق ڈی جی پی جیکب تھامس شامل ہیں۔

آسام میں 126 سیٹوں پر ہوئے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی

شمال مشرق میں 126 سیٹوں والے آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرقیادت ’میترجوت‘ اور کانگریس کی زیرقیادت ’مہاجوت‘ دونوں ہی اتحادی جماعتوں نے ریاست میں اگلی حکومت بنانے کا دعوی کیا ہے۔

مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری اسمبلی کی 30 سیٹوں پر اصل مقابلہ ترقی پسند اتحاد اور قومی جمہوری اتحاد کے درمیان ہے۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش کی تروپتی، کرناٹک کی بیلگام اور تامل ناڈو کی کنیاکماری لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی انتخابات سمیت راجستھان کی سہارا، راجسمند، کرناٹک کی باسوکلیان اور مسکی، دموہ (مدھیہ پردیش)، پنڈھر پور (مہاراشٹرا)، سالٹ (اتراکھنڈ)، سیرچھپ (میزورم)، نوکسین (ناگالینڈ)، پپلی (اڈیشہ) اور ناگ ارجن ساگر (تلنگانہ) اسمبلی سیٹوں پر ہوئےضمنی انتخابات کےووٹوں کی گنتی بھی شروع ہوگئی ہے۔

آر جے ڈی کے سابق رکن پارلیمان محمد شہاب الدین کا کورونا سے انتقال

0
آر جے ڈی لیڈر محمد شہاب الدین کا کورونا سے انتقال
آر جے ڈی لیڈر محمد شہاب الدین کا کورونا سے انتقال

شہاب الدین کو کورونا سے متاثر ہونے کے بعد دین دیال اپادھیائے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انہوں نے آج آخری سانس لی۔ آر جے ڈی کے دبنگ لیڈر قتل کے سنگین معاملے میں دہلی کی تہاڑ جیل میں سزا کاٹ رہے تھے۔

نئی دہلی: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر اور سابق رکن پارلیمان محمد شہاب الدین کا ہفتہ کے روز کورونا سے انتقال ہوگیا۔ تہاڑ جیل کے ڈی جی سندیپ گوئل نے شہاب الدین کی موت کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شہاب الدین کو کورونا سے متاثر ہونے کے بعد دین دیال اپادھیائے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انہوں نے آج آخری سانس لی۔ آر جے ڈی کے دبنگ لیڈر قتل کے سنگین معاملے میں دہلی کی تہاڑ جیل میں سزا کاٹ رہے تھے۔

پارٹی لیڈر تجسوی یادو نے شہاب الدین کی موت پر افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے ٹویٹ کر کے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ’’سابق رکن پارلیمان محمد شہاب الدین کی کورونا انفیکشن کی وجہ سے بے وقت موت کی خبر افسوسناک ہے۔ خدا ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، سوگوار کنبے اور بہی خواہوں کو قوت برداشت عطا کرے۔ ان کی موت پارٹی کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے‘‘۔

دکھ کی اس گھڑی میں آر جے ڈی کنبہ پسماندگان کے ساتھ ہے۔

دہلی میں آکسیجن کی کمی سے اسپتالوں میں ہاہاکار: کیجریوال

0
دہلی میں آکسیجن کی کمی سے اسپتالوں میں ہاہاکار: کیجریوال
دہلی میں آکسیجن کی کمی سے اسپتالوں میں ہاہاکار: کیجریوال

دہلی میں آکسیجن کی کمی ہونے کے سبب اسپتالوں میں ہاہاکار مچا ہے۔ کیجریوال نے بتایا کہ گذشتہ روز محض 312 ٹن آکسیجن آیا ہے۔ دہلی کو 976 ٹن آکسیجن کی ضرورت ہے اور اسکے مقابلے اگر ہمیں 312 ٹن آکسیجن دی جائے گی تو کیسے کام چلے گا؟

نئی دہلی: دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے ہفتے کے روز کہا کہ دارالحکومت میں آکسیجن کی بہت زیادہ کمی ہونے کے سبب اسپتالوں میں ہاہاکار مچا ہے۔

مسٹر کیجریوال نے سرسوتی وہار پالی کلینک کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ چاروں طرف، اسپتالوں سے ایس او ایس کال آ رہے ہیں کہ اس اسپتال میں آکسیجن ختم ہو گئی ہے، اس میں نصف گھنٹے کی آکسیجن بچ گئی ہے۔ بہت زیادہ مشکل حالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم نے عدالت میں بھی کہا ہے اور مرکزی حکومت کو بھی لکھا ہے کہ دہلی کو یومیہ 976 ٹن آکسیجن کی ضرورت ہے لیکن ہمیں 976 ٹن کے مقابلے 490 ٹن آکسیجن الاٹ کیا گیا ہے اور ہمیں یہ 490 ٹن آکسیجن بھی نہیں مل پا رہی ہے۔

دہلی کو 976 ٹن آکسیجن کی ضرورت اور ملی 312 ٹن

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ روز محض 312 ٹن آکسیجن آیا ہے۔ دہلی کو 976 ٹن آکسیجن کی ضرورت ہے اور اسکے مقابلے اگر ہمیں 312 ٹن آکسیجن دی جائے گی تو کیسے کام چلے گا؟ آج سارے اسپتالوں کے اندر ہاہاکار مچا ہوا ہے۔ کئی اسپتالوں نے بولا ہے کہ انھیں اپنے مریض اسپتال سے نکالنے پڑیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہلی کو آکسیجن چاہیے۔ میری اپیل کو جو بھی سن رہا ہے اور جن جن افراد کو فیصلہ کرنا ہے، ان سبھی سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ ہماری دہلی کو آکسیجن چاہیے۔ ہمیں آکسیجن دیجیے۔

آکسیجن کی وجہ سے مریض اسپتال کے باہر انتظار کرنے پر مجبور

مسٹر کیجریوال نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صرف اور صرف آکسیجن کی وجہ سے مریض اسپتال کے باہر انتظار کرنے کے لیے مجبور ہیں۔ آج ہمیں آکسیجن دے دیجیے، یہ مسئلہ دور ہو جائے گا۔ ہم نے رادھا سوامی ستسنگ ویاس میں پانچ ہزار بیڈ کی تیاری کیا ہے۔ وہاں محض 150 بیڈ ہی زیر استعمال ہیں کیونکہ آکسیجن ہی نہیں ہے۔ ہم نے کامن ویلتھ گیمس ولیج اور یمنا اسپورٹس کمپلیکس میں مشترکہ طور پر 1300 بیڈ تیار کیا ہے۔ ہم نے بُراڑی اسپتال کے اندر 2500 بیڈ تیار کیا ہے۔ اگر آج ہمیں کافی مقدار میں آکسیجن مل جائے تو نو ہزار آکسیجن بیڈ دہلی میں 24 گھنٹے کے اندر تیار ہے۔ اگر آج ہمیں کافی مقدار میں آکسیجن میں مل جائے تو نو ہزار آکسیجن بیڈ دہلی میں 24 گھنٹے کے اندر تیار ہو جائیں گے لیکن ہمارے پاس آکسیجن ہی نہیں ہے۔ دہلی آکسیجن کا پروڈکشن تو کرتا نہیں ہے، تو ہم کس کے پاس جائیں اور کس سے آکسیجن مانگیں؟

دواؤں کی کالابازاری کرنے والوں کو پولیس کررہی ہے گرفتار

انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں آکسیجن مل جاتا ہے اور اتنے سارے اضافی بیڈ بڑھا لیتے تو ایک بہ ضابطہ سسٹم تیار ہو جاتا۔ وہاں مریض کو ڈاکٹر کے ذریعے تمام دوائیں بھی مل جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ ایمبولنس کے ذریعے زیادہ پیسہ وصولنے والوں پر دہلی حکومت کاروائی کر رہی ہے۔ دہلی حکومت کی ٹیمیں پولیس کے ساتھ مشترکہ طور پر مسلسل کاروائی کر رہی ہیں۔ جو بھی دواؤں کی کالابازاری کر رہے ہیں انھیں پکڑ رہے ہیں۔ لیکن ابھی ہمیں بہت بڑی سطح پر آکسیجن کے بیڈ بڑھانے پڑیں گے۔

کورونا کی اس لہر میں جو بھی بیمار پڑ رہا ہے، اسے سب سے پہلے آکسیجن کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ اس کے آکسیجن کا لیول گرتا ہے اور اسے آکسیجن چاہیے۔ مریض کا آکسیجن لیول 90، 89 یا 88 جیسے ہی آیا اور اسے اسی وقت آکسیجن دے دیتے ہیں تو اس کی جان بچ سکتی ہے لیکن عوام کو آکسیجن ہی نہیں مل پا رہا ہے۔

گجرات: کورونا اسپتال میں آتشزدگی، کم از کم 18 افراد کی موت

0
گجرات: کورونا اسپتال میں آتشزدگی، کم از کم 18 افراد کی موت
گجرات: کورونا اسپتال میں آتشزدگی، کم از کم 18 افراد کی موت

گجرات کے بھروچ میں گزشتہ شب ایک پرائیویٹ اسپتال میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد کی موت ہوگئی۔ مرنے والوں میں اسپتال کے دو کارکن بھی شامل ہیں۔ اموات کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

بھروچ: گجرات کے بھروچ میں گزشتہ شب ایک پرائیویٹ کووڈ اسپتال کے انتہائی نگہداشت والے یونٹ ( آئی سی یو) میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد کی موت ہوگئی۔ مرنے والوں میں اسپتال کے دو کارکن بھی شامل ہیں۔ اموات کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ بھروچ۔ جمبوسار بائی پاس روڈ پر واقع پٹیل ویلفیئر اسپتال میں پیش آیا۔ آدھی رات کے بعد تقریباً رات ساڑھے بارہ بجے اس کے دو آئی سی یو میں سے ایک یونٹ میں آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی مقامی فائر بریگیڈ کی ٹیم فوری طور پر حرکت میں آگئی۔ بہت سے مریضوں کو دوسرے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ان میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔

آگ لگنے کی وجہ واضح نہیں ہوسکی ہے ممکن ہے کہ یہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا ہوگا ۔ ذرائع نے بتایا کہ چند مریضوں کی موت منتقلی کے دوران ہوئی ہوگی۔

اس سے پہلے بھی کورونا بحران کے دوران گجرات کے راجکوٹ، احمد آباد میں ایسے واقعات میں متعدد مریضوں کی موت ہوگئی تھی۔

مغربی بنگال میں ووٹ شماری کی تیاریاں مکمل

0
مغربی بنگال میں ووٹ شماری کی تیاریاں مکمل
مغربی بنگال میں ووٹ شماری کی تیاریاں مکمل

مغربی بنگال میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے قہر کے درمیان سخت سیکیورٹی کے تحت اتوار کے صبح 8 بجے ووٹ شماری شروع ہوجائے گی۔ ریاست کی کل 294 اسمبلی نشستوں میں سے 292 نشستوں پر آٹھ مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی ہے۔ ریاست کے شمشیر گنج اور جنگی پور حلقوں میں دو امیدواروں کے انتقال کے سبب انتخابات ملتوی کردیئے گئے تھے۔

کولکاتہ: مغربی بنگال میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے قہر کے درمیان اتوار کی صبح 8 بجے سے سخت سیکیورٹی کے تحت ووٹ شماری شروع ہوجائے گی۔ ریاست کی 292 نشستوں کے لئے 2116 امیدواروں نے انتخاب لڑا تھا، جن کی انتخابی قسمت کے فیصلے کا اعلان کل ہوگا۔

ریاست کی کل 294 اسمبلی نشستوں میں سے 292 نشستوں پر آٹھ مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی ہے۔ ریاست کے شمشیر گنج اور جنگی پور حلقوں میں دو امیدواروں کے انتقال کے سبب انتخابات ملتوی کردیئے گئے تھے۔

ترنمول کانگریس گزشتہ 10 سالوں سے وزیر اعلی ممتا بنرجی کی سربراہی میں ریاست میں برسراقتدار ہے۔ اس انتخاب میں ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیوں نے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔

گنتی کے مرکز سے 100 میٹر کے دائرے میں کسی بھی گاڑی کو جانے کی اجازت نہیں

الیکشن کمیشن نے ووٹ شماری کی تیاری مکمل کرلی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق گنتی کے مرکز سے 100 میٹر کے دائرے میں کسی بھی گاڑی کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ الیکشن کمیشن ریاست کے تمام ووٹ شماری مراکز پر کووڈ- 19 پروٹوکول پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ نیز الیکشن کمیشن کی جانب سے اس کے لئے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) عارض آفتاب نے واضح طور پر کہا ہے کہ کورونا وائرس کے رہنما اصولوں پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ گنتی کی تمام سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے گنتی کے مراکز میں کمیشن کی جانب سے ٹھوس انتظامات کیے گئے ہیں۔ ووٹ شماری مرکز کے اندر میزوں کی تعداد میں بھی اس بار اضافہ کیا جارہا ہے، تاکہ سماجی فاصلے کی ہدایت پر پوری طرح عمل کیا جاسکے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ 108 ووٹ شماری مراکز میں تین سطح کے حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں اسٹرانگ روم میں ای وی ایم مشین اور وی وی پی اے ٹی کو سخت سکیورٹی کے تحت رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 23 ​​اضلاع میں گنتی کے مراکز پر کم از کم 292 مبصرین اور مرکزی سیکیورٹی فورس کی 256 کمپنیاں تعینات کی گئیں ہیں۔ اس بار ریاست میں 27 مارچ سے 29 اپریل تک آٹھ مراحل میں ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس دوران تشدد کے بھی چند واقعات ہوئے ہیں جن میں متعدد لوگوں کی جانیں گئی ہيں۔

نندی گرام میں محترمہ بنرجی یا بی جے پی کے شوبھندو ادھیکاری کی جیت ہوگی، اس پر سب کی نگاہیں رہيں گی۔

نتائج کے رجحانات صبح 8.05 سے تمام گنتی کے مراکز سے آنا شروع ہوجائیں گے

الیکشن کمیشن نے آج ایک بیان میں کہا کہ مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے کے انتخابات کی ووٹ شماری صبح آٹھ بجے شروع ہوگی اور نتائج کے رجحانات صبح 8.05 سے تمام گنتی کے مراکز سے آنا شروع ہوجائیں گے۔

دریں اثناء، وزیر اعلی نے جمعہ کے روز ریاست بھر سے امیدواروں اور پارٹی کے گنتی ایجنٹوں کو گنتی کا عمل مکمل ہونے تک مراکز میں رہنے کی ہدایت دی ہے۔

وزیر اعلی نے دعوی کیا کہ ترنمول کانگریس تیسری بار دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ ریاستی اسمبلی کی کل 294 نشستیں ہیں، جن میں سے کسی بھی پارٹی کو دوتہائی اکثریت کے لئے 148 نشستوں پر جیت درج کرنا ضروری ہے۔

کورونا بحران کے دوران ہندوستان کی مدد کے لئے مسلم ممالک یو اے ای، بحرین، قطر، سعودی عرب اور ایران آئے سامنے

0

کورونا بحران کے دوران ہندوستان کی مدد کے لئے امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس اور آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک یو اے ای، بحرین، قطر، سعودی عرب اور ایران مدد کے لئے آئے ہیں۔

نئی دہلی: کورونا بحران کے دوران ہندوستان کی مدد کے لئے امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس اور آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک یو اے ای، بحرین، قطر، سعودی عرب اور ایران مدد کے لئے آئے ہیں۔

ہندوستان کو اس مشکل گھڑی میں مدد کرنے والے بڑے ممالک میں امریکہ، فرانس، آسٹریلیا، برطانیہ اور کناڈا شامل ہیں۔ وہیں یورپی ممالک میں نیدرلینڈ، سلوانیا، بلغاریہ، آئرلینڈ، اٹلی، سوئیڈن کے ساتھ یورپی کمیشن بھی ہندوستان کی امداد کے لئے آئے ہیں۔

خلیجی ممالک بھی ہندوستان کی مدد میں بڑ ھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جن میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، بحرین، قطر، سعودی عرب اور ایران نے ہندوستان کی مدد کی بات کی ہے۔ وہیں کیربین اور لیٹن امریکی ممالک میں بارباڈوس، سرینام، ڈومنک، پنامہ اور جمائیکا جیسے ممالک نے بھی ہندوستان کی مدد کے لئے اپنے عزم کا اظہارکیا ہے۔

ہندوستان کے پڑوسی ممالک جیسے بنگلہ دیش، افغانستان، مالدیپ، سری لنکا اور بھوٹان نے بھی ہندوستان کی مدد کی پیشکش کی ہے۔ وہیں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کمبوڈیا اور ویتنام نے بھی ہندوستان کی مدد کے لئے آگے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل اور فلسطین نے بھی ہندوستان کو مدد دینے کی بات کہی ہے۔