بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 360

بیت المقدس: مسجد اقصی پر اسرائیلی فورسز کے تازہ حملے میں 50 سے زیادہ فلسطینی زخمی، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

0
بیت المقدس: مسجد اقصی پر اسرائیلی فورسز کے تازہ حملے میں 50 سے زیادہ فلسطینی زخمی، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش
بیت المقدس: مسجد اقصی پر اسرائیلی فورسز کے تازہ حملے میں 50 سے زیادہ فلسطینی زخمی، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

عالمی برادری اور مسلم ملکوں کے تشدد روکنے کی اپیل کے باوجود بیت المقدس میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے مابین ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب دوبارہ جھڑپیں شروع ہوگئیں ہیں جس کے نتیجے میں مزید 50 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یروشیلم: عالمی برادری اور مسلم ملکوں کے تشدد روکنے کی اپیل کے باوجود مسلمانوں کے لئے نہایت مقدس بیت المقدس میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب دوبارہ جھڑپیں شروع ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں مزید 50 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بیت المقدس میں ایک مقامی طبی کارکن نے بتایا کہ القدس میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان تازہ جھڑپوں کے بعد کے اسرائیلی پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔

ماہِ رمضان میں اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام مسجد اقصیٰ تشدد کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینی شہریوں‌ پر آنسوگیس کی شیلنگ، دھاتی گولیوں اور صوتی بموں کا استعمال

ہلال احمر فلسطین کے مطابق تازہ جھڑپوں میں القدس اور اس کے اطراف میں 53 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 8 کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ہلال احمر کے مطابق اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینی شہریوں‌ پر آنسوگیس کی شیلنگ، دھاتی گولیوں اور صوتی بموں کا استعمال کیا گیا۔

فلسطین ریڈ کریسنٹ کے مطابق بیت المقدس میں مسجد اقصٰی کے قریب ایک مرتبہ پھر اسرائیلی فورسز کی پُرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی زخمی ہوگئے۔

ڈان میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ہلال احمر نے صحافیوں کو ایک مختصر بیان میں کہا کہ ‘حملوں میں سیکڑوں افراد زخمی ہیں’ اور ان میں سے 50 کو علاج کے لیے ہسپتال داخل کرایا گیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے مشرقی بیت المقدس پر قبضے کا سالانہ جشن

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے مشرقی بیت المقدس پر قبضے کا سالانہ جشن ‘یومِ یروشلم’ منانے پر قبل ہی علاقے میں کشیدگی جاری تھی۔ اسرائیل نے 1967 میں جنگ کے ذریعے مشرقی بیت المقدس اور اولڈ سٹی پر قبضہ کرلیا تھا جو یہودیوں اور مسیحیوں کے لیے مقدس مقامات ہیں۔

تناؤ کو دور کرنے کی کوشش میں اسرائیلی پولیس نے کہا کہ انہوں نے یہودی گروپوں پر ‘یوم یروشلم’ کے موقع پر بیت المقدس کے مقدس پلازہ کے دورے پر آنے کی پابندی عائد کردی ہے۔

علاوہ ازیں اسرائیلی پولیس کی جانب سے ‘یوم یروشلم’ پر منعقد ہونے والے مارچ کا معین راستہ بھی تبدیل کردیا جائے گا جس میں ہزاروں یہودی نوجوان پرچم لہراتے ہوئے اولڈ سٹی کے دمشق گیٹ اور مسلم کوارٹر سے گزرتے ہیں۔

براہ راست ویڈیو میں دکھایا گیا کہ فلسطینی اور اسرائیلی پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئی اور اسرائیلی پولیس نے نہتے فلسطینوں پر اسٹین گرینیڈ استعمال کیے۔ تاہم یہ جھڑپیں گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے مقابلے میں کم تھیں۔ تازہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ انہوں نے امن قائم رکھنے کے لیے ہزاروں اسرائیلی افسران کو یروشلم کی گلیوں اور چھتوں پر تعینات کیا ہے۔

مشرقی بیت المقدس میں شیخ جرح کے پڑوس سے متعدد فلسطینی خاندانوں کو منصوبہ بندی کے تحت بے دخل کیے جانے پر بھی جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ میں طویل عرصے سے جاری بے دخلی کے معاملے پر اتوار کو سماعت ہوئی تھی، یاد رہے کہ ایک ٹرائل کورٹ نے یہودی آباد کاروں کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

تاہم فلسطینیوں نے فیصلے کی مخالفت کی تھی اور اس اقدام کو بیت المقدس سے بے دخل کرنے کی سازش قرار دیا تھا۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے اتوار کے روز اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات میں بیت المقدس کی صورتحال کے بارے میں ‘شدید خدشات’ کا اظہار کیا تھا۔

اقوام متحدہ کا اس صورتحال پر تشویش کا اظہار

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بھی اتوار کے روز اس صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

علاوہ ازیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز کے حملوں کے بعد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے تل ابیب کے منصوبوں کی مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس میں خصوصی عبادات کے لیے مسجد اقصیٰ کے قریب جمع ہونے سیکڑوں فلسطینیوں کو مسلسل دوسری رات بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 80 افراد زخمی ہوئے جن میں کم سن اور ایک سال کی عمر کا بچہ بھی شامل تھا۔ جبکہ 14 افراد کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

اس سے قبل جمعہ کو مشرقی بیت المقدس میں رات کے وقت ہونے والی جھڑپ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی صحت ورکرز نے بتایا تھا کہ کم از کم 205 فلسطینی اور 17 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

پنچایت انتخابات کے بعد یوپی کے دیہی علاقوں میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے: مایاوتی

0
پنچایت انتخابات کے بعد یوپی کے دیہی علاقوں میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے: مایاوتی
پنچایت انتخابات کے بعد یوپی کے دیہی علاقوں میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے: مایاوتی

مایاوتی نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں پنچایت انتخابات کے بعد دیہی علاقوں میں کورونا انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کی روک تھام کے لئے جنگی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں پنچایت انتخابات کے بعد دیہی علاقوں میں کورونا انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کی روک تھام کے لئے جنگی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

محترمہ مایاوتی نے پیر کے روز یکے بعد دیگرے ٹویٹ کرکے یوپی کے گاؤں قصبوں میں کورونا انفیکشن کے پھیلاؤ کے تعلق سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا ’’یوپی میں پنچایت انتخابات کے اختتام کے بعد، یہاں خاص طور پر چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں میں کافی تیزی سے کورونا وبا کے پھیلنے کی دل دہلانے والی خبریں آرہی ہیں۔ لوگ کافی دہشت میں ہیں۔ اس کی روک تھام کے لئے حکومت کو جنگی سطح پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

بی ایس پی سربراہ نے کہا ’’ساتھ ہی، ابھی حال ہی میں ملک کی جن ریاستوں میں اسمبلی کے عام انتخابات ختم ہوگئے ہیں، وہاں کے شہروں کے ساتھ ساتھ گاؤں میں بھی کورونا وبا کا قہر کافی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ وہاں کی ریاستی حکومتوں کو بھی اس جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، بی ایس پی کا یہ مشورہ ہے۔

انہوں نے کہا ’’سپریم کورٹ نے حال ہی میں ریاستوں کو کورونا کے علاج کے لئے آکسیجن وغیرہ کی تقسیم اور سپلائی سے متعلق اپنے فیصلے میں مرکزی حکومت کو جو قدم اٹھانے کی خصوصی ہدایت دی ہیں حکومت اس پر جلد ہی مکمل طور پر ضرور عمل کرے تو یہ بہتر ہوگا‘‘۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک بار پھر بلند ترین سطح پر

0
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک بار پھر بلند ترین سطح پر
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک بار پھر بلند ترین سطح پر

پیر کے روز دو دن بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک نئی اونچائی پر آگئیں۔ دہلی میں آج پٹرول 26 پیسے مہنگا ہوگیا اور اس کی قیمت 91.53 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ ڈیزل میں 33 پیسے کا اضافہ ہو کر پہلی مرتبہ 82 روپے سے تجاوز کرگیا۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دو دن بعد پیر کے روز ایک مرتبہ پھر بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق قومی دارالحکومت دہلی میں آج پٹرول 26 پیسے مہنگا ہوگیا اور اس کی قیمت 91.53 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ ڈیزل میں 33 پیسے کا اضافہ ہو کر پہلی مرتبہ 82 روپے سے تجاوز کرگیا۔ آج ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت 82.06 روپے رہی۔

گزشتہ 4 مئی سے دہلی میں پٹرول 1.13 روپے اور ڈیزل میں 1.33 روپے مہنگا ہوچکا ہے۔ ممبئی اور کولکتہ میں پٹرول کی قیمت میں 25۔25 پیسے اور چنئی میں 23 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ ممبئی میں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 97.86 روپے، چنئی میں 93.38 روپے اور کولکاتہ میں 91.66 روپے ہوگئی ہے۔

ممبئی میں ڈیزل کی قیمت میں 33 پیسے اضافے کے ساتھ 89.17 روپے، چنئی میں 31 پیسے بڑھ کر 86.96 روپے اور کولکتہ میں 33 پیسے بڑھ کر 84.90 روپے فی لیٹر ہوگئی۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ہرروز صبح چھ بجے سے نئی قیمتیں لاگو ہو جاتی ہیں ۔

ملک کے چار بڑے شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مندرجہ ذیل ہیں:

شہر ۔۔۔۔۔۔ پیٹرول ۔۔۔۔۔۔۔ ڈیزل

دہلی ——91.53 ——— 82.06
ممبئی ——97.86 ——— 89.17
چنئی ——93.38 ——— 86.96
کولکاتا ——91.66 ——— 84.90

راجستھان میں آج سے 24 مئی تک سخت لاک ڈاؤن نافذ، وزیر اعلی کی لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل

0
راجستھان میں 24 مئی تک سخت لاک ڈاؤن نافذ، لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل
راجستھان میں 24 مئی تک سخت لاک ڈاؤن نافذ، لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل

عالمی مہاماری کورونا کی دوسری لہر کا سلسلہ توڑنے کے لئے راجستھان میں آج صبح 5 بجے سے 24 مئی تک سخت لاک ڈاؤن نافذ ہوگیا ہے۔ اس دوران، ہنگامی اور ضروری خدمات، میڈیکل، دودھ اور دیگر ضروری خدمات کے لئے رعایت رہے گی۔

جے پور: راجستھان میں عالمی وبا کورونا کی دوسری لہر کی چین توڑنے کے لئے آج صبح پانچ بجے سے لے کر چوبیس مئی تک سخت لاک ڈاؤن نافذ ہوگیا ہے۔

اس مدت کے دوران، ہنگامی اور ضروری خدمات، میڈیکل، دودھ اور دیگر ضروری خدمات کے لئے رعایت رہے گی۔ قبل ازیں، وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا کہ ریاست بھر میں لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ ریاست کے عوام کی زندگی کی حفاظت کے لئے لاک ڈاؤن کا اثر پہلے دن سے گاؤں ڈھانی تک نظر آنا چاہئے۔ اس میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جانی چاہئے۔ جو بھی شخص رہنما ہدایات کی خلاف ورزی کرے، اس کے خلاف سختی سے کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جانچ، علاج، ویکسینیشن اور وسائل میں توسیع کے لئے تمام کوششوں کے ساتھ، حکومت انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کرائے گی۔ اس کے بغیر، اس مہلک لہر کو روک پانا ممکن نہیں ہے۔

ریاست کے باشندے انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ لاک ڈاؤن پر عمل کریں

انہوں نے اتوار کی رات وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ پر ویڈیو کانفرنسوں کے ذریعے کووڈ انفیکشن، لاک ڈاؤن اور وسائل کی دستیابی سمیت دیگر موضوعات پر ایک اعلی سطح کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد انہون نے کہا کہ کورونا انفیکشن شہروں کے ساتھ ساتھ گاؤں ڈھانی میں بھی پھیل رہا ہے۔ اس سے ہونے والی اموات کافی تشویشناک ہیں۔ ایسی صورتحال میں ریاست کے باشندے انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ لاک ڈاؤن پر عمل کریں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے پولیس فورس تھانہ اور چوکی کی سطح تک فلیگ مارچ کریں۔

وزیر اعلی نے محکمہ میڈیکل اینڈ ہیلتھ کے عہدیداروں سے کہا ہے کہ وہ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں سے آنے والے مریضوں کو ریفرل ٹرانسپورٹ کی مفت سہولت فراہم کرائیں۔ نیز نجی اسپتالوں میں مریضوں سے آکسیجن، بیڈ اور وینٹیلیٹر وغیرہ کی زیادہ قیمت وصول کرنے کے پیش نظر ان سہولیات کی قیمتوں کا عقلی اعتبار سے تعین کیا جائے۔

تامل ناڈو میں دو ہفتے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نافذ

0
تامل ناڈو میں دو ہفتے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نافذ
تامل ناڈو میں دو ہفتے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نافذ

عالمی وبا کورونا کی روک تھام کے لئے پیر کی صبح سے دو ہفتوں کے لئے تامل ناڈو میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران کچھ ضروری خدمات اس سے مستثنیٰ رہیں گی۔

چنئی: عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ ۔19) کی روک تھام کے لئے تامل ناڈو میں پیر کی صبح سے دو ہفتوں تک مکمل لاک ڈاؤن عمل میں لایا گیا ہے، حالانکہ اس دوران کچھ ضروری خدمات اس سے مستثنیٰ رہیں گی۔

ریاست کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے کووڈ 19 کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر تمام اضلاع کے کلکٹروں اور طبی ماہرین کے ساتھ ایک میٹنگ کی تھی۔ اس کے بعد، مسٹر اسٹالن نے پیر کی صبح چار بجے سے 24 مئی کی صبح چار بجے تک ریاست میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ لاک ڈاؤن کے دوران استعمال کی ضروری چیزوں کا لوگ ذخیرہ کرلیں، اس کے لئے ریاستی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ہفتہ اور اتوار کو، ریاست بھر میں تمام دکانیں صبح چھ بجے سے رات نو بجے تک کھلی رہیں گی۔

سخت لاک ڈاؤن کی گائڈ لائن

لاک ڈاؤن کے دوران تمام بین ضلعی اور ضلع سے باہر کے علاقوں کی سرکاری اور نجی بسیں، آٹو، ٹیکسیاں اور جیپ نہیں چلیں گے، لیکن شادیوں، جنازوں، ملازمت کے انٹرویوز اور اسپتال جانے کے لئے ضروری دستاویزات دکھانے پر جانے کی اجازت ہوگی۔ سرکاری ٹی اے ایل ایم اے سی شراب کی دکانیں آج سے دو ہفتے تک بند رہیں گی۔

اس دوران سبزیوں اور گروسری اسٹورز اور گوشت کی دکانوں کو چھوڑ کر باقی دوکانیں بند رہیں گی۔ کرانہ اور گوشت کی دکانوں کو زیادہ سے زیادہ 50 فیصد صارف کے ساتھ دوپہر 12 بجے تک کھولنے کی اجازت ہوگی۔ فوڈ سپلائی کرنے والی اور دیگر ای۔ کامرس کمپنیوں کو چھوڑ کر دیگرکام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ چائے کی دکانوں کو رات 12 بجے تک ہی کھلنے دیا جائے گا۔

اس مدت کے دوران بیوٹی پارلر، سیلون اور اسپاس کے علاوہ، تمام سماجی، سیاسی، کھیلوں، تفریح ​، تعلیمی اور ثقافتی پروگراموں پر پابندی ہوگی۔ سیکرٹریٹ، ہیلتھ، ریونیو، پولیس، فائر سروس، ضلعی انتظامیہ، پانی اور بجلی کے محکمہ کو چھوڑ کر تمام سرکاری دفاتر، آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس فرمیں بھی بند رہیں گی۔ انہیں گھر سے کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

آج سے تمام مندر، پوجا کے مقام، ساحل سمندر اور سیاحتی مقامات جیسے نیلگری ضلع میں اوٹی اور کوڈیکنال کو بھی بند رہیں گے۔

موغادیشو: خود کش بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک، دیگر چھ زخمی

0
موغادیشو: خود کش بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک، دیگر چھ زخمی
موغادیشو: خود کش بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک، دیگر چھ زخمی

صومالیہ کی راجدھانی موغادیشو میں ہوئے ایک خود کش بم دھماکے میں دو سینیئر پولیس افسران سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک اور دیگر چھ زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکہ شدید تھا جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں میں خوف و ہراس کی کیفیت طاری ہوگئی ہے۔

موغادیشو : صومالیہ کی راجدھانی موغادیشو کے ضلع وبیری کے پولیس اسٹیشن میں ہوئے ایک خود کش بم دھماکے میں دو سینیئر پولیس افسران سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک اور دیگر چھ زخمی ہوگئے۔ اس کی تصدیق پولیس اور طبی ذرائع نے کی ہے۔

صومالی پولیس کے ترجمان صادق عدن علی نے بتایا کہ اس حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں وبیری ضلع پولیس کمانڈر احمد بشانے اور والیو ایڈی پولیس ڈویژن کے نائب کمانڈر عبدی باسط بھی شامل ہیں۔

علی نے بتایا ’’ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ خودکش بم حملے میں دو سینئر پولیس افسران، تین فوجیوں اور ایک پڑوسی سمیت چھ افراد ہلاک اور دیگر چھ زخمی ہوئے ہیں‘‘۔

امین ایمبولینس کے ڈائریکٹر عبدالقادر عبد الرحمن حاجی عدن نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے چار لاشیں دیکھی ہیں اور تین زخمیوں کو اسپتال پہنچایا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکہ شدید تھا جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں میں خوف و ہراس کی کیفیت طاری ہوگئی ہے۔

یہ حملہ موغادیشو اور اس کے گردونواح میں سخت سیکیورٹی کے درمیان ہوا ہے۔ کیونکہ پولیس نے رمضان کے مقدس ماہ کے دوران وہاں کے شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر اضافی چوکیاں بنا رکھی ہیں۔ اس حملے کی فوری ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

آرمی میڈیکل کور کے سابق ​​میڈیکل افسران کی کنٹریکٹ بھرتی کی منظوری

0
آرمی میڈیکل کور کے سابق ​​میڈیکل افسران کی کنٹریکٹ بھرتی کی منظوری
آرمی میڈیکل کور کے سابق ​​میڈیکل افسران کی کنٹریکٹ بھرتی کی منظوری

جنرل اور مسلح افواج کے اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو دور کرنے کے لئے، وزارت دفاع نے آرمی میڈیکل کور کے سابق میڈیکل افسران کے کنٹریکٹ بھرتیوں کی منظوری کا حکم جاری کیا ہے۔

نئی دہلی: جنرل اور مسلح افواج کے اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو کچھ حد تک دور کرنے کے لئے، وزارت دفاع نے آرمی میڈیکل کور کے سابق ​​میڈیکل آفیسرز کی معاہدہ بھرتی کی منظوری دیتے ہوئے اس سلسلے میں ایک آرڈر جاری کیا ہے۔

وزارت نے آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز ڈائریکٹوریٹ جنرل کو حکم جاری کرکے ’ٹور آف ڈیوٹی‘ اسکیم کے تحت 2017 اور 2021 کے درمیان ریٹائر ہونے والے 400 سابق میڈیکل افسران کو زیادہ سے زیادہ 11 ماہ کے لئے معاہدہ کی بنیاد پر بھرتی کرنے کے لئے کہا ہے۔

ان میڈیکل آفیسرز کو ریٹائرمنٹ کے وقت کی تنخواہ سے بنیادی پنشن میں کٹوتی کرکے ہر ماہ یکمشت رقم دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی جہاں بھی ماہرین کو تنخواہ ضروری ہوگی وہ دی جائے گی۔ یہ رقم معاہدے کی مدت کے لئے غیر تبدیل شدہ رہے گی اور کسی دوسرے الاؤنس کی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔ بھرتی کئے جانے والے طبی افسران کا شہریوں کے معیار کے مطابق طبی طور پر فٹ ہونا ضرری ہے۔

واضح رہے کہ وزارت دفاع نے کوڈ 19 کے موجودہ حالات پر قابو پانے کے لئے سول انتظامیہ کی مدد کے لئے اضافی افرادی قوت یکجا کرنے کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ نے پہلے ہی متعدد اسپتالوں میں اسپیشلسٹ، سپر اسپیشلسٹ اور معاون عملہ سمیت اضافی ڈاکٹروں کو تعینات کیا ہے۔ جبکہ شارٹ سروس کمیشن کے ڈاکٹروں کی آئندہ 31 دسمبر تک خدمات میں توسیع کردی گئی ہے، جس سے 238 اضافی ڈاکٹر دستیاب ہوں گے۔ حال ہی میں ڈائریکٹوریٹ سے ریٹائر ہونے والے میڈیکل پروفیشنلز کو بھی صحت پیشہ ور افراد کی افرادی قوت کو مزید تقویت دینے کے لئے دوبارہ ملازمت میں لایا گیا ہے۔

ایک دن میں، تقریبا چار لاکھ افراد نے دی کورونا کو شکست

0
ایک دن میں، تقریبا چار لاکھ افراد نے دی کورونا کو شکست
ایک دن میں، تقریبا چار لاکھ افراد نے دی کورونا کو شکست

ملک میں ایک دن میں ریکارڈ پونے چار لاکھ سے زائد لوگوں نے کورونا کو شکست دی۔ جس کی وجہ سے فعال معاملات کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، چار لاکھ سے زیادہ نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔

نئی دہلی: ملک میں ایک دن میں ریکارڈ پونے چار لاکھ سے زائد لوگوں نے کورونا کو شکست دی۔ جس کی وجہ سے ایکٹو کیسز میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم چار لاکھ سے زیادہ نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔ وہیں دوسرے دن چار ہزار سے زائد مریضوں کی اس وبا سے موت ہوئی ہے۔ اس دوران ہفتہ کے روز 20 لاکھ 23 ہزار 532 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے۔ ملک میں اب تک 16 کروڑ 94 لاکھ 39 ہزار 663 افراد کو کوروناکے ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔

مرکزی وزارت صحت کی جانب سے اتوار کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ 86 ہزار 444 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ جس سے اب تک کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد ایک کروڑ 83 لاکھ 17 ہزار 404 ہو گئی ہے۔ اس دوران 4،03،738 نئے کیسز سامنے آنے سے متاثرہ افراد کی تعداد دو کروڑ 22 لاکھ 96 ہزار 414 ہوگئی ہے۔ ایکٹو کیسز کچھ دنوں کے مقابلے میں کم بڑھے ہیں اور ان کی تعداد بڑھ کر 37 لاکھ 36 ہزار 648 ہوگئی ہے۔ اس دوران 4092 مریضوں کی موت ہونے سے اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد 2،42،362 ہوگئی ہے۔

ملک میں شفایابی کی شرح بڑھ کر 82.15 فیصد اور ایکٹو کیسز کی شرح کم ہو کر 16.76 فیصد ہو گئی ہے جبکہ شرح اموات اب بھی 1.09 فیصد ہے۔

مہاراشٹر میں ایکٹو کیسز میں زبردست کمی

مہاراشٹر میں ایکٹو کیسز میں ایک دن کے اضافے کے بعد زبردست کمی واقع ہوئی ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں میں ان کی تعداد 26،552 کم ہو کر 6،30،567 ہوگئی ہے۔ اس دوران ریاست میں مزید 82،266 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد بڑھ کر 43،47،592 ہوگئی ہے، جبکہ مزید 864 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 75،277 ہوگئی ہے۔

کیرالہ میں ایکٹو کیسز 14،451 بڑھ کر 4،17،448 ہو گئے اور 27،456 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا سے نجات پانے والوں کی تعداد بڑھ کر 14،43،633 ہوگئی۔ وہیں مزید 64 کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 5746 ہے۔

کرناٹک میں کورونا وائرس کے ایکٹو کیسز 12،200 بڑھے ہیں اور ان کی تعداد 5،48،861 ہوگئی ہے۔ وہیں مزید 482 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 18،286 ہوچکی ہے اور اب تک 13،19،301 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔

دہلی میں کورونا کے ایکٹو کیسز میں 3128 کی کمی

قومی دارالحکومت دہلی میں کورونا کے ایکٹو کیسز میں 3128 کی کمی واقع ہوئی ہے اور اب ان کی تعداد کم ہوکر 87،907 ہوگئی ہے۔ مزید 332 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 19،071 ہوگئی ہے۔ وہیں 12،03،253 مریضوں نے کورونا کو شکست دی ہے۔

تلنگانہ میں ایکٹو کیسز 2846 کم ہو کر 68،462 ہو گئے ہیں جبکہ 2704 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ وہیں 4،21،219 افراد اس وبا سے صحتیاب ہوئے ہیں۔ آندھرا پردیش میں ایکٹو کیسز 697 بڑھ کر 1،87،392 ہو گئے ہیں۔ ریاست میں کورونا کو شکست دینے والے لوگوں کی تعداد 10،69،432 ہوچکی ہے۔ وہیں 8615 افراد کی اس وبا سے موت ہو گئی ہے۔ تامل ناڈو میں ایکٹو کیسز 4046 بڑھ کر 1،39،401 ہو گئے اور اب تک 15،412 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ وہیں 11،96،549 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔

اترپردیش میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 8382 ایکٹو کیسز کم

آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 8382 ایکٹو کیسز کم ہوئے ہیں اور اب یہ تعداد کم ہوکر 2،45،736 رہ گئی ہے۔ ریاست میں ابھی تک 15،170 افراد کی اس وبا سے موت ہو گئی ہے اور 12،19،409 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

چھتیس گڑھ میں کورونا کے ایکٹو کیسز 182 کم ہو کر 1،30،859 ہوچکے ہیں، جبکہ 7،01،116 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔ وہیں مزید 223 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 10،381 ہوگئی ہے۔

مدھیہ پردیش میں ایکٹو کیسز 7063 بڑھ کر 1،02،486 ہو گئے ہیں اور اب تک 5،51،892 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ وہیں اس وبا سے 6334 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

پنجاب میں ایکٹو کیسز 2224 بڑھ کر 71،948 ہو گئے ہیں اور کورونا سے نجات پانے والوں کی تعداد بڑھ کر 3،51،426 ہوگئی ہے۔ وہیں 10،315 مریضوں کی موت ہوگئی ہے۔ گجرات میں ایکٹو کیسز 2964 کم ہو کر 1،43،421 ہو گئے اور اب تک 8273 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ وہیں 5،18،234 مریض اس وبا سے صحتیاب ہوئے ہیں۔ ہریانہ میں ایکٹو کیسز 146 بڑھ کر 1،16،109 ہو گئے ہیں۔ ریاست میں اس وبا کی وجہ سے 5454 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اب تک 4،80،786 افراد اس وبا سے صحتیاب ہوئے ہیں۔

بنگال میں کورونا ایکٹو کیسز میں اضافہ

مغربی بنگال میں کورونا وائرس کے ایکٹو کیسز 1066 بڑھ کر 1،25،164 ہو گئے ہیں اور اس وبا سے 12،203 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ ریاست میں اب تک 8،36،351 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔ بہار میں ایکٹو کیسز 2090 کم ہو کر 1،12،977 ہو گئے ہیں۔ ریاست میں ابھی تک 3215 افراد کی اس وباسے موت ہو گئی ہے۔ وہیں 4،64،025 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

کورونا وبا سے اب تک راجستھان میں 5506، جھارکھنڈ میں 3756، اتراکھنڈ میں 3548، جموں و کشمیر میں 2672، ہماچل پردیش میں 1830، آسام میں 1830، گوا میں 1628، پڈوچیری میں 939، چندی گڑھ میں 558، منی پور میں 461، تریپورہ میں 406، میگھالیہ میں 210، سکم میں 165، لداخ میں 153، ناگالینڈ میں 137، اردنچل پردیش میں 60، میزورم میں 60، لکشدیپ میں نو اور دادار نگر حویلی اور دمن ودیو میں چار افرا کی موت ہوئی ہے۔

روینا ٹنڈن نے دہلی کے لئے بھیجا 300 آکسیجن سلنڈر

0
روینا ٹنڈن نے دہلی کے لئے بھیجا 300 آکسیجن سلنڈر 
روینا ٹنڈن نے دہلی کے لئے بھیجا 300 آکسیجن سلنڈر 

روینا ٹنڈن نے بتایا کہ کورونا کی دوسری لہر کے مابین دہلی میں آکسیجن کی قلت انھیں آزردہ اور انتہائی رنجیدگی کے عالم میں مبتلا کردیا تھا۔ لہٰذا انھوں نے ذاتی طور پر وہاں سلنڈر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ روینا ٹنڈن نے کورونا وبا کے بحران کے دوران راجدھانی دہلی کے لوگوں کی مدد کے لئے 300 آکسیجن سلنڈر بھیجا ہے۔

انہوں نے اپنے رودر فاؤنڈیشن کی طرف سے ’آکسیجن سیوا آن دی وہیل ممبئی ٹو دہلی“ نام سے پہل شروع کی ہے۔ جس کے ذریعہ وہ ممبئی سے دہلی آکسیجن سلنڈر بھیج رہی ہیں۔

روینہ نے بتایا کہ کورونا کی دوسری لہر کے مابین دہلی میں آکسیجن کی قلت انھیں آزردہ اور انتہائی رنجیدگی کے عالم میں مبتلا کردیا تھا۔ لہٰذا انھوں نے ذاتی طور پر وہاں سلنڈر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

روینا ٹنڈن نے کہا ”میں نے دہلی کے لئے تقریباً 300 سلنڈر ارسال کر دیئے ہیں اور مزید سلنڈروں کے لئے فنڈ جمع کرنے کا کام زوروں پر ہے۔ مدد دینے والے ہمارے دوست بھی ہوسکتے ہیں اور کوئی بھی جن کے پاس ضرورت سے زیادہ پیسہ ہو۔ ہم لوگوں پر دباؤ نہیں بنا رہے ہیں۔ عام لوگ آ رہے ہیں اور ڈونیٹ کررہے ہیں۔ اس وقت ایمرجنسی کے لئے بچت کی ضرورت ہے جس کا کسی کو بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ لیکن، ہاں ہم ان لوگوں کے پاس جا رہے ہیں جو تبدیلی لاسکتے ہیں، ہم ان سے مدد کے لئے کہہ رہے ہیں۔

کابل اسکول بم دھماکے کی امریکہ اور یوروپی یونین نے کی شدید مذمت

0
کابل اسکول بم دھماکے کی امریکہ اور یوروپی یونین نے کی شدید مذمت
کابل اسکول بم دھماکے کی امریکہ اور یوروپی یونین نے کی شدید مذمت

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے سید الشہدا اسکول میں ہفتہ کے روز ہوئے بم دھماکے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 151 زخمی ہوگئے تھے۔ یوروپی یونین اور امریکہ نے اس دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

ماسکو: یوروپی یونین (ای یو) اور امریکہ نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں لڑکیوں کے اسکول میں ہوئے بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ کابل کے سید الشہداء اسکول میں ہفتے کے روز ہوئے بم دھماکے سے کم از کم 53 افراد ہلاک اور 151 زخمی ہوگئے تھے۔

یوروپی یونین کے ایکسٹرنل آپریشن سروس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ’’یوروپی یونین افغانستان میں خوفناک دہشت گردانہ حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسکول میں بچوں پر حملہ نہ صرف افغان آبادی پر بلکہ دنیا بھر میں ان سبھی پر حملہ کیا ہے، جو خواتین اور لڑکیوں کے مساوی حقوق کا احترام کرتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان کے اسکول پر ہونے والے وحشیانہ حملے کی مذمت کی اور معصوم شہریوں پر حملے اور تشدد کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت نے ان بم دھماکوں کو افغانستان کے مستقبل پر حملہ قرار دیا۔

کابل میں اسکول پر حملے کی کسی بھی دہشت گردانہ تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم افغان صدر اشرف غنی نے طالبان باغیوں پر ملک میں تشدد بڑھانے کا الزام لگایا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے میں طالبان دہشت گردوں کے ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے داعش کے دہشت گرد گروپ (روس میں کالعدم قرار) پر بم دھماکہ کرنے کا الزام لگا یا ہے۔