منگل, مئی 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 359

دہلی میں لاک ڈاؤن کی مدت میں 24 مئی تک کی توسیع

0
دہلی میں لاک ڈاؤن کی مدت میں 24 مئی تک کی توسیع
دہلی میں لاک ڈاؤن کی مدت میں 24 مئی تک کی توسیع

کووڈ 19 کے پیش نظر دہلی میں لاک ڈاؤن کی مدت 24 مئی تک بڑھا دی گئی ہے۔ قومی دارالحکومت میں 19 اپریل سے لاک ڈاؤن نافذ ہے۔

نئی دہلی: کووڈ 19 کے پیش نظر دہلی میں لاک ڈاؤن کی مدت 24 مئی تک بڑھا دی گئی ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اتوار کو اس کا اعلان کیا۔

مسٹر کیجریوال نے صحافیوں کو بتایا کہ دارالحکومت میں لاک ڈاؤن کی مدت 17 مئی تک نافذ ہے اور اس میں ایک ہفتہ کی توسیع 24 مئی تک کی جا رہی ہے۔ میٹرو خدمات کی معطلی سمیت تمام پابندیاں اب 24 مئی تک نافذ العمل ہوں گی۔

دہلی میں کورونا وائرس کے پھیلنے کو روکنے کے لئے میٹرو خدمات بھی 10 مئی سے معطل ہیں۔

واضح رہے کہ 19 اپریل سے قومی دارالحکومت میں لاک ڈاؤن نافذ ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کے مابین جاری جدوجہد کے دوران 360 فلسطینی زخمی

0
اسرائیل اور فلسطین کے مابین جاری جدوجہد کے دوران 360 فلسطینی زخمی
اسرائیل اور فلسطین کے مابین جاری جدوجہد کے دوران 360 فلسطینی زخمی

 اسرائیل اور فلسطین کے مابین جاری جدوجہد کے دوران دونوں اطراف کے کئی شہریوں کی موت ہوئی ہے اور سیکڑوں کی تعدادا میں زخمی ہوئے ہیں۔

تل ابیب: اسرائیل اور فلسطین کے مابین جاری جدوجہد کے دوران مشرقی یروشلم میں کم از کم 360 فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔

اس سے قبل ریڈ کریسنٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ جاری جدوجہد میں 1330 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ پٹی میں 100 سے زیادہ جبکہ ویسٹ بینک میں 900 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینی کے مابین جاری جدوجہد کے دوران دونوں اطراف کے کئی شہریوں کی موت ہوئی ہے اور سیکڑوں کی تعدادا میں زخمی ہوئے ہیں۔ جدوجہد کے دوران مرنے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

پٹرول ڈیزل کی قیمتیں نئی ​​بلندیوں پر، ممبئی میں پٹرول 99 روپے کے قریب

0
پٹرول ڈیزل کی قیمتیں نئی ​​بلندیوں پر، ممبئی میں پٹرول 99 روپے کے قریب
پٹرول ڈیزل کی قیمتیں نئی ​​بلندیوں پر، ممبئی میں پٹرول 99 روپے کے قریب

اتوار کے روز، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک بار پھر ریکارڈ کی نئی سطح پر آگئیں۔  ملک کے چار بڑے میٹرو شہروں میں، پٹرول 24 پیسے اور ڈیزل 29 پیسے مہنگا ہوگیا۔ ممبئی میں، پٹرول 99 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ گیا ہے، جبکہ ڈیزل پہلی بار 90 روپے کو عبور کرچکا ہے۔

نئی دہلی: اتوار کے روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ کر نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ ملک کے چار بڑے میٹرو شہروں میں پٹرول 24 پیسے اور ڈیزل 29 پیسے مہنگا ہوگیا۔ ممبئی میں پٹرول 99 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ گیا ہے، جبکہ ڈیزل پہلی بار 90 روپے کو عبور کرچکا ہے۔

معروف آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق، آج قومی دارالحکومت میں پٹرول کی قیمت 24 پیسے کے اضافے سے 92.58 روپے اور ڈیزل کی قیمت 27 پیسے کے اضافے سے 83.22 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ اس مہینے دہلی میں پٹرول 2.18 روپے اور ڈیزل 2.49 روپے مہنگا ہوچکا ہے۔

ممبئی اور کولکتہ میں پٹرول 23-23 پیسے مہنگا ہوگیا۔ ممبئی میں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 98.88 روپے اور کولکتہ میں 92.67 روپے رہی۔ چنئی میں، یہ 22 پیسے مہنگا ہوکر 94.31 روپے فی لیٹر ہوگیا۔

ممبئی میں ڈیزل کی قیمت 29 پیسے اضافے سے 90.40 روپے، چنئی میں 26 پیسے بڑھ کر 88.07 روپے اور کولکاتہ میں 27 پیسے کے اضافے سے 86.06 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ دونوں ایندھنوں کی قیمتیں چاروں میٹرو شہروں میں مستقل طور پر نئی ریکارڈ بلندی پر پہنچ رہی ہیں۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر، ہر روز صبح چھ بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔

ملک کے چار میٹرو شہروں میں آج پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں حسب ذیل رہیں:

شہر  —————  پٹرول     ————— ڈیزل 

دہلی ————— 92.58 —————— 83.22

ممبئی ————— 98.88 —————— 90.40

چنئی ————— 94.31 —————— 88.07

کولکاتا ———— 92.67 —————— 86.06

ہوائی جہاز کے ایندھن میں پانچ فیصد کا اضافہ

0
ہوائی جہاز کے ایندھن میں پانچ فیصد کا اضافہ
ہوائی جہاز کے ایندھن میں پانچ فیصد کا اضافہ

ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمت میں آج سے پانچ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس ماہ میں دوسری مرتبہ ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل یکم مئی کو یہ سات فیصد کے قریب مہنگا ہوا تھا۔

نئی دہلی: ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمت میں آج سے پانچ فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس سے قومی دارالحکومت میں اس کی قیمت 65 ہزار روپے فی کلو لیٹر کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

اس ماہ میں دوسری مرتبہ ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل یکم مئی کو یہ سات فیصد کے قریب مہنگا ہوا تھا۔

ملک کی سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق قومی دارالحکومت دہلی میں 16 مئی کے بعد سے ہوائی جہازوں کے ایندھن کی قیمت 3080.25 روپے یعنی 4.99 فیصد اضافے سے 64770.53 روپے فی کلو لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ دو بار میں اس کی قیمت میں 6965.25 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح ممبئی میں ہوائی جہاز کا ایندھن 3094.12 روپے یعنی 5.17 فیصد مہنگا ہوا ہے اور اتوار سے اس کی قیمت 62917.02 روپے فی کلو لیٹر ہوگئی ہے۔

کولکتہ میں، یہ 2650.12 روپے یعنی چار فیصد اور چنئی میں یہ 3،279.05 روپے یعنی 5.20 فیصد مہنگا ہوگیا ہے۔ کولکتہ میں اب اس کی قیمت 68895.86 روپے اور چنئی میں 66374.41 روپے فی کلو لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمتوں کا ہر پندرہ دن میں جائزہ لیا جاتا ہے۔

مغربی بنگال میں 16 مئی سے 30 مئی تک مکمل لاک ڈاؤن، ڈاکٹروں نے لاک ڈاؤن کے نفاذ کا کیا خیر مقدم 

0
مغربی بنگال میں 16 مئی سے 30 مئی تک مکمل لاک ڈاؤن، ڈاکٹروں نے لاک ڈاؤن کے نفاذ کا کیا خیر مقدم 
مغربی بنگال میں 16 مئی سے 30 مئی تک مکمل لاک ڈاؤن، ڈاکٹروں نے لاک ڈاؤن کے نفاذ کا کیا خیر مقدم 

مغربی بنگال حکومت نے بنگال میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے 16 مئی کی شام سے 30 مئی کی شام تک مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ مغربی بنگال کے ڈاکٹروں نے بنگال حکومت کے ذریعہ 15 دنوں کے لئے نافذ کئے جا  رہے لاک ڈاؤن کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ 

کلکتہ: مغربی بنگال حکومت نے بنگال میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کل 16 مئی کی شام سے 30 مئی کی شام تک مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔

چیف سکریٹری الاپن بندو پادھیائے نے کہا کہ کورونا پر قابو پانے کے لئے حکومت نے مزید سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لئے اتوار کی شام 6 بجے سے 30 مئی تک مکمل لاک ڈاؤن نافذ رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مدت میں تمام سرکاری اور پرائیوٹ دفاتر، شاپنگ کمپلیکس، مالز، بارس، اسپورٹس کمپلیکس، پب اور بیوٹی پارلر بند رہیں گے۔

پرائیوٹ گاڑیوں، ٹیکسیوں، بسوں، میٹرو ریل، لوکل ٹرینوں کی نقل و حرکت کو بھی 15 دنوں تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول پمپ کھلے رہیں گے اور دودھ، پانی، دوا، بجلی، فائر، لا اینڈ آرڈر سے وابستہ ادارے اور میڈیا اس کے دائرے میں نہیں آئے گا۔ ای کامرس اور ہوم ڈیلیوری خدمات کی اجازت ہوگی۔

حکومت کی گائیڈ لائن کے مطابق رات 9 بجے سے صبح 5 بجے تک کسی کو بھی باہر نکلنے اور موٹر سائیکل کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام پرائیوٹ دفاتر، اسکول، کالج بند رہیں گے۔ بازار، سبزیاں، پھل، دودھ فروخت کرنے والے بازار صبح سات بجے سے صبح دس بجے تک کھلے رہیں گے۔ لوکل ٹرینیں، میٹرو خدمات، انٹر اسٹیٹ بس / ٹرین خدمات، کشتی سروس بھی بند رہیں گے۔

ڈاکٹرز بنگال حکومت کے لاک ڈاؤن کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں

مغربی بنگال کے ڈاکٹروں نے بنگال حکومت کے ذریعہ 15 دنوں کے لئے نافذ کئے جا  رہے لاک ڈاؤن کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ڈاکٹرو ں نے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے کورونا کے چین کو توڑنے میں مدد ملے گی اور اسپتالوں پر بوجھ بھی کم ہوگا۔

ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے انسانی زندگی بچے گی اور لوگوں کے روپے علاج پر خرچ نہیں ہوں گے۔

پیئر لیس اسپتال کے سی ای او سدیپتو مترا نے کہا کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ لاک ڈاؤن لگے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا۔ کیوں کہ اس وقت کورونا کی صورت حال انتہائی خراب ہے۔ کنٹرول سے باہر حالات ہو رہے ہیں۔ اس نقطہ نظر سے انسانی مفادات کے حق میں ہے کہ لاک ڈاؤن لگے۔ 15 دن کے لئے لاک ڈاؤن کا فیصلہ صحیح قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ اسپتالوں میں کل 2500 سے 3000 بیڈ ہیں۔ اسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ اب یہاں بیڈ خالی نہیں ہے۔ ریاست میں صحت کا نظام بوجھ تلے دب رہا ہے۔ اس لئے ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر بند ہونے کی وجہ سے مریض اسپتال نہیں آسکیں گے۔ کورونا ویکسین میں بھی دشواری ہوگی۔ کیونکہ لوگ ویکسی نیشن سینٹر نہیں آسکیں گے۔ لہذا حکومت کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر ارندم بسواس نے کہا کہ حکومت نے ایک اچھا اور بروقت فیصلہ کیا ہے۔ تاہم، حکومت کی اس رہنما اصول کو موثر بنانے کی ضرورت ہے کچھ دن پہلے ریاستی حکومت نے صبح 7 بجے سے صبح 10 بجے تک مارکیٹ کو کھلا رکھنے کا اعلان کیا تھا، لیکن صبح 10 بجے کے بعد بھی مارکیٹ کھلے ہوئے تھے۔ اگر اس بار بھی ایسا ہوتا ہے تو پھر اس لاک ڈاؤن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

کیرالا، بہار کے سابق گورنر بھاٹیا کا کورونا سے انتقال

0
کیرالا، بہار کے سابق گورنر بھاٹیا کا کورونا سے انتقال
کیرالا، بہار کے سابق گورنر بھاٹیا کا کورونا سے انتقال

امرتسر سے چھ بار رکن پارلیمنٹ منتخب کیے گئے مسٹر بھاٹیا 23 جون 2004 سے 10 جولائی 2008 تک وہ کیرالا اور 10 جولائی 2008 سے لے کر 28 جون 2009 تک بہار کے گورنر تھے۔ وہ 1992 میں پی وی نرسمہا کی حکومت میں وزیر مملکت برائے خارجہ تھے۔

امرتسر: کیرالا اور بہار کے سابق گورنر آر ایل بھاٹیا کی کورونا وائرس سے ہفتہ کے روز یہاں موت ہو گئی۔ وہ 100 سال کے تھے۔

مسٹر بھاٹیا گذشتہ کچھ وقت سے بیمار تھے اور کورونا سے متاثر ہونے کے بعد وہ امرتسر کے ایک نجی اسپتال میں داخل تھے، جہاں آج صبح انہوں نے آخری سانس لی۔

امرتسر سے چھ بار رکن پارلیمنٹ منتخب کیے گئے مسٹر بھاٹیا 23 جون 2004 سے 10 جولائی 2008 تک وہ کیرالا اور 10 جولائی 2008 سے لے کر 28 جون 2009 تک بہار کے گورنر تھے۔ وہ 1992 میں پی وی نرسمہا کی حکومت میں وزیر مملکت برائے خارجہ تھے۔

آپریشن بلو اسٹار کے بعد الیکشن میں کئی ردوبدل ہوئے مرکز میں اندرا گاندھی کی حکومت کی جانب سے چار سال مکمل ہونے پر ’غریبی ہٹاؤ‘ نعرے کے ساتھ الیکشن کروائے گئے تھے۔ اس وقت امرتسر میونسیپل کمیٹی کے سربراہ درگا داس بھاٹیا نے کانگریس کے ٹکٹ پر امرتسر لوک سبھا حلقے سے الیکشن جیتا تھا۔ درگا داس بھاٹیا کی ایک سال کے بعد ہی موت ہو گئی۔

درگا داس بھاٹیا کی موت کے بعد کانگریس نے ان کے بھائی رگھو رنجن لال بھاٹیا کو ضمنی الیکشن میں اتارا۔ بھاٹیا نے یگیہ دت شرما کو شکست دی۔

ایمرجنسی کے بعد ہوئے الیکشن میں مسٹر بھاٹیا کو شکست

ایمرجنسی کے بعد ہوئے الیکشن میں اس وقت کی جنتا پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر بلدیو پرکاش نے رگھونندن لال بھاٹیا کو شکست دی۔ 1980 کے لوک سبھا الیکشن میں رگھونندن لال بھاٹیا نے بی جے پی کے ڈاکٹر بلدیو پرکاش کو شکست دی۔  1984 میں آپریشن بلو اسٹار اور سکھ مخالف فسادات کے باوجود رگھونندن لال بھاٹیا الیکشن جیت گئے تھے۔ 1989 کے الیکشن کے دوران ریاست میں دہشت پھیلی ہوئی تھی۔ اس وقت چیف خالصا دیوان کے سربراہ کرپال سنگھ بطور آزاد امیدوار میدان میں اترے اور آر ایل بھاٹیا کو شکست دی۔ 1991 اور 1996 کے الیکشن میں بھی بھاٹیا کو جیت ملی۔ امرتسر سے 1952 میں گیانی گُرمُکھ سنگھ مسافر پہلے جٹ سکھ امیدوار تھے۔

اس کے تقریباً 31 سال بعد 1998 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے ایک شہری سکھ دیا سنگھ سوڑھی کو الیکشن میدان میں اتارا۔ سوڑھی آر ایل بھاٹیا کے دبدبے کو توڑتے ہوئے یہ سیٹ جیت لی۔ 1999 کے لوک سبھا کے دوران جب ریاست میں اکالی-بی جے پی کی حکومت تھی، اس وقت دیا سنگھ سوڑھی نے سابق وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کی طریقہ کار پر بیانات دیے۔ سوڑھی اس الیکشن میں نہیں جیت پائے۔ بعد ازاں بھاٹیا کے دبدبے کو نوجوت سنگھ سدھو نے ختم کیا۔ بی جے پی کے ٹکٹ پر سدھو نے 2004، ضمنی الیکشن 2007 اور 2009 تک مسلسل جیت درج کرتے ہوئے ہیٹرک بنائی تھی۔

غزہ پٹی کی جانب سے داغے گئے اسرائیل میں 1500 راکٹ: اسرائیلی فوج

0
غزہ پٹی کی جانب سے داغے گئے اسرائیل میں 1500 راکٹ: اسرائیلی فوج
غزہ پٹی کی جانب سے داغے گئے اسرائیل میں 1500 راکٹ: اسرائیلی فوج

اسرائیلی فوج نے بتایا کہ غزہ پٹی کی جانب سے اسرائیل میں تقریباً 1500 راکٹ داغے گئے۔ ان راکٹوں میں سے سینکڑوں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کردیئے۔

یروشلم: اسرائیل نے کہا ہے کہ کشیدگی بڑھنے کے بعد سے غزہ پٹی کی جانب سے اسرائیل میں تقریباً 1500 راکٹ داغے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے بدھ کی تاخیر شب بیان جاری کرکے یہ اطلاع دی۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ غزہ پٹی کی جانب سے اسرائیل میں تقریباً 1500 راکٹ داغے گئے۔ ان راکٹوں میں سے سینکڑوں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کردیئے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’’غزہ پٹی کی جانب سے اسرائیلی سرحد پر اب تک تقریباً 1500 راکٹ داغے گئے ہیں، جن میں سے تقریباً 300 ناکام رہے اور غزہ پٹی میں ہی گر گئے۔ آئرن ڈوم سسٹم نے سینکڑوں راکٹ کو تباہ کردیا ہے‘‘۔

غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں میں فلسطینی اموات کی تعداد 67

0
غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں میں فلسطینی اموات کی تعداد 67
غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں میں فلسطینی اموات کی تعداد 67

وزارت کے مطابق غزہ پٹی پر اسرائیل کے فضائی حملے میں 388 لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں 115 بچے اور 50 خواتین شامل ہیں۔ مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 67 ہو گئی ہے۔

غزہ: غزہ پٹی پر اسرائیل کے ہوائی حملوں میں مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 67 ہو گئی ہے۔ غزہ کے وزیر صحت نے جمعرات کو اطلاع دی۔

وزارت نے دعوی کیا کہ مرنے والوں میں 17 بچے شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق اسرائیل کے فضائی حملے میں 388 لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں 115 بچے اور 50 خواتین شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس نے پیر کی رات سے ایک دوسرے پر سیکڑوں راکٹ داغے ہیں۔

رمضان و عید ​کرونا وبا کے سائے میں مگر خوشیاں ہیں کہ رکتی نہیں

0
رمضان و عید ​کرونا وبا کے سائے میں مگر خوشیاں ہیں کہ رکتی نہیں
رمضان و عید ​کرونا وبا کے سائے میں مگر خوشیاں ہیں کہ رکتی نہیں

پچھلا رمضان بھی مختلف بندشوں کے درمیان گزرا او پھر عید کی رونقیں گھروں کی چہار دیواری تک محدود رہیں، امسال بھی تقریباً وہی صورت حال ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

ویسے تو پورے سال ہی عالم اسلام میں عباد ت وریاضت کا سلسلہ جاری رہتا ہےاور مساجد و اسلامی مراکز اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کی حمد و ثنا کرنے والوں سے آباد رہتے ہیں، لیکن رمضان کا مقدس مہینہ آتے ہی پوری اسلامی دُنیا میں جیسے رنگ و نُور کی ایک بہار سی آ جاتی ہے ۔ نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ دُنیا کے ہر اُس خطّے میں، جہاں بھی مسلمان آباد ہیں، رُوح پرور اجتماعات اور خصوصی عبادت و ریاضت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

ماہِ مقدس کے دوران مساجد کی رونقیں دو بالا ہو جاتی ہیں۔ گھروں کے ساتھ ساتھ مساجد میں بھی رات دیر تک بچّوں، جوانوں اور بزرگوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔ سحری وافطار کا سماں تو ایسا قابلِ دید ہوتا ہے کہ سال بھر اس کا انتظار رہتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو عید الفطر کی شکل میں ایک ایسا تحفہ پیش کرتا ہے کہ جس کا بدل دنیا میں نہیں۔

عید الفطر کی خوشیاں اور رونقیں رمضان المبارک کی سعادتیں حاصل کرنے والے اللہ کے بندوں کے سوا بھلا کون محسوس کر سکتا ہے۔ لیکن پچھلے سال آئی کورونا کی وبا سے نہ صرف رمضان اور عید کی رونقیں غائب ہو گئی ہیں، بلکہ پوری دنیا کا نظام زندگی ہی تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ گزشتہ سال بھی ماہ مقدس لاک ڈاؤن اور مختلف بندشوں کے درمیان گزرا او پھر عید کی رونقیں بھی گھروں کی چہار دیواری کے اندر ہی محدود ہو کر رہ گئیں، امسال بھی تقریباً وہی صورت حال ہمارے سامنے ہے۔

رمضان المبارک بھی کرورونا وائرس کے خطرے اور پابندیوں کے درمیان گزرا اور اب عید پر بھی کورونا کا مہیب سایہ منڈلا رہا ہے۔ خاص طور پر وطن عزیز ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر کی ہلاکت خیزی نے ہر خاص عام کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ملک میں ہر روز لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس مہلک وبا کا شکار ہو رہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں اس جہان فانی کو الوداع کہہ رہے ہیں۔

دنیا کی ہر قوم سال میں کچھ ایام خوشی و مسرت کیلئے مختص کرتی ہے اور انسان کی طبیعت بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ آج کی اس تیز رفتار زندگی میںاپنے روز مرہ کے معمولات سے ہٹ کر ذہن و دل کو تمام فکر مندیوں سے خالی کرکے کچھ لمحے ہنسی خوشی کے ساتھ گزارے اور یادگار کے طور پر عید یا دیگر تہوار منائے۔ عید کے معنی لوٹنے اور واپس ہونے کے ہیں۔ یعنی ایسا خوشی کا دن جو بار بار لوٹ کر آئے اور فطر کے معنی روزہ ختم کرنے کے ہیں۔ یعنی عیدالفطر کے دن رمضان کے روزوں کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو روزہ اور عباداتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتا ہے، اس لئے اس دن کو ’عیدالفطر‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن کورونا کی وبا کے سبب گزشتہ سال کی طرح اس مرتبہ بھی رمضان المبارک ایسا گزرا ہے کہ ماہ صیام کی روایتی رونقیں پھینکی رہیں۔

ماہ مقدس میں ایک ماہ تک سختی کے ساتھ عبادت و ریاضت کا اہتمام کیا گیا۔ کچھ مقامات پر مساجد میں نمازیوں کی تعداد محدود رہی، تو کچھ جگہوں پر مساجد نمازیوں سے خالی رہیں۔ اسی درمیان ماہ مبارک کی خوبصورت ساعتیں آئیں اور چلی گئیں۔ شبِ قدر کے لمحات بھی ہوا کے تیز جھونکوں کی طرح رُخصت ہوگئے۔ اب نہ افطار کی خوشگوار محفلیں ہوں گی نہ سحری کی رونقیں۔

لاک ڈاؤن کے سبب مسجدیں خالی خالی رہیں۔ نماز، تلاوتِ کلام پاک کی دلکش آوازیں گھر میں ہوتی رہیں۔ اب عیدالفطر اس انداز سے آئی ہے کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دینا کے بہت سے مسلم ملکوںمیں عید کی نماز کے اجتماعات تک ممکن نہیں ہیں۔ کیوں کہ کورونا وائرس کے خوں آشام پنجوں نے دنیا کو یسا جکڑا ہے کہ وہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ انگنت انسانی جانوں کو لقمہ اجل بنا رہے ہیں۔

کورونا وائرس کی مہلک وبا سے بنی نوع انسان کو لاحق خطرات کے پیش نظر حکومتوں اور انتظامیہ نے جہاں مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عید الفطر کی خوشیاں اپنے گھروں پہ رہ کر منائیں تو وہیں متعدد و مذہبی رہنماؤں نے بھی ہدایت کی ہے کہ عیدالفطر کی خوشیاں مناتے ہوئے کورونا وائرس سے بچاؤ کی تمام احتیاطی تدابیر پر لازمی عمل درآمد کریں۔آج بہت سے لوگ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ اس بار عید بے رونق ہو گئی، عید کا رنگ پھیکا ہو گیا، جبکہ اسلامی تعلیمات کی روسے دیکھیں تو یہ عید عیدِ بندگی ہے۔

بھلا یہ کیسے پھینکی ہو سکتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بندشوں کے سبب ہم ایک دوسرے سے گلے نہیں مل سکتے، لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں نہیں بانٹ سکتے ۔ٹکنالوجی کے اس دور میں بہت سے ایسے وسائل اور ذرائع ہیں، بس ہمیں اپنے اطراف میں نظر ڈال کر یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سا ذریعہ استعمال کیا جائے کہ ہم ایک دوسرے کا حال دریافت کر سکیںاور ضرورت مندوں تک ان کی ضرورت کا سامان پہنچا سکیں، صلہ رحم کر سکیں ۔

درپیش حالات کو اگر پیش نظر رکھیں تو ہم جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو ویڈیو کال کے ذریعے عید کی مبارکباد دے سکتے ہیں، ایک دوسرے کی آرائش و زیبائش کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ علاوہ از ایں عید کے مقصد و ہدف پر نظر ڈالیں اور فلسفہ عید کو سمجھیں تو ہم متوجہ ہوںگے کہ ہرگز یہ عید بھی پھیکی نہیں ہے اور وہ عید کیسے پھینکی ہو سکتی ہے جس میں ہم نے تمام تر وہ اعمال انجام دیئے ہوں، جس کے بارے میں ہم سے شریعت نے کہا ہے۔

ہاں! یہ بات بھی یاد رہے کہ جب عید الفطر کی خوشیاں اپنوں کے درمیان بانٹیں تو ان کو ہرگز نہ بھولیں جو ابھی چند دن قبل تک اپنوں میں تھے ،لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ ان کو بھی نظر انداز نہ کریں کہ جو لاک ڈاؤن اورمعاشی سرگرمیوں کا پہیہ کسی حد تک جام ہونے کی وجہ سے ہمارے اور آپ کے ’منتظر‘ ہیں۔ کورونا کی اس وبا میں ہم ان لوگوں کے کام آسکیں جنہیں ہماری ضرورت ہے، اس سے بڑھ کر ہمارے لئے عید کیا ہوگی۔ ہمارے لئے یہی بڑی عید ہے کہ ہم خلق خدا کے کام آسکیں، کسی کا سہارا بن سکیں، کسی کا ہاتھ تھام سکیں ۔

اگر سال کے بارہ مہینے نمازوں کی رونقیں یوں ہی باقی رہیں، تلاوتِ قرآن پاک کی بلند آوازیں دھیمی نہ ہو اور اسی طرح مسلمان اپنے نفس پر قابو رکھیں اور برائیوں سے بجتے ہوئے نیکیوں کو اپنائیں اوربارگاہ الہی میںاپنا سر تسلیم خم کریں تو ان شاء اللہ مسلمان ہر مقام پر سرخرو اور کامیاب و کامران ہوں گے اور تمام آفات و بلاؤں اور وباؤں سے محفوظ رہیں گے۔

لاک ڈاؤن کے سبب ہم بہت سے حالات سے نبردآزما ہیں۔ جیسے کورونا وائرس کا مہیب سایہ۔ آئیے ، ہم عہد کریں کہ اللہ رب العزت نے جس طرح موجودہ حالات میں ہمیںگھر پر عبادت کرنے کا موقع دیا ، آئندہ ہم کبھی اپنے گھروں کو عبادات سے ویران نہیںہونے دیں گے، لاک ڈاؤن کے تحت جس طرح ہم نے اپنے بھائیوں اور پڑوسیوں کا خیال رکھا ،آگے بھی خیال رکھیں گے۔

جیسے ہی حالات سازگار ہوں گے ہم پہلے کی طرح مسجدوں کو آباد کریں گے، نیز اپنے بچوں کی دینی اور دنیاوی علوم کے حصول کی فکر کریں گے۔ اس ماہ مقدس کے طفیل اگر ہم اللہ کے حضورکورونا کی اس وبا سے حفاظت اور مکمل نجات کے لئے گڑگڑائیں تو ان شاء اللہ ضرور ہماری دعائیں قبول ہوں گی ۔ ہم کوشش کریں کہ اللہ کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ایمان کی پختگی کے ساتھ ساتھ ہم اپنے  اخلاق و اطوار اور اپنے معاملات کو شریعت کے مطابق کر لیں۔ اللہ پر مکمل یقین ہے کہ وہ ہمیں اس آزمائش سے ضرور نکالے گا اور رمضان و عید کی رونقوں سے ہم ایک بار پھرمستفیض ہو سکیں گے۔

نہ گل کھلے ہیں، نہ اُن سے ملے، نہ مے پی ہے

عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے​

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوج کے ساتھ تصادم، 240 سے زائد فلسطینی زخمی

0
ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوج کے ساتھ تصادم، 240 سے زائد فلسطینی زخمی
ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوج کے ساتھ تصادم، 240 سے زائد فلسطینی زخمی

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق اسرائیلی فوج کے ساتھ جدوجہد میں سات سے 10 مئی کے درمیان 1100 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 915 مشرقی یروشلم اور 200 سے زیادہ فلسطینی ویسٹ بینک میں زخمی ہوئے ہیں۔

غزہ: ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جد و جہد میں کم از کم 245 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

ریڈ کریسینٹ نے یہ اطلاع دی ہے۔ ریڈ کریسینٹ کے مطابق منگل کو ہوئے تصادم میں کچھ لوگ ربر کی گولیوں اور آنسو گیس سے متاثر ہوئے۔ مشرقی یروشلم خطے میں کئی دنوں سے تصادم جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق اسرائیل کے ساتھ جدوجہد میں سات سے 10 مئی کے درمیان 1100 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 915 مشرقی یروشلم اور 200 سے زیادہ فلسطینی ویسٹ بینک میں زخمی ہوئے ہیں۔