بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 359

غزہ پٹی کی جانب سے داغے گئے اسرائیل میں 1500 راکٹ: اسرائیلی فوج

0
غزہ پٹی کی جانب سے داغے گئے اسرائیل میں 1500 راکٹ: اسرائیلی فوج
غزہ پٹی کی جانب سے داغے گئے اسرائیل میں 1500 راکٹ: اسرائیلی فوج

اسرائیلی فوج نے بتایا کہ غزہ پٹی کی جانب سے اسرائیل میں تقریباً 1500 راکٹ داغے گئے۔ ان راکٹوں میں سے سینکڑوں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کردیئے۔

یروشلم: اسرائیل نے کہا ہے کہ کشیدگی بڑھنے کے بعد سے غزہ پٹی کی جانب سے اسرائیل میں تقریباً 1500 راکٹ داغے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے بدھ کی تاخیر شب بیان جاری کرکے یہ اطلاع دی۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ غزہ پٹی کی جانب سے اسرائیل میں تقریباً 1500 راکٹ داغے گئے۔ ان راکٹوں میں سے سینکڑوں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کردیئے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’’غزہ پٹی کی جانب سے اسرائیلی سرحد پر اب تک تقریباً 1500 راکٹ داغے گئے ہیں، جن میں سے تقریباً 300 ناکام رہے اور غزہ پٹی میں ہی گر گئے۔ آئرن ڈوم سسٹم نے سینکڑوں راکٹ کو تباہ کردیا ہے‘‘۔

غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں میں فلسطینی اموات کی تعداد 67

0
غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں میں فلسطینی اموات کی تعداد 67
غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں میں فلسطینی اموات کی تعداد 67

وزارت کے مطابق غزہ پٹی پر اسرائیل کے فضائی حملے میں 388 لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں 115 بچے اور 50 خواتین شامل ہیں۔ مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 67 ہو گئی ہے۔

غزہ: غزہ پٹی پر اسرائیل کے ہوائی حملوں میں مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 67 ہو گئی ہے۔ غزہ کے وزیر صحت نے جمعرات کو اطلاع دی۔

وزارت نے دعوی کیا کہ مرنے والوں میں 17 بچے شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق اسرائیل کے فضائی حملے میں 388 لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں 115 بچے اور 50 خواتین شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس نے پیر کی رات سے ایک دوسرے پر سیکڑوں راکٹ داغے ہیں۔

رمضان و عید ​کرونا وبا کے سائے میں مگر خوشیاں ہیں کہ رکتی نہیں

0
رمضان و عید ​کرونا وبا کے سائے میں مگر خوشیاں ہیں کہ رکتی نہیں
رمضان و عید ​کرونا وبا کے سائے میں مگر خوشیاں ہیں کہ رکتی نہیں

پچھلا رمضان بھی مختلف بندشوں کے درمیان گزرا او پھر عید کی رونقیں گھروں کی چہار دیواری تک محدود رہیں، امسال بھی تقریباً وہی صورت حال ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

ویسے تو پورے سال ہی عالم اسلام میں عباد ت وریاضت کا سلسلہ جاری رہتا ہےاور مساجد و اسلامی مراکز اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کی حمد و ثنا کرنے والوں سے آباد رہتے ہیں، لیکن رمضان کا مقدس مہینہ آتے ہی پوری اسلامی دُنیا میں جیسے رنگ و نُور کی ایک بہار سی آ جاتی ہے ۔ نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ دُنیا کے ہر اُس خطّے میں، جہاں بھی مسلمان آباد ہیں، رُوح پرور اجتماعات اور خصوصی عبادت و ریاضت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

ماہِ مقدس کے دوران مساجد کی رونقیں دو بالا ہو جاتی ہیں۔ گھروں کے ساتھ ساتھ مساجد میں بھی رات دیر تک بچّوں، جوانوں اور بزرگوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔ سحری وافطار کا سماں تو ایسا قابلِ دید ہوتا ہے کہ سال بھر اس کا انتظار رہتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو عید الفطر کی شکل میں ایک ایسا تحفہ پیش کرتا ہے کہ جس کا بدل دنیا میں نہیں۔

عید الفطر کی خوشیاں اور رونقیں رمضان المبارک کی سعادتیں حاصل کرنے والے اللہ کے بندوں کے سوا بھلا کون محسوس کر سکتا ہے۔ لیکن پچھلے سال آئی کورونا کی وبا سے نہ صرف رمضان اور عید کی رونقیں غائب ہو گئی ہیں، بلکہ پوری دنیا کا نظام زندگی ہی تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ گزشتہ سال بھی ماہ مقدس لاک ڈاؤن اور مختلف بندشوں کے درمیان گزرا او پھر عید کی رونقیں بھی گھروں کی چہار دیواری کے اندر ہی محدود ہو کر رہ گئیں، امسال بھی تقریباً وہی صورت حال ہمارے سامنے ہے۔

رمضان المبارک بھی کرورونا وائرس کے خطرے اور پابندیوں کے درمیان گزرا اور اب عید پر بھی کورونا کا مہیب سایہ منڈلا رہا ہے۔ خاص طور پر وطن عزیز ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر کی ہلاکت خیزی نے ہر خاص عام کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ملک میں ہر روز لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس مہلک وبا کا شکار ہو رہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں اس جہان فانی کو الوداع کہہ رہے ہیں۔

دنیا کی ہر قوم سال میں کچھ ایام خوشی و مسرت کیلئے مختص کرتی ہے اور انسان کی طبیعت بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ آج کی اس تیز رفتار زندگی میںاپنے روز مرہ کے معمولات سے ہٹ کر ذہن و دل کو تمام فکر مندیوں سے خالی کرکے کچھ لمحے ہنسی خوشی کے ساتھ گزارے اور یادگار کے طور پر عید یا دیگر تہوار منائے۔ عید کے معنی لوٹنے اور واپس ہونے کے ہیں۔ یعنی ایسا خوشی کا دن جو بار بار لوٹ کر آئے اور فطر کے معنی روزہ ختم کرنے کے ہیں۔ یعنی عیدالفطر کے دن رمضان کے روزوں کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو روزہ اور عباداتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتا ہے، اس لئے اس دن کو ’عیدالفطر‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن کورونا کی وبا کے سبب گزشتہ سال کی طرح اس مرتبہ بھی رمضان المبارک ایسا گزرا ہے کہ ماہ صیام کی روایتی رونقیں پھینکی رہیں۔

ماہ مقدس میں ایک ماہ تک سختی کے ساتھ عبادت و ریاضت کا اہتمام کیا گیا۔ کچھ مقامات پر مساجد میں نمازیوں کی تعداد محدود رہی، تو کچھ جگہوں پر مساجد نمازیوں سے خالی رہیں۔ اسی درمیان ماہ مبارک کی خوبصورت ساعتیں آئیں اور چلی گئیں۔ شبِ قدر کے لمحات بھی ہوا کے تیز جھونکوں کی طرح رُخصت ہوگئے۔ اب نہ افطار کی خوشگوار محفلیں ہوں گی نہ سحری کی رونقیں۔

لاک ڈاؤن کے سبب مسجدیں خالی خالی رہیں۔ نماز، تلاوتِ کلام پاک کی دلکش آوازیں گھر میں ہوتی رہیں۔ اب عیدالفطر اس انداز سے آئی ہے کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دینا کے بہت سے مسلم ملکوںمیں عید کی نماز کے اجتماعات تک ممکن نہیں ہیں۔ کیوں کہ کورونا وائرس کے خوں آشام پنجوں نے دنیا کو یسا جکڑا ہے کہ وہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ انگنت انسانی جانوں کو لقمہ اجل بنا رہے ہیں۔

کورونا وائرس کی مہلک وبا سے بنی نوع انسان کو لاحق خطرات کے پیش نظر حکومتوں اور انتظامیہ نے جہاں مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عید الفطر کی خوشیاں اپنے گھروں پہ رہ کر منائیں تو وہیں متعدد و مذہبی رہنماؤں نے بھی ہدایت کی ہے کہ عیدالفطر کی خوشیاں مناتے ہوئے کورونا وائرس سے بچاؤ کی تمام احتیاطی تدابیر پر لازمی عمل درآمد کریں۔آج بہت سے لوگ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ اس بار عید بے رونق ہو گئی، عید کا رنگ پھیکا ہو گیا، جبکہ اسلامی تعلیمات کی روسے دیکھیں تو یہ عید عیدِ بندگی ہے۔

بھلا یہ کیسے پھینکی ہو سکتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بندشوں کے سبب ہم ایک دوسرے سے گلے نہیں مل سکتے، لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں نہیں بانٹ سکتے ۔ٹکنالوجی کے اس دور میں بہت سے ایسے وسائل اور ذرائع ہیں، بس ہمیں اپنے اطراف میں نظر ڈال کر یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سا ذریعہ استعمال کیا جائے کہ ہم ایک دوسرے کا حال دریافت کر سکیںاور ضرورت مندوں تک ان کی ضرورت کا سامان پہنچا سکیں، صلہ رحم کر سکیں ۔

درپیش حالات کو اگر پیش نظر رکھیں تو ہم جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو ویڈیو کال کے ذریعے عید کی مبارکباد دے سکتے ہیں، ایک دوسرے کی آرائش و زیبائش کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ علاوہ از ایں عید کے مقصد و ہدف پر نظر ڈالیں اور فلسفہ عید کو سمجھیں تو ہم متوجہ ہوںگے کہ ہرگز یہ عید بھی پھیکی نہیں ہے اور وہ عید کیسے پھینکی ہو سکتی ہے جس میں ہم نے تمام تر وہ اعمال انجام دیئے ہوں، جس کے بارے میں ہم سے شریعت نے کہا ہے۔

ہاں! یہ بات بھی یاد رہے کہ جب عید الفطر کی خوشیاں اپنوں کے درمیان بانٹیں تو ان کو ہرگز نہ بھولیں جو ابھی چند دن قبل تک اپنوں میں تھے ،لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ ان کو بھی نظر انداز نہ کریں کہ جو لاک ڈاؤن اورمعاشی سرگرمیوں کا پہیہ کسی حد تک جام ہونے کی وجہ سے ہمارے اور آپ کے ’منتظر‘ ہیں۔ کورونا کی اس وبا میں ہم ان لوگوں کے کام آسکیں جنہیں ہماری ضرورت ہے، اس سے بڑھ کر ہمارے لئے عید کیا ہوگی۔ ہمارے لئے یہی بڑی عید ہے کہ ہم خلق خدا کے کام آسکیں، کسی کا سہارا بن سکیں، کسی کا ہاتھ تھام سکیں ۔

اگر سال کے بارہ مہینے نمازوں کی رونقیں یوں ہی باقی رہیں، تلاوتِ قرآن پاک کی بلند آوازیں دھیمی نہ ہو اور اسی طرح مسلمان اپنے نفس پر قابو رکھیں اور برائیوں سے بجتے ہوئے نیکیوں کو اپنائیں اوربارگاہ الہی میںاپنا سر تسلیم خم کریں تو ان شاء اللہ مسلمان ہر مقام پر سرخرو اور کامیاب و کامران ہوں گے اور تمام آفات و بلاؤں اور وباؤں سے محفوظ رہیں گے۔

لاک ڈاؤن کے سبب ہم بہت سے حالات سے نبردآزما ہیں۔ جیسے کورونا وائرس کا مہیب سایہ۔ آئیے ، ہم عہد کریں کہ اللہ رب العزت نے جس طرح موجودہ حالات میں ہمیںگھر پر عبادت کرنے کا موقع دیا ، آئندہ ہم کبھی اپنے گھروں کو عبادات سے ویران نہیںہونے دیں گے، لاک ڈاؤن کے تحت جس طرح ہم نے اپنے بھائیوں اور پڑوسیوں کا خیال رکھا ،آگے بھی خیال رکھیں گے۔

جیسے ہی حالات سازگار ہوں گے ہم پہلے کی طرح مسجدوں کو آباد کریں گے، نیز اپنے بچوں کی دینی اور دنیاوی علوم کے حصول کی فکر کریں گے۔ اس ماہ مقدس کے طفیل اگر ہم اللہ کے حضورکورونا کی اس وبا سے حفاظت اور مکمل نجات کے لئے گڑگڑائیں تو ان شاء اللہ ضرور ہماری دعائیں قبول ہوں گی ۔ ہم کوشش کریں کہ اللہ کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ایمان کی پختگی کے ساتھ ساتھ ہم اپنے  اخلاق و اطوار اور اپنے معاملات کو شریعت کے مطابق کر لیں۔ اللہ پر مکمل یقین ہے کہ وہ ہمیں اس آزمائش سے ضرور نکالے گا اور رمضان و عید کی رونقوں سے ہم ایک بار پھرمستفیض ہو سکیں گے۔

نہ گل کھلے ہیں، نہ اُن سے ملے، نہ مے پی ہے

عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے​

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوج کے ساتھ تصادم، 240 سے زائد فلسطینی زخمی

0
ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوج کے ساتھ تصادم، 240 سے زائد فلسطینی زخمی
ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوج کے ساتھ تصادم، 240 سے زائد فلسطینی زخمی

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق اسرائیلی فوج کے ساتھ جدوجہد میں سات سے 10 مئی کے درمیان 1100 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 915 مشرقی یروشلم اور 200 سے زیادہ فلسطینی ویسٹ بینک میں زخمی ہوئے ہیں۔

غزہ: ویسٹ بینک میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جد و جہد میں کم از کم 245 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

ریڈ کریسینٹ نے یہ اطلاع دی ہے۔ ریڈ کریسینٹ کے مطابق منگل کو ہوئے تصادم میں کچھ لوگ ربر کی گولیوں اور آنسو گیس سے متاثر ہوئے۔ مشرقی یروشلم خطے میں کئی دنوں سے تصادم جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق اسرائیل کے ساتھ جدوجہد میں سات سے 10 مئی کے درمیان 1100 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 915 مشرقی یروشلم اور 200 سے زیادہ فلسطینی ویسٹ بینک میں زخمی ہوئے ہیں۔

مراٹھواڑہ: کورونا کے 4717 نئے کیسز، 128 اموت

0
مراٹھواڑہ: کورونا کے 4717 نئے کیسز، 128 اموت
مراٹھواڑہ: کورونا کے 4717 نئے کیسز، 128 اموت

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران، مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ خطے میں کوڈ 19 کے 4717 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 128 مریضوں کی موت ہوگئی ہے۔

اورنگ آباد: مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ خطے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران، کووڈ 19 کے 4717 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 128 مریضوں کی موت ہوئی ہے۔

صحت کے عہدیداروں نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی۔

تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز سے یونیوارتا کی جانب سے یکجا کی گئیں تفصیلات کے مطابق خطے کے 8 ضلعوں میں سے لاتور سب سے زیادہ متاثر رہا۔ یہاں اس دوران، کورونا کے 592 نئے معاملے سامنے آئے اور 30 ​​مریضوں کی موت ہوگئی۔ اس کے بعد، بیڑ میں 1258 نئے کیسز اور 21 اموات، پربھنی میں 613 نئے کیسز اور 18 کی موت، اورنگ آباد میں 748 نئے کیسز اور 17 اموات، نانڈیڑ میں 290 نئے کیسز اور 14 اموات، عثمان آباد میں 676 نئے کیسز اور 11 اموات، جالنا میں 374 نئے معاملے اور 10 اموات اور ہنگولی میں 140 نئے معاملے اور سات مریض فوت ہوئے۔

پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ جاری، دہلی اور کولکاتہ میں پٹرول کے دام 92 روپے سے متجاوز

0
پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ جاری، دہلی اور کولکاتہ میں پٹرول کے دام 92 روپے سے متجاوز
پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ جاری، دہلی اور کولکاتہ میں پٹرول کے دام 92 روپے سے متجاوز

ملک کے چار بڑے میٹرو شہروں میں آج پٹرول کے دام میں 25 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 27 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ دہلی اور کولکتہ میں، پہلی بار پٹرول کی قیمت 92 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ ممبئی میں ڈیزل بھی 90 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔

نئی دہلی: ملک کے چار بڑے میٹرو شہروں میں آج پٹرول کے دام میں 25 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 27 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

دہلی اور کولکتہ میں پہلی بار پٹرول کے دام 92 روپے فی لیٹر کو عبور کر چکا ہے۔ ممبئی میں ڈیزل بھی 90 روپے فی لیٹر پہنچ گیا ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق قومی دارالحکومت دہلی میں آج پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 25 – 25 پیسے کا اضافہ ہونے سے پٹرول 92.05 اور ڈیزل 82.61 روپے فی لیٹر ہوگئیں۔ دہلی میں پٹرول پہلی بار 92 روپے سے متجاوز کر گیا ہے۔

گزشتہ چار مئی سے اب تک دہلی میں پٹرول 1.65 روپے اور ڈیزل 1.88 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔ ان 9 دنوں میں سے 7 دن تک قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ دو دن مستحکم رہی ہیں۔ ممبئی اور کولکتہ میں پٹرول کی قیمت میں 24 – 24 پیسے اور چنئی میں 22 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ ممبئی میں ایک لیٹر پٹرول 98.36 روپے، چنئی میں 93.84 روپے اور کولکتہ میں 92.16 روپے ہوگیا۔

ممبئی میں ڈیزل کی قیمت 27 پیسے بڑھ کر 89.75 روپے، چنئی میں 24 پیسے بڑھ کر 87.49 روپے اور کولکتہ میں 25 پیسے کا اضافہ ہونے سے 85.45 روپے ہوگئی ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ہر روز صبح چھ بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔

ملک کے چار میٹرو شہروں میں آج پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں حسب ذیل تھیں:

شہر—— پٹرول——— ڈیزل

دہلی ——   92.05 —— 82.61
ممبئی —— 98.36 —— 89.75
چنئی ——  93.84 ——87.49
کولکاتا —— 92.16 —— 85.45

مہاراج گنج: باراتیوں سے بھری کار حادثہ کا شکار، پانچ افراد کی موقع پر ہی موت، تین زخمی

0
مہاراج گنج: باراتیوں سے بھری کار حادثہ کا شکار، پانچ افراد کی موقع پر ہی موت، تین زخمی
مہاراج گنج: باراتیوں سے بھری کار حادثہ کا شکار، پانچ افراد کی موقع پر ہی موت، تین زخمی

پولیس کے مطابق مہاراج گنج کے فریندا علاقے کے لیجار مہادیوا ٹولا لیلا چھاپر سے ایک بارات کیمپئر گنج علاقے کے ایک گاؤں میں جا رہی تھی۔ رات 12 بجے کے بعد کہریا کے پاس فریندا کی جانب سے آنے والے ٹرک سے کار کی زور دار ٹکر ہو گئی۔

مہاراج گنج: اترپردیش میں مہاراج گنج کے فریندا – مہاراج گنج روٹ پر کرہیہ کے پاس ہائی وے پر پیر کی دیر رات باراتیوں سے بھری کار کی سامنے سے آنے والے ٹرک سے ٹکر ہو گئی۔ حادثے میں کار سوار پانچ باراتیوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی اور سنگین طور پر تین افراد زخمی ہو گئے۔

زخمیوں کی حالت سنگین ہونے کے پیش نظر گورکھپور میڈیکل کالج بھیج دیا گیا۔

پولیس نے آج یہاں کہا کہ مہاراج گنج کے فریندا علاقے کے لیجار مہادیوا ٹولا لیلا چھاپر سے ایک بارات کیمپئر گنج علاقے کے ایک گاؤں میں جا رہی تھی۔ رات 12 بجے کے بعد کہریا کے پاس فریندا کی جانب سے آنے والے ٹرک سے کار کی زور دار ٹکر ہو گئی۔

حادثے میں متھلیش، سُگریو، سُدیش کمار اور راجو کی موقع پر موت ہو گئی۔ وہیں ابھیشیک نے اسپتال لے جاتے وقت راستے میں دم توڑ دیا۔ شیلیش، کرشن مُراری اور ایک دیگر کو ایک اسپتال میں داخل کروایا گیا ہے۔

ہما قریشی دہلی میں 100 بیڈ کا کووڈ اسپتال بنوائیں گی، عوام سے کی ڈونیٹ کرنے کی اپیل

0
ہما قریشی دہلی میں 100 بیڈ کا کووڈ اسپتال بنوائیں گی، عوام سے کی ڈونیٹ کرنے کی اپیل
ہما قریشی دہلی میں 100 بیڈ کا کووڈ اسپتال بنوائیں گی، عوام سے کی ڈونیٹ کرنے کی اپیل

بالی ووڈ اداکارہ ہما قریشی کورونا وبا کے دوران لوگوں کی مدد کے لئے آگے آئیں ہیں اور وہ دہلی میں 100 بستروں پر مشتمل ایک کوڈ ہسپتال بنانے جا رہی ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو شیئر کرکے عوام سے ڈونیٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ممبئی: بالی وڈ اداکارہ ہما قریشی کورونا وبا کے وقت عوام کی مدد کے لیے آگے آئی ہیں اور وہ دہلی میں 100 بیڈ کا کووڈ اسپتال بنوانے جا رہی ہیں۔

کورونا وبا سے پورے ملک میں ہاہاکار مچا ہوا ہے۔ اس مشکل وقت میں بالی ووڈ اور ٹی وی انڈسٹری کے فنکار مدد کے لیے آگے آ رہے ہیں۔ ہما قریشی بھی عوام کی مدد کے لیے آگے آئی ہیں۔ ہما این جی او کے ساتھ مل کر دہلی میں 100 بیڈ کی کووڈ میڈیکل فیسیلٹی بنوائیں گی۔

ہما قریشی نے گلوبل چائلڈ رائٹس آرگنائزیشن ’سیو دی چلڈرن‘ کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔ اس ادارے کے ساتھ ہما دہلی میں ایک عارضی اسپتال بنانے میں سرگرم ہیں۔  اس عارضی اسپتال میں 100 بیڈ اور ایک آکسیجن پلانٹ ہوگا۔ اس پروجیکٹ میں گھر پر علاج کروانے کووڈ-19 مریضوں کے لیے میڈیکل کٹ بھی دیے جائیں گے۔ اس میں ڈاکٹر کا کنسلٹیشن اور سائیکو سوشل تھیرپسٹ شامل ہے، جس سے مریض پوری طرح صحتیاب ہو سکے۔

عوام سے ڈونیٹ کرنے کی اپیل

ہما قریشی نے ایک ویڈیو شیئر کرکے عوام سے ڈونیٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ویڈیو میں ہما نے کہا، ’آپ سبھی کی طرح اس وبا کی دوسری لہر سے میں بھی تکلیف میں ہوں اور خوفزدہ ہوں۔ اب یہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کا وقت ہے۔ میں نے ’سیو دی چلڈرن‘ سے ہاتھ ملایا ہے۔ جیسا کہ آپ سبھی کو معلوم ہے کہ دہلی میں میڈیکل سسٹم کے اوپر بہت بوجھ ہے۔ ہمارے دارالحکومت کو مدد کی ضرورت ہے۔

گذشتہ کچھ ہفتوں میں، ہم ’سیو دی چلڈرن‘ کے ساتھ مل کر خاص پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ ہم شہر میں 100 بیڈ کی ایک کووڈ میڈیکل فیسیلِٹی بنانے کا پلان کر رہے ہیں۔ اس ایمرجنسی میڈیکل فیسیلٹی میں تجربہ کار میڈیکل پروفیشنلس، دوائیں اور اس کا اپنا آکسیجن پلانٹ ہوگا جو مریض گھر پر ہیں، انھیں ہم ایک کووڈ کیئر کٹ کے ساتھ ٹیلی کنسلٹیشن اور کافی کچھ دیں گے۔ میں اور میرا خاندان ڈونیٹ کر چکا ہے لیکن ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔ ہر تعاون ایک زندگی بچائے گا اور کوئی ڈونیشن چھوٹی نہیں ہے۔ اس لیے پلیز، میں آپ سے ہماری اور ایک دوسرے کی مدد کی اپیل کرتی ہوں‘۔

اننت ناگ تصادم: 3 دہشت گرد ہلاک، آپریشن جاری

0
اننت ناگ تصادم: 3 دہشت گرد ہلاک، آپریشن جاری
اننت ناگ تصادم: 3 دہشت گرد ہلاک، آپریشن جاری

جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ضلع کوکرناگ کے علاقے ویلو گاؤں میں دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین ایک جھڑپ میں تین نامعلوم دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے کوکرناگ علاقے کے ویلو گاؤں میں منگل کی صبح دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شروع ہونے والے تصادم میں 3 عدم شناخت دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ضلع اننت ناگ کے کوکرناگ علاقے کے ویلو گاؤں میں منگل کی صبح شروع ہونے والے تصادم میں تین عدم شناخت دہشت گرد یلاک ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تلاشی آپریشن ہنوز جاری ہے۔

قبل ازیں پولیس ذرائع نے بتایا کہ ضلع اننت ناگ کے ویلو گاؤں میں منگل کی علی الصبح دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم چھڑ گیا ہے۔

برکینا فاسو میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران 20 دہشت گرد ہلاک، چار کیمپ تباہ

0
برکینا فاسو میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران 20 دہشت گرد ہلاک، چار کیمپ تباہ
برکینا فاسو میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران 20 دہشت گرد ہلاک، چار کیمپ تباہ

برکینا فاسو میں پانچ مئی سے چلائےجا رہے انسداد دہشت گردی آپریشن میں تقریباََ 20 دہشت گرد مارے گئے ہیں اور ان کے چار کیمپ تباہ ہوگئے ہیں۔

واگاڈوگو: برکینا فاسو میں انسداد دہشت گردی مہم کے تحت تقریباََ 20 دہشت گرد مارے گئے اور 4 دہشت گرد کیمپ تباہ ہو گئے۔

برکینا فاسو کی سرکاری نیوز ایجنسی اے آئی بی نے پیر کے روز یہ اطلا ع دی۔  ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پانچ مئی سے چلائےجا رہے انسداد دہشت گردی آپریشن میں تقریباََ 20 دہشت گرد مارے گئے ہیں اور ان کے چار کیمپ تباہ ہوگئے ہیں۔

فوج نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف ملک کے شمالی اور ساحلی خطے میں ہاؤنے، جس کا مطلب مقامی زبان میں وقار ہے، نام سے آپریش چلایا جا رہا ہے۔  رپورٹ میں بتایا گیا ’’تقریبا 20 دہشت گرد مارے گئے، چار کیمپ تباہ اور مختلف آلات ضبط کئے گئے ہیں‘‘۔