جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 357

حماس کا اسرائیلی دو ہوائی اڈوں پر راکٹ فائر کرنے کا دعوی

0
حماس کا اسرائیلی دو ہوائی اڈوں پر راکٹ فائر کرنے کا دعوی
حماس کا اسرائیلی دو ہوائی اڈوں پر راکٹ فائر کرنے کا دعوی

غزہ کی پٹی میں، حماس کے عسکری ونگ اعزازالدین القسام بریگیڈ نے اسرائیلی دو ہوائی اڈوں پر راکٹ فائر کرنے کا دعوی کیا ہے۔ اس وقت اسرائیل اور فلسطین کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

غزہ پٹی: غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکری ونگ اعزازالدین القسام بریگیڈ نے اسرائیل کے دو ہوائی اڈوں پر راکٹ فائر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

القسام بریگیڈ کے مطابق یہ حملے ’ہیٹزیرم‘ اور ’تیلنوف‘ کے ہوائی اڈوں پر کئے گئے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس وقت اسرائیل اور فلسطین کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ دونوں ممالک کے مابین جاری تنازع میں اب تک 242 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 67 بچے بھی شامل ہیں اور تقریب 1500 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسی دوران اسرائیل میں 12 افراد کی ہلاکت اور 50 سے زائد دیگر کے شدید زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ نے حماس کے ٹیکنیکل آفس کو دھماکے سے اڑایا

0
اسرائیلی فضائیہ نے حماس کے ٹیکنیکل آفس کو دھماکے سے اڑایا
اسرائیلی فضائیہ نے حماس کے ٹیکنیکل آفس کو دھماکے سے اڑایا

آئی ڈی ایف نے ٹویٹ کیا کہ کچھ وقت پہلے ہی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے حماس کے ٹیکنیکل آفس کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا اور یہ کاروائی جابلیہ علاقے میں کی گئی ہے۔

تل ابیب: اسرائیلی فضائیہ نے شمالی غزہ پٹی میں حماس کے ٹیکنیکل آفس کو بمباری کرکے تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی۔

آئی ڈی ایف نے ٹویٹ کیا کہ کچھ وقت پہلے ہی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے حماس کے ٹیکنیکل آفس کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا اور یہ کاروائی جابلیہ علاقے میں کی گئی ہے۔

غور طلب ہے کہ مشرقی یروشلم میں قدیم زمانے سے آباد فلسطینی خاندانوں کو مںصوبہ بند ڈھنگ سے ہٹانے کے سلسلے میں اسرائیل اور فلسطین کے مابین حالیہ برسوں میں زبردست جنگ ہوئی ہے۔ جس میں دونوں جانب کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ پٹی سے اسرائیلی علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے سیکڑوں راکٹ داغے تھے اور اسرائیلی فورسز نے بھی اس کا سخت جواب دیا ہے۔

گذشتہ کئی دنوں سے جاری ان جھڑپوں میں فلسطین میں 61 بچوں سمیت 200 سے زائد افراد کی موت ہوئی اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل میں 10 افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے اور 50 سے زائد افراد سنگین طور پر زخمی ہیں۔

کورونا کی تیسری لہر کے خدشہ کے پیش نظر کیجریوال نے طلب کی اعلی سطح کی میٹنگ

0
کورونا کی تیسری لہر کے خدشہ کے پیش نظر کیجریوال نے طلب کی اعلی سطح کی میٹنگ
کورونا کی تیسری لہر کے خدشہ کے پیش نظر کیجریوال نے طلب کی اعلی سطح کی میٹنگ

دہلی سمیت ملک بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے بعد، تیسری لہر کے آنے کا بھی خدشہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ تیسری لہر کا اثر بچوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس کے پیش نظر، مسٹر کیجریوال کی سربراہی میں دہلی حکومت نے اپنی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔

نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی سمیت پورے ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے بعد، تیسری لہر کے آنے کا بھی خدشہ ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ تیسری لہر کا اثر بچوں پر بھی پڑ سکتا ہے اس کے پیش نظر مسٹر کیجریوال کی سربراہی میں دہلی حکومت نے اپنی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔

اسی ضمن میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج کورونا وائرس کی تیسری لہر کے خدشے کے پیش نظر ایک اعلی سطح کی میٹنگ کا انعقاد کیا اور اس کی تیاریوں سے متعلق اہم رہنما ہدایات پیش کیے۔

مسٹر کیجریوال نے کہا کہ اگر کورونا وائرس کی تیسری لہر آتی ہے تو ہمیں اس سے لڑنے کے لئے پہلے سے تیار رہنا ہوگا۔ بچوں کو تیسری لہر سے بچانے کے لئے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔ اسپتالوں میں بستر، آکسیجن اور دواؤں کا پہلے سے بندوبست کرنا پڑے گا۔ اس کے لئے حکام کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی اور دستیابی کے حوالے سے ترجیحی بنیاد پر کام کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ دہلی میں لگائے جانے والے تمام آکسیجن پلانٹوں کے کاموں کو بروقت مکمل کیا جائے اور اسٹوریج کے انتظامات کو بھی یقینی بنایا جائے۔ نائب وزیر اعلی اور چیف سکریٹری سمیت محکمہ صحت کے اعلی عہدیدار اس اعلی سطح کی میٹنگ میں موجود تھے۔

اگر کورونا کی تیسری لہر آتی ہے تو اس سے کیسے نمٹا جائے گا؟

اس میٹنگ میں یہ تبادلہ خیال کیا گیا کہ اگر کورونا کی تیسری لہر آتی ہے تو اس سے کیسے نمٹا جائے گا؟ بچوں پر تیسری لہر کے اثرات کے پیش نظر بہت سی تیاریاں کرنی ہوں گی۔ اس کے لئے اسپتالوں میں بستروں کا انتظام ضروری ہے۔ اس پر غور کیا گیا کہ دہلی میں تیسری لہر کے دوران کتنے معاملے سامنے آنے کا امکان ہے اور اس کے لئے کتنے بستروں کی ضرورت ہوگی؟ حکام کے تخمینے کے مطابق تیسری لہر کے دوران تقریبا 40 ہزار بستروں کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اس کے لئے ہمیں پہلے سے تیار رہنا ہوگا۔ ان 40 ہزار بیڈ میں سے 10 ہزار کے قریب آئی سی یو بیڈ ہونے چاہئیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تیسری لہر کے لئے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔ ٹاسک فورس میں ہندوستانی انتظامی خدمات (آئی اے ایس) کے سینئر افسران سمیت مختلف شعبوں کے ماہرین بھی شامل ہوں گے۔ یہ ٹاسک فورس بچوں پر کورونا کے اثرات اور بچوں کو ان سے بچانے کی تدبیر، وغیرہ پر غور کرے گی اور اس کے مطابق مناسب فیصلے کرے گی۔

اجلاس میں آکسیجن اور دواؤں کے انتظام پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس پر زور دیا گیا کہ کسی بھی صورت میں آکسیجن کی بلیک مارکیٹنگ نہیں ہونی چاہئے۔ کالا بازاری کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں گے، تاکہ یہ ضرورت مندوں کو آسانی سے میسر ہو۔ اس کی نگرانی کے لئے عہدیداروں کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

مسٹر کیجریوال نے کہا کہ اگر بستروں کو بڑے پیمانے پر بڑھایا جائے، تو اس کے لئے بڑی مقدار میں آکسیجن کی بھی ضرورت ہوگی۔ اس کے لئے بھی تیاری کرنی ہوگی، تاکہ آکسیجن کی طلب اچانک نہ بڑھ جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس کے لئے دہلی حکومت آکسیجن ٹینکر پہلے ہی خریدے گی اور بڑی تعداد میں آکسیجن سلنڈر بھی خریدے جائیں گے، تاکہ مختلف اسپتالوں میں آکسیجن لے جانے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔

اسرائیل کے فضائی حملے میں غزہ میں قطری ہلال احمر کے دفتر کو بنایا گیا نشانہ

0
اسرائیل کے فضائی حملے میں غزہ میں قطری ہلال احمر کے دفتر کو بنایا گیا نشانہ
اسرائیل کے فضائی حملے میں غزہ میں قطری ہلال احمر کے دفتر کو بنایا گیا نشانہ

غزہ پٹی پر اسرائیل کی فورسز نے فضائی حملے میں قطری ہلال احمر (کیو آر سی ایس) کے دفتر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 فسلطینی جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔ یہ اطلاع الجزیرہ کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔

غزہ: اسرائیل نے غزہ میں اپنی جارحیت جاری رکھتے ہوئے میڈیا دفاتر کو نشانہ بنانے کے بعد اب رفاہی تنظیموں کے دفتر کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ اس نے قطری ہلال احمر کے دفتر پر فضائی حملہ کیا۔ اس حملے کی قطر کی وزارت خارجہ نے مذمت کی ہے۔

غزہ پٹی پر اسرائیل کی فورسز نے فضائی حملے میں قطری ہلال احمر (کیو آر سی ایس) کے دفتر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 فسلطینی جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔ یہ اطلاع الجزیرہ کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قطری ہلال احمر غزہ میں ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتی ہے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق امدادی کام کے لیے ٹیمیں بھیجنے کا اعادہ کرتے ہیں۔ کیو آر سی ایس سیکریٹری جنرل علی بن حسن الحمادی نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے جس پر اسرائیل نے دستخط کیے ہیں۔

فلاحی اور میڈیا کے اداروں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون، عالمی اقدار اور روایات کی خلاف ورزی

قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کی قابض حکومت ہلال احمر کی عمارت پر بمباری کی جبکہ فورسز فلاحی اور میڈیا کے اداروں کو نشانہ بنا رہی ہیں جو بین الاقوامی قانون، عالمی اقدار اور روایات کی خلاف ورزی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قطری ہلال احمر کے دفتر پر حملے میں تنظیم کی ایمبولینسز، طبی مراکز، ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (میڈیسنز سانز فرنٹیئرز یا ایم ایس ایف) کے عملے کو بھی نشانہ بنایا۔

ایم ایس ایف نے کہا ہے کہ گزشتہ شب غزہ میں ایم ایس ایف کی کلینک کو اسرائیل نے بمباری کرکے تباہ کیا جہاں ٹراما اور جھلسے ہوئے افراد کا علاج کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے سے کلینک کے اندر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن اس بمباری سے متعدد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

کیو آر سی ایس غزہ میں فلسطینیوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کررہی ہے جو اسرائیلی جارحیت سے متاثر ہیں اور یہ سلسلہ دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے۔

غزہ کے حالات کے پیش دو روز قبل قطری تنظیم نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے مزید 10 لاکھ ڈالر فنڈ مختص کرنے کا اعلان کیا تھا جو حالیہ حملوں میں متاثر ہونے والے خاندانوں میں خرچ کیے جائیں گے۔ اس فنڈ کو آبادی کی بنیادی ضروریات، ادویات اور ایمبولینس سمیت دیگر طبی ضروریات کے لیے خرچ کیا جائے گا۔

اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد

غزہ میں اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں اب 59 بچوں اور خواتین سمیت 200 سے زائد افراد جاں بحق اور 1300 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فورسز نے دو روز قبل غزہ سٹی میں کثیرالمنزلہ عمارت پر بمباری کی تھی جہاں الجزیرہ، اے پی اور دیگر بین الاقوامی میڈیا کے اداروں کے دفاتر موجود تھے۔

عالمی برادری کی اپیل کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، اب تک 237 فلسطینی شہید اور 1300 سے زائد زخمی

0
عالمی برادری کی اپیل کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، اب تک 237 فلسطینی شہید اور 1300 سے زائد زخمی
عالمی برادری کی اپیل کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، اب تک 237 فلسطینی شہید اور 1300 سے زائد زخمی

عالمی برادری کی اپیل کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے دوسرے ہفتے میں بھی جاری ہے جس میں اب تک 237 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ شہدا میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔ فلسطینیوں کے راکٹ حملوں میں 12 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

غزہ: عالمی برادری، امریکہ اور اسلامی ملکوں کی بار بار جنگ بندی کی اپیلوں کے باوجود فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جس سے اب تک 237 فلسطینی شہید اور 1300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ جب کہ حماس کے راکٹ حملے میں 12 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملے دوسرے ہفتے میں جاری ہے جس میں اب تک 237 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ شہدا میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔ فلسطینیوں کے راکٹ حملوں میں 12 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

العربیہ کے مطابق اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسلحہ اور گولہ بارود ذخیرہ کرنے کے لیے بنائی گئی سرنگوں پر تباہ کرنے کا عمل پہلی ترجیح کے طور پر جاری رہے۔

نیتن یاہو کی فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کے سخت جواب دینے کی دھمکی

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے فلسطینیوں کے راکٹ حملوں میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سخت جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔ جنوبی اسرائیل میں یہودی کالونیوں کی قیادت سے ملاقات میں نیتن یاھو نے کہا کہ غزہ میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی مزید کئی روز جاری رہے گی۔

درایں اثنا امریکی وزیر خارجہ لائڈ آسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب بینی گینٹز سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے غزہ میں تشدد کا سلسلہ فوری روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے گناہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی ہلاکتیں ناقابل قبول ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کوئی شخص یا جگہ ہمارے حملوں سے محفوظ نہیں۔ ہمارے پاس غزہ میں کئی اہداف ہیں اور ہم ہر ہدف کو نشانہ بنائیں گے۔

قبل ازیں منگل کو غزہ سے عسقلان کے علاقے میں داغے گئے راکٹ حملے میں دو اسرائیلی ہلاک اور کم سے کم 10 زخمی ہو گئے تھے۔

ہوائی مسافروں میں زبردست کمی، وزارت نے روزانہ کے اعداد و شمار کی اشاعت پر لگائی روک

0
ہوائی مسافروں میں زبردست کمی، وزارت نے روزانہ کے اعداد و شمار کی اشاعت پر لگائی روک
ہوائی مسافروں میں زبردست کمی، وزارت نے روزانہ کے اعداد و شمار کی اشاعت پر لگائی روک

کووڈ ۔ 19 وبائی بیماری کی دوسری لہر کے نتیجے میں ہوائی مسافروں میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کے بعد وزارت شہری ہوا بازی نے اپنی ویب سائٹ پر روزانہ کے اعداد و شمار کی اشاعت روک دی ہے۔

نئی دہلی: کووڈ ۔ 19 وبائی بیماری کی دوسری لہر کے نتیجے میں ہوائی مسافروں میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کے بعد وزارت شہری ہوا بازی نے اپنی ویب سائٹ پر روزانہ کے اعداد و شمار جاری کرنا بند کردیئے ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کے ذریعہ منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس سال مارچ کے مقابلہ میں، اپریل میں گھریلو راستوں پر مسافروں کی تعداد 26.81 فیصد کم ہوکر 57.25 لاکھ رہ گئی۔ یہ تعداد اکتوبر 2020 کے بعد سب سے کم ہے۔ اس سال مارچ میں، 78.22 لاکھ افراد نے ہوائی سفر کیا۔

مئی میں اس تعداد میں مزید تیزی سے کمی کے بعد، شہری ہوا بازی کی وزارت نے مسافروں اور پروازوں کے لئے روزانہ کے اعداد و شمار جاری کرنا بند کردیئے ہیں۔  حتمی اعداد و شمار 14 مئی تک کے دستیاب ہیں، جب ایک ہی دن میں 54،181 مسافر 825 پروازوں میں سوار ہوئے۔ یہ اپریل کے روزانہ اوسط سے 72 فیصد کم ہے۔

عام طور پر اپریل اور مئی میں ہوائی مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اسکولوں کالجوں میں بچوں کی تعطیلات کے باعث بچے کنبے کے ساتھ ملنے جاتے ہیں۔ لیکن اس سال، روایت کے برخلاف، کووڈ ۔ 19 کی وجہ سے کمی واقع ہوئی ہے۔

اپریل میں وبا کے بھیانک شکل لیتے ہی 27 فیصد کمی

گذشتہ سال، ملک میں مسافروں کی باقاعدہ پروازیں 25 مارچ سے دو ماہ کے لئے مکمل طور پر بند کردی گئیں۔ اس کے بعد، 25 مئی 2020 سے گھریلو راستوں پر باقاعدہ پروازیں دوبارہ شروع کی گئیں۔ 2021 فروری تک ہر ماہ مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ فروری میں یہ تعداد 78.27 لاکھ ہوگئی۔ مارچ میں وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے معمولی کمی کے ساتھ یہ تعداد 78.22 لاکھ ہوگئی۔ اپریل میں اس وبا کے بھیانک شکل لیتے ہی اس میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی۔

ڈی جی سی اے کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال جنوری اور اپریل کے درمیان مسافروں کی تعداد میں 11.56 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس عرصے کے دوران دو کروڑ 91 لاکھ آٹھ ہزار افراد نے ہوائی سفر کیا جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 3 کروڑ 29 لاکھ 12 ہزار تھی۔

جیسے جیسے وبا کے قہر میں اضافہ ہوتا گیا، پروازوں میں بھری ہوئی نشستوں کا تناسب، یعنی مسافروں کا لوڈ فیکٹر، بھی کم ہوا۔ اپریل میں لگاتار دوسرے مہینے تقریبا تمام ایئر لائنز کے مسافروں کے لوڈ فیکٹر (پی ایل ایف) میں کمی ہوئی۔

سستی ایئرلائن کمپنی اسپائس جیٹ میں سب سے زیادہ 70.8 فیصد پی ایل ایف تھا، یعنی اس کی 29 فیصد سے زیادہ نشستیں خالی تھیں۔ اس کا پی ایل ایف مارچ میں 76.5 فیصد تھا۔ گو ایئر کا پی ایل ایف 71.5 فیصد سے گھٹ کر 65.7 فیصد اور ایئر ایشیاء کا 65.1 فیصد سے کم ہوکر 64 فیصد رہ گیا۔ اسٹار ایئر کا پی ایل ایف 55.5 فیصد، وستارا کا 54.6 فیصد، انڈیگو کا 58.7 فیصد اور سرکاری ایئرلائن ایئر انڈیا 52 فیصد رہا۔ دوسری کمپنیوں کی نصف سے زیادہ نشستیں خالی تھیں۔

مختلف ہوائی کمپنیوں نے مسافروں کی کمی کی وجہ سے اپنی بہت سی پروازیں منسوخ کردیں۔ کل منسوخ شدہ پروازوں میں سے 76.9 فیصد تجارتی وجوہات کی بناء پر منسوخ کردی گئیں، کیوں کہ کمپنی کو لگتا ہے کہ وہ اس فلائٹ سے کافی کمائی نہیں کرے گی۔

بارہویں جماعت کے امتحانات کیلئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر

0
بارہویں جماعت کے امتحانات کیلئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر
بارہویں جماعت کے امتحانات کیلئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر

بارہویں جماعت کے امتحانات کے نتائج گریڈنگ کی بنیاد پر اعلان کرنے کی اپیل کے برعکس کیرالہ سے تعلق رکھنے والے ایک استاد نے امتحانات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

نئی دہلی: بارہویں جماعت کے امتحانات کے نتائج گریڈنگ کی بنیاد پر اعلان کرنے کی اپیل کے برعکس کیرالہ سے تعلق رکھنے والے ایک استاد نے امتحانات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

کیرالہ کے ریاضی کے استاد ٹونی جوزف نے اپنے وکیل جوز ابراہیم کے ذریعہ ایک مداخلتی عرضی دائر کرکے کہا ہے کہ وہ ایک استاد ہیں اور اپنے طلبہ کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔

مداخلت کے درخواست گزار نے کہا ہے کہ بارہویں کلاس کا امتحان طلبہ کے کریئر کو ایک نئی جہت فراہم کرتا ہے۔ صرف یہی نہیں، اعلی تعلیمی اداروں میں داخلہ اس امتحان کے نتائج پر منحصر ہے۔ ایسی صورتحال میں امتحان کی منسوخی ان محنتی طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہوں نے بورڈ امتحان کے لئے سخت محنت کی ہے۔

درخواست گزار نے کہا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ کے علاوہ ماہرین تعلیم اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کا ایک بڑا طبقہ امتحانات کے انعقاد کے حق میں ہے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی کی ہے کہ تین سے چار ماہ کی تاخیر سے ہی سہی، لیکن یہ امتحان لیا جائے۔

قابل ذکر ہے کہ اس سلسلے میں ممتا شرما کی ایک عرضی عدالت عظمی میں زیر التوا ہے، جس میں انہوں نے کورونا وائرس کی وجہ سے بارہویں کے بورڈ امتحانات منسوخ کرنے اور داخلی گریڈنگ کی بنیاد پر اس کے نتیجے کا اعلان کرنے کی ہدایت دینے کی اپیل کی ہے۔

سینسیکس 50 ہزار پوائنٹس، نفٹی 15 ہزار پوائنٹس کے پار

0
سینسیکس 50 ہزار پوائنٹس، نفٹی 15 ہزار پوائنٹس کے پار
سینسیکس 50 ہزار پوائنٹس، نفٹی 15 ہزار پوائنٹس کے پار

کووڈ ۔ 19 کے نئے معاملات میں جاری گراوٹ سے گھریلو شیئر بازاروں میں منگل کو مسلسل دوسرے دن زوردار خریداری نظر آئی۔ بازار میں شروع سے ہی تیزی رہی۔ بی ایس ای کا سینسیکس 50 ہزار پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی 15،000 پوائنٹس پر بند ہوا۔

ممبئی: کووڈ ۔ 19 کے نئے معاملات میں جاری گراوٹ سے گھریلو شیئر بازاروں میں منگل کو مسلسل دوسرے دن زوردار خریداری نظر آئی۔ بی ایس ای کا سینسیکس پچاس ہزار پوائنٹ اور نیشنل اسٹاک ایکسنچج کا نفٹی پندرہ ہزار پوائنٹ کے پار بند ہوا۔

بازار میں شروع سے ہی تیزی رہی۔ سینسیکس 612.60 پوائنٹ یعنی 1.24 فیصد چڑھ کر 50,193.33 پوائنٹ پر پہنچ گیا جو اس کی 16 مارچ کے بعد کی اونچی سطح ہے۔ اس ہفتہ دو دن میں یہ 1500 پوائنٹ سے زیادہ کی چھلانگ لگا چکا ہے۔

چوطرفہ خریداری سے نفٹی بھی 184.95 پوائنٹ یعنی 1.24 فیصد کی سبقت کے ساتھ 15,108.10 پوائنٹ پر بند ہوا۔ یہ اس کی بھی دس مارچ کے بعد اونچی سطح ہے۔

درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں سرمایہ کاروں نے زیادہ اعتماد دکھایا۔ بی ایس ای کا مڈکیپ 1.87 فیصد بڑھ کر 21,232.21 پوائنٹ پر اسمال کیپ 1.28 فیصد کی سبقت کے ساتھ 22,847.90 پوائنٹ پر رہا۔

کووڈ ۔ 19 کے نئے معاملے مسلسل دوسرے دن تین لاکھ سے کم

کووڈ ۔ 19 کے نئے معاملے مسلسل دوسرے دن تین لاکھ سے کم رہے۔ مرکزی وزارت صحت کی طرف سے آج صبح آٹھ بجے تک جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 2,63,533 نئے معاملات کی تصدیق ہوئی ہے۔ معاملے کم ہونے سے سرمایہ کاروں میں معیشت کے تئیں اعتماد پیدا ہوا ہے۔

مواصلات اور ایم ایم سی جی گروپوں کو چھوڑ کر دیگر گروپوں کی کمپنیوں میں سرمایہ کاروں نے خریداری کی۔ سینسیکس کی 30 کمپنیوں میں سے 25 کے شیئر سبقت میں رہے۔ مہندرا اینڈ مہندرا میں 5.91 فیصد اور بجاج آٹو میں 5.17 فیصد کی تیزی رہی۔

بیرون ملک بیشتر اہم شیئر بازار سبز نشان میں رہے۔ ایشیا میں جاپان کا نکئی 2.09 فیصد، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.42 فیصد، جنوبی کوریا کا کوسپی 1.23 فیصد اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.32 فیصد کی سبقت میں رہا۔ یوروپ میں شروعاتی کاروبار میں برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.35 فیصد اور جرمنی کا ڈیکس 0.34 فیصد چمکا۔

ریاستی وزراء کی گرفتاری کے خلاف ممتا بنرجی ایکشن میں، سی بی آئی کے دفتر میں داخل ہوکر گرفتار کرنے کا دیا چیلنج

0
ریاستی وزراء کی گرفتاری کے خلاف ممتا بنرجی ایکشن میں، سی بی آئی کے دفتر میں داخل ہوکر گرفتار کرنے کا دیا چیلنج
ریاستی وزراء کی گرفتاری کے خلاف ممتا بنرجی ایکشن میں، سی بی آئی کے دفتر میں داخل ہوکر گرفتار کرنے کا دیا چیلنج

ریاستی وزراء کی گرفتاری سے برہم وزیرا علیٰ ممتا بنرجی سی بی آئی کے دفتر پہنچ گئیں۔ افسران سے ملاقات کرکے کہا ہے نوٹس کے بغیر ان وزراء کی گرفتاری کیوں عمل میں آئی ہے۔ ناردا اسٹنگ آپریشن میں ملوث بی جے پی کے لیڈران مکل رائے اور شوبھندو ادھیکاری کی گرفتار ی کیوں نہیں کی گئی ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال حکومت کے دو سینئر وزرا سبرتو مکھرجی اور فرہاد حکیم کی سی بی آئی کے ذریعہ ناردا اسٹنگ معاملے میں گرفتاری سے برہم وزیرا علیٰ ممتا بنرجی سی بی آئی کے دفتر پہنچ گئیں۔ سی بی آئی کے افسران سے ملاقات کرکے کہا ہے نوٹس کے بغیر ان وزراء کی گرفتاری کیوں عمل میں آئی ہے۔ ناردا اسٹنگ آپریشن میں ملوث بی جے پی کے لیڈران مکل رائے اور شوبھندو ادھیکاری کی گرفتار ی کیوں نہیں کی گئی ہے۔ سی بی آئی نے مجھے گرفتار کیوں نہیں کیا ہے۔ اگر سی بی آئی غیر قانونی طریقے سے انہیں گرفتار کرسکتی ہے تو مجھے بھی گرفتار کرے۔

کلکتہ شہر میں واقع نظام پلس جہاں سی بی آئی کا دفتر ہے۔ ممتا بنرجی کے پہنچنے کے بعد بڑی تعداد میں ترنمول کانگریس کے کارکنان سی بی آئی کے دفتر کے باہر پہنچ گئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے باوجود حالات دھماکہ خیز ہوگئے ہیں۔

2 مئی کو آئے بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے محض 15 دنوں بعد سی بی آئی نے آج ڈرامائی انداز میں ریاستی وزرا فرہاد حکیم اور سبرتو مکھرجی کی رہائش گاہ کا محاصرہ کرکے گرفتار کرلیا۔ گرفتاری سے قبل بڑی تعداد میں مرکزی فورسیس کے جوان ان کے گھروں کا محاصرہ کرلیا تھا۔ ان دونوں وزرا کے علاوہ ترنمول کانگریس کے ممبر اسمبلی مدن مترا اور سابق میئر شوبھن چٹرجی جنہو ں نے ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں چلے گئے تھے اور ٹکٹ نہیں ملنے پر بی جے پی چھوڑ دیا تھا کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

ممبران اسمبلی کے خلاف کارروائی کے لئے سی بی آئی نے اجازت نہیں لی

گورنر جگدیپ دھنکر نے گزشتہ ہفتے ہی ریاستی وزرا کے خلاف کارروائی کی منظوری دی تھی۔ جب کہ بنگال اسمبلی کے اسپیکر بمان بنرجی نے کہا کہ ممبران اسمبلی کے خلاف کارروائی کے لئے سی بی آئی نے اجازت نہیں لی ہے۔ گورنر نے کہا کہ انھیں اجازت دینے کا اختیار ہے۔

2014 میں ناردا نیوز پورٹل کے سی ای او میتھوز سیموئل نے ایک صنعت کار کی حیثیت سے ترنمول کانگریس کے ایک درجن لیڈر جن میں کئی ریاستی وزرا، ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی سے ملاقات کرکے انہیں صنعت کھولنے کے نام پر رشوت دیتے ہوئے کیمرہ میں قید کرلیا تھا۔ یہ اسٹنگ آپریشن 2016 میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے عین قبل جاری کیا تھا۔ 2017 میں کلکتہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو جانچ کی ہدایت دی تھی۔

ترنمول اور دیگر جماعتوں نے اٹھائے سی بی آئی کی اس کارروائی پر سوال

ترنمول اور دیگر جماعتوں نے سی بی آئی کی اس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب بنگال میں کورونا وائرس عروج پر ہے۔ فرہاد حکیم کلکتہ کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت کے اعتبار سے اہم کردار ادا کررہے ہیں کو بغیر نوٹس کے گرفتار کیسے کیا جا سکتا ہے۔

شوبھندو ادھیکاری جو اس وقت بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں کی گرفتاری نہیں ہونے پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ سی بی آئی نے صرف ترنمول کانگریس کے لیڈران کو ہی گرفتار کیوں کیا ہے۔ جب کہ شوبھندو ادھیکاری نے ناردا اسٹنگ آپریشن میں روپے لینے کا اقرار کیا تھا۔ اسی طرح مکل رائے کے خلا ف کارروائی نہیں کئے جانے پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔

جھانسی میں خوفناک سڑک حادثہ، پانچ افراد ہلاک، چار زخمی

0
جھانسی میں خوفناک سڑک حادثہ، پانچ افراد ہلاک، چار زخمی
جھانسی میں خوفناک سڑک حادثہ، پانچ افراد ہلاک، چار زخمی

اترپردیش کے جھانسی کے ایرچ پولیس تھانہ علاقے کے کوٹرا مارگ پر کار اور دو بائیک کے مابین ٹکر میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

جھانسی: اترپردیش کے جھانسی کے ایرچ پولیس تھانہ علاقے میں ایک سڑک حادثے میں پانچ افراد کی موت ہوگئی ہے۔ ہلاک شدگان میں ایک تین سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پولیس نے پیر کے روز بتایا کہ اتوار کی رات ایرچ پولیس تھانہ علاقے کے کوٹرا مارگ پر کار اور دو بائیک کے مابین ٹکر میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین سالہ بچہ کرشنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ گھنارام (60)، پریم چندر (40) اور دھرمیندر (28) کی موت ہوگئی۔ جبکہ ایک اور سندیپ جھانسی میڈیکل کالج میں علاج کے دوران چل بسا۔

حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور زخمیوں کو اسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے چاروں افراد کو مردہ قرار دے دیا۔ جبکہ ایک شدید زخمی شخص کو جھانسی میڈیکل کالج میں علاج کے لئے بھیجا گیا تھا لیکن وہ بھی علاج کے دوران دم توڑ گیا۔

اس حادثے میں گلاب، پردیپ، کلپنا اور پردیومن زخمیوں میں شامل ہیں۔

اسٹیشن انچارج کے مطابق کچھ لوگ شادی کی ایک تقریب سے واپس آرہے تھے، جبکہ کچھ تریودیشی میں حصہ لینے کے بعد لوٹ رہے تھے۔