منگل, مئی 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 356

امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے اخترالایمان نے اپنے حلقے کی بدترین عوامی صحت کے لیے پھر اٹھائی آواز

0
امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے اخترالایمان نے اپنے حلقے کی بدترین عوامی صحت کے لیے پھر اٹھائی آواز
امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے اخترالایمان نے اپنے حلقے کی بدترین عوامی صحت کے لیے پھر اٹھائی آواز

بہار پورنیہ ضلع کے تحت آنے والے امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے جناب اختر الایمان صاحب نے سرسی اسپتال کا جائزہ لیا اور غیر حاضر، لا پرواہ اسٹاف پر کارروائی کے لیے محکمہ صحت کے افسران سے رابطہ کیا

رپورٹ: مفتی منظر محسن

پورنیہ: اے آئی ایم آئی ایم سے منتخب امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے جناب اختر الایمان نے پیر کے روز اپنے حلقے کا دورہ کیا اور حلقے کی پسماندگی دور کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی بات کہی۔ در اصل امور اسمبلی حلقہ کا موازنہ اگر بہار کے دوسرے اسمبلی حلقوں سے کیا جائے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ بہار کے پسماندہ ترین اسمبلی حلقوں میں اس کا نمبر سر فہرست ہے، جس کے کئی اسباب ہیں:

آزادی کے بعد سے اب تک کشن گنج پارلیمانی حلقہ اور اسمبلی حلقہ امور پر زیادہ تر کانگریس کا قبضہ رہا ہے، تو اس کی پسماندگی کی ذمہ داری بھی ان سیاسی پارٹیوں اور ان کے نمائندوں پر عائد ہونی چاہیے جن کا یہاں قبضہ رہا ہے، مگر بہار اسمبلی الیکشن 2020 کے نتائج کے بعد غیر منصفانہ طریقے سے بعض افراد کی جانب سے اس کی ذمہ داری مجلس اتحاد المسلمین پر عائد کی جانے کی کوشش ہو رہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ 2020 اسمبلی الیکشن میں امور اسمبلی حلقہ کے ووٹروں نے مجلس کے ریاستی صدر، محترم اخترالایمان صاحب کو بطور امیدوار کام یاب کرایا۔

بتایا جاتا ہے کہ جب سے بہار اسمبلی الیکشن کے بعد سے ہی ریاست بہار سمیت پورا ملک کورونا اور لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہا ہے ایسے میں بھی اسمبلی کے اندر جب بھی سیشن ہوا ہے، اخترالایمان صاحب نے پُر زور طور پر اس پسماندہ ترین اسمبلی حلقہ امور سمیت پورے سیمانچل کے لیے آواز بلند کرنے کی کوشش کی ہے۔

وہ کام جو سابق نمائندے تیس، بیس، دس اور پانچ سالوں میں نہیں کروا سکے اخترالایمان صاحب سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ کام پانچ مہینے میں کروا دیں، یہاں تک کہ ابھی سے لوگوں نے انہیں دھوکہ باز، وعدوں سے مکرنے والا لکھنا شروع کر دیا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ امور، بیسا کے خیر خواہان ابھی ابتدائی سالوں میں اپنے ایم ایل اے سے مطالبات کریں، انہیں اپنے گاؤں کی ضروریات سے آگاہ کریں۔ صحت، تعلیم، سڑک، پل، پلیا جہاں جس شعبے میں کام کی ضرورت ہو اس کی نشاندہی کریں۔ اگر دو تین برس گزرنے کے بعد بھی آپ کا ایم ایل اے آپ کے کسی کام کو پورا نہ کروا سکے تو پھر جمہوری طریقے سے عوامی تحریک چھیڑیں۔ ان سے کام لینے کے لیے پریشر گروپ تشکیل دیں۔ کم از کم دو سالوں میں آپ کے بہت سے کام ہوتے نظر آئیں گے۔ اگر پورے پانچ سالوں کی مدت پوری ہونے تک آپ کا منتخب نمائندہ ایم ایل اے/ ایم پی / مکھیا وغیرہ ایمان داری سے کام نہیں کرے اور واقعی وہ اپنے ووٹروں کے ساتھ دھوکہ کرے، پوری مدت یوں ہی باتوں، وعدوں پر گزار دے تب ووٹروں کو اختیار ہوگا کہ وہ جسے بہتر سمجھیں، جو ان کے وعدوں پر کھرے اتریں ان کا انتخاب کریں۔

عوام کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ ہم نے ووٹ دے دیا اب ہماری ذمہ داری پوری ہو گئی جب کہ ایسا نہیں ہے اگر آپ سچ میں اپنے علاقے کو ترقی یافتہ اور اپنے نمائندہ (نیتا/ لیڈر) کو ترقی کا عملبردار دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو سب سے پہلے بیدار ہونا ہوگا، آپ کو اپنے حقوق کے لیے کم از کم جان کار بننا ہوگا کہ کیا ایک سیاسی رہنما آپ کے ووٹ کی خاطر آپ کے دروازے پر بار بار آ کر خوشامد نہیں کرتا، آپ کے ہاتھ، پاؤں تک نہیں چوم لیتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ آخر وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ ظاہر ہے جواب ہوگا چوں کہ کہ اسے م ووٹ لے کر عہدے تک پہنچنا ہے اس ۔

کہتے ہیں کہ ماں بھی بچے کو دودھ تب پلاتی ہے جب بچہ روتا ہے تو ہمیں بھی اپنے رہنما کے سامنے جمہوری انداز، اخلاقی طریقے سے اپنے مطالبات رکھنے میں نہیں شرمانا چاہیے، ساتھ ہی صبر و یقین کا دامن بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ گزشتہ دنوں نو منتخب ایم ایل اے، صدر مجلس بہار، جناب اخترالایمان صاحب سے کچھ مطالبات رکھی بھی گئی تھیں:

گاؤں سرسی کے کئی لوگوں نے مجھ سے سرسی اسپتال اور بجلی کی آنکھ مچولی سے متعلق شکایت کی تھی، جس کے بعد 16 مئی 2021، شام پونے چھ بجے اخترالایمان صاحب کو فون کر کے اسپتال اور بجلی سے متعلق شکایت ان تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ آج جب وہ سرسی اور مضافات کے دورے پر آے تو میں انہیں پھر اسپتال اور بجلی کے متعلق شکایت کی یاد دہانی کرائی گئی۔

بجلی سے متعلق انہوں نے کہا کہ بولان پاور ہاؤس کو بارہ مسیا سے جوڑنے کی کوشش جاری ہے، اسپتال کے اسٹاف کی لا پرواہی کی یاد دلانے پر انہوں نے محکمہ صحت کے افسران سے اور سرسی اسپتال میں ڈیوٹی پر متعین ڈاکٹر سے ٹیلی فون پر بات کیا، پھر پوری ٹیم کے ساتھ اسپتال پہنچے تا کہ وہ تمام تر لا پرواہیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے آج اپنی نظروں سے سب کچھ دیکھ لیا، پھر وہاں سے دوبارہ محکمہ صحت سے رابطہ کر شکایت درج کروائی اور غیر حاضر اسٹاف کے خلاف کاروائی کا حکم جاری کیا۔

بہار میں لاک ڈاؤن میں مزید ایک ہفتے کی توسیع لیکن زراعت سے متعلق دکانیں روزانہ کھلی رہیں گی, دیگر پابندیاں حسب سابق رہیں گی

0
بہار میں لاک ڈاؤن میں ایک اور ہفتے کی توسیع لیکن زراعت سے متعلق دکانیں روزانہ کھلی رہیں گی, دیگر پابندیاں حسب سابق رہیں گی
بہار میں لاک ڈاؤن میں ایک اور ہفتے کی توسیع لیکن زراعت سے متعلق دکانیں روزانہ کھلی رہیں گی, دیگر پابندیاں حسب سابق رہیں گی

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے جمعرات کو اپنے کابینی رفقا اور سنیئر افسران کے ساتھ ریاست میں جاری لاک ڈاﺅن کے جائزے کے بعد اسے یکم جون 2021 تک بڑھانے کا فیصلہ لیا۔ لیکن اس مرتبہ زراعت سے معلق دکانوں کو ہر دن کھولنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ دیگر پابندیاں حسب سابق رہیں گی۔

پٹنہ: بہار میں پابندی اور تحمل کی وجہ سے کورونا انفیکشن کے معاملوں میں آئی کمی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے ایک بار پھر لاک ڈاﺅن کی مدت کو سات دنوں کیلئے بڑھا دیا ہے۔ لیکن اس مرتبہ زراعت سے معلق دکانوں کو ہر دن کھولنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ دیگر پابندیاں حسب سابق رہیں گی۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار نے جمعرات کو اپنے کابینی رفقا اور سنیئر افسران کے ساتھ ریاست میں جاری لاک ڈاﺅن کے جائزے کے بعد اسے یکم جون 2021 تک بڑھانے کا فیصلہ لیا۔ اجلاس کے بعد ریاست کے چیف سکریٹری تری پراری شرن، ڈیولپمنٹ کمشنر عامر سبحانی، پولیس ڈائریکٹر جنرل ایس کے سنگھل، ایڈیشنل چیف داخلہ سکریٹری چیتنیہ پرساد، صحت اور آفات مینجمنٹ محکمہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹر پرتیہ امرت نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کورونا کی اعلیٰ سطحی میٹنگ وزیراعلیٰ نتیش کمار کی صدارت میں ہوئی۔ جس میں لاک ڈاﺅن کے دوران انفیکشن میں آئی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو آئندہ سات دنوں کیلئے 26 مئی سے یکم جون تک بڑھانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

چیف سکریٹری نے کہا کہ اس بار لاک ڈاﺅن کے دوران کھاد، بیج، جراثیم کش دوائیں اور زرعی آلات سے متعلق دکانوں اور اداروں کو ہر دن کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اب ایسی دکانیں شہری علاقوں میں صبح 06 بجے سے 10 بجے دن تک اور دیہی علاقوں میں صبح 08 بجے سے 12 بجے دن تک کھلی رہیں گی۔ سبھی پابندیاں گذشتہ لاک ڈاﺅن کے رہنماء اصول کے مطابق ہی رہیں گی۔

مسٹر شرن نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ مقامی حالات کا جائزہ لیکر جاری امتناعات کے علاوہ مزید سخت پابندی لگا سکتے ہیں لیکن کسی بھی صورت میں محکمہ داخلہ کے رہنماء اصول کے مطابق لگائی گئی پابندیوں میں نرمی نہیں کرسکتے ہیں۔

شیئر بازار میں تیزی کا رجحان برقرار، سینسیکس میں 111 پوائنٹس کا اضافہ

0
شیئر بازار میں تیزی کا رجحان برقرار، سینسیکس میں 111 پوائنٹس کا اضافہ
شیئر بازار میں تیزی کا رجحان برقرار، سینسیکس میں 111 پوائنٹس کا اضافہ

پچھلے کچھ دنوں میں ملک میں کورونا وائرس کے کم ہونے والے نئے کیسوں کی تعداد کے ساتھ، گھریلو شیئر بازار میں آج مسلسل دوسرے کاروباری دن میں اضافہ ہوا اور سینسیکس میں 111 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

ممبئی: ملک میں گزشتہ چند دنوں سے کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد کم ہونے سے گھریلو شیئر بازاروں میں آج مسلسل دوسرے کاروباری دن تیزی کا رجحان رہا اور سنسیکس میں 111 پوائنٹس کا اضافہ در ج کیا گیا۔

بی ایس ای کا حساس انڈیکس سینسیکس 111.42 پوائنٹس یعنی 0.22 فیصد اضافے کے ساتھ 50651.90 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا، جو 12 مارچ کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی بھی 22.40 پوائنٹس یعنی 0.15 فیصد اضافے کے ساتھ 15197.70 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا، جو اس کی 3 مارچ کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔

مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی طرف سے آج صبح جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کووڈ – 19 کے 222315 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ انفیکشن کی رفتار مستقل طور پر کم ہوئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے مابین تالابندی ختم ہونے کی امیدیں بڑھ رہی ہیں۔

آج کے کاروبار میں درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا رجحان زیادہ مضبوط رہا۔ بی ایس ای کا مڈ کیپ 0.86 فیصد اضافے کے ساتھ 21669.64 پوائنٹس پر بند ہوا۔ چھوٹی کمپنیوں کا انڈیکس اسمال کیپ 0.70 فیصد اضافے سے 23291.87 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بینکاری اور مالیاتی شعبے کی کمپنیوں نے سینسیکس کی تیزی میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا۔ سینسیکس کی کمپنیوں میں پبلک سیکٹر کے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے حصص کی قیمتوں میں 2.73 فیصد کا اضافہ ہوا۔ ایل اینڈ ٹی میں 1.74 فیصد، ایکسس بینک 1.40 فیصد، پاور گرڈ 1.21، آئی ٹی سی 1.17، ماروتی سوزوکی میں 1.09 فیصد اور ڈاکٹر ریڈی لیب میں 1.06 فیصد اضافہ ہوا۔

دریں اثناء، ریلائنس انڈسٹریز میں 0.77 فیصد کی کمی آنے سے مارکیٹ پر دباؤ پڑا۔ جبکہ ٹائٹن کے حصص میں 1.22 فیصد، انڈس اینڈ بینک میں 1.20 فیصد، مہندرا اینڈ مہندرا میں 1.09 فیصد، ہندوستان یونیلیور میں 1.03 فیصد اور الٹرا ٹیک سیمنٹ میں ایک فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

ایشیائی منڈیوں میں ملا جلا رجحان رہا۔ چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.31 فیصد اور جاپان کا نکئی 0.17 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ جنوبی کوریا کے کوسپی میں 0.38 فیصد اور ہانگ کانگ کے ہینگسنگ میں 0.16 فیصد گراوٹ درج کی گئی۔ یورپ میں ابتدائی کاروبار میں جرمنی کے ڈی اے ایکس میں 0.44 فیصد اور برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.30 فیصد کا اضافہ ہوا۔

جموں و کشمیر میں بلیک فنگس وبائی مرض قرار

0
جموں و کشمیر میں بلیک فنگس وبائی مرض قرار
جموں و کشمیر میں بلیک فنگس وبائی مرض قرار

جموں و کشمیر ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے پیر کے روز ایک نوٹیفکیشن جاری کی جس کے تحت بلیک فنگس کو وبائی مرض قرار دیا گیا۔ وادی کشمیر میں سال گزشتہ اس وبائی مرض کے تقریبا نصف درجن معاملے سامنے آئے تھے جن میں سے تین کی موت واقع ہوئی تھی۔

سری نگر: جموں و کشمیر انتظامیہ نے پیر کے روز بلیک فنگس یا مکرمائیکوسس کو وبائی مرض قرار دیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے پیر کے روز ایک نوٹیفکیشن جاری کی جس کے تحت بلیک فنگس کو وبائی مرض قرار دیا گیا۔

بتادیں کہ جموں میں 21 مئی کو بلیک فنگس کا پہلا معاملہ سامنے آیا تھا اور ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والے اس مریض، جو کورونا سے صحتیاب ہوا تھا، کی اسی دن گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں موت واقع ہوئی تھی۔

وادی کشمیر میں بھی سال رواں کا پہلا سیاہ فنگس معاملہ سامنے آیا ہے اور مریض اس وقت گورنمنٹ ڈینٹل کالج سری نگر میں زیر علاج ہے۔

قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں سال گزشتہ اس وبائی مرض کے تقریبا نصف درجن معاملے سامنے آئے تھے جن میں سے تین کی موت واقع ہوئی تھی۔

اسرائیل اور فلسطین پر سلامتی کونسل کا جنگ بندی کی مکمل پاسداری پر زور

0
اسرائیل اور فلسطین پر سلامتی کونسل کا جنگ بندی کی مکمل پاسداری پر زور
اسرائیل اور فلسطین پر سلامتی کونسل کا جنگ بندی کی مکمل پاسداری پر زور

میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اس نئے تنازع کے بارے میں ہفتے کے روز پہلا بیان جاری کیا ہے۔ اس سے پہلے اس کے تین بیانات کو اسرائیل کے حامی امریکہ نے بلاک کردیا تھا۔

اقوام متحدہ: عالمی برادری، مسلم ملکوں اور خاص طور پر مصر کی کوششوں سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان 11 روز ہ لڑائی کے بعد ہونے والی جنگ بندی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دونوں فریق سے اس پر مکمل طور پر عمل کرنے پر زور دیا ہے۔

میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اس نئے تنازع کے بار ے میں ہفتے کے روز پہلا بیان جاری کیا ہے۔ اس سے پہلے اس کے تین بیانات کو اسرائیل کے حامی امریکہ نے بلاک کردیا تھا۔

سلامتی کونسل کا فلسطینیوں کو انسانی امداد مہیا کرنے کی ضرورت پر زور

اس میں سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے 21 مئی کو اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور اس جنگ بندی میں مصر اور دوسرے علاقائی ممالک کے اہم مصالحتی کردار کو سراہا ہے۔ سلامتی کونسل نے بیان میں فلسطینیوں اور بالخصوص اہلِ غزہ کو انسانی امداد مہیا کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

مصر اور دوسرے ممالک کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جمعہ کو جنگ بندی ہوئی تھی۔ اسرائیلی فوج کی گیارہ روزہ فضائی بمباری میں کم سے کم ڈھائی سو فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ ان میں 66 کم سن بچے شامل ہیں۔اس جنگ کے نتیجے میں پہلے سے تباہ حال اور محصورین غزہ کی مشکلات دوچند ہوگئی ہیں۔

آٹھ لاکھ مکین پینے کے صاف پانی سے محروم

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں کم سے کم آٹھ لاکھ مکین پینے کے صاف پانی سے محروم ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق غزہ پر اسرائیلی فوج کی تباہ کن بمباری کے نتیجے میں فلسطینی علاقے کا آب رسانی کا 50 فیصد نظام ناکارہ ہوگیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے غزہ کی تعمیراتِ عامہ اور مکانات کی وزارت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کے 11 روز تک تباہ کن فضائی حملوں میں 17 ہزار مکانات اور تجارتی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں یا انھیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

اس نے مزید بتایا کہ ان میں سے 769 مکانات اور تجارتی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور وہ بالکل استعمال کے قابل نہیں رہے ہیں۔ 258 عمارتوں میں 1042 یونٹس تباہ ہوئے ہیں اور 14538 مکانوں یا تجارتی عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔غزہ شہر اور دوسرے شہری علاقے بمباری سے جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں۔نیز شہر کے برقی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دہلی میں لاک ڈاؤن کو ایک ہفتے کے لئے بڑھانے کا فیصلہ

0
دہلی میں لاک ڈاؤن کو ایک ہفتے کے لئے بڑھانے کا فیصلہ
دہلی میں لاک ڈاؤن کو ایک ہفتے کے لئے بڑھانے کا فیصلہ

اروند کیجریوال نے کہا کہ دہلی میں لاک ڈاؤن اگلے پیر (31 مئی) کی صبح 5 بجے تک نافذ رہے گا اور پابندیاں پہلے کی طرح جاری رہیں گی۔ ویکسینوں کی بہت کمی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ اس پر بھی قابو پالیا جائے گا۔

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ دہلی والوں کی رائے کے مطابق، دہلی میں لاک ڈاؤن کو ایک ہفتے کے لئے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مسٹر کیجریوال نے کہا کہ لاک ڈاؤن اگلے پیر (31 مئی) کی صبح 5 بجے تک نافذ رہے گا اور پابندیاں پہلے کی طرح جاری رہیں گی۔ ویکسینوں کی بہت کمی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ اس پر بھی قابو پالیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگوں سے اس معاملے کے بارے میں پوچھا گیا تو لوگوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کو ایک ہفتے کے لئے بڑھایا جانا چاہئے، لہذا حکومت نے اسے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اگر اسی طرح کورونا کے معاملے کے کم ہونے کا تسلسل جاری رہا تو 31 مئی سے ‘ان لاک’ عمل شروع کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کے عوام کو ویکسین لگوانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ اگر سب کو ویکسین لگادی گئی تو، وہ کورونا کی تیسری لہر سے بچ جائیں گے۔ حکومت دہلی کے عوام کے لئے ویکسین پر زیادہ خرچ کرنے کے لئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کے لوگوں کے نظم و ضبط اور سخت محنت کی وجہ سے ایک ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد کورونا کنٹرول میں نظر ہوتا آرہا ہے۔ اپریل میں، ایک وقت تھا جب انفیکشن کی شرح 36 فیصد تک جا چکی تھی۔ اب انفیکشن کی شرح ڈھائی فیصد ہوگئی ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں 1600 معاملات سامنے آئے ہیں۔

اسرائیل میں ہزاروں افراد نے فلسطین کے ساتھ امن کی حمایت کی

0
اسرائیل میں ہزاروں افراد نے فلسطین کے ساتھ امن کی حمایت کی
اسرائیل میں ہزاروں افراد نے فلسطین کے ساتھ امن کی حمایت کی

اسرائیلی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وسطی تل ابیب میں حبیما تھیٹر کے سامنے ہزاروں افراد فلسطین کے ساتھ امن کی حمایت کے لئے جمع ہوئے۔ ریلی کا انعقاد انسانی حقوق کی تنظیم شالوم اچشیف (پیسن او) نے کیا۔

تل ابیب: اسرائیل کے تل ابیب میں ہزاروں افراد فلسطین کے ساتھ امن کی حمایت کے لئے جمع ہوئے۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے اتوار کے روز اس کی اطلاع دی۔

ریلی کا انعقاد انسانی حقوق کی تنظیم شالوم اچشیف (پیس ناو) نے کیا۔ یہ تنظیم فلسطین اسرائیل تنازعہ کے پرامن حل کی حمایت کرتی ہے۔ تنظیم نے ٹوئٹر پر لکھا، "تل ابیب میں ہزاروں افراد نے مساوات، امن اور فلسطین اور یہودی شراکت کی حمایت کی۔”

اسرائیلی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وسطی تل ابیب میں حبیما تھیٹر کے سامنے ہزاروں افراد جمع ہوئے۔ اجتماع سے خطاب کرنے والوں میں مصنف ڈیوڈ گراس مین اور اسرائیل کی بائیں بازو کی جماعتوں اور عرب پارٹیوں کی نمائندگی کرنے والے رہنما شامل تھے۔ اس دوران لوگوں نے فلسطین کے ساتھ مکمل امن معاہدے پر زور دیا۔

دو ریاستوں کا قیام ہی اسرائیل۔فلسطین تنازع کا واحد حل

دریں اثناء امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی پاسداری کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستوں کا قیام ہی اسرائیل۔فلسطین تنازع کا واحد حل ہے۔ وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی اب بھی اسرائیل کی حمایت کرتی ہے اور ہم دعاگو ہیں کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان سیز فائر برقرار رہے۔ انہوں نے دونوں اطراف فرقہ وارانہ لڑائی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی سلامتی یقینی بناتے ہوئے غزہ کے عوام کی مدد کی جائے۔

اسی کے ساتھ بائیڈن نے کہا کہ اسرئیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس میں عرب اور یہودیوں کے درمیان تصادم کو روکیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی پاسداری کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستوں کا قیام ہی اسرائیل۔فلسطین تنازع کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بھی اصرار کریں گے کہ اسرائیلی شہریوں، عرب اور یہودی دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے جبکہ فلسطینیوں کو بھی اسرائیل کے موجود ہونے کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔

"دیدی کے بغیر نہیں جی سکتی”: بی جے پی کی سونالی گوہا کی ترنمول میں دوبارہ شامل ہونے کی درخواست

0
"دیدی کے بغیر نہیں جی سکتی": بی جے پی کی سونالی گوہا کی ترنمول میں دوبارہ شامل ہونے کی درخواست
"دیدی کے بغیر نہیں جی سکتی": بی جے پی کی سونالی گوہا کی ترنمول میں دوبارہ شامل ہونے کی درخواست

اب جب کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست ہو چکی ہے اور ایک بار پھر بنرجی وزیر اعلی بن گئی ہیں تو اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض ہو کر بی جے پی میں شامل ہونے والی سابق ممبر اسمبلی سونالی گوہا نے ممتابنرجی کو جذباتی انداز میں خط لکھ کر درخواست کی ہے وہ ترنمول کانگریس میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔

کلکتہ: اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض ہو کر بی جے پی میں شامل ہونے والی سابق ممبر اسمبلی سونالی گوہا نے آج وزیر اعلی ممتابنرجی کو جذباتی انداز میں خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ انہیں پارٹی میں واپس لیا جائے۔

انہوں نے ہفتہ کو ٹویٹر پر بھی اپنا خط شائع کیا ہے۔ ٹکٹ نہیں ملنے کے بعد کہا تھا کہ دیدی بدل گئی ہیں۔ ریاستی بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش کا ہاتھ تھام کر بی جے پی میں شامل ہوگئی تھیں۔ پاؤں چھو کر گھوش کو سلام کیا۔ اب جب کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست ہو چکی ہے اور ایک بار پھر بنرجی وزیر اعلی بن گئی ہیں تو انہوں نے ایک خط لکھ کر درخواست کی ہے وہ ترنمول کانگریس میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔

سونالی نے اپنے خط میں لکھا ہے، "دیدی اگر آپ مجھے معاف نہیں کریں گی تو میں زندہ نہیں رہ پاؤں گی”۔

سونالی گوہا نے لکھا بی جے پی میں جانے کا فیصلہ غلط تھا

انہوں نے لکھا ہے کہ بی جے پی میں جانے کا فیصلہ غلط تھا۔ سونالی نے لکھا ہے کہ جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح میں دیدی کے بغیر نہیں جی سکتی ہوں۔

دیدی، مجھے ایک بار پھر اپنے سایہ کے نیچے رہنے کا موقع دیں۔

سونالی گوہا کے اس خط پر بی جے پی کے ترجمان شیامک بھٹاچاریہ نے کہا کہ اگر کوئی اپنی پرانی پارٹی میں واپس جاتا ہے اور اسے سکون ملتا ہے، تو ہمیں کوئی حرج نہیں ہے۔

سونالی کے خط پر ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سوگت نے کہا کہ گوہا کو پارٹی میں واپس لانے سے متعلق حتمی فیصلہ ممتا بنرجی ہی کریں گے۔

ایران نے فلسطینی مزاحمت کاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مقامی ساختہ لانگ رینج لڑاکا ڈرون کا نام ’غزہ‘ رکھا

0
ایران نے فلسطینی مزاحمت کاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مقامی ساختہ لانگ رینج لڑاکا ڈرون کا نام ’غزہ‘ رکھا
ایران نے فلسطینی مزاحمت کاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مقامی ساختہ لانگ رینج لڑاکا ڈرون کا نام ’غزہ‘ رکھا

رپورٹ کے مطابق ایران نے مقامی طور پر تیار کردہ 2 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے لڑاکا ڈرون کی نمائش کی اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس کا نام ‘غزہ’ رکھ لیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ڈرون کا نام فلسطینی جدوجہد سے متاثر ہوکر ان کے اعزاز میں غزہ رکھا گیا ہے۔

تہران: ایران نے فلسطینیوں کے جذبہ حریت کو سلام اور خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ملکی طور پر تیار دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والا لڑاکا ڈرون کا نام ’غزہ‘ رکھا ہے۔ یہ اطلاع غیر ملکی میڈیا کے ذرائع نے دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے مقامی طور پر تیار کردہ 2 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے لڑاکا ڈرون کی نمائش کی اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس کا نام ‘غزہ’ رکھ لیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ڈرون کا نام فلسطینی جدوجہد سے متاثر ہوکر ان کے اعزاز میں غزہ رکھا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ نیا ڈرون میں 35 گھنٹے پرواز، 13 بم اور 500 کلو گرام الیکٹرونکس کی اشیا ساتھ لے جانے کی صلاحیت ہے۔

پاسداران انقلاب کے میجر جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ نئے ڈرون کا نام ‘غزہ’ ان کے اعزاز میں رکھا گیا ہے جو آج حملہ آور اور جارحیت پسند صہیونیوں کے خلاف برسر پیکار ہیں۔

امریکی سمیت مغربی طاقتیں ایران کے میزائل نظام کے خلاف

ایران کے میزائل نظام کے خلاف امریکی سمیت مغربی طاقتیں آواز اٹھاتی رہتی ہیں تاہم ایران ان کو مسترد کرتا آیا ہے جبکہ غزہ کی حکمران جماعت حماس کی مدد کا بھی الزام دیا جاتا ہے۔

ایران نے حماس کی مالی یا دیگر ذرائع سے مدد کے حوالے سے دیے جانے والے بیانات پر کوئی ردعمل نہیں دیا تاہم حماس ایران سے بہترین تعلقات کا معترف ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای فلسطین کے حق میں بیانات دیتے رہتے ہیں۔

تباہ حال غزہ پٹی کی تعمیر نو کیلئے تخمینہ شروع، ورلڈ بینک، یورپی یونین اور بعض عرب ممالک کے آگے آنے کی امید

0
تباہ حال غزہ پٹی کی تعمیر نو کیلئے تخمینہ شروع، ورلڈ بینک، یورپی یونین اور بعض عرب ممالک کے آگے آنے کی امید
تباہ حال غزہ پٹی کی تعمیر نو کیلئے تخمینہ شروع، ورلڈ بینک، یورپی یونین اور بعض عرب ممالک کے آگے آنے کی امید

فلسطین اور اسرائیل کے مابین 11 روز تک جاری رہنے والی جنگ اور جمعہ کی شب سے نافذ جنگ بندی کے بعد تباہ حال غزہ پٹی کی تعمیر نو پر اخراجات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لیے 50 کروڑ ڈالر پیش کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ابھی دیگر عرب ممالک کا تعمیر نو کے سلسلے میں امداد کا اعلان آنا باقی ہے۔

غزہ: فلسطین اور اسرائیل کے مابین 11 روز تک جاری رہنے والی جنگ اور جمعہ کی شب سے نافذ جنگ بندی کے بعد تباہ حال غزہ پٹی کی تعمیر نو پر اخراجات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ غزہ پٹی پر 11 روز تک جاری رہنے والی اسرائیلی بمباری اور فضائی حملوں کے نتیجے میں بھاری جانی اور مادی نقصان سامنے آیا۔ سیکڑوں فلسطینیوں کے شہید اور زخمی ہونے کے علاوہ غزہ پٹی میں درجنوں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔ اس دوران بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصانات پہنچے جس کی تعمیر نو میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے بیچ فائر بندی سے غزہ پٹی کی تعمیر نو کے معاملے پر توجہ دینے کا موقع ملا ہے۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لیے 50 کروڑ ڈالر پیش کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ابھی دیگر عرب ممالک کا تعمیر نو کے سلسلے میں امداد کا اعلان آنا باقی ہے۔

غزہ میں 11 روز کے اندر 16800 رہائشی یونٹوں کو نقصان

العزبیہ میں شائع رپورٹ کے مطابق غزہ پٹی میں ہونے والے مادی نقصانات کے حوالے سے ابھی تک درست اعداد و شمار سامنے نہیں آئے ہیں۔ تاہم غزہ میں ہاؤسنگ کی وزارت کا کہنا ہے کہ 11 روز کے اندر 16800 رہائشی یونٹوں کو نقصان پہنچا۔ ان میں 1800 یونٹ رہائش کے قابل نہیں ہیں جب کہ 1000 یونٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

غزہ پٹی میں بجلی کی تقسیم کے اسٹیشن کے ترجمان محمد ثابت کے مطابق اسرائیلی آپریشن شروع ہونے سے آبادی کو 12 گھنٹے بجلی مل رہی تھی جب کہ اب یہ دورانیہ 3 سے 4 گھنٹے ہو گیا ہے۔

غزہ میں وزارت زراعت کے اندازے کے مطابق اسرائیلی حملوں اور بم باری کے نتیجے میں گرین ہاؤسز، کاشت کاری کی اراضی اور پولٹری فارموں کو پہنچنے والے نقصان کا حجم تقریبا 2.7 کروڑ ڈالر ہے۔

غزہ پٹی کی تعمیر نو پر اخراجات کا اندازہ

اسکائی نیوز عربیہ چینل نے فلسطینی سیاست دان اور بین الاقوامی تعلقات کے مشیر اسامہ شعث کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس مرتبہ تعمیر نو کی لاگت 2014ء سے زیادہ ہو گی۔ انہوں نے غالب گمان ظاہر کیا کہ یہ حجم 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ 2014ء کی جنگ میں غزہ کی پٹی کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا تھا۔ اس سلسلے میں قاہرہ میں منعقد ہونے والی ”غزہ تعمیر نو کانفرنس” میں شریک 50 ممالک اور تنظیموں کے نمائندوں نے فلسطینیوں کے لیے 5.4 ارب ڈالر پیش کرنے کے وعدے کیے تھے۔ اس میں نصف رقم غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے واسطے تھی۔

مصر کے سرکاری ”تحیا مصر” فنڈ نے غزہ پٹی کے لیے انسانی امدادات کا قافلہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اس میں 100 سے زیادہ کنٹینر ہوں گے۔ قافلہ آئندہ چند روز کے دوران میں غزہ کی پٹی پہنچے گا۔

اس سے قبل مصر نے اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والوں کو علاج فراہم کرنے کے لیے اپنے 11 ہسپتالوں اور 37 طبی ٹیموں کو تیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ علاوہ ازیں غزہ پٹی کے لیے 65 ٹن دوائیں اور طبی لوازمات بھی بھیجے گئے۔

فرانسیسی صدر، مصری صدر اور اردن کے فرماں روا کا غزہ میں انسانی منصوبے کے آغاز پر اتفاق رائے

گذشتہ منگل کے روز فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں نے مصر کے ہم منصب عبدالفتاح السیسی اور اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ الثانی کے ساتھ مل کر غزہ میں انسانی منصوبے کے آغاز پر اتفاق رائے کا اظہار کیا تھا۔ اسی طرح عالمی خوراک پروگرام نے بھی رواں ہفتے کے وسط میں اعلان کیا تھا کہ اسے فوری طور پر 1.4 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے۔ اس کے ذریعے ادارہ آئندہ تین ماہ کے دوران میں غزہ پٹی میں تقریبا 1.6 لاکھ اور مغربی کنارے میں 6 ہزار متاثرین کو ہنگامی امداد پیش کرے گا۔

واضح رہے کہ عالمی بینک، یورپی یونین اور بعض عرب ممالک غزہ پٹی کی تعمیر نو کے سلسلے میں قاہرہ کے نقش قدم پر چلیں گے۔