جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 354

راہل نے لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر کی وزیر اعظم سے کی شکایت

0
راہل نے لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر کی وزیر اعظم سے کی شکایت
راہل نے لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر کی وزیر اعظم سے کی شکایت

وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں راہل گاندھی نے کہا کہ لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر عوام مخالف فیصلے کررہے ہیں جس کی سخت مخالفت کی جارہی ہے۔ لہذا، انہیں (مسٹر مودی) کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہئے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط تحریر کرکے کہا کہ لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر عوام مخالف فیصلے کررہے ہیں جن کی زبردست مخالفت ہو رہی ہے۔ اس لئے انہیں (مسٹر مودی) کو اس معاملہ میں مداخلت کرنی چاہئے۔

مسٹر گاندھی نے جمعرات کو تحریر کردہ خط میں کہا کہ لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڑا پٹیل مسلسل ایسے قدم اٹھا رہے ہیں جن سے لکشدیپ کی خوبصورتی اور ثقافت کے انوکھے سنگم کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ لوگ اس وراثت کو بچانے کے لئے تحریک چلا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر منتخب نمائندوں اور عوام سے مشورہ کئے بغیر یکطرفہ فیصلے کرکے بڑی تبدیلیاں کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لکشدیپ کے لوگ ان تجاویز کو من مانی قرار دیکر مخالفت کررہے ہیں۔ ڈرافٹ کی تجاویز سے زمین کی ملکیت سے متعلق حقوق کو کمزور کرتے ہیں، کچھ سرگرمیوں کے لئے ماحولیاتی ضوابط کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کے لئے قانونی امداد کے متبادل کو محدود کرتے ہوئے عوامی حقوق پر حملہ ہورہا ہے۔

مسٹر گاندھی نے کہا کہ پنچایت ریگولیشن کے مسودے میں دو سے زیادہ بچوں والے اراکین کو نااہل اعلان کرنے کا التزام ہے جو واضح طورپر غیرجمہوری قدم ہے۔ اس کے علاوہ تبدیلی کی ایسی تجاویز ہیں جو مقامی کمیونٹی کے ثقافتی اور مذہبی تانے بانے پر حملہ ہے اس لئے مسٹر مودی کو اس معاملہ میں مداخلت کرنی چاہئے۔

طالبان کا ہمسایہ ممالک سے امریکہ کو فوجی اڈے نہ دینے کی اپیل

0
طالبان کا ہمسایہ ممالک کو امریکہ کو فوجی اڈے نہ دینے کا مشورہ
طالبان کا ہمسایہ ممالک کو امریکہ کو فوجی اڈے نہ دینے کا مشورہ

امریکہ سمیت دیگر ممالک کے فوجیوں کے انخلا کے بعد افغان طالبان کا لب و لہجہ بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ اس نے اب افغانستان کے پڑوسی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈے چلانے کی اجازت نہ دیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ ایک بہت بڑی تاریخی غلطی ہوگی۔

کابل: امریکہ سمیت دیگر ممالک کے فوجیوں کے انخلا کے بعد افغان طالبان کا لب و لہجہ بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ اب اس نے افغانستان کے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکہ کو فوجی اڈے چلانے کی اجازت نہ دیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ ان کی تاریخی غلطی ہوگی۔

ایک عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکہ، افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کے آخری مراحل میں ہے اور حالیہ دنوں میں امریکہ اور پاکستان کے مابین سفارتی سطح پر ہونے والے رابطوں نے ان قیاس آرائی کو جنم دیا ہے کہ پنٹاگن طالبان کے خلاف استعمال کرنے کے لئے نئے اڈوں کی تلاش میں ہے۔

پاکستان میں کوئی امریکی فوجی اڈہ نہیں

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ پاکستان میں کوئی امریکی فوج یا ہوائی اڈہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ اس حوالہ سے متعلق کوئی قیاس آرائی بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہیں اور ان سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔

افغان طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم ہمسایہ ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہ دیں، اگر دوبارہ ایسا قدم اٹھایا گیا تو یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی غلطی ہو گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وہ اس طرح کی گھناؤنی اور اشتعال انگیز حرکتوں کے بعد خاموش نہیں رہیں گے۔

افغانستان کے متعدد ہمسایہ ممالک نے طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد 2000 کی دہائی کے اوائل میں امریکی فوج کو فضائی اڈوں کے محدود استعمال کی اجازت دی تھی۔ اس طرح کی مدد بڑی حد تک ختم ہوگئی ہے تاہم کچھ ممالک اپنی فضائی حدود کو فوجی پروازوں کے لئے استعمال کرنے کی اب بھی اجازت دیتے ہیں۔

گزشتہ روز حکومت پاکستان نے ایک بار پھر ایسی میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا تھا جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملک سینیٹ کو بتایا کہ یہ خبریں بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں ایوان میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی سربراہی میں پاکستان اپنی سرزمین پر کبھی بھی کسی امریکی اڈے کی اجازت نہیں دے گا۔

طالبان اور واشنگٹن کے درمیان تاریخی معاہدہ

گزشتہ سال طالبان اور واشنگٹن کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ہوا جس نے افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کی راہ ہموار کی تھی۔ اس کے بدلے میں طالبان نے کہا کہ وہ افغانستان کو القاعدہ اور عسکریت پسند اسلامک اسٹیٹ گروپ جیسے جہادی گروہوں کا اڈہ نہیں بننے دیں گے۔

گزشتہ ماہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ 11 ستمبر تک باقی تمام ڈھائی ہزار امریکی فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے۔ لیکن امریکی انخلا سے یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ کیا افغان حکومت اکیلے طالبان کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور حکومتی فورسز اور طالبان میں روزانہ کی بنیاد پر تصادم ہو رہے ہیں۔ جنگ کے خاتمے کے لئے امن مذاکرات التوا کا شکار ہونے کے بعد طالبان مزید علاقے قبضے میں لینے کے لیے اپنی مہم تیز کررہے ہیں، جس میں دونوں جانب سے مسلح افراد سمیت عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی جاری ہیں۔

یونیورسٹی امتحانات کے انعقاد کے لئے اعلی سطحی کمیٹی کا قیام

0
یونیورسٹی امتحانات کے انعقاد کے لئے اعلی سطحی کمیٹی کا قیام
یونیورسٹی امتحانات کے انعقاد کے لئے اعلی سطحی کمیٹی کا قیام

اعلی تعلیم کے وزیر بھنور سنگھ بھاٹی نے بتایا کہ عالمی وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے ریاست کی تمام یونیورسٹی امتحانات ملتوی ہونے اور وقت پر منعقد نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ تعلیمی سیشن بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

جے پور: راجستھان میں یونیورسٹیوں کے سال 21 ۔ 2020 کے ملتوی امتحانات کے انعقاد اور آئندہ تعلیمی سیشن 22۔2021 بروقت شروع کرنے سے متعلقہ تجاویز دینے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اعلی تعلیم کے وزیر بھنور سنگھ بھاٹی نے بتایا کہ عالمی وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے ریاست کی تمام یونیورسٹی امتحانات ملتوی ہونے اور وقت پر منعقد نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ تعلیمی سیشن بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

مسٹر بھاٹی نے بتایا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر دیوسوورپ کو اس سلسلے میں تشکیل دی گئی اس اعلی سطحی کمیٹی میں گووند گرو جن جاتیہ یونیورسٹی بانسوارہ، موہن لال سکھادیہ یونیورسٹی اودے پور اور ہری دیو جوشی یونیورسٹی آف جرنلزم اور ماس کمیونی کیشن جے پور سمیت کمشنر کالج آف ایجوکیشن اور جوائنٹ سکریٹری ہائر ایجوکیشن کو شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کمیٹی کووڈ ۔ 19 کے موجودہ حالات، ایم ایچ آر ڈی اور متعلقہ باضابطہ اداروں یعنی یو جی سی، اے آئی سی ٹی ای، این سی ٹی ای، بی سی آئی وغیرہ کے معیارات اور ان تنظیموں کے ذریعے کووڈ ۔ 19 کے نتیجہ کے طور پر امتحانات کے انعقاد، تعلیمی سیشنوں سے متعلق وقت ۔ وقت پر جاری ہدایات اور دیگر تمام پہلوؤں پر غور و خوض کرکے تجاویز پیش کرے گی۔

مسٹر بھاٹی نے کہا کہ اس تجویز میں امتحانات آن لائن، آف لائن منعقد کرنے، امتحانات کی تاریخ مقرر کرنا، نصاب میں کمی کرنے، سوالات کو حل کرنے سے متعلق متبادل کی فراہمی، امتحانات کا وقت مختصر کرنے، جوابی پرچوں کی جانچ اور امتحانات کے نتائج جاری کرنے، جن کلاسز کے سمسٹر وغیرہ میں طلباء کو بغیر امتحان کے اگلی کلاس میں پروموٹ کرنا ممکن ہو، انہیں پروموٹ کرنے کے لئے فارمولے وغیرہ طے کرنے اور آئندہ تعلیمی سیشن شروع کرنا وغیرہ جیسے سبھی پہلوؤں پر تفصیلی تجاویز اور سفارشات پیش کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی 15 دنوں میں ریاستی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

مسلم ممالک کا اقوام متحدہ سے فلسطین کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

0
مسلم ممالک کا اقوام متحدہ سے فلسطین کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات کا مطالبہ
مسلم ممالک کا اقوام متحدہ سے فلسطین کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اسلامی تعاون کونسل (او آئی سی) اور ریاست فلسطین کے کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے، پاکستان کی درخواست پر غزہ میں اسرائیل کے حملوں کے بارے میں ایک خصوصی اجلاس منعقد کرے گی۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل  خصوصی اجلاس جمعرات کو منعقد ہوگا۔

دبئی: اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روزہ جنگ کے دوران ممکنہ جرائم کی ذمہ داری طے کرنے کے لئے تحقیقات کا مسلم ممالک نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان ممالک نے مشرقی مقبوضہ بیت المقدس سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل میں 13 اپریل سے ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے آزاد بین الاقوامی کمیشن تشکیل دینے کے لیے قرارداد کا مسودہ جمع کرا دیا۔ قرارداد کے مسودے میں کہا گیا کہ کمیشن قومیت، نسلی یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر منظم امتیاز اور جبر سمیت عدم استحکام اور کشیدگی کی تمام وجوہات کا جائزہ لے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے اسلامی تعاون کونسل (او آئی سی) کے بطور کوآرڈینیٹر اور ریاست فلسطین کی درخواست پر حالیہ کشیدگی پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا خصوصی اجلاس جمعرات کو منعقد ہوگا۔

آزاد ٹیم کشیدگی کے دوران فرانزک مواد سمیت جرائم کے ثبوت اکٹھے کرے گی اور ان کا جائزہ لے گی تاکہ قانونی کارروائی میں اس کو تسلیم کرنے کے امکان کو زیادہ سے زیادہ کیا جاسکے۔

جون 2022 میں دوبارہ رپورٹ کرکے ٹیم، کوشش کرنے اور اس جارحیت کے خاتمے کے ذمہ داران کا تعین کرے گی اور قانونی احتساب کو یقینی بنائے گی۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے اسرائیل کی سفیر میرو ایلون شاہر نے گزشتہ ہفتے ٹویٹ میں کہا تھا کہ اجلاس میں اسرائیل کو ہدف بنانا اس بات کی گواہی ہے کہ ادارہ اسرائیل مخالف ایجنڈا رکھتا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ اجلاس کے اسپانسرز، دہشت گرد تنظیم حماس کی کارروائیوں کو جائز قرار دے رہے ہیں۔

امریکہ نے صدر جو بائیڈن کے تحت فورم میں دوبارہ شمولیت اختیار کی تھی، قبل ازیں ٹرمپ انتظامیہ نے کونسل پر اسرائیل مخالف جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

واضح رہے کہ 2006 میں قیام کے بعد سے اقوام متحدہ کی 47 رکنی انسانی حقوق کونسل ایسے 8 خصوصی اجلاس منعقد کر چکی ہے جن میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی گئی اور اس کے مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے متعدد تحقیقات ہوئیں۔

سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن ہیں نئے ضابطے: کانگریس

0
سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن ہیں نئے ضابطے: کانگریس
سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن ہیں نئے ضابطے: کانگریس

سوشل میڈیا پی آر قدغن کے جو ضابطے حکومت آج یا کل سے نافذ کرنے جا رہی ہے، وہ 25 فروری کو شائع ہوئے تھے اور اب تین ماہ پورے ہونے کے بعد انھیں نافذ کیا جانا ہے۔ اس نئے ضابطے کے تحت حکومت کی کوشش آئینی حقوق اور آئینی اداروں کا گلا گھونٹنے اور انھیں اپنے اشاروں پر چلنے کے لیے مجبور کرنا ہے۔ کوئی حکومت کے خلاف آواز نہ اٹھائے یا اس کی کوئی مخالفت نہ ہو، اسی مقصد سے یہ قانون بنایا گیا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس نے سوشل میڈیا کے لیے نئے ضابطوں کو مودی حکومت کی تاناشاہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تک اس پلیٹ فارم کا استعمال اظہار خیال کی آزادی کے طور پر ہوتا آیا ہے۔ لیکن نئے ضابطے نافذ کرکے حکومت اس پر قدغن لگا رہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے بدھ کے روز پریس کانفرنس میں کہا کہ اظہار خیال کی آزادی پر مودی حکومت جن نئے ضابطوں کو نافذ کر رہی ہے، وہ بے درد، بے رحم، بے ایمانی اور تاناشاہی کی مثالیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اظہار خیال کی آزادی پر شمالی کوریا کا تاناشاہ بھی اتنی بے رحمی سے ضابطے نافذ نہیں کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس بے رحمی سے مودی حکومت یہ ضابطے لا رہی ہے، وہ شمالی کوریا کے تاناشاہ کے لیے بھی باعث تحریک ہو سکتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سوشل میڈیا پی آر قدغن کے جو ضابطے حکومت آج یا کل سے نافذ کرنے جا رہی ہے، وہ 25 فروری کو شائع ہوئے تھے اور اب تین ماہ پورے ہونے کے بعد انھیں نافذ کیا جانا ہے۔ ان ضابطوں کو ڈیجیٹل میڈیا کے لیے 2020-21 کا ضابطہ کہا جاتا ہے۔ ان ضابطوں میں جو انتظام کیا گیا ہے، وہی شمالی کوریا کے حکمراں کا سوشل میڈیا اور پریس کے تئیں ہوتا ہے۔

مسٹر سنگھوی نے کہا کہ اس نئے ضابطے کے تحت حکومت کی کوشش آئینی حقوق اور آئینی اداروں کا گلا گھونٹنے اور انھیں اپنے اشاروں پر چلنے کے لیے مجبور کرنا ہے۔ کوئی حکومت کے خلاف آواز نہ اٹھائے یا اس کی کوئی مخالفت نہ ہو، اسی مقصد سے یہ قانون بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ضابطے میں سب سے خرابی یہ ہے کہ اس کے ذریعے ایکٹ پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین قانون اسے سنگین صورتحال مانتے ہیں کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوا ہے لیکن یہاں حکومت نے تاناشاہی رویہ اختیار کرکے من مانی کی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بولنے کی آزادی انسانی ثقافت کی آکسیجن ہے اور یہ صورتحال جمہوریت کے شعبے میں بھی آکسیجن کی کمی پیدا کرتی ہے۔ حکومت نے آج بہت ہی سنگین حالات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ مسئلہ ہماری تہذیب میں تبادلہ خیال سے منسلک ہے اور اس پر سنجیدگی سے سوچا جانا چاہیے۔

یاس طوفان ساحل سمندر سے ٹکرایا، مشرقی مدنی پور میں بڑے پیمانے پر مچی تباہی: ممتا بنرجی

0
یاس طوفان ساحل سمندر سے ٹکرایا، مشرقی مدنی پور میں بڑے پیمانے پر مچی تباہی: ممتا بنرجی
یاس طوفان ساحل سمندر سے ٹکرایا، مشرقی مدنی پور میں بڑے پیمانے پر مچی تباہی: ممتا بنرجی

خلیج بنگال میں برپا یاس طوفان اڑیسہ کے بالاسور کے ساحل سے صبح 9.15 بجے ٹکرانا شروع کردیا ہے۔ ممتا بنرجی کی رپورٹ کے مطابق، ساحلی علاقے میں 60 کلومیٹر پشتے تباہ ہوگئے ہیں۔ بہت سے ڈیم ٹوٹ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ نندی گرام بھی سیلاب کی زد میں آگیا ہے۔

کلکتہ: خلیج بنگال میں برپا ’’یاس طوفان‘‘ اڑیسہ کے بالاسور کے ساحل سے صبح 9.15 بجے ٹکرانا شروع کردیا ہے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی جنہوں نے پوری رات ریاستی سیکریٹریٹ نوبنو میں کنٹرول روم میں بیٹھ کر مورچہ سنبھال رہی ہیں نے کہا کہ مشرقی مدنی پور میں صورت حال بہت ہی خراب ہے۔ بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

ممتابنرجی نے کہا کہ یاس طوفان کی وجہ سے بنگال میں سیلاب کی صورتحال ہے۔ ہم مجموعی طور پر 15 لاکھ افراد کو نکالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ بہت سارے علاقے سیلاب کے پانیوں میں غرق ہو رہے ہیں۔ جو پانی میں آپ دیکھ رہے ہیں وہ خوفناک ہے۔ کم سے کم 30 ہزار مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔ حالات پر میری پوری نگاہ ہے۔

وزیر اعلی نے کہا کہ مشرقی مدنی پور میں 51 ڈیموں کو نقصان پہنچا ہے۔ مشرقی مدنی پور سے اب تک 3.6 لاکھ افراد کو نکالا جا چکا ہے۔ ضرورت پڑنے پر فوجی دستے تعینات کیے جائیں گے۔ممتا بنرجی کی رپورٹ کے مطابق، ساحلی علاقے میں 60 کلومیٹر پشتے تباہ ہوگئے ہیں۔ بہت سے ڈیم ٹوٹ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ نندی گرام بھی سیلاب کی زد میں آگیا ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی حکومت اور سرکاری عملہ شہریوں کی خدمات کے لے مستعد ہیں۔ وہ خود ہی مشرقی مدنی پور ضلع حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ تباہی 6 سے 7 گھنٹے تک جاری رہے گی۔

ادھر، یاس کا لینڈ فال شروع ہوچکا ہے۔ صبح 9.15 بجے سے طوفان یاس نے بالشور میں دھامرا بندرگاہ کے قریب زوردار گولہ باری شروع کردی۔ اگلے 3 گھنٹوں تک لینڈ کا عمل جاری رہے گا۔

زمین کے تنازعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر سیمانچل کی گنگا جمنی تہذیب پر حملہ کی کوشش

0
زمین کے تنازعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر سیمانچل کی گنگا جمنی تہذیب پر حملہ کی کوشش
زمین کے تنازعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر سیمانچل کی گنگا جمنی تہذیب پر حملہ کی کوشش

زمین پر نا جائز قبضہ کو لے کر پونیہ ضلع کے بائسی میں ہوئے تنازعہ کو فرقہ پرستی کا رنگ دینے والے سیمانچل کی گنگا جمنی تہذیب کے دشمن ہیں، سبھی مذہب اور ہر طبقہ کے لوگوں کو مل کر سیمانچل کے بھائی چارہ کو زندہ رکھنا ہے: اخترالایمان

رپورٹ: مفتی منظر محسن

پورنیہ: پورنیہ ضلع کی بائیسی تحصیل کے مجھوا گاؤں میں گزشتہ دنوں دو فریق کے درمیان زمین کے معاملے میں جھگڑا ہو گیا تھا جسے بعض سماج دشمن عناصر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں۔ اسی معاملے کو لے کر گزشتہ کل (25/ مئی 2021) صدر مجلس بہار اور امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے جناب اخترالایمان صاحب نے ضلع پورنیہ کے ڈی ایم کے ساتھ ان کے دفتر میں ملاقات کی اور ان سے ضلع کے امن و امان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کی۔

صدر مجلس بہار اخترالایمان صاحب نے کہا کہ "مجھوا بائیسی کا حالیہ معاملہ انتہائی افسوس ناک معاملہ ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک ملک بھر میں ہزاروں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، لاکھوں گھرانے لٹ گئے، کروڑوں نہیں اربوں، کھربوں کا نقصان ہو چکا، لیکن ہمیں فخر ہے کہ سیمانچل کے اس مسلم اکثریتی خطے نے کبھی بھی یہاں کے اقلیتی طبقے کے ساتھ ظلم کو روا نہیں رکھا۔”

جناب اختر الایمان نے مزید کہا کہ "محبتوں کی یہ زمین ہمیشہ فرقہ وارانہ فسادات سے پاک رہی، لیکن چند سالوں سے جس طرح ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات کرائے جا رہے ہیں۔ منظم پلاننگ کے تحت کسی خاص طبقے کی معیشت کو کمزور کرنے کی ناپاک کوششیں ہو رہی ہیں، اس کی آگ میں ملک کا اکثر حصہ جل رہا ہے۔ سیمانچل کے انسان دوست جیالوں نے ایسے برے حالات میں بھی خود کو بھارت کی  گنگا جمنی تہذیب سے جوڑے رکھا ہے، جس سے ذات پات اور مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے حکومت، اقتدار اور جاہ و منصب کے  بھوکے بھیڑیے پریشان ہیں۔ وہ امن و شانتی کی اس سرزمین کو ناپاک کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دو فریق کے درمیان زمین کے معاملے کو لے کر ہوئے جھگڑے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

"مجھوا بائیسی کا حالیہ معاملہ انتہائی افسوس ناک معاملہ ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک ملک بھر میں ہزاروں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، لاکھوں گھرانے لٹ گئے، کروڑوں نہیں اربوں، کھربوں کا نقصان ہو چکا، لیکن ہمیں فخر ہے کہ سیمانچل کے اس مسلم اکثریتی خطے نے کبھی بھی یہاں کے اقلیتی طبقے کے ساتھ ظلم کو روا نہیں رکھا۔” اختر الایمان

انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر فرقہ پرستی کے ڈنک کو ختم کرنا ہوگا۔ اگر اسے ختم نہیں کیا گیا تو سیمانچل اس جگہ پر پہنچ جائے گا جہاں چاہ کر بھی سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے ضلع پورنیہ کے ڈی ایم صاحب اور یہاں انتظامیہ کے سبھی ذمہ داران سے پُر زور اپیل کی کہ وہ ایسے سماج دشمن عناصر پر نکیل لگائیں۔

مجلس اتحاد المسمین بہار کے ریاستی صدر نے ڈی ایم پورنیہ سے ملاقات کے دوران اس بات کا منصفانہ مطالبہ بھی کیا کہ مجھوا بائسی معاملے میں تعصب سے اوپر اٹھ کر اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے اور جو گنہگار ہوں اسے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے یہ یقینی بنانے کو کہا کہ کسی بے گناہ کو ہرگز ہراساں نہ کیا جائے۔

ڈی ایم پورنیہ نے اخترالایمان صاحب کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کی صاف و شفاف تحقیقات کروائیں گے اور یہ کہ کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا اور کسی بے گناہ پر ظلم نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ڈی ایم صاحب سے پُر امید ملاقات کے بعد ایم ایل امور اپنے اسمبلی حلقہ کے مختلف مقامات کے دورے پر روانہ ہو گئے۔ انہوں نے راے بر پنچایت کے ہریا کاشی باڑی پہنچ کر ماسٹر سلیم الدین صاحب مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کیا جن کا انتقال 24 مئی میں ہوا تھا، وہاں سے خوش حال پور چوک اور دوسرے کئی گاؤں کے لوگوں سے ملاقات کرکے علاقے کے حالات کا جائزہ لیا۔ کووڈ 19 کے حوالے سے عوام کو ضروری ہدایات و احکامات سے رو شناس کرایا اور ڈاکٹروں اور حکومت ہند کے ذریعے جاری کی گئی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی۔

حکومت مقتول فیصل کے لواحقین کو 50 لاکھ روپے اور ایک فرد کو ملازمت دے: ڈاکٹر ایوب سرجن

0
حکومت مقتول فیصل کے لواحقین کو 50 لاکھ روپے اور ایک فرد کو ملازمت دے: ڈاکٹر ایوب سرجن
حکومت مقتول فیصل کے لواحقین کو 50 لاکھ روپے اور ایک فرد کو ملازمت دے: ڈاکٹر ایوب سرجن

بی جے پی حکومت میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔ انہیں وقتا فوقتا بلاجواز مارا پیٹا اور ان کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔ کارروائی کے نام پر ملزمان کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ ضلع اناؤ کے بانگڑ مئو کے سبزی فروش فیصل کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا جانا قابل مذمت و ناقابل معافی جرم ہے۔

پرتاپ گڑھ: بی جے پی کی حکومت میں اقلیتی طبقہ محفوظ نہیں ہے۔ انہیں بلاجواز وقت وقت پر مارا پیٹا اور ان کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔ کارروائی کے نام پر ملزمان کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ ضلع اناؤ کے بانگڑ مئو کے سبزی فروش فیصل کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا جانا قابل مذمت و ناقابل معافی جرم ہے۔ جب عوام کی حفاظت کرنے والے ہی ظالم ہو جائے تو ایسے میں نظم نسق پر ایک سوالیہ نشان ضرور ہے۔ حکومت فیصل کو ہلاک کرنے والے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کر ان کے اہل خانہ کو پچاس لاکھ روپیہ معاوضہ اور ایک فرد کو ملازمت دے۔

پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے جاری پریس ریلیز کے ذریعہ مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ ملک کے مختلف صوبوں سے وقت وقت پر اخباروں کی سرخی ماب لنچنگ جیسے واقعات ہوتے ہیں۔ سر پسند عناصر جو ملک میں ایسے واقعات کا انجام دے رہے ہیں، ان کے خلاف کوئی سخت قانونی کارروائی نہ ہونے کے سبب ان کے حوصلے بلند ہیں۔ یہاں تک کہ اب سرکاری مشینری بھی حکومت کی فرقہ وارانہ منشاء کے بموجب کام کر رہی ہے، جس کی مثال بے گناہ غریب فیصل کا قتل ہے، اگر کسی ملزم کے خلاف کارروائی بھی کی جاتی ہے تو کیس اتنا بے اثر ہوتا ہے کہ وہ آرام سے جلد عدالت سے رہا ہو جاتا ہے۔ جب ماب لنچنگ کے انجام دینے والے سر پسند عناصر کا خیرمقدم بی جے پی کے وزیر کریں گے اور حمایت میں بیان دیں گے تو ایسے حالات و واقعات میں اضافہ ہوگا کہ کمی آئے گی؟

ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ پیس پارٹی مقتول فیصل کے اہل خانہ کا ہر طرح سے تعاون کرے گی اور عدالت میں مقدمہ لڑے گی۔ پیس پارٹی ملک کے ہر غریب، کمزور و مظلوم افراد کے ساتھ کھڑی ہے، چاہے وہ کسی ذات یا مذہب کا ہو۔ ہم مذہبی بنیاد کی سیاست نہیں کرتے، بلکہ سبھی کے لیے بلا امتیاز انصاف کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیس پارٹی مستقبل میں ہونے والے ایسے واقعات پر قدغن لگانے و ملزمان کے خلاف سخت کارروائی اور مقتول فیصل کے اہل خانہ کو پچاس لاکھ روپیہ و ایک فرد کو ملازمت دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔

اقوام متحدہ مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کرنے کی حالت میں نہیں، امریکہ اپنے رسوخ کا کرے استعمال: شاہ محمود قریشی

0
اقوام متحدہ مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کرنے کی حالت میں نہیں، امریکہ اپنے رسوخ کا کرے استعمال: شاہ محمود قریشی
اقوام متحدہ مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کرنے کی حالت میں نہیں، امریکہ اپنے رسوخ کا کرے استعمال: شاہ محمود قریشی

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ فلسطین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) اب فلسطین کے مسئلے کو ’نظر انداز‘ کرنے کی حالت میں نہیں ہے اور اس ضمن میں اس کو فیصلہ کرنا پڑے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ وہ واحد ملک ہے جس کی اسرائیل سنے گا۔

انقرہ: پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ فلسطین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) اب مسئلہ فلسطین پ کو ’نظر انداز‘ کرنے کی حالت میں نہیں ہے اور اس ضمن میں اس کو فیصلہ کرنا پڑے گا۔ یہ بات انہوں نے ایک ترکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

’ڈان‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق فلسطین کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 193 رکنی ہنگامی اجلاس کے بعد ترکی کے ٹیلی ویژن چینل ‘ٹی آر ٹی’ پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فلسطین پر اسرائیل کی جارحیت کے حالیہ واقعات نے ان لوگوں کو جھنجھوڑ دیا جو باہر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اسرائیلی حملوں پر ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ اسلامی تعاون کونسل (او آئی سی) اور عرب لیگ عملی طور پر فعال ہو جائے گی، نان الائن موومنٹ متحرک ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں جنرل اسمبلی کا خصوصی ہنگامی اجلاس منعقد ہوگا۔ انہوں نے اسے ’ایک بے مثال سیشن‘ قرار دیا۔

سلامتی کونسل کا اجلاس ایک واضح پیغام بھیجے گا

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس ایک واضح پیغام بھیجے گا کہ ’بہت‘ ہوگیا ہے اور جو لوگ بنیادی حقوق پر یقین رکھتے ہیں انہیں ضرور آواز بلند کرنی چاہیے اور وہ اب ‘ایک طرف ہو کر نہیں بیٹھ سکتے‘۔

یو این جی اے، یو این ایس سی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے متعلق سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہیں سب سے پہلے جنگ بندی کرانے کی ضرورت ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا یو این جی اے اجلاس میں شرکت کا ایک نکاتی ایجنڈا تھا جو جنگ بندی کی ضرورت پر زور دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’جب اس ایجنڈے میں کامیابی ملے گی تو تمام دیگر مراحل بھی حل ہو جائیں گے‘۔

بین الاقوامی تحفظ فورس جیسی کوئی فورس تشکیل دینے کی ضرورت

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ او آئی سی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ جو اس دن نیویارک میں موجود تھے وہ یو این جی اے کے صدر سے ملاقات کریں گے اور انہیں بین الاقوامی تحفظ فورس جیسی کوئی فورس تشکیل دینے کی تجویز پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس خیال کو آگے بڑھائیں گے اور جنرل اسمبلی کے صدر کے ساتھ اس کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ وہ واحد ملک ہے جس کی اسرائیل سنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کا اسرائیل پر اثر و رسوخ ہے اور اسے اسرائیل کو راضی کرنے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہ دنیا کو قبول نہیں ہے۔

یاس طوفان: بنگال کے 9 اضلاع میں ہائی الرٹ جاری، سیلاب کا خطرہ

0
یاس طوفان: بنگال کے 9 اضلاع میں ہائی الرٹ جاری، سیلاب کا خطرہ
یاس طوفان: بنگال کے 9 اضلاع میں ہائی الرٹ جاری، سیلاب کا خطرہ

یاس طوفان کی شدت کے بعد مغربی بنگال حکومت نے ریاست کے نو اضلاع مدنی پور، مرشد آباد، ہوڑہ، ہگلی اور بردوان کے دو اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ طوفان کی وجہ سے ریاست کے 9 اضلاع میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال حکومت نے یاس طوفان کی شدت کے بعد ریاست کے 9 اضلاع مدنی پور، مرشد آباد، ہوڑہ، ہگلی اور بردوان کے دو اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔ منگل کی سہ پہر یاس طوفان میں شدت آ گئی ہے اس وقت اڑیسہ کے 360 کلومیٹر دور ہے۔

جنوبی 24 پرگنہ اور شمالی 24 پرگنہ کے نشیبی علاقوں سے لاکھوں افراد کو نکال لیا گیا ہے۔ انہیں امدادی کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ کیمپوں میں کورونا کے پروٹوکول کا خاص خیال رکھا جارہا ہے۔ امدادی کیمپوں میں ماسک اور سینیٹائزر شامل ہیں۔

بنگال میں مشرقی مدنی پور اور جنوبی 24 پرگنہ کے ساحلی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ دیگھا میں فوج تعینات کردیا گیا ہے۔ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ یاس طوفان کی وجہ سے ریاست کے 9 اضلاع میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ ضلع انتظامیہ کو اس سے باخبر کردیا گیا ہے۔ منگل کی صبح سے طوفان یاس کی وجہ سے جنوبی بنگال کے تمام اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صبح سے ہی آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہیں۔ رک رک کر بارش ہورہی ہے۔ کلکتہ میں آج ہلکی بارش ہوئی ہے۔

آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں کولکاتہ میں تیز اور موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ بارش کی وجہ سے درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ آج صبح تک بارش کی مقدار 34.6 ملی میٹر ہے۔ آج کلکتہ میں کم سے کم درجہ حرارت 25.5 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو معمول سے ایک ڈگری کم ہے۔ نمی زیادہ سے زیادہ 95 فیصد ہے۔ تاہم، یاس کی وجہ سے کلکتہ میں شاید کوئی بڑا نقصان نہیں ہوگا۔ محکمہ موسمیات علی پور نے بتایا کہ کلکتہ اس مرتبہ محفوظ رہ جائے گا۔