منگل, مئی 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 352

سی بی ایس ای کے بارہویں جماعت کے امتحانات منسوخ

0
سی بی ایس ای کے بارہویں جماعت کے امتحانات منسوخ

حکومت نے کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے بارہویں جماعت کے امتحانات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرصدارت ایک اعلی سطحی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔

نئی دہلی: حکومت نے کورونا سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے بارہویں جماعت کے امتحانات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلی سطحی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سی بی ایس ای بورڈ مکمل طور پر طے شدہ معیارات کی بنیاد پر، مقررہ وقت میں بارہویں جماعت کے نتائج تیاری کرنے کے اقدامات کرے گا۔

میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ گزشتہ برس کی طرح اگر کچھ طلبا امتحان دینا چاہتے ہیں تو بورڈ انہیں یہ متبادل فراہم کرے گا، لیکن اگر حالات سازگار ہوجائیں تو یہ امتحان لیا جائے گا۔

عہدیداروں نے امتحانات سے متعلق مختلف فریقین اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ اب تک ہونے والے غور و خوض کے بارے میں وزیر اعظم کو ایک پریزنٹیشن پیش کی۔ اس کے بعد، صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد \، فیصلہ کیا گیا کہ اس سال بارہویں کے امتحان کا انتعقاد نہیں کیا جائے گا۔

مسٹر مودی نے کہا کہ یہ فیصلہ طلباء کے مفاد میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے تعلیمی سیشن متاثر ہوا ہے اور بورڈ امتحانات کے معاملے کے بارے میں طلباء، والدین اور اساتذہ میں الجھن پائی گئی تھی جسے روکنے کی ضرورت تھی۔

میٹنگ میں داخلہ، دفاع، خزانہ، تجارت، اطلاعات و نشریات اور دیگر وزراء کے علاوہ متعدد اعلی عہدیدار شریک ہوئے۔

مسٹر مودی نے کہا کہ کورونا وبا کی صورتحال پورے ملک میں مختلف ہے، حالانکہ انفیکشن کے معاملات میں کمی آ رہی ہے۔ کچھ ریاستیں قابو پانے والے اقدامات کے ذریعہ صورتحال پر قابو پا رہی ہیں، پھر کچھ ریاستوں میں لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ ایسی صورتحال میں طلباء، والدین اور اساتذہ فطری طور پر طلباء کے بارے میں فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کو اس طرح کے دباؤ کی صورتحال میں امتحان دینے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے۔ وزیر تعلیم ایمس میں داخل ہونے کی وجہ سے میٹنگ میں شریک نہیں ہوسکے۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ طلبا کی صحت اور حفاظت سب سے اہم ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں، نوجوانوں کو امتحان کی وجہ سے خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تمام فریقین کو طلباء کے تئیں حساس رخ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ نتائج کو پوری طرح طے شدہ معیارات کی بنیاد پر بالکل منصفانہ اور غیر جانبدارانہ اور مقررہ وقت کے طرز پر انجام دیا جانا چاہئے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک بھر میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ غور خوض کے بعد طلبا کے مفاد میں فیصلہ لیا گیا ہے اور اس کی تعریف کی جانی چاہئے۔ انہوں نے اس معاملے پر اپنے خیالات کے اظہار کے لئے ریاستوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

بابا رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو دیا گیا میمورنڈم 

0
بابا رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو دیا گیا میمورنڈم 
بابا رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو دیا گیا میمورنڈم 

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کی ہریانہ برانچ کے صدر ڈاکٹر کرن پونیا نے بتایا کہ کووڈ – 19 کے دوران اپنی جان گنوانے والے 1300 سے زیادہ ڈاکٹروں کی تضحیک کرنے والے بابا رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کے توسط سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو ایک میمورنڈم دیا گیا ہے۔ 

بھیوانی: ڈاکٹروں اور ایلوپیتھک نظام کے بارے میں یوگا گرو بابا رام دیو کے تبصرے کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں آج انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کی ہریانہ برانچ کے صدر ڈاکٹر کرن پونیا نے جہاں رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ وہیں یہ اعلان بھی کیا کہ ریاست کے تمام ڈاکٹر کل اس مطالبہ پر کالی پٹی باندھ کر مظاہرہ کریں گے اور پرسوں (3 جون کو) او پی ڈی کو دو گھنٹے تک بند رکھیں گے۔

ڈاکٹر کرن پونیا نے بتایا کہ کووڈ – 19 کے دوران اپنی جان گنوانے والے 1300 سے زیادہ ڈاکٹروں کی تضحیک کرنے والے بابا رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کے توسط سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو ایک میمورنڈم دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متوفی ڈاکٹروں کو ‘ٹرٹر’ کہہ کر، ایلوپیتھی کو فضول سائنس قرار دے کر، آکسیجن کو بیکار کی دوا بتا کر، نیز قانون سے خود کو بالا تر سمجھتے ہوئے ان کا یہ کہنا کہ کسی کا باپ بھی انہیں گرفتار نہیں کرسکتا، ایک مغرور آدمی ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈاکٹر پونیا نے کہا کہ کسی بابا یا سادھو کی بھیس میں کوئی نیک آدمی ایسی زبان استعمال نہیں کرسکتا، جو وہ کرتے آئے ہیں۔

ڈاکٹر کرن پونیا نے یہ بھی بتایا کہ کورونا وائرس کے علاج کے لئے بابا رام دیو کی بنائی ہوئی غیر منظور شدہ دوا "کورونیل” مہلک ثابت ہوگی۔ مریض اس کے بھروسے گھر بیٹھا رہے گا اور بے جان حالت میں اسپتال پہنچے گا، جہاں اس کی جان بچانا مشکل ہوگا۔

بابا رام دیو کے خلاف جلد سے جلد کارروائی کی جائے

انہوں نے کہا کہ قومی اور ریاستی سطح پر آئی ایم اے کے لیڈروں میں سے ایسوسی ایشن کے قومی صدر پروفیسر جے اے جئے لال، سابق قومی صدر ڈاکٹر راجن شرما، قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر جئیش لیلے، ریاستی یونٹ کے سرپرست ڈاکٹر وید پرکاش بینی وال، ریاستی خواتین ڈاکٹروں کی یونٹ پرنسپل ڈاکٹر وندنا پونیا، سکریٹری ڈاکٹر انیتا پنوار، ریاستی فنانس سکریٹری ڈاکٹر سواستی شرما نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ بابا رام دیو کے خلاف جلد سے جلد کارروائی کی جائے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز ریاستی سربراہ ڈاکٹر کرن پونیا کی صدارت میں آئی ایم اے کی 38 ریاستی شاخوں کی ایک زوم میٹنگ ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ 2 جون کو ہریانہ ریاست کے تمام آئی ایم اے ممبر کالی پٹی اور ربن باندھ کر بابا رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ کریں گے اور 3 جون کو دو گھنٹے تک او پی ڈی بند رکھیں گے۔ اس دوران صرف کورونا وائرس کے مریضوں اور ہنگامی مریضوں کو ہی دیکھا جائے گا۔

کانگو میں مسلح گروہ کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ، 50 افراد ہلاک

0
کانگو میں مسلح گروہ کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ، 50 افراد ہلاک
کانگو میں مسلح گروہ کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ، 50 افراد ہلاک

افریقی ملک کانگو میں مسلح افراد نے گاؤں پر حملہ کرکے 50 افراد کو ہلاک کردیا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقہ میں اب بھی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ خوف کی وجہ سے متعدد افراد زخمی حالت میں جھاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔

کنشاسا: لسانی فسادات اور بغاوت سے دوچار افریقی ملک کانگو میں مسلح افراد کے حملے میں 50 افراد ہلاک ہوگئے۔ 

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق افریقی ملک کانگو میں مسلح افراد نے گاؤں پر حملہ کرکے 50 افراد کو ہلاک کردیا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقہ میں اب بھی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ جب کہ خوف کی وجہ سے متعدد افراد زخمی حالت میں جھاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کی تلاش کا کام جاری ہے۔

حکام کے مطابق حملہ آوروں کی بڑی تعداد نے بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ کیا۔ جب کہ ہلاک افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق اے ڈی ایف ملیشیا گروپ سے ہے۔ اس کا تعلق داعش گروپ سے ہے تاہم اس حوالے سے تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔

واضح رہے کانگو میں لسانی فسادات اور بغاوت کے باعث معاشی صورت حال نہایت ابتر ہے۔ معدنیات سے مالامال علاقوں میں قبضے کے لئے حکومت اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں معمول کی بات ہیں۔ یہاں آئے دن مسلح افواج اور ملیشیا گروپ میں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، جس میں درجنوں کی تعداد میں لوگوں کی جانیں جاتی رہتی ہیں۔

مدھیہ پریدش میں آج کورونا کرفیو میں رعایت کا اثر آیا نظر، اہم دکانیں اور ادارے کھلنے کا عمل شروع

0
مدھیہ پردیش میں آج کورونا کرفیو میں رعایت کا اثر آیا نظر، اہم دکانیں اور ادارے کھلنے کا عمل شروع
مدھیہ پردیش میں آج کورونا کرفیو میں رعایت کا اثر آیا نظر، اہم دکانیں اور ادارے کھلنے کا عمل شروع

مدھیہ پردیش میں تقریباً دو ماہ کے بعد کرفیو میں آج دھیرے دھیرے رعایت دینے کا اثر نظر آیا۔ دارالحکومت بھوپال میں صبح سے اہم بازاروں کی دکانیں گائڈ لائن کے مطابق کھلتی نظر آئیں۔ محلوں میں بھی دکانیں کھلیں، زیادہ تر تاجر سب سے پہلے اپنی اپنی دکانوں اور اداروں کی صفائی کرتے ہوئے نظر آئے۔

بھوپال: مدھیہ پردیش میں تقریباً دو ماہ کے بعد کرفیو میں آج دھیرے دھیرے رعایت دینے کا اثر نظر آیا اور اہم دکانیں اور ادارے کھلنے کا عمل شروع ہو گیا۔ تمام 52 اضلاع میں مقامی صورتحال کے مطابق ڈھیل دی گئی ہے اور انتظامیہ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

دارالحکومت بھوپال میں صبح سے اہم بازاروں کی دکانیں گائڈ لائن کے مطابق کھلتی نظر آئیں۔ محلوں میں بھی دکانیں کھلیں، زیادہ تر تاجر سب سے پہلے اپنی اپنی دکانوں اور اداروں کی صفائی کرتے ہوئے نظر آئے۔ حالانکہ ابھی کچھ ہی دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں زیادہ تر کرانہ اور سروس سیکٹر سے وابستہ دکانیں شامل ہیں۔

بھوپال میں اہم راستوں پر لگائے گئے بیریکیڈس بھی کم کیے گئے ہیں۔ آج لوگوں کی آمد و رفت بھی سڑکوں پر نظر آئی۔ پولیس اور انتظامیہ نظر رکھے ہوئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ کورونا ہدایات پر عمل درآمد کیا جائے۔ دوسری جانب کورونا کی دوسری لہر کے بعد شہری اس بار پہلے کے مقابلے میں محتاط نظر آ رہے ہیں۔

بھوپال میں چھ افراد سے زیادہ ایک ساتھ جمع ہونے پر پابندی

مدھیہ پردیش دارالحکومت بھوپال میں ہفتہ کے روز اور اتوار کو کورونا کرفیو جاری رہے گا۔ علاوہ ازیں یومیہ رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک بھی کرفیو نافذ رہے گا۔ کورونا وائرس کی صورتحال اب بھی قائم رہنے کے لیے عوام سے بھیڑ نہ لگانے کی اپیل کی گئی ہے۔ کہیں بھی چھ افراد سے زیادہ ایک ساتھ موجود نہیں ہو سکیں گے۔ ماسک پہننا ضروری کیا گیا ہے۔

ریاست میں سب سے زیادہ کورونا کیسز والے اندور میں آج بھی ڈھیل کے مطابق تجارتی سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ وہاں پر بھی انتظامیہ محتاط نظر آ رہی ہے اور عوامی حصہ داری کے ذریعے عوام سے کورونا گائڈ لائن پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح کی خبریں گوالیار، جبل پور، ساگر، اجین ریوا، شہڈول، چھندواڑہ، کھنڈوا اور دیگر اضلاع سے ملی ہیں۔

ریاست میں کورونا کی دوسری لہر کے سبب زیادہ وبا کے وقت اپریل ماہ میں اوسط پوزیٹیوٹی ریٹ 25 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو اب کم ہو کر دو فیصد کے اندر آ گئی ہے۔ لیکن حکومت کے تناظر میں پوزیٹیوٹی ریٹ نہ بڑھنے دینے کے ساتھ ہی صفر پر لے جانے کی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اسی وجہ سے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، سینیئر افسر اور فیلڈ عملہ واقع نظر رکھ کر یومیہ اس کا تجزیہ کر رہے ہیں۔

پاکستان میں بارش سے مختلف حادثوں میں 10 افراد کی موت، تین زخمی

0
پاکستان میں بارش سے مختلف حادثوں میں 10 افراد کی موت، تین زخمی
پاکستان میں بارش سے مختلف حادثوں میں 10 افراد کی موت، تین زخمی

پاکستان کے مشرقی صوبے میں بارش سے متعلق مختلف حادثات میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پنجاب کے اوکاڑا شہر کے طارق آباد علاقے میں آندھی-بارش کے دوران ایک چھت کے منہدم ہونے سے آٹھ افراد کی موت ہو گئی اور دیگر تین زخمی ہو گئے۔

اسلام آباد: پاکستان کے مشرقی صوبے میں بارش سے متعلق مختلف حادثوں میں کم از کم 10 افراد کی موت ہو گئی اور دیگر تین زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی میڈیا نے یہ اطلاع دی ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پنجاب کے اوکاڑا شہر کے طارق آباد علاقے میں آندھی-بارش کے دوران ایک چھت کے منہدم ہونے سے آٹھ افراد کی موت ہو گئی اور دیگر تین زخمی ہو گئے۔

مقامی افراد اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال پہنچایا۔ ہلاکتوں میں تین خواتین، چار بچے اور ایک مرد شامل ہیں۔ زخمیوں کی شناخت ابھی نہیں ہو پائی ہے۔ وہیں ایک دیگر حادثے میں دو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے پیر کے روز ملک کے مختلف حصوں میں تیزی ہوا کے چلنے اور گرج کے ساتھ بارش ہونے کی بابت الرٹ کر دیا تھا۔

کیسز کی گرتی ہوئی تعداد کے باوجود کورونا وائرس پر فتح کا اعلان کرنا جلد بازی: ڈاکٹر فوسی

0
کیسز کی گرتی ہوئی تعداد کے باوجود کورونا وائرس پر فتح کا اعلان کرنا جلد بازی: ڈاکٹر فوسی
کیسز کی گرتی ہوئی تعداد کے باوجود کورونا وائرس پر فتح کا اعلان کرنا جلد بازی: ڈاکٹر فوسی

ڈاکٹر فوسی نے خبردار کیا ہے کہ کووڈ کیسز کی گرتی ہوئی تعداد کے باوجود کورونا وائرس پر فتح حاصل کرنے کا اعلان ابھی جلد بازی ہوگا۔ ڈاکٹر فوسی نے کہا ’’ہم وقت سے پہلے فتح کا اعلان نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ ابھی ہمیں بہت آگے جانا ہے۔ جتنے زیادہ لوگوں کو ٹیکہ لگایا جائے گا، معاشرہ اتنا زیادہ محفوظ ہوگا‘‘۔

واشنگٹن: امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشیس ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فوسی نے خبردار کیا ہے کہ کووڈ کیسز کی گرتی ہوئی تعداد کے باوجود کورونا وائرس پر فتح حاصل کرنے کا اعلان ابھی جلد بازی ہوگا۔

اخبار دی گارڈین نے ڈاکٹر فوسی کے حوالے سے کہا کہ ’’ہم وقت سے پہلے فتح کا اعلان نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ ابھی ہمیں بہت آگے جانا ہے۔ جتنے زیادہ لوگوں کو ٹیکہ لگایا جائے گا، معاشرہ اتنا زیادہ محفوظ ہوگا‘‘۔

انہوں نے وضاحت کی ہے کہ نئے کورونا وائرس کے مختلف ویرینٹ کے امکانات، جو موجودہ ویکسین کے اثر کو کم کرسکتے ہیں، تب تک برقرار رہیں گے جب تک کہ دنیا بھر میں ’کچھ حد تک سرگرمی‘ جاری رہتی ہے۔

جانس ہاپکنز یونیورسٹی (جے ایچ یو) کا اندازہ ہے کہ عالمی سطح پر، مئی کے آغاز تک یومیہ معاملے نصف سے کم ہو جائیں گے۔ امراض پر قابو پانے اور روک تھام کے مرکز کا کہنا ہے کہ گذشتہ جمعہ تک، 12 سال اور اس سے زیادہ عمر کے امریکی شہریوں میں سے 59.1 فیصد افراد کو اس ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگائی جاچکی تھی۔

ویکسین کی قیمت ملک بھر میں یکساں رکھنے کی ضرورت: سپریم کورٹ

0
ویکسین کی قیمت ملک بھر میں یکساں رکھنے کی ضرورت: سپریم کورٹ
ویکسین کی قیمت ملک بھر میں یکساں رکھنے کی ضرورت: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کورونا ویکسین کی قیمت میں یکسانیت نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ پورے ملک میں کورونا ویکسین کی قیمت یکساں رکھی جانی چاہیے۔ اس نے مرکزی حکومت سے کووڈ ویکسین کی دوہری قیمت اور خریداری پالیسی کے تعلق سے کئی سوال کئے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کورونا ویکسین کی قیمت میں یکسانیت نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ پورے ملک میں کورونا ویکسین کی قیمت یکساں رکھی جانی چاہیے۔ جج ڈی وائی چندرچوڑ، جج ایل ناگیشور اور جسٹس ایس روندربھٹ کی تعطیلاتی بینچ نے کورونا کے ٹیکے کی مختلف قیمتوں کے سبب مرکزی حکومت سے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس نے مرکزی حکومت سے کووڈ ویکسین کی دوہری قیمت اور خریداری پالیسی کے تعلق سے کئی سوال کئے۔

جج بھٹ نے کہا، ’’ہم جانتے ہیں کہ ویکسین کی قیمت کے تعلق سے کیا پالیسی ہے۔ ‘‘بنچ نے کورونا کی دوسری لہر کے دوران ضروری خدمات کی تقسیم اور فراہمی کے تعلق سے ازخود نوٹس معاملے کی سماعت کررہی تھی۔

مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسِٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ آکسیجن ٹاسک فورس نے مسودہ رپورٹ تیار کرلی ہے، لیکن اسے ابھی حتمی شکل دیا جانا باقی ہے۔ مسٹر مہتا نے کہا کہ اہل آبادی کو رواں سال کے آخر تک ٹیکہ لگادیا جائے گا، مرکزی حکومت دیگر ٹیکہ مینوفیکچرز جیسے فائزر کے ساتھ بات چیت کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں نے ٹیکے کے لئے گلوبل ٹینڈرجاری کئے ہیں، لیکن ویکسین بنانے والی کمپنیاں جیسے فائزر یا دیگر کی اپنی پالیسی ہے وہ براہ راست ملک سے بات کرتی ہے، ریاست سے بات نہیں کرتی۔

اس معاملے میں سینئر ایڈووکیٹ جئے دیپ گپتا اور محترمہ میناکشی ارورا نے بھی اپنا موقف رکھا۔

مسٹر مہتا کے یہ کہنے کے بعد کہ حکومت تفصیلی حلف نامہ پیش کرے گی، عدالت نے معاملے کی سماعت دو ہفتہ کے لئے ملتوی کردی۔

کچھ رعایتوں کے ساتھ بہار میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن 8 جون تک بڑھا

0
کچھ رعایتوں کے ساتھ بہار میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن 8 جون تک بڑھا
کچھ رعایتوں کے ساتھ بہار میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن 8 جون تک بڑھا

وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی صدارت میں سموار کو کرائس مینجمنٹ گروپ (سی ایم جی) کی میٹنگ میں بہار میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن کو تیسری مرتبہ 8 جون 2021 تک بڑھانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ نتیش کمار نے خود ٹوئٹر پر ٹویٹ کر کے اس کی جانکاری دی۔

پٹنہ: بہار میں پابندی اور تحمل کی وجہ سے کورونا انفیکشن کے معاملے میں آئی کمی کے پیش نظر ریاستی حکومت نے ایک بار پھر لاک ڈاﺅن کی مدت کو سات دنوں کیلئے بڑھا دیا ہے۔ لیکن اس بار 25 فیصد حاضری کے ساتھ سرکاری دفاتر اور ایک دن بیچ کر کے سبھی دکانوں اور اداروں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ دیگر پابندیاں حسب سابق رہیں گی۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی صدارت میں سموار کو کرائس مینجمنٹ گروپ (سی ایم جی) کی میٹنگ میں  ریاست میں جاری لاک ڈاﺅن کو تیسری مرتبہ 8 جون 2021 تک بڑھانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ نتیش کمار نے خود ٹوئٹر پر ٹویٹ کر کے اس کی جانکاری دی۔

بعد میں چیف سکریٹری تری پوراری شرن، ڈیولپمنٹ کمشنر عامرسبحانی، پولیس ڈائریکٹر جنرل ایس کے سنگھل، ایڈیشنل چیف سکریٹری چیتنیہ پرساد، صحت اور آفات منیجمنٹ محکمہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری پرتیہ امرت نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اس بار لاک ڈاﺅن کے دوران کچھ رعایتیں دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سبھی سرکاری دفاتر اب 25 فیصد حاضری کے ساتھ سہ پہر چار بجے تک کھلیں گے لیکن غیر سرکاری دفاتر ابھی بند رہیں گے۔ اسی طرح اب سبھی دکانیں اور ادارے ایک دن بیچ کر کے صبح چھ بجے سے دو پہر دو بجے تک کھل سکیں گے۔ کون سے گروپ کی دکانیں کس دن کھلیں گی یہ متعلقہ ضلع مجسٹریٹ طے کریں گے۔

مسٹر شرن نے کہا کہ کھاد، جراثیم کش ادویہ اور زرعی آلات سے متعلق دکانیں اور ادارے اور ضروری کھانے کی اشیاء، پھل اور سبزی، گوشت، مچھلی، دودھ اور عوامی نظام تقسیم کی دکانیں صبح چھ بجے سے دو پہر دو بجے تک کھلیں گی۔ اس دوران ماسک، سنیٹائزر اور سوشل ڈسٹنسنگ کے ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ انہوں نے بتایاکہ دیگر پابندیوں میں کسی طرح کی کوئی نرمی نہیں برتی گئی ہے۔ سبھی پابندیاں لاک ڈاﺅن کے پچھلے رہنماء اصول کے مطابق رہیں گی۔

چیف سیکریٹری کے تبادلے پر، ممتا بنرجی کی وزیراعظم کو طویل خط لکھ کر فیصلے پر نظرثانی کی اپیل

0
چیف سیکریٹری کے تبادلے پر، ممتا بنرجی کی وزیراعظم کو طویل خط لکھ کر فیصلے پر نظرثانی کی اپیل
چیف سیکریٹری کے تبادلے پر، ممتا بنرجی کی وزیراعظم کو طویل خط لکھ کر فیصلے پر نظرثانی کی اپیل

چیف سیکریٹری کے تبادلے پر بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کے مابین جاری تنازع کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھتے ہوئے ممتا بنرجی نے اپیل کی ہے کہ چیف سیکریٹری الاپن بندو پادھیائے کو دہلی طلب کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ ممتا بنرجی کے خط پر اب تک مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

کلکتہ: چیف سیکریٹری کے تبادلے پر بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کے مابین جاری تنازع کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھتے ہوئے ممتا بنرجی نے اپیل کی ہے کہ چیف سیکریٹری الاپن بندو پادھیائے کو دہلی طلب کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ کیوں کہ ان کی مدت ملازمت میں تین مہینے کی توسیع بنگال حکومت کی درخواست پر کی گئی ہے۔ مگر اس کے باوجود مرکزی حکومت انہیں اچانک دہلی طلب کیا ہے۔

خیال رہے کہ 28 مئی کو یاس طوفان کے بعد وزیرا عظم نریندر مودی کے دورے کے دوران ممتا بنرجی اور وزیر اعظم کے درمیان ملاقات کو لے کر تنازع شروع ہونے کے بعد دیر رات مرکزی حکومت نے چیف سیکریٹری الاپن بندو پادھیائے جن کی مدت ملازمت 31 مئی کو ختم ہو رہی تھی۔ کو اچانک 31 مارچ رپورٹ کرنے کو کہا گیا تھا۔ مگر چیف سیکریٹری کو بنگال حکومت نے ریلیز نہیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج وہ کلکتہ میں ہی ہیں۔

ممتا بنرجی کے خط پر اب تک مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

ممتا بنرجی نے کئی صفحات پر مشتمل خط پر وزیر اعظم کو لکھا ہے کہ کورونا وائرس کی صورت حال کی وجہ سے ہم نے چیف سیکریٹری الاپن بندو پادھیائے کی مدت ملازمت میں تین ماہ کی توسیع کی اپیل کی تھی۔ جسے مرکزی حکومت نے منظور کرلیا تھا مگر اب اچانک انہیں دہلی طلب کیا جارہاہے۔ ممتا بنرجی نے لکھا ہے کہ بنگال کے عوام مشکل ترین وقت سے گزررہی ہے۔ کورونا وبا کے ساتھ ساتھ اس وقت یاس طوفان کی وجہ سے کئی علاقے برباد ہوگئے ہیں۔ ممتا بنرجی نے وزیر اعظم کی اپیل کی ہے کہ بنگال کے عوام کے مفادات کےلئے اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔ الاپن بندو پادھیائے جیسے سینئر و تجربہ کار بیوروکریٹ کی بنگال کے عوام کوضرورت ہے۔

مرکز کا ریاستی حکومت سے رابطہ کئے بغیر یک طرفہ فیصلہ غیر آئینی

اس سے قبل وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت کے اس قدم کو غیر آئینی قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ مرکز نے ریاستی حکومت سے رابطہ کئے بغیر یک طرفہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

ممتا بنرجی نے اپنے خط میں ائیر فورسیس کے ہوائی اڈہ کالائیکونڈا میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجھے امید ہے کہ چیف سیکریٹری کے تبادلےکی وجہ میری اور آپ کی کلائیکونڈا میٹنگ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر یہ بات ہے کہ تو یہ پھر بنگال کے عوام کے مفادات کو پامال کیا جارہا ہے۔  ممتا نے لکھا ہے کہ ہماری درخواست پر مدت ملازمت میں توسیع کے بعد ریاستی حکومت سے رابطہ اور مشورہ کئے بغیر ایسا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ یہ مکمل طور پر ناقابل عمل ہے اور اس سے ملک بھر کے تمام آئی اے ایس افسران کے کام متاثر ہوں گے۔

ممتا بنرجی نے آج کے خط میں جارحانہ رویہ اختیار کئے بغیر طویل خط لکھا ہے۔ جب کہ سنیچر کو پریس کانفرنس کرکے ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت اور بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی بنگال میں اپنی شکست کو ہضم نہیں کر پارہی ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت ملک بھر کے آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کی توہین کررہی ہیں۔ انہوں نے وزیرا عظم کی میٹنگ میں بی جے پی کے ممبران اسمبلی کی موجودگی پر بھی سوال اٹھایا تھا۔

چیف سیکریٹری کو دہلی طلب کرنے کا فیصلہ انتقامی سیاست کا نتیجہ

خیال رہے کہ دیر رات اچانک چیف سیکریٹری کو دہلی طلب کئے جانے پر سابق بیورو کریٹس نے بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت سے مشورہ کیے بغیر ایسی ہدایات جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کے وابستہ لیڈروں نے بھی اس پورے معاملے کو انتقامی سیاست کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

اس سے قبل ممتا بنرجی نے کہا کہ چوں کہ چیف سیکریٹری بنگالی ہیں اس لئے ان کی توہین کی جارہی ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ بنگال کے مفادات کے لئے میں وزیر اعظم کا پاؤں پکڑنے کو تیار ہوں۔ مگر بنگال کے وزیر اعلیٰ اور عوام کی توہین برداشت نہیں کرو ں گی۔

چیف سیکریٹری الاپن بندو پادھیائے جہاں کل نوبنو میں تھے آج بھی وہ دفتر پہنچے ہیں۔

بارہویں بورڈ کے امتحانات منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت جمعرات تک کے لئے ملتوی

0
بارہویں بورڈ کے امتحانات منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت جمعرات تک کے لئے ملتوی
بارہویں بورڈ کے امتحانات منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت جمعرات تک کے لئے ملتوی

سپریم کورٹ نے بارہویں بورڈ کے امتحانات منسوخ کرنے کے لئے سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای کی درخواست پر سماعت جمعرات تک ملتوی کردی ہے۔ مسٹر وینوگوپال نے بنچ کو بتایا کہ حکومت اگلے دو دنوں میں امتحان سے متعلق فیصلہ کرے گی، لہذا سماعت اس وقت تک ملتوی کردی جانی چاہئے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای کے بارہویں بورڈ امتحانات منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت جمعرات تک ملتوی کردی ہے۔

جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس دنیش مہیشوری کی تعطیلی بنچ نے پیر کو مختصر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے جمعرات کو اس پر غور کرنے کا فیصلہ کیا۔

مسٹر وینوگوپال نے بنچ کو بتایا کہ حکومت اگلے دو دنوں میں امتحان سے متعلق فیصلہ کرے گی، لہذا سماعت اس وقت تک ملتوی کردی جانی چاہئے۔ اس کے لئے عدالت نے مسٹر وینوگوپال کو بتایا کہ حکومت فیصلہ لے سکتی ہے لیکن اگر وہ گذشتہ سال کی پالیسی سے مختلف آرڈر پاس کرتی ہے تو اسے معقول وجوہات بتانی ہوں گی۔

عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں کو امید ہے کہ گذشتہ سال اپنائی گئی پالیسی پر عمل اس سال بھی کیا جانا چاہئے، لہذا اگر حکومت اس سے مختلف کررہی ہے تو اسے معقول وجوہات بتانی ہوں گی۔

عدالت محترمہ ممتا شرما کے ذریعہ دائر کردہ ایک پی آئی ایل کی سماعت کررہی ہے جس میں سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای کے 12 ویں بورڈ کے امتحانات منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے گذشتہ سال کے امتحانات نتائج پالیسی پر عمل کرتے ہوئے نتائج کے اعلان کی بھی درخواست کی ہے۔