منگل, مئی 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 351

رام دیو کورونیل کٹ کے لئے دہلی ہائی کورٹ کا سمن

0
رام دیو کورونیل کٹ کے لئے دہلی ہائی کورٹ کا سمن
رام دیو کورونیل کٹ کے لئے دہلی ہائی کورٹ کا سمن

دہلی میڈیکل ایسوسی ایشن نے عدالت میں دائر اپنی عرضی میں دعوی کیا تھا کہ رام دیو کی کمپنی پتانجلی کورونیل کٹ پروڈکٹ کے ذریعہ کورونا وائرس بیماری سے متعلق غلط معلومات کی تشہیر کررہی ہے۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کورونیل کٹ پر دائر دہلی میڈیکل ایسوسی ایشن (ڈی ایم اے) کی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے یوگا گرو بابا رام دیو کو جمعرات کو سمن جاری کیا۔

ڈی ایم اے نے عدالت میں دائر اپنی عرضی میں دعوی کیا تھا کہ رام دیو کی کمپنی پتنجلی کورونیل کٹ پروڈکٹ کے ذریعہ کورونا وائرس بیماری سے متعلق غلط معلومات کی تشہیر کررہی ہے۔

پتنجلی گروپ کے بانی رام دیو گزشتہ کئی دنوں سے ایلوپیتھی پر تنازعات میں گھرے ہیں۔ ان کے ایلوپیتھی کے ڈاکٹر کا مذاق بنانے والے کئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انڈین میڈکل ایسوسی ایشن نے اس پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے سائنس اور ڈاکٹروں کی شبیہ کو مٹی میں ملانے کی کوشش قرار دیا تھا۔ ایک ویڈیو میں رام دیو نے دعوی کیا تھا۔ ایلوپیتھی اسٹوپڈ سائنس ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگر مجھے لگتا ہے کہ کچھ سائنس نقلی ہے۔۔۔ کیا آپ کا ماننا ہے کہ وہ میرے خلاف مقدمہ دائر کریں گے؟ یہ ایک رائے شماری ہے۔ رام دیو ایک انسان ہیں، انہیں ایلوپیتھی پر اعتماد نہیں ہے۔ ان کا (رام دیو) کا خیال ہے کہ یوگ اور آوروید سے سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے۔  ایک شخص رائے رکھ سکتا ہے جس کے لئے اس کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا ہے۔

جج دی ہری شنکر نے ڈی ایم اے کی طرف سے دلائل سننے کے بعد بابا رام دیو کو ایلوپیتھک دواوں کے خلاف کوئی بھی بیان دینے سے روکنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ یہ صرف ایک رائے تھی۔

عدالت نے رام دیو کے وکیل کو زبانی طور پر یہ بھی ہدایت دی کہ وہ سماعت کی اگلی تاریخ تک کوئی اشتعال انگیز بیان نہ دیں اور معاملہ کو جواب داخل کرنے اور آگے کی سماعت کے لئے 13 جولائی تک ملتوی کردیا۔

پچاس ہزار اسٹارٹ اپ کو دی گئی منظوری

0
پچاس ہزار اسٹارٹ اپ کو دی گئی منظوری

ملک میں نوجوان کاروباری افراد کے طور پر تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ کی تعداد 50،000 تک جا پہنچی ہے۔ ان میں سے 10 ہزار اسٹارٹ اپ صرف گزشتہ 180 دنوں میں وجود میں آئے ہیں۔ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ نے مالی سال 2020-2021 میں تقریبا 1.7 لاکھ ملازمتیں پیدا کیں۔

نئی دہلی: ملک میں نوجوان کاروباری افراد کو تسلیم کئے جانے والے اسٹارٹ اپ کی تعداد پچاس ہزار تک ہوگئی ہے۔ ان میں سے 10 ہزار اسٹارٹ اپ صرف گزشتہ 180 دنوں میں وجود میں آئے ہیں۔

مرکزی وزارت تجارت و صنعت نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ اب 623 اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔

تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ نے مالی سال 2020-2021 میں تقریبا 1.7 لاکھ ملازمتیں پیدا کیں۔

انڈسٹری اینڈ انٹرنل تجارت کے فروغ کے شعبے نے 50،000 نئی صنعتوں کو اسٹارٹ اپ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ ان میں سے 19،896 کو یکم اپریل 2020 ء سے تسلیم کیا گیا ہے۔ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ اب 623 اضلاع میں موجود ہیں۔ ہر ریاست اور مرکز کے زیرانتظام ریاست میں کم سے کم ایک اسٹارٹ اپ ہے۔ ملک کی 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاست نے اسٹارٹ اپ کی حمایت کے لئے مخصوص اسٹارٹ اپ پالیسیوں کا اعلان کیا ہے۔ مہاراشٹر، کرناٹک، دہلی، اترپردیش اور گجرات میں سب سے زیادہ تعداد میں اسٹارٹ اپ ہیں۔

وزارت نے بتایا کہ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ نے روزگار کے حصول میں نمایاں شراکت داری کی ہے۔ اوسطا 11 ملازمین فی اسٹارٹ اپ کے ساتھ 48 ہزار 93 اسٹارٹ اپ نے 5،49،842 ملازمتوں کی اطلاع دی ہے۔ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ نے مالی سال 2020-2021 کے دوران صرف 1.7 لاکھ ملازمتیں پیدا کیں۔

بیشتر اسٹارٹ اپ ‘فوڈ پروسیسنگ’، ‘پروڈکٹ ڈویلپمنٹ’، ‘ایپلی کیشن ڈویلپمنٹ’، ‘آئی ٹی کنسلٹنگ’ اور ‘بزنس سپورٹ سروسز’ میں قائم کئے گئے ہیں۔ ان میں سے 45 فیصد اسٹارٹ اپ کی سربراہی خواتین کررہی ہیں۔

کورونا وبا کے دوران ریلائنس نے اپنے ملازمین کیلئے بڑھایا مدد کاہاتھ، کمپنی اپنے ایسے تمام متوفی ملازمین جو پے ۔ رول پر نہیں تھے، کے لواحقین کو دے گی 10 لاکھ روپے کی مالی مدد

0
کورونا وبا کے دوران ریلائنس نے اپنے ملازمین کیلئے بڑھایا مدد کا ہاتھ
کورونا وبا کے دوران ریلائنس نے اپنے ملازمین کیلئے بڑھایا مدد کا ہاتھ

ریلائنس انڈسٹریز نے آج اعلان کیا کہ کورونا سے ہلاک ہونے والے ملازمین کے سبھی بچوں کی گریجویشن تک کی تعلیم پر آنے والا 100 فیصد خرچ کمپنی برداشت کرے گی۔ کمپنی متوفی ملازمین کے خاندان کو 5 سال کی تنخواہ دے گی۔ اس کے علاوہ ریلائنس انڈسٹریز نے ملازمین کی شریک حیات، والدین اور بچوں کو زندگی بھر میڈیکل کوریج دینے اور سبھی ملازمین اور ان کے اہل خانہ کیلئے ویکسین کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

نئی دہلی: کورونا وبا کی وجہ سے جب ملک کی معیشت کا پہیہ تھم سا گیا ہے اور بیشتر لوگوں کو مالی دشواریوں کا سامنا ہے، ایسے میں ریلائنس انڈسٹریز نے اپنے نصب العین ’ریلائنس میں ملازمین اور ان کے خاندان سب سے پہلے‘ کو آگے بڑھاتے ہوئے اور ’ایک ریلائنس پریوار‘ کے وعدے کو پورا کرتے ہوئے اپنے ملازمین کیلئے مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے۔

ریلائنس انڈسٹریز نے کورونا وبا کی زد میں آنے والے اپنے تمام ایسے متوفی ملازمین کے لئے جو پے ۔ رول پر نہیں تھے، ان کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز نے آج اعلان کیا کہ کورونا سے ہلاک ہونے والے ملازمین کے سبھی بچوں کی گریجویشن تک کی تعلیم پر آنے والا 100 فیصد خرچ کمپنی برداشت کرے گی۔ کمپنی متوفی ملازمین کے خاندان کو 5 سال کی تنخواہ دے گی۔ اس کے علاوہ ریلائنس انڈسٹریز نے ملازمین کی شریک حیات، والدین اور بچوں کو زندگی بھر میڈیکل کوریج دینے اور سبھی ملازمین اور ان کے اہل خانہ کیلئے ویکسین کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر مکیش امبانی نے اپنے تمام ملازمین کو لکھے ایک مکتوب میں انہیں بھروسہ دلایا کہ ایک ریلا ئنس پریوار کے طور پر مصیبت کی اس گھڑی میں کمپنی ان کے ساتھ ہے۔ انہو ں نے کہا حالانکہ وقت مشکل ہے، ہمیشہ یہ ضرور یاد رکھیں کہ آپ تنہا نہیں ہیں، ریلائنس پریوار ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے۔ ایک ٹیم کے طور پر اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرنے کیلئے ہم ایک ساتھ کھڑے ہیں اور ہم اس وقت تک اس وباء کے خلاف لڑتے رہیں گے جب تک ہم اس کے خلاف لڑائی جیت نہیں جاتے۔

ریلائنس فاونڈیشن کی چیئرپرسن نیتا ایم امبانی نے اپنے تمام ملازمین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ جدوجہد کے جذبہ کے ساتھ ہم ہار نہیں مانیں گے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ آنے والے دن ہمارے لئے بہتر ہونگے۔ جب تک بہتر دن نہیں آتے ہمیں مصیبت زدہ خاندانوں کیلئے دعا کرنی چاہئے۔ آیئے ایک دوسرے کی مدد کے سلسلے کو جاری رکھیں اور بہتر مستقبل کیلئے پرامید رہیں۔

غور طلب ہے کہ کورونا کے اس دور میں ریلائنس انڈسٹریز اپنے ملازمین کے علاوہ ملک کے عام شہریوں کی فلاح و بہبود کیلئے بھی سرگرم ہے۔ اس وقت ملک میں کل آکسیجن پیداوار کا 11 فیصد صرف ریلائنس بنا رہا ہے۔ ریلائنس ہر روز کی 1000 میٹرک ٹن آکسیجن بنا رہاہے جو 1 لاکھ کورونا مریضوں کو ہر دن سانسیں دینے کیلئے معقول ہے۔ یہ آکسیجن پوری طرح سے مفت دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر اور گجرات میں ریلائنس فاونڈیشن نے 1875 کووڈ بستروں کا انتظام بھی کیا ہے۔ یہ انتظام بھی عوام کیلئے بالکل مفت ہے۔

مرکزی حکومت کی ٹیکہ کاری پالیسی پر سپریم کورٹ نے اٹھایا سوال

0
مرکزی حکومت کی ٹیکہ کاری پالیسی پر سپریم کورٹ نے اٹھایا سوال
مرکزی حکومت کی ٹیکہ کاری پالیسی پر سپریم کورٹ نے اٹھایا سوال

مرکز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ٹیکہ کاری پالیسی پر نظرثانی کرے اور 31 دسمبر 2021 تک ویکسین کی ممکنہ دستیابی کا خاکہ پیش کرے۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت کی ٹیکہ کاری پالیسی کی نکتہ چینی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 18 سے 44 سال کی عمر کے افراد کو مفت ٹیکہ فراہم نہ کرنے کا فیصلہ بادی النظر میں "من مانی اور غیر معقول” لگتا ہے۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی زیر صدارت تعطیل یافتہ بنچ نے اپنے حالیہ تبصرے میں کہا ہے کہ 45 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو مفت ٹیکے لگانے اور اس سے کم عمر کے لوگوں کو رقم ادائیگی کے عوض ویکسین دینے کا نظام بنانے کی مرکز کی پالیسی بادی النظر میں ‘من مانی اور غیر معقول’ نظر آتی ہے۔

بنچ نے دیہی آبادی کے لئے ٹیکے کی قلت کے تناظر میں متعدد دیگر خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی ٹیکہ کاری پالیسی پر نظرثانی کرے اور 31 دسمبر 2021 تک ویکسین کی ممکنہ دستیابی کا خاکہ پیش کرے۔

اس معاملے کی اگلی سماعت اب 30 جون کو ہوگی۔ ڈویژن بنچ میں جسٹس ایل ناگیشورا راؤ اور جسٹس ایس رویندر بھٹ بھی شامل ہیں۔

نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخلی کا معاملہ آخری مرحلے میں داخل

0
نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخلی کا معاملہ آخری مرحلے میں داخل
نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخلی کا معاملہ آخری مرحلے میں داخل

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے اور سیاست میں ‘تبدیلیاں’ لانے کے لیے اسرائیلی سیاستدانوں کے اتحاد کا قیام آخری مراحل میں پہنچ گیا۔

تل ابیب: اسرائیل میں سیاسی اتھل پتھل اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخلی کا معاملہ آخری مرحلے میں پہنچتا نظر آ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے اور سیاست میں ‘تبدیلیاں’ لانے کے لیے اسرائیلی سیاستدانوں کے اتحاد کا قیام آخری مراحل میں پہنچ گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان کے پاس رات 12 بجے تک کا وقت ہے کہ وہ ایک متبادل گورننگ اتحاد قائم کریں جس سے ‘بی بی’ کے نام سے مشہور دائیں بازو کے رہنما کی حکومت کا خاتمہ ہوگا جس نے گزشتہ 12 سالوں سے اسرائیل پر حکومت کی ہے۔

اس کی قیادت سابقہ ٹی وی اینکر یائر لاپڈ کر رہے ہیں جو سیکولر سینٹرسٹ ہیں اور جنہوں نے چند روز قبل ہی ایک ارب پتی دائیں بازو کے مذہبی قوم پرست نفتالی بینیٹ کی اہم حمایت حاصل کی تھی۔
نفتالی بینیٹ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ‘اتحادیوں کی مذاکراتی ٹیم نے پوری رات بیٹھ کر اتحادی حکومت بنانے کی سمت پیشرفت کی ہے’۔

اسرائیل کی 120 نشستوں والی پارلیمنٹ میں 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے ان کے غیر متوقع اتحاد میں انہیں بائیں بازو اور دائیں بازو کی جماعتوں کو بھی شامل کرنا پڑے گا۔ امکان ہے کہ انہیں عرب اسرائیلی سیاستدانوں کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔

اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری جیسے فلیش پوائنٹ پر گہرے نظریاتی اختلافات کے باوجود 71 سالہ بنجامین نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے کے لیے گروپ بندی کو متحد ہونا پڑے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی صدر نے حکومت سازی اور دعوی کے لئے آج رات (بدھ کی رات) 12 بجے کا وقت دیا ہے۔

مہاراشٹر: مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پالیمنٹ امتیاز جلیل سمیت 24 افراد کے خلاف رپورٹ درج

0
مہاراشٹر: مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پالیمنٹ امتیاز جلیل سمیت 24 افراد کے خلاف رپورٹ درج
مہاراشٹر: مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پالیمنٹ امتیاز جلیل سمیت 24 افراد کے خلاف رپورٹ درج

مہاراشٹر کے ضلع اورنگ آباد میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے بند کرائے گئے دکانوں کو دوبارہ کھلوانے کیلئے لیبر ڈپٹی کمشنر پر دباؤ بنانے کی پاداش میں رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل سمیت 24 افراد کے خلاف رپورٹ درج کی گئی ہے۔

اورنگ آباد: مہاراشٹر کے ضلع اورنگ آباد میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے بند کرائے گئے دکانوں کو دوبارہ کھلوانے کیلئے لیبر ڈپٹی کمشنر پر دباؤ بنانے کی پاداش میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل سمیت 24 افراد کے خلاف رپورٹ درج کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق لاک ڈاؤن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کچھ دکانیں گذشتہ ماہ بند کردی گئیں تھی۔

مسٹر جلیل منگل کے روز کچھ دکانداروں کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر لیبر شیلندر پال کے دفتر گئے اور ان پر بند دکانوں کو کھولنے کے لئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔

اورنگ آباد پولیس نے مسٹر پال کی شکایت پر مسٹر جلیل سمیت 24 افراد کے خلاف رپورٹ درج کرلی ہے۔

دریں اثنا منگل کے روز سے کورونا پابندیوں میں نرمی دی گئی ہے کیونکہ شہر میں کووڈ کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

ملک میں کورونا ریکوری کی شرح 92.48 فیصد

0
ملک میں کورونا ریکوری کی شرح 92.48 فیصد

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن کے 1،32،788 نئے کیسز سامنے آئے۔ لیکن اس وائرس سے نجات پانے والے لوگوں کی تعداد اس وائرس کی زد میں آنے والے لوگوں سے ایک لاکھ سے زیادہ رہی۔ اس کی وجہ سے کورونا ریکوری کی شرح بڑھ کر 92.48 فیصد ہوگئی ہے۔

نئی دہلی: ملک میں کورونا وائرس (کووڈ ۔ 19) کے یومیہ کیسز میں ایک مرتبہ پھر معمولی اضافہ ہونے کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انفیکشن کے 1،32،788 نئے کیسز سامنے آئے۔ لیکن اس وائرس سے نجات پانے والے لوگوں کی تعداد اس وائرس کی زد میں آنے والے لوگوں سے ایک لاکھ سے زیادہ رہی۔ اس کی وجہ سے کورونا ریکوری کی شرح بڑھ کر 92.48 فیصد ہوگئی ہے۔

اس دوران پیر کو 23 لاکھ 97 ہزار 91 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے۔ ملک میں اب تک 21 کروڑ 85 لاکھ 46 ہزار 667 افراد کی ٹیکہ کاری کی گئی ہے۔

مرکزی وزارت صحت کی جانب سے بدھ کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 1،32،788 نئے کیسز سامنے آنے کے ساتھ ہی متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر دو کروڑ 83 لاکھ 07 ہزار 832 ہوگئی۔ اس دوران دو لاکھ 31 ہزار 456 مریض صحتیاب ہوئے ہیں، جس سے اب تک 2 کروڑ 61 لاکھ 79 ہزار 85 افراد اس وبا کو شکست دے چکے ہیں۔ ایکٹو کیسز 1،01،875 کم ہوکر 17 لاکھ 93 ہزار 645 ہو گئے ہیں۔

ملک میں ایکٹو کیسز کی شرح میں کمی

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3،207 مریضوں کی موت ہوئی اور اس وبا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 35 ہزار 102 ہوگئی ہے۔ ملک میں ایکٹو کیسز کی شرح کم ہوکر 6.34 فیصد ہوگئی ہے جبکہ شرح اموات 1.18 فیصد ہے۔

مہاراشٹر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایکٹو کیسز 22،680 کم ہو کر 2،33،498 رہ گئے ہیں۔ اسی دوران ریاست میں مزید 35،949 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا سے نجات پانے والوں کی تعداد بڑھ کر 54،31،319 ہوگئی ہے۔ جبکہ مزید 854 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 96،198 ہوگئی ہے۔ کیرالہ میں اس دوران ایکٹو کیسز 4551 کی کم ہوئے ہیں اور ان کی تعداد اب 2،02،828 رہ گئی ہے۔ 24،117 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا کو شکست دینے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 23،34،502 ہوگئی ہے جبکہ مزید 194 مریضوں کی موت ہوگئی مرنے والوں کی تعداد 9009 تک ہو گئی ہے۔

ووٹنگ کے حقوق پر حملے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی: بائیڈن

0
ووٹنگ کے حقوق پر حملے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی: بائیڈن
ووٹنگ کے حقوق پر حملے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی: بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے ملک میں ووٹنگ کے حقوق پر حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جون میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے ملک میں ووٹنگ کے حقوق پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جون میں اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بائیڈن نے منگل کے روز اوکلاہوما کے ٹلسا میں تقریر کے دوران کہا ’’ہمیں سنہ 2020 میں ووٹنگ کے حقوق پر حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ پابندیوں، مقدمات، دھمکیوں اور رائے دہندگان کو ہراساں کر کے ایسا کیا گیا تھا۔ غیر جانبدارانہ انتخابی منتظمین کے تبادلے کی کوشش کی گئی اور انتخابی نتائج سے متعلق صحیح معلومات سامنے لانے والوں کو ڈرانے کی کوشش کی گئی۔ یہ واقعی ہماری جمہوریت پر حملہ تھا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت ایوان نمائندگان جان لیوس ووٹنگ رائٹس ایکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ یہ قانون حق رائے دہی کے حقوق پر نئے حملوں کو روکنے کے لئے ’ایک نیا قانونی آلہ‘ کے طور پر ایک اہم اقدام ہے۔

افغانستان میں دھماکہ، آٹھ افراد ہلاک، 14 زخمی، مہلوکین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ

0
افغانستان کے کابل میں دھماکہ، آٹھ افراد ہلاک، 14 زخمی، مہلوکین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ
افغانستان کے کابل میں دھماکہ، آٹھ افراد ہلاک، 14 زخمی، مہلوکین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قریب دو بم دھماکوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق مہلوکین کی تعداد 30 تک ہوسکتی ہے۔

کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہوئے دو دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور دیگر 14 زخمی ہوگئے۔

یہ اطلاع ٹولو نیوز چینل نے سیکیورٹی فورسز سے وابستہ ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔ ٹولو نیوز کے مطابق منگل کو ہونے والے ان حملوں میں سٹی بسوں کو نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مہلوکین کی تعداد 30 تک ہوسکتی ہے۔

اترپردیش: گونڈا ضلع میں ہوئے دھماکے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک

0
اترپردیش: گونڈا ضلع میں ہوئے دھماکے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک
اترپردیش: گونڈا ضلع میں ہوئے دھماکے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک

اترپردیش میں گونڈہ ضلع کے وزیر گنج پولیس اسٹیشن کے تحت ٹکڑی گاؤں میں ایل پی جی سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے مکان کی چھت گر گئی۔ ایک ہی کنبے کے سات افراد زندہ دفن ہوگئے۔ ملبے کے نیچے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

گونڈا: اترپردیش میں گونڈہ ضلع کے وزیر گنج پولیس اسٹیشن کے تحت ٹکڑی گاؤں میں تاخیر شب ہوئے دھماکہ میں ایک گھر کی چھت گر جانے سے ایک ہی کنبے کے سات افراد زندہ دفن ہوگئے۔ اس حادثہ میں دیگر سات افراد شدید طور پر زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ سنتوش کمار مشرا نے بدھ کے روز یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ منگل کی تاخیر شب ٹکڑی گاؤں میں نورالحسن کے گھر میں اچانک دھماکہ ہوگیا۔ اس خوفناک حادثے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ ملبے کے نیچے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

ایس پی نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچی پولیس کی ٹیم نے ملبہ ہٹاکر متاثرہ افراد کو باہر نکالا جن میں سے سات کو مردہ قرار دے دیا گیا ہے جبکہ سات دیگر زخمی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو مرد، دو خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔ گاؤں والوں کی جانب سے رات کو ہی ڈائل 112 پر موصولہ اطلاع کی بنیاد پر انتظامیہ موقع پر پہنچ گئی۔ جے سی بی اور پوکلینڈ مشین سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔

دھماکے کی وجوہات جاننے کے لئے فورنسک ٹیم تعینات کردی گئی ہے۔ شدید زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ انتظامیہ اور پولیس اور دیہاتیوں کی مدد سے امدادی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایس پی نے بتایا کہ بادی النظر کہا جا رہا ہے کہ ایل پی جی سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے مکان کی چھت گر گئی۔

فی الحال تفتیش جاری ہے۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔