منگل, مئی 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 348

ممبئی میں چار منزلہ عمارت منہدم، 11 افراد ہلاک، 17 زخمی

0
ممبئی میں چار منزلہ عمارت منہدم، 11 افراد ہلاک، 17 زخمی
ممبئی میں چار منزلہ عمارت منہدم، 11 افراد ہلاک، 17 زخمی

ممبئی کے مغربی ملاڈ کے مالونی علاقے میں چار منزلہ عمارت کے گرنے سے 11 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے۔ شہر میں بدھ کے روز مون سون کی موسلادھار بارش ہوئی تھی اور اسی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔

ممبئی: ممبئی کے ملاڈ ویسٹ کے مالونی علاقے میں بدھ کی دیر رات ایک چار منزلہ عمارت کے منہدم ہونے سے 11 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے۔

برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مطابق یہ واقعہ گذشتہ رات مالونی گیٹ نمبر آٹھ پر اس وقت پیش آیا جب ایک رہائشی عمارت کی دوسری اور تیسری منزل کا ایک حصہ ملحقہ جھونپڑی پر گر گیا۔ حادثے میں 11 افراد ہلاک اور 17 دیگر زخمی ہوگئے۔

ذرائع سے موصولہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق راحت و بچاؤ کاروائیاں جاری ہیں۔ زخمیوں کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ شہر میں بدھ کے روز مون سون کی موسلادھار بارش ہوئی تھی اور اسی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔

ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور بنگلہ اداکارہ نصرت جہاں نے اپنی دو سالہ شادی کے خاتمے کا کردیا اعلان 

0
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور بنگلہ اداکارہ نصرت جہاں نے اپنی دو سالہ شادی کے خاتمے کا کردیا اعلان 
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور بنگلہ اداکارہ نصرت جہاں نے اپنی دو سالہ شادی کے خاتمے کا کردیا اعلان 

بنگالی میڈیا میں گزشتہ کئی دنوں سے نصرت جہاں کے حاملہ ہونے اور اس بچے کے باپ کی شناخت پر بحث جاری تھی۔ نصرت جہاں کے شوہر نکھل کا بیان آ چکا تھا کہ وہ اس بچے کے باپ نہیں ہے کیوں کہ گزشتہ کئی مہینے سے وہ دونوں علاحدہ ہیں۔ اس درمیان آج نصرت جہاں نے تحریری بیان جاری کرکے اپنی شادی کے اختتام کو ہی پہنچا دیا۔

کلکتہ: ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور بنگلہ اداکارہ نصرت جہاں نے آج اپنی دو سالہ ازدواجی زندگی کے خاتمہ دھماکہ خیز اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چوں کہ ان کی شادی ترکی بزنس مین نکھل جین کے ترکی کے قانون کے مطابق بین مذاہب تھی اور ہندوستان میں یہ شادی اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہوئی ہے اس لئے میری شادی ہندوستان میں باطل ہے تو پھر طلاق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔

بنگالی میڈیا میں گزشتہ کئی دنوں سے نصرت جہاں کے حاملہ ہونے اور اس بچے کے باپ کی شناخت پر بحث جاری تھی۔ نصرت کے شوہر نکھل کا بیان آ چکا تھا کہ وہ اس بچے کے باپ نہیں ہے کیوں کہ گزشتہ کئی مہینے سے وہ دونوں علاحدہ ہیں۔ اس درمیان آج نصرت جہاں نے تحریری بیان جاری کرکے اپنی شادی کے اختتام کو ہی پہنچا دیا۔

نصرت نے کہا کہ وہ اپنی نجی زندگی پر عوامی سطح پر بات کرنا نہیں چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں نکھل جین سے شادی کی بات ہے تو یہ شادی ترکی میرج ایکٹ کے تحت ہوئی تھی اور چوں کہ یہ شادی غیرملکی سرزمین پر ہوئی ہے اس لئے یہ تقریب باطل ہے۔ ہندوستان میں اسپیشل میرج شادی ایکٹ کے تحت توثیق کی ضرورت ہوتی ہے جو ایسا نہیں ہوا۔ عدالتی قانون کے مطابق، یہ شادی نہیں تھی بلکہ دو افراد کے درمیان رشتہ تھا۔ اس طرح طلاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ جون 2019 میں، نصرت جہاں اور نکھل جین نے ترکی کے خوبصورت شہر بوڈرم میں شادی کی تقریب منعقد کی تھی۔ انہوں نے شادی کے بعد ٹویٹ کیا تھا ’’نکھل جین کے ساتھ خوشی خوشی کی طرف‘‘ اس کے ایک ہفتے کے بعد کلکتہ میں عشائیہ دیا گیا تھا جس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی شریک تھی۔ شادی کی بعد سندور لگاکر نصرت جہاں نے حلف لیا تھا۔ کچھ مسلم حلقوں سے اس پر تنقید ہونے کے بعد نصرت جہاں کو میڈیا اور لبرل سوسائٹی سے حمایت بھت ملی تھی۔

بشیر ہاٹ سے رکن پارلیمنٹ نصرت جہاں نے کہا کہ وہ اپنی محنت سے اس مقام کو حاصل کیا ہے۔ اس لئے میں اپنے نام پر کسی کو فائدہ حاصل کرنے نہیں دوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک عرصے ان کے خاندان کا خرچ برداشت کررہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ میں نے نکھل کی دولت کا استعمال کیا ہے۔ یہ سراسر بے بنیاد ہے۔ بلکہ میرے اکاؤنٹ کا استعمال کیا گیا ہے۔ غیرقانونی طریقے سے روپے نکالے گئے ہیں۔ میرے زیورات میں چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔

نصرت جہاں نے 2019 کے لوک سبھا کا انتخاب بشیر ہاٹ سے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے جیت حاصل کی تھی۔ وہ ان 17 خواتین میں شامل تھیں جنھیں اس سال ممتا بنرجی کی پارٹی نے انتخابی میدان میں اتارا تھا اور انہوں نے خوب جلسے و جلوس کئے تھے۔

دوسری جانب نصرت جہاں کا بیان آنے کے بعد نکھل جین نے کہا کہ وہ پہلے ہی اس معاملے میں عدالت میں جاچکے ہیں اس لئے وہ اس پر کچھ زیادہ نہیں بولیں گے اور اگر نصرت حاملہ ہیں تو بچہ ان کا نہیں ہے۔ خیال رہے کہ بنگلہ فلموں کے اداکار یش جو اس سال بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑا تھا سے تعلقات کی وجہ سے نصرت جہاں سرخیوں میں رہی ہیں۔

ممتا بنرجی نے کسان لیڈروں سے کی ملاقات، کسانوں کی حمایت کی یقین دہانی کرائی

0
ممتا بنرجی نے کسان لیڈروں سے کی ملاقات، کسانوں کی حمایت کی یقین دہانی کرائی
ممتا بنرجی نے کسان لیڈروں سے کی ملاقات، کسانوں کی حمایت کی یقین دہانی کرائی

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج کسان تحریک کے لیڈر راکیش ٹکیت سے ملاقات کرنے کے ساتھ کہا کہ کسانوں کی تحریک کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم مودی کے ذریعہ ملک کے ہر ایک شہری کو کورونا ویکسین فراہم کے اعلان کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ فیصلہ 6 مہینے قبل ہی کرلیا جاتا تو آج اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکت نہیں ہوتی۔

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج کسان تحریک کے لیڈر راکیش ٹکیت سے ملاقات کرنے کے ساتھ کہا کہ کسانوں کی تحریک کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی ممتا بنرجی نے آج نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرکز عوام مخالف پائیسیوں پر گامزن ہے۔

وزیر اعظم مودی کے ذریعہ ملک کے ہر ایک شہری کو کورونا ویکسین فراہم کے اعلان کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ فیصلہ 6 مہینے قبل ہی کرلیا جاتا تو آج اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکت نہیں ہوتی۔ ممتا بنرجی نے بی جے پی کو یاد دلایا کہ وہ ملک کے عوام کے ٹیکس کے روپیے سے مفت کورونا ویکسین فراہم کررہے ہیں۔ یہ کورونا ویکسین بی جے پی اپنے جیپ سے نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی تقریر کے علاوہ کچھ نہیں دیتے ہیں۔ 35,000 کروڑ روپے کہاں گئے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ریاستی حکومت سے ویکسین کی خریداری کا حق چھین کر مرکز نے وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

ممتا بنرجی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سحت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض مقامات پر پٹرولیم کی قیمت 100 روپے سے زائد ہوچکے ہیں۔ مودی حکومت کو کسی کی پرواہ نہیں ہے۔ کورونا ویکسین پر جی ایس ٹی لگایا گیا ہے۔ بی جے پی کے دور اقتدار میں صرف بے روزگاری میں اضافہ ہواہے۔ ملک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ افسران بھی خوفزدہ ہیں۔ انہیں کچھ بھی کہنے کے حق سے محروم کردیا گیا ہے۔

ممتا بنرجی نے وفاقی ڈھانچے کے لئے یونین کی تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اگر کسی بھی ریاست کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے یہ یونین پرزور آواز بلند کرے گی۔

کسانوں کی تحریک کی حمایت کے لئے غیر بی جے پی وزرا کے ساتھ ورچوئل میٹنگ

انہوں نے کہا کہ کسانوں کی تحریک کی حمایت کے لئے غیر بی جے پی وزرا کے ساتھ ورچوئل میٹنگ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ کسانوں کو زیاد ہ سے زیادہ معاوضہ ملے گا۔ کسان تحریک کے تین نمائندے منگل کی شام دہلی سے کلکتہ پہنچے تھے۔ اس وفد میں راکیش ٹکیٹ کے علاوہ دو کسان قائدین انوج سنگھ اور جدوبیر سنگھ بھی شامل تھے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ پہلے دن سے کسانوں کی تحریک کی حمایت کررہی ہیں۔ پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ دھرنے کی جگہ پہنچ کر اخلاقی حمایت دے چکے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ جب تک مرکزی حکومت مطالبات تسلیم نہیں کرلیتی ہے اس وقت تک احتجاج جاری رکھنا چاہیے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ حزب اختلاف کی تمام ریاستوں کو بی جے پی کے زیر اقتدار مرکزی حکومت کے خلاف متحد ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کے ذریعہ ایک ریاست پر حملہ ہوتا ہے تو، باقی ریاستوں کو کھڑا ہونا پڑے گا۔” ملک کی جمہوریت کے تحفظ کے لئے، ملک کے کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کو بچانے کے لئے، سب کو ایک ہونا چاہئے۔

خیال رہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل کسانوں نے بنگال میں تحریک چلائی تھی کہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیں۔

کانگریس کے سینئر رہنما و سابق مرکزی وزیر جتن پرساد بی جے پی میں ہوئے شامل

0
کانگریس کے سینئر رہنما و سابق مرکزی وزیر جتن پرساد بی جے پی میں ہوئے شامل
کانگریس کے سینئر رہنما و سابق مرکزی وزیر جتن پرساد بی جے پی میں ہوئے شامل

مرکزی وزیر پیوش گوئل اور پارٹی کے قومی میڈیا انچارج اور رکن پارلیمنٹ انل بلونی نے دین دیال اپادھیائے مارگ پر واقع بی جے پی ہیڈکوارٹر میں کانگریس کے سینئر رہنما مسٹر جتن پرساد کو رکنی کی رسید سونپی اور گلدستہ پیش کرکے انہیں پارٹی میں شامل کیا۔

نئی دہلی: اتر پردیش کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر جتن پرساد نے بدھ کو یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہوگئے۔

مرکزی وزیر پیوش گوئل اور پارٹی کے قومی میڈیا انچارج اور رکن پارلیمنٹ انل بلونی نے دین دیال اپادھیائے مارگ پر واقع بی جے پی ہیڈکوارٹر میں مسٹر پرساد کو رکنی کی رسید سونپی اور گلدستہ پیش کرکے انہیں پارٹی میں شامل کیا۔

اس موقع پر مسٹر پرساد نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کانگریس کے ساتھ تین نسلوں کے تعلقات کو ترک کرنے کا فیصلہ بہت ہی غور و فکر کے بعد کیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ "میری نظر میں صرف بی جے پی واحد ایسی سیاسی جماعت ہے، باقی فرد پر مبنی یا علاقائی جماعتیں ہیں۔ یہ دہائی عالمی سطح پر ہندوستان کے مستقبل کے لئے بہت اہم ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کے لئے دن رات ایک کر رہے ہیں۔ مجھے بھی تھوڑی خدمت کرنے کا موقع ملے گا۔‘‘

انہوں نے بتایاکہ کانگریس میں رہنے سے یہ محسوس ہوا کہ اس پارٹی میں رہنے سے لوگوں کے مفادات کا تحفظ نہیں ہوسکتا ہے۔ اگر آپ لوگوں کے مفادات کا تحفظ نہیں کرسکتے ہیں تو پھر سیاست میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

مسٹر پرساد نے انہیں بی جے پی میں شامل کرنے کے لئے مسٹر مودی، بی جے پی کے صدر جگت پرکاش نڈا اور وزیر داخلہ امیت شاہ کا شکریہ ادا کیا۔

ممبئی میں گھن گرج چمک کے ساتھ مانسون کی پہلی طوفانی بارش سے عام زندگی مفلوج

0
ممبئی میں گھن گرج چمک کے ساتھ مانسون کی پہلی طوفانی بارش سے عام زندگی مفلوج
ممبئی میں گھن گرج چمک کے ساتھ مانسون کی پہلی طوفانی بارش سے عام زندگی مفلوج

آج صبح سویرے سے ممبئی کے شہری اور نواحی علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے اور صبح 9 اور 10 بجے کے درمیان بجلی کوندنے کے ساتھ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ بارش ہونے لگی اور چار پانچ گھنٹوں سے سلسلہ جاری ہے۔

ممبئی: ممبئی سمیت مہاراشٹر کے بیشتر علاقوں میں گھن ۔ گرج چمک کے ساتھ مانسون کی پہلی بارش نے عام زندگی کو مفلوج کردیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے سربراہ جینتا سرکارنے مانسون کی آمد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھی خبر ہے اور جنوب مغربی مانسون ممبئی، تھانے اور پالگھر میں 9 جون کو دستک دے چکا ہے۔

مانسون کے ولساڑ گجرات، ناگپسور مہاراش اور پھر مشرقی سمت میں بڑھنے کا امکان ہے۔مہاراشٹر میں آئندہ دو تین دن مانسون اپنا جلوہ دکھائے گا۔

آج صبح سویرے سے ممبئی کے شہری اور نواحی علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے اور صبح 9 اور 10 بجے کے درمیان بجلی کوندنے کے ساتھ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ بارش ہونے لگی اور چار پانچ گھنٹوں سے سلسلہ جاری ہے۔

دفتر موسمیات قلابہ کے مطابق جنوبی ممبئی میں 77.4 ملی میٹر اور سانتا کروز میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 59.6 ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

سینٹرل ریلوے کے سی پی آر اوشیواجی ستار نے مطلع کیا کہ مضافات میں بھاری بارش کی وجہ سے چونابھٹی اور سائن – کرلا کے درمیان پٹریوں پر پانی جمع ہوگیا ہے۔ احتیاطی طور پر ریلوے نے سی ایس ایم ٹی اور تھانے کے درمیان میں لائن کی لوکل سروس بند کردی گئی ہے۔ اور شیواجی مہاراج ٹرمنس اور واشی کے درمیان آج صبح ساڑھے 10 بجے ہاربر لائن کی سروسز معطل کردی گئی ہے۔

شیواجی ستار کے مطابق ٹرانس ہاربر اور بی ایس یو (ارن) کیسرویز معمول کے مطابق جاری ہیں۔تھانے اور کرجت، کسارا اور واشی، پنیویل کے درمیان لوکل خدمات جاری ہیں۔

بی ایم سی کے دعوے ایک بار پھر جھوٹے ثابت ہوئے ہیں اور شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوچکا ہے۔ سڑک پر موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ توکتے طوفان کے پندرہ دنوں بعد شہری زندگی ایک بار پھر متاثر ہوئی ہے۔

ویسٹرن ریلوے کے ترجمان سمیت ٹھاکر کے مطابق وڈالا علاقے میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے شیواجی ٹرمینس اور اندھیری کے درمیان لوکل سروس معطل کی گئی ہے۔ ویسٹرن اور ایسٹرن ہائی وے پر ٹریفک جام ہے۔ مہاراشٹر حکومت اور بی ایم سی حکام نے پہلے ہی متعلقہ محکموں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

پرینکا نے کہا، آگرہ ماک ڈرل کی حقیقت سامنے لائے یوگی حکومت

0
پرینکا نے کہا، آگرہ ماک ڈرل کی حقیقت سامنے لائے یوگی حکومت

ماک ڈرل کے دوران آکسیجن ہٹانے سے آگرہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں کورونا کے 22 مریضوں کے دم توڑنے کی خبر سامنے آئی۔ اس انکشاف پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اس کی سچائی سامنے لاکر قصورواروں کو سخت سزا دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کی اترپردیش کی انچارج جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے آگرہ کے ایک اسپتال میں مبینہ ماک ڈرل کے دوران آکسیجن ہٹانے سے کورونا مریضوں کی موت کی خبر کے انکشاف پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کافی سنگین معاملہ ہے۔ اس کی سچائی سامنے لاکر قصورواروں کو سخت سزا دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

محترمہ گاندھی نے بدھ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ اترپردیش حکومت اور آگرہ انتظامیہ بار بار آکسیجن کی کمی نہ ہونے کا حوالہ دے رہی ہے۔ اس کے باجوود آکسیجن کی کمی کی وجہ سے آگرہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں کورونا کے 22 مریضوں کے دم توڑنے کی خبر سامنے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’اترپردیش حکومت نے آکسیجن کی زبردست کمی کے درمیان مسلسل کہا کہ ’آکسیجن کی کمی نہیں ہے‘۔ ریاست میں لوگوں کی تڑپ تڑپ کر جانیں چلی گئی ہیں۔ آگرہ میں بھی انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ ’آکسیجن کی کمی نہیں تھی‘۔ کیا اترپردیش حکومت آگرہ ماک ڈرل کی حقیقت سامنے لاکر قصورواروں کو سزا دے گی‘‘؟

آئی اے ایس کے سابق افسر انوپ چندر پانڈے الیکشن کمشنر مقرر

0
آئی اے ایس کے سابق افسر انوپ چندر پانڈے الیکشن کمشنر مقرر
آئی اے ایس کے سابق افسر انوپ چندر پانڈے الیکشن کمشنر مقرر

وزارت قانون و انصاف نے بتایا کہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے 1984 بیچ کے اتر پردیش کیڈر کے سابق ​​آئی اے ایس افسر مسٹر پانڈے کو الیکشن کمشنر مقرر کیا ہے۔

نئی دہلی: انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے سابق افسر انوپ چندر پانڈے کو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔

وزارت قانون و انصاف نے بدھ کے روز بتایا کہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے 1984 بیچ کے اتر پردیش کیڈر کے سابق ​​آئی اے ایس افسر مسٹر انوپ چندر پانڈے کو الیکشن کمشنر مقرر کیا ہے۔

وزارت کے مطابق گذشتہ دیر شام اس بابت وزارت قانون و انصاف کے محکمہ قانون کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

مسٹڑ پانڈے کی تقرری عہدہ سنبھالنے کے دن سے عمل میں آئے گی۔

شامی فوج نے اسرائیلی میزائلوں کو کیا تباہ

0
شامی فوج نے اسرائیلی میزائلوں کو کیا تباہ
شامی فوج نے اسرائیلی میزائلوں کو کیا تباہ

شامی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کی جانب سے داغے گئے کچھ میزائلوں کو مار گرایا ہے۔ صنعا نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے لبنان کی فضائی حدود کی سمت سے کئے گئے ایک میزائلی حملے کا جواب دیا ہے۔ شامی کی راجدھانی دمشق میں دھماکوں کی آواز سنی گئی۔

دمشق: شامی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کی جانب سے داغے گئے کچھ میزائلوں کو مار گرایا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صنعا نے یہ اطلاع دی ہے۔ صنعا نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے لبنان کی فضائی حدود کی سمت سے کئے گئے ایک میزائلی حملے کا جواب دیا ہے۔ شامی کی راجدھانی دمشق میں دھماکوں کی آواز سنی گئی۔

صنعا نے وزارت دفاع کے ایک بیان کے حوالے سے کہا ’’فضائی تحفظ کے ہمارے نظام نے حملہ ور میزائلوں کو روکا اور ان میں سے کچھ کو تبادہ کردیا‘‘۔

بہار میں لاک ڈاؤن ختم، اب ایک ہفتہ کیلئے شام 7 بجے سے صبح 5 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ

0
بہار میں لاک ڈاؤن ختم، اب ایک ہفتہ کیلئے شام 7 بجے سے صبح 5 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ
بہار میں لاک ڈاؤن ختم، اب ایک ہفتہ کیلئے شام 7 بجے سے صبح 5 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ

وزیراعلیٰ نتیش کمار کی صدارت میں آفات منیجمنٹ گروپ (سی ایم جی) کی منگل کو ہوئی میٹنگ میں لاک ڈاﺅن ختم کرنے اور بدھ سے آئندہ ایک ہفتہ کیلئے شام 7.00 بجے سے صبح 5.00 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔

پٹنہ: بہار میں کورونا کی دوسری لہر کے کم ہونے کے بعد ریاستی حکومت نے گذشتہ پانچ مئی سے جاری لاک ڈاﺅن کو ختم کرتے ہوئے بدھ سے آئندہ ایک ہفتہ کیلئے شام 7:00 بجے سے صبح 5:00 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ لیاہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کی صدارت میں آفات منیجمنٹ گروپ (سی ایم جی) کی منگل کو ہوئی میٹنگ میں لاک ڈاﺅن ختم کرنے اور بدھ سے آئندہ ایک ہفتہ کیلئے شام 7.00 بجے سے صبح 5.00 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ مسٹر کمار نے خود سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کرکے اس کی جانکاری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاﺅن سے کورونا انفیکشن کے معاملوں میں کمی آئی ہے۔ اس لئے لاک ڈاﺅن ختم کرتے ہوئے شام 7.00 بجے سے صبح 5.00 بجے تک نائٹ کرفیو جاری رہے گا۔

مسٹر کمار نے کہا کہ 50 فیصد حاضری کے ساتھ پرائیوٹ دفاتر سہ پہر چار بجے تک کھلیں گے۔ دکان کھلنے کی مدت بھی شام پانچ بجے تک بڑھا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پرائیوٹ گاڑیوں کو نائٹ کرفیو کو چھوڑ کر دیگر اوقات میں چلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے لئے کوئی ای ۔ پاس کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اجلاس کے بعد سکریٹری تری پوراری شرن، ڈیولپمنٹ کمشنر عامر سبحانی، پولیس ڈائریکٹرجنرل ایس کے سنگھل، ایڈیشنل چیف سکریٹری محکمہ داخلہ چیتنیہ پرساد اور ایڈیشنل چیف سکریٹری ہیلتھ محکمہ پرتیہ امرت نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ لاک ڈاﺅن میں مکمل پابندی کی وجہ سے کورونا انفیکشن کو قابو کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں پابندیوں کو پوری طرح سے ختم کیا جانا خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔ اسلئے پابندیوں کو مرحلہ وار طریقے سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی کے مد نظر لاک ڈاﺅن کو ختم کرنے اور بدھ سے آئندہ ایک ہفتہ کیلئے شام 7.00 بجے سے صبح 5.00 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

50 فیصد حاضری کے ساتھ سبھی سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر سہ پہر چار بجے تک کھلیں گے

چیتنہ پرساد نے سی ایم جی کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کی تفصیل سے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ 9 جون سے 15 جون تک سبھی سرکاری دفاتر اور غیر سرکاری دفاتر 50 فیصد حاضری کے ساتھ سہ پہر چار بجے تک کھلیں گے لیکن سرکاری دفاتر میں زائرین کے داخلے پر روک رہے گی۔ وہیں استثنائی صورتحال میں ضلع انتظامیہ، پولیس، سول ڈیفنس، بجلی، آبی سپلائی، صفائی، فائربریگیڈ، صحت، آفات مینجمنٹ محکمہ کے دفتر، اناج کی خریداری سے متعلق دفاتر، ماحولیات وجنگلات اور موسمیاتی تبدیلی محکمہ کی ضروری سرگرمیوں سے متعلق دفاتر حسب سابق کام کریں گے۔ عدالتی کاروائی کے بارے میں ہائی کورٹ کے ذریعہ لیا گیا فیصلہ نافذ ہوگا۔

مسٹر پرساد نے کہا کہ کوئی بھی دکان اور ادارے ایک دن کے وقفے سے صبح چھ بجے سے شام پانچ بجے تک کھل سکیں گے۔ کون سی دکان کس دن کھلے گی اس سے متعلق ضلع مجسٹریٹ ہدایت جاری کریں گے۔ وہیں کھاد، بیج، جراثیم کش دوائیں اور زرعی آلات سے متعلق ادارے، دکانیں، ضروری کھانے پینے کی اشیاء پھل اور سبزی، گوشت، مچھلی، دودھ، عوامی نظام تقسیم کی دکانیں صبح چھ بجے سے شام پانچ بجے تک کھلی رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ا ستثناء کے طور پر بینکنگ، بیمہ، اے ٹی ایم آپریشن سے متعلق ادارے، صنعتی اور مینو فیکچرنگ کام سے متعلق ادارے، سبھی قسم کے تعمیراتی کام، ای کامرس اور کوریئر سے متعلق تمام سرگرمیاں، زراعت اور اس سے منسلک کام، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، ٹیلی مواصلات، انٹر نیٹ خدمات، براڈ کاسٹنگ کیبل خدمات سے متعلق سرگرمیاں، پٹرول پمپ، ایل پی جی پٹرولیم سے متعلق ادارے، کولڈ اسٹوریج اور ویئر ہاﺅسنگ خدمات، پرائیوٹ سیکیوریٹی خدمات، ٹھیلہ پر پھل سبزی کی گھوم گھوم کر فروخت پر پابندی سے چھوٹ دی گئی ہے۔

ایڈیشنل چیف سکریٹری محکمہ داخلہ نے بتایا کہ اسپتال اور دیگر متعلقہ ادارے (مویشی طبی ادارے سمیت) ان کی تعمیر اور سپلائی کی یونٹیں سرکاری اور پرائیوٹ دوا کی دکانیں، میڈیکل لیب، نرسنگ ہوم، ایمبولینس خدمات سے متعلق ادارے حسب سابق کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں مقررہ بیٹھنے کی صلاحیت 50 فیصد کے استعمال کی ہی اجازت رہے گی۔

سبھی مذہبی مقامات عوام الناس کیلئے ابھی بند رہیں گے

مسٹر پرساد نے بتایاکہ شادی تقریب، آخری رسوم اور شرادھ پروگرام قبل جاری رہنماء اصولوں کے مطابق زیادہ سے زیادہ 20 افراد کی شمولیت کے ساتھ ہی انعقاد کرنے کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سبھی مذہبی مقامات عوام الناس کیلئے ابھی بند رہیں گے۔ سبھی قسم کے سماجی، سیاسی، تفریحی، کھیل کود، ثقافتی اور مذہبی انعقادات سمیت عوامی مقامات پر کسی قسم کے انعقاد سرکاری اور غیر سرکاری پر روک رہے گی۔ اس طرح سبھی سنیما ہال، شاپنگ مال، کلب، سوئمنگ پل، اسٹیڈیم، جم پارک اور باغبات پوری طرح بند رہیں گے۔

سبھی اسکول، کالج، کوچنگ ادارے، ٹریننگ اور تربیتی ادارے بند رہیں گے

ایڈیشنل چیف سکریٹری محکمہ داخلہ نے بتایا کہ سبھی اسکول، کالج، کوچنگ ادارے، ٹریننگ اور تربیتی ادارے بند رہیں گے۔ اس مدت میں اسکول اور یونیورسیٹی کے ذریعہ کسی بھی طرح کا امتحان نہیں لیا جائے گا، لیکن آن لائن تعلیم کا نظم کیا جاسکے گا۔ انہوں نے بتایاکہ رہائشی ہوٹلوں میں مہمانوں کے لئے ان روم ڈائننگ کی اجازت ہوگی لیکن ریسٹورینٹ اور کھانے کی دکانیں بند رہیں گی ان کا آپریشن صرف ہوم ڈیلیوری کیلئے صبح 9.00 بجے سے شام 9.00 بجے تک کھولنے کی اجازت ہوگی۔ قومی شاہراہوں پر واقع ڈھابے ٹیک ہوم کی بنیاد پر کام کرسکتے ہیں۔

بہار سے منتخب مجلس اتحاد المسلمین کے ممبران اسمبلی نے پھر اٹھایا سیمانچل کی ترقی کا مسئلہ

0
بہار سے منتخب مجلس اتحاد المسلمین کے ممبران اسمبلی نے پھر اٹھایا سیمانچل کی ترقی کا مسئلہ
بہار سے منتخب مجلس اتحاد المسلمین کے ممبران اسمبلی نے پھر اٹھایا سیمانچل کی ترقی کا مسئلہ

بہار سے منتخب مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر و امور فلور لیڈر جناب اخترالایمان نے کہا کہ باڑھ کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کیا تیاری کی ہے اس سلسلے میں ہم لوگوں نے ایک میٹنگ کی ہے۔ ہم لوگ سیمانچل کے تمام ضلع مجسٹریٹ کو میمورنڈم دینے جا رہے ہیں کہ کسی بھی گاؤں میں اگر سیلاب سے صورتحال بگڑتی ہے تو لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

بہار: سیمانچل میں سیلاب ہر سال یہاں تباہی برپا کرتا ہے جس سے ہزاروں لوگوں کا آشیانہ اجر جاتا ہے۔ سیمانچل کے علاقے میں حکومتوں کی بے رخی کی مثال یہاں کا چچری پل ہے۔ سیلاب کی تباہی کے بعد ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں رابطہ بحال کرنے اور پٹری سے اتری زندگی کو کسی طرح سنبھالنے کی کوشش میں چچری پل بنتا ہے اور کہیں سالوں بھر آمد و رفت کے لئے عوامی سطح پر چچری پل بنایا جاتا ہے۔ عوام ایک دوسرے سے چندہ کرکے بانس کی چچری کا پل بناتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے اور مجلس اتحاد المسلمین بہار کے ریاستی صدر و امور فلور لیڈر جناب اخترالایمان نے کہا کہ:

"باڑھ کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کیا تیاری کی ہے اس سلسلے میں ہم لوگوں نے ایک میٹنگ کی ہے۔ ہم لوگ سیمانچل کے تمام ضلع مجسٹریٹ کو میمورنڈم دینے جا رہے ہیں کہ کسی بھی گاؤں میں اگر سیلاب سے صورتحال بگڑتی ہے تو لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔”

عوام کے جان و مال کے تحفظ کے حکومت ذمہ دار

بہادر گنج اسمبلی حلقہ کے ایم ایل جناب انظار نعیمی نے اس پر مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ:

“ہم لوگ اس بات کی قانونی صلاح بھی لے رہے ہیں کہ کیا سیلاب سے ہر وقت جان و مال کے خطرے میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ رائٹ ٹو لائف کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ یہ تو بنیادی حق (فنڈامنٹل رائٹ) ہے کہ عوام کی زندگی اپنے اثاثوں کے ساتھ محفوظ ہوں۔ جب یہ فنڈامنٹل رائٹ ہے تو سمجھیے کہ یہاں پر یہ ایک بڑا ایشو ہے۔ اتنے دنوں تک لوگوں کی بستیاں کٹ رہی ہیں لیکن اس پر انتظامیہ کا کچھ دھیان نہیں۔ لوگ ٹیکس بھی تو ادا کر رہے ہیں۔ اس لئے ہم لوگوں کو کورٹ جانے کی تیاری کرنی چاہیے۔ ہمارے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔”

اخترالایمان نے مزید کہا کہ ہم ٹیکس ادا کرنے والے لوگ ہیں اس لئے ہمیں حق ہے کہ ہم لوگ اس کے ذمہ داران پر مقدمہ درج کرنے کے لئے عدلیہ کا رخ کریں۔ ہم قانون کے ماہرین سے بات کررہے ہیں۔

کوچا دھامن اسمبلی حلقہ سے مجلس کے ایم ایل اے جناب اظہار آصفی نے کہا کہ:

“گزشتہ تین سالوں میں جو مکانات کٹے ہیں یہ حکومت کے ریکارڈ میں ہے۔ ہمیں ہر جگہ کی رپورٹ ملنی چاہیے کہ 2017 میں کتنے لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح 2016 میں، یعنی کل تین سالوں میں کتنے لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے، اور کتنے لوگوں کو حکومت نے زمین دے کرکے ان کی بازآبادکاری کی، کتنے لوگوں کو معاوضہ ملا۔”

کورونا وبا کی وجہ سے بے روزگار لوگوں کے لیے وظیفہ کی مانگ

اے آئی ایم آئی ایم کے ایم یل اے نے کورونا وبا سے پیدا ہونے والے مسائل کا بھی تذکرہ کیا۔ اس سے متعلق پورنیہ سے مجلس کے ایم ایل اے جناب رکن الدین صاحب نے کہا کہ:

“کورونا وبا کی وجہ سے جو لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، جو مزدور ہجرت کررہے ہیں تو ان کے خاندانوں کو وظیفہ دیا جائے۔ اس وبا کے دور میں بعض ریاستوں میں ان کے کھاتے میں 5 ہزار ماہانہ دیا جاتا ہے لیکن یہاں ایسا کوئی بھی نظام ندارد ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنی نئی نسل کی تربیت سے غافل ہے۔ ابھی تک گاؤں کے بے روزگار ہنر مند مزدوروں کا سروے نہیں ہوسکا ہے تاکہ واپس آنے والے مزدوروں کو گاؤں میں ملازمت دی جاسکے۔

جوکی ہاٹ سے سے اے آئی ایم آئی ایم کے ایم ایل اے جناب شاہنواز عالم نے کہا کہ:

“گاؤں کے بہت سے مزدور آج بے روزگار ہیں۔ جو لوگ ہمارے معاشرتی خدشات سے تعلق رکھتے ہیں وہ عطیات پر بھروسہ کرتے ہیں، لیکن لوگوں کے روزگار کے لئے سرکاری عملہ یا محکمہ پر دباؤ ڈالنے یا ان سے رابطہ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک پہلو ہے۔”

ایم آئی ایم نے اپنے اسمبلی حلقہ کے بی ڈی او کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے میں کام کریں۔ اب ایم آئی ایم کے اراکین اسمبلی یہاں کی سہولیات کے بارے میں معلومات کے لئے ایک ساتھ مل کر بلاکس اور اسپتالوں کا دورہ کررہے ہیں۔

سیمانچل کے ساتھ حکومتوں کی ناانصافی

ان سبھی ممبران اسمبلی کا کہنا ہے کہ سیمانچل کے ساتھ شروع سے حکومتوں نے ناانصافی کی ہے۔ ایم آئی ایم سیمانچل کو انصاف دلانے کے لئے آرٹیکل 371 کے ماتحت سیمانچل کو لانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ سیمانچل ڈیولپمنٹ کاؤنسل کی تشکیل کر کے یہاں کے مسئلہ کو حل کیا جانا چاہئے۔ غربت، غذائیت کی کمی، صحت کا مسئلہ، تعلیم اور ناخواندگی سے علاقہ جوجھ رہا ہے۔

سب سےخراب حالت کسانوں کی ہے، جن کے مسائل کو سننے والا کوئی نہیں ہے۔ علاقہ کے سیاسی لوگ سیمانچل کی مشکلات کو حل کرنے کا مدّعہ اٹھاتے رہے ہیں، لیکن کسانوں کے مسائل کا حل کبھی نہیں نکلا ہے۔ اخیر میں ایک اہم بات مکئی کی کھیتی، اس کے پیداوار اور اس کی قیمت سے متعلق ہے۔ اس کی ایم ایس پی طے ہونی چاہئے اس کی قیمت کم از کم 2500 ہو۔ تو ان چار چیزوں کو ہم نے ایشو بنایا ہے۔ اور سیلاب کے مسئلہ کو ہم بطور خاص فوقیت دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ پورنیہ اسمبلی حلقہ کے ممبر اسمبلی جناب سید رکن الدین نے کہا کہ "سیمانچل میں بجلی کی حالت بھی خستہ ہے۔ تھوڑی سی ہوا چلنے پر یا بارش ہونے پر بھی گل ہوجاتی ہے جو گھنٹوں اور کبھی کبھی کئی دنوں تک ٹھیک نہیں ہوتی۔ ایک بار کہیں تار کٹنے، پول گرنے یا ٹرانسفارمر جلنے سے مہینوں بجلی کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔” مجلس اتحاد المسلمین کے نمائندوں نے کہا کہ ہم متعلقہ محکموں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔