منگل, مئی 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 347

ملک میں کورونا کی رفتار دھیمی، شفایابی کی شرح بڑھ کر 95 فیصد سے تجاوز

0
ملک میں کورونا کی رفتار دھیمی، شفایابی کی شرح بڑھ کر 95 فیصد سے تجاوز
ملک میں کورونا کی رفتار دھیمی، شفایابی کی شرح بڑھ کر 95 فیصد سے تجاوز

ملک میں کورونا کی رفتار دھیمی پڑنے سے ایکٹو کیسز کی شرح 3.68 فیصد ہوگئی ہے۔ شفایابی کی شرح 95.7 فیصد ہوگئی ہے۔ وہیں جمعہ کو 34 لاکھ 33 ہزار 763 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ ملک میں اب تک 24 کروڑ 96 لاکھ 304 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔

نئی دہلی: ملک میں کورونا کی رفتار دھیمی پڑنے سے اور اس وبا کو شکست دینے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے کی وجہ سے شفایابی کی شرح 95.7 فیصد ہوگئی ہے۔ وہیں ایکٹو کیسز کی شرح 3.68 فیصد ہوگئی ہے۔

دریں اثنا جمعہ کو 34 لاکھ 33 ہزار 763 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے۔ ملک میں اب تک 24 کروڑ 96 لاکھ 304 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔

وزارت صحت کی طرف سے ہفتہ کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 84،332 نئے کیسز سامنے آنے سے متاثرہ افراد کی تعداد دو کروڑ 93 لاکھ 59 ہزار 155 ہوگئی۔ اس دوران ایک لاکھ 21 ہزار 311 مریض صحتاب ہوئے ہیں، جس سے ملک میں اب تک صحتیاب ہونے والوں کی تعداد دو کروڑ 79 لاکھ 11 ہزار 384 ہو گئی۔ ایکٹو کیسز 40 ہزار 981 کم ہو کر 10 لاکھ 80 ہزار 690 رہ گئے ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4002 مریضوں کی موت ہونے سے اس وبا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 67 ہزار 81 ہوگئی ہے۔ ملک میں کورونا سے شرح اموات فی الحال 1.25 فیصد ہے۔

مہاراشٹر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایکٹو کیسز میں اضافہ

مہاراشٹر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایکٹو کیسز 1041 بڑھ کر 1،64،629 ہو گئے ہیں۔ اس دوران ریاست میں مزید 8104 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا سے نجات پانے والوں کی تعداد بڑھ کر 5616857 ہوگئی ہے۔ وہیں مزید 2619 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 106367 ہوگئی ہے۔

کیرالہ میں دوران ایکٹو کیسز 1295 کم ہوئے ہیں اور ان کی تعداد اب 1،34،422 ہوگئی ہے اور 15355 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد 2557597 ہوگئی ہے۔ وہیں مزید 173 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 10804 ہوچکی ہے۔

کرناٹک میں کورونا وائرس کے ایکٹو کیسز 6883 کم ہوئے ہیں اوران کی تعداد 203790 ہوگئی ہے۔ اسی دوران مزید 159 مریضوں کی موت کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 32644 ہوگئی ہے۔ ریاست میں اب تک 2511105 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

قومی دارالحکومت دہلی میں بھی کورونا کی رفتار میں سست روی جاری، ایکٹو کیسز 290 کم ہوئے ہیں اور اب ان کی تعداد 3922 ہوگئی ہے۔ یہاں مزید 24 مریضوں کی موت ہونے سے اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد 24،772 ہوگئی ہے۔ وہیں 1401977 مریضوں نے کورونا کو شکست دی ہے۔

تلنگانہ میں ایکٹو کیسز 802 کم ہو کر 22759 ہوچکے ہیں اور اب تک 3456 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ وہیں 574103 افراد اس وبا سے صحتیاب ہوئے ہیں۔ آندھرا پردیش میں ایکٹو کیسز 96100 ہیں۔ ریاست میں کورونا کو شکست دینے والے لوگوں کی تعداد 1688198 ہوچکی ہے۔ وہیں 11،824 افراد کی موت ہو گئی ہے۔

تامل ناڈو میں ایکٹو کیسز 13862 کم ہو کر 174802 ہو گئے اور مزید 388 مریضوں کی موت ہونے سے مرنےوالوں کی تعداد 28،906 ہوگئی ہے۔ وہیں 2120889 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایکٹو کیسز 1116 کم ہوئے ہیں اور ان کی تعداد 11127 ہو گئی ہے۔ ریاست میں اس وبا کی وجہ سے مزید 70 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 21،667 ہوگئی ہے اور 16،66،001 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

چھتیس گڑھ میں کورونا کے ایکٹو کیسز 1343 کم ہوکر 15932 ہو گئے ہیں۔ وہیں 956459 افراد کوروناسے صحتیاب ہوئے ہیں، جبکہ مزید 15 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 13،300 ہوگئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں ایکٹو کیسز 878 کم ہو کر 5447 پر رہ گئے ہیں اور اب تک 773615 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ جبکہ 8510 افراد کی اس وبا سے موت ہو چکی ہے۔

پنجاب میں ایکٹو کیسز 938 کم ہو کر 15306 ہو گئے ہیں اورانفیکشن سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 555245 ہوگئی ہے جبکہ 15،435 مریضوں کی موت ہو گئی۔

گجرات میں ایکٹو کیسز 1054 کم ہو کر 11657 ہو گئے ہیں اور اب تک 9،985 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ وہیں 797734 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ ہریانہ میں ایکٹو کیسز 616 کم ہو کر 5749 ہو گئے ہیں۔ ریاست میں اس وبا سے 8،904 افراد کی موت ہو گئی ہے اور اب تک 7،50،443 افراد اس وبا سے صحتیاب ہوئے ہیں۔

مغربی بنگال اور بہار میں کورونا کے ایکٹو کیسز میں اضافہ

مغربی بنگال میں کورونا کے ایکٹو کیسز 473 بڑھ کر 15192 ہو چکے ہیں اور 16،731 افراد کی اس وبا سے موت ہو گئی ہے۔ ریاست میں اب تک 1421064 صحتیاب ہوئے ہیں۔ بہار میں ایکٹو کیسز 552 بڑھ کر 5596 ہوگئے ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریاست میں کورونا وائرس کی وجہ سے 14 افراد کی موت ہونے سے مرنے والوں کی کل تعداد 9466 ہوگئی ہے۔ ریاست میں 701234 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

کورونا سے راجستھان میں اب تک 8799، اتراکھنڈ میں 6909، جھارکھنڈ میں 5060، جموں و کشمیر میں 4160، آسام میں 3873، ہماچل پردیش میں 3367، گوا میں 2810، پڈوچیری میں 1668، منی پور میں 944، میگھالیہ میں 714، چندی گڑھ 786، تریپورہ میں604، ناگالینڈ میں 445، سکم میں 281، لداخ میں 1978، اروناچل پردیش میں 138، انڈومان اور نکوبار میں 125، میزورم میں 62، لکشدیپ میں 43 اور دادر نگر حویلی اور دمن و دیو میں 4 افراد کی موت ہوئی ہے۔

روس کی جانب سے ایران کو سیٹلائٹ سسٹم کی پیش کش کی خبریں فرضی: پوتن

0
روس کی جانب سے ایران کو سیٹلائٹ سسٹم کی پیش کش کی خبریں فرضی: پوتن
روس کی جانب سے ایران کو سیٹلائٹ سسٹم کی پیش کش کی خبریں فرضی: پوتن

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے ساتھ انٹرویو میں روس ایران سیٹلائٹ معاہدے کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں مسٹر پوتن نے کہا کہ ہمارے ایران کے ساتھ فوجی اور تکنیکی تعاون کے منصوبے سے متعلق خبریں فرضی ہیں۔

واشنگٹن: روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی میڈیا میں روس کی جانب سے ایران کو جدید ترین سیٹلائٹ سسٹم فراہم کرنے کی تیاری کی خبروں کو ’بکواس‘ اور ’فرضی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے ساتھ انٹرویو میں روس ایران سیٹلائٹ معاہدے کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں مسٹر پوتن نے کہا ’’ہمارے ایران کے ساتھ فوجی اور تکنیکی تعاون کے منصوبے سے متعلق خبریں فرضی ہیں۔ کم از کم مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ، جو لوگ اس تعلق سے بات کر رہے ہیں وہ شاید اس سلسلے میں زیادہ جانتے ہوں گے۔ یہ صرف ’بکواس‘ ہے‘‘

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے جمعرات کے روز الزام لگایا ہے کہ روس ایران کو زمین کے مشاہدے کے لئے ایک اعلی صلاحیت والے کیمرے سے لیس سیٹلائٹ کنوپس – وی دینے والا ہے۔  اس کے لئے 2015 میں ایرانی اور روسی کمپنیوں کے مابین ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ نشریاتی ادارے کے مطابق سیٹلائٹ سے ایران، امریکہ میں امریکی فوجیوں سمیت فوجی اہداف کا پتہ لگانے اور ان کی نگرانی کرنے میں اہل ہو جائے گا۔

دہلی اور کولکتہ میں پہلی بار پٹرول 96 روپے سے تجاوز

0
دہلی اور کولکتہ میں پہلی بار پٹرول 96 روپے سے تجاوز
دہلی اور کولکتہ میں پہلی بار پٹرول 96 روپے سے تجاوز

ملک کے چار بڑے شہروں میں آج پٹرول 27 پیسے اور ڈیزل 24 پیسے تک مہنگا ہوگیا۔ دہلی اور کولکتہ میں پہلی بار پٹرول 96 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گیا۔ گزشتہ 4 مئی سے اب تک دہلی میں پٹرول 5.72 روپے اور ڈیزل 6.25 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔

نئی دہلی: آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہفتے کے روز مسلسل دوسرے دن اضافہ کیا، جس سے دہلی اور کولکتہ میں پہلی بار پٹرول 96 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گیا۔  ملک کے چار بڑے شہروں میں آج پٹرول 27 پیسے اور ڈیزل 24 پیسے تک مہنگا ہوگیا۔

معروف آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول 27 پیسے مہنگا ہو کر 96.12 روپے اور ڈیزل 23 پیسے مہنگا ہو کر 86.98 روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔

گزشتہ 4 مئی سے اب تک 23 دن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ بقیہ 17 دنوں میں قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس عرصے کے دوران دہلی میں پٹرول 5.72 روپے اور ڈیزل 6.25 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔

ممبئی میں پٹرول میں 26 پیسے اور ڈیزل میں 24 پیسے کا اضافہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پٹرول کی قیمت 102.30 روپے اور ڈیزل کی قیمت 94.39 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ چنئی میں پٹرول 24 پیسے مہنگا ہوکر 97.43 روپے اور ڈیزل 22 پیسے مہنگا ہو کر 91.64 روپے فی لیٹر فروخت ہوا۔

کولکتہ میں پٹرول 26 پیسے اور ڈیزل 23 پیسے بڑھا ہے۔ وہاں ایک لیٹر پٹرول 96.06 روپے اور ڈیزل 89.83 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا یومیہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر روزانہ صبح 6 بجے سے نئی قیمتیں لاگو ہو جاتی ہیں۔

آج ملک کے چار میٹرو شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں حسب ذیل ہیں:

شہر ————— پیٹرول ——————  ڈیزل

دہلی ————— 96.12 ——————  86.98
ممبئی ————  102.30 —————— 94.39
چنئی ————  97.43 -—————-    91.64
کولکتہ ————96.06 ——————    89.83

بی جے پی کے قومی نائب صدر مکل رائے اپنے بیٹے کے ساتھ ترنمول کانگریس میں شامل

0
بی جے پی کے قومی نائب صدر مکل رائے اپنے بیٹے کے ساتھ ترنمول کانگریس میں شامل
بی جے پی کے قومی نائب صدر مکل رائے اپنے بیٹے کے ساتھ ترنمول کانگریس میں شامل

مکل رائے کے آج صبح سے ہی ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کی خبر گردش کرنے لگی تھی۔ اس درمیان بی جے پی کے سینئر لیڈر کیلاش وجے ورگی اور دیگر لیڈران نے فون کرنا شروع کردیا تھا۔ تاہم انہوں نے بی جے پی لیڈروں سے بات کرنے کے بجائے آج دوپہر اپنے صاحبزادے کے ساتھ ترنمول کانگریس بھون پہنچ گئے۔ ترنمول کانگریس بھون میں مکل رائے کا ابھیشیک بنرجی نے خیر مقدم کیا۔

کلکتہ: وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی موجودگی میں بی جے پی کے قومی نائب صدر مکل رائے اپنے بیٹے سبھرانشو رائے کے ساتھ آج ترنمول کانگریس میں یہ کہتے ہوئے شامل ہوگئے۔ وہ آج اپنے گھر میں واپس آئے ہیں اور 20 جون کو عوام کے سامنے تفصیل سے اپنی بات رکھیں گے کہ انہوں نے بی جے پی کیوں چھوڑا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت بنگال میں جو صورت حال ہے ایسے میں کوئی بھی بی جے پی میں رہنا پسند نہیں کرے گا۔

مکل رائے کے آج صبح سے ہی ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کی خبر گردش کرنے لگی تھی۔ اس درمیان بی جے پی کے سینئر لیڈر کیلاش وجے ورگی اور دیگر لیڈران نے فون کرنا شروع کردیا تھا۔ تاہم انہوں نے بی جے پی لیڈروں سے بات کرنے کے بجائے آج دوپہر اپنے صاحبزادے کے ساتھ ترنمول کانگریس بھون پہنچ گئے۔ ترنمول کانگریس بھون میں مکل رائے کا ابھیشیک بنرجی نے خیر مقدم کیا۔ اس کے بعد ممتا بنرجی بھی پہنچ گئیں اور اس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان دو گھنٹے سے زائد میٹنگ ہوئی۔

طویل میٹنگ کے بعد ممتا بنرجی مکل رائے اور پارٹی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ اسٹیج پر پہنچی تو ابھیشیک بنرجی نے مکل رائے کے تئیں ادب و احترام کا مظاہرہ کیا۔ ممتا بنرجی نے بھی اپنے لئے رکھی مخصوص کرسی پر بیٹھنے کے بجائے عام کرسی منگوا کر بیٹھیں۔

بی جے پی کی شکست کے بعد مکل رائے کی ترنمول کانگریس میں شمولیت ایک بڑا جھٹکا

بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد مکل رائے کی ترنمول کانگریس میں شمولیت ایک بڑا جھٹکا ہے۔ مکل رائے چانکیہ کے طور پر مشہور رہے ہیں۔ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو 18 سیٹ دلانے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ مگر 2021 کے اسمبلی انتخابات میں انہیں کنارہ لگادیا گیا تھا۔ مکل رائے کو ایسی سیٹ سے امیدوار بنایا گیا جہاں کے لئے وہ بالکل نئے تھے۔ تاہم وہ جیتنے میں کامیاب رہے۔ نتائج کے بعد سے ہی مکل رائے کی ناراضگی کی خبر گردش کررہی تھی۔ وہ اور ان کی اہلیہ کورونا کی شکار ہوگئیں۔ مگر بی جے پی لیڈروں نے ان کی خبر گیری نہیں کی۔ مگر اچانک ابھیشیک بنرجی اسپتال پہنچ کر سب کو حیران کردیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم مودی، امت شاہ اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے فون کرکے خیریت معلوم کی۔

مکل رائے ترنمول کانگریس کے بانی لیڈروں میں سے رہے ہیں۔ مگر تین سال نو مہینے قبل وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے۔ مکل رائے کی بی جے پی میں شمولیت کو بی جے پی کی بڑی کامیابی قرار دی جارہی تھی۔ مکل رائے نے بھی بی جے پی کو کامیابی دلانے کیلئے سخت محنت کی۔

دو گھنٹے کی میٹنگ کے بعد ممتا بنرجی اور مکل رائے نے پارٹی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔ اسٹیج پر ابھیشیک بنرجی نے مکل رائے اور سبھرانشو رائے کا شال اوڑھا کر خیرمقدم کیا۔

مکل رائے نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ وہ اس وقت بی جے پی چھوڑنے سے متعلق کچھ بھی نہیں کہیں گے۔ مگر میں اپنے گھر آکر خوشی محسوس کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آئیڈولوجی کی وجہ سے ہی بی جے پی چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ جب وہ بی جے پی میں گئے تھے تو اپنے ساتھ کئی لیڈروں کو لے کر چلے گئے تھے۔ کیا ان لیڈروں کی واپسی ہوگی۔ مکل رائے نے کہا کہ یہ وقت ہی بتائے گا۔

تاریخی بلندی پر گھریلو اسٹاک مارکیٹ

0
تاریخی بلندی پر گھریلو اسٹاک مارکیٹ
تاریخی بلندی پر گھریلو اسٹاک مارکیٹ

کووڈ ۔ 19 کے کیسز میں مسلسل کمی کی وجہ سے جمعہ کی صبح گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں زبردست اضافہ ہوا اور بی ایس ای سینسیکس پہلی بار 52،600 پوائنٹس کو عبور کرگیا۔

ممبئی: گذشتہ کئی دنوں سے کووڈ ۔ 19 کے کیسز میں مسلسل کمی کی وجہ سے جمعہ کی صبح گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں زبردست اضافہ ہوا اور بی ایس ای سینسیکس پہلی بار 52،600 پوائنٹس کو عبور کرگیا۔

سینسیکس 176.72 پوائنٹس کے اضافے سے 52،477.19 پر کھلا اور 52626.64 پوائنٹس تک جا پہنچا۔ خبریں لکھے جانے تک یہ 300.65 پوائنٹس یا 0.57 فیصد اضافے سے 52،601.12 پوائنٹس پر کاروبار کررہا تھا۔

آئی ٹی، ٹیک اور بجلی سیکٹر کی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں نے ریلائنس انڈسٹریز اور ایچ ڈی ایف سی جیسی بڑی کمپنیوں میں بھی بڑی سرمایہ کاری کی۔

سینسیکس اس سے قبل 16 فروری کے درمیان 52،516.76 پوائنٹس پر چڑھ گیا تھا، جبکہ مارکیٹ بند ہونے کے وقت (7 جون کو) اس کی ریکارڈ سطح 52،328.51 پوائنٹس تھی۔

نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی بھی 58.70 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 15،796.45 پر کھلا اور 15،835.55 پوائنٹس تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔ تادم تحریر یہ 84.30 پوائنٹس یا 0.54 فیصد کے اضافہ کے ساتھ 15822.05 پر کاروبار کررہا تھا۔

ممبئی میں پٹرول کی قیمت 102 روپے، ڈیزل 94 روپے سے متجاوز

0
ممبئی میں پٹرول کی قیمت 102 روپے، ڈیزل 94 روپے سے متجاوز
ممبئی میں پٹرول کی قیمت 102 روپے، ڈیزل 94 روپے سے متجاوز

ملک کے چار بڑے میٹرو شہر میں آج پٹرول 29 پیسے اور ڈیزل 30 پیسے مہنگا ہوگیا۔ اس کی وجہ سے ممبئی میں پہلی بار پٹرول کی قیمت 102 روپے اور ڈیزل 94 روپے کو عبور کرگئے۔ چنئی میں پٹرول کی قیمت پہلی بار 97 روپے سے زیادہ ہوگئی۔

نئی دہلی: ایک دن تک مستحکم رہنے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمت جمعہ کو ایک بار پھر بڑھ کر ایک نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔

ملک کے چار بڑے میٹرو شہر میں آج پٹرول 29 پیسے اور ڈیزل 30 پیسے مہنگا ہوگیا۔ اس کی وجہ سے ممبئی میں پہلی بار پٹرول کی قیمت 102 روپے اور ڈیزل 94 روپے کو عبور کرگئے۔ چنئی میں پٹرول کی قیمت پہلی بار 97 روپے سے زیادہ ہوگئی۔

معروف آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق قومی دارالحکومت دہلی میں پٹرول 29 پیسے اضافے سے 95.85 روپے اور ڈیزل 28 پیسے کے اضافے سے 86.75 روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔

گزشتہ 4 مئی سے اب تک 22 دن میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھائی گئیں، جبکہ باقی 17 دن کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس دوران دہلی میں پٹرول 5.45 روپے اور ڈیزل 6.02 روپے مہنگا ہوگیا ہے۔

ممبئی میں پٹرول میں 28 پیسے اور ڈیزل میں 30 پیسے کا اضافہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پٹرول کی قیمت 102.04 روپے اور ڈیزل کی قیمت 94.15 روپے فی لیٹر کو عبور کر گئی۔ چنئی میں، پٹرول 25 پیسے مہنگا ہوکر 97.19 روپے اور ڈیزل 27 پیسے اضافے سے 91.42 روپے فی لیٹر ہوگیا۔

کولکاتا میں، دونوں ایندھن کی قیمتوں میں 28-28 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ وہاں ایک لیٹر پٹرول 95.80 روپے اور ڈیزل 89.60 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر روزانہ صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں پر عمل درآمد ہوتا ہے۔

آج ملک کے چار میٹرو شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں حسب ذیل ہیں۔

شہر ————— پیٹرول  —————— ڈیزل 

دہلی ————— 95.85    ————— 86.75
ممبئی ————— 102.04 ————— 94.15
چنئی ————— 97.19  —————- 91.42
کولکاتا ———— 95.80      ————— 89.60

بی جے پی کے خوف سے مسلمانوں کے سماجی، معاشی اور تعلیمی مسائل کو نظرانداز کرنا خودکشی کے مترادف: مسلم دانشور

0
بی جے پی کے خوف سے مسلمانوں کے سماجی، معاشی اور تعلیمی مسائل کو نظرانداز کرنا خودکشی کے مترادف: مسلم دانشور
بی جے پی کے خوف سے مسلمانوں کے سماجی، معاشی اور تعلیمی مسائل کو نظرانداز کرنا خودکشی کے مترادف: مسلم دانشور

حال ہی ترنمول کانگریس کے نو منتخب جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارٹی کے سینئر لیڈروں سے ملاقات کی اور ان سے آشیرواد لے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ پارٹی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ مگر ان میں سے ایک بھی مسلم لیڈر نہیں تھا۔ ایسا اس لئے ہے کہ ترنمول کانگریس میں اس سطح کا کوئی مسلم لیڈر ہے نہیں جو ابھیشیک بنرجی کو مشورہ دے سکے۔

کلکتہ: اب جب کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس کی حکومت قائم ہوچکی ہے تو مسلم تنظیموں اور لیڈروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی پسماندگی کے خاتمے کے لئے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے اور حکومت پر صحیح سمت میں اقدامات کرنے کے لئے لیڈرشپ کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر مسلم مسائل سے چشم پوشی کی گئی تو یہ مسلمانوں کے لئے خودکشی ثابت ہوگا۔

’’وزارت اعلیٰ کے عہدے پر ممتا بنرجی کی تیسری مدت اور مغربی بنگال کے مسلمان‘‘ کے عنوان سے منعقد ’’خصوصی ٹاک شو‘‘ میں حصہ لیتے ہوئے جادو پور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر عبد المتین نے کہا کہ 2006 میں سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد بنگال میں مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کے خاتمے کے لئے حکومت پر دباؤ قائم ہوا تھا۔اس کے نتیجے میں بائیں محاذ حکومت کو اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کے لئے عالیہ یونیورسٹی قائم کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ او بی سی کوٹے کے تحت ریزرویشن دینا پڑا۔ مگر 2016 کے بعد مسلمانوں کی سیکیورٹی کا ایشو حاوی ہوگیا اور برابری اور یکساں مواقع کی فراہمی کا ایشو پس پردہ چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات کے نتائج اسی سیکیورٹی ایشو کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مگر سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی اور اس کے عروج کے خوف سے مسلمانوں کو اپنے بنیادی مسائل سے چشم پوشی خودکشی کے مترادف ہوگا۔

مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ہی مسلمانوں کی ترقی کا ایشو غائب

عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد ریاض نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ممتا بنرجی کے پہلے دور اقتدار میں اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دی گئی اور بہت سارے اقدامات کئے گئے مگر وقت گزرنے کے ساتھ بالخصوص 2014 میں مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ہی مسلمانوں کی ترقی کا ایشو غائب ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے حکومت سے کہیں زیادہ مسلم تنظیمیں اور ادارے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ انتخابات میں ترنمول کانگریس کے انتخابی منشور سے مسلم ایشو غائب تھا مگر سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات سے قبل مسلم تنظیموں اور اداروں کی جانب سے چارڈر آف ڈیمانٹ پیش کیا گیا۔ انہوں نے مسلم لیڈر کی کوالیٹی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں ممتا بنرجی نے مختلف مذاہب کے نمائندوں سے ملاقات کی اس میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے جو مطالبات پیش کئے ہیں اس سے مسلم لیڈر شپ کا فقدان ظاہر ہوتاہے۔

اس سوال پر کہ اگر مسلمانوں کے دباؤ میں بائیں محاذ حکومت عالیہ یونیورسٹی اور او بی سی ریزرویشن حکومت دے سکتی ہے تو پھر یہ مسلم لیڈرشپ کہاں غائب ہوگئی۔ عبد المتین کہتے ہیں کہ جمعیۃ علما ہند اور جماعت اسلامی کا دائرہ مسلمانوں میں محدود ہے۔ وہ خاص طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ فرفرہ شریف کا تعلق عام مسلمانوں سے ہے۔ دیہی علاقوں میں فرفرہ شریف کی مضبوط پکڑ ہے تاہم فرفرہ شریف بھی حکومت پر دباؤ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرفرہ شریف کے پیر زادہ عباس صدیقی کی قیادت میں ایک سیاسی جماعت کا وجود اور مسلم ایشوز کو انہوں نے جس طریقے سے اٹھایا گرچہ اس کا اثر اس وقت نہیں ہوا مگر یہ مسلمانوں کےلئے سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے اگر یہ جماعت حکمت عملی سے کام کرے گی۔

خصوصی بات چیت میں شریک حسین رضوی کہتے ہیں کہ جس طریقے مسلمانوں نے بی جے پی کو روکنے کے لئے متحد ہوکر ترنمول کانگریس کو ووٹ دیا ہے اب ممتا بنرجی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے مسائل پر توجہ دیں۔ مگر وہ کہتے ہیں حقوق اسی وقت ملتے ہیں جب لیڈر شپ بیدار ہو، مگر مسلمانوں کا اس معاملے میں بدنصیبی ہے کہ اس کے پاس ایسی کوئی بھی لیڈر شپ نہیں ہے جو مسلمانوں کے ایشو ز کو اٹھاسکے۔ سب کے سب اپنے مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیڈر شپ کو کلکتہ تک محدود کردیا گیا ہے اور یہ لیڈر شپ دیہی علاقے کے مسائل سے نابلد ہیں۔

حکمراں جماعت ترنمول کانگریس میں مسلم لیڈر شپ کا فقدان

پروفیسر محمد ریاض کہتے ہیں حکمراں جماعت ترنمول کانگریس میں مسلم لیڈر شپ کا فقدان رہا ہے۔ بالخصوص سلطان احمد کی موت کے بعد تو خلا زیادہ بڑا ہوگیا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی ترنمول کانگریس کے نو منتخب جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارٹی کے سینئر لیڈروں سے ملاقات کی اور ان سے آشیرواد لے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ پارٹی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ مگر ان میں سے ایک بھی مسلم لیڈر نہیں تھا۔ ایسا اس لئے ہے کہ ترنمول کانگریس میں اس سطح کا کوئی لیڈر ہے نہیں جو ابھیشیک بنرجی کو مشورہ دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے معاشی مسائل کو حل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں تعلیم کا شعور پیدا ہوا ہے اور بہت سے ادارے تعلیمی شعبے میں کام کررہے ہیں اس کے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ مگر مسلمانوں کو او بی سی کوٹے سے جو ریزرویشن حاصل ہے اس کا فائدہ نہیں پہنچ پارہا ہے۔ اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے مسلم دانشوروں اور جماعتوں کا ایک ایسا گروپ تیار کیا جائے جو حکومت پر دباؤ بناسکے۔

پروفیسر عبدالمتین کہتے ہیں اس کے لئے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ پسماندہ طبقات، دلت اور شیڈول ٹرائب کے سنجیدہ طبقات کے ساتھ مل کر اپنے حقوق کے حصول کی جدو جہد کی جائے۔انہوں نے کہا کہ مالد ہ اور مرشدآباد جیسے مسلم اکثریتی اضلاع میں بھی آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کی نمائندگی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف نعروں سے کام نہیں چلتے ہیں بلکہ اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملی الامین کالج حکومت شاہی کی لاپرواہی کی وجہ سے اب بھی صحیح سے نہیں چل رہا ہے۔ یہی صورت حال مرشدآباد یونیورسٹی کا ہے۔ حکومت نے ایک کالج کو ہی یونیورسٹی کا درجہ دیدیا ہے۔ جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مرشدآباد یونیورسٹی کے لئے علاحدہ کیمپس کے قیام کی ضرورت تھی۔

وجے مالیا، نیرو مودی کی برطانیہ سے جلد ہوگی حوالگی 

0
وجے مالیا، نیرو مودی کی برطانیہ سے جلد ہوگی حوالگی
وجے مالیا، نیرو مودی کی برطانیہ سے جلد ہوگی حوالگی

برطانیہ کی وزیر مملکت برائے خارجہ نے 15 اپریل کو نیرو مودی کی حوالگی کا آرڈر دیا تھا۔ اب نیرو مودی اس کے خلاف اپیل کر رہا ہے لیکن وہ حراست میں ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کا (معاشی مجرمین) کی جلد از جلد حوالگی یقینی بنائیں گے۔

نئی دہلی: حکومت نے آج کہا کہ وہ کروڑوں روپے کے گھپلہ کے ملزم نیرو مودی اور وجے مالیا کی برطانیہ سے جلد از جلد حوالگی یقینی بنائے گی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے یہاں ایک ورچول پریس کانفرنس میں کہا کہ برطانیہ کی وزیر مملکت برائے خارجہ نے 15 اپریل کو نیرو کی حوالگی کا آرڈر دیا تھا۔ اب نیرو مودی اس کے خلاف اپیل کر رہا ہے لیکن وہ حراست میں ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کا (معاشی مجرمین) کی جلد از جلد حوالگی یقینی بنائیں گے۔

وجے مالیا کے بارے میں پوچھے جانے پر ترجمان نے کہا کہ تمام معاشی مجرمین کی حوالگی کے معاملہ پر چار مئی کو ہندوستان برطانیہ چوٹی میٹنگ میں بات چیت ہوئی تھی۔ برطانیہ نے کہا کہ ملک میں فوجداری نظام کی نوعیت کچھ رکاوٹوں کا باعث بنی ہے۔ لیکن وہ اس معاملہ کو سمجھتے ہیں اور ایسے مجرموں کی جلد حوالگی یقینی بنانے کے لئے مکمل تعاون کریں گے۔

سائبر حملے کے بعد جے بی ایس نے ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ تاوان ادا کیا

0

کمپنی نے بتایا کہ جے بی ایس امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے کریمینل ہیکنگ کے بعد بطور تاوان 1.1 کروڑ ڈالر ادا کیے تھے۔ ادائیگی کے وقت کمپنی کی فیکٹریوں میں بیشتر ملازمین کام کرتے تھے۔

واشنگٹن: دنیا کی سب سے بڑی گوشت فراہم کرنے والی برازیل کی جے بی ایس کمپنی نے سائبر حملے کے بعد 1.1 ڈالر کروڑ کا تاوان ادا کیا ہے۔

جے بی ایس نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی۔ کمپنی نے بتایا کہ جے بی ایس امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے کریمینل ہیکنگ کے بعد بطور تاوان 1.1 کروڑ ڈالر ادا کیے تھے۔ ادائیگی کے وقت کمپنی کی فیکٹریوں میں بیشتر ملازمین کام کرتے تھے۔

داخلی آئی ٹی پیشہ وروں اور تیسری پارٹی سائبر سیکیورٹی ماہرین، کمپنی نے حملے سے متعلق کسی غیر متوقع مسائل کو روکنے اور ڈیٹا باہر نہیں جانا یقینی بنانے کے لئے یہ فیصلہ لیا۔

جے بی ایس امریکی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آندرے نوگویرا نے کہا ’’ہماری کمپنی اور میرے لئے ذاتی طور پر ایک بہت مشکل فیصلہ تھا، لیکن ہم نے یہ محسوس کیا کہ ہمارے صارفین کو کسی بھی ممکنہ خطرات سے بچنے کے لئے یہ فیصلہ لینا ضروری ہے‘‘۔

عراقی دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے

0
عراقی دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے
عراقی دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے

عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) نے عراقی سیکیورٹی ایجنسیوں کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تین ڈرون سے حملے کیے گئے جن میں سے ایک کو مار گرایا گیا ہے۔

بغداد: عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کے روز ڈرون حملے کئے گئے۔

عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) نے عراقی سیکیورٹی ایجنسیوں کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تین ڈرون سے حملے کیے گئے جن میں سے ایک کو مار گرایا گیا ہے۔

اس سے قبل السموریہ ٹی وی چینل نے سیکیورٹی ایجنسیوں کے حوالے سے بتایا کہ بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک واقع وکٹری ملٹری بیس پر راکٹ حملے کی زد میں آگیا ہے۔

اس سے کچھ عرصے قبل عراقی صوبہ صلاح الدین میں بلاد ہوائی اڈے پر راکٹ داغے گئے تھے۔ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔