منگل, مئی 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 346

بی جے پی قائدین نے رام کے نام پر کیا گھپلہ: سسودیا

0
بی جے پی قائدین نے رام کے نام پر کیا گھپلہ: سسودیا
بی جے پی قائدین نے رام کے نام پر کیا گھپلہ: سسودیا

دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی قائدین نے رام مندر کے لئے شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے ذریعہ 12080 مربع میٹر اراضی میں کروڑوں روپے مالیت کا گھپلہ کیا ہے۔

نئی دہلی: دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی قائدین نے رام مندر کے لئے شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے ذریعہ 12080 مربع میٹر اراضی میں کروڑوں روپے مالیت کا گھپلہ کیا ہے۔

مسٹر سسودیا نے یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ شری رام جنم بھومی ٹرسٹ نے 18 مارچ 2021 کو12080 مربع میٹر زمین 18.5 روپے میں خریدی۔ ٹرسٹ نے یہ زمین روی موہن تیواری اور سلطان انصاری سے خریدی جس میں ٹرسٹ کے رکن انل مشرا اور اجودھیا کے میئر رشی کیش اپادھیائے گواہ بنے۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ مندر کے لئے مزید جگہ خریدی گئی تاکہ مندر مزید عالیشان بن سکے۔ اس کے لئے سب نے اپنا چندہ دیا چاہے وہ مزدور ہوں، کسان ہوں یا تاجر۔ شری رام کے مندر کی تعمیر کے لئے سب نے اپنی بچت سے چندہ دیا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس زمین کی خریداری اور شری رام کے عقیدت مندوں اور ان کے اعتماد کو دھوکہ دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شری رام جنم بھومی ٹرسٹ نے 18 مارچ 2021 کو شام 7 بجکر 15 منٹ پر روی موہن تیواری اور سلطان انصاری سے 18.5 کروڑ میں زمین خریدی تھی، اسی زمین کو ٹھیک 5 منٹ قبل شام 7 بجکر 10 منٹ پر ہریش پاٹھک اور کسم پاٹھک نے روی موہن تیواری اورسلطان انصاری کو دو کروڑ روپے میں بیچا تھا اور ان دونوں کے لین دین میں شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے رکن انل مشرا اور بی جے پی کے لیڈر اور اجودھیا کے میئر رشی کیش اپادھیائے گواہ بنے۔

مسٹر سسودیا نے بتایا کہ شروع میں زمین سے متعلق دستاویزات دیکھنے کے بعد ایسا لگتا تھا کہ یہ جعلی ہوگا، لیکن شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے لوگوں نے بے شرمی سے ایک بیان جاری کیا اور ایک متنازعہ دلیل دی کہ زمین مہنگی ہوگئی ہے۔ کیا کسی زمین کی قیمت 5 منٹ میں 2 کروڑ سے 18.5 کروڑ روپے ہوسکتی ہے؟

ٹرسٹ کو مشورے دیتے ہوئے سسودیا نے بتایا کہ عوام نے چندہ شری رام کے پرشکوہ مندر کی تعمیر کے لئے دیا ہے نہ کہ ان کے عقیدے کا مذاق اڑانے اور فنڈز کے غبن کے لئے چندہ دیا ہے۔

نئی اسرائیلی کابینہ میں زیادہ تر خواتین وزرا کا تعلق عرب ممالک سے

0
نئی اسرائیلی کابینہ میں زیادہ تر خواتین وزرا کا تعلق عرب ممالک سے
نئی اسرائیلی کابینہ میں زیادہ تر خواتین وزرا کا تعلق عرب ممالک سے

اسرائیل کی تاریخ جہاں میں پہلی بار کسی عرب کو وزیر بنایا گیا ہے وہیں سب سے زیادہ خواتین کو کابینہ میں جگہ ملی ہے۔ یہ اسرائیل کی تاریخ میں کسی بھی کابینہ کے اندر خواتین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اسرائیل میں تشکیل پانے والی نئی اتحادی حکومت میں 9 خواتین وزراء ہیں۔ نو خواتین میں سے 5 خواتین عرب نژاد ہیں۔

یروشلم: اسرائیل کی تاریخ میں جہاں پہلی بار کسی عرب کو وزیر بنایا گیا ہے وہیں سب سے زیادہ خواتین کو کابینہ میں جگہ ملی ہے۔ اسرائیل میں تشکیل پانے والی نئی اتحادی حکومت میں 9 خواتین وزراء ہیں۔ نو خواتین میں سے 5 خواتین عرب نژاد ہیں۔ ان میں 2 کا تعلق مراکش سے اور 3 کا عراق سے ہے۔

یہ اسرائیل کی تاریخ میں کسی بھی کابینہ کے اندر خواتین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
العربیہ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق مذکورہ عرب نژاد خواتین میں 58 سالہ وزیر اقتصادیات Orna Barbivai شامل ہیں۔ وہ اسرائیلی فوج میں پہلی خاتون ہیں جو میجر جنرل کے عہدے تک پہنچیں۔ اورنا کی والدہ نے عراق سے اور والد نے رومانیا سے اسرائیل ہجرت کی تھی۔ بلیو اینڈ وائٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی اورنا 2019ء سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انہوں نے سماجیات میں گریجویشن اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔

اسی طرح عراقی نژاد خواتین وزراء میں 45 سالہ Ayelet Shaked بھی ہیں۔ نئی حکومت میں وزیر داخلہ کے منصب پر فائز ہونے والی ایلت کے والد گذشتہ صدی میں 1950ء کی دہائی میں عراق سے ایران کے راستے اسرائیل ہجرت کر گئے تھے۔ ایلت نے الکٹرک انجینئرنگ میں بیلچرز مکمل کیا اور پھر کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اسرائیلی فوج میں بھی خدمت انجام دے چکی ہیں۔

نئی حکومت میں وزیر تعلیم کا عہدہ 48 سالہ Yifat Shasha-Biton کے پاس ہے۔ یفعات شاشا کی والدہ مراکش میں نرس کے پیشے سے وابستہ تھیں جب کہ والد کا تعلق عراق سے ہے۔ اسرائیلی ہجرت سے قبل وہ ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ تھے۔

نئی حکومت میں سماجی مساوات کا قلم دان 38 سالہ Meirav Cohen سنبھالیں گی۔ ان کے والدین کا تعلق مراکش سے ہے۔ ان دونوں نے اسرائیل ہجرت کی۔ میراؤ نے اکنامکس اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔

اسی طرح 44 سالہ Karine Elharrar-Hartstein کا تعلق بھی مراکش کے ایک گھرانے سے ہے جو گذشتہ صدی میں 1950ء کی دہائی میں اسرائیل منتقل ہوگیا۔ کیرین نے قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ نئی حکومت میں وزیر توانائی کے طور پر کام کریں گی۔

اسرائیلی حکومت میں وزارت ہجرت کا قلم دان 40 سالہ Pnina Tamano-Shata کو دیا گیا ہے۔ وہ ایتھوپیا میں پیدا ہوئیں اور پھر 3 سال کی عمر میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ اسرائیل ہجرت کر گئیں۔ وہ قانون کے تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ پہلی ایتھوپین نژاد ہیں جنہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں نشست جیتی۔ ان کا تعلق بلیو اینڈ وائٹ پارٹی سے ہے۔

نئی کابینہ میں ہمیں 54 سالہ ریڈیو اور ٹی وی پیش کار اور صحافتی کارکن Merav Michaeli بھی نظر آتی ہیں۔ اسرائیل میں مشہور شخصیت رکھنے والی میراؤ ”ورک پارٹی” کی سربراہ ہیں۔ ان کے خاندان کا تعلق ہنگری سے ہے۔ میراؤ کے پاس ٹرانسپورٹ کی وزارت ہے۔

ماحولیات کے تحفظ کی 44 سالہ اسرائیلی خاتون وزیر Tamar Zandberg پارلیمنٹ میں ”میرٹس پارٹی” کی رکن ہیں۔ وہ اسرائیل کے سابق فٹبالر مائیکل زینڈبرگ کی بہن ہیں۔

اسرائیلی حکومت میں خواتین وزراء میں آخری نام 50 سالہ Orit Farkash-Hacohen کا ہے۔ وہ وزارت سائنس و تخلیق کا قلم دان سنبھالیں گی۔ اوریت گذشتہ حکومت میں سیاحت کی وزیر کے منصب پر کام کر رہی تھیں۔ ان کا تعلق ”بلیو اینڈ وائٹ” پارٹی سے ہے۔

مغربی بنگال میں لاک ڈاؤن میں یکم جولائی تک توسیع

0
مغربی بنگال میں لاک ڈاؤن میں یکم جولائی تک توسیع
مغربی بنگال میں لاک ڈاؤن میں یکم جولائی تک توسیع

مغربی بنگال چیف سیکریٹری ایچ دویدی نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی موجودگی میں لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کورونا وائرس کنٹرول میں ہے مگر خطرہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ اس لئے کچھ نرمیوں کے ساتھ لاک ڈاؤن نافذ رہے گی۔

کلکتہ: مغربی بنگال میں کچھ نرمیوں کے ساتھ یکم جولائی تک لاک ڈاؤن میں توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

چیف سیکریٹری ایچ دویدی نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی موجودگی میں لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کورونا وائرس کنٹرول میں ہے مگر خطرہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ اس لئے کچھ نرمیوں کے ساتھ لاک ڈاؤن نافذ رہے گی۔

بنگال حکومت کے اعلان کے مطابق لوکل ٹرین، میٹرو ٹرین، سرکاری اور پرائیوٹ بسیں نہیں چلیں گی۔ نئے رہنما خطوط کے مطابق سرکاری اور پرائیوٹ دفاتر 25 فیصد حاضری کے ساتھ کھلیں گے۔خوردہ مارکیٹ صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک کھلیں رہیں گے۔ شاپنگ مال دوپہر 12 بجے سے شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے۔ دیگر تمام دکانیں دوپہر 12 بجے سے شام 6 بجے تک کھلی رہیں گی۔ پچاس فیصد سیٹوں کے ساتھ ریسٹورنٹ کھولنے کی اجازت ہوگی۔

اسے بھی پڑھیں:

دارالحکومت دہلی میں اَن لاک کا عمل پیر سے شروع 

عالمی بینک جموں و کشمیر میں ہیلتھ انفراسٹرکچر کے استحکام کے لئے 50 ملین ڈالر دے گا

0
عالمی بینک جموں و کشمیر میں ہیلتھ انفراسٹرکچر کے استحکام کے لئے 50 ملین ڈالر دے گا
عالمی بینک جموں و کشمیر میں ہیلتھ انفراسٹرکچر کے استحکام کے لئے 50 ملین ڈالر دے گا

عالمی بینک نے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کو 50 ملین امریکی ڈالر بطور امداد فراہم کرنے کو منظوری دی ہے۔ 

جموں: عالمی بینک نے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کو صحت کے بنیادی ڈھانچے کے استحکام کے لئے 50 ملین امریکی ڈالر بطور امداد فراہم کرنے کو منظوری دی ہے۔

یونین ٹریٹری کے فائنانشل کمشنر برائے ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اتل ڈلو نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں موجودہ ہیلتھ کیئر اداروں کے استحکام کے لئے عالمی بینک کی طرف رجوع کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا: ’عالمی بینک نے 50 ملین امریکی ڈالرز (367 کروڑ 49 لاکھ روپے) بطور امداد فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے’۔

ان کا کہنا تھا: ‘اس امداد کو بڑے ہسپتالوں بشمول میڈیکل کالجوں میں سی ٹی اسکین مشینوں، کلر ڈوپلرس، آئی سی یو یونٹس، آپریشن تھیٹرز و دیگر لیبارٹریوں کے استحکام اور ضلع ہسپتالوں میں بھی ضروری مشینوں جیسے ای سی جی مشینوں، ایکس رے مشینوں وغیرہ کے نظام کو مضبوط کرنے کے لئے منظور کیا گیا ہے’۔

مسٹر ڈلو نے کہا کہ پرائم منسٹرس ڈیولوپمنٹ پیکیج (پی ایم ڈی پی) اسکیم کے تحت جموں و کشمیر کے شعبہ صحت کو 881 کروڑ 17 لاکھ روپے واگذار کئے گئے جس میں سے اب تک 754 کروڑ 13 لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔

140 نئے صحت پروجیکٹس زیر دست، 91 پروجیکٹس مکمل

انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت 140 نئے صحت پروجیکٹس زیر دست لئے گئے جن میں سے 91 پروجیکٹس مکمل ہو چکے ہیں جبکہ دیگر 49 پر کام چل رہا ہے اور وہ رواں مالی سال کے دوران مکمل ہونے کا امکان ہے۔

موصوف کمشنر نے کہا کہ ان پروجیکٹس میں سری نگر میں تعمیر ہو رہا پانچ سو بستروں پر مشتمل نیا بچہ ہسپتال، جموں میں تعمیر ہو رہا دو سو بستروں پر مشتمل نیا زچگی ہسپتال، جموں میں ہی تعمیر ہونے والا نیا ہڈیوں کا ہسپتال، گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں ایک سو بستروں پر مشتمل اضافی ایمرجنسی بلاک، جموں میں بائز اینڈ گرلز ہوسٹل کی تعمیر، گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر میں نرسنگ کالج کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں’۔

مسٹر ڈلو نے کہا کہ ‘ہیلتھ کیئر انوسٹمنٹ پالیسی’ کے تحت معیاری ہیلتھ کیئر ڈھانچہ قائم کرنے کے لئے اس سیکٹر میں نجی سرمایہ کاروں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو اپنی دہلیز پر ہی بہتر سے بہتر ہیلتھ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں سرکار کو کچھ منصوبے حاصل ہوئے ہیں جنہیں دیکھا جا رہا ہے اور اس کے علاوہ جموں و کشمیر صنعتی پالیسی کے تحت صنعتوں کے لئے دستیاب مراعات کو ہیلتھ سیکٹر پروجیکٹس پر صرف کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘آیوش کیئر انوسٹمنٹ پالیسی’ کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ نجی شراکت داروں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

مسٹر ڈلو نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران ڈاکٹروں اور دیگر نیم طبی عملے کی 2558 اضافی اسامیوں کو پر کیا گیا تاکہ ہسپتالوں میں عملے کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے یونین ٹریٹری میں دو سٹیٹ کینسر اداروں، ایک گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں اور دوسرا شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈٰکل سائنسز صورہ سری نگر میں، کو منظوری دی۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر انفراسٹرکچر ڈیولوپمنٹ فائنانس کارپوریشن لمیٹڈ کے تحت یونین ٹریٹری میں 138 ہیلتھ پروجیکٹس جو فنڈس کی عدم دستیابی کی وجہ سے التوا میں پڑے تھے، کے لئے 589 کروڑ 94 لاکھ روپیے واگذار کرنے کو منظوری دی ہے اور ان میں سے دو سو کروڑ روپے مشینری خریدنے پر صرف کئے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان 138 ہیلتھ پروجیکٹس میں سے 30 پروجیکٹس مکمل ہوئے ہیں۔

روس کو تعمیری شراکت دار بنانے کے لئے اسٹریٹیجک تصور میں تبدیلی کرے گا نیٹو: امریکہ

0
روس کو تعمیری شراکت دار بنانے کے لئے اسٹریٹیجک تصور میں تبدیلی کرے گا نیٹو: امریکہ
روس کو تعمیری شراکت دار بنانے کے لئے اسٹریٹیجک تصور میں تبدیلی کرے گا نیٹو: امریکہ

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے بتایا کہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) پیر کے اجلاس کے بعد اپنے اسٹرہیٹجک انداز میں تبدیلی کرے گا اور روس کو "تعمیری شراکت داری” کے طور پر شامل کرسکتا ہے۔

واشنگٹن: امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے بتایا کہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) پیر کے اجلاس کے بعد اپنے اسٹرہیٹجک انداز میں تبدیلی کرے گا اور روس کو "تعمیری شراکت داری” کے طور پر شامل کرسکتا ہے۔

مسٹر سلیوان نے اتوار کو ایئر فورس ون میں سوار نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہم دیکھیں گے کہ رہنماؤں کے پاس ایک نئے اسٹریٹجک تصوراتی عمل کے لئے وابستگی ہے جس کے نتیجے میں اگلے سال 2022 میں ناٹو کے سربراہی اجلاس میں ایک نیا تزویراتی تصور جاری کیا جائے گا۔” حتمی اسٹریٹیجک تصور 2010 میں جاری کیا گیا تھا اور دیگر باتوں کے علاوہ اس میں روس کو ‘تعمیری شراکت دار’ کی حیثیت سے شامل کیا جائے گا۔ یہ ناٹو کے لئے اس اسٹریٹجک تصور کو اپ ڈیٹ کرنے کا وقت ہے۔  وہ (مسٹر بائیڈن) اس سلسلے میں سربراہی اجلاس میں اتحادیوں اور شراکت داروں سے مشاورت کریں گے۔”

اس سے قبل یہاں جاری ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ نیٹو روس اور چین کے بارے میں اپنی اسٹریٹجک پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے جا رہا ہے اور دہشت گردی، سائبر کرائم اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے بین الاقوامی خدشات کے ساتھ ساتھ اجتماعی سلامتی کو لاحق خطرات کا ازالہ کرے گا۔

واضح رہے کہ آج جی ۔ 7 سربراہی اجلاس برطانیہ کے کارنوال کاؤنٹی میں ہورہا ہے۔ جی 7 سربراہی اجلاس میں برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور کینیڈا کے رہنماؤں نے عالمی اصلاحات، کووڈ ۔ 19 وبائی امراض اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

پرتاپ گڑھ: اے بی پی نیوز رپورٹر کی مشتبہ حالات میں موت

0
پرتاپ گڑھ: اے بی پی نیوز رپورٹر کی مشتبہ حالات میں موت
پرتاپ گڑھ: اے بی پی نیوز رپورٹر کی مشتبہ حالات میں موت

مشتبہ حالات میں اے بی پی نیوز رپورٹر کی بائک کے پول سے ٹکرا جانے کے سبب موت ہوگئ۔ متوفی سلبھ شری واستوا کو شراب مافیا کے خلاف خبر چلانے کے سبب خوف تھا۔ انہوں نے گزشتہ 12/ جون کو اے ڈی جی کو مکتوب ارسال کر جان و مال کی حفاظت کا مطالبہ کیا تھا۔

پرتاپ گڑھ: اترپردیش میں پرتاپ گڑھ ضلع کے تھانہ کوتوالی سٹی علاقے کے سکھپال نگر اینٹ بھٹّے کے نزدیک گزشتہ اتوار و پیر کی شب تقریبا 11 بجے مشتبہ حالات میں اے بی پی نیوز رپورٹر کی بائک کے پول سے ٹکرا جانے کے سبب موت ہوگئ۔ متوفی نے گزشتہ 12 جون کو اے ڈی جی کو مکتوب ارسال کر جان و مال کی حفاظت کا مطالبہ کیا تھا۔

ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ سریندر دیویدی نے آج بتایا کہ اے بی پی نیوز رپورٹر سلبھ شری واستوا 42 ساکن ریلوے روڈ پرتاپ گڑھ اتوار کو تھانہ لال گنج علاقے کے اسرہی گاؤں میں برآمد اسلحہ فیکٹری کی نیوز کور کرکے واپس گھر آرہے تھے کہ تھانہ کوتوالی سٹی علاقے کے سکھپال نگر اینٹ بھٹّے کے نزدیک بجلی کے پول سے ٹکرا جانے کے سبب شدید زخمی ہو گئے۔ جہاں علاج کے لئے ضلع اسپتال لایا گیا، ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیا۔

وہیں اطلاع پر اہل خانہ ضلع اسپتال پہنچے۔ پولیس دیگر پہلو پر گہرائی سے تحقیقات کر قانونی کارروائی کر رہی ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔ متوفی سلبھ کے پسماندگان میں اہلیہ و ایک بیٹا و بیٹی ہے۔ واضح کردیں کہ متوفی سلبھ کو شراب مافیا کے خلاف خبر چلانے کے سبب خوف تھا۔ انہوں نے گزشتہ 12/ جون کو اے ڈی جی کو مکتوب ارسال کر جان و مال کی حفاظت کا مطالبہ کیا تھا۔

’میٹ فورمن‘ کووڈ مریضوں کے پھیپھڑوں کے ورم کا ممکنہ علاج: نئی تحقیق

0
’میٹ فورمن‘ کووڈ مریضوں کے پھیپھڑوں کے ورم کا ممکنہ علاج: نئی تحقیق
’میٹ فورمن‘ کووڈ مریضوں کے پھیپھڑوں کے ورم کا ممکنہ علاج: نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈشوگر کی سطح میں کمی لانے کے لئے دنیا بھر میں تجویز کی جانے والی دوا ’میٹ فورمن‘ کورونا وائرس کے مریضوں میں پھیپھڑوں کے ورم کے علاج میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ اس حوالے سے ابھی کووڈ 19 کے انسانی مریضوں پر ٹرائل کی ضرورت ہے۔ تب ہی مکمل نتائج سامنے آ سکیں گے۔

نیویارک: ایک نئی تحقیق کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لانے کے لئے دنیا بھر میں تجویز کی جانے والی دوا ’میٹ فورمن‘ کورونا وائرس کے مریضوں میں پھیپھڑوں کے ورم کے علاج میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ دوا جگر میں گلوکوز بننے کی سطح کو کم کرتی ہے جس سے جسم میں بلڈ شوگر لیول کم ہوتا ہے اور جسم کا انسولین پر ردعمل بہتر ہوتا ہے۔ جبکہ یہ ورم کش خصوصیات کی بھی حامل دوا ہے، تاہم اس سرگرمی کی وجہ معلوم نہیں۔

اب امریکہ کی کیلیفورنیا کی تحقیق میں ’میٹ فورمن‘ کی ورم کش سرگرمی کے مالیکیولر میکنزم کو دریافت کیا گیا۔

چوہوں پر کی جانے والی تحقیق میں پایا گیا کہ اس دوا سے کووڈ 19 کے مریض جانوروں میں پھیپھڑوں کے ورم کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔

گزشتہ سال سے ہی دنیا بھر میں متعدد کلینکل ٹرائلز میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے ذیابیطس کے مریض اگر پہلے سے ’میٹ فورمن‘ کا استعمال کررہے ہوتے ہیں تو ان میں بیماری کی شدت اور موت کے خطرے میں کمی آتی ہے۔

ذیابیطس اور موٹاپے دونوں کو کووڈ 19 کے مریضوں کے لئے خطرہ بڑھانے والے 2 اہم ترین عناصر تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کے شکار افراد میں سنگین نتائج کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لانے والی دیگر ادویات سے کووڈ 19 کے مریضوں میں یہ فائدہ دریافت نہیں ہوسکا۔

اگرچہ کلینیکل ٹرائلز میں ’میٹ فورمن‘ کو ورم کش سرگرمی سے منسلک کیا گیا مگر کسی بھی تحقیق میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی جبکہ کنٹرول ٹرائلز بھی ہیں ہوئے۔

طبی جریدے جرنل ’امیونٹی‘ میں شائع نئی تحقیق میں شریک ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرائلز میں ایسے نتائج سامنے آئے جن سے حتمی نتیجے پر پہنچنا بہت مشکل تھا جس کی وجہ سے ان پر شکوک سامنے آئے تھے۔

انہوں نے چوہوں پر اس کے تجربات کئے اور ایسے جانوروں کو شامل کیا گیا جن کو نظام تنفس کے ایک جان لیوا مرض اے آر ڈی ایس کا سامنا تھا، جس میں پھیپھڑوں میں سیال لیک ہوجاتا ہے اور سانس لینا دشوار جبکہ اہم اعضا تک آکسیجن کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

اے آر ڈی ایس سے ایسے اثرات مرتب ہوتے ہیں جو کووڈ سے متاثر اسپتال میں زیر علاج مریضوں میں بھی موت کا باعث بنتے ہیں۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چوہوں کو بیمار کرنے سے پہلے ’میٹ فورمن‘ کا استعمال علامات کی شدت میں کمی لاتا ہے۔

اسی طرح بیماری کے شکار جانوروں میں اس دوا سے موت کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے کیونکہ وہ مدافعتی خلیات کے باعث ہونے والے ورم کی روک تھام کرتے ہیں، ایسا کووڈ کے مریضوں میں بھی عام ہوتا ہے۔

کووڈ کے مریضوں میں ورم کی وجہ سے جسم اپنے ہی خلیات اور ٹشوز کے خلاف سرگرم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ایک آئی ایل ون نامی پروٹین بنتا ہے، جس کی شرح کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے مریضوں کے پھیپھڑوں میں بہت زیادہ دریافت کی گئی ہے۔

محققین نے پایا کہ ’میٹ فورمن‘ کووڈ کے مریضوں کے پھیپھڑوں میں ورم کو متحرک ہونے سے روکنے اور اس کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجربات سے یہ ٹھوس اشارہ ملتا ہے کہ اس دوا سے کووڈ 19 کے سنگین شدت سے متاثر افراد کے لئے نیا علاج فراہم کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال، اس حوالے سے ابھی کووڈ 19 کے انسانی مریضوں پر ٹرائل کی ضرورت ہے۔ تب ہی مکمل نتائج سامنے آ سکیں گے۔

اترپردیش میں مانسون کی دستک، جھما جھم بارش، آئندہ پانچ دنوں تک جاری رہنے کے آثار

0
اترپردیش میں مانسون کی دستک، جھما جھم بارش، آئندہ پانچ دنوں تک جاری رہنے کے آثار
اترپردیش میں مانسون کی دستک، جھما جھم بارش، آئندہ پانچ دنوں تک جاری رہنے کے آثار

جنوب مغربی مانسون نے اتوار کو اترپردیش میں دستک دے دی ہے جس کے سبب راجدھانی لکھنؤ کے علاوہ پوروانچل کے کئی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

لکھنؤ: جنوب مغربی مانسون نے اتوار کو اترپردیش میں دستک دے دی ہے جس کے سبب راجدھانی لکھنؤ کے علاوہ پوروانچل کے کئی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست کے مشرقی حصوں میں ہوا کے کم دباو کا علاقہ بنا ہوا ہے اور کئی علاقوں میں آج تیز رفتار ہواؤں کے ساتھ زوردار بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا۔ آندھی پانی کا یہ سلسلہ کم از کم آئندہ پانچ دنوں تک جاری رہنے کے آثار ہیں۔

اس مدت میں مغرب کے کئی علاقوں میں درمیانہ سے شدید بارش کا اندازہ ہے جبکہ مغربی اترپردیش کے کئی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کے آثار ہیں۔

اس درمیان ایٹا میں جیتھرا علاقہ کے پرم سکھ گاؤں میں بارش کے سبب ایک مکان کا لنٹر گر جانے سے ماں بیٹی کی موت ہوگئی جبکہ دو دیگر بری طرح زخمی ہوگئے۔ وزیراعلی یوگی نے اس حادثہ پر افسوس کا اظہار کیا اور حادثہ میں زخمی لوگوں کا مکمل علاج کرانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے ضلع مجسٹریٹ کو متوفیوں کے رشتہ داروں کو راحتی رقم فوری طور پر دئے جانے کی ہدایت دی ہے۔

وزیراعلی یوگی نے بجلی گرنے اور بلرام پور میں پہاری نالہ میں ڈوب جانے سے ہوئی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متوفیوں کے رشتہ داروں کو قواعد کے مطابق راحتی رقم دیئے جانے اور زخمیوں کے مکمل علاج کی ہدایت دی ہے۔

ڈیفنس ایکسی لینس میں جدت کے لئے 498 کروڑ روپئے کے بجٹ کی امداد کو منظوری

0
ڈیفنس ایکسی لینس میں جدت کے لئے 498 کروڑ روپئے کے بجٹ کی امداد کو منظوری

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آئندہ پانچ برسوں کے لئے ڈیفنس ایکسی لینس میں دفاعی انوویشن آرگنائزیشن کے لئے 498.8 کروڑ روپئے کے بجٹ کی امداد کو منظوری دی ہے۔

نئی دہلی: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آئندہ پانچ برسوں کے لئے ڈیفنس ایکسی لینس میں (آئی-ڈی ای ایکس) دفاعی انوویشن آرگنائزیشن (ڈی آئی او) کے لئے 498.8 کروڑ روپئے کے بجٹ کی امداد کو منظوری دی ہے۔

اس بجٹ کی معاونت سے ‘آتم نربھر بھارت ابھیان‘ کو فروغ ملے گا۔ کیونکہ آئی ڈی ای ایکس-ڈی آئی او کا ملک کے دفاعی اور ایرو اسپیس سیکٹر میں خود انحصاری اور مقامی پن بنیادی مقصد ہے۔

محکمہ دفاعی پیداوار (ڈی ڈی پی) کے ذریعہ آئی ڈی ای ایکس کی تشکیل اور ڈی آئی او کے قیام کا مقصد ایم ایس ایم ای، اسٹارٹ اپ، انفرادی انویٹرز، آر اینڈ ڈی اداروں اور تعلیمی اداروں سمیت صنعتوں کو شامل کرکے دفاع اور ایرو اسپیس میں جدت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے ایک ایکو سسٹم کی تعمیر کرنا اور انہیں تحقیق اور ترقی کے لئے گرانٹ اور فنڈنگ ​​و دیگر امداد فراہم کرنا ہے۔

آئندہ پانچ سالوں کے لئے 498.8 کروڑ روپئے کے بجٹ کی مدد والی اس اسکیم کا مقصد ڈی آئی او فریم ورک کے تحت تقریباً 300 اسٹارٹ-اپس، ایم ایس ایم ای، انفرادی جدت کاروں اور 20 پارٹنر انکیوبیٹر کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ دفاعی ضروریات کے بارے میں ہندوستانی جدت طرازی کے نظام میں بیداری بڑھانے اور اس کے برعکس ہندوستانی دفاعی ادارے میں ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جدید حل پیش کرنے کی ان کی صلاحیت کے تئیں بیداری پیدا کرنے میں مدد کرے گا۔

اس اسکیم کا مقصد دفاع اور ایرو اسپیس سیکٹر کے لئے نئی، دیسی اور جدید ٹیکنالوجیز کی تیز رفتار ترقی کی سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ کم وقت میں ان کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ دفاعی اور ایرو اسپیس کے لئے کو-کریئیشن کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے انویٹیو اسٹار اپس کے ساتھ تعلقات کی ثقافت کو فروغ دینا، دفاعی اور ایرو اسپیس سیکٹر میں ٹیکنالوجی کو-کرئیشن اورکو-انویشن کی ثقافت کو بااختیار بنانا اور اسٹارٹ اپ کے درمیان جدت کو فروغ دے کر انہیں اس ایکو سسٹم کا حصہ بننے کے لئے ترغیب دینا ہے۔

ڈی ڈی پی پارٹنر انکیوبیٹر (پی آئی) کی حیثیت سے آئی ڈی ای ایکس نیٹ ورک کے قیام اور انتظام کے لئے ڈی آئی او کو فنڈ جاری کرے گا۔ یہ دفاع اور ایرو اسپیس کی ضروریات کے بارے میں سائنس اور ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے پارٹنر انکیوبیٹر سمیت پارٹنر انکیوبیٹر کے ذریعہ ایم ایس ایم ای کے جدت کاروں، اسٹارٹ اپ اور ٹیکنالوجی مراکز کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ یہ ممکنہ ٹیکنالوجیز اور اداروں کی چھٹنی اور دفاعی و ایرو اسپیس سیٹ اپ پر ان کی افادیت اور اثر کے تناظر میں جدت کاروں اور اسٹارٹ اپس کے ذریعہ تیارکی گئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کا اندازہ کرنے کے لئے مختلف چیلنجز اور ہیکاتھن کا انعقاد کرے گا۔

دارالحکومت دہلی میں اَن لاک کا عمل پیر سے شروع 

0
دارالحکومت دہلی میں اَن لاک کا عمل پیر سے شروع 
دارالحکومت دہلی میں اَن لاک کا عمل پیر سے شروع 

دہلی حکومت نے کورونا کے حالات کنٹرول ہونے کے بعد معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے دارالحکومت میں پیر سے اَن لاک کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا۔ مسٹر کیجریوال نے کہا کہ کل صبح پانچ بجے کے بعد ان تمام سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی، جو پوری طرح سے ممنوع ہیں۔

نئی دہلی: دہلی حکومت نے کورونا کے حالات کنٹرول ہونے کے بعد معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے دارالحکومت میں پیر سے اَن لاک کا عمل شروع کرنے کا اتوار کو اعلان کیا۔ مسٹر کیجریوال نے ایک ڈیجیٹل پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کل صبح پانچ بجے کے بعد ان تمام سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی، جو پوری طرح سے ممنوع ہیں، حالانکہ کچھ سرگرمیوں کو محدود انداز میں (جزوی طور پر اجازت) دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام بازار، مارکیٹ کمپلیکس اور مالز، جنہیں گزشتہ ہفتے آڈ ایون کی بنیاد پر پھر سے کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔ کل صبح دس بجے سے رات آٹھ بجے کے درمیان پوری طرح کھلے رہیں گے اور ریستوراں بھی 50 فیصد بیٹھنے کی گنجائش پر کھلیں گے۔ ایک زون میں صرف ایک ہفتہ واری بازار کی اجازت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالج، تعلیمی اور کوچنگ انسٹی ٹیوٹ، ثقافتی، سماجی، سیاسی، کھیل، مذہبی اجلاس، اسٹیڈیم، اسپورٹ کامپلیکس، تفریح، اسپا اور جم، سویمنگ پول، سینما تھیٹر، ملٹی پلیکس فی الحال بند رہیں گے۔ دہلی کی لائف لائن میٹرو، 50 فیصد صلاحیت پر آپریٹ ہوگی، جبکہ ٹیکسی اور آٹو کو ایک وقت میں صرف دو مسافروں کو سفر کرنے کی اجازت ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ مذہبی مقامات کھولے جارہے ہیں لیکن وہاں عقیدت مندوں کو اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے بتایا کہ میں توقع کرتاہوں کہ اسی طرح سے کورونا کے معاملات کم ہوتے رہے، تو آہستہ آہستہ ہم سب کی زندگی پٹری پر آجائے گی۔ یہ بہت بڑا سانحہ ہے اور ہمیں سب کو مل کر اس کا مقابلہ بھی کرنا ہے اور امید کرنی ہے کہ اب کورونا کے معاملات نہ بڑھیں، خدا کرے کہ تیسری لہر نہ آئے۔