منگل, مئی 12, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 349

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کی وسطی افریقی جمہوریہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی شدید مذمت

0
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کی وسطی افریقی جمہوریہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی شدید مذمت

اقوام متحدہ میں اسٹونیا کے نائب مستقل نمائندے گیرٹ اوورٹ نے ایک بیان میں کہا "سلامتی کونسل کے ممبران نے سی اے آر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور اپنے مجرموں کو انصاف کے دائرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا‘‘۔

واشنگٹن: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبروں نے پیر کے روز کونسل کے ایک اجلاس کے دوران وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) میں انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی پامالیوں کی مذمت کی۔

اقوام متحدہ میں اسٹونیا کے نائب مستقل نمائندے گیرٹ اوورٹ نے ایک بیان میں کہا "سلامتی کونسل کے ممبران نے سی اے آر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور اپنے مجرموں کو انصاف کے دائرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا‘‘۔ انہوں نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنے اور محفوظ اور بلا روک ٹوک انسانی رسد کو یقینی بنائیں۔

سلامتی کونسل نے یہ اعادہ بھی کیا کہ ملک میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے خلاف حملے ایک جنگی جرم ہو سکتے ہیں اور انہوں نے سی اے آر افسران سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی سیکیورٹی بڑھانے کی اپیل کی۔

گذشتہ ماہ کے آخر میں، سی اے آر اور چاڈ کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں دونوں اطراف کا جانی نقصان ہوا۔ سی اے آر کی مسلح افواج کے ارکان نے پڑوسی ملک میں مسلح باغیوں کا پیچھا کیا، جہاں انہوں نے چاڈ فوج کی جانب سے ایک منظم چوکی پر حملہ کیا۔

اس کے علاوہ امریکی صدر جو بائیڈن نے کار کی پوزیشن سے متعلق ہنگامی اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کو غیر معمولی خطرہ لاحق ہے۔

حماس نے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں تناؤ میں اضافہ نہ کرنے کی تنبیہ کی

0
حماس نے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں تناؤ میں اضافہ نہ کرنے کی تنبیہ کی
حماس نے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں تناؤ میں اضافہ نہ کرنے کی تنبیہ کی

غزہ میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیا نے پیر کو صحافیوں کو بتایا ’’حماس، یروشلم میں پرانے شہر اور مسجد اقصیٰ کے راستے فلیگ مارچ نکالے جانے کے خلاف قابضین (اسرائیل)، ثالث اور پوری دنیا کو متنبہ کرتا ہے۔ حماس کا پیغام واضح ہے، ہم نہیں چاہتے کہ جمعرات کا واقعہ 10 مئی کے بعد کی طرح ہو، جب اسرائیل اور حماس نے 11 دن تک زبردست لڑائی لڑی تھی۔

غزہ: غزہ کی حکمراں اسلام پسند تنظیم حماس نے جمعرات کو ہونے والے یروشلم فلیگ مارچ کے تعلق سے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں کشیدگی کو پھر سے نہ بڑھا نے کے لئے متنبہ کیا ہے۔ حالانکہ اس مارچ کو حفاظتی وجوہات کی بناء پر منسوخ کیا جاچکا ہے۔

غزہ میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیا نے پیر کو صحافیوں کو بتایا ’’حماس، یروشلم میں پرانے شہر اور مسجد اقصیٰ کے راستے فلیگ مارچ نکالے جانے کے خلاف قابضین (اسرائیل)، ثالث اور پوری دنیا کو متنبہ کرتا ہے۔ حماس کا پیغام واضح ہے، ہم نہیں چاہتے کہ جمعرات کا واقعہ 10 مئی کے بعد کی طرح ہو، جب اسرائیل اور حماس نے 11 دن تک زبردست لڑائی لڑی تھی۔

رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران مشرقی یروشلم میں 10 مئی کو اسرائیلی پولیس اور فلسطینی نمازیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد اسرائیلی اور حماس کے زیرقیادت گروہوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تھی۔

یروشلم کے قریب واقع شیخ جرح میں فلسطینی خاندانوں کو گھروں سے بے دخل کرنے کا ایک اسرائیلی عدالت کا فیصلہ بھی ان جھڑپوں کے پیچھے تھا۔

الحیاہ نے کہا ’’یروشلم ہمارے لئے سرخ لکیر ہے۔ ہمیں جنگوں کا شوق نہیں ہے، لیکن ہماری مزاحمت مقدس شہر کا دفاع کرنا ہے۔

دریں اثنا، غزہ میں چیمبر آف جوائنٹ ملٹری آپریشن، جس میں حماس سمیت فلسطینی مسلح ونگ بھی شامل ہے، نے بھی اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم میں تناؤ میں اضافہ نہ کرے۔

چیمبر نے ایک بیان میں کہا ’’ہم مقدس شہر (یروشلم) میں دشمن (اسرائیل) کے سلوک پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر دشمن 11 مئی سے قبل کی پوزیشن کو واپس لانے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘۔

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی پولیس نے منتظمین کی جانب سے پرانے شہر میں دمشق گیٹ کے راستے مارچ نکالنے والے منتظمین کی درخواست کو مسترد کردیا تھا، جس کے نتیجے میں جمعرات کو ہونے والے یروشلم فلیگ پرچم مارچ کو منسوخ کردیا گیا تھا۔

پاکستان ٹرین حادثہ: صوبہ سندھ میں دو ٹرینوں کی ٹکر میں، 40 افراد جاں بحق، سو سے زائد زخمی

0
پاکستان ٹرین حادثہ: صوبہ سندھ میں دو ٹرینوں کی ٹکر میں، 40 افراد جاں بحق، سو سے زائد زخمی
پاکستان ٹرین حادثہ: صوبہ سندھ میں دو ٹرینوں کی ٹکر میں، 40 افراد جاں بحق، سو سے زائد زخمی

اطلاعات کے مطابق یہ ٹرین حادثہ رات ساڑھے تین بجے اس وقت پیش آیا جب سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس ٹرین کی 10 سے زائد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور مخالف سمت سے (لاہور سے کراچی جانے والی) سرسید ایکسپریس ان بوگیوں سے ٹکرا گئی۔

اسلام آباد: پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی کے قریب میں پیر کے روز دو مسافر ٹرینوں کے ٹکرانے سے کم از کم 40 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد دیگر زخمی ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ رات ساڑھے تین بجے اس وقت پیش آیا جب سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس ٹرین کی 10 سے زائد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور مخالف سمت سے (لاہور سے کراچی جانے والی) سرسید ایکسپریس ان بوگیوں سے ٹکرا گئی۔

جیو نیوز نے گھوٹکی کے ڈپٹی کمشنر عثمان عبد اللہ کے حوالے سے بتایا کہ اس حادثے میں 13 سے 14 ڈبے پٹری سے اتر گئے اور آٹھ ڈبے بری طرح ٹوٹ گئے۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس حادثے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد دیگر مسافرین زخمی ہوگئے۔ بہت سے لوگ اب بھی ٹرین کے ڈبے میں پھنسے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔ مسافروں اور ان کے اہل خانہ کی سہولت کے لئے کراچی، سکر، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ہیلپ لائن شروع کردی گئی ہے۔

ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اتر کر ڈاؤن ٹریک پر جاگریں

ترجمان پاکستان ریلوے نے تصدیق کی کہ کراچی سے سرگودھا آنے والی ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اتر کر ڈاؤن ٹریک پر جاگریں اور راولپنڈی سے آنے والی سرسید ایکسپریس ان بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان ریلوے کے مطابق ملت ایکسپریس ٹرین رات 3 بجکر 28 منٹ پر ڈہرکی اسٹیشن سے روانہ ہوئی تھی اور 3 بجکر 43 منٹ پر اطلاع ملی کہ ٹرین 3 بجکر 38 منٹ پر پٹری سے اتر گئی‘۔

محکمہ ریلوے کی پریس ریلیز کے مطابق اسی اثنا میں سر سید ایکسپریس ٹرین 3 بجکر 38 منٹ پر رائٹی سے گزری۔ انہوں نے کہا کہ ڈاؤن ٹریک پر موجود بوگیوں کو دیکھ کر ڈرائیور نے ایمرجنسی بریک لگانے کی کوشش کی لیکن 3 بجکر 38 منٹ پر سرسید ایکسپریس ٹرین بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ علاوہ ازیں ترجمان پاکستان ریلوے نے بتایا کہ روہڑی سے ریلیف ٹرین جائے حادثہ کی طرف روانہ کردی گئی ہے، اس کے علاوہ ریلوے انتظامیہ اور مقامی پولیس سمیت ضلعی انتظامیہ ریلیف کے لیے موقع پر موجود ہے۔

قبل ازیں گھوٹکی کے ڈپٹی کمشنر عثمان عبد اللہ نے واقعے میں 30 افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ حکام کو شہریوں کو بچانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بوگیاں الٹ گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ ایک بوگی میں 30 سے 35 مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر عثمان عبداللہ نے بتایا کہ معلومات کی بروقت فراہمی کے لیے انفارمیشن ڈیسک قائم کردی گئی ہے جبکہ ریلیف کیمپ لگادیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل کام ہے، اب بھی پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کرنے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر طبی عملے بشمول تمام ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو طلب کرلیا گیا ہے۔

ایس ایس پی گھوٹکی عمر طفیل نے بتایا کہ واقعے میں معمولی زخمی ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے روانہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک بوگی میں اب بھی مسافر پھنسے ہوئے ہیں اور ہمیں ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے‘۔

بوگیوں میں پھنسے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا کام جاری

علاوہ ازیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ریلوے سکھر طارق لطیف کے مطابق حادثے میں 13 سے زائد بوگیوں کو نقصان پہنچا، جن میں 9 بوگیاں ملت ایکسپریس اور 4 بوگیاں سرسید ایکسپریس کی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گری ہوئی بوگیوں میں پھنسے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا کام جاری ہے جبکہ روہڑی سے ریلیف ٹرین بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہے۔

زخمیوں سے متعلق ترجمان پاکستان ریلوے نے بتایا کہ زخمیوں کو تعلقہ ہسپتال روہڑی، پنوعاقل اور سول ہسپتال سکھر منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرسید ایکسپریس کی باقی بوگیوں کو مسافروں کے ساتھ صادق آباد ریلوے اسٹیشن کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹریک بحال ہوتے ہی ٹرینوں کو منزل مقصود کی طرف روانہ کر دیا جائے گا۔

پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹو افسر نثار میمن نے کہا سانحہ کی تحقیقات سے حادثے کی وجوہات کا تعین ہوگا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سکھر ڈویژن میں ریلوے کی پٹری کمزور ہیں۔
نثار میمن نے مزید کہا کہ پاکستان ریلوے نے مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اسے مقامات پر رفتار کی حد مقرر کی ہے۔

انہوں نے ڈان کو فون پر بتایا کہ ’جہاں حادثہ پیش آیا ہے وہاں ٹریک کا ٹریک کمزور نہیں ہے‘۔
چیف ایگزیکٹو افسر نے کہا کہ جب رفتار سے متعلق پابندیاں ہوتی ہیں تو ٹرین ڈرائیور 40 کلومیٹر فی گھنٹہ، 60 کلومیٹر فی گھنٹہ اور 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار برقرار رکھتا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ شام کے 6 بجے تک ایک پٹری آمد و رفت کے لیے کھول دی جائے گی کیونکہ امدادی کام تاحال جاری ہیں۔

ترجمان پاکستان ریلوے کے مطابق گھوٹکی حادثے پر وفاقی وزیر ریلوے محمد اعظم خان سواتی نے نوٹس لے لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر مشتمل انکوائری 24 گھنٹے کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ نے امدادی سرگرمیوں سے متعلق بتایا کہ ریسکیو آپریشن آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور دیگر بوگیوں سے ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کٹرز کی مدد سے بوگیوں کو کاٹ کر زخمیوں اور نعشوں کو نکالا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس حادثے میں لوگوں کی ہلاکت پر تعزیت کی ہے اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ مسٹر عمران خان نے ٹویٹ کیا کہ ”گھوٹکی میں آج صبح ہونے والے خوفناک ٹرین حادثے سے حیران اور رنجیدہ ہوں جس میں 40 مسافروں کی موت ہوگئی ہے۔  وزیر ریلوے سے کہا گیا ہے کہ وہ جائے وقوع پر پہنچیں اور زخمیوں کے لئے طبی امداد کو یقینی بنائیں اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو امداد فراہم کریں۔ ریلوے سیکیورٹی میں گڑبڑی کی جامع تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

پاکستان میں دو مسافر ٹرینوں کی ٹکر، 30 افراد ہلاک

0
پاکستان میں دو مسافر ٹرینوں کی ٹکر، 30 افراد ہلاک
پاکستان میں دو مسافر ٹرینوں کی ٹکر، 30 افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں دو ٹرینوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم 30 مسافر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ گھوٹکی کے ڈپٹی کمشنر عثمان عبد اللہ نے بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی بھی کئی لوگ ٹرین کی کوچوں میں پھنسے ہیں۔

اسلام آباد: پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں پیر کے روز دو ٹرینوں کے ٹکر میں کم از کم 30 مسافر ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔

بتایا جاتا ہے کہ لاہور سے کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس ٹرین ملت ایکسپریس سے ٹکرا گئی جو کراچی سے سرگودھا جارہی تھی۔ اس کی وجہ سے ملت ایکسپریس ٹرین کے ڈبے پلٹ گئے۔

گھوٹکی کے ڈپٹی کمشنر عثمان عبد اللہ نے بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی بھی کئی لوگ ٹرین کی کوچوں میں پھنسے ہیں۔

پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہیں اور موقع پر امدادی کام جاری ہے۔ ابھی تک حادثے کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مسلسل دوسرے دن کے اضافے سے ایک نئی ریکارڈ سطح پر

0
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مسلسل دوسرے دن کے اضافے سے ایک نئی ریکارڈ سطح پر
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مسلسل دوسرے دن کے اضافے سے ایک نئی ریکارڈ سطح پر

4 مئی سے اب تک 20 دن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ باقی 15 دن قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس دوران دہلی میں پٹرول 4.91 روپے اور ڈیزل 5.49 روپے مہنگا ہوچکا ہے۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں پیر کے روز مسلسل دوسرے دن اضافہ ہونے سے ایک نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔

ملک کے چار میٹروپولیٹن شہروں میں آج دونوں ایندھنوں کی قیمتوں میں 28 پیسے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ 4 مئی سے اب تک 20 دن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ باقی 15 دن قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس دوران دہلی میں پٹرول 4.91 روپے اور ڈیزل 5.49 روپے مہنگا ہوچکا ہے۔

معروف آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق قومی دارالحکومت دہلی میں پٹرول کی قیمت 28 پیسے کے اضافے کے ساتھ 95.31 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ دہلی میں ڈیزل 27 پیسے مہنگا ہوا اور اس کی قیمت 86.22 روپے فی لیٹر ہوگئی۔

ممبئی میں پٹرول 27 پیسے اور ڈیزل 28 پیسے مہنگا ہوا۔ وہاں ایک لیٹر پٹرول 101.52 روپے اور ڈیزل 93.58 روپے فی لیٹر فروخت ہوا۔ وہیں کولکاتہ میں پٹرول 26 پیسے مہنگا ہوکر 95.28 روپے اور ڈیزل 27 پیسے بڑھ جانے سے 89.07 روپے فی لیٹر ہوگیا۔

چنئی میں پٹرول کی قیمت میں 24 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 26 پیسے کا اضافہ ہوا۔ وہاں ایک لیٹر پٹرول 96.71 روپے اور ڈیزل 90.92 روپے فی لیٹر ہوگیا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر روزانہ صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں پر عمل درآمد ہوتا ہے۔

آج ملک کے چار میٹرو شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں حسب ذیل ہیں:

شہر کا نام —— پیٹرول —— ڈیزل

دہلی ———  95.31    ——86.22
ممبئی ——— 101.52  —— 93.58
چنئی ———  96.71   —— 90.92
کولکاتا ——— 95.28  —— 89.07

نائیجیریا: پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش ناکام، 5 بندوق بردار ہلاک

0
نائیجیریا: پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش ناکام، 5 بندوق بردار ہلاک
نائیجیریا: پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش ناکام، 5 بندوق بردار ہلاک

جنوبی نائیجیریا کی ریاست ایمو میں پولیس اسٹیشن پر حملے کو نائیجیریا کے فوجیوں اور خصوصی پولیس دستوں نے ناکام بنا دیا، جس میں 5 بندوق بردار ہلاک ہوگئے۔

ابوجہ: نائیجیریا کی جنوبی ریاست ایمو میں اتوار کے روز ایک پولیس اسٹیشن پر حملے کو نائیجیریائی فوجیوں جوانوں اور پولیس کے اسپیشل دستوں نے ناکام بنا دیا اور پانچ بندوق بردار ہلاک کردیا۔

ایک بیان میں فوجی ترجمان محمد یریما نے کہا کہ ایک غیرقانونی گروہ، انڈیجینیس پیپل آف بیافرا (آئی پی او بی) پر حملہ انجام دینے کا شبہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت آئی پی او بی کا سینئر ممبر جوزف ناناچی کے طور پر ہوئی ہے۔ انہوں نے ملک کے شورش زدہ جنوبی خطے میں سیکیورٹی ایجنسیوں اور سرکاری تنصیبات کے پر حملے کیے۔

مسٹر یریما کے مطابق آئی پی او بی کے ایک دیگر رکن کو گرفتار کیا گیا ہے اور وہ سیکیورٹی فورسز کو اہم معلومات فراہم کرانے میں مدد کررہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں، نائیجیریا کے جنوبی حصے میں پولیس اسٹیشنوں اور جیل جیسی حفاظتی جگہوں پر بندوق برداروں کے حملے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔

کورونا کیسز کی شرح کم ہوکر 5.13 فیصد، ریکوری کی شرح بڑھ کر 93.67 فیصد

0
کورونا کیسز کی شرح کم ہوکر 5.13 فیصد، ری کوری کی شرح بڑھ کر 93.67 فیصد
کورونا کیسز کی شرح کم ہوکر 5.13 فیصد، ری کوری کی شرح بڑھ کر 93.67 فیصد

ملک میں کورونا کیسز کی رفتار میں سست روی کا سلسلہ جاری ہے اور کیسوں کی تعداد 5.13 فیصد رہ گئی ہے۔ وہیں ریکوری کی شرح بڑھ کر 93.67 فیصد ہوگئی ہے۔

نئی دہلی: ملک میں کورونا کیسز کی رفتار مسلسل سست پڑنے اور اس وبا کو شکست دینے والوں میں لگاتار اضافے سے سرگرم معاملوں کی شرح 5.13 فیصد رہ گئی ہے۔ وہیں ری کوری کی شرح بڑھ کر 93.67 فیصد ہوگئی ہے۔

اس دوران سنیچر کو 33 لاکھ 53 ہزار 539 افراد کو کورونا سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے گئے۔ ملک میں اب تک 23 کروڑ 13 لاکھ 22 ہزار 417 افراد کو ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔

ہفتہ کی صبح وزارت صحت کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 114460 نئے کیسز کی آمد کے ساتھ، متاثرہ افراد کی تعداد دو کروڑ 88 لاکھ 9 ہزار 339 ہوگئی۔ اس دوران ایک لاکھ 98 ہزار 232 مریض صحت مند بھی ہوئے ہیں، جس کے ساتھ اب تک دو کروڑ 69 لاکھ 84 ہزار 781 افراد ملک میں اس وبا کو شکست دے چکے ہیں۔ فعال معاملات 77 ہزار 449 کم ہو کر 14 لاکھ 77 ہزار 779 ہوگئے ہیں اور ان کی شرح 5.13 فیصد پر آگئی ہے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2677 مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اس بیماری کی وجہ سے مرنے والوں کی کل تعداد تین لاکھ 46 ہزار 759 ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے اموات کی شرح جزوی اضافے کے ساتھ 1.20 فیصد ہوگئی ہے۔

مہاراشٹرا، کیرالا، کرناٹک سمیت قومی دارالحکومت دہلی میں کورونا کے فعال معاملات میں کمی

مہاراشٹرا میں، پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران فعال معاملات 8858 کم ہوکر 190878 ہوچکے ہیں۔ اس دوران ریاست میں 21776 مزید مریضوں کی شفا یابی کے بعد، کورونا سے نجات پانے والے لوگوں کی تعداد 5528834 ہوگئی ہے۔ جبکہ 741 مزید مریضوں کی ہلاکت کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 99512 ہوگئی ہے۔

کیرالا میں فعال معاملات میں 6884 کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اب یہ کم ہوکر 168049 ہوگئے ہیں اور 24003 مریضوں کی شفایابی کی وجہ سے کورونا کو شکست دینے والے افراد کی تعداد 2440642 ہوگئی ہے، جبکہ 209 مزید مریضوں کی ہلاکت کے باعث اموات کی تعداد 9719 ہوگئی ہے۔

کرناٹک میں کورونا وائرس کے فعال معاملات میں 11911 کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کی تعداد 268296 ہوگئی ہے۔ وہیں مزید 365 مریضوں کی موت کی وجہ سے اموات کی تعداد 31260 ہوگئی ہے۔ ریاست میں اب تک 2383758 مریض صحت مند ہوچکے ہیں۔

قومی دارالحکومت دہلی میں کورونا کے فعال معاملات میں 1329 کی کمی واقع ہوئی ہے اور اب ان کی تعداد کم ہو کر 6731 ہوگئی ہے۔ یہاں مزید 60 مریضوں کی ہلاکت کے ساتھ ہی اس بیماری سے اموات کی تعداد 24557 ہوگئی ہے۔ وہیں 1397575 مریضوں نے کورونا کو شکست دی ہے۔

ناٹو سربراہ کانفرنس میں بائیڈن امریکی عزم کا اعادہ کریں گے

0
ناٹو سربراہ کانفرنس میں بائیڈن امریکی عزم کا اعادہ کریں گے
ناٹو سربراہ کانفرنس میں بائیڈن امریکی عزم کا اعادہ کریں گے

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ 14 جون کو برسلز میں شمالی اٹلانٹک معاہدہ تنظیم (ناٹو) سربراہ کانفرنس کے دوران اجتماعی دفاع کے تئیں امریکہ کے عزم کا اعادہ کریں گے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ 14 جون کو برسلز میں شمالی اٹلانٹک معاہدہ تنظیم (ناٹو) سربراہ کانفرنس کے دوران اجتماعی دفاع کے تئیں امریکہ کے عزم کا اعادہ کریں گے۔

مسٹر بائیڈن نے ہفتہ کے روز واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا ’’جمہوری اقدار کا اشتراک دنیا کی تاریخ کے سب سے کامیاب اتحاد کی بنیاد رہا ہے۔ میں برسلز میں ناٹو کے آئندہ اجلاس میں آرٹیکل 5 کے تئیں امریکہ کے مستحکم عزم کا اعادہ کروں گا اور اس بات کا یقین کروں گا کہ ہمارے اہم انفراسٹرکچر پر سائبر حملوں جیسے خطرات سمیت چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارا اتحاد مضبوط ہے‘‘۔

یمن میں حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملے میں 12 افراد ہلاک، 7 دیگر زخمی

0
یمن میں حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملے میں 12 افراد ہلاک، 7 دیگر زخمی
یمن میں حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملے میں 12 افراد ہلاک، 7 دیگر زخمی

حوثی باغیوں نے بیلسٹک میزائلوں سے یمنی مسلح افواج کے انتظامی ہیڈکوارٹر کے فیول اسٹیشن پر حملہ کیا۔ اس حملے میں بارہ افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ یمن میں سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان تنازعہ چھ سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔

قاہرہ: یمن میں ماریب صوبہ آرمی ہیڈکوارٹر پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملے میں 12 افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ صوبائی حکومت کے ذرائع نے یہ اطلاع دی۔

انہوں نے کہا کہ حوثی باغیوں نے بیلسٹک میزائلوں سے یمنی مسلح افواج کے انتظامی ہیڈکوارٹر کے فیول اسٹیشن پر حملہ کیا۔ اس حملے میں بارہ افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

یمن میں سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان تنازعہ چھ سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔

زرعی قانون کے نفاذ کے ایک سال مکمل ہونے پر پھر کانگریس نے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا

0
زرعی قانون کے نفاذ کے ایک سال مکمل ہونے پر پھر کانگریس نے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا
زرعی قانون کے نفاذ کے ایک سال مکمل ہونے پر پھر کانگریس نے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا

کانگریس محکمہ مواصلات کے چیف رندیپ سنگھ سرجے والا نے آج یہاں کہا کہ مودی حکومت نے ایک سال قبل آج ہی کے دن زراعت سے متعلق تین سیاہ ایگریکلچر آرڈیننس لے کر آئی تھی اور اپنے مٹھی بھر سرمایہ دار دوستوں کے لئے 25 لاکھ کروڑ روپے کے سالانہ زرعی پیداوار کے کاروبار کے لئے موقع فراہم کیا تھا۔

نئی دہلی: کانگریس نے زراعت سے متعلق تینوں قوانین کو نافذ کرنے کے ایک سال مکمل ہونے پر ہفتہ کو کہا کہ یہ تینوں قانون ظالمانہ ہیں اور ان کے سبب سیکڑوں کسان شہید ہوئے ہیں۔ اس لئے حکومت کو انہیں فوراً واپس لینا چاہیے۔

کانگریس محکمہ مواصلات کے چیف رندیپ سنگھ سرجے والا نے آج یہاں کہا کہ مودی حکومت نے ایک سال قبل آج ہی کے دن زراعت سے متعلق تین سیاہ ایگریکلچر آرڈیننس لے کر آئی تھی اور اپنے مٹھی بھر سرمایہ دار دوستوں کے لئے 25 لاکھ کروڑ روپے کے سالانہ زرعی پیداوار کے کاروبار کے لئے موقع فراہم کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے ان تینوں سیاہ قوانین کے خلاف ملک کا کسان تحریک کرنے پرمجبور ہوا۔ انہوں نے دہلی کی سرحدوں پر تحریک کرکے حکومت پر ان قوانین کو واپس کرنے کا دباؤ بنایا لیکن حکومت نے ان کی ایک نہیں سنی اور اپنی ضد پر اڑی رہی جس کے سبب شدید سردی اور دیگر وجوہات سے 500 سے زائد کسان تحریک کے دوران شہید ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت کو ملک کے کسانوں کے مفاد میں اپنی ضد کو چھوڑ دینا چاہیے اوران تینوں زرعی قوانین کو واپس لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان تحریک کررہے ہیں اور وہ حکومت کے کسی بھی ظلم سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔