جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 348

ممبئی میں گھن گرج چمک کے ساتھ مانسون کی پہلی طوفانی بارش سے عام زندگی مفلوج

0
ممبئی میں گھن گرج چمک کے ساتھ مانسون کی پہلی طوفانی بارش سے عام زندگی مفلوج
ممبئی میں گھن گرج چمک کے ساتھ مانسون کی پہلی طوفانی بارش سے عام زندگی مفلوج

آج صبح سویرے سے ممبئی کے شہری اور نواحی علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے اور صبح 9 اور 10 بجے کے درمیان بجلی کوندنے کے ساتھ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ بارش ہونے لگی اور چار پانچ گھنٹوں سے سلسلہ جاری ہے۔

ممبئی: ممبئی سمیت مہاراشٹر کے بیشتر علاقوں میں گھن ۔ گرج چمک کے ساتھ مانسون کی پہلی بارش نے عام زندگی کو مفلوج کردیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے سربراہ جینتا سرکارنے مانسون کی آمد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھی خبر ہے اور جنوب مغربی مانسون ممبئی، تھانے اور پالگھر میں 9 جون کو دستک دے چکا ہے۔

مانسون کے ولساڑ گجرات، ناگپسور مہاراش اور پھر مشرقی سمت میں بڑھنے کا امکان ہے۔مہاراشٹر میں آئندہ دو تین دن مانسون اپنا جلوہ دکھائے گا۔

آج صبح سویرے سے ممبئی کے شہری اور نواحی علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے اور صبح 9 اور 10 بجے کے درمیان بجلی کوندنے کے ساتھ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ بارش ہونے لگی اور چار پانچ گھنٹوں سے سلسلہ جاری ہے۔

دفتر موسمیات قلابہ کے مطابق جنوبی ممبئی میں 77.4 ملی میٹر اور سانتا کروز میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 59.6 ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

سینٹرل ریلوے کے سی پی آر اوشیواجی ستار نے مطلع کیا کہ مضافات میں بھاری بارش کی وجہ سے چونابھٹی اور سائن – کرلا کے درمیان پٹریوں پر پانی جمع ہوگیا ہے۔ احتیاطی طور پر ریلوے نے سی ایس ایم ٹی اور تھانے کے درمیان میں لائن کی لوکل سروس بند کردی گئی ہے۔ اور شیواجی مہاراج ٹرمنس اور واشی کے درمیان آج صبح ساڑھے 10 بجے ہاربر لائن کی سروسز معطل کردی گئی ہے۔

شیواجی ستار کے مطابق ٹرانس ہاربر اور بی ایس یو (ارن) کیسرویز معمول کے مطابق جاری ہیں۔تھانے اور کرجت، کسارا اور واشی، پنیویل کے درمیان لوکل خدمات جاری ہیں۔

بی ایم سی کے دعوے ایک بار پھر جھوٹے ثابت ہوئے ہیں اور شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوچکا ہے۔ سڑک پر موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ توکتے طوفان کے پندرہ دنوں بعد شہری زندگی ایک بار پھر متاثر ہوئی ہے۔

ویسٹرن ریلوے کے ترجمان سمیت ٹھاکر کے مطابق وڈالا علاقے میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے شیواجی ٹرمینس اور اندھیری کے درمیان لوکل سروس معطل کی گئی ہے۔ ویسٹرن اور ایسٹرن ہائی وے پر ٹریفک جام ہے۔ مہاراشٹر حکومت اور بی ایم سی حکام نے پہلے ہی متعلقہ محکموں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

پرینکا نے کہا، آگرہ ماک ڈرل کی حقیقت سامنے لائے یوگی حکومت

0
پرینکا نے کہا، آگرہ ماک ڈرل کی حقیقت سامنے لائے یوگی حکومت

ماک ڈرل کے دوران آکسیجن ہٹانے سے آگرہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں کورونا کے 22 مریضوں کے دم توڑنے کی خبر سامنے آئی۔ اس انکشاف پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اس کی سچائی سامنے لاکر قصورواروں کو سخت سزا دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کی اترپردیش کی انچارج جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے آگرہ کے ایک اسپتال میں مبینہ ماک ڈرل کے دوران آکسیجن ہٹانے سے کورونا مریضوں کی موت کی خبر کے انکشاف پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کافی سنگین معاملہ ہے۔ اس کی سچائی سامنے لاکر قصورواروں کو سخت سزا دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

محترمہ گاندھی نے بدھ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ اترپردیش حکومت اور آگرہ انتظامیہ بار بار آکسیجن کی کمی نہ ہونے کا حوالہ دے رہی ہے۔ اس کے باجوود آکسیجن کی کمی کی وجہ سے آگرہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں کورونا کے 22 مریضوں کے دم توڑنے کی خبر سامنے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’اترپردیش حکومت نے آکسیجن کی زبردست کمی کے درمیان مسلسل کہا کہ ’آکسیجن کی کمی نہیں ہے‘۔ ریاست میں لوگوں کی تڑپ تڑپ کر جانیں چلی گئی ہیں۔ آگرہ میں بھی انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ ’آکسیجن کی کمی نہیں تھی‘۔ کیا اترپردیش حکومت آگرہ ماک ڈرل کی حقیقت سامنے لاکر قصورواروں کو سزا دے گی‘‘؟

آئی اے ایس کے سابق افسر انوپ چندر پانڈے الیکشن کمشنر مقرر

0
آئی اے ایس کے سابق افسر انوپ چندر پانڈے الیکشن کمشنر مقرر
آئی اے ایس کے سابق افسر انوپ چندر پانڈے الیکشن کمشنر مقرر

وزارت قانون و انصاف نے بتایا کہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے 1984 بیچ کے اتر پردیش کیڈر کے سابق ​​آئی اے ایس افسر مسٹر پانڈے کو الیکشن کمشنر مقرر کیا ہے۔

نئی دہلی: انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے سابق افسر انوپ چندر پانڈے کو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔

وزارت قانون و انصاف نے بدھ کے روز بتایا کہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے 1984 بیچ کے اتر پردیش کیڈر کے سابق ​​آئی اے ایس افسر مسٹر انوپ چندر پانڈے کو الیکشن کمشنر مقرر کیا ہے۔

وزارت کے مطابق گذشتہ دیر شام اس بابت وزارت قانون و انصاف کے محکمہ قانون کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

مسٹڑ پانڈے کی تقرری عہدہ سنبھالنے کے دن سے عمل میں آئے گی۔

شامی فوج نے اسرائیلی میزائلوں کو کیا تباہ

0
شامی فوج نے اسرائیلی میزائلوں کو کیا تباہ
شامی فوج نے اسرائیلی میزائلوں کو کیا تباہ

شامی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کی جانب سے داغے گئے کچھ میزائلوں کو مار گرایا ہے۔ صنعا نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے لبنان کی فضائی حدود کی سمت سے کئے گئے ایک میزائلی حملے کا جواب دیا ہے۔ شامی کی راجدھانی دمشق میں دھماکوں کی آواز سنی گئی۔

دمشق: شامی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کی جانب سے داغے گئے کچھ میزائلوں کو مار گرایا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صنعا نے یہ اطلاع دی ہے۔ صنعا نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے لبنان کی فضائی حدود کی سمت سے کئے گئے ایک میزائلی حملے کا جواب دیا ہے۔ شامی کی راجدھانی دمشق میں دھماکوں کی آواز سنی گئی۔

صنعا نے وزارت دفاع کے ایک بیان کے حوالے سے کہا ’’فضائی تحفظ کے ہمارے نظام نے حملہ ور میزائلوں کو روکا اور ان میں سے کچھ کو تبادہ کردیا‘‘۔

بہار میں لاک ڈاؤن ختم، اب ایک ہفتہ کیلئے شام 7 بجے سے صبح 5 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ

0
بہار میں لاک ڈاؤن ختم، اب ایک ہفتہ کیلئے شام 7 بجے سے صبح 5 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ
بہار میں لاک ڈاؤن ختم، اب ایک ہفتہ کیلئے شام 7 بجے سے صبح 5 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ

وزیراعلیٰ نتیش کمار کی صدارت میں آفات منیجمنٹ گروپ (سی ایم جی) کی منگل کو ہوئی میٹنگ میں لاک ڈاﺅن ختم کرنے اور بدھ سے آئندہ ایک ہفتہ کیلئے شام 7.00 بجے سے صبح 5.00 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔

پٹنہ: بہار میں کورونا کی دوسری لہر کے کم ہونے کے بعد ریاستی حکومت نے گذشتہ پانچ مئی سے جاری لاک ڈاﺅن کو ختم کرتے ہوئے بدھ سے آئندہ ایک ہفتہ کیلئے شام 7:00 بجے سے صبح 5:00 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ لیاہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کی صدارت میں آفات منیجمنٹ گروپ (سی ایم جی) کی منگل کو ہوئی میٹنگ میں لاک ڈاﺅن ختم کرنے اور بدھ سے آئندہ ایک ہفتہ کیلئے شام 7.00 بجے سے صبح 5.00 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ مسٹر کمار نے خود سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کرکے اس کی جانکاری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاﺅن سے کورونا انفیکشن کے معاملوں میں کمی آئی ہے۔ اس لئے لاک ڈاﺅن ختم کرتے ہوئے شام 7.00 بجے سے صبح 5.00 بجے تک نائٹ کرفیو جاری رہے گا۔

مسٹر کمار نے کہا کہ 50 فیصد حاضری کے ساتھ پرائیوٹ دفاتر سہ پہر چار بجے تک کھلیں گے۔ دکان کھلنے کی مدت بھی شام پانچ بجے تک بڑھا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پرائیوٹ گاڑیوں کو نائٹ کرفیو کو چھوڑ کر دیگر اوقات میں چلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے لئے کوئی ای ۔ پاس کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اجلاس کے بعد سکریٹری تری پوراری شرن، ڈیولپمنٹ کمشنر عامر سبحانی، پولیس ڈائریکٹرجنرل ایس کے سنگھل، ایڈیشنل چیف سکریٹری محکمہ داخلہ چیتنیہ پرساد اور ایڈیشنل چیف سکریٹری ہیلتھ محکمہ پرتیہ امرت نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ لاک ڈاﺅن میں مکمل پابندی کی وجہ سے کورونا انفیکشن کو قابو کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں پابندیوں کو پوری طرح سے ختم کیا جانا خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔ اسلئے پابندیوں کو مرحلہ وار طریقے سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی کے مد نظر لاک ڈاﺅن کو ختم کرنے اور بدھ سے آئندہ ایک ہفتہ کیلئے شام 7.00 بجے سے صبح 5.00 بجے تک نائٹ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

50 فیصد حاضری کے ساتھ سبھی سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر سہ پہر چار بجے تک کھلیں گے

چیتنہ پرساد نے سی ایم جی کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کی تفصیل سے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ 9 جون سے 15 جون تک سبھی سرکاری دفاتر اور غیر سرکاری دفاتر 50 فیصد حاضری کے ساتھ سہ پہر چار بجے تک کھلیں گے لیکن سرکاری دفاتر میں زائرین کے داخلے پر روک رہے گی۔ وہیں استثنائی صورتحال میں ضلع انتظامیہ، پولیس، سول ڈیفنس، بجلی، آبی سپلائی، صفائی، فائربریگیڈ، صحت، آفات مینجمنٹ محکمہ کے دفتر، اناج کی خریداری سے متعلق دفاتر، ماحولیات وجنگلات اور موسمیاتی تبدیلی محکمہ کی ضروری سرگرمیوں سے متعلق دفاتر حسب سابق کام کریں گے۔ عدالتی کاروائی کے بارے میں ہائی کورٹ کے ذریعہ لیا گیا فیصلہ نافذ ہوگا۔

مسٹر پرساد نے کہا کہ کوئی بھی دکان اور ادارے ایک دن کے وقفے سے صبح چھ بجے سے شام پانچ بجے تک کھل سکیں گے۔ کون سی دکان کس دن کھلے گی اس سے متعلق ضلع مجسٹریٹ ہدایت جاری کریں گے۔ وہیں کھاد، بیج، جراثیم کش دوائیں اور زرعی آلات سے متعلق ادارے، دکانیں، ضروری کھانے پینے کی اشیاء پھل اور سبزی، گوشت، مچھلی، دودھ، عوامی نظام تقسیم کی دکانیں صبح چھ بجے سے شام پانچ بجے تک کھلی رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ا ستثناء کے طور پر بینکنگ، بیمہ، اے ٹی ایم آپریشن سے متعلق ادارے، صنعتی اور مینو فیکچرنگ کام سے متعلق ادارے، سبھی قسم کے تعمیراتی کام، ای کامرس اور کوریئر سے متعلق تمام سرگرمیاں، زراعت اور اس سے منسلک کام، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، ٹیلی مواصلات، انٹر نیٹ خدمات، براڈ کاسٹنگ کیبل خدمات سے متعلق سرگرمیاں، پٹرول پمپ، ایل پی جی پٹرولیم سے متعلق ادارے، کولڈ اسٹوریج اور ویئر ہاﺅسنگ خدمات، پرائیوٹ سیکیوریٹی خدمات، ٹھیلہ پر پھل سبزی کی گھوم گھوم کر فروخت پر پابندی سے چھوٹ دی گئی ہے۔

ایڈیشنل چیف سکریٹری محکمہ داخلہ نے بتایا کہ اسپتال اور دیگر متعلقہ ادارے (مویشی طبی ادارے سمیت) ان کی تعمیر اور سپلائی کی یونٹیں سرکاری اور پرائیوٹ دوا کی دکانیں، میڈیکل لیب، نرسنگ ہوم، ایمبولینس خدمات سے متعلق ادارے حسب سابق کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں مقررہ بیٹھنے کی صلاحیت 50 فیصد کے استعمال کی ہی اجازت رہے گی۔

سبھی مذہبی مقامات عوام الناس کیلئے ابھی بند رہیں گے

مسٹر پرساد نے بتایاکہ شادی تقریب، آخری رسوم اور شرادھ پروگرام قبل جاری رہنماء اصولوں کے مطابق زیادہ سے زیادہ 20 افراد کی شمولیت کے ساتھ ہی انعقاد کرنے کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سبھی مذہبی مقامات عوام الناس کیلئے ابھی بند رہیں گے۔ سبھی قسم کے سماجی، سیاسی، تفریحی، کھیل کود، ثقافتی اور مذہبی انعقادات سمیت عوامی مقامات پر کسی قسم کے انعقاد سرکاری اور غیر سرکاری پر روک رہے گی۔ اس طرح سبھی سنیما ہال، شاپنگ مال، کلب، سوئمنگ پل، اسٹیڈیم، جم پارک اور باغبات پوری طرح بند رہیں گے۔

سبھی اسکول، کالج، کوچنگ ادارے، ٹریننگ اور تربیتی ادارے بند رہیں گے

ایڈیشنل چیف سکریٹری محکمہ داخلہ نے بتایا کہ سبھی اسکول، کالج، کوچنگ ادارے، ٹریننگ اور تربیتی ادارے بند رہیں گے۔ اس مدت میں اسکول اور یونیورسیٹی کے ذریعہ کسی بھی طرح کا امتحان نہیں لیا جائے گا، لیکن آن لائن تعلیم کا نظم کیا جاسکے گا۔ انہوں نے بتایاکہ رہائشی ہوٹلوں میں مہمانوں کے لئے ان روم ڈائننگ کی اجازت ہوگی لیکن ریسٹورینٹ اور کھانے کی دکانیں بند رہیں گی ان کا آپریشن صرف ہوم ڈیلیوری کیلئے صبح 9.00 بجے سے شام 9.00 بجے تک کھولنے کی اجازت ہوگی۔ قومی شاہراہوں پر واقع ڈھابے ٹیک ہوم کی بنیاد پر کام کرسکتے ہیں۔

بہار سے منتخب مجلس اتحاد المسلمین کے ممبران اسمبلی نے پھر اٹھایا سیمانچل کی ترقی کا مسئلہ

0
بہار سے منتخب مجلس اتحاد المسلمین کے ممبران اسمبلی نے پھر اٹھایا سیمانچل کی ترقی کا مسئلہ
بہار سے منتخب مجلس اتحاد المسلمین کے ممبران اسمبلی نے پھر اٹھایا سیمانچل کی ترقی کا مسئلہ

بہار سے منتخب مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر و امور فلور لیڈر جناب اخترالایمان نے کہا کہ باڑھ کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کیا تیاری کی ہے اس سلسلے میں ہم لوگوں نے ایک میٹنگ کی ہے۔ ہم لوگ سیمانچل کے تمام ضلع مجسٹریٹ کو میمورنڈم دینے جا رہے ہیں کہ کسی بھی گاؤں میں اگر سیلاب سے صورتحال بگڑتی ہے تو لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

بہار: سیمانچل میں سیلاب ہر سال یہاں تباہی برپا کرتا ہے جس سے ہزاروں لوگوں کا آشیانہ اجر جاتا ہے۔ سیمانچل کے علاقے میں حکومتوں کی بے رخی کی مثال یہاں کا چچری پل ہے۔ سیلاب کی تباہی کے بعد ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں رابطہ بحال کرنے اور پٹری سے اتری زندگی کو کسی طرح سنبھالنے کی کوشش میں چچری پل بنتا ہے اور کہیں سالوں بھر آمد و رفت کے لئے عوامی سطح پر چچری پل بنایا جاتا ہے۔ عوام ایک دوسرے سے چندہ کرکے بانس کی چچری کا پل بناتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے اور مجلس اتحاد المسلمین بہار کے ریاستی صدر و امور فلور لیڈر جناب اخترالایمان نے کہا کہ:

"باڑھ کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کیا تیاری کی ہے اس سلسلے میں ہم لوگوں نے ایک میٹنگ کی ہے۔ ہم لوگ سیمانچل کے تمام ضلع مجسٹریٹ کو میمورنڈم دینے جا رہے ہیں کہ کسی بھی گاؤں میں اگر سیلاب سے صورتحال بگڑتی ہے تو لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔”

عوام کے جان و مال کے تحفظ کے حکومت ذمہ دار

بہادر گنج اسمبلی حلقہ کے ایم ایل جناب انظار نعیمی نے اس پر مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ:

“ہم لوگ اس بات کی قانونی صلاح بھی لے رہے ہیں کہ کیا سیلاب سے ہر وقت جان و مال کے خطرے میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ رائٹ ٹو لائف کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ یہ تو بنیادی حق (فنڈامنٹل رائٹ) ہے کہ عوام کی زندگی اپنے اثاثوں کے ساتھ محفوظ ہوں۔ جب یہ فنڈامنٹل رائٹ ہے تو سمجھیے کہ یہاں پر یہ ایک بڑا ایشو ہے۔ اتنے دنوں تک لوگوں کی بستیاں کٹ رہی ہیں لیکن اس پر انتظامیہ کا کچھ دھیان نہیں۔ لوگ ٹیکس بھی تو ادا کر رہے ہیں۔ اس لئے ہم لوگوں کو کورٹ جانے کی تیاری کرنی چاہیے۔ ہمارے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔”

اخترالایمان نے مزید کہا کہ ہم ٹیکس ادا کرنے والے لوگ ہیں اس لئے ہمیں حق ہے کہ ہم لوگ اس کے ذمہ داران پر مقدمہ درج کرنے کے لئے عدلیہ کا رخ کریں۔ ہم قانون کے ماہرین سے بات کررہے ہیں۔

کوچا دھامن اسمبلی حلقہ سے مجلس کے ایم ایل اے جناب اظہار آصفی نے کہا کہ:

“گزشتہ تین سالوں میں جو مکانات کٹے ہیں یہ حکومت کے ریکارڈ میں ہے۔ ہمیں ہر جگہ کی رپورٹ ملنی چاہیے کہ 2017 میں کتنے لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح 2016 میں، یعنی کل تین سالوں میں کتنے لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے، اور کتنے لوگوں کو حکومت نے زمین دے کرکے ان کی بازآبادکاری کی، کتنے لوگوں کو معاوضہ ملا۔”

کورونا وبا کی وجہ سے بے روزگار لوگوں کے لیے وظیفہ کی مانگ

اے آئی ایم آئی ایم کے ایم یل اے نے کورونا وبا سے پیدا ہونے والے مسائل کا بھی تذکرہ کیا۔ اس سے متعلق پورنیہ سے مجلس کے ایم ایل اے جناب رکن الدین صاحب نے کہا کہ:

“کورونا وبا کی وجہ سے جو لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، جو مزدور ہجرت کررہے ہیں تو ان کے خاندانوں کو وظیفہ دیا جائے۔ اس وبا کے دور میں بعض ریاستوں میں ان کے کھاتے میں 5 ہزار ماہانہ دیا جاتا ہے لیکن یہاں ایسا کوئی بھی نظام ندارد ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنی نئی نسل کی تربیت سے غافل ہے۔ ابھی تک گاؤں کے بے روزگار ہنر مند مزدوروں کا سروے نہیں ہوسکا ہے تاکہ واپس آنے والے مزدوروں کو گاؤں میں ملازمت دی جاسکے۔

جوکی ہاٹ سے سے اے آئی ایم آئی ایم کے ایم ایل اے جناب شاہنواز عالم نے کہا کہ:

“گاؤں کے بہت سے مزدور آج بے روزگار ہیں۔ جو لوگ ہمارے معاشرتی خدشات سے تعلق رکھتے ہیں وہ عطیات پر بھروسہ کرتے ہیں، لیکن لوگوں کے روزگار کے لئے سرکاری عملہ یا محکمہ پر دباؤ ڈالنے یا ان سے رابطہ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک پہلو ہے۔”

ایم آئی ایم نے اپنے اسمبلی حلقہ کے بی ڈی او کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے میں کام کریں۔ اب ایم آئی ایم کے اراکین اسمبلی یہاں کی سہولیات کے بارے میں معلومات کے لئے ایک ساتھ مل کر بلاکس اور اسپتالوں کا دورہ کررہے ہیں۔

سیمانچل کے ساتھ حکومتوں کی ناانصافی

ان سبھی ممبران اسمبلی کا کہنا ہے کہ سیمانچل کے ساتھ شروع سے حکومتوں نے ناانصافی کی ہے۔ ایم آئی ایم سیمانچل کو انصاف دلانے کے لئے آرٹیکل 371 کے ماتحت سیمانچل کو لانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ سیمانچل ڈیولپمنٹ کاؤنسل کی تشکیل کر کے یہاں کے مسئلہ کو حل کیا جانا چاہئے۔ غربت، غذائیت کی کمی، صحت کا مسئلہ، تعلیم اور ناخواندگی سے علاقہ جوجھ رہا ہے۔

سب سےخراب حالت کسانوں کی ہے، جن کے مسائل کو سننے والا کوئی نہیں ہے۔ علاقہ کے سیاسی لوگ سیمانچل کی مشکلات کو حل کرنے کا مدّعہ اٹھاتے رہے ہیں، لیکن کسانوں کے مسائل کا حل کبھی نہیں نکلا ہے۔ اخیر میں ایک اہم بات مکئی کی کھیتی، اس کے پیداوار اور اس کی قیمت سے متعلق ہے۔ اس کی ایم ایس پی طے ہونی چاہئے اس کی قیمت کم از کم 2500 ہو۔ تو ان چار چیزوں کو ہم نے ایشو بنایا ہے۔ اور سیلاب کے مسئلہ کو ہم بطور خاص فوقیت دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ پورنیہ اسمبلی حلقہ کے ممبر اسمبلی جناب سید رکن الدین نے کہا کہ "سیمانچل میں بجلی کی حالت بھی خستہ ہے۔ تھوڑی سی ہوا چلنے پر یا بارش ہونے پر بھی گل ہوجاتی ہے جو گھنٹوں اور کبھی کبھی کئی دنوں تک ٹھیک نہیں ہوتی۔ ایک بار کہیں تار کٹنے، پول گرنے یا ٹرانسفارمر جلنے سے مہینوں بجلی کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔” مجلس اتحاد المسلمین کے نمائندوں نے کہا کہ ہم متعلقہ محکموں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کی وسطی افریقی جمہوریہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی شدید مذمت

0
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کی وسطی افریقی جمہوریہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی شدید مذمت

اقوام متحدہ میں اسٹونیا کے نائب مستقل نمائندے گیرٹ اوورٹ نے ایک بیان میں کہا "سلامتی کونسل کے ممبران نے سی اے آر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور اپنے مجرموں کو انصاف کے دائرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا‘‘۔

واشنگٹن: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبروں نے پیر کے روز کونسل کے ایک اجلاس کے دوران وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) میں انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی پامالیوں کی مذمت کی۔

اقوام متحدہ میں اسٹونیا کے نائب مستقل نمائندے گیرٹ اوورٹ نے ایک بیان میں کہا "سلامتی کونسل کے ممبران نے سی اے آر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور اپنے مجرموں کو انصاف کے دائرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا‘‘۔ انہوں نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنے اور محفوظ اور بلا روک ٹوک انسانی رسد کو یقینی بنائیں۔

سلامتی کونسل نے یہ اعادہ بھی کیا کہ ملک میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے خلاف حملے ایک جنگی جرم ہو سکتے ہیں اور انہوں نے سی اے آر افسران سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی سیکیورٹی بڑھانے کی اپیل کی۔

گذشتہ ماہ کے آخر میں، سی اے آر اور چاڈ کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں دونوں اطراف کا جانی نقصان ہوا۔ سی اے آر کی مسلح افواج کے ارکان نے پڑوسی ملک میں مسلح باغیوں کا پیچھا کیا، جہاں انہوں نے چاڈ فوج کی جانب سے ایک منظم چوکی پر حملہ کیا۔

اس کے علاوہ امریکی صدر جو بائیڈن نے کار کی پوزیشن سے متعلق ہنگامی اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کو غیر معمولی خطرہ لاحق ہے۔

حماس نے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں تناؤ میں اضافہ نہ کرنے کی تنبیہ کی

0
حماس نے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں تناؤ میں اضافہ نہ کرنے کی تنبیہ کی
حماس نے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں تناؤ میں اضافہ نہ کرنے کی تنبیہ کی

غزہ میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیا نے پیر کو صحافیوں کو بتایا ’’حماس، یروشلم میں پرانے شہر اور مسجد اقصیٰ کے راستے فلیگ مارچ نکالے جانے کے خلاف قابضین (اسرائیل)، ثالث اور پوری دنیا کو متنبہ کرتا ہے۔ حماس کا پیغام واضح ہے، ہم نہیں چاہتے کہ جمعرات کا واقعہ 10 مئی کے بعد کی طرح ہو، جب اسرائیل اور حماس نے 11 دن تک زبردست لڑائی لڑی تھی۔

غزہ: غزہ کی حکمراں اسلام پسند تنظیم حماس نے جمعرات کو ہونے والے یروشلم فلیگ مارچ کے تعلق سے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں کشیدگی کو پھر سے نہ بڑھا نے کے لئے متنبہ کیا ہے۔ حالانکہ اس مارچ کو حفاظتی وجوہات کی بناء پر منسوخ کیا جاچکا ہے۔

غزہ میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیا نے پیر کو صحافیوں کو بتایا ’’حماس، یروشلم میں پرانے شہر اور مسجد اقصیٰ کے راستے فلیگ مارچ نکالے جانے کے خلاف قابضین (اسرائیل)، ثالث اور پوری دنیا کو متنبہ کرتا ہے۔ حماس کا پیغام واضح ہے، ہم نہیں چاہتے کہ جمعرات کا واقعہ 10 مئی کے بعد کی طرح ہو، جب اسرائیل اور حماس نے 11 دن تک زبردست لڑائی لڑی تھی۔

رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران مشرقی یروشلم میں 10 مئی کو اسرائیلی پولیس اور فلسطینی نمازیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد اسرائیلی اور حماس کے زیرقیادت گروہوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تھی۔

یروشلم کے قریب واقع شیخ جرح میں فلسطینی خاندانوں کو گھروں سے بے دخل کرنے کا ایک اسرائیلی عدالت کا فیصلہ بھی ان جھڑپوں کے پیچھے تھا۔

الحیاہ نے کہا ’’یروشلم ہمارے لئے سرخ لکیر ہے۔ ہمیں جنگوں کا شوق نہیں ہے، لیکن ہماری مزاحمت مقدس شہر کا دفاع کرنا ہے۔

دریں اثنا، غزہ میں چیمبر آف جوائنٹ ملٹری آپریشن، جس میں حماس سمیت فلسطینی مسلح ونگ بھی شامل ہے، نے بھی اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم میں تناؤ میں اضافہ نہ کرے۔

چیمبر نے ایک بیان میں کہا ’’ہم مقدس شہر (یروشلم) میں دشمن (اسرائیل) کے سلوک پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر دشمن 11 مئی سے قبل کی پوزیشن کو واپس لانے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘۔

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی پولیس نے منتظمین کی جانب سے پرانے شہر میں دمشق گیٹ کے راستے مارچ نکالنے والے منتظمین کی درخواست کو مسترد کردیا تھا، جس کے نتیجے میں جمعرات کو ہونے والے یروشلم فلیگ پرچم مارچ کو منسوخ کردیا گیا تھا۔

پاکستان ٹرین حادثہ: صوبہ سندھ میں دو ٹرینوں کی ٹکر میں، 40 افراد جاں بحق، سو سے زائد زخمی

0
پاکستان ٹرین حادثہ: صوبہ سندھ میں دو ٹرینوں کی ٹکر میں، 40 افراد جاں بحق، سو سے زائد زخمی
پاکستان ٹرین حادثہ: صوبہ سندھ میں دو ٹرینوں کی ٹکر میں، 40 افراد جاں بحق، سو سے زائد زخمی

اطلاعات کے مطابق یہ ٹرین حادثہ رات ساڑھے تین بجے اس وقت پیش آیا جب سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس ٹرین کی 10 سے زائد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور مخالف سمت سے (لاہور سے کراچی جانے والی) سرسید ایکسپریس ان بوگیوں سے ٹکرا گئی۔

اسلام آباد: پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی کے قریب میں پیر کے روز دو مسافر ٹرینوں کے ٹکرانے سے کم از کم 40 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد دیگر زخمی ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ رات ساڑھے تین بجے اس وقت پیش آیا جب سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس ٹرین کی 10 سے زائد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور مخالف سمت سے (لاہور سے کراچی جانے والی) سرسید ایکسپریس ان بوگیوں سے ٹکرا گئی۔

جیو نیوز نے گھوٹکی کے ڈپٹی کمشنر عثمان عبد اللہ کے حوالے سے بتایا کہ اس حادثے میں 13 سے 14 ڈبے پٹری سے اتر گئے اور آٹھ ڈبے بری طرح ٹوٹ گئے۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس حادثے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد دیگر مسافرین زخمی ہوگئے۔ بہت سے لوگ اب بھی ٹرین کے ڈبے میں پھنسے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔ مسافروں اور ان کے اہل خانہ کی سہولت کے لئے کراچی، سکر، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ہیلپ لائن شروع کردی گئی ہے۔

ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اتر کر ڈاؤن ٹریک پر جاگریں

ترجمان پاکستان ریلوے نے تصدیق کی کہ کراچی سے سرگودھا آنے والی ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اتر کر ڈاؤن ٹریک پر جاگریں اور راولپنڈی سے آنے والی سرسید ایکسپریس ان بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان ریلوے کے مطابق ملت ایکسپریس ٹرین رات 3 بجکر 28 منٹ پر ڈہرکی اسٹیشن سے روانہ ہوئی تھی اور 3 بجکر 43 منٹ پر اطلاع ملی کہ ٹرین 3 بجکر 38 منٹ پر پٹری سے اتر گئی‘۔

محکمہ ریلوے کی پریس ریلیز کے مطابق اسی اثنا میں سر سید ایکسپریس ٹرین 3 بجکر 38 منٹ پر رائٹی سے گزری۔ انہوں نے کہا کہ ڈاؤن ٹریک پر موجود بوگیوں کو دیکھ کر ڈرائیور نے ایمرجنسی بریک لگانے کی کوشش کی لیکن 3 بجکر 38 منٹ پر سرسید ایکسپریس ٹرین بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ علاوہ ازیں ترجمان پاکستان ریلوے نے بتایا کہ روہڑی سے ریلیف ٹرین جائے حادثہ کی طرف روانہ کردی گئی ہے، اس کے علاوہ ریلوے انتظامیہ اور مقامی پولیس سمیت ضلعی انتظامیہ ریلیف کے لیے موقع پر موجود ہے۔

قبل ازیں گھوٹکی کے ڈپٹی کمشنر عثمان عبد اللہ نے واقعے میں 30 افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ حکام کو شہریوں کو بچانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بوگیاں الٹ گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ ایک بوگی میں 30 سے 35 مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر عثمان عبداللہ نے بتایا کہ معلومات کی بروقت فراہمی کے لیے انفارمیشن ڈیسک قائم کردی گئی ہے جبکہ ریلیف کیمپ لگادیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل کام ہے، اب بھی پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کرنے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر طبی عملے بشمول تمام ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو طلب کرلیا گیا ہے۔

ایس ایس پی گھوٹکی عمر طفیل نے بتایا کہ واقعے میں معمولی زخمی ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے روانہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک بوگی میں اب بھی مسافر پھنسے ہوئے ہیں اور ہمیں ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے‘۔

بوگیوں میں پھنسے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا کام جاری

علاوہ ازیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ریلوے سکھر طارق لطیف کے مطابق حادثے میں 13 سے زائد بوگیوں کو نقصان پہنچا، جن میں 9 بوگیاں ملت ایکسپریس اور 4 بوگیاں سرسید ایکسپریس کی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گری ہوئی بوگیوں میں پھنسے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا کام جاری ہے جبکہ روہڑی سے ریلیف ٹرین بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہے۔

زخمیوں سے متعلق ترجمان پاکستان ریلوے نے بتایا کہ زخمیوں کو تعلقہ ہسپتال روہڑی، پنوعاقل اور سول ہسپتال سکھر منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرسید ایکسپریس کی باقی بوگیوں کو مسافروں کے ساتھ صادق آباد ریلوے اسٹیشن کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹریک بحال ہوتے ہی ٹرینوں کو منزل مقصود کی طرف روانہ کر دیا جائے گا۔

پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹو افسر نثار میمن نے کہا سانحہ کی تحقیقات سے حادثے کی وجوہات کا تعین ہوگا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سکھر ڈویژن میں ریلوے کی پٹری کمزور ہیں۔
نثار میمن نے مزید کہا کہ پاکستان ریلوے نے مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اسے مقامات پر رفتار کی حد مقرر کی ہے۔

انہوں نے ڈان کو فون پر بتایا کہ ’جہاں حادثہ پیش آیا ہے وہاں ٹریک کا ٹریک کمزور نہیں ہے‘۔
چیف ایگزیکٹو افسر نے کہا کہ جب رفتار سے متعلق پابندیاں ہوتی ہیں تو ٹرین ڈرائیور 40 کلومیٹر فی گھنٹہ، 60 کلومیٹر فی گھنٹہ اور 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار برقرار رکھتا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ شام کے 6 بجے تک ایک پٹری آمد و رفت کے لیے کھول دی جائے گی کیونکہ امدادی کام تاحال جاری ہیں۔

ترجمان پاکستان ریلوے کے مطابق گھوٹکی حادثے پر وفاقی وزیر ریلوے محمد اعظم خان سواتی نے نوٹس لے لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر مشتمل انکوائری 24 گھنٹے کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ نے امدادی سرگرمیوں سے متعلق بتایا کہ ریسکیو آپریشن آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور دیگر بوگیوں سے ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کٹرز کی مدد سے بوگیوں کو کاٹ کر زخمیوں اور نعشوں کو نکالا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس حادثے میں لوگوں کی ہلاکت پر تعزیت کی ہے اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ مسٹر عمران خان نے ٹویٹ کیا کہ ”گھوٹکی میں آج صبح ہونے والے خوفناک ٹرین حادثے سے حیران اور رنجیدہ ہوں جس میں 40 مسافروں کی موت ہوگئی ہے۔  وزیر ریلوے سے کہا گیا ہے کہ وہ جائے وقوع پر پہنچیں اور زخمیوں کے لئے طبی امداد کو یقینی بنائیں اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو امداد فراہم کریں۔ ریلوے سیکیورٹی میں گڑبڑی کی جامع تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

پاکستان میں دو مسافر ٹرینوں کی ٹکر، 30 افراد ہلاک

0
پاکستان میں دو مسافر ٹرینوں کی ٹکر، 30 افراد ہلاک
پاکستان میں دو مسافر ٹرینوں کی ٹکر، 30 افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں دو ٹرینوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم 30 مسافر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ گھوٹکی کے ڈپٹی کمشنر عثمان عبد اللہ نے بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی بھی کئی لوگ ٹرین کی کوچوں میں پھنسے ہیں۔

اسلام آباد: پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں پیر کے روز دو ٹرینوں کے ٹکر میں کم از کم 30 مسافر ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔

بتایا جاتا ہے کہ لاہور سے کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس ٹرین ملت ایکسپریس سے ٹکرا گئی جو کراچی سے سرگودھا جارہی تھی۔ اس کی وجہ سے ملت ایکسپریس ٹرین کے ڈبے پلٹ گئے۔

گھوٹکی کے ڈپٹی کمشنر عثمان عبد اللہ نے بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی بھی کئی لوگ ٹرین کی کوچوں میں پھنسے ہیں۔

پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہیں اور موقع پر امدادی کام جاری ہے۔ ابھی تک حادثے کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔