جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 345

چراغ کی حمایت میں ایل جے پی کارکنان کا پارٹی دفتر میں ہنگامہ

0
چراغ کی حمایت میں ایل جے پی کارکنان کا پارٹی دفتر میں ہنگامہ
چراغ کی حمایت میں ایل جے پی کارکنان کا پارٹی دفتر میں ہنگامہ

رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان کے بے قابو ہوئے حامیوں نے آج پارٹی کے ریاستی دفتر میں ہنگامہ کیا۔ ناراض ایل جے پی کارکنان کا کہنا ہے کہ وہ مسٹر پارس کو کچھ نہیں مانتے ہیں۔ پارٹی کے قومی صدر چراغ پاسوان ہی ان کے لئے سب کچھ ہیں۔

پٹنہ: لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) میں ٹوٹ کے بعد بہار کے جموئی سے رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان کے بے قابو ہوئے حامیوں نے آج پارٹی کے ریاستی دفتر میں ہنگامہ کیا۔

مسٹر پاسوان کے چچا اور حاجی پور کے رکن پارلیمنٹ پشوپتی کمار پارس کی قیادت میں ہوئے ٹوٹ کی مخالفت کرتے ہوئے ناراض کارکنان نے پارٹی کے دفتر کے باہر جم کر نعرے بازی کی۔ اس کے بعد کارکنان نے دفتر میں داخل ہوکر ہنگامہ کیا اور پھر مین گیٹ پر لگے مسٹر پارس کے نیم پلیٹ پر سیاہی لگادی۔ کارکن پارس مردہ باد کے نعرے لگارہے تھے۔

ناراض ایل جے پی کارکنان کا کہنا ہے کہ وہ مسٹر پارس کو کچھ نہیں مانتے ہیں۔ پارٹی کے قومی صدر مسٹر پاسوان ہی ان کے لئے سب کچھ ہیں۔

کارکنان نے کہا کہ انہیں پارٹی دفترمیں داخل نہیں ہونے دیا جارہا ہے جبکہ چراغ کی قیادت میں آج تک ایسا نہیں ہوا تھا۔ پارٹی کے کارکنان کو ہی پارٹی دفتر سے باہر نکال کر پھینکا جارہا ہے۔

ایل جے پی کے ناراض کارکنان نے کہا کہ مسٹر پارس کو پارٹی چلانا نہیں ہے بلکہ عہدہ اور اقتدار کیلئے انہوں نے چراغ کے ساتھ غداری کی ہے۔ پارٹی کارکنان چراغ کے ساتھ ہیں۔ کارکنان کو انہوں نے جو عزت دی ہے وہ مسٹر پارس کبھی نہیں دے پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چراغ ہی آنجہانی رام ولاس پاسوان کے وارث ہیں اور وہ پارٹی کو سنبھالیں گے۔ کارکنان پوری طرح سے چراغ کے ساتھ ہیں۔

مغربی بنگال: اب ممتا بنرجی کی نظر لوک سبھا انتخابات پر، 2026 تک پرشانت کشور کے ساتھ سیاسی معاہدہ

0
اب ممتا بنرجی کی نظر لوک سبھا انتخابات پر، 2026 تک پرشانت کشور کے ساتھ سیاسی معاہدہ
مغربی بنگال: اب ممتا بنرجی کی نظر لوک سبھا انتخابات پر، 2026 تک پرشانت کشور کے ساتھ سیاسی معاہدہ

2019 کے لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد ممتا بنرجی نے آئی پیک سے معاہدہ کیا تھا۔ دو سالوں تک پرشانت کشور نے ممتا بنرجی کے لئے کام کیا۔ پرشانت کشور کی حکمت عملی کا ہی نتیجہ ہے کہ ممتا بنرجی کو دو تہائی سے زائد سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کی شاندار جیت کے بعد اب ترنمول کانگریس نے پرشانت کشور آئی پیک سے 2024 تک معاہدہ کیا ہے۔ تاہم اگلے اسمبلی انتخابات 2026 تک پرشانت کشور مشورہ دیتے رہیں گے۔

2019 کے لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد ممتا بنرجی نے آئی پیک سے معاہدہ کیا تھا۔ دو سالوں تک پرشانت کشور نے ممتا بنرجی کے لئے کام کیا۔ پرشانت کشور کی حکمت عملی کا ہی نتیجہ ہے کہ ممتا بنرجی کو دو تہائی سے زائد سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

اب ممتا بنرجی ترنمول کانگریس کی توسیع کا ارادہ رکھتی ہیں اور اگلے لوک سبھا انتخابات میں قومی سیاست میں ممتا بنرجی اہم کردار ادا کرنا چاہتی ہیں تو ایسے میں ترنمول کانگریس نے پرشانت کشور کو اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کووڈ ٹیکہ کاری کی اہمیت پر آن لائن اجلاس میں علماء و دانشوروں کی شرکت

0
کووڈ ٹیکہ کاری کی اہمیت پر آنلائن اجلاس میں علماء مشائخ محققین و دانشوارن کی شرکت
کووڈ ٹیکہ کاری کی اہمیت پر آنلائن اجلاس میں علماء مشائخ محققین و دانشوارن کی شرکت

منہاج انٹرفیتھ اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن نے "کووڈ ٹیکہ کاری کی اہمیت” کے عنوان پر ویبینار میں معروف مسلم اسکالرز، ڈاکٹرز، دانشوران علماء و مشائخ عظام نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا

منہاج انٹرفیتھ اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن (MIWF) نے "کووڈ ٹیکہ کاری کی اہمیت” کے عنوان پر گزشتہ 13 جون بروز اتوار ایک ویبنار کا اہتمام کیا۔ ویبینار میں معروف مسلم اسکالرز، ڈاکٹروں اور دانشوروں کے ساتھ ساتھ علماء کرام و مشائخ عظام نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس ویبینار میں شریک تمام علماء و دانشوروں نے ہندوستان کے سبھی شہریوں خصوصا مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ٹیکہ پر شبہات کے ازالہ میں اپنا اہم رول ادا کریں اور ٹیکہ کاری مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور تعاون پیش کریں۔

ویبینار کا آغاز منہاج  القرآن انٹرنیشنل انڈیا کے شعبہ مواصلات کے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے اس کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے کیا اور یکے بعد دیگرے شرکاء کا تعارف کرایا۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے اپنے افتتاحی بیان میں کہا کہ کورونا وائرس وبا کو ختم کرنے کے لئے ٹیکہ کاری ہی ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کووڈ ٹیکہ کاری کے حوالے سے اس آن لائن اجلاس کو علماء و مشائخ پر مشتمل اب تک کا واحد اجلاس قرار دیا۔

شرکاء میں سب سے پہلے نئی دہلی کے معروف ڈاکٹر اور کووڈ میں مبتلا مریضوں کے علاج میں مختلف سرکاری مراکز سے منسلک ڈاکٹر اجے کمار سنگھ نے کہا کہ "ویکسینیشن کے مؤثر ڈرائیوز ہمارے وقت کی اشد ضرورت ہیں اور ہمیں یہ یقینی بنانا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو وائرسوں کی نئی شکلوں کو ابھرنے سے روکنے کے لئے ویکسین لگانی پڑے۔”

انہوں نے بتایا کہ ویکسی نیشن مہم کی کامیابی کا ثبوت یہ ہے کہ "پہلی لہر کے مقابلہ میں وبائی امراض کی دوسری لہر میں صحت سے متعلق کارکنوں اور بوڑھے لوگوں میں اموات کی تعداد کم ہے کیونکہ ان دونوں اقسام کے لوگوں کو پہلی لہر کے بعد ویکسین دی جا چکی تھی، جس کہ وجہ سے وائرس سے بچاؤ میں بزرگوں کو مدد ملی۔ ”

ہمس لائیو پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اور نصیریہ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر جلس اختر نصیری نے کہا کہ "کسی بھی پروڈکٹ یا پروسیجر پر سوالات عموما تین طرح کے ہوتے ہیں: اول تو محققین اور ریسچرز کے ذریعہ اٹھایا گیا سوال جو آگے چل کر ایک تحقیقی سوال (research question) بن جاتا ہے اور مذکورہ پروڈکٹ پر مزید تحقیق ممکن ہوپاتی ہے۔ دوسرے قسم کا سوال کسی بھی کنزیومر کا بحیثیت صارف سوال کرنا ہے جس کا مقصد پروڈکٹ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے۔ کسی بھی پروڈکٹ پر مزید معلومات کے لئے کنزیومر کا ایسا کوئی بھی سوال فطری ہے جو کنزیومرکا حق ہے۔ لیکن تیسرے قسم کا سوال جو محض سوال برائے سوال ہوتا ہے وہ بہت ہی خطرناک ہے۔ یہ سوال کم اور شبہ زیادہ ہوتا ہے جو افواہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ ایسے شبہات یا تو کمپیٹیٹرز کے ذریعہ پیدا کئے جاتے ہیں یا لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے اس کے شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکوں پر اس طرح کے شبہات کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی پولیو کے ٹیکہ پر اس طرح کے شبہات کئے جاچکے ہیں جو غلط ثابت ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر نصیری نے کہا کہ "ویکسین مکمل تحقیق کے بعد شروع کی گئی ہے اور ٹرائل کے تینوں مراحل سے گزر چکی ہے۔ ہر مرحلہ کی تحیقیق کے بعد مختلف ایجنسیوں سے منظوری لی جاتی ہے جو تحقیقی کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ منظوری دینے والی یہ ساری ایجنسیاں آزادانہ طور پر کام کرتی ہیں اور ان پر کسی حکومت کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہوتا۔ تمام معیارات کے مطابق یہ ویکسین کامیاب ثابت ہوئی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ پہلے ہی مرحلہ کے تجربہ میں طے ہوجاتا ہے کہ دوا یا ٹیکہ سے جان کا خطرہ نہیں ہے۔ حفاظت (safety) یقینی ہونے کے بعد ہی دوسرے اور تیسرے مرحلہ کے تجربہ میں حفاظت کے ساتھ ساتھ تاثیر (efficacy) پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ تیسرے مرحلہ کا تجربہ جن رضاکاروں پر کیا جاتا ہے ان کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ کسی بھی دوا یا ٹیکہ میں اتنی باریکیوں پر بحث کی جاتی ہے کہ جس میں شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ خوراک کی مقدار اور اس کے فاصلے کے ساتھ ساتھ سبھی خطرات، فوائد، ضمنی اثرات طے ہوتے ہیں۔ کویشیلڈ سے خون جمنے کا سائڈ ایفیکٹ ایک ملین لوگوں میں صرف 0.6 فی صد میں پایا گیا جو تقریبا نہیں کے برابر تھا۔ انہوں نے کہا کہ "عوامی طور پر جو بحث چھڑی ہوئی ہے کہ ویکسین لینی چاہیے یا نہیں یہ بہت ہی افسوسناک ہے۔ میری رائے میں ویکسین لینی چاہیے یہ بہت محفوظ ہے۔”

سید تنویر ہاشمی صاحب نے کہا کہ "اس وقت ویکسی نیشن کو لے کر بڑے پیمانے پر افواہوں کا بازار گرم ہے۔ بدقسمتی سے افواہوں کا بازار مسلمانوں کے درمیان گرم ہے۔ مسلمانوں میں طرح طرح کے سوالات و اعتراضات اور ایسی بے تکی باتیں پائی جاتیں ہیں جن کا حقیقت و صداقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہندوستان میں 95 فیصد مسلمان ویکسی نیشن سے دور ہیں۔ اور اس کی وجہ افواہ بازاری، جھوٹی باتیں خصوصی طور پر واٹس اپ کے ذریعہ جو جھوٹی باتیں پھیلائیں جارہی ہیں، ان افواہوں پر ہم لوگوں نے یقین کرلیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ویکسی نیشن کا اہتمام بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ایک بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بریلی شریف، کچھوچھہ شریف، دارالعلوم دیوبند و ندوۃ العلماء اور جمیعت علما ہند بھی سامنے آئے اور مبارک پور اشرفیہ بھی آگے آئے، باضابطہ طور پر یہ سارے بڑے بڑے ادارے اور تنظیمیں مل کر ملک کے مسلمانوں سے ویکسی نیشن کے لیے اپیل کریں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔ یہ بیداری لانا ہم سب کے لیے بے حد ضروری ہے۔

پیر سید تنویر ہاشمی نے بیان کیا کہ "یہ بہت اہم ہے کہ تمام مکاتب فکر کے مسلم اسکالرز کو سامنے آنا چاہئے اور ویکسینیشن ڈرائیو کی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اگر مسلمان ویکسی نیشن مہم میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور ویکسین نہیں لیتے ہیں، تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تیسری لہر کے لئے انہیں ہی مورد الزام ٹھہرایا جائے۔ ”

مولانا پروفیسرڈاکٹر سید علیم اشرف جایسی، صدر شعبہ عربی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسیٹی، حیدرآباد نے اپنے مبسوط بیان میں کہا کہ "ہماری شریعت کی بنیاد جن پانچ امور پر ہے انہیں ہم مقاصد شرعیہ اسلامیہ کہتے ہیں اور وہ پانچ امور ہیں جان کی حفاظت، عقیدے کی حفاظت، عقل کی حفاظت، نسب کی حفاظت اور مال کی حفاطت۔ شریعت اسلامیہ کے ان پانچوں مقاصد شرعیہ میں سے اعلیٰ اور بلند مقام پر جان کی حفاظت ہے جسے حفظ النفس کہا گیا ہے۔ اس حفظ النفس کو شریعت نے واجب قرار دیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ لاتقتلوا انفسکم (اپنی جانوں کو قتل نہ کرو)۔

سید علیم اشرف جائسی نے کہا کہ ویکسی نیشن واجب شرعی ہے اور اصحاب حل و عقد پر واجب ہے کہ وہ عوام کا ویکسی نیشن کرائیں اور عوام پر واجب ہے کہ وہ ویکسین لیں۔ اس سلسلے میں کسی کو نام نہاد تقویٰ برتنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کیوں کہ یہ وائرس مرض ہے ایک سے دوسرے کو لگتا ہے۔ اگر آپ ویکسین نہیں لیتے ہیں کسی پرہیزگاری اور تقویٰ کے نام پر تو آپ دوسروں کے لیے خطرہ ہیں۔ لہذا کسی کو اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ وہ ویکسین نہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ جو حاکم شرع وہ لوگوں کو ویکسین لینے کے لیے مجبور کریں۔ اسلامی نقطہ نظر سے اولا تو یہ طے نہیں ہے کہ اس ویکسین میں کوئی حرام چیز ہے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ ویکسی نیشن میں شریعت کے قواعد کے مطابق ضرورت کا تحقق ہے۔ لہذا ویکسی نیشن ضرورت شرعیہ ہے۔ شریعت کے قاعدے کے مطابق یہاں پر ضرورت کا تحقق ہے۔ ویکسین کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اس لیے یہ ضرورت شرعیہ بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کورونا سے بچنے کے لیے ایک ہی علاج ہے اور وہ ویکسی نیشن ہے۔ اس سے شفا (اگر یقینی نہیں بھی ہے تو کم از کم) غالب ظن ہے۔ اسلامی قاعدے کے مطابق حرام چیزوں کے اجزا سے بنی ہوئی چیزیں بھی حلال ہوجاتی ہیں جب اس کی ضرورت ہو، اس کا کوئی متبادل نہ موجود نہ ہو اور اس سے شفا کا غالب گمان ہو۔ یہاں ان ساری باتوں کا تحقق ہے۔ لہذا ویکسی نیشن واجب شرعی ہے۔ یہ میری ذاتی رائے نہیں ہے۔ عالم اسلام کے بہت سارے دارالافتاؤں نے اس کو واجب شرعی قرار دیا ہے۔ ہمیں عالم اسلام کے افواہ زدہ اذہان کو بتانا چاہیے کہ ویکسی نیشن آپ کے اختیار کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ شریعت کے وجوب کا مسئلہ ہے۔

مولانا جایسی نے مزید کہا کہ "غلط معلومات درخت کی مانند ہیں اور اس کی زرخیز زمین ایک جاہل ذہن ہے۔ علما کو آگے آنا چاہئے اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لئے اس مہم کی رہنمائی کرنا چاہئے۔ ویکسین میں غیر قانونی اجزاء کے استعمال سے ہمیں ویکسین لینے سے نہیں روکا جانا چاہئے کیونکہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس ویکسین میں غیر قانونی اجزا موجود ہیں۔ جان بچانے کی ضرورت سے شرعی حکم تبدیل ہوجاتا ہے چاہے وہ غیر قانونی ہوں۔ اس ویکسین کو ناجائز استعمال کا حکم دینے کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اس بیماری سے جان بچانے کے لئے ویکسینیشن ہی واحد آپشن ہے کیونکہ اس بیماری کا کوئی یقینی علاج موجود نہیں ہے۔”

انہوں نے کہا کہ "پولیو ویکسین مہم شروع ہونے پر مسلمانوں نے ویکسین نہ لینے کی بھی ایسی ہی غلطی کی تھی جس سے ہمارے طبقہ کو بری طرح نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہمیں ویکسین لینے کی طرف لوگوں کے تاثرات کو تبدیل کرنے کے لئے ایسی آگاہی مہموں کی ضرورت ہے۔ ”

ترکی سے کانفرنس کے لئے خصوصی ویڈیو پیغام بھیجنے والے شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ "کووڈ سے بچاؤ کے ٹیکہ پر اعتراضات کی کوئی سائنسی، مذہبی اور منطقی بنیاد نہیں ہے۔ منہاج انٹرفیتھ اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔ ویکسینیشن ڈرائیوز پر غلط فہمیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ایک بہت ہی بروقت اقدام ہے جس سے غلط معلومات کے خاتمے میں مدد ملے گی۔”

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے ایم پی ایل بی) کے رکن مولانا اطہر علی نے کہا کہ "کووڈ وبائی مرض اور ویکسی نیشن مہم کے بارے میں صرف مسلمانوں میں ہی نہیں تمام مذاہب کے لوگوں میں بہت سی غلط فہمی پائی جارہی ہے۔ انفیکشن کے معاملات کم ہیں اور ان کو جاہل لوگوں نے تناسب سے بڑھا دیا ہے۔ "غیر سرکاری تنظیموں ، اسکالرز، دانشوروں اور ڈاکٹروں کو غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ ویکسینیشن اس وبائی بیماری سے آگے بڑھنے اور تیسری لہر کی روک تھام کا واحد راستہ ہے۔”

ایسوسی ایٹ امیونولوجی ڈویژن برائے کیمبرج کے محقق ڈاکٹر محمد ممتاز نیر نے کہا کہ "ویکسین لانچ ایک سائنسی عمل سے گزرا ہے۔ اس ویکسین کو اتنے مختصر عرصے میں لانچ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ پہلی لہر کا اثر بہت زیادہ تھا۔ اور سائنس دانوں کی ٹیم سارسSARS وائرس سے متعلق ماضی کی تحقیق کی بنیاد پر اس پر کام کرنے میں کامیاب ہوگئی۔”

ڈاکٹر نیر نے کہا کہ "سائنس سے تعلق رکھنے والے ترکی کے ایک مسلمان ڈاکٹر ڈاکٹر یوگور ساہین کی سربراہی میں سائنس دانوں کی بائن ٹیک ٹیم جو فی الحال جرمنی میں ہے فائزر کے ساتھ مل کر ویکسین تیار کرنے کی شروعات کی تھی اور اس میں آر این اے کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ویکسین بہت موثر ثابت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ویکسین انفیکشن کے لئے مدافعتی نظام تیار کرتی ہے۔ عام افراد کے ویکسین لانچ کرنے سے پہلے کلینیکل ٹرائلز پر پوری طرح سے عمل ہوتا ہے۔ ویکسین کے بارے میں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور لوگوں کو اسے کسی بھی تحفظات کے بغیر لینا چاہئے۔” انہوں نے ٹیکہ کاری کے لیے مساجد کے اماموں کو کلیدی کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مولانا سیف الدین اصدق، بانی تحریک پیغام اسلام (جمشید پور) نے کہا کہ "اس کے لئے اہم بات ہے کہ اسکالرز اور سماجی کارکنان کووڈ وبائی مرض کے خلاف جنگ میں شامل ہوں۔ ہم نے مساجد اور مدارس کو کووڈ آیسولیشن سینٹر کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے اور مفت ویکسین بھی شروع کی ہے۔ ان اداروں میں اب ہمیں چیلنج درپیش ہے کیوں کہ بہت ساری غلط فہمیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے جو بہت سے لوگوں کو ویکسین نہ لینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔” انہوں نے وبائی امراض اور ویکسین سے متعلق خرافات اور شکوک و شبہات دور کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔

درگاہ اجمیر شریف کے گدی نشیں اور چشتی فاؤنڈیشن کے چیئرمیں حاجی سید سلمان چشتی نے اپنے بیان میں کہا کہ "عالمی وبا کورونا وائرس سے بچنے کا اس وقت واحد ذریعہ ویکسی نیشن ہے۔ لہذا لوگوں کو افواہوں پر دھیان نہ دے کر ویکسین ضرور لینا چاہیے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ویکسی نیشن کا اہتمام درگاہوں پر کرنے سے زیادہ سے زیادہ لوگ آسانی کے ساتھ ویکسین لے لیں گے۔ کیوں کہ درگاہوں پر ہر کمیونٹی کےلوگ آتے ہیں وہاں اگر اس کا سلسلہ شروع کیا  جائے تو لوگ روحانی طور پر بھی متاثر ہوکر ویکسین لگا لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ "یہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ بیماری اللہ کی طرف سے ہے اور اس کا علاج بھی اللہ کی طرف سے ہے اور ویکسین ہمارے امیون کو بڑھانے میں معاون ہوتی ہے۔ ہم نے اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے آس پاس کیمپ شروع کیا ہے۔ جو بھی ویکسین لیتا ہے اس میں کوئی منفی اثر نہیں پڑا بلکہ اس کا اچھا اثر پڑا اور بہت سارے لوگ اس مہم کے لئے آگے بڑھے۔”

امیر شریعت (اتراکھنڈ) مفتی زاہد رضا رضوی نے کہا کہ "میں منہاج فاؤنڈیشن کو اس منفرد پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دوسری لہر میں بہت سارے مشہور مسلمان اسکالرز، مشائخ، اور دانشوروں کی اموات ہوئی ہیں جس سے قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ قرآن انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے اور ہمارے نبی اکرم ﷺ نے ایسے حالات سے نمٹنے کے طریقے کے بارے میں رہنمائی کی ہے۔ غلط فہمیاں بہت سارے لوگوں کو ویکسین لینے سے روک رہی ہیں جیساکہ ماضی کی وبا میں ہوا ہے۔ اس طرح کی بیداری مہم سے غلط فہمیوں کے ازالہ میں مدد ملے گی۔ ”

پریگ راج (الہ آباد) کے جامعہ عارفیہ سے وابستہ مولانا ڈاکٹر ذیشان مصباحی نے اپنے بیان میں کہا کہ "ویکسی نیشن کا موضوع میڈیکل سائنس سے متعلق ہے مذہب سے نہیں۔ بہت سارے لوگوں نے ہم سے اس کے شرعی حکم کے بارے میں پوچھا تھا، تو ہمارے (دینی) ادارہ جامعہ عارفیہ نے ایک ویکسین کے بارے میں تحقیق پر مبنی جواز بلکہ ضرورت قرار دیتے ہوئے فتوی جاری کردیا ہے۔ ٹیکے کے بارے میں افواہوں پھیلائی گئی ہیں اور قرآن نے ہمیں کسی بھی افواہ کی تصدیق کرنے کا حکم دیا ہے۔

علامہ مصباحی نے کہا کہ ہمیں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے اس کی تحقیق کرنی چاہئے۔ افواہ کے بارے میں قرآن نے ذکر کیا ہے کہ جو لوگ تحقیق نہیں کرسکتے انہیں اس شعبے کے ماہرین سے پوچھنا چاہئے۔ سائنسدان اور ڈاکٹرز جو طب کے شعبے کے ماہر ہیں اس پر تقریبا متفق رائے ہیں کہ یہ ویکسین وبائی امراض کو پھیلنے سے روکنے میں موثر ہے اور ہمیں چاہئے کہ ہم اس کی اتباع کریں۔

ٹیکہ کاری سے متعلق ڈاکٹر مصباحی نے ڈاکٹر جلیس نصیری صاحب کی اس بات کی تائید کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بہت سے لوگ ویکسین اس لیے نہیں لگوائے ہیں کیوں کہ انہیں اپنے پیر صاحب کی جانب سے اشارہ نہیں ملا، پھر انہوں نے کہا تھا کہ کسی بھی شیخ کا دائرۂ کار روحانی تصرفات میں ہونا چاہئے طبی معاملات میں نہیں۔ حالانکہ مصباحی صاحب نے جلیس نصیری کے انداز بیان کو تلخ بھی بتایا۔

ویبنار کے اختتام میں ڈاکٹر ممتاز نیر نے مولانا مصباحی کی اس بات پر بطور خاص اعتراض جتایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ طبی معاملوں میں علماء کا رول نہیں ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر ممتاز نیر نے کہا کہ "لوگ علماء اور کمیونیٹی لیڈرز کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں، وہ اپنے اپنے علاقوں میں ویکسی نیشن مہموں کی رہنمائی کرتے ہیں تو اس عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ "حالانکہ ڈاکٹر نصیری اور مولانا مصباحی دونوں کا مطلب یہ تھا کہ ٹیکہ کے فائدے نقصانات پر علماء و فقہاء کی رائے بے معنی ہے، شرعی جواز اور عدم جواز میں علماء کی رائے بہر حال اہم ہے۔

اخیر میں عالمی مشائخ کونسل کے چیئرمین مولانا سید خالد اشرف اشرفی نے زور دیا کہ تمام مسلمانوں کو اس واقعے کے اختتام پر ویکسین لگانی چاہیئے اور دعا کی۔ مولانا سید خالد اشرف صاحب نے بھی لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ویکسی نیشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے خود ویکسین لینے اور دوسروں کو بھی ویکسین لگوانے کی تاکید کی اور کہا کہ ـویکسین لے کر خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی محفوط رکھیں۔ـ

رفیق احمد خان صاحب صدر ایم آئی ڈبلیو ایف نے آخر میں ہدیہ تشکر (Vote of Thanks) پیش کرتے ہوئے سبھی شرکا اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس اہم کانفرنس میں شامل ہونے اور معلوماتی گفتگو کے لئے تمام مقررین کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ اس سے ویکسینیشن مہم کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے میں ملے گی۔ انہوں نے ڈاکٹر سے صلاح اور ٹیکہ کاری سے متعلق سوالات کے لئے ایم آئی ڈبلیو ایف کی میڈیکل ہیلپ لائن (1800-258-4777) کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

نیٹو سربراہ اجلاس: نیٹو کا چین اور روس کی جارحانہ پالیسیوں سے ملکر نمٹنے کا عزم 

0
نیٹو سربراہ اجلاس: نیٹو کا چین اور روس کی جارحانہ پالیسیوں سے ملکر نمٹنے کا عزم 
نیٹو سربراہ اجلاس: نیٹو کا چین اور روس کی جارحانہ پالیسیوں سے ملکر نمٹنے کا عزم 

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نیٹو سربراہ اجلاس میں چین اور روس پر گفتگو ہوئی، چین کے دنیا پر بڑھتے اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ 

لندن: امریکہ کے صدر جوزف بائیڈن نے نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کو امریکہ جتنا اہم قرار دے دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ نیٹو امریکہ جتنا اہم ہے۔ بیلجیئم کے دارالحکومت بروسیلز میں ہونے والے نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) سربراہ اجلاس میں 29 سربراہانِ مملکت نے شرکت کی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نیٹو سربراہ اجلاس میں چین اور روس پر گفتگو ہوئی، چین کے دنیا پر بڑھتے اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ناٹو سربراہ اجلاس میں جرمن چانسلر انجیلا مارکل نے چین کو حریف قرار دے دیا۔ فرانسیسی صدر میکرون کا کہنا تھا کہ نیٹو فوجی اتحاد ہے، جبکہ چین سے تعلقات صرف فوجی نہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادمیر پیوتن بدھ کو جنیوا میں ملاقات کریں گے۔
نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولن برگ نے چین کو موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل پر ساتھ کام کرنے کی پیش کش کر دی۔

نیٹو کے سکریٹری جنرل نے چین کی بین الاقوامی پالیسیوں کو اتحادیوں کیلئے چیلنج قرار دے دیا۔ ناٹو سربراہ اجلاس میں سربراہانِ مملکت نے سیکیورٹی کو در پیش خطرات سے مل کر نمٹنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

نئی حکومت کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی قوم پرستوں کو مارچ کی اجازت

0
نئی حکومت کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی قوم پرستوں کو مارچ کی اجازت
نئی حکومت کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی قوم پرستوں کو مارچ کی اجازت

اسرائیل کی نئی حکومت نے دائیں بازو کے قوم پرستوں کو آج مقبوضہ بیت المقدس میں مارچ کی اجازت دے دی۔ یہ مارچ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے حق میں کیا جائے گا۔

مقبوضۃ بیت المقدس: ایک دن تشکیل پانے والی اسرائیل کی نئی حکومت نے دائیں بازو کے قوم پرستوں کو آج مقبوضہ بیت المقدس میں مارچ کی اجازت دے دی۔

یہ مارچ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے حق میں کیا جائے گا۔

حماس کی مخالفت اور رد عمل کے پیش نظر نیتن یاہو حکومت نے ریلی گزشتہ ہفتے ملتوی کروا دی تھی۔ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے حق میں ریلیوں کے سبب پہلے بھی حالات کشیدہ ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیلی حملوں میں 260 فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 13 اسرائیلی بھی مارے گئے تھے۔ جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں عمارتیں منہدم کردی گئی تھیں۔

اسے بھی پڑھیں:

اسرائیلی یہودیوں اور فلسطینیوں کے مابین کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے: وینس لینڈ

اسرائیلی یہودیوں اور فلسطینیوں کے مابین کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے: وینس لینڈ

0
اسرائیلی یہودیوں اور فلسطینیوں کے مابین کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے: وینس لینڈ
اسرائیلی یہودیوں اور فلسطینیوں کے مابین کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے: وینس لینڈ

اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر ٹور وینس لینڈ نے ٹویٹ کیا ’’ایسے وقت میں جب اقوام متحدہ اور مصر جنگ بندی مستحکم کرنے کے کام میں سرگرم ہیں تب یروشلم میں پھر سے کشیدگی بڑھ رہی ہے‘‘۔

یروشلم: اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر ٹور وینس لینڈ نے متنبہ کیا ہے کہ اسرائیلی یہودیوں اور فلسطینیوں کے مابین کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ جس سے فرقہ وارانہ تشدد کا ایک نیا دور شروع ہوسکتا ہے۔

مشرق وسطی کے امن عمل کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر نے پیر کو یہ بیان دیا۔
انہوں نے ٹویٹ کیا ’’ایسے وقت میں جب اقوام متحدہ اور مصر جنگ بندی مستحکم کرنے کے کام میں سرگرم ہیں تب یروشلم میں پھر سے کشیدگی بڑھ رہی ہے‘‘۔

انہوں نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی پرتشدد سرگرمیوں سے باز رہیں۔
مسٹر وینس لینڈ نے کہا ’’میں تمام متعلقہ افراد سے اپیل کرتا ہوں کہ تنازع کے دوسرے دور کو پھوٹنے سے روکنے کے لئے ذمہ دارانہ انداز میں کام کریں‘‘۔

بی جے پی قائدین نے رام کے نام پر کیا گھپلہ: سسودیا

0
بی جے پی قائدین نے رام کے نام پر کیا گھپلہ: سسودیا
بی جے پی قائدین نے رام کے نام پر کیا گھپلہ: سسودیا

دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی قائدین نے رام مندر کے لئے شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے ذریعہ 12080 مربع میٹر اراضی میں کروڑوں روپے مالیت کا گھپلہ کیا ہے۔

نئی دہلی: دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی قائدین نے رام مندر کے لئے شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے ذریعہ 12080 مربع میٹر اراضی میں کروڑوں روپے مالیت کا گھپلہ کیا ہے۔

مسٹر سسودیا نے یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ شری رام جنم بھومی ٹرسٹ نے 18 مارچ 2021 کو12080 مربع میٹر زمین 18.5 روپے میں خریدی۔ ٹرسٹ نے یہ زمین روی موہن تیواری اور سلطان انصاری سے خریدی جس میں ٹرسٹ کے رکن انل مشرا اور اجودھیا کے میئر رشی کیش اپادھیائے گواہ بنے۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ مندر کے لئے مزید جگہ خریدی گئی تاکہ مندر مزید عالیشان بن سکے۔ اس کے لئے سب نے اپنا چندہ دیا چاہے وہ مزدور ہوں، کسان ہوں یا تاجر۔ شری رام کے مندر کی تعمیر کے لئے سب نے اپنی بچت سے چندہ دیا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس زمین کی خریداری اور شری رام کے عقیدت مندوں اور ان کے اعتماد کو دھوکہ دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شری رام جنم بھومی ٹرسٹ نے 18 مارچ 2021 کو شام 7 بجکر 15 منٹ پر روی موہن تیواری اور سلطان انصاری سے 18.5 کروڑ میں زمین خریدی تھی، اسی زمین کو ٹھیک 5 منٹ قبل شام 7 بجکر 10 منٹ پر ہریش پاٹھک اور کسم پاٹھک نے روی موہن تیواری اورسلطان انصاری کو دو کروڑ روپے میں بیچا تھا اور ان دونوں کے لین دین میں شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے رکن انل مشرا اور بی جے پی کے لیڈر اور اجودھیا کے میئر رشی کیش اپادھیائے گواہ بنے۔

مسٹر سسودیا نے بتایا کہ شروع میں زمین سے متعلق دستاویزات دیکھنے کے بعد ایسا لگتا تھا کہ یہ جعلی ہوگا، لیکن شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے لوگوں نے بے شرمی سے ایک بیان جاری کیا اور ایک متنازعہ دلیل دی کہ زمین مہنگی ہوگئی ہے۔ کیا کسی زمین کی قیمت 5 منٹ میں 2 کروڑ سے 18.5 کروڑ روپے ہوسکتی ہے؟

ٹرسٹ کو مشورے دیتے ہوئے سسودیا نے بتایا کہ عوام نے چندہ شری رام کے پرشکوہ مندر کی تعمیر کے لئے دیا ہے نہ کہ ان کے عقیدے کا مذاق اڑانے اور فنڈز کے غبن کے لئے چندہ دیا ہے۔

نئی اسرائیلی کابینہ میں زیادہ تر خواتین وزرا کا تعلق عرب ممالک سے

0
نئی اسرائیلی کابینہ میں زیادہ تر خواتین وزرا کا تعلق عرب ممالک سے
نئی اسرائیلی کابینہ میں زیادہ تر خواتین وزرا کا تعلق عرب ممالک سے

اسرائیل کی تاریخ جہاں میں پہلی بار کسی عرب کو وزیر بنایا گیا ہے وہیں سب سے زیادہ خواتین کو کابینہ میں جگہ ملی ہے۔ یہ اسرائیل کی تاریخ میں کسی بھی کابینہ کے اندر خواتین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اسرائیل میں تشکیل پانے والی نئی اتحادی حکومت میں 9 خواتین وزراء ہیں۔ نو خواتین میں سے 5 خواتین عرب نژاد ہیں۔

یروشلم: اسرائیل کی تاریخ میں جہاں پہلی بار کسی عرب کو وزیر بنایا گیا ہے وہیں سب سے زیادہ خواتین کو کابینہ میں جگہ ملی ہے۔ اسرائیل میں تشکیل پانے والی نئی اتحادی حکومت میں 9 خواتین وزراء ہیں۔ نو خواتین میں سے 5 خواتین عرب نژاد ہیں۔ ان میں 2 کا تعلق مراکش سے اور 3 کا عراق سے ہے۔

یہ اسرائیل کی تاریخ میں کسی بھی کابینہ کے اندر خواتین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
العربیہ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق مذکورہ عرب نژاد خواتین میں 58 سالہ وزیر اقتصادیات Orna Barbivai شامل ہیں۔ وہ اسرائیلی فوج میں پہلی خاتون ہیں جو میجر جنرل کے عہدے تک پہنچیں۔ اورنا کی والدہ نے عراق سے اور والد نے رومانیا سے اسرائیل ہجرت کی تھی۔ بلیو اینڈ وائٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی اورنا 2019ء سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انہوں نے سماجیات میں گریجویشن اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔

اسی طرح عراقی نژاد خواتین وزراء میں 45 سالہ Ayelet Shaked بھی ہیں۔ نئی حکومت میں وزیر داخلہ کے منصب پر فائز ہونے والی ایلت کے والد گذشتہ صدی میں 1950ء کی دہائی میں عراق سے ایران کے راستے اسرائیل ہجرت کر گئے تھے۔ ایلت نے الکٹرک انجینئرنگ میں بیلچرز مکمل کیا اور پھر کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اسرائیلی فوج میں بھی خدمت انجام دے چکی ہیں۔

نئی حکومت میں وزیر تعلیم کا عہدہ 48 سالہ Yifat Shasha-Biton کے پاس ہے۔ یفعات شاشا کی والدہ مراکش میں نرس کے پیشے سے وابستہ تھیں جب کہ والد کا تعلق عراق سے ہے۔ اسرائیلی ہجرت سے قبل وہ ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ تھے۔

نئی حکومت میں سماجی مساوات کا قلم دان 38 سالہ Meirav Cohen سنبھالیں گی۔ ان کے والدین کا تعلق مراکش سے ہے۔ ان دونوں نے اسرائیل ہجرت کی۔ میراؤ نے اکنامکس اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔

اسی طرح 44 سالہ Karine Elharrar-Hartstein کا تعلق بھی مراکش کے ایک گھرانے سے ہے جو گذشتہ صدی میں 1950ء کی دہائی میں اسرائیل منتقل ہوگیا۔ کیرین نے قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ نئی حکومت میں وزیر توانائی کے طور پر کام کریں گی۔

اسرائیلی حکومت میں وزارت ہجرت کا قلم دان 40 سالہ Pnina Tamano-Shata کو دیا گیا ہے۔ وہ ایتھوپیا میں پیدا ہوئیں اور پھر 3 سال کی عمر میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ اسرائیل ہجرت کر گئیں۔ وہ قانون کے تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ پہلی ایتھوپین نژاد ہیں جنہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں نشست جیتی۔ ان کا تعلق بلیو اینڈ وائٹ پارٹی سے ہے۔

نئی کابینہ میں ہمیں 54 سالہ ریڈیو اور ٹی وی پیش کار اور صحافتی کارکن Merav Michaeli بھی نظر آتی ہیں۔ اسرائیل میں مشہور شخصیت رکھنے والی میراؤ ”ورک پارٹی” کی سربراہ ہیں۔ ان کے خاندان کا تعلق ہنگری سے ہے۔ میراؤ کے پاس ٹرانسپورٹ کی وزارت ہے۔

ماحولیات کے تحفظ کی 44 سالہ اسرائیلی خاتون وزیر Tamar Zandberg پارلیمنٹ میں ”میرٹس پارٹی” کی رکن ہیں۔ وہ اسرائیل کے سابق فٹبالر مائیکل زینڈبرگ کی بہن ہیں۔

اسرائیلی حکومت میں خواتین وزراء میں آخری نام 50 سالہ Orit Farkash-Hacohen کا ہے۔ وہ وزارت سائنس و تخلیق کا قلم دان سنبھالیں گی۔ اوریت گذشتہ حکومت میں سیاحت کی وزیر کے منصب پر کام کر رہی تھیں۔ ان کا تعلق ”بلیو اینڈ وائٹ” پارٹی سے ہے۔

مغربی بنگال میں لاک ڈاؤن میں یکم جولائی تک توسیع

0
مغربی بنگال میں لاک ڈاؤن میں یکم جولائی تک توسیع
مغربی بنگال میں لاک ڈاؤن میں یکم جولائی تک توسیع

مغربی بنگال چیف سیکریٹری ایچ دویدی نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی موجودگی میں لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کورونا وائرس کنٹرول میں ہے مگر خطرہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ اس لئے کچھ نرمیوں کے ساتھ لاک ڈاؤن نافذ رہے گی۔

کلکتہ: مغربی بنگال میں کچھ نرمیوں کے ساتھ یکم جولائی تک لاک ڈاؤن میں توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

چیف سیکریٹری ایچ دویدی نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی موجودگی میں لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کورونا وائرس کنٹرول میں ہے مگر خطرہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ اس لئے کچھ نرمیوں کے ساتھ لاک ڈاؤن نافذ رہے گی۔

بنگال حکومت کے اعلان کے مطابق لوکل ٹرین، میٹرو ٹرین، سرکاری اور پرائیوٹ بسیں نہیں چلیں گی۔ نئے رہنما خطوط کے مطابق سرکاری اور پرائیوٹ دفاتر 25 فیصد حاضری کے ساتھ کھلیں گے۔خوردہ مارکیٹ صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک کھلیں رہیں گے۔ شاپنگ مال دوپہر 12 بجے سے شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے۔ دیگر تمام دکانیں دوپہر 12 بجے سے شام 6 بجے تک کھلی رہیں گی۔ پچاس فیصد سیٹوں کے ساتھ ریسٹورنٹ کھولنے کی اجازت ہوگی۔

اسے بھی پڑھیں:

دارالحکومت دہلی میں اَن لاک کا عمل پیر سے شروع 

عالمی بینک جموں و کشمیر میں ہیلتھ انفراسٹرکچر کے استحکام کے لئے 50 ملین ڈالر دے گا

0
عالمی بینک جموں و کشمیر میں ہیلتھ انفراسٹرکچر کے استحکام کے لئے 50 ملین ڈالر دے گا
عالمی بینک جموں و کشمیر میں ہیلتھ انفراسٹرکچر کے استحکام کے لئے 50 ملین ڈالر دے گا

عالمی بینک نے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کو 50 ملین امریکی ڈالر بطور امداد فراہم کرنے کو منظوری دی ہے۔ 

جموں: عالمی بینک نے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کو صحت کے بنیادی ڈھانچے کے استحکام کے لئے 50 ملین امریکی ڈالر بطور امداد فراہم کرنے کو منظوری دی ہے۔

یونین ٹریٹری کے فائنانشل کمشنر برائے ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اتل ڈلو نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں موجودہ ہیلتھ کیئر اداروں کے استحکام کے لئے عالمی بینک کی طرف رجوع کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا: ’عالمی بینک نے 50 ملین امریکی ڈالرز (367 کروڑ 49 لاکھ روپے) بطور امداد فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے’۔

ان کا کہنا تھا: ‘اس امداد کو بڑے ہسپتالوں بشمول میڈیکل کالجوں میں سی ٹی اسکین مشینوں، کلر ڈوپلرس، آئی سی یو یونٹس، آپریشن تھیٹرز و دیگر لیبارٹریوں کے استحکام اور ضلع ہسپتالوں میں بھی ضروری مشینوں جیسے ای سی جی مشینوں، ایکس رے مشینوں وغیرہ کے نظام کو مضبوط کرنے کے لئے منظور کیا گیا ہے’۔

مسٹر ڈلو نے کہا کہ پرائم منسٹرس ڈیولوپمنٹ پیکیج (پی ایم ڈی پی) اسکیم کے تحت جموں و کشمیر کے شعبہ صحت کو 881 کروڑ 17 لاکھ روپے واگذار کئے گئے جس میں سے اب تک 754 کروڑ 13 لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔

140 نئے صحت پروجیکٹس زیر دست، 91 پروجیکٹس مکمل

انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت 140 نئے صحت پروجیکٹس زیر دست لئے گئے جن میں سے 91 پروجیکٹس مکمل ہو چکے ہیں جبکہ دیگر 49 پر کام چل رہا ہے اور وہ رواں مالی سال کے دوران مکمل ہونے کا امکان ہے۔

موصوف کمشنر نے کہا کہ ان پروجیکٹس میں سری نگر میں تعمیر ہو رہا پانچ سو بستروں پر مشتمل نیا بچہ ہسپتال، جموں میں تعمیر ہو رہا دو سو بستروں پر مشتمل نیا زچگی ہسپتال، جموں میں ہی تعمیر ہونے والا نیا ہڈیوں کا ہسپتال، گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں ایک سو بستروں پر مشتمل اضافی ایمرجنسی بلاک، جموں میں بائز اینڈ گرلز ہوسٹل کی تعمیر، گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر میں نرسنگ کالج کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں’۔

مسٹر ڈلو نے کہا کہ ‘ہیلتھ کیئر انوسٹمنٹ پالیسی’ کے تحت معیاری ہیلتھ کیئر ڈھانچہ قائم کرنے کے لئے اس سیکٹر میں نجی سرمایہ کاروں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو اپنی دہلیز پر ہی بہتر سے بہتر ہیلتھ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں سرکار کو کچھ منصوبے حاصل ہوئے ہیں جنہیں دیکھا جا رہا ہے اور اس کے علاوہ جموں و کشمیر صنعتی پالیسی کے تحت صنعتوں کے لئے دستیاب مراعات کو ہیلتھ سیکٹر پروجیکٹس پر صرف کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘آیوش کیئر انوسٹمنٹ پالیسی’ کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ نجی شراکت داروں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

مسٹر ڈلو نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران ڈاکٹروں اور دیگر نیم طبی عملے کی 2558 اضافی اسامیوں کو پر کیا گیا تاکہ ہسپتالوں میں عملے کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے یونین ٹریٹری میں دو سٹیٹ کینسر اداروں، ایک گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں اور دوسرا شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈٰکل سائنسز صورہ سری نگر میں، کو منظوری دی۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر انفراسٹرکچر ڈیولوپمنٹ فائنانس کارپوریشن لمیٹڈ کے تحت یونین ٹریٹری میں 138 ہیلتھ پروجیکٹس جو فنڈس کی عدم دستیابی کی وجہ سے التوا میں پڑے تھے، کے لئے 589 کروڑ 94 لاکھ روپیے واگذار کرنے کو منظوری دی ہے اور ان میں سے دو سو کروڑ روپے مشینری خریدنے پر صرف کئے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان 138 ہیلتھ پروجیکٹس میں سے 30 پروجیکٹس مکمل ہوئے ہیں۔