جمعہ, مارچ 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 340

ایک اور انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے ممتا بنرجی کا 30 جون سے طلبا کو کریڈٹ کارڈ دینے کا اعلان

0
ایک اور انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے ممتا بنرجی کا 30 جون سے طلبا کو کریڈٹ کارڈ دینے کا اعلان
ایک اور انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے ممتا بنرجی کا 30 جون سے طلبا کو کریڈٹ کارڈ دینے کا اعلان

مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے ایک اور انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بنگال میں 30 جون سے طلبا کو کریڈٹ کارڈ جاری کئے جائیں گے اور اس کے لئے آن لائن درخواست دئے جاسکتے ہیں۔

کلکتہ: مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے ایک اور انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بنگال میں 30 جون سے طلبا کو کریڈٹ کارڈ جاری کئے جائیں گے اور اس کے لئے آن لائن درخواست دئے جاسکتے ہیں۔ ممتا بنرجی نے بنگال اسمبلی انتخابات میں ’’اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ متعارف‘‘ کرانے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی وجہ سے پسماندگی کے شکار طلبا کے لئے اعلیٰ تعلیم کے حصول کی راہ ہموار ہوگی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا کہ کریڈٹ کارڈ دسویں جماعت سے پوسٹ گریجویشن تک کے طلبا کے لئے دستیاب ہوں گے۔ اس قرض کے لئے انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، ڈپلوما، میڈیکل اور ریسرچ شعبے میں بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ قرض حاصل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ عمر 40 سال ہی ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ صرف وہ طلبا جو ریاست کے رہائشی ہیں یا 10 سال کی مدت سے زائد عرصے سے بنگال میں مقیم رہے ہیں وہ قرض حاصل کرسکتے ہیں۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ قرض 15 سال کے لئے ہوگا۔ اس مدت کے درمیان قرض واپس کرنا ہوگا۔طلباء کو قرضوں کے حصول میں کسی ضامن کی ضرورت نہیں ہوگی۔ حکومت ضامن ہوگی۔ طلباء بینک قرض کو نوکری ملنے کے ایک سال بعد اس رقم کی ادائیگی شروع کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قرض لینے کے 15 سال بعد نرم قرض کی طرح قرض واپس کرنا ہوگا۔

وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’کرشک بندھو منصوبے‘‘ کا انتخابات کے دوران جو وعدے کیا تھا اس کے تحت ہزاروں کروڑوں روپے پہلے ہی تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد، انہوں نے کریڈٹ کارڈ کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے طلبا کے تعاون کے لئے بہت سے منصوبے پہلے سے شروع کر رکھے ہیں۔ جس میں ’کنیاشری‘، ’سوامی ویویکانند میرٹ‘، سکھاشری وغیرہ مختلف منصوبے ہیں۔ ان کے مطابق اس مرتبہ طلباء کا کریڈٹ کارڈ متعارف کرایا جارہا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ طلبا ہمارے لئے فخر ہیں، ان کی تعلیم اور ان کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں ایم اے اردو کورس کا آغاز کل سے

0
اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں ایم اے اردو کورس کا آغاز کل سے
اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں ایم اے اردو کورس کا آغاز کل سے

اگنو کا شمار دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ 25 جون 2021 اگنو کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا اسی دن اگنو میں ایم اے اردو کورس کا آغاز ہو رہا ہے۔  یہ اگنو کے لئے بھی اور عاشقان اردو کے لئے بھی ایک تاریخی دن ہے۔

نئی دہلی: اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کو عرف عام میں اگنو کے نام سے جانتے ہیں اگنو کا شمار دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ 25 جون 2021 اگنو کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا اسی دن اگنو میں ایم اے اردو کورس کا آغاز ہو رہا ہے۔  یہ اگنو کے لئے بھی اور عاشقان اردو کے لئے بھی ایک تاریخی دن ہے۔

اگنو کے وائس چانسلر پروفیسر ناگیشور راؤ اور اسکول آف ہیومنٹیز کی ڈائریکٹر پروفیسر مالتی ماتھر کی خصوصی کوششوں سے ایم اے اردو کورس کا آغاز ممکن ہو سکا ہے۔ 25 جون کو صبح ساڑھے دس بجے وائس چانسلر پروفیسر ناگیشور راؤ کی صدارت میں افتتاحی پروگرام کا آغاز ہوگا۔ ملک بھر کے عاشقان اردو اور شائقین اردو اگنو کے فیس بک پیج پر اس پروگرام کو لائیو دیکھ سکیں گے۔ یہ جانکاری یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں دی گئی۔

ریلیز کے مطابق ہندوستان کی تین اہم علمی شخصیات کو اس افتتاحی سیشن میں مہمان خصوصی بنایا گیا ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد میاں، کشمیر یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی موجودہ وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر اس آن لائن افتتاحی اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوں گے۔ اسکول آف ہیومنٹیز کی بے حد فعال اور متحرک ڈائریکٹر پروفیسر مالتی ماتھر کے استقبالیہ کلمات سے اس پروگرام کا آغاز ہوگا۔ اردو کنسلٹنٹ ڈاکٹر قدسیہ نصیر اس آن لائن افتتاحی سیشن کی نظامت کریں گی اور دوسرے کنسلٹنٹ ڈاکٹر عبد الحفیظ اظہار تشکر فرمائیں گے۔

فاصلاتی نظام تعلیم سے ایم اے اردو کرنے کے خواہشمند افراد کے لئے ایک نادر موقع

ایم اے اردو کا یہ دو سالہ کورس کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ چار سال میں مکمل کیا جا سکے گا۔ جولائی اور جنوری دونوں سیشن میں آن لائن داخلہ کی سہولت ہے۔ فاصلاتی نظام تعلیم سے ایم اے اردو کرنے کے خواہشمند افراد کے لئے یہ ایک نادر موقعہ ہے۔

اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں تعلیمی پروگراموں کے لیے مختلف ذرائع ترسیل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں سے مستقل طور پر اردو کے پروگرام بھی نشر کئے جاتے ہیں۔ اردو کے (Audio Visual) پروگرام بنانے کے لئے اردو داں افراد کا تقرر کیا گیا ہے۔ ایسے افراد جو الکٹرانک میڈیا میں مہارت رکھتے ہوں اور اردو زبان و ادب سے واقف ہوں۔ یہاں سے لائیو (Live) ریڈیو پروگرام بھی نشر کیا جاتا رہا ہے۔ زیادہ تر یونیورسٹی اور کالج سے اردو کے اساتذہ کی خدمات لی جاتی ہیں۔ گیان درشن کے لئے مختلف موضوعات پر سیکڑوں پروگرام بنائے گئے ہیں۔

اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کے 21 اسکولوں میں ایک اسکول، اسکول آف ہیومینیٹیز (انسانی علوم کا اسکول) بھی ہے۔ اسکول میں پڑھائی جانے والی زبانیں انگریزی، ہندی، اردو اور سنسکرت، پنجابی کے علاوہ گیارہ جدید ہندوستانی زبانیں بھی ہیں۔

اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں نظام یہ ہے کورس میٹیریل تیار کرنے کے لیے باہر کے با صلاحیت افراد کی خدمات لی جاتی ہیں۔ اس کے لیے ملک کی مختلف یونیورسٹیز اور کالج کے اساتذہ سے رابطہ قائم کیا جاتا ہے۔ اگنو کی انتظامیہ اس کے لیے ایک پینل تیار کرتی ہے۔ اس پینل میں کچھ منتخب نام رکھے جاتے ہیں۔ جن کی خدمات وقتاً فوقتاً تدریسی مواد تیار کرنے کے لیے لی جاتی ہیں۔

ملک کے نامور یونیورسٹیز اور کالجز کے اساتذہ سے لی گئی خدمات

موجودہ وقت میں دہلی سے جامعیہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے علاوہ ذاکر حسین کالج اور دیگر کالجز کے ان خواتین و حضرات کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو درس و تدریس سے وابسطہ ہیں۔

اس کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، حیدرآباد یونیورسٹی، بہار سینٹرل یونیورسٹی، کولکاتہ یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، جموں یونیورسٹی، کاشمیر یونیورسٹی، حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی، مولانا آزاد نیشنل اوپن یو نیورسٹی کے اساتذہ سے بھی رابطہ قائم کیا گیا۔ ان کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔ تاکہ بی اے اور ایم اے کی سطح پر ایک اچھا نصاب تیار ہو سکے اور جو نصاب پہلے سے تیار ہے، ان میں جو غلطیاں رہ گئی ہیں یا ان میں کسی طرح کے ترمیم و اضافے کی جو گنجائش ہے اور پینل کے ایکسپرٹس نے جن کی طرف نشاندہی کی ہے اس کو دور کیا جا سکے۔

جن خواتین و حضرات سے ہم کورس میٹیریل تیار کرنے کے لیے خدمات حاصل کرتے ہیں ہم ان سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ان سے بار بار گزارش کرتے رہتے ہیں کہ وہ ہمارے فارمیٹ کے مطابق ہی اسباق لکھیں۔ اردو کی تعلیم اگنو میں جاری و ساری رہے اور ملک کے طول و عرض میں طالب علم اگنو کے ذریعے اردو کی تعلیم حاصل کر سکیں اس کے لیے اگنو انتظامیہ مثبت انداز فکر کے ساتھ تعاون کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔

اگنو کے قیام کے بعد ہی اس بات کی ضرورت محسوس کی جانے لگی تھی کہ اس فاصلاتی نظامِ تعلیم کے تحت اردو زبان و ادب کی بھی تعلیم کا معقول انتظام ہونا چاہیے۔ وقتََا فوقتََا اس کے لیے مانگ بھی اٹھتی رہی۔ بالآخر 2009 میں اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔

تجزيہ کے منصوبہ کا نوٹیفکیشن 10 دنوں کے اندر جاری کرنے کی سپریم کورٹ کی ہدایت

0
تجزيہ کے منصوبہ کا نوٹیفکیشن 10 دنوں کے اندر جاری کرنے کی سپریم کورٹ کی ہدایت
تجزيہ کے منصوبہ کا نوٹیفکیشن 10 دنوں کے اندر جاری کرنے کی سپریم کورٹ کی ہدایت

سپریم کورٹ نے تمام ریاستی بورڈوں کو اپنے بارہویں درجے کے منسوخ امتحانات کے نتائج کے لئے تجزيہ کے منصوبہ کا نوٹیفکیشن 10 دنوں کے اندر جاری کرنے کی ہدایت دی۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز تمام ریاستی بورڈوں کو اپنے بارہویں درجے کے منسوخ امتحانات کے نتائج کے لئے تجزيہ کے منصوبہ کا نوٹیفکیشن 10 دنوں کے اندر جاری کرنے کی ہدایت دی۔

جسٹس اے ایم خانویلکر اور جسٹس دنیش مہیشوری کی تعطیلی ڈویژن بنچ نے تمام ریاستی بورڈوں کو ہدایت دی کہ وہ داخلی تجزیے کی بنیاد پر 31 جولائی تک نتائج جاری کریں۔

ڈویژن بنچ نے کہا کہ یہ حکم تمام ریاستی بورڈوں کے لئے یکساں ہے۔ عدالت نے کہا کہ تمام ریاستی بورڈ اپنے منصوبے کو آج سے دس دنوں کے اندر عام کریں۔ ان بورڈوں کو سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای کو دی گئی مدت کے مطابق 31 جولائی تک داخلی تجزیے کے ذریعے امتحانات کے نتائج جاری کرنے ہوں گے۔

عدالت نے کہا کہ وہ یکساں اسکیم کے لئے کوئی رہنما اصول جاری نہیں کررہی ہے، کیونکہ تمام ریاستی بورڈوں کے لئے یکساں تجزيے کی اسکیم ممکن نہیں ہے۔

دریں اثناء، عدالت نے حکومت آندھرا پردیش کے امتحانات کے انعقاد کے فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔

امریکہ کا فائزر ۔ موڈرنا کورونا ویکسین لینے والوں کو دل سے متعلق علامات پر نگاہ رکھنے کا انتباہ

0
امریکہ کا فائزر ۔ موڈرنا کورونا ویکسین لینے والوں کو دل سے متعلق علامات پر نگاہ رکھنے کا انتباہ
امریکہ کا فائزر ۔ موڈرنا کورونا ویکسین لینے والوں کو دل سے متعلق علامات پر نگاہ رکھنے کا انتباہ

امریکی حکومت نے فائزر ۔ موڈرنا کورونا ویکسین لینے والے تمام لوگوں کو اپنے دل کی علامات کی نگرانی کرنے کے لئے انتباہ جاری کیا ہے۔

واشنگٹن: امریکی حکومت نے فائزر یا موڈرنا کی کورونا ویکسین لگوانے والے چند افراد میں دل بڑھنے کی شکایت ملنے کے بعد ان کمپنیوں کی ویکسین لینے والے سبھی لوگوں سے دل سے متعلق علامات پر نگاہ رکھنے کے لئے انتباہ جاری کیا ہے۔

امراض کنٹرول اور روک تھام کے مراکز نے بدھ کے روز ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ کووڈ ۔ 19 ٹیکہ کاری کے معلوم اور ممکنہ فوائد مایوکارڈیٹس یا پیریکارڈیٹس (بڑھا ہوا دل) کا خطرہ سمیت تمام معلوم اور ممکنہ خطرات سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ مایوکارڈیٹس اور پیریکارڈیٹس کے بیشتر مریضوں نے علاج اور آرام کے بعد بہتر محسوس کیا۔

حالانکہ ریلیز میں ویکسین لینے والوں سے سینے میں درد، سانس لینے میں تکلیف، تیز دھڑکن، گھبراہٹ جیسی علامات میں سے کوئی بھی نظر آنے پر طبی مشورہ لینے کو کہا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن دونوں ویکسینوں کے ساتھ مل کر یکساں طور پر الرٹ کرنے کی امید کر رہا ہے۔

ایتھوپیا: ووٹوں کی گنتی کے دوران بازار پر فضائی بمباری، 80 افراد ہلاک، 43 زخمی

0
ایتھوپیا: ووٹوں کی گنتی کے دوران بازار پر فضائی بمباری، 80 افراد ہلاک، 43 زخمی
ایتھوپیا: ووٹوں کی گنتی کے دوران بازار پر فضائی بمباری، 80 افراد ہلاک، 43 زخمی

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایتھوپیا کے علاقے تیگرائے میں انتخابی عمل کے دوران جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک بڑے اور مصروف بازار پر فضائی بمباری بھی کی گئی تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا بمباری کس نے کی۔

تیگرائے/ جنیوا: شورش زدہ ایتھوپیا میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے تاہم اس دوران ایک مصروف بازار میں فضائی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 80 افراد ہلاک اور 43 زخمی ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایتھوپیا کے علاقے تیگرائے میں انتخابی عمل کے دوران جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک بڑے اور مصروف بازار پر فضائی بمباری بھی کی گئی تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا بمباری کس نے کی۔

اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ فضائی بمباری میں 80 افراد ہلاک اور 43 زخمی ہوگئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔

مقامی اسپتال کے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک 30 لاشیں لائی گئی ہیں۔ جب کہ جائے وقوعہ پر درجن سے زائد ایمبولینسیں ہلاک اور زخمی افراد کو اسپتال لانے کے لئے انتظامیہ دہشت گرد گروپ سے مذاکرات میں مصروف ہے۔

دو گروہ کے درمیان جنگ

اقوام متحدہ کے حکام نے بھی نام نہ بتانے کی شرط پر عالمی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ دو گروہ کے درمیان جنگ جاری ہے اور حملے کی جگہ تک ریڈ کراس کی ایمبولینسوں کو رسائی نہیں دی جارہی ہے۔

جنگ زدہ اور غربت کے شکار ایتھوپیا میں کئی مسلح گروہ آپس میں دست و گریبان ہیں۔ تاہم موجودہ وزیر اعظم نے مختلف قبائل اور حریف ممالک کے درمیان صلح کروا کے امن بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس پر انہیں نوبل انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔

تاہم تیگرائے میں گزشتہ برس وزیراعظم کی ہدایت پر شدت پسند دہشت گردوں سے چھیڑی گئی جنگ میں ہزاروں افراد مارے گئے اور 20 لاکھ سے زائد شہری بے گھر ہوگئے جن میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ اس صورت حال پر وزیراعظم ابی احمد کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ سیاسی بحران اور امن عامہ کی مخدوش صورت حال کا سامنا کرنے والے افریقی ملک ایتھوپیا میں گزشتہ روز ہی ایک سال کی تاخیر سے الیکشن کا انعقاد ہوا ہے اور ووٹ گننے کا عمل جاری ہے۔

اسرائیل میں یکم اگست تک غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی

0
اسرائیل میں یکم اگست تک غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی
اسرائیل میں یکم اگست تک غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی

سیاحت کے مقصد سے اسرائیل آنے والے غیر ملکی شہریوں کے داخلے کی تاریخ یکم جولائی سے یکم اگست تک توسیع کرتے ہوئے ملتوی کردی گئی ہے۔

تل ابیب: اسرائیل کی مخلوط حکومت نے کورونا وائرس کے مزید متعدی ڈیلٹا فارم کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی سرحد کھولنے کے منصوبوں کو ایک ماہ میں یکم اگست تک بڑھا دیا ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر نے بدھ کے روز کہا ’’سیاحت کے مقصد سے اسرائیل آنے والے غیر ملکی شہریوں کے داخلے کی تاریخ یکم جولائی سے یکم اگست تک توسیع کرتے ہوئے ملتوی کردی گئی ہے‘‘۔

خیال رہے کم خطرہ والے ممالک کے سیاحوں کے گروپوں کو مئی کے آخر سے اسرائیل جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

اسرائیل نے جون کے اوائل میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے کا اعلان کرتے ہوئے گھر کے اندر ماسک پہننے کی لازمیت کو ختم کردیا تھا۔

اس ہفتے ملک کے کچھ حصوں میں ایک بار پھر سخت پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے بدھ کے روز کابینہ کی میٹنگ میں کہا کہ اگر کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوتا رہا تو ماسک پہننا ہر وقت دوبارہ لازمی کردیا جائے گا۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھڑکتی ہوئی آگ: دونوں ایندھنوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

0
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھڑکتی ہوئی آگ: دونوں ایندھنوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھڑکتی ہوئی آگ: دونوں ایندھنوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک دن کے وقفے کے بعد جمعرات کے روز ایک نئے ریکارڈ پر پہنچ گئیں۔ دہلی میں پٹرول کی قیمت 26 پیسے کے اضافے کے ساتھ 97.76 روپے اور ڈیزل کی قیمت 7 پیسے اضافے کے سے 88.30 روپے فی لیٹر ہوگئی۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک دن کے وقفے کے بعد جمعرات کے روز ایک نئے ریکارڈ پر پہنچ گئیں۔

ملک کے چار بڑے میٹرو میں پٹرول 26 پیسے اور ڈیزل 7 پیسے مہنگا ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی ممبئی میں پیٹرول 104 روپے فی لیٹر اور چنئی میں 99 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ گیا ہے۔

ملک کی سرخیل آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول کی قیمت 26 پیسے کے اضافے کے ساتھ 97.76 روپے اور ڈیزل کی قیمت 7 پیسے اضافے کے سے 88.30 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ جون میں اب تک دہلی میں پٹرول کی قیمت میں 3.53 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 3.15 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ اس سے قبل مئی میں پٹرول 3.83 روپے اور ڈیزل 4.42 روپے مہنگا ہوا تھا۔

ممبئی میں بھی پٹرول 26 پیسے اور ڈیزل سات پیسے مہنگا ہوگیا۔ آج سے یہاں ایک لیٹر پٹرول 103.89 روپے اورایک لیٹرڈیزل 95.79 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

چنئی میں پٹرول 23 پیسے مہنگا ہوکر 98.88 روپے اور ڈیزل چھ پیسے کے اضافے سے 92.89 روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔ کولکتہ میں پٹرول کی قیمت میں 25 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں سات پیسے کا اضافہ کیا گیا۔ وہاں پٹرول 97.63 روپے اور ڈیزل 91.15 روپے فی لیٹر ہوگیا۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر روزانہ صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں پر عمل درآمد ہوتا ہے۔

آج ملک کے چار میٹرو میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کچھ اس طرح ہیں:

شہر کا نام —— پٹرول روپے / لیٹر —— ڈیزل روپے / لیٹر

دہلی ————— 97.76 —————— 88.30
ممبئی ۔————— 103.89 —————— 95.79
چنئی —————- 98.88 -—————- 92.89
کولکاتا ———— 97.63 —————— 91.15

یوپی اسمبلی انتخابات: بہوجن سماج پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کے درمیان اتحاد کے امکانات

0
یوپی اسمبلی انتخابات: بہوجن سماج پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کے درمیان اتحاد کے امکانات
یوپی اسمبلی انتخابات: بہوجن سماج پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کے درمیان اتحاد کے امکانات

آئندہ سال ہونے والے یوپی اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تمام سیاسی پارٹیوں نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اسی کڑی کے تحت بی ایس پی، ایس بی ایسی پی اور اے آئی ایم آئی ایم کے درمیان اتحاد کی چہ می گوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔

لکھنو: اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تمام سیاسی پارٹیوں نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ یوپی اسمبلی انتخابات کے تحت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)، سابق کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر کی قیادت والی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایسی پی) اور حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے درمیان اتحاد کی چہ می گوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔

مصدقہ ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق یہ تینوں پارٹیاں آئندہ انتخابات کے لئے ’بھاگیدار سنکلپ مورچہ‘ کے بینر کے تلے اکٹھا یوسکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان تینوں پارٹیوں کے اشتراک سے بننے والے ’بھاگیداری سنکلپ مورچہ‘ میں دیگر چھ۔وٹی پارٹیوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایس بی ایس پی کے سربراہ راج بھر کے مطابق و دیگر متعدد پارٹیوں بشمول آل انڈیا ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی وغیرہ کو ملا کر بی جے پی کے خلاف ایک موثر فرنٹ تیار کرنے کی کوشش میں ہیں۔

مایاوتی اور اسد الدین اویسی کے درمیان کئی مرحلوں میں بات چیت

ذرائع کے مطابق بی ایس پی سپریمو مایاوتی و اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسد الدین اویسی کے درمیان کئی مرحلوں میں بات چیت ہوچکی ہے۔ اسدالدین اویسی اگلے ماہ لکھنو آکر اتحاد کو کوئی حتمی شکل دے سکتے ہیں۔

یوپی میں سال 2017 کے انتخابات میں ایس بی ایس پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے 8 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے۔ جس میں اس کے 4 امیدواروں کو کامیابی ملی تھی جس کے بعد راج بھر کو یوپی کابینی وزیر بنایا گیا تھا۔ لیکن سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے عین قبل وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے انہیں اپنی کابینہ سے ہٹا دیا تھا۔

مشرقی یوپی میں اپنی زمین مضبوط کرنے کے لئے ایس بی ایس پی نے اسی سال جنوری میں ایم آئی ایم سے اتحاد کا اعلان کیا تھا اور ایم آئی ایم صدر و رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے راج بھر کے ساتھ اعظم گڑھ، جونپور اور پوروانچل کا دورہ کیا تھا۔

مسٹر اویسی نے یوپی میں سال 2022 کے اسمبلی انتخابات میں اپنی پارٹی کے لئے زمین ہموار کرنے کے مقصد سے مزید آٹھ پارٹیوں سے بھی ہاتھ ملایا ہے۔ جن میں کرشنا پٹیل کی اپنا دل، جن ادھیکاری پارٹی اور چندر شیکھر راون آزاد کی سماج پارٹی قابل ذکر ہیں۔ جو بظاہر مسلم، پسماندہ اور دلتوں کی کہکشاں بنتی دکھائی دیتی ہے۔

ان پارٹیوں کے ذریعہ قائم اتحاد سے اپنا دل کنارہ کشی اختیار کرنے کے درپے

ذرائع سے موصول اطلاع کے بعد ان پارٹیوں کے ذریعہ قائم اتحاد سے اپنا دل کنارہ کشی اختیار کرنے والی ہے اور خبروں کے مطابق بی جے پی سے اس کی ڈیل مثبت راستے پر ہے۔ امکانات ہیں کہ پارٹی کے صدر کرشنا پٹیل کو یوپی قانون ساز کونسل کا رکن بنادیا جائے۔

گذشتہ سال ماہ اکتوبر میں بہار اسمبلی کے منعقد ہونے والے انتخابات میں مسلمی اکثریتی علاقوں میں ایم آئی ایم کی خاطر خواہ کامیابی نے ایم آئی ایم کے حوصلے بلند کردئیے ہیں۔ اب وہ یوپی میں پوری طاقت سے انتخابی میدان تیار کرنے میں مصروف عمل ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم آئی ایم، بی ایس پی اور ایس بی ایس پی کے اشتراک سے ممکنہ بھاگیہ دار مورچہ اعظم گڑھ اور اس سے ملحقہ اضلاع میں مین اپوزیشن سماج وادی پارٹی (ایس پی) کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے بارے میں بھی عام خیال ہے کہ ملسم اور پسماندہ اور مسلم آبادی ہی اس کا اصل ووٹ بینک ہے جس میں بھاگیہ دار مورچہ سیندھ ماری کرسکتا ہے۔

نام نہ شائع کرنے کی شرط پر ایس پی ایم ایل اے نے بتایا کہ بی ایس پی کے پاس 20 فیصدی ووٹ بینک ہے اور اب اس میں اچانک اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ نیا اتحاد بی جے پی مخالف ووٹوں میں تفریق اور ایس پی کے امیدوں پر پانی پھیر سکتا ہے۔

مغربی بنگال جوائنٹ انٹرننس امتحان 18 جولائی کو منعقد ہونے کا امکان

0
مغربی بنگال جوائنٹ انٹرننس امتحان 18 جولائی کو منعقد ہونے کا امکان
مغربی بنگال جوائنٹ انٹرننس امتحان 18 جولائی کو منعقد ہونے کا امکان

مغربی بنگال جوائنٹ انٹرننس امتحان کے انعقاد کو لے کر قیاس آرائیوں کے درمیان ریاستی جوائنٹ انٹرننس ایگزام بورڈ نے واضح کردیا ہے کہ ایک ہفتے کی تاخیر سے امتحان کا انعقاد ہوگا۔

کلکتہ: مغربی بنگال میں مدھیامک اور ہائر سیکنڈری امتحات کے ملتوی ہونے کے بعد سے ہی مغربی بنگال جوائنٹ انٹرننس امتحان کے انعقاد کو لے کر قیاس آرائی کی جارہی تھی۔ تاہم ریاستی جوائنٹ انٹرننس ایگزام بورڈ نے واضح کردیا ہے کہ ایک ہفتے کی تاخیر سے امتحان کا انعقاد ہوگا۔

ریاستی جوائنٹ انٹرننس بورڈ کے ذرائع نے آج بتایا کہ مشترکہ داخلہ امتحان (جے ای ای مین 2021) رواں سال میں ہی منعقد ہوگا۔ تاہم، ٹسٹ 11 جولائی کے بجائے 18 جولائی کو ہوگا۔ اس سال یہ مشترکہ (جوائنٹ انٹری امتحان 2021) پہلے آف لائن امتحان ہونے جا رہا ہے۔ یعنی طلباء کو گھر بیٹھے نہیں، ٹسٹ سنٹر جاکر ٹسٹ دینا پڑے گا۔

بورڈ ذرائع کے مطابق امیدواروں کے گھروں کے قریب ہی سنٹر دیا جائے گا۔ یہ ٹسٹ کل 264 مراکز میں ہوں گے۔ مشترکہ ٹسٹ کا نتیجہ 14 اگست تک سامنے آجائیں گے۔ داخلہ کا عمل 15 ستمبر تک مکمل ہوجائے گا۔ بورڈ نے کہا کہ اس سال نہ صرف مشترکہ داخلہ بلکہ کل 11 مزید امتحانات لئے جائیں گے۔

اس ضمن میں ریاستی جوائنٹ انٹرننس بورڈ کی جانب سے ریاستی حکومت سے رابطہ کیا گیا تھا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ٹسٹ منسوخ کرنا کسی بھی طرح ممکن نہیں تھا۔ کیونکہ یہ ایک داخلہ امتحان ہے۔ اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والوں کو مختلف انجینئرنگ، فارمیسی قومی کورس میں داخلہ لینے کا موقع ملتا ہے۔

برکینا فاسو میں دہشت گردانہ حملے میں 11 پولیس افسران ہلاک

0
برکینا فاسو میں دہشت گردانہ حملے میں 11 پولیس افسران ہلاک
برکینا فاسو میں دہشت گردانہ حملے میں 11 پولیس افسران ہلاک

برکینا فاسو میں ایک دہشت گردانہ حملے میں 11 پولیس افسران ہلاک ہوگئے۔ قبل ازیں 6 جون کو بھی برکینا فاسو میں بدترین حملے میں 132 افراد ہلاک ہوگئے تھے جہاں نائیجر کی سرحد سے ملحق صوبے یاگا کے گاؤں سولہان میں دہشت گردوں نے دھاوا بول دیا تھا۔

اوگاڈگوا: تشدد زدہ مشرقی افریقی ملک برکینا فاسو میں ایک دہشت گردانہ حملے میں 11 پولیس افسران ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مقامی ذرائع نے حملے کی تصدیق کی لیکن تفصیل سے آگاہ نہیں کیا۔ برکینا فاسو کی حکومت کی جانب سے بھی اس حوالے سے باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم مقامی ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں نے رات گئے پولیس پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں 11 افسران مارے گئے۔

قبل ازیں 6 جون کو بھی برکینا فاسو میں بدترین حملے میں 132 افراد ہلاک ہوگئے تھے جہاں نائیجر کی سرحد سے ملحق صوبے یاگا کے گاؤں سولہان میں دہشت گردوں نے دھاوا بول دیا تھا۔
سرکاری بیان میں کہا گیا تھا کہ دہشت گردوں نے گھروں اور مارکیٹوں کو نذر آتش کیا۔ حکومت نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا اور حملہ آوروں کو دہشت گرد قرار دیا تھا جبکہ کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری تسلیم نہیں کی تھی۔حکومت کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ حملے میں 40 افراد زخمی بھی ہوئے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی ایک بیان میں حملے کی مذمت کی تھی جہاں 7 بچے بھی جاں بحق ہوئے۔رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی امن فوج کی موجودگی کے باوجود جنوبی افریقی خطے ساحل میں القاعدہ اور داعش سے منسلک گروپس کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جہاں شہری بھی بڑی تعداد میں نشانہ بنے ہیں۔

برکینا فاسو میں جاری خانہ جنگی کے دوران اب تک صرف دو سال میں 11 لاکھ 14 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ مالی سے آئے ہوئے 20 ہزار سے زائد مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ جنوبی افریقہ کے ڈائریکٹر کورین ڈوفکا کے مطابق تازہ حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے نتیجیمیں جنوری سے اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 500 سے زائد ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں برس یہ سلسلہ دیکھا گیا ہے کہ دہشت گرد گاؤں میں آکر سول اختیارات ہاتھ میں لیتے ہیں اور گاؤں والوں کو سزائیں دیتے ہیں۔

رواں برس مارچ میں ہمسایہ ملک نائیجر کے جنوب مغربی گاؤں میں دہشت گردوں نے 137 افراد کو نشانہ بنایا تھا۔