بدھ, مئی 13, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 341

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھڑکتی ہوئی آگ: دونوں ایندھنوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

0
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھڑکتی ہوئی آگ: دونوں ایندھنوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھڑکتی ہوئی آگ: دونوں ایندھنوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک دن کے وقفے کے بعد جمعرات کے روز ایک نئے ریکارڈ پر پہنچ گئیں۔ دہلی میں پٹرول کی قیمت 26 پیسے کے اضافے کے ساتھ 97.76 روپے اور ڈیزل کی قیمت 7 پیسے اضافے کے سے 88.30 روپے فی لیٹر ہوگئی۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک دن کے وقفے کے بعد جمعرات کے روز ایک نئے ریکارڈ پر پہنچ گئیں۔

ملک کے چار بڑے میٹرو میں پٹرول 26 پیسے اور ڈیزل 7 پیسے مہنگا ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی ممبئی میں پیٹرول 104 روپے فی لیٹر اور چنئی میں 99 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ گیا ہے۔

ملک کی سرخیل آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول کی قیمت 26 پیسے کے اضافے کے ساتھ 97.76 روپے اور ڈیزل کی قیمت 7 پیسے اضافے کے سے 88.30 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ جون میں اب تک دہلی میں پٹرول کی قیمت میں 3.53 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 3.15 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ اس سے قبل مئی میں پٹرول 3.83 روپے اور ڈیزل 4.42 روپے مہنگا ہوا تھا۔

ممبئی میں بھی پٹرول 26 پیسے اور ڈیزل سات پیسے مہنگا ہوگیا۔ آج سے یہاں ایک لیٹر پٹرول 103.89 روپے اورایک لیٹرڈیزل 95.79 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

چنئی میں پٹرول 23 پیسے مہنگا ہوکر 98.88 روپے اور ڈیزل چھ پیسے کے اضافے سے 92.89 روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔ کولکتہ میں پٹرول کی قیمت میں 25 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں سات پیسے کا اضافہ کیا گیا۔ وہاں پٹرول 97.63 روپے اور ڈیزل 91.15 روپے فی لیٹر ہوگیا۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر روزانہ صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں پر عمل درآمد ہوتا ہے۔

آج ملک کے چار میٹرو میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کچھ اس طرح ہیں:

شہر کا نام —— پٹرول روپے / لیٹر —— ڈیزل روپے / لیٹر

دہلی ————— 97.76 —————— 88.30
ممبئی ۔————— 103.89 —————— 95.79
چنئی —————- 98.88 -—————- 92.89
کولکاتا ———— 97.63 —————— 91.15

یوپی اسمبلی انتخابات: بہوجن سماج پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کے درمیان اتحاد کے امکانات

0
یوپی اسمبلی انتخابات: بہوجن سماج پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کے درمیان اتحاد کے امکانات
یوپی اسمبلی انتخابات: بہوجن سماج پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کے درمیان اتحاد کے امکانات

آئندہ سال ہونے والے یوپی اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تمام سیاسی پارٹیوں نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اسی کڑی کے تحت بی ایس پی، ایس بی ایسی پی اور اے آئی ایم آئی ایم کے درمیان اتحاد کی چہ می گوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔

لکھنو: اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تمام سیاسی پارٹیوں نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ یوپی اسمبلی انتخابات کے تحت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)، سابق کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر کی قیادت والی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایسی پی) اور حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے درمیان اتحاد کی چہ می گوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔

مصدقہ ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق یہ تینوں پارٹیاں آئندہ انتخابات کے لئے ’بھاگیدار سنکلپ مورچہ‘ کے بینر کے تلے اکٹھا یوسکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان تینوں پارٹیوں کے اشتراک سے بننے والے ’بھاگیداری سنکلپ مورچہ‘ میں دیگر چھ۔وٹی پارٹیوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایس بی ایس پی کے سربراہ راج بھر کے مطابق و دیگر متعدد پارٹیوں بشمول آل انڈیا ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی وغیرہ کو ملا کر بی جے پی کے خلاف ایک موثر فرنٹ تیار کرنے کی کوشش میں ہیں۔

مایاوتی اور اسد الدین اویسی کے درمیان کئی مرحلوں میں بات چیت

ذرائع کے مطابق بی ایس پی سپریمو مایاوتی و اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسد الدین اویسی کے درمیان کئی مرحلوں میں بات چیت ہوچکی ہے۔ اسدالدین اویسی اگلے ماہ لکھنو آکر اتحاد کو کوئی حتمی شکل دے سکتے ہیں۔

یوپی میں سال 2017 کے انتخابات میں ایس بی ایس پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے 8 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے۔ جس میں اس کے 4 امیدواروں کو کامیابی ملی تھی جس کے بعد راج بھر کو یوپی کابینی وزیر بنایا گیا تھا۔ لیکن سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے عین قبل وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے انہیں اپنی کابینہ سے ہٹا دیا تھا۔

مشرقی یوپی میں اپنی زمین مضبوط کرنے کے لئے ایس بی ایس پی نے اسی سال جنوری میں ایم آئی ایم سے اتحاد کا اعلان کیا تھا اور ایم آئی ایم صدر و رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے راج بھر کے ساتھ اعظم گڑھ، جونپور اور پوروانچل کا دورہ کیا تھا۔

مسٹر اویسی نے یوپی میں سال 2022 کے اسمبلی انتخابات میں اپنی پارٹی کے لئے زمین ہموار کرنے کے مقصد سے مزید آٹھ پارٹیوں سے بھی ہاتھ ملایا ہے۔ جن میں کرشنا پٹیل کی اپنا دل، جن ادھیکاری پارٹی اور چندر شیکھر راون آزاد کی سماج پارٹی قابل ذکر ہیں۔ جو بظاہر مسلم، پسماندہ اور دلتوں کی کہکشاں بنتی دکھائی دیتی ہے۔

ان پارٹیوں کے ذریعہ قائم اتحاد سے اپنا دل کنارہ کشی اختیار کرنے کے درپے

ذرائع سے موصول اطلاع کے بعد ان پارٹیوں کے ذریعہ قائم اتحاد سے اپنا دل کنارہ کشی اختیار کرنے والی ہے اور خبروں کے مطابق بی جے پی سے اس کی ڈیل مثبت راستے پر ہے۔ امکانات ہیں کہ پارٹی کے صدر کرشنا پٹیل کو یوپی قانون ساز کونسل کا رکن بنادیا جائے۔

گذشتہ سال ماہ اکتوبر میں بہار اسمبلی کے منعقد ہونے والے انتخابات میں مسلمی اکثریتی علاقوں میں ایم آئی ایم کی خاطر خواہ کامیابی نے ایم آئی ایم کے حوصلے بلند کردئیے ہیں۔ اب وہ یوپی میں پوری طاقت سے انتخابی میدان تیار کرنے میں مصروف عمل ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم آئی ایم، بی ایس پی اور ایس بی ایس پی کے اشتراک سے ممکنہ بھاگیہ دار مورچہ اعظم گڑھ اور اس سے ملحقہ اضلاع میں مین اپوزیشن سماج وادی پارٹی (ایس پی) کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے بارے میں بھی عام خیال ہے کہ ملسم اور پسماندہ اور مسلم آبادی ہی اس کا اصل ووٹ بینک ہے جس میں بھاگیہ دار مورچہ سیندھ ماری کرسکتا ہے۔

نام نہ شائع کرنے کی شرط پر ایس پی ایم ایل اے نے بتایا کہ بی ایس پی کے پاس 20 فیصدی ووٹ بینک ہے اور اب اس میں اچانک اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ نیا اتحاد بی جے پی مخالف ووٹوں میں تفریق اور ایس پی کے امیدوں پر پانی پھیر سکتا ہے۔

مغربی بنگال جوائنٹ انٹرننس امتحان 18 جولائی کو منعقد ہونے کا امکان

0
مغربی بنگال جوائنٹ انٹرننس امتحان 18 جولائی کو منعقد ہونے کا امکان
مغربی بنگال جوائنٹ انٹرننس امتحان 18 جولائی کو منعقد ہونے کا امکان

مغربی بنگال جوائنٹ انٹرننس امتحان کے انعقاد کو لے کر قیاس آرائیوں کے درمیان ریاستی جوائنٹ انٹرننس ایگزام بورڈ نے واضح کردیا ہے کہ ایک ہفتے کی تاخیر سے امتحان کا انعقاد ہوگا۔

کلکتہ: مغربی بنگال میں مدھیامک اور ہائر سیکنڈری امتحات کے ملتوی ہونے کے بعد سے ہی مغربی بنگال جوائنٹ انٹرننس امتحان کے انعقاد کو لے کر قیاس آرائی کی جارہی تھی۔ تاہم ریاستی جوائنٹ انٹرننس ایگزام بورڈ نے واضح کردیا ہے کہ ایک ہفتے کی تاخیر سے امتحان کا انعقاد ہوگا۔

ریاستی جوائنٹ انٹرننس بورڈ کے ذرائع نے آج بتایا کہ مشترکہ داخلہ امتحان (جے ای ای مین 2021) رواں سال میں ہی منعقد ہوگا۔ تاہم، ٹسٹ 11 جولائی کے بجائے 18 جولائی کو ہوگا۔ اس سال یہ مشترکہ (جوائنٹ انٹری امتحان 2021) پہلے آف لائن امتحان ہونے جا رہا ہے۔ یعنی طلباء کو گھر بیٹھے نہیں، ٹسٹ سنٹر جاکر ٹسٹ دینا پڑے گا۔

بورڈ ذرائع کے مطابق امیدواروں کے گھروں کے قریب ہی سنٹر دیا جائے گا۔ یہ ٹسٹ کل 264 مراکز میں ہوں گے۔ مشترکہ ٹسٹ کا نتیجہ 14 اگست تک سامنے آجائیں گے۔ داخلہ کا عمل 15 ستمبر تک مکمل ہوجائے گا۔ بورڈ نے کہا کہ اس سال نہ صرف مشترکہ داخلہ بلکہ کل 11 مزید امتحانات لئے جائیں گے۔

اس ضمن میں ریاستی جوائنٹ انٹرننس بورڈ کی جانب سے ریاستی حکومت سے رابطہ کیا گیا تھا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ٹسٹ منسوخ کرنا کسی بھی طرح ممکن نہیں تھا۔ کیونکہ یہ ایک داخلہ امتحان ہے۔ اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والوں کو مختلف انجینئرنگ، فارمیسی قومی کورس میں داخلہ لینے کا موقع ملتا ہے۔

برکینا فاسو میں دہشت گردانہ حملے میں 11 پولیس افسران ہلاک

0
برکینا فاسو میں دہشت گردانہ حملے میں 11 پولیس افسران ہلاک
برکینا فاسو میں دہشت گردانہ حملے میں 11 پولیس افسران ہلاک

برکینا فاسو میں ایک دہشت گردانہ حملے میں 11 پولیس افسران ہلاک ہوگئے۔ قبل ازیں 6 جون کو بھی برکینا فاسو میں بدترین حملے میں 132 افراد ہلاک ہوگئے تھے جہاں نائیجر کی سرحد سے ملحق صوبے یاگا کے گاؤں سولہان میں دہشت گردوں نے دھاوا بول دیا تھا۔

اوگاڈگوا: تشدد زدہ مشرقی افریقی ملک برکینا فاسو میں ایک دہشت گردانہ حملے میں 11 پولیس افسران ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مقامی ذرائع نے حملے کی تصدیق کی لیکن تفصیل سے آگاہ نہیں کیا۔ برکینا فاسو کی حکومت کی جانب سے بھی اس حوالے سے باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم مقامی ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں نے رات گئے پولیس پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں 11 افسران مارے گئے۔

قبل ازیں 6 جون کو بھی برکینا فاسو میں بدترین حملے میں 132 افراد ہلاک ہوگئے تھے جہاں نائیجر کی سرحد سے ملحق صوبے یاگا کے گاؤں سولہان میں دہشت گردوں نے دھاوا بول دیا تھا۔
سرکاری بیان میں کہا گیا تھا کہ دہشت گردوں نے گھروں اور مارکیٹوں کو نذر آتش کیا۔ حکومت نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا اور حملہ آوروں کو دہشت گرد قرار دیا تھا جبکہ کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری تسلیم نہیں کی تھی۔حکومت کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ حملے میں 40 افراد زخمی بھی ہوئے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی ایک بیان میں حملے کی مذمت کی تھی جہاں 7 بچے بھی جاں بحق ہوئے۔رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی امن فوج کی موجودگی کے باوجود جنوبی افریقی خطے ساحل میں القاعدہ اور داعش سے منسلک گروپس کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جہاں شہری بھی بڑی تعداد میں نشانہ بنے ہیں۔

برکینا فاسو میں جاری خانہ جنگی کے دوران اب تک صرف دو سال میں 11 لاکھ 14 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ مالی سے آئے ہوئے 20 ہزار سے زائد مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ جنوبی افریقہ کے ڈائریکٹر کورین ڈوفکا کے مطابق تازہ حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے نتیجیمیں جنوری سے اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 500 سے زائد ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں برس یہ سلسلہ دیکھا گیا ہے کہ دہشت گرد گاؤں میں آکر سول اختیارات ہاتھ میں لیتے ہیں اور گاؤں والوں کو سزائیں دیتے ہیں۔

رواں برس مارچ میں ہمسایہ ملک نائیجر کے جنوب مغربی گاؤں میں دہشت گردوں نے 137 افراد کو نشانہ بنایا تھا۔

اختلاف رائے کی آواز دبانے کی کوشش میں اتنا ڈرایا کہ ڈر ہی ختم ہو گیا !

0
اختلاف رائے کی آواز دبانے کی کوشش میں اتنا ڈرایا کہ ڈر ہی ختم ہو گیا !
اختلاف رائے کی آواز دبانے کی کوشش میں اتنا ڈرایا کہ ڈر ہی ختم ہو گیا !

نتاشا، دیوانگنا اور آصف کے جیل سے باہر آتے وقت ایسا لگا کہ جیسے وہ جیل کی سیاہ کوٹھری سے باہر نہیں آ رہے، بلکہ کسی فاتحانہ مشن سے واپس آئے ہیں۔ اس سے محسوس ہوا کہ جب تک انصاف باقی ہے، حکمران اختلاف رائے کی آواز دبا نہیں سکتے۔

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

دہلی فسادات: دہلی فسادات کے الزام میں ایک سال سے جیل میں بند طالب علم اور سماجی کارکنان نتاشا نروال، دیوانگنا کلیتا اور آصف اقبال تنہا جیل سے باہر آگئے۔ ان کے جیل سے باہر آتے وقت ایسا لگا کہ جیسے وہ جیل کی سیاہ کوٹھری سے باہر نہیں آ رہے، بلکہ کسی فاتحانہ مشن سے واپس آئے ہیں۔ نہ کوئی احساس جرم، نہ کوئی احساس ندامت اور نہ ہی کسی شکست خوردگی کا احساس۔ بھلا یہ احساس ہوتا بھی کیوں؟ ان کی خطا تو بس اتنی تھی کہ انھوں نے حکومت کی ناانصافیوں اور ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ انھوں نے تو بس ایک جمہوری ملک میں حاصل اپنے حقوق اور اختیارات کا استعمال کیا تھا۔ انھوں نے تو بس مظلومین کے حق میں آواز بلند کی تھی۔

ہاں! ان کی خطا یہ ضرور تھی کہ وہ یہ بھول گئے کہ اب وہ ’نیو انڈیا‘ میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جہاں نہ تو آپ حکومت کی غلط اور عوام مخالف پالیسیوں پر آواز بلند کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کی جانے والی قانون سازی کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں۔ حکومت صحیح یا غلط جو کر رہی ہے، جیسا کر رہی ہے، وہی صحیح ہے۔ اب آپ حکومت سے کسی قسم کا سوال نہیں کر سکتے۔

در اصل یہ طالب علم اور سماجی کارکن ۲۰۱۴ء سے پہلے کا ہندوستان سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے اور حکومت کی متعصبانہ اور جابرانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ انھیں کیا معلوم کہ اب اس ملک میں اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا جرم ٹھہرا۔ وہ تو شکر منائیے کہ ابھی عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور آج بھی انصاف پسند لوگوں کی ملک میں کوئی کمی نہیں ہے۔ جس کے سبب انصاف کو دم توڑنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ لیکن حالات بتاتے ہیں کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ہندوستان کا مستقبل بہت تابناک نہیں ہے۔

ایک نہ ایک دن جھوٹ، فریب اور ظلم و زیادتی کا خاتمہ ہوگا

نتاشا نروال، دیوانگنا کلیتا اور آصف اقبال تنہا کے جیل سے باہر آ جانے سے ایک امید ضرور پیدا ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں انہی کی طرح ابھی ان گنت سماجی کارکنان اور طالب علم جیلوں میں بند ہیں۔ ملک کے آئین پر اعتماد رکھنے والے ان سماجی کارکنان کو امید ہے کہ ایک نہ ایک دن جھوٹ، فریب اور ظلم و زیادتی کا خاتمہ ہوگا۔ انصاف کا پرچم بلند ہوگا۔ نعرہ لگاتے ہوئے جیل کے اندر جانے اور نعرہ لگاتے ہوئے ہی جیل سے باہر آنے والے ان طالب علموں نے باقی ’سیاسی قیدیوں‘ کو حوصلہ بخشا ہے، جنھیں شاید انتقامی جذبے کے تحت قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا ہے۔

جیل سے باہر آنے کے بعد آصف اقبال، نتاشا نروال اور دیوانگنا کلیتا نے کہا بھی ہے کہ ہمارا احتجاج جمہوری تھا اور دہلی ہائی کورٹ نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔ پولیس کی تمام کوششوں اور رخنہ اندازی کے باوجود ان طالب علموں کی رہائی عمل میں آئی۔

اس ضمن میں سب سے قابل غور پہلو دہلی ہائی کورٹ کے وہ تبصرے ہیں جو اس نے ان لوگوں کو ضمانت دیتے وقت کئے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے دل و دماغ میں اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کیلئے صدائے احتجاج کے بنیادی حقوق اور دہشت گردی کے درمیان پائی جانے والی لکیر موہوم ہوتی جارہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یقینی طور پر یہ جمہوریت کیلئے انتہائی افسوسناک ہوگا۔‘‘

ہائی کورٹ کے ججوں نے اس موقع پر جسٹس ایم ہدایت اللہ کا حوالہ بھی دیا۔ جنہوں نے رام منوہر لوہیا بنام ریاست بہار کے معاملے میں کہا تھا کہ ’کسی بھی قانون کی خلاف ورزی ہمیشہ احکامات کو متاثر کرتی ہے، لیکن اس سے پہلے کہ وہ عوامی نظم و نسق کو متاثر کرے۔‘ ان طالب علموں کو انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ جو آج کل حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کا سب سے آسان ہتھیار بن گیا ہے۔

پولیس کو دہشت گردی سے متعلق دفعات کے اندھاندھند طریقے پر اطلاق سے گریز کرنا چاہئے

عدالت کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردی سے متعلق اس قانون کو ’ملک کے دفاع‘ کو خطرے میں ڈالنے والے معاملات سے نمٹنے کیلئے بنایا گیا تھا، اس سے زیادہ یا کم کچھ نہیں۔ دہشت گردی کو دیگر اقسام کے جرائم سے الگ کرنا ہوگا۔ خواہ وہ نوعیت کے اعتبار سے کتنا ہی سنگین اور خطرناک کیوں نہ ہو۔ دفعہ ۱۵؍ کے تحت ’دہشت گردی سے متعلق قانون کی تشریح‘ بہت زیادہ وسیع لیکن بڑی حد تک مبہم ہے۔ پولیس کو ان دفعات کے اندھاندھند طریقے پر اطلاق سے گریز کرنا چاہئے۔ اس قانون کا اطلاق ان جرائم پر بالکل بھی نہیں کیا جا سکتا جو انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی دیگر دفعات کے تحت آتے ہیں۔ اس بات پر ہمارا یقین ہے کہ ہمارے ملک کی بنیادیں مضبوط اور مستحکم ہیں۔ وہ کسی بھی قسم کے احتجاج اور مظاہروں سے متاثر نہیں ہوں گی۔

عدالت کا اگلا قدم اُن افسران کو سزا دینا ہونا چاہئے

عرضی گزار نے دیگر جرائم کا ارتکاب کیا ہو یا نہ کیا ہو، کم از کم پہلی نظر میں حکومت ہمیں یہ سمجھانے میں ناکام رہی ہے کہ ملزم کے خلاف عائد کئے گئے الزامات میں یو اے پی اے کے سیکشن ۱۵، ۱۷؍ یا ۱۸؍ کے تحت جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔ ‘نہ صرف عدالت نے سخت تبصرے کئے، بلکہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے کہا کہ ’اگر آصف اقبال ،نتاشا نروال اور دیوانگنا کلیتا کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ ضمانت دیئے جانے کے بعد پولیس اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتی ہے اور ان احکامات پر عمل نہیں کرتی ہے تو عدالت کا اگلا قدم اُن افسران کو سزا دینا ہونا چاہئے جو دہشت گردی کے نام پر عام لوگوں اور سماجی کارکنوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہیں اس کام کی سزا دیتے ہیں جو وہ کبھی کئے ہی نہیں رہتے۔ اس کے بعد ہی پولیس ان کاموں سے بچنے کی کوشش کریںگے جو اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے انجام دیتے ہیں۔‘

اب آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکومت کس منشا کے تحت کام کر رہی ہے۔ عدالت نے یقیناً ملک کے ہر ذی ہوش اور انصاف پسند شہری کے دل کی بات کی ہے۔ ملک میں احتجاج اور مظاہروں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مظاہرین کو ’دیش دروہی‘ یا ملک کا غدار ٹھہرا دیا جائے۔ ۲۰۱۴ء کے بعد تو جیسے ملک کی سمت ہی بدل دی گئی ہے۔

دہلی فسادات کے سلسلہ میں پہلے بھی بہت سارے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ سب سے اہم سوال تو یہی ہے کہ ان فسادات کے بعد کتنی آسانی سے مظلومین کو ظالم اور ظالموں کو مظلوم بنا دیا گیا۔ یعنی جن کا جانی و مالی نقصان ہوا، انہی کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور جو کھلے عام آگ لگانے کی بات کر رہے تھے، وہ کھلی ہوا میں سانس لے رہے ہیں۔

کسی کو اتنا نہ ڈراؤ کہ اس کے دل سے ڈر ہی نکل جائے

غور طلب ہے کہ فروری ۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کے سلسلہ میں دیوانگنا کلیتا، نتاشا نروال اور آصف اقبال کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔دیوانگنا اور نتاشا ’پنجرا توڑ‘ کی کارکن ہیں، جبکہ آصف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم ہیں۔  لیکن خوشی کی بات ہے کہ اس سب کے باوجود مظلومین کے حوصوں کو توڑا نہیں جا سکا۔ انہیں خوفزدہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کے بعد بھی وہ انقلابی نعروں کے ساتھ سینہ سپر نظر آ رہے ہیں۔ ہم سب نے اکثر یہ قول سنا ہوگا کہ ’کسی کو اتنا نہ ڈراؤ کہ اس کے دل سے ڈر ہی نکل جائے‘۔ اب یہ قول سچ ثابت ہو رہا ہے۔

نتاشا، دیوانگنا اور آصف جس انداز میں جیل سے باہر آئے، اس سے محسوس ہوا کہ جب تک انصاف باقی ہے، حکمران کسی کو خوفزدہ نہیں کر سکتے۔ ان لوگوں نے اس کا احساس جیل سے باہر آنے کے بعد کروایا ہے۔ جیل کے دروازے پر ہاتھ اٹھا کر بند مٹھی کے ساتھ نعرے لگاتے ان طالب علموں کے حوصلوں نے نہ صرف انصاف کی امیدوں کو باقی رکھا ہے، بلکہ اپنے جمہوری حقوق اور اختیارات کے استعمال کے لئے بھی رغبت دلائی ہے۔ ساتھ ہی حکومت کو بھی واضح پیغام دے دیا ہے کہ یو اے پی اے جیسے قوانین کا بیجا استعمال ان کے حوصلوں کو نہیں توڑ سکتا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ انتقامی جذبے سے کام کرنے سے باز آئے اور عدالت کے ذریعہ کئے تبصروں پر غور و خوض کرے۔ یہ ملک اور آئین دونوں کے حق میں بہتر ہوگا۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: yameen@inquilab.com]

وزیر اعلیٰ بہار سے عبادت گاہوں کو بھی کھولنے کا ملی جماعتوں و سرکردہ شخصیات کا مطالبہ

0
وزیر اعلیٰ بہار سے عبادت گاہوں کو بھی کھولنے کا ملی جماعتوں و سرکردہ شخصیات کا مطالبہ

بہار کی تمام دینی ملی جماعتوں اور اہم ملی شخصیات نے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے ریاست کی عبادت گاہوں کو کھولنے کی اپیل کی ہے۔ ملی جماعتوں کے ذمہ داران نے حکومت کی کوششوں سے کورونا کی روز بروز گھٹتی تعداد پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے میں عبادت گاہوں کو اب چند شرائط کے ساتھ کھولنے کا حکومت کو فوری فیصلہ کرنا چاہئے۔

پٹنہ: بہار کی تمام دینی ملی جماعتوں اور اہم ملی شخصیات نے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے ریاست کی عبادت گاہوں کو کھولنے کی اپیل کی ہے۔ منگل کو جاری ایک بیان میں ملی جماعتوں کے ذمہ داروں نے کورونا سے متعلق حکومت کے موجودہ گائڈ لائن پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری و غیر سرکاری دفاتراور دکانوں کو معمولی شرائط کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہاں تک کہ پارکوں کو بھی کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن مندر، مسجد، گرجاگھر اور گردوارہ کو بند کرنے کو کہا گیا ہے۔

ملی جماعتوں کے ذمہ داران نے کہا کہ کورونا جیسی مہلک وبا پر قابو پانے کے لئے حکومت نے جو احتیاطی اقدام اٹھائے ہیں، ان کی وہ تائید اور ستائش کرتے ہیں اور وزیر اعلیٰ بہار کی فکر مندی پر غیر معمولی اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ یقینا حفظ ما تقدم کے طور پر یہ تدابیر شہریوں کے لئے مفید اور ضروری ہیں۔ تاہم عبادت گاہوں کو بالکل ہی بند کرکے رکھنا مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ انہوں نے حکومت کی کوششوں سے کورونا کی روز بروز گھٹتی تعداد پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے میں عبادت گاہوں کو اب چند شرائط کے ساتھ کھولنے کا حکومت کو فوری فیصلہ کرنا چاہئے۔

بیان جاری کرنے والے دینی ملی اہم شخصیات

بیان جاری کرنے والوں میں امارت شرعیہ کے نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی، خانقاہ منعمیہ قمریہ، میتن گھاٹ کے سجادہ نشیں مولانا سید شمیم الدین احمد منعمی، جمعیت علماء ہند بہار کے قائم مقام جنرل سکریٹری مولانا سید شاہ مشہود احمد قادری ندوی، مرکزی ادارہ شرعیہ بہار کے مہتمم مولانا سید احمد رضائی، صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار کے نائب امیر مولانا خورشید مدنی، امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا شبلی القاسمی، جمعیت العلماء ہند، بہار کے ناظم مولانا محمد ناظم، جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی، جنرل سکریٹری مجلس علماء و خطباء امامیہ کے جنرل سکریٹری مولانا سید امانت حسین اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (بہار چیپٹر) کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر انوارالہدیٰ شامل ہیں۔

ٹی آر پی گھوٹالہ: ضمنی چارج شیٹ میں ملزم ارنب گوسوامی

0
ٹی آر پی گھوٹالہ: ضمنی چارج شیٹ میں ملزم ارنب گوسوامی
ٹی آر پی گھوٹالہ: ضمنی چارج شیٹ میں ملزم ارنب گوسوامی

ممبئی پولیس نے ٹی آر پی گھوٹالہ میں 9 مہینے قبل ایف آئی آر درج کی تھی اور اس وقت کے پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے بتایا تھا کہ ٹی آر پی گھوٹالہ میں ارنب گوسوامی بھی شامل ہیں۔

ممبئی: فرضی ٹی آر پی گھوٹالہ میں ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر اِن چیف ارنب گوسوامی کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ممبئی پولیس نے عدالت میں جو سپلیمنٹری چارج شیٹ داخل کی ہے اس میں ارنب گوسوامی کو ملزم بنایا گیا ہے۔

ممبئی پولیس نے اس معاملے میں 9 مہینے قبل ایف آئی آر درج کی تھی اور اس وقت کے پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے بتایا تھا کہ ٹی آر پی گھوٹالہ میں ارنب گوسوامی بھی شامل ہیں۔

بہر حال، ممبئی پولیس نے 22 جون (منگل) کو عدالت میں فائل سپلیمنٹری چارج شیٹ میں ارنب سمیت پانچ لوگوں کا نام شامل کیا ہے۔ ارنب کے علاوہ اے آر جی آؤٹلیر میڈیا (ریپبلک ٹی وی کا مالکانہ حق رکھنے والے) کے چار لوگوں کے نام ہیں۔ پولیس کے ذریعہ عدالت میں فائل کی گئی 1800 صفحات کی چارج شیٹ میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

فرضی ٹی آر پی معاملہ میں معاون ملزمین کے طور پر سی ای او پریہ مکھرجی، شیویندو ملیکر شیوا سندرم کا بھی نام ہے جنھیں پہلے وانٹیڈ دکھایا گیا تھا۔ اب تک پولیس نے 15 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں بارک (بی اے آر سی) کے چیف ایگزیکٹیو افسر پارتھو داس گپتا اور ریپبلک ٹی وی چیف ایگزیکٹیو افسر وکاس کھانچندانی بھی شامل ہیں۔

بنگلہ دیش کے سات اضلاع میں 30 جون تک لاک ڈاؤن نافذ

0
بنگلہ دیش کے سات اضلاع میں 30 جون تک لاک ڈاؤن نافذ
بنگلہ دیش کے سات اضلاع میں 30 جون تک لاک ڈاؤن نافذ

بنگلہ دیش کے سات اضلاع میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ کو کورونا کے خطرے سے بچانے کے لئے، ان اضلاع میں عام لوگوں کی نقل مکانی پر 30 جون تک مکمل پابندی ہوگی۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے سات اضلاع میں 30 جون تک کورونا وائرس (کووڈ ۔19) کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔

ان سات دنوں میں، لاک ڈاؤن منگل کی صبح 8 بجے سے شروع ہوگا اور 30 ​​جون کو دوپہر 12 بجے تک نافذ رہے گا۔

بنگلہ دیش کے مانیک گنج، منشی گنج، نارائن گنج، غازی پور، راجا باڑی، مداری پور اور گوپال گنج اضلاع میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔

دارالحکومت ڈھاکہ کو کورونا کے خطرے سے بچانے کے لئے، ان اضلاع میں عام لوگوں کی نقل مکانی پر 30 جون تک مکمل پابندی ہوگی۔ اس دوران پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی۔ بازار اور شاپنگ مالس بند رہیں گے اور سرکاری نجی دفاتر ہنگامی سرکاری دفاتر کے علاوہ بند رہیں گے۔

دارالحکومت ڈھاکہ سے آمد و رفت بند کردی گئی ہے۔ ڈھاکہ سے دوسرے اضلاع جانے والی بسوں کے آپریشن پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ان اضلاع میں ٹرینوں کے آپریشن پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

ترکی میں کورونا کی صورت حال بہتر، ترک صدر کا لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان

0
ترکی میں کورونا کی صورت حال بہتر، ترک صدر کا لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان
ترکی میں کورونا کی صورت حال بہتر، ترک صدر کا لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان

ترکی میں کورونا کی صورت حال بہتر ہونے اور ٹیکہ کاری مہم تیز ہونے کی وجہ سے ترکی میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ ترک صدر نے کہا کہ ملک بھر میں کرفیو یکم جولائی سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

انقرہ: ترکی میں کورونا کی صورت حال بہتر ہونے اور ٹیکہ کاری مہم تیز ہونے کی وجہ سے ترکی میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ یہ اعلان ترک صدر رجب طیب اردوان نے ویکسینیشن عمل تیز ہونے اور پابندیوں سے کورونا وبا میں کمی آنے کے بعد کیا۔

ترک میڈیا کے مطابق صدر طیب اردوان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں کورونا وبا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد پابندیاں اٹھانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ ملک بھر میں کرفیو یکم جولائی سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ ہفتہ وار لاک ڈاؤن اور رات کے کرفیو اٹھا لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پابندیاں نرم کرنے کے سلسلے میں سفری پابندیاں، اربن پبلک ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔ کورونا کیسز میں غیر معمولی کمی کے بعد معمولات زندگی بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ ملک میں جاری تیزترین کورونا ویکسینیشن عمل کی بدولت آج کے دن تک 43 ملین افراد کو ویکسین لگائی جاچکی ہے اور گزشتہ ہفتے کے دوران ویکسینیشن عمل میں تیزی لائی گئی ہے۔

امریکہ کے شہر کولوراڈو میں فائرنگ، بندوق بردار سمیت تین افراد ہلاک

0
امریکہ کے شہر کولوراڈو میں فائرنگ، بندوق بردار سمیت تین افراد ہلاک
امریکہ کے شہر کولوراڈو میں فائرنگ، بندوق بردار سمیت تین افراد ہلاک

امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر اروڈا میں فائرنگ سے بندوق بردار سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے۔ اروڈا پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ٹویٹ کیا کہ پیر کو اروڈا میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

واشنگٹن: امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر اروڈا میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں بندوق بردار سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے۔ عہدیداروں نے یہ اطلاع دی ہے۔ اروڈا پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ٹویٹ کیا کہ پیر کو اروڈا میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

مقامی میڈیا نے اروڈا پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی چیف ایڈ بریڈی کے حوالے سے بتایا ہے کہ اروڈا لائبریری کے قریب ایک چوراہے پر فائرنگ سے ایک پولیس افسر کی موت ہوگئی تھی اور کنبہ کو مطلع کرنے کے بعد اس کی شناخت ظاہر کردی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق، پولیس نے بتایا کہ بندوق بردار کو پولیس نے گولی مار دی تھی اور اس کی شناخت کورونر کا دفتر کر رہا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایک اور شخص کو اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔