ہفتہ, مارچ 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 330

وسیم رضوی اپنے گناہوں کو چھپانے کے لئے اسلامی شریعت پر کر رہا ہے حملہ: ڈاکٹر انصاری

0

ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئر مین وسیم رضوی نے عیدالاضحٰی پر قربانی سے متعلقہ اسلامی شریعت مخالف ایک متنازعہ بیان دے کر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

پرتاپ گڑھ: مساجد، صحابہ کرام اور ائمہ دین کا ہی نہیں بلکہ پورے اسلام کا مذاق اڑانے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والا وسیم رضوی دراصل اپنے کیئے گئے گناہوں پر پردہ ڈالنے و اسلام دشمنان کو خوش کرنے کے لیے اسلامی شریعت پر حملہ آور ہے جو قابل مذمت، مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔ پیس پارٹی کے قومی نائب صدر ڈاکٹر عبدالرشید انصاری نے میڈیا کو جاری پریس ریلیز میں مذکورہ خیالات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئر مین وسیم رضوی نے عیدالاضحٰی پر قربانی سے متعلقہ اسلامی شریعت مخالف ایک متنازعہ بیان دے کر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ وسیم رضوی کی انہیں حرکتوں کا نتیجہ ہے کہ وہ دنیا میں ذلیل ہو رہا ہے اور عصمت دری جیسا کیس اس کے خلاف درج ہوا ہے، وہ خارج از اسلام ہے۔ وہ ایک ملعون شخص اور اس کے قول و فعل کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

وسیم رضوی کی باتوں کو اہمیت دینے سے اجتناب ضروری

اس کی باتوں کو اہمیت دینا اس کو اہمیت دینا ہے، جس سے اجتناب ضروری ہے۔ اس نے اس سے قبل بھی مذہب اسلام کے متعلق بہت ہی گھناونے بیان دیئے، جس سے امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس کے بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مذہب اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ ملعون و مجرم ہے اس کو برسرے اقتدار پارٹی کی سرپرستی حاصل ہے۔

وسیم رضوی کو غلط فہمی ہے کہ مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے سے دشمنان اسلام خوش ہو کر اس کی حمایت کر برسرے اقتدار بی جے پی حکومت پر دباو ڈال کر اس کے گلے سے قانون کا پھندہ نکلوا دیں گے۔ لیکن اس کے گناہ اتنے شدید ہیں کہ اب قانون سے بچنا اس کا مشکل ہے۔

وسیم رضوی نے ڈرائیور کی بیوی کے ساتھ عصمت دری کر یہ واضح کر دیا کہ وہ ایک شیطان ہے اور شیطان کا کوئی ایمان، کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے دشمنان اسلام کی پشت پناہی وسیم رضوی کو حاصل ہے، جس کے سبب وہ روز بروز اسلامی شریعت کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے۔ ملک کے آئین نے سبھی مذاہب کو آزادی دی ہے۔ اگر کوئی اس آزادی کو غصب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو آئین مخالف ہے اور وہ سزا کا حقدار ہے۔

ڈاکٹر انصاری نے حکومت سے وسیم رضوی کے خلاف معاشرے میں منافرت پھیلانے کے لیے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

راہل گاندھی نے نام لیے بغیر مودی پر کیا حملہ

0
راہل نے نام لیے بغیر مودی پر کیا حملہ
راہل نے نام لیے بغیر مودی پر کیا حملہ

راہل گاندھی نے ویکسین کی قلت، بیروزگاری، مہنگائی وغیرہ کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی پر ان کا نام لیے بغیرحملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اپنی تشہیر پر ہی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ویکسین کی قلت، بیروزگاری، مہنگائی وغیرہ کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی پر ان کا نام لیے بغیرحملہ کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ وہ صرف اپنی تشہیر پر ہی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ ملک میں موجودہ چیلنجوں کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔

مسٹر گاندھی نے شاعرانہ انداز میں ٹویٹ کیا ’’صدیوں کا بنایا، پلوں میں مٹایا، دیش جانتا ہے، کون یہ کٹھن دور لایا‘‘۔

انہوں نے ویکسین کی قلت، چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی، بے روزگاری، مہنگائی، پبلک سیکٹر اور کسانوں کے معاملات کو ٹویٹ کے ساتھ ہیگ ٹیگ کیا اور کہا کہ ملک میں موجودہ ان سنگین بحرانوں کو حل کرنے کے بجائے مسٹر مودی اپنے ہی پی آر پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

اسرائیل کا حماس کے کئی جنگجوؤں کو حراست میں لینے کا دعویٰ

0
اسرائیل کا حماس کے کئی جنگجوؤں کو حراست میں لینے کا دعویٰ
اسرائیل کا حماس کے کئی جنگجوؤں کو حراست میں لینے کا دعویٰ

اسرائیلی فوج کے مطابق حراست میں لیے گئے حماس کے ممبران پر ویسٹ بینک میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے رقم منتقل کرنے کا شبہ ہے۔

یروشلم: اسرائیلی فوج نے ویسٹ بینک میں حماس کے متعدد جنگجوؤں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا۔

اسرائیل کی سیکیورٹی فورسز نے بدھ کے روز یہ دعوی کیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے کہا ’’آئی ایس اے اور اسرائیلی بارڈر پولیس کے تعاون سے ہماری فوج نے رام اللہ کے شمال میں واقع برجیٹ یونیورسٹی میں حماس کے طلباء ونگ سے وابستہ متعدد جنگجوؤں کو حراست میں لیا ہے‘‘۔

اسرائیلی فورسز کے مطابق حراست میں لیے گئے حماس کے ممبران پر ویسٹ بینک میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے رقم منتقل کرنے کا شبہ ہے۔ فوج نے کہا ’’ہم اسرائیل کو لاحق کسی بھی خطرے کو ناکام بنانے کے لئے کام جاری رکھیں گے‘‘۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، پٹرول 35 پیسے اور ڈیزل 15 پیسے فی لیٹر مہنگا

0
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، پٹرول 35 پیسے اور ڈیزل 15 پیسے فی لیٹر مہنگا
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، پٹرول 35 پیسے اور ڈیزل 15 پیسے فی لیٹر مہنگا

بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گذشتہ دو دنوں کی تیزی کا اثر جمعرات کو گھریلو سطح پر نظر آیا۔ جہاں پٹرول 35 پیسے فی لیٹر اضافے کے ساتھ نئے ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا اور ڈیزل 15 پیسے مہنگا ہوگیا۔

نئی دہلی: بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گذشتہ دو دنوں کی تیزی کا اثر جمعرات کو گھریلو سطح پر نظر آیا۔ جہاں پٹرول 35 پیسے فی لیٹر اضافے کے ساتھ نئے ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا اور ڈیزل 15 پیسے مہنگا ہوگیا۔ دہلی میں جمعرات کے اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 101.54 روپے اور ممبئی میں 107.55 روپے فی لیٹر پہنچ گئی ہے۔

معروف آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق جمعرات کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

دہلی میں ڈیزل 15 اپریل کے بعد پہلی مرتبہ پیر کے روز 16 پیسے سستا ہوکر 89.72 روپے فی لیٹرہو گیا تھا ، لیکن آج پھر یہ 15 پیسے بڑھ کر 89.87 روپے فی لیٹر پرہو گیا۔ دہلی میں مئی اور جون میں پٹرول 8.41 روپے اور ڈیزل 8.45 روپے مہنگا ہوا تھا۔ جولائی میں اب تک پٹرول کی قیمت میں 2.73 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 71 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا یومیہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر صبح 6 بجے سے نئی قیمتیں لاگو ہوجاتی ہیں ۔

آج ملک کے چار بڑے شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مندرجہ ذیل ہیں:

شہر —————  پیٹرول    —————— ڈیزل
دہلی ————— 101.54 —————— 89.87
ممبئی ۔———— 107.54 —————— 97.45
چنئی ————— 102.23 -—————– 94.39
کولکتہ———— 101.74 —————— 93.02

سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے تحفظ کے تئیں انتظامیہ کی بے رخی پر اخترالایمان نے سڑکوں پر اترنے کی دی دھمکی

0
سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے تحفظ کے تئیں انتظامیہ کی بے رخی پر اخترالایمان نے سڑکوں پر اترنے کی دی دھمکی
سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے تحفظ کے تئیں انتظامیہ کی بے رخی پر اخترالایمان نے سڑکوں پر اترنے کی دی دھمکی

جہاں بعض لوگ سیمانچل میں سیلاب کی وجہ سے ندی کٹاؤ سے متعلق مسائل کو حل نہ کرنے کے لئے اے آئی ایم آئی ایم کے نو منتخب ارکان اسمبلی پر الزامات عائد کرتے نہیں تھک رہے ہیں وہیں امور اسمبلی حلقہ سے مجلس کے ایم ایل نے انتظامیہ سے ملاقات کرکے سڑکوں پر اترنے کی دھمکی دے ڈالی

پورنیہ: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بہار کے ریاستی صدر اور امور اسمبلی حلقہ سے منتخب ایم ایل اے جناب اختر الایمان صاحب نے آج بروز منگل پورنیہ ڈویژنل کمشنر سے ملاقات کی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے متعلق ان گنت مسائل کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے ڈھیر سارے مطالبات کئے۔

جناب اختر الایمان صاحب نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم نے علاقے کے بنیادی مسائل کے بارے میں بات کی ہے اور ان مسائل کو ایوان سے وزیر تک بلکہ وزیر اعلی اور متعلقہ محکمہ تک بھرپور انداز میں آواز بلند کیا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے متاثرہ کھیتوں سے متعلق اخترالایمان صاحب نے کہا کہ اس علاقے میں بارش کی وجہ سے کافی کھیت تباہی کی شکار ہیں اور برسات کے موسم میں حالات کافی پریشان کن ہوجاتے ہیں۔ کہیں بھی بچاؤ کا کام اب تک شروع نہیں ہوا ہے بلکہ اب تک حکومت اس حوالے کچھ بھی کام کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھنی ندیوں میں کشتیاں نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ڈوب کر موتیں ہورہی ہیں۔

بہار میں سیلاب سے متاثرہ بدترین علاقہ سیمانچل

واضح رہے کہ سیمانچل کی معاشی اور معاشرتی پسماندگی کی وجہ سے یہاں سیلاب ایک لعنت کی شکل میں آتا ہے۔ پورے بہار میں سیلاب سے متاثرہ بدترین علاقہ سیمانچل ہی کا ہے۔ ہر سال ندی کٹنے کی وجہ سے نہ صرف ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی ندی میں ضائع ہوجاتی ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کو بھی اس کی وجہ سے تباہی و بربادی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ کروڑوں روپے کی مالیت کی سرکاری عمارتیں، عام لوگوں کے مکانات اور عوامی سڑکوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

مجلس بہار کے ریاستی صدر نے کہا کہ "پچھلے 2-3 سالوں سے جن علاقوں میں لوگ ندی کے کٹنے کی وجہ سے پریشان ہیں، اگر حکومت چاہتی تو ان علاقوں میں تحفظات کے کام ہوسکتے تھے۔ لیکن حکومت کی غفلت اور متعلقہ محکموں کے نظرانداز کرنے کے رویے کی وجہ سے، ان مسائل کے حل کے لئے ابھی تک کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں ہوئی ہے، جس کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔”

اس وقت پھر سے زور و شور سے ان مسائل پر آواز اٹھانے کی وجہ بتاتے ہوئے جناب اخترالایمان نے کہا کہ چوں کہ ابھی ندیوں کے پانی کی سطح کم ہے، تو ابھی وقت ہے کہ جلد از جلد اس پر کام کیا جائے اور لوگوں کی جان ومال کو تباہی سے بچایا جائے۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ کو صلاح دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ندیوں پر چچڑی پل بھی تعمیر کیے جاسکتے ہیں۔ کشتیوں کا انتظام کیا جاسکتا ہے، غوطہ خوروں اور این ڈی آر ایف سی کی ٹیمیں بلاک سطح پر تعینات کئے جاسکتے ہیں۔ متاثرہ افراد کے لئے کیمپ بناکر محفوظ پناہ گاہ پر روشنی اور کھانے کے انتظامات کیے جانا بھی بے حد ضروری ہے۔

سیلاب سے متعلق مسائل کو لے کر عوام میں سخت ناراضگی اور مایوسی

واضح ہو کہ سیلاب سے متعلق مسئلے سے متعلق عوام میں سخت ناراضگی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔ اس لئے بہار مجلس کے ریاستی صدر نے کہا کہ AIMIM لوگوں کے ان مسائل کو خاموشی سے برداشت نہیں کرسکتی ہے۔ اگر جلد سے جلد ہی ان مسائل کے حل کے لئے اقدامات نہ کئے جائیں تو وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوجائیں گے اور اس کا ذمہ دار صرف اور صرف حکومت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ "حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال اور یہاں تک کہ کھیت کھلیانوں کو تحفظ فراہم کرے۔ اگر یہ کام بارش کے موسم سے پہلے ہی کرلیا جاتا، تب سالماری اسکول، تاراباری کے مکانات اور بہادر گنج، کشن گنج، بیلوا کے کروڑوں مالیت کی تباہی اور بربادی کو روکا جاسکتا تھا۔”

بتادیں کہ ہر سال بارش سے پہلے آنے والے سیلاب اور اس سے ہونے والی ممکنہ تباہیوں کے بارے میں مسائل اخبارات میں زیر بحث آتے ہیں، اس کے باوجود یہاں نہ کشتیاں ہیں، نہ غوطہ خور دیکھنے کو مل رہے ہیں اور نہ ہی کوئی حفاظتی جال نظر آتا ہے۔ لوگوں کی زندگی اور املاک کے تحفظ کا کوئی انتظام نظر نہیں آتا ہے۔

بلاک سطح کے عہدیداروں اور ایس ڈی او کو ندیوں کی تعداد کا علم نہیں

جناب اخترالایمان نے بدنظمی سے متعلق مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "ڈیزاسٹر مینول کے مطابق لوگوں کو بچانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ بلاک سطح کے عہدیداروں اور ایس ڈی او کو ندیوں کی تعداد کا علم نہیں ہے، اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ کتنے گھاٹوں پر کشتیاں چلایا جانا چاہئے۔”

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ندیوں میں کشتیوں کا انتظام کیا جائے، کشتی ایمبولینس کا بندوبست کیا جائے، تارکین وطن کو امدادی سازوسامان فراہم کئے جائیں، اور ڈیزاسٹر مینول کے اصول کے مطابق بے گھر لوگوں کی بازآبادکاری کے انتظامات کیے جائیں اور ان لوگوں کے بسانے کا بھی انتظام کیا جائے جو برسوں سے بے گھر ہیں۔

جناب اختر الایمان نے مزید کہا کہ "غریب لوگ جو حکومت کی نظراندازی کی وجہ سے دوسری ریاستوں کا سفر کرکے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں، وہی لوگ آج اپنے گھروں کو بچانے کے لئے لاکھوں روپے کی لاگت سے امور، بیسا، کشن گنج اور بہادر گنج کے کئی علاقوں میں اپنی ذاتی کوشش پر لاکھوں روپے کے اخراجات سے حفاظتی انتظامات کرنے کی کوشش کی ہے۔”

انہوں نے اخیر میں کہا کہ مہانندا بیسن اور ندیوں کو ضم کرنے کے لئے حکومت ہمیشہ لولی پاپ دیکھاکر چپ ہوجاتی ہے اور زمینی سطح پر اس سے متعلق کسی بھی ترقیاتی کام کو انجام نہیں دیا جاتا۔ انتظامیہ کو اس مسئلے حل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب کے انتظامات کے کام کرنے کے لئے ایک اعلی سطحی ٹیم تشکیل دے کر اس علاقے میں برسات کی صورتحال کا اندازہ کرکے منظم منصوبہ بندی کی جانی چاہئے۔

پاکستان میں دھماکہ، 10 افراد ہلاک، 39 دیگر زخمی

0
پاکستان میں دھماکہ، 10 افراد ہلاک، 39 دیگر زخمی

پاکستان کے شمال مشرقی ضلع بالائی کوہستان میں ایک بم دھماکے میں غیر ملکیوں سمیت 10 افراد ہلاک اور 39 زخمی ہوگئے۔

اسلام آباد: پاکستان کے شمال مشرقی ضلع بالائی کوہستان میں بدھ کی صبح ہونے والے ایک بم دھماکے میں غیر ملکی شہریوں سمیت دس افراد ہلاک اور 39 دیگر زخمی ہوگئے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکہ بس کو نشانہ بناکر کیا گیا۔

’جیو نیوز‘ چینل کے مطابق گاڑی داسو ڈیم بنانے والے مزدوروں کو لے کر جا رہی تھی۔ زخمیوں کو داسو کے رورل ہیلتھ سنٹر میں داخل کرایا گیا ہے۔

اپر کوہستان کے ڈپٹی کمشنر عارف خان یوسف زئی نے بتایا کہ یہ واقعہ صبح 7 بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک کوسٹر بارسین کیمپ سے 30 ورکرز کو لے کر پلانٹ کے مقام پر جارہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت غیر ملکی انجینئرز، فرنٹیئر کورپس کے اہلکار اور مقامی مزدور بس میں سوار تھے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اس واقعہ کی وجہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں موبائل نیٹ ورک کام نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے معلومات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

کانوڑ یاترا پر عدالت عظمیٰ کا از خود نوٹس، اترپردیش حکومت کو نوٹس جاری

0
کانوڑ یاترا پر عدالت عظمیٰ کا از خود نوٹس، اترپردیش حکومت کو نوٹس جاری

کانوڑ یاترا کی اجازت دینے کے اترپردیش حکومت کے فیصلے کا سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا ہے اور ریاست کو نوٹس جاری کیا ہے۔

نئی دہلی: عدالت عظمیٰ نے کانوڑ یاترا کی اجازت دینے کے اترپردیش حکومت کے فیصلے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ریاست کو نوٹس جاری کیا ہے۔

جسٹس روہنگٹن ایف نریمن کی سربراہی والی ڈویژن بنچ نے اترپردیش حکومت کے اس فیصلے کا از خود نوٹس لیا اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔

عدالت اس معاملہ پر 16 جولائی (جمعہ) کو سماعت کرے گی۔

جسٹس نریمن نے نوٹس جاری کرنے سے قبل ایک انگریزی روزنامہ میں اس سے متعلقہ خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے شہری اپنے گھر چھوڑنے کے لئے پوری طرح بے چین ہیں، انہیں نہیں معلوم کہ کیا ہو رہا ہے۔ اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب وزیر اعظم خود کورونا کی تیسری لہر کی آمد کی بات کر رہے ہیں۔

عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کورونا وبائی امراض کے پیش نظر ایسی کسی بھی کوشش پر قد غن لگائے گی۔

قابل غور ہے کہ کانوڑ یاترا 25 جولائی سے شروع ہونا ہے۔ اتراکھنڈ حکومت نے کورونا کی ہولناکی کو دیکھتے ہوئے کانوڑ یاترا پر پابندی عائد کردی ہے۔ جبکہ اترپردیش حکومت نے اسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جنوبی کشمیر: پلوامہ میں مسلح تصادم، دو دہشت گرد ہلاک

0
جنوبی کشمیر: پلوامہ میں مسلح تصادم، دو دہشت گرد ہلاک
جنوبی کشمیر: پلوامہ میں مسلح تصادم، دو دہشت گرد ہلاک

جموں و کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ قصبہ پلوامہ میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو ہونے والے ایک مسلح تصادم کے دوران دو دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

سری نگر: جنوبی کشمیر کے قصبہ پلوامہ میں ایک شبانہ مسلح تصادم کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دو دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔

جموں و کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ قصبہ پلوامہ میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو ہونے والے ایک مسلح تصادم کے دوران دو دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ‘مہلوک دہشت گردوں کی شناخت معلوم کی جا رہی ہے نیز علاقے میں آپریشن جاری ہے’۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ قصبہ پلوامہ میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر جموں و کشمیر پولیس، فوج کی 55 راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف نے منگل کی رات دیر گئے مذکورہ علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک مشتبہ جگہ کی جانب پیش قدمی کے دوران وہاں موجود دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان باضابطہ طور تصادم شروع ہوا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ محاصرے میں پھنسنے والے دہشت گردوں کو خودسپردگی اختیار کرنے کی پیشکش کی گئی جو انہوں نے مسترد کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آخری اطلاعات ملنے تک مسلح تصادم میں دو دہشت گرد مارے جا چکے تھے جن کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔

افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا 95 فیصد مکمل

0
افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا 95 فیصد مکمل

امریکی افواج کا 95 فیصد انخلا مکمل ہوچکا ہے۔ 984 سی 17 طیاروں کے ذریعے ضروری سامان افغانستان سے نکال لیا گیا ہے۔ سات تنصیبات افغان وزارت دفاع کے حوالے کردی گئی ہیں۔

واشنگٹن: افغانستان میں امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج کا 95 فیصد انخلا مکمل ہوچکا ہے۔ 984 سی 17 طیاروں کے ذریعے ضروری سامان افغانستان سے نکال لیا گیا ہے۔ سات تنصیبات افغان وزارت دفاع کے حوالے کردی گئی ہیں۔

دوسری جانب افغان وزارتِ دفاع نے جھڑپوں میں ڈھائی سو سے زائد طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغان وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اب تک کی لڑائی میں دو لاکھ افراد بے گھر اور ساڑھے تین ہزار سے زائد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

افغانستان میں جاری لڑائی سے متعلق امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے ہتھیار ڈالنے والے 22 افغان کمانڈوز کو ہلاک کردیا۔

دوسری جانب افغان کمانڈوز کو ہلاک کرنے کی طالبان نے تردید کردی ہے۔

رپورٹس کے مطابق غزنی کے متعدد اضلاع میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، جس میں طرفین کے لوگوں کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

آبادی کنٹرول قانون آر ایس ایس کا ایجنڈا ہے: آر جے ڈی

0
آبادی کنٹرول قانون آر ایس ایس کا ایجنڈا ہے: آر جے ڈی
آبادی کنٹرول قانون آر ایس ایس کا ایجنڈا ہے: آر جے ڈی

آر جے ڈی کے چیف ترجمان اور پارٹی کے منیر سے رکن اسمبلی بھائی ویریندر نے واضح طور سے کہا کہ آبادی کنٹرول قانون آر ایس ایس کا ایجنڈا ہے۔ ایک فرقہ کے لوگوں کے خلاف اس طرح کا قانون بناکر گھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پٹنہ: بہار کی اہم اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) نے اترپردیش میں آبادی کنٹرول قانون نافذ کرنے کے فیصلے کو راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا ایجنڈہ قرار دیا ہے۔

آر جے ڈی کے چیف ترجمان اور پارٹی کے منیر سے رکن اسمبلی بھائی ویریندر نے منگل کو واضح طور سے کہا کہ یہ آر ایس ایس کا ایجنڈا ہے۔ ایک فرقہ کے لوگوں کے خلاف اس طرح کا قانون بناکر گھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھی قانون ملک میں یا پھر ریاست میں بنے تو اس کے لئے پہلے کل جماعتی میٹنگ طلب کر کے سب کی رائے لی جانی چاہئے۔ اس کے بعد جو بھی رائے بنے ویسا کام ہونا چاہئے۔

آر جے ڈی رکن اسمبلی نے کہا کہ فی الحال آبادی کنٹرول پر کوئی قانون نہیں بننا چاہئے۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ٹھیک ہی کہا ہے پہلے لوگوں کو تعلیم یافتہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کمار کی بات تو درست ہے لیکن گذشتہ پندرہ سالوں سے وہ وزیراعلیٰ ہیں اور انہوں نے ریاست میں تعلیم کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ ریاست میں تعلیم کی سطح مزید گر گئی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسٹر کمار آر ایس ایس کے ماڈل پر چلنا چاہ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو واضح طور پر لوگوں کے سامنے آکر کہنا چاہئے کہ وہ اس قانون یا ایسے ماڈل کو بہار میں نافذ نہیں کریں گے۔