بدھ, مئی 13, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 322

افغانستان: طالبانی تشدد کو روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 25 دہشت گرد ہلاک

0
افغانستان: طالبانی تشدد کو روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 25 دہشت گرد ہلاک
افغانستان: طالبانی تشدد کو روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 25 دہشت گرد ہلاک

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد سے طالبان کی جانب سے تشدد میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ طالبانی تشدد کو روکنے کے لیے افغان فوج نے بھی کمر کس لی ہے اور روزانہ فضائی اور زمینی کارروائی کے ذریعے دہشت گردوں کا خاتمہ کر رہی ہے۔

کابل: افغانستان کے قندوز اور نیمروز صوبوں میں طالبانی تشدد کو روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دونوں صوبوں کے طالبانی گورنروں سمیت 25 دہشت گرد مارے گئے۔

وزارت دفاع کے نائب ترجمان فواد امان نے ہفتہ کے روز ٹویٹ کرکے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ قندوز کے ضلع دشت آرچی میں جمعہ کی شب افغانستان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورس اور باغی فورسز کے جوانوں کے ساتھ جھڑپ میں صوبے کے طالبانی گورنر سمیت گیارہ دہشت گرد مارے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبہ نیمروز کے زرنج شہر میں طالبانی دہشت گردوں کے ایک اجتماع پر فضائیہ کے حملے میں طالبانی گورنر عبدالخالق سمیت 14 دہشت گرد مارے گئے۔

اس کے علاوہ صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد اور صوبہ تخار کے دارالحکومت تلیکان پر طالبان کے حملوں کو گزشتہ رات سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ شہروں کے مضافات میں سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دسیوں دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

واضح رہے کہ افغانستان سے مئی سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد سے طالبان کی طرف سے تشدد میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ طالبانی تشدد کو روکنے کے لیے افغان فوج نے بھی کمر کس لی ہے اور روزانہ فضائی اور زمینی کارروائی کے ذریعے دہشت گردوں کا خاتمہ کر رہی ہے۔

بڈگام ضلع میں مسلح تصادم کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک، تلاشی آپریشن جاری

0
بڈگام ضلع میں مسلح تصادم کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک، تلاشی آپریشن جاری
بڈگام ضلع میں مسلح تصادم کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک، تلاشی آپریشن جاری

بڈگام ضلع کے موچھو علاقے میں ایک شبانہ مسلح تصادم کے دوران سیکیورٹی فورسز نے ایک عدم شناخت دہشت گرد کو ہلاک کیا ہے۔

سری نگر: وسطی ضلع بڈگام کے موچھو علاقے میں ایک شبانہ مسلح تصادم کے دوران سیکیورٹی فورسز نے ایک دہشت گرد کو ہلاک کیا ہے۔

جموں و کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ضلع بڈگام کے موچھو میں ہفتہ کی علی الصبح ہونے والے ایک مسلح تصادم کے دوران ایک دہشت گرد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ‘موچھو بڈگام میں ایک عدم شناخت دہشت گرد مارا گیا۔ ایک اے کے 47 اور ایک پستول برآمد ہوئی ہے۔ تلاشی آپریشن جاری ہے’۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع بڈگام کے موچھو علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر جموں و کشمیر پولیس، فوج کی راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف نے جمعہ کی رات دیر گئے مذکورہ علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک مشتبہ جگہ کی جانب پیش قدمی کے دوران وہاں موجود دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان باضابطہ طور تصادم شروع ہوا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ محاصرے میں پھنسنے والے دہشت گردوں کو خودسپردگی اختیار کرنے کی پیشکش کی گئی جو انہوں نے مسترد کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آخری اطلاعات ملنے تک مسلح تصادم میں ایک دہشت گرد کو مارا جا چکا تھا جس کی لاش برآمد کی گئی ہے۔

کسانوں کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں، زرعی قانون ختم کرے حکومت: راہل

0
کسانوں کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں، زرعی قانون ختم کرے حکومت: راہل

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں کسانوں کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں چاہتیں بلکہ حکومت سے کسان مخالف زرعی تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں کسانوں کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں چاہتیں بلکہ حکومت سے کسان مخالف زرعی تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

مسٹر گاندھی جمعہ کو اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ یہاں جنتر منتر پر منعقد ‘کسان سنسد’ میں حصہ لینے کے بعد صحافیوں کے سوال پر کہا کہ اپوزیشن کو اب کسانوں کے مسئلے پر بحث نہیں چاہیے۔ بحث سے اب کام نہیں چلے گا اس لیے حکومت کو زراعت سے متعلق تینوں قوانین کو منسوخ کرنا چاہیے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ بحث کا وقت گزر چکا ہے۔ زرعی قانون کسانوں کے مفاد میں نہیں ہے اس لیے حکومت کو مظاہرین کسانوں کی بات مانتے ہوئے تینوں قوانین کو فوری طور ختم کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔ مسٹر گاندھی سے جب پوچھا گیا کہ حکومت نے کسانوں کے مسئلے پر بحث کرنے کے لئے تیار ہونے کی بات کی ہے تو مسٹر گاندھی نے کہا، ’’نہیں، نہیں! بحث سے کوئی کام نہیں چلے گا۔ یہ کالے قانون ہیں۔ ان کو منسوخ کرنا پڑے گا۔‘‘

اپوزیشن کی کسانوں کے مسئلے اور ان کالے قوانین کو ہٹانے کے لیے بھرپور حمایت

انہوں نے کہا، "آج اپوزیشن جماعتوں نے مل کر کسانوں کے مسئلے اور ان کالے قوانین کو ہٹانے کے لیے اپنی بھرپور حمایت دی ہے۔ پارلیمنٹ میں آپ جانتے ہیں کیا ہورہا ہے۔ پارلیمنٹ میں ہم پیگاسس کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں، وہاں پر وہ پیگاسس کی بات نہیں ہونے دے رہے ہیں۔ نریندر مودی جی ہر ہندوستانی کے فون میں داخل ہوگئے ہیں۔ یہاں پر ہم ہندوستان کے تمام کسانوں کو اپنا مکمل تعاون دینے آئے ہیں۔

کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی زراعت کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا، "کسان ہمارے ملک کی روح ہیں۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ انہیں کی وجہ سے پارلیمنٹ میں ہیں۔ پارلیمنٹ سے سڑک تک کسانوں کی آواز اٹھانا ہم سب کا فرض ہے۔ ہم کسانوں کے ساتھ ہیں۔ سیاہ قانون منسوخ کرو۔‘‘

کانگریس کے محکمہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ پورا اپوزیشن کسانوں کے مطالبات پر متحد ہے۔ انہوں نے کہا، "آج مسٹر راہل گاندھی سمیت 14 سیاسی جماعتوں کے رہنما جنتر منتر پر کسان سنسد میں شامل ہوئے۔ کسانوں کی لڑائی کو اپنا تعاون دیا اور کسانوں کی لڑائی کی حمایت کرنے کے اپنے فیصلہ کن عزم کا اعادہ کیا۔ کسانوں نے بھی مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کی۔

سیلاب زدگان کو امداد اور راحت فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے: نتیش

0
سیلاب زدگان کو امداد اور راحت فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے: نتیش
سیلاب زدگان کو امداد اور راحت فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے: نتیش

سروے کے دوران وزیر اعلیٰ نے جنوبی بہار کی ندیوں کے آبی سطح کی صورت حال، ندیوں کے کٹاﺅ کی حالت، تباہ مقامات پر سیلاب سے لڑنے کے کام اور سیلاب کے سبب فصلوں کے نقصان اور پانی کے جماﺅ کی حالت کا جائزہ لیا۔

پٹنہ: وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج پٹنہ، نالندہ، گیا اور جہان آباد اضلاع کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا ہوائی سروے کیا۔ سروے کے دوران وزیر اعلیٰ نے جنوبی بہار کی ندیوں کے آبی سطح کی صورت حال، ندیوں کے کٹاﺅ کی حالت، تباہ مقامات پر سیلاب سے لڑنے کے کام اور سیلاب کے سبب فصلوں کے نقصان اور پانی کے جماﺅ کی حالت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پٹنہ ضلع کے دنیا واں، فتوحہ، دھنروا بلاک، نالندہ ضلع کے ہلسا، کرائے پرسرائے، ایکنگر سرائے، رہوئی بلاک، جہان آباد ضلع کے ہلاس گنج، مودن گنج بلاک اور گیا ضلع کے بودھ گیا، ٹیکاری بلاکوں کا ہوائی سروے کیا۔

سروے کے دوران آبی وسائل کے وزیر نجے کمار جھا، آبی وسائل محکمہ کے سیکریٹری مسٹر سنجیوہنس، آفات مینجمنٹ محکمہ کے او ایس ڈی و پٹنہ ڈویزن کے کمشنر سنجے کمار اگروال اور وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری انوپم کمار ساتھ تھے۔

ہوائی سروے کے بعد ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات چیت

ہوائی سروے کے بعد ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج ہم نے پٹنہ،نالندہ، گیا اور جہان آباد ضلع کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا ہوائی سروے کیا ہے۔ ان اضلاع کے کئی علاقے سیلاب سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ اگر گنگا ندی کے پانی کی سطح اور زیادہ بڑھتی ہے تو ان علاقوں میں سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔ ہم نے ہدایت دی ہے کہ کل پٹنہ اور نالندہ ضلع کے ڈی ایم اور ان کے ساتھ دوسرے افسران جاکر پورے علاقے کا سروے کریں گے۔ ٹال علاقوں کا بھی جائزہ لیں گے۔ اس کے اگلے دن گیا اور جہان آباد کے ڈی ایم اور افسران ان علاقوں کا سروے کریں گے۔

وزیر اعلیٰ مسٹر کمار نے کہا کہ آئندہ ہفتہ ہم پھر ایک مرتبہ ان علاقوں کا ہوائی سروے کریں گے۔ سیلاب کو قابو کر نے کے لیے محکمہ نے کام شروع کر دیا ہے، لیکن پھر سے بارش ہونے کے سبب گنگا ندی کے پانی کی سطح اور زیادہ بڑھے گی جس سے ان علاقوں میں مزید پانی پھیل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی ندیوں کے پانی کی سطح کی حالت کے تعلق سے محکمہ روز مجھے جانکاری دیتا ہے۔ لیکن آج ہم نے خود ہوائی سروے کر کے حالات کا جائزہ لیا ہے تاکہ لوگوں کو راحت پہنچانے کا کام بہتر طریقہ سے ہو سکے۔

چھوٹی چھوٹی ندیوں کو جوڑنے سے بہت فائدہ ہوگا

ندیوں کو جوڑنے کے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی ندیوں کو جوڑنے سے بہت فائدہ ہو گا، پانی جمع ہو سکے گا اور جہاں پانی کے مسائل ہوں گے وہاں اس میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی کی حالت میں لوگوں کو ہر طرح سے راحت پہنچانے کا کام کیا جارہا ہے۔ آفات مینجمنٹ محکمہ اور آبی وسائل محکمہ کے افسران بھی سروے کے دوران ساتھ تھے۔ جو بھی علاقے متاثر ہوئے ہیں وہاں کے لوگوں کو راحت دلانا اور مدد پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ فصلوں کو بھی نقصان ہوا ہے، پانی زیادہ رہنے سے روپائی کے کام میں بھی دقت آرہی ہے۔  جس طرح سے بارش ہو رہی ہے سب کو ہوشیار رہنا ہے۔ ہم لوگ مانسون کی شروعات میں ہی سیلاب کے سلسلہ میں تمام طرح کی تیاریوں کی جائزہ لیتے ہیں اور جہاں بھی سیلاب کی صورتحال بنی ہے وہاں فوری راحت پہنچانے کے لیے کام کیا جاتا ہے۔ ہم شروع سے کہتے رہے ہیں کہ ریاست کے خزانے پر پہلا حق آفات متاثرین کا ہے۔ اس لیے متاثر لوگوں کو راحت دلانا ہماری ترجیح ہے۔ سال 2007 سے ہی اس پر کا م کیا جارہا ہے۔

ذات پر مبنی مردم شماری کے تعلق سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے خط بھیج دیا ہے۔ ہماری پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ نے وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کر کے اپنی باتیں رکھی ہیں۔ فون ٹیپنگ سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عدالت عظمیٰ اس معاملہ کو دیکھ رہی ہے، وہ بھی اس پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔

بنگال میں درگا پوجا کے بعد اسکول اور کالج کھولنے کے منصوبے پر غور: ممتا بنرجی

0
بنگال میں درگا پوجا کے بعد اسکول اور کالج کھولنے کے منصوبے پر غور: ممتا بنرجی
بنگال میں درگا پوجا کے بعد اسکول اور کالج کھولنے کے منصوبے پر غور: ممتا بنرجی

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج کہا کہ ان کی حکومت نومبر میں درگا پوجا کی تعطیلات کے بعد متبادل دنوں میں اسکول اور کالج دوبارہ کھولنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج کہا کہ ان کی حکومت نومبر میں درگا پوجا کی چھٹیوں کے بعد متبادل دنوں میں اسکول اور کالج دوبارہ کھولنے کے آپشنز پر غور کر رہی ہے۔گزشتہ سال مارچ میں کووڈ 19 وبائی بیماری کے پھیلنے کے بعد سے ہی ریاست میں تعلیمی ادارے بند ہیں۔

ممتا بنرجی نے ریاستی سیکرٹریٹ میں نوبل انعام یافتہ ابھیجیت بنرجی کی سربراہی میں گلوبل ایڈوائزری بورڈ (جی اے بی) کی میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ابھی منصوبہ زیر غور ہے۔ مگر ابھی کچھ بھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے کہ طلبا کس طرح اسکول میں آئیں گے اور اس کا نظام کیا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے اشارہ دیا کہ جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات ابھیجیت بنرجی بھی اسی دن عالمی مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ میں ممتا بنرجی کے ساتھ تھے۔

ابھیجیت بنرجی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے پہلے ہی اسکول کالج کھولنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے بعد، وزیر اعلی نے کہا، پوجا کے ایک دن بعد اسکول کھولنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ لیکن اگر اسکول کھلا بھی ہے تو کیا بچے اسکول جا سکیں گے؟ بہت سے ماہرین صحت پیش گوئی کر رہے ہیں کہ نوجوانوں کے متاثر ہونے کا زیادہ امکان ہے، خاص طور پر کووڈ کی تیسری لہر میں۔ وزیر اعلیٰ سے اس تشویش کے بارے میں پوچھے جانے پر واضح کیا کہ اس معاملے پر ابھی غور کیا جا رہا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بچوں کی صحت کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔

بچوں کی تعلیم پر کورونا وبا کا اثر اور ان کے "مستقبل” میں غیر یقینی صورتحال

0
بچوں کی تعلیم پر کورونا وبا کا اثر اور ان کے "مستقبل" میں غیر یقینی صورتحال
بچوں کی تعلیم پر کورونا وبا کا اثر اور ان کے "مستقبل" میں غیر یقینی صورتحال

کورونا کی وبا سے پورا نظام زندگی درہم برہم ہے۔ بچوں کی تعلیم پر اس کا کچھ زیادہ ہی اثر ہوا ہے، بلکہ اس وبا کے سبب بچوں کی زندگی کے معنی ہی بدل گئے ہیں۔ اب اس کی تیسری لہر کی آہٹ سے متنبہ کیا جا رہا ہے، لیکن اسکول بھی کھولے جارہے ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

کورونا کی وبا کے اس زہریلے اور مفلوج وقت میں ہر بچے کے والدین اور سرپرست اس کی تعلیم تربیت کے تئیں فکر مند نظر آتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے جس کو انتہائی سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اسکول بند ہونے کے سبب متبادل کے طور پر آن لائن تعلیم کا رواج عام ضرور ہوا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ دیکھنا چاہئے کہ آن لائن تعلیم سے ملک کے کتنے فیصد بچے استفادہ کرنے کے اہل رہے یا ان کے والدین اس حیثیت میں ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو آن لائن تعلیم کے وسائل مہیا کروا سکے۔ اس سلسلہ میں نہ صرف سرکاری سطح پر بلکہ سماجی سطح پر بھی غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کے موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ آنے والا وقت ملک کے مستقبل کے لئے کتنا مشکل ہونے والا ہے۔ ہر صاحب نظر حکمراں طبقہ کی ترجیحات سے بخوبی واقف ہے۔ ان کے عزائم اور ان کے مقاصد بھی سب کے سامنے ہیں۔ ملک کے پسماندہ، غریب، مزدور اور مظلوم طبقہ کے لئے سوائے تعلیم کے کوئی ایسا ہتھیار نہیں ہے جو مستقبل کی پریشانیوں اور آزمائشوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ لہذا اس پہلو کا ہم سب کو بہت گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

مارچ 2020 میں جب ملک میں کورونا وائرس نے شدت اختیار کی تو دیگر مقامات کے ساتھ ساتھ اسکول کالج بھی پوری طرح بند کر دئے گئےتھے۔ اب ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ملک کے بیشتر علاقوں میں اسکول بند ہی ہیں۔ اگرچہ فی الحال ملک میں کورونا سے حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں۔ حالانکہ ابھی تیسری لہر کی آہٹ سے لوگوں کو خبردار بھی کیا جا رہا ہے۔ وہیں دوسری جانب اب یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اسکول کھولے جائیں یا نہیں۔ جن ریاستوں میں ابھی اسکول کھلے ہیں، وہاں بھی طلبا کی موجودگی کافی کم درج کی جا رہی ہے۔ والدین میں تو خوف کا ماحول ہے ہی، خود وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ بچے بہت تشویشناک حد تک وائرس سے متاثر نہیں ہوں گے، لیکن وہ بڑے پیمانے پر اس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

آن لائن تعلیم میں بچوں میں پڑھائی لکھائی کے تئیں بے فکری اور بے دلی کا رجحان

ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے لے کر اب تک اس سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات میں کوئی پائیداری اور استحکام نہیں رہا ہے۔ نہ تو وائرس کے سلسلہ میں اور نہ ہی اس سے بچاؤ کے لئے کوئی ٹھوس طریقہ کار سامنے آ سکاہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ مختلف سطحوں پر کئے جانے والے اقدامات میں کتنا تضاد رہا ہے اور پھر ان میں بار بار تبدیلیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام لوگ آج تک اس وبا کے تعلق سے وسوسہ میں ہی ہیں۔ یہاں تک کہ اسکول کھل جانے کے باوجود والدین ذہنی طور پر اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کو ابھی تک تیار نہیں ہیں۔ اگرچہ ان کی تعلیم کا کافی نقصان ہو چکا ہے۔

بچوں کا پچھلا پورا تعلیمی سال تو نکل ہی چکا ہے، اب دوسرے تعلیمی سال پر کورونا کا سایہ برقرار ہے۔ فی الحال کورونا کے مریضوں کے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے حالت سازگار نظر آتے ہیں، لیکن تیسری لہر کے خدشات کی وجہ سے حالات جوں کے توں بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ دوسرے تعلیمی سال میں ابھی کافی وقت ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ خدا کرے جلد ہی حالات معمول پر آ جائیں اور بچوں کی تعلیم کا یہ سال اسی طرح ضائع نہ ہو۔ در اصل مسئلہ صرف تعلیمی سال کا نہیں ہے، بلکہ بچوں کے پورے مستقبل کا سوال ہے۔ ہر کوئی اس بات کو محسوس کر رہا ہے اور اظہار بھی کر رہا ہے کہ آن لائن تعلیم ایک متبادل ضرور ہے، لیکن اسکول کا ماحول بچوں کو نہیں ملنے سے ان کی مجموعی نشوونما کافی حد تک متاثر ہوئی ہے۔ ہم خود اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ آن لائن تعلیم میں بچوں میں پڑھائی لکھائی کے تئیں بے فکری اور بے دلی کا رجحان پیدا ہو ہے۔

اگر یہ رجحان پروان چڑھ گیا تو یہ کسی بھی ملک یا معاشرے کے لئے سم قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ اس طر ح معاشرے میں کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی طلبہ کی ذہنی و نفسیاتی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ جب کوئی بچہ اپنی سخت محنت اور جد و جہد کے بعد تعلیمی پیش رفت کرتا ہے اور اسے جو کامیابی حاصل ہوتی ہے، اس کی خوشی یقیناً اس کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کو بلند کر دیتی ہے۔ لیکن اس مرتبہ دسویں اور بارہویں کے نتائج کے بعد محنت کرنے والے طلبہ میں وہ جوش اور ولولہ نظر نہیں آیا۔

کورونا وبا سے پیش آنے والی غیر معمولی مشکلات کے سبب بچوں کی تعلیم کے نقصان کو پُر کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جانے چاہئے

مئی 2021 میں بین الاقوامی ادارہ ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاروں کو کورونا وبا سے پیش آنے والی غیر معمولی مشکلات کے سبب بچوں کی تعلیم کے نقصان کو پُر کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جانے چاہئے۔ 125؍ صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا کے سبب اسکول بند ہونے سے بچے کیسے غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے، کیونکہ کورونا وبا کے دوران بہت سے بچوں کے پاس سیکھنے کے لیے ضروری مواقع، ذرائع یا ان کی رسائی نہیں تھی۔ ہیومن رائٹس واچ نے پایا کہ وبا کے دوران آن لائن تعلیم پر ضرورت سے زیادہ انحصار نے تعلیمی امداد کی موجودہ غیر مساوی تقسیم کو فروغ دیا ہے۔ اکثر حکومتوں کے پاس آن لائن تعلیم شروع کرنے کے لیے ایسی پالیسیاں، وسائل یا انفراسٹرکچر نہیں تھا، جس سے کہ سبھی بچے یکساں طور پر تعلیم حاصل کر سکیں۔ اس کا مشاہدہ ہم اپنے ملک میں بھی بخوبی کر سکتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپریل 2020 سے اپریل 2021 کے درمیان 60؍ ممالک میں 470؍ سے زائد طلباء، والدین اور اساتذہ کے انٹرویو کیے۔

مئی 2021 تک 26؍ ممالک میں اسکول مکمل طور پر بند تھے اور 55؍ ملکوں میں اسکول صرف جزوی طور پر کھلے تھے۔ یونیسکو کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا 90؍ فیصد بچوں کی تعلیم وبا کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ لاکھوں طلباء کے لیے اسکولوں کا بند ہونا صرف ان کی تعلیم میں عارضی رکاوٹ نہیں ہے، بلکہ اچانک سے اس کا خاتمہ ہوگا۔ کیوں کہ رپورٹ بتاتی ہے کہ اکثر ملکوں میں اسکول جانے والے ان بچوں نے کام کرنا شروع کر دیا ہے، شادی کر لی ہے، والدین بن گئے ہیں، تعلیم سے مایوس ہو گئے ہیں، یہ مان لیا ہے کہ وہ پھر سے پڑھائی شروع نہیں کر سکیں گے یا عمر زیادہ ہو جانے کے سبب اپنے ملک کے قانون کے تحت مفت یا لازمی تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔

یونیسکو کے مطابق اپریل تک 190؍ سے زائد ممالک میں 140؍ کروڑ طلباء کو ان کے پری پرائمری، پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں سے غیر معمولی طریقے سے باہر کر دیا گیا

یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم یافتہ کرنے کی دہائیوں کی سست مگر مستحکم پیش رفت 2020 میں اچانک رک گئی۔ یونیسکو کے مطابق اپریل تک 190؍ سے زائد ممالک میں 140؍ کروڑ طلباء کو ان کے پری پرائمری، پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں سے غیر معمولی طریقے سے باہر کر دیا گیا۔ اسکول بند ہونے کے دوران زیادہ تر ممالک میں تعلیم یا تو آن لائن یا دیگر فاصلاتی نظام کے ذریعہ دی گئی، لیکن اس کی کامیابی اور معیار میں بہت فرق ہے۔ انٹرنیٹ تک رسائی، کنیکٹوٹی، رسائی، جسمانی تیاری، اساتذہ کی تربیت اور گھر کے حالات سمیت کئی مسائل نے بڑی حد تک فاصلاتی تعلیم کے عمل کو متاثر کیا۔

بہر حال، حکومتوں کو بھی اور سماجی طور پر سرگرم افراد کو بھی اس مسئلہ پر غو کرنا چاہئے۔ اگر ممکن ہو تو سب مل کر کوئی ایسی حکمت عملی بنائی جائے، جس سے کہ تعلیم سے بد دل ہو رہے اور کچھ مجبوراً دور ہو رہے بچوں کو پوری توانائی کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں میں ملوث کیا جا سکے۔ جو بچے یا ان کے والدین معاشی تنگی کی وجہ سے تعلیم سے دور ہو رہے ہیں اُن کی پریشانیوں کو دورکرنے کی کوششیں کی جائیں۔ اگر ان بچوں کے مستقبل کے تئیں سوچا نہیں گیا تو یہ ملک بھر کے طلبہ کا ہمہ جہتی نقصان ہوگا اور اس کا اثر ملک کے ہر شعبۂ حیات پر پڑےگا۔ اس لئے ہر صاحب حیثیت اور ذمہ دار شہری کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں جتنا جلدی ہو سکے، غور و خوض کرکے کوئی حکمت عملی مرتب کریں۔ جس سے کہ ملک کے مستقبل کو تاریکی میں جانے سے بچایا جا سکے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

حیدرآباد کی بھارت بائیوٹیک کمپنی کے تیار کردہ کوویکسن ٹیکہ کو ملی ہنگری سے سرٹیفکیٹ

0
حیدرآباد کی بھارت بائیوٹیک کمپنی کے تیار کردہ کوویکسن ٹیکہ کو ملی ہنگری سے سرٹیفکیٹ
حیدرآباد کی بھارت بائیوٹیک کمپنی کے تیار کردہ کوویکسن ٹیکہ کو ملی ہنگری سے سرٹیفکیٹ

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے بھارت بائیوٹیک کمپنی نے کہا ”ہمارے اکاؤنٹ میں ایک اور سنگ میل ہوا ہے کیونکہ کوویکسن کو ہنگری سے جی ایم پی سرٹیفکیٹ حاصل ہوا ہے“۔

حیدرآباد: ہندوستان کے دیسی ساختہ کووڈ 19 ٹیکے کوویکسن جس کو حیدرآباد کی بھارت بائیوٹیک کمپنی نے تیار کیا ہے، کو ہنگری کے حکام سے جی ایم پی سرٹیفکیٹ حاصل ہوا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی اینڈ نیوٹریشن ہنگری سے اس کی منظوری ملی ہے جس کے ذریعہ کوویکسن کی تیاری کے لئے گوڈ مینوفیکچرنگ پریکٹس (جی ایم پی) سے تصدیق کی گئی۔ بھارت بائیوٹیک دنیا کے مختلف ممالک میں ایمرجنسی یوز اتھارائزیشن کے لئے دستاویزات کو داخل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

جمعرات کو مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے کمپنی نے کہا ”ہمارے اکاؤنٹ میں ایک اور سنگ میل ہوا ہے کیونکہ کوویکسن کو ہنگری سے جی ایم پی سرٹیفکیٹ حاصل ہوا ہے“۔ اس منظوری کے بعد بھارت بائیوٹیک نے عالمی معیار کے مطابق ٹیکوں کی تیاری اور اختراعات میں ایک اور اہم سنگ میل کو عبور کیا ہے اور کووڈ کی وبا کے خلاف جاری لڑائی میں پیش قدمی کی ہے۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نے ہاکی ٹیم کو ٹوکیو اولمپکس میں کانسہ کا تمغہ جیتنے پر دی مبارکباد 

0
بہار کے وزیر اعلیٰ نے ہاکی ٹیم کو ٹوکیو اولمپکس میں کانسہ کا تمغہ جیتنے پر دی مبارکباد 

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنے مبارکبادی پیغام میں کہا کہ ہندوستانی مرد ہاکی ٹیم نے ٹوکیو اولمپکس میں کانسہ کا تمغہ جیت کر ہاکی کے کھیل میں نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس پر ہر ہندوستانی کو فخر ہے۔

پٹنہ: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ٹوکیو اولمپکس کے ہاکی مقابلے میں کانسہ کا تمغہ جیتنے والی مردوں کی ہند ہاکی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کی دعا کی ہے۔

مسٹر کمار نے جمعرات کو اپنے مبارکبادی پیغام میں کہا کہ ہندوستانی مرد ہاکی ٹیم نے اولمپک کھیلوں میں کانسہ کا تمغہ جیت کر ہاکی کے کھیل میں نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس پر ہر ہندوستانی کو فخر ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک کی مردوں کی ہاکی ٹیم بلند ترین مقام پر پہنچے اور ہندوستان کا نام روشن کرے۔ ایسی میری خواہش ہے۔

بہار میں 16 اگست سے پہلی سے آٹھویں کلاس تک کے اسکول کھولے جائیں گے

0
بہار میں 16 اگست سے پہلی سے آٹھویں کلاس تک کے اسکول کھولے جائیں گے
بہار میں 16 اگست سے پہلی سے آٹھویں کلاس تک کے اسکول کھولے جائیں گے

ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ چیتنیہ پرساد نے بتایا کہ ریاست میں کورونا انفیکشن کی کمی کے پیش نظر 07 اگست 2021 سے نویں سے دسویں جماعت کے جبکہ 16 اگست سے پہلی سے آٹھویں کلاس تک کے اسکول کھولے جائیں گے۔

پٹنہ: بہار میں کورونا انفیکشن کی دوسری لہر کے اثر کم ہونے کے بعد حکومت نے طلبا کی باقاعدہ تعلیم کے لیے 16 اگست سے پہلی سے آٹھویں کلاس تک اسکول کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ چیتنیہ پرساد نے بدھ کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی صدارت میں ختم ہوئی ڈیزاسٹر مینجمنٹ گروپ کی میٹنگ کے بعد محکمہ صحت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری پرتیہ امرت اور پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کے سکریٹری انوپم کمار کی موجودگی میں آن لائن منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ریاست میں کورونا انفیکشن کی کمی کے پیش نظر 07 اگست 2021 سے نویں سے دسویں جماعت کے جبکہ 16 اگست سے پہلی سے آٹھویں کلاس تک کے اسکول کھولے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تمام اسکول طلبا کی کل گنجائش کی 50 فیصد حاضری کے ساتھ یا ایک روز فرق کے ساتھ کھولے جائیں گے۔

مسٹر پرساد نے بتایا کہ کستوربا ودیالیہ، کرپوری ہاسٹل بھی ان ضوابط کے ساتھ کھول دئیں جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول کھولنے سے پہلے محکمہ تعلیم تمام سکولوں میں صاف صفائی اور سینیٹازیشن کے کام کو یقینی بنائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اسکولوں میں بچوں کو کووڈ دوستانہ رویے کے بارے میں معلومات دی جائے گی۔

سینسیکس پہلی بار 54370 پوائنٹس اور نفٹی بھی 16259 پوائنٹس پر

0
سینسیکس پہلی بار 54370 پوائنٹس اور نفٹی بھی 16259 پوائنٹس پر
سینسیکس پہلی بار 54370 پوائنٹس اور نفٹی بھی 16259 پوائنٹس پر

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 546.41 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پہلی بار 54 ہزار پوائنٹس کی سطح کو عبور کرتے ہوئے 54369.77 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

ممبئی: عالمی سطح سے ملے جلے اشاروں کے ساتھ گھریلو سطح پر بینکنگ اور مالیاتی گروپ کی کمپنیوں میں ہوئی خریداری کی بنیاد پر اسٹاک مارکیٹ نئی بلندیوں تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔ اس دوران بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 546.41 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پہلی بار 54 ہزار پوائنٹس کی سطح کو عبور کرتے ہوئے 54369.77 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔  نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 128.05 پوائنٹس بڑھ کر 16258.80 پوائنٹس کی نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔

بینکنگ اور فنانس گروپ کی کمپنیوں میں خرید کی بنیاد پر جہاں سینسیکس ایک نئی بلندی پر پہنچ گیا، وہیں چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں خریداری دیکھی گئی۔ جس کی وجہ سے بی ایس ای کا مڈکیپ 1.05 فیصد گر کر 23129.71 پوائنٹس اور سمال کیپ 1.06 فیصد گر کر 26847.56 پوائنٹس پر رہا۔

بی ایس ای کے بیشتر گروپ گراوٹ میں رہے، جس میں ٹیلی کام 2.25 فیصد اور رئیلٹی 1.69 فیصد ہے۔ اضافے میں صرف چار گروپ رہے، جس میں بینکنگ 2.60 فیصد، فنانس 2.13 فیصد، توانائی 0.43 فیصد اور پاور 0.01 فیصد شامل ہیں۔