ہفتہ, مارچ 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 322

بنگال میں درگا پوجا کے بعد اسکول اور کالج کھولنے کے منصوبے پر غور: ممتا بنرجی

0
بنگال میں درگا پوجا کے بعد اسکول اور کالج کھولنے کے منصوبے پر غور: ممتا بنرجی
بنگال میں درگا پوجا کے بعد اسکول اور کالج کھولنے کے منصوبے پر غور: ممتا بنرجی

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج کہا کہ ان کی حکومت نومبر میں درگا پوجا کی تعطیلات کے بعد متبادل دنوں میں اسکول اور کالج دوبارہ کھولنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج کہا کہ ان کی حکومت نومبر میں درگا پوجا کی چھٹیوں کے بعد متبادل دنوں میں اسکول اور کالج دوبارہ کھولنے کے آپشنز پر غور کر رہی ہے۔گزشتہ سال مارچ میں کووڈ 19 وبائی بیماری کے پھیلنے کے بعد سے ہی ریاست میں تعلیمی ادارے بند ہیں۔

ممتا بنرجی نے ریاستی سیکرٹریٹ میں نوبل انعام یافتہ ابھیجیت بنرجی کی سربراہی میں گلوبل ایڈوائزری بورڈ (جی اے بی) کی میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ابھی منصوبہ زیر غور ہے۔ مگر ابھی کچھ بھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے کہ طلبا کس طرح اسکول میں آئیں گے اور اس کا نظام کیا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے اشارہ دیا کہ جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات ابھیجیت بنرجی بھی اسی دن عالمی مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ میں ممتا بنرجی کے ساتھ تھے۔

ابھیجیت بنرجی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے پہلے ہی اسکول کالج کھولنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے بعد، وزیر اعلی نے کہا، پوجا کے ایک دن بعد اسکول کھولنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ لیکن اگر اسکول کھلا بھی ہے تو کیا بچے اسکول جا سکیں گے؟ بہت سے ماہرین صحت پیش گوئی کر رہے ہیں کہ نوجوانوں کے متاثر ہونے کا زیادہ امکان ہے، خاص طور پر کووڈ کی تیسری لہر میں۔ وزیر اعلیٰ سے اس تشویش کے بارے میں پوچھے جانے پر واضح کیا کہ اس معاملے پر ابھی غور کیا جا رہا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بچوں کی صحت کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔

بچوں کی تعلیم پر کورونا وبا کا اثر اور ان کے "مستقبل” میں غیر یقینی صورتحال

0
بچوں کی تعلیم پر کورونا وبا کا اثر اور ان کے "مستقبل" میں غیر یقینی صورتحال
بچوں کی تعلیم پر کورونا وبا کا اثر اور ان کے "مستقبل" میں غیر یقینی صورتحال

کورونا کی وبا سے پورا نظام زندگی درہم برہم ہے۔ بچوں کی تعلیم پر اس کا کچھ زیادہ ہی اثر ہوا ہے، بلکہ اس وبا کے سبب بچوں کی زندگی کے معنی ہی بدل گئے ہیں۔ اب اس کی تیسری لہر کی آہٹ سے متنبہ کیا جا رہا ہے، لیکن اسکول بھی کھولے جارہے ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

کورونا کی وبا کے اس زہریلے اور مفلوج وقت میں ہر بچے کے والدین اور سرپرست اس کی تعلیم تربیت کے تئیں فکر مند نظر آتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے جس کو انتہائی سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اسکول بند ہونے کے سبب متبادل کے طور پر آن لائن تعلیم کا رواج عام ضرور ہوا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ دیکھنا چاہئے کہ آن لائن تعلیم سے ملک کے کتنے فیصد بچے استفادہ کرنے کے اہل رہے یا ان کے والدین اس حیثیت میں ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو آن لائن تعلیم کے وسائل مہیا کروا سکے۔ اس سلسلہ میں نہ صرف سرکاری سطح پر بلکہ سماجی سطح پر بھی غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کے موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ آنے والا وقت ملک کے مستقبل کے لئے کتنا مشکل ہونے والا ہے۔ ہر صاحب نظر حکمراں طبقہ کی ترجیحات سے بخوبی واقف ہے۔ ان کے عزائم اور ان کے مقاصد بھی سب کے سامنے ہیں۔ ملک کے پسماندہ، غریب، مزدور اور مظلوم طبقہ کے لئے سوائے تعلیم کے کوئی ایسا ہتھیار نہیں ہے جو مستقبل کی پریشانیوں اور آزمائشوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ لہذا اس پہلو کا ہم سب کو بہت گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

مارچ 2020 میں جب ملک میں کورونا وائرس نے شدت اختیار کی تو دیگر مقامات کے ساتھ ساتھ اسکول کالج بھی پوری طرح بند کر دئے گئےتھے۔ اب ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ملک کے بیشتر علاقوں میں اسکول بند ہی ہیں۔ اگرچہ فی الحال ملک میں کورونا سے حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں۔ حالانکہ ابھی تیسری لہر کی آہٹ سے لوگوں کو خبردار بھی کیا جا رہا ہے۔ وہیں دوسری جانب اب یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اسکول کھولے جائیں یا نہیں۔ جن ریاستوں میں ابھی اسکول کھلے ہیں، وہاں بھی طلبا کی موجودگی کافی کم درج کی جا رہی ہے۔ والدین میں تو خوف کا ماحول ہے ہی، خود وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ بچے بہت تشویشناک حد تک وائرس سے متاثر نہیں ہوں گے، لیکن وہ بڑے پیمانے پر اس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

آن لائن تعلیم میں بچوں میں پڑھائی لکھائی کے تئیں بے فکری اور بے دلی کا رجحان

ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے لے کر اب تک اس سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات میں کوئی پائیداری اور استحکام نہیں رہا ہے۔ نہ تو وائرس کے سلسلہ میں اور نہ ہی اس سے بچاؤ کے لئے کوئی ٹھوس طریقہ کار سامنے آ سکاہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ مختلف سطحوں پر کئے جانے والے اقدامات میں کتنا تضاد رہا ہے اور پھر ان میں بار بار تبدیلیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام لوگ آج تک اس وبا کے تعلق سے وسوسہ میں ہی ہیں۔ یہاں تک کہ اسکول کھل جانے کے باوجود والدین ذہنی طور پر اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کو ابھی تک تیار نہیں ہیں۔ اگرچہ ان کی تعلیم کا کافی نقصان ہو چکا ہے۔

بچوں کا پچھلا پورا تعلیمی سال تو نکل ہی چکا ہے، اب دوسرے تعلیمی سال پر کورونا کا سایہ برقرار ہے۔ فی الحال کورونا کے مریضوں کے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے حالت سازگار نظر آتے ہیں، لیکن تیسری لہر کے خدشات کی وجہ سے حالات جوں کے توں بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ دوسرے تعلیمی سال میں ابھی کافی وقت ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ خدا کرے جلد ہی حالات معمول پر آ جائیں اور بچوں کی تعلیم کا یہ سال اسی طرح ضائع نہ ہو۔ در اصل مسئلہ صرف تعلیمی سال کا نہیں ہے، بلکہ بچوں کے پورے مستقبل کا سوال ہے۔ ہر کوئی اس بات کو محسوس کر رہا ہے اور اظہار بھی کر رہا ہے کہ آن لائن تعلیم ایک متبادل ضرور ہے، لیکن اسکول کا ماحول بچوں کو نہیں ملنے سے ان کی مجموعی نشوونما کافی حد تک متاثر ہوئی ہے۔ ہم خود اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ آن لائن تعلیم میں بچوں میں پڑھائی لکھائی کے تئیں بے فکری اور بے دلی کا رجحان پیدا ہو ہے۔

اگر یہ رجحان پروان چڑھ گیا تو یہ کسی بھی ملک یا معاشرے کے لئے سم قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ اس طر ح معاشرے میں کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی طلبہ کی ذہنی و نفسیاتی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ جب کوئی بچہ اپنی سخت محنت اور جد و جہد کے بعد تعلیمی پیش رفت کرتا ہے اور اسے جو کامیابی حاصل ہوتی ہے، اس کی خوشی یقیناً اس کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کو بلند کر دیتی ہے۔ لیکن اس مرتبہ دسویں اور بارہویں کے نتائج کے بعد محنت کرنے والے طلبہ میں وہ جوش اور ولولہ نظر نہیں آیا۔

کورونا وبا سے پیش آنے والی غیر معمولی مشکلات کے سبب بچوں کی تعلیم کے نقصان کو پُر کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جانے چاہئے

مئی 2021 میں بین الاقوامی ادارہ ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاروں کو کورونا وبا سے پیش آنے والی غیر معمولی مشکلات کے سبب بچوں کی تعلیم کے نقصان کو پُر کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جانے چاہئے۔ 125؍ صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا کے سبب اسکول بند ہونے سے بچے کیسے غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے، کیونکہ کورونا وبا کے دوران بہت سے بچوں کے پاس سیکھنے کے لیے ضروری مواقع، ذرائع یا ان کی رسائی نہیں تھی۔ ہیومن رائٹس واچ نے پایا کہ وبا کے دوران آن لائن تعلیم پر ضرورت سے زیادہ انحصار نے تعلیمی امداد کی موجودہ غیر مساوی تقسیم کو فروغ دیا ہے۔ اکثر حکومتوں کے پاس آن لائن تعلیم شروع کرنے کے لیے ایسی پالیسیاں، وسائل یا انفراسٹرکچر نہیں تھا، جس سے کہ سبھی بچے یکساں طور پر تعلیم حاصل کر سکیں۔ اس کا مشاہدہ ہم اپنے ملک میں بھی بخوبی کر سکتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپریل 2020 سے اپریل 2021 کے درمیان 60؍ ممالک میں 470؍ سے زائد طلباء، والدین اور اساتذہ کے انٹرویو کیے۔

مئی 2021 تک 26؍ ممالک میں اسکول مکمل طور پر بند تھے اور 55؍ ملکوں میں اسکول صرف جزوی طور پر کھلے تھے۔ یونیسکو کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا 90؍ فیصد بچوں کی تعلیم وبا کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ لاکھوں طلباء کے لیے اسکولوں کا بند ہونا صرف ان کی تعلیم میں عارضی رکاوٹ نہیں ہے، بلکہ اچانک سے اس کا خاتمہ ہوگا۔ کیوں کہ رپورٹ بتاتی ہے کہ اکثر ملکوں میں اسکول جانے والے ان بچوں نے کام کرنا شروع کر دیا ہے، شادی کر لی ہے، والدین بن گئے ہیں، تعلیم سے مایوس ہو گئے ہیں، یہ مان لیا ہے کہ وہ پھر سے پڑھائی شروع نہیں کر سکیں گے یا عمر زیادہ ہو جانے کے سبب اپنے ملک کے قانون کے تحت مفت یا لازمی تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔

یونیسکو کے مطابق اپریل تک 190؍ سے زائد ممالک میں 140؍ کروڑ طلباء کو ان کے پری پرائمری، پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں سے غیر معمولی طریقے سے باہر کر دیا گیا

یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم یافتہ کرنے کی دہائیوں کی سست مگر مستحکم پیش رفت 2020 میں اچانک رک گئی۔ یونیسکو کے مطابق اپریل تک 190؍ سے زائد ممالک میں 140؍ کروڑ طلباء کو ان کے پری پرائمری، پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں سے غیر معمولی طریقے سے باہر کر دیا گیا۔ اسکول بند ہونے کے دوران زیادہ تر ممالک میں تعلیم یا تو آن لائن یا دیگر فاصلاتی نظام کے ذریعہ دی گئی، لیکن اس کی کامیابی اور معیار میں بہت فرق ہے۔ انٹرنیٹ تک رسائی، کنیکٹوٹی، رسائی، جسمانی تیاری، اساتذہ کی تربیت اور گھر کے حالات سمیت کئی مسائل نے بڑی حد تک فاصلاتی تعلیم کے عمل کو متاثر کیا۔

بہر حال، حکومتوں کو بھی اور سماجی طور پر سرگرم افراد کو بھی اس مسئلہ پر غو کرنا چاہئے۔ اگر ممکن ہو تو سب مل کر کوئی ایسی حکمت عملی بنائی جائے، جس سے کہ تعلیم سے بد دل ہو رہے اور کچھ مجبوراً دور ہو رہے بچوں کو پوری توانائی کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں میں ملوث کیا جا سکے۔ جو بچے یا ان کے والدین معاشی تنگی کی وجہ سے تعلیم سے دور ہو رہے ہیں اُن کی پریشانیوں کو دورکرنے کی کوششیں کی جائیں۔ اگر ان بچوں کے مستقبل کے تئیں سوچا نہیں گیا تو یہ ملک بھر کے طلبہ کا ہمہ جہتی نقصان ہوگا اور اس کا اثر ملک کے ہر شعبۂ حیات پر پڑےگا۔ اس لئے ہر صاحب حیثیت اور ذمہ دار شہری کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں جتنا جلدی ہو سکے، غور و خوض کرکے کوئی حکمت عملی مرتب کریں۔ جس سے کہ ملک کے مستقبل کو تاریکی میں جانے سے بچایا جا سکے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

حیدرآباد کی بھارت بائیوٹیک کمپنی کے تیار کردہ کوویکسن ٹیکہ کو ملی ہنگری سے سرٹیفکیٹ

0
حیدرآباد کی بھارت بائیوٹیک کمپنی کے تیار کردہ کوویکسن ٹیکہ کو ملی ہنگری سے سرٹیفکیٹ
حیدرآباد کی بھارت بائیوٹیک کمپنی کے تیار کردہ کوویکسن ٹیکہ کو ملی ہنگری سے سرٹیفکیٹ

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے بھارت بائیوٹیک کمپنی نے کہا ”ہمارے اکاؤنٹ میں ایک اور سنگ میل ہوا ہے کیونکہ کوویکسن کو ہنگری سے جی ایم پی سرٹیفکیٹ حاصل ہوا ہے“۔

حیدرآباد: ہندوستان کے دیسی ساختہ کووڈ 19 ٹیکے کوویکسن جس کو حیدرآباد کی بھارت بائیوٹیک کمپنی نے تیار کیا ہے، کو ہنگری کے حکام سے جی ایم پی سرٹیفکیٹ حاصل ہوا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی اینڈ نیوٹریشن ہنگری سے اس کی منظوری ملی ہے جس کے ذریعہ کوویکسن کی تیاری کے لئے گوڈ مینوفیکچرنگ پریکٹس (جی ایم پی) سے تصدیق کی گئی۔ بھارت بائیوٹیک دنیا کے مختلف ممالک میں ایمرجنسی یوز اتھارائزیشن کے لئے دستاویزات کو داخل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

جمعرات کو مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے کمپنی نے کہا ”ہمارے اکاؤنٹ میں ایک اور سنگ میل ہوا ہے کیونکہ کوویکسن کو ہنگری سے جی ایم پی سرٹیفکیٹ حاصل ہوا ہے“۔ اس منظوری کے بعد بھارت بائیوٹیک نے عالمی معیار کے مطابق ٹیکوں کی تیاری اور اختراعات میں ایک اور اہم سنگ میل کو عبور کیا ہے اور کووڈ کی وبا کے خلاف جاری لڑائی میں پیش قدمی کی ہے۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نے ہاکی ٹیم کو ٹوکیو اولمپکس میں کانسہ کا تمغہ جیتنے پر دی مبارکباد 

0
بہار کے وزیر اعلیٰ نے ہاکی ٹیم کو ٹوکیو اولمپکس میں کانسہ کا تمغہ جیتنے پر دی مبارکباد 

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنے مبارکبادی پیغام میں کہا کہ ہندوستانی مرد ہاکی ٹیم نے ٹوکیو اولمپکس میں کانسہ کا تمغہ جیت کر ہاکی کے کھیل میں نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس پر ہر ہندوستانی کو فخر ہے۔

پٹنہ: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ٹوکیو اولمپکس کے ہاکی مقابلے میں کانسہ کا تمغہ جیتنے والی مردوں کی ہند ہاکی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کی دعا کی ہے۔

مسٹر کمار نے جمعرات کو اپنے مبارکبادی پیغام میں کہا کہ ہندوستانی مرد ہاکی ٹیم نے اولمپک کھیلوں میں کانسہ کا تمغہ جیت کر ہاکی کے کھیل میں نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس پر ہر ہندوستانی کو فخر ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک کی مردوں کی ہاکی ٹیم بلند ترین مقام پر پہنچے اور ہندوستان کا نام روشن کرے۔ ایسی میری خواہش ہے۔

بہار میں 16 اگست سے پہلی سے آٹھویں کلاس تک کے اسکول کھولے جائیں گے

0
بہار میں 16 اگست سے پہلی سے آٹھویں کلاس تک کے اسکول کھولے جائیں گے
بہار میں 16 اگست سے پہلی سے آٹھویں کلاس تک کے اسکول کھولے جائیں گے

ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ چیتنیہ پرساد نے بتایا کہ ریاست میں کورونا انفیکشن کی کمی کے پیش نظر 07 اگست 2021 سے نویں سے دسویں جماعت کے جبکہ 16 اگست سے پہلی سے آٹھویں کلاس تک کے اسکول کھولے جائیں گے۔

پٹنہ: بہار میں کورونا انفیکشن کی دوسری لہر کے اثر کم ہونے کے بعد حکومت نے طلبا کی باقاعدہ تعلیم کے لیے 16 اگست سے پہلی سے آٹھویں کلاس تک اسکول کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ چیتنیہ پرساد نے بدھ کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی صدارت میں ختم ہوئی ڈیزاسٹر مینجمنٹ گروپ کی میٹنگ کے بعد محکمہ صحت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری پرتیہ امرت اور پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کے سکریٹری انوپم کمار کی موجودگی میں آن لائن منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ریاست میں کورونا انفیکشن کی کمی کے پیش نظر 07 اگست 2021 سے نویں سے دسویں جماعت کے جبکہ 16 اگست سے پہلی سے آٹھویں کلاس تک کے اسکول کھولے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تمام اسکول طلبا کی کل گنجائش کی 50 فیصد حاضری کے ساتھ یا ایک روز فرق کے ساتھ کھولے جائیں گے۔

مسٹر پرساد نے بتایا کہ کستوربا ودیالیہ، کرپوری ہاسٹل بھی ان ضوابط کے ساتھ کھول دئیں جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول کھولنے سے پہلے محکمہ تعلیم تمام سکولوں میں صاف صفائی اور سینیٹازیشن کے کام کو یقینی بنائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اسکولوں میں بچوں کو کووڈ دوستانہ رویے کے بارے میں معلومات دی جائے گی۔

سینسیکس پہلی بار 54370 پوائنٹس اور نفٹی بھی 16259 پوائنٹس پر

0
سینسیکس پہلی بار 54370 پوائنٹس اور نفٹی بھی 16259 پوائنٹس پر
سینسیکس پہلی بار 54370 پوائنٹس اور نفٹی بھی 16259 پوائنٹس پر

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 546.41 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پہلی بار 54 ہزار پوائنٹس کی سطح کو عبور کرتے ہوئے 54369.77 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

ممبئی: عالمی سطح سے ملے جلے اشاروں کے ساتھ گھریلو سطح پر بینکنگ اور مالیاتی گروپ کی کمپنیوں میں ہوئی خریداری کی بنیاد پر اسٹاک مارکیٹ نئی بلندیوں تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔ اس دوران بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 546.41 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پہلی بار 54 ہزار پوائنٹس کی سطح کو عبور کرتے ہوئے 54369.77 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔  نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 128.05 پوائنٹس بڑھ کر 16258.80 پوائنٹس کی نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔

بینکنگ اور فنانس گروپ کی کمپنیوں میں خرید کی بنیاد پر جہاں سینسیکس ایک نئی بلندی پر پہنچ گیا، وہیں چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں خریداری دیکھی گئی۔ جس کی وجہ سے بی ایس ای کا مڈکیپ 1.05 فیصد گر کر 23129.71 پوائنٹس اور سمال کیپ 1.06 فیصد گر کر 26847.56 پوائنٹس پر رہا۔

بی ایس ای کے بیشتر گروپ گراوٹ میں رہے، جس میں ٹیلی کام 2.25 فیصد اور رئیلٹی 1.69 فیصد ہے۔ اضافے میں صرف چار گروپ رہے، جس میں بینکنگ 2.60 فیصد، فنانس 2.13 فیصد، توانائی 0.43 فیصد اور پاور 0.01 فیصد شامل ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا دو بجے تک ملتوی ملتوی

0
اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا دو بجے تک ملتوی ملتوی
اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا دو بجے تک ملتوی ملتوی

راجیہ سبھا میں پیگاسز جاسوسی کیس، کسانوں کے مسائل اور مہنگائی پر راجیہ سبھا میں شور و غل اور ہنگامہ، ایوان کو دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے پیگاسز جاسوسی کیس، کسانوں کے مسائل اور مہنگائی پر راجیہ سبھا میں شور و غل اور ہنگامہ کیا۔ جس کی وجہ سے ایوان کو دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

صبح ضروری دستاویزات میز پر رکھے جانے کے بعد چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ضابطے 267 کے تحت سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو اور کئی دیگر ارکان نے کسانوں کی تحریک کے حوالے سے نوٹس دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی تحریک ایک اہم معاملہ ہے اور اس پر دیگر التزامات کے تحت بحث کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ کئی ممبران نے مہنگائی اور معاشی صورتحال پر بات کرنے کے لیے نوٹس دیے ہیں۔ حکومت اہم امور پر بھی بات چیت کرنا چاہتی ہے۔

اس دوران کانگریس اور ترنمول کانگریس کے ارکان ایوان کے وسط میں آگئے اور شور شرابہ کرنے لگے۔ ترنمول کانگریس کے اراکین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

مسٹر نائیڈو نے کہا کہ جو ارکان ایوان کے بیچ میں کھڑے ہیں وہ اپنی جگہوں پر چلے جائیں نہیں تو وہ ضابطہ 155 کے تحت ارکان کے نام لیں گے اور وہ ایوان کی دن بھر کی کارروائی سے محروم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے ارکان کو ایوان سے باہر جانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد بھی جب ارکان کا شور جاری رہا تو چیئرمین نے کہا کہ جو ارکان ایوان کے بیچ میں کھڑے ہیں، سیکرٹریٹ ان کی فہرست ایوان نشیں کو دے گا۔ اس کے بعد بھی ہنگامہ جاری رہنے پر ایوان کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

نیپال: کھٹمنڈو وادی میں لاک ڈاؤن کی مدت میں ایک بار پھر اضافہ

0
نیپال: کھٹمنڈو وادی میں لاک ڈاؤن کی مدت میں ایک بار پھر اضافہ
نیپال: کھٹمنڈو وادی میں لاک ڈاؤن کی مدت میں ایک بار پھر اضافہ

کھٹمنڈو وادی اور نیپال کے کئی حصے اپریل کے آخر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کو کنٹرول کرنے کے لیے لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا اور موجودہ لاک ڈاؤن بدھ کی نصف شب تک جاری ہے۔

کھٹمنڈو: نیپال میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان، کھٹمنڈو وادی میں حکام نے لاک ڈاؤن کو سات دن تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وادی کی کھٹمنڈو، بھکت پور اور للت پور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ گزشتہ ہفتوں میں کی گئیں پابندیوں کے اقدامات میں تقریباً سبھی رعایتوں کو جاری رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کی مدت ایک بار پھر جمعرات سے 11 اگست تک بڑھا دی گئی ہے۔ نئے ضابطوں کے تحت گزشتہ فیصلے کو بدلتے ہوئے سیمینار یا تربیتی پروگراموں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ پہلے زیادہ سے زیادہ 25 افراد کی شرکت کے ساتھ ایسی سرگرمیوں کی اجازت تھی۔

کھٹمنڈو کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر کالی پرساد پرجولی نے بتایا ’’ہم نے لاک ڈاؤن میں توسیع کی، لیکن کووڈ -19 کیسز میں حالیہ اضافے کے باوجود پابندیوں میں زیادہ اضافہ نہیں کیا۔ ہم نے ممنوعہ احکامات کی خلاف ورزی کے خلاف چوکسی بڑھا دی ہے اور منگل سے ممنوعہ احکامات کو سختی سے نافذ کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں‘‘۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ وادی کھٹمنڈو اور نیپال کے کئی حصے اپریل کے آخر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کو کنٹرول کرنے کے لیے لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا اور موجودہ لاک ڈاؤن بدھ کی نصف شب تک جاری ہے۔

ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5395 کورونا کے نئے کیسز کا اضافہ

0
ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5395 کورونا کے نئے کیسز کا اضافہ
ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5395 کورونا کے نئے کیسز کا اضافہ

ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5395 کورونا کے نئے کیسز کا اضافہ ہوا ہے۔ 62 لاکھ 53 ہزار 741 افراد کو کورونا کی ویکسین لگائی گئی ہے اور اب تک 48 کروڑ 52 لاکھ 86 ہزار 570 افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

نئی دہلی: گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 5395 کورونا کے نئے کیسز کا اضافہ ہوا ہے اور 562 افراد کی موت ہوئی ہیں۔

اس دوران منگل کو ملک میں 62 لاکھ 53 ہزار 741 افراد کو کورونا کی ویکسین لگائی گئی اور اب تک 48 کروڑ 52 لاکھ 86 ہزار 570 افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

مرکزی وزارت صحت کی جانب سے بدھ کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں کورونا کے 42626 نئے کیسز کی آمد کے ساتھ متاثرہ افراد کی تعداد تین کروڑ 17 لاکھ 69 ہزار 132 ہو گئی ہے۔

اس دوران 36 ہزار 668 مریضوں کی صحت یابی کے بعد اس وبا کو شکست دینے والے افراد کی کل تعداد بڑھ کر 309،33022 ہو گئی ہے۔ ایکٹو کیسز 5395 بڑھ کر 4 لاکھ 10 ہزار 353 ہو گئے ہیں۔ اسی عرصے میں 562 مریضوں کی موت کے باعث اموات کی تعداد بڑھ کر چار لاکھ 25 ہزار 757 ہو گئی ہے۔ ملک میں ایکٹو کیسز کی شرح کم ہو کر 1.29 فیصد، صحت یابی کی شرح 97.37 فیصد اور اموات کی شرح 1.34 فیصد ہو گئی ہے۔

مہاراشٹر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فعال معاملات 971 کم ہوکر 77729 رہ گئے ہیں۔  دریں اثنا ریاست میں 6799 مریضوں کی صحت یابی کے بعد کورونا سے نجات پانے والے لوگوں کی تعداد بڑھ کر 6110124 ہوگئی ہے۔ جبکہ 177 مریضوں کی موت کے باعث اموات کی تعداد بڑھ کر 133215 ہوگئی ہے۔

اسے بھی پڑھیں:

کورونا کے بڑھتے معاملات: جاپان کے مزید چار صوبوں میں ایمرجنسی نافذ

پینٹاگن کے باہر ہوئی گولی باری میں ایک افسر کی موت

0
پینٹاگن کے باہر ہوئی گولی باری میں ایک افسر کی موت
پینٹاگن کے باہر ہوئی گولی باری میں ایک افسر کی موت

امریکی محکمہ دفاع کے باہر ہوئی گولی باری میں ایک افسر کی موت ہوگئی ہے۔ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افسر کے اعزاز میں پینٹاگن میں جھنڈا سرنگوں کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع کے باہر ہوئی گولی باری میں ایک افسر کی موت ہوگئی ہے۔ پینٹاگن فورس پروٹیکشن ایجنسی (پی ایف پی اے) نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔

ایجنسی کے افسر نے، منگل کے روز ٹویٹر پر ’’پی ایف پی اے پینٹاگن میں آج صبح پیش آئے واقعہ میں پینٹاگن پولیس افسر کی ہلاکت پر تعزیت کا اظہار کیا‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ہماری تعزیت اور دعائیں افسر کے خاندان کے ساتھ ہیں۔ افسر کے بارے میں مزید تفصیلات ان کے گھر والوں کی اطلاع کے بعد دی جائیں گی‘‘۔

اس سے قبل پینٹاگن پولیس چیف ووڈرو کوسے نے کہا تھا کہ محکمہ دفاع کی عمارت کے باہر ایک میٹرو بس پلیٹ فارم کے پولیس افسر پر حملہ کیا گیا تھا اور فائرنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی مزید مشتبہ کو تلاش نہیں کر رہے ہیں اور کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن واقعے کی تحقیقات جاری ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے مشتبہ متوفی کی شناخت آسٹن ولیم لینج (27) کے طور پر کی ہے۔ وہ جارجیا کا رہائشی تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لینج نے پینٹاگن کے ایک پولیس افسر کی گردن پر چاقو سے حملہ کیا۔ جس کے بعد دیگر افسران نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ واقعے کے حالات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مقتول افسر کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افسر کے اعزاز میں پینٹاگن میں جھنڈا سرنگوں کرنے کا بھی حکم دیا۔