بدھ, مئی 13, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 319

طالبان کی زبردست پیش قدمی کے سبب امریکہ کا افغان صدر سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ

0
طالبان کی زبردست پیش قدمی کے سبب امریکہ کا افغان صدر سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ

تفصیلات کے مطابق طالبان کی زبردست پیش قدمی کی وجہ سے امریکہ نے افغان صدر اشرف غنی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر دفاع جنرل آسٹن اور امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے افغان صدر اشرف غنی کو فون کیا ہے۔

امریکہ نے افغان صدر اشرف غنی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کی زبردست پیش قدمی کی وجہ سے مستعفی ہو جائیں۔

واشنگٹن: امریکہ میں ذرائع نے کہا ہے کہ امریکہ نے افغان صدر اشرف غنی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکہ نے افغان صدر اشرف غنی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر دفاع جنرل آسٹن اور امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے افغان صدر اشرف غنی کو فون کیا ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کی جانب سے اشرف غنی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ امریکہ نے کہا کہ سیز فائر کے لیے ضروری ہے کہ اشرف غنی اقتدار سے الگ ہو جائیں اور عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔

دوسری طرف عبداللہ کو عبوری اسیٹ میں ذمہ داریاں ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ادھرافغان نائب صدر کے ملک سے فرار کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں۔

افغان میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امراللہ صالح رات کی تاریکی میں کابل سے تاجکستان چلے گئے ہیں۔

اسے بھی پڑھیں:

طالبان کا خوف، افغان قائم مقام وزیر خزانہ ملک چھوڑ کر فرار

کولگام تصادم: لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی دہشت گرد ہلاک، آپریشن ختم

0
کولگام تصادم: لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی دہشت گرد ہلاک، آپریشن ختم
کولگام تصادم: لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی دہشت گرد ہلاک، آپریشن ختم

جنوبی ضلع کولگام کے میر پورہ میں مسلح تصادم میں لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی دہشت گرد کو مارا گیا ہے۔ اس مسلح تصادم کے دوران ایک زیر عمارت کمرشل بلڈنگ کو شدید نقصان پہنچا ہے نیز سیکیورٹی فورسز کے دو اہلکار اور دو عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔

سری نگر: کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کا کہنا ہے کہ جنوبی ضلع کولگام کے میر پورہ میں سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر جمعرات کی سہ پہر کو چھڑنے والے مسلح تصادم میں لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی دہشت گرد کو مارا گیا ہے۔

اس مسلح تصادم کے دوران ایک زیر عمارت کمرشل بلڈنگ کو شدید نقصان پہنچا ہے نیز سیکیورٹی فورسز کے دو اہلکار اور دو عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔

آئی جی پی نے ٹویٹر ہینڈل پر کہا کہ ‘مسلح تصادم کے دوران مارا جانے والا دہشت گرد عثمان ایک پاکستانی شہری ہے اور حال ہی میں مارے گئے جیش محمد کے اعلیٰ کمانڈر محمد اسماعیل علوی عرف لمبو عرف عدنان کا ساتھی تھا۔ اس سے بی ایس ایف کانوائے پر حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوتی ہے’۔

ان کا مزید کہنا تھا: ‘ایک لمبے عرصے کے بعد غیر ملکی دہشت گردوں کی طرف سے آر پی جی کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اے کے 47 رائفل، راکٹ لانچر اور گرینیڈ (سلز) برآمد کئے گئے ہیں۔ ایک بڑے حادثے کو ٹالا گیا ہے۔ سی آر پی ایف، فوج اور پولیس مبارکبادی کے مستحق ہیں’۔

دہشت گردوں کی اندھا دھند فائرنگ

قبل ازیں موصوف آئی جی پی نے جمعہ کی صبح اس تصادم کے بارے میں نامہ نگاروں کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کولگام کے میر پورہ میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی نفری الرٹ تھی جب بی ایس ایف کی ایک کانوائے آ رہی تھی تو ایک بڑی بلڈنگ سے اس پر دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بلڈنگ کو گھیر لیا اور طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔ موصوف آئی جی پی نے کہا کہ ہم نے راکٹ لانچر کا استعمال کیا اور ایک دہشت گرد کو رات میں ہی مار گرایا۔

انہوں نے کہا: ‘چونکہ رات کو سرچ آپریشن جاری رکھنا مشکل تھا اس لئے ہم نے آج صبح جب سرچ آپریشن شروع کیا تو ایک پاکستانی دہشت گرد کی لاش برآمد کی اور وہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمد شدہ اسلحہ و گولہ باردو میں ایک اے کے 47 رائفل، چار میگزین، کچھ گرینیڈ اور آر پی جی لانچر اور اس کی ایک سیل بھی شامل ہے۔

مسٹر کمار نے مہلوک دہشت گرد کی شناخت لشکر طیبہ سے وابستہ عثمان کے بطور کی۔

مہلوک دہشت گرد کا قومی شاہراہ پر ایک بڑے حادثے کو انجام دینے کا منصوبہ تھا

انہوں نے کہا کہ بھاری مقدار میں برآمد شدہ اسلحہ و گولہ بارود سے معلوم ہوتا ہے کہ مہلوک دہشت گرد قومی شاہراہ پر ایک بڑے حادثے کو انجام دینے کا منصوبہ رکھتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک ہفتے سے اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ دہشت گرد قومی شاہراہ پر ایک بڑے حادثے کو انجام دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

اس دوران آئی جی پی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ آپریشن ختم ہوا ہے اور قومی شاہراہ کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے کھولا جا رہا ہے۔

قبل ازیں ان کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا: ‘سیکیورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنسنے والے دہشت گردوں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔ فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کے دو اہلکار اور دو عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔

کولگام پولیس نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ میر پورہ، جہاں مسلح تصادم ہو رہا ہے، سے 22 عام شہریوں بشمول 12 دکانداروں، 6 خواتین اور 4 غیر مقامی مزدوروں کو بحفاظت نکال کر محفوظ جگہوں پر منتقل کیا گیا ہے۔

افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء ایک غلط اقدام: برطانوی وزیر دفاع

0
افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء ایک غلط اقدام: برطانوی وزیر دفاع

افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے فیصلے کی نکتہ چینی کرتے ہوئے برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے اسے ایک ایسی "غلطی” قرار دیا جس سے طالبان کو مزید آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے اور وہ ملک اب تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

کابل/لندن: برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے فیصلے کی نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے ایک ایسی "غلطی” قرار دیا جس سے طالبان کو مزید آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے اور وہ ملک اب تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مسٹر والیس نے اسکائی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان القاعدہ جیسے دہشت گردوں کے لیے ایک پناہ گاہ بن سکتا ہے اور یہ گروہ شاید یہاں قدم جمائے گا جو کہ پوری طرح تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی برادری کو بھی افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے فیصلے کا انجام بھگتنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کا دوسرا بڑا شہر قندھار اور لشکر گاہ شہر اب بڑی حد تک طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

برطانوی وزیر دفاع نے بی بی سی کے ساتھ ایک علیحدہ انٹرویو میں کہا کہ افغانستان خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے اور وہاں غربت اور دہشت گردی میں اضافہ ہوگا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر افغانستان سے ان کے خلاف کوئی دہشت گردانہ سازش رچی گئی تو برطانیہ کو مداخلت کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

افغانستان کی موجودہ پیش رفت 2020 میں طالبان کے ساتھ معاہدے سے دستبردار ہونے کا انجام

انہوں نے افغانستان کی موجودہ پیش رفت کو 2020 میں طالبان کے ساتھ معاہدے سے دستبردار ہونے کا انجام قرار دیا اور اس کے لیے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مورد الزام ٹھہرایا۔

مسٹر والیس کا یہ تبصرہ افغانستان کے تعلق سے دوحہ اجلاس کے شرکاء کے افغان حکومت اور طالبان سے سیاسی حل اور جامع جنگ بندی تک پہنچنے کی کوششیں تیز کرنے کی اپیل کرنے کے ایک دن بعد آیا ہے۔ افغان حکومت اور طالبان کے وفود اور اقوام متحدہ، امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین، چین، ازبکستان، قطر، پاکستان، جرمنی، ناروے، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ہندوستان کے خصوصی نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ مندوبین نے جمعرات کے روز اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

بیان کے مطابق تمام مندوبین نے افغان امن مذاکرات کو تیز کرنے اور "دونوں فریقوں کی جانب سے ٹھوس تجویز” پر بات چیت کرنے کی اہمیت پر اتفاق ظاہر کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا ہے کہ عالمی برادری افغانستان میں کسی بھی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گی جو فوجی تسلط کے ذریعے قائم کی گئی ہو۔

عالمی برادری کے نمائندوں نے افغانستان میں تشدد اور صوبائی دار الحکومتوں پر حملوں کو فوری طور پر بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

طالبان کی بڑھتی پیش قدمی اور صوبائی راجدھانیوں پر قبضے کے بعد افغان حکومت کی اقتدار میں حصہ داری کی پیش کش

0
طالبان کی بڑھتی پیش قدمی اور صوبائی راجدھانیوں پر قبضے کے بعد افغان حکومت کی اقتدار میں حصہ داری کی پیش کش
طالبان کی بڑھتی پیش قدمی اور صوبائی راجدھانیوں پر قبضے کے بعد افغان حکومت کی اقتدار میں حصہ داری کی پیش کش

افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی اور یکے بعد دیگرے صوبائی راجدھانیوں پر قبضے کے درمیان افغان حکومت طالبان کو اقتدار میں حصہ داری کی پیش کش کی ہے۔

کابل: افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی اور یکے بعد دیگرے صوبائی راجدھانیوں پر قبضے کے درمیان افغان حکومت طالبان کو اقتدار میں حصہ داری کی پیش کش کی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اہم حکومتی ذرائع کے مطابق ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے کے لیے افغان حکومت نے طالبان کو شراکت اقتدار کی پیشکش کی ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اقتدار میں شراکت کی یہ پیشکش قطر کے ذریعے کی گئی ہے جو افغان امن مذاکرات کی میزبانی بھی کررہا ہے۔ ادھر قطر میں جاری مذاکرات کا تیسرا اور آخری دن شروع ہوگیا ہے۔

تاہم اب تک ہونے والے مذاکرات میں کسی بھی قسم کی پیشرفت نہیں ہوئی۔ البتہ افغان حکومت کے نمائندے آج اس حوالے سے پیشرفت کے لیے پرامید ہیں۔ ان مذاکرات میں افغانستان اور طالبان کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ، پاکستان، ازبکستان، امریکہ، برطانیہ، چین اور یورپی یونین کے سفارتی حکام بھی شریک ہیں۔

صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں لڑائی عروج پر

دریں اثناء صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں لڑائی عروج پر ہے اور طالبان نے وہاں کے پولیس ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ دوسری جانب طالبان نے کابل سے صرف 150 کلومیٹر کے فاصلے پر افغانستان کے اسٹریٹجک شہر غزنی کا کنٹرول حاصل کرلیاہے۔

یہ شہر ایک ہفتے میں طالبان کے قبضے میں آنے والا 10 واں صوبائی دارالحکومت ہے جو اہم کابل – قندھار شاہراہ کے ساتھ واقع ہے اور دارالحکومت اور جنوب میں طالبان کے گڑھ کے درمیان ایک گیٹ وے کے طور پر کام کرتا ہے۔ صوبہ میدان ورک میں غزنی کے گورنر کو بھی طالبان نے گرفتار کر لیا ہے جہاں اس سے قبل ان کے صوبے سے فرار ہونے کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔

واضح رہے کہ افغان تنازع مئی سے ڈرامائی طور پر بڑھ گیا ہے۔ جب امریکی قیادت میں بین الاقوامی افواج نے 20 سال کے قبضے کے بعد رواں ماہ کے آخر میں فوجی دستوں کی واپسی کا آخری مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔

مزار شریف طالبان کے گھیرے میں

ڈان کی رپورٹ کے مطابق غزنی کے بعد ممکنہ طور پر ملک کی پہلے سے دباؤ کا سامنا کرنے والے فضائیہ پر مزید دباؤ پڑے گا۔ جو افغانستان کی بکھرے ہوئے سیکیورٹی فورسز کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں طالبان نے 10 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور اب شمال کے سب سے بڑے شہر مزار شریف کے روایتی طالبان مخالف گڑھ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

بدھ کی رات طالبان نے قندھار میں جیل پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ‘ایک طویل محاصرے کے بعد مکمل طور پر فتح کرلیا گیا ہے اور اس میں سے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کر کے محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا’۔

طالبان اکثر جیلوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ قید دہشت گردوں کو رہا کیا جائے اور ان کی صفوں کو بھرا جاسکے۔

امریکہ پاکستان کو صرف افغانستان میں گند صاف کرنے کے لیے کارآمد سمجھتا ہے: عمران خاں

0
امریکہ پاکستان کو صرف افغانستان میں گند صاف کرنے کے لیے کارآمد سمجھتا ہے: عمران خاں
امریکہ پاکستان کو صرف افغانستان میں گند صاف کرنے کے لیے کارآمد سمجھتا ہے: عمران خاں

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کو صرف اس ‘گندگی’ کے تناظر میں کارآمد سمجھتا ہے جو وہ 20 سال سے جاری لڑائی کے بعد افغانستان میں چھوڑ کر جا رہا ہے۔

اسلام آباد: امریکہ کے پاکستان کو کئی معاملے میں نظرانداز کئے جانے سے خفا پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ پاکستان کو صرف اس ‘گندگی’ کے تناظر میں کارآمد سمجھتا ہے جو وہ 20 سال سے جاری لڑائی کے بعد افغانستان میں چھوڑ کر جا رہا ہے۔

ڈان میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایسے میں کہ جب دہشت گردوں اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور افغانستان میں پرتشدد کارروائیاں بڑھ چکی ہیں۔ واشنگٹن اسلام آباد پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ایک امن معاہدہ کرانے کے لیے طالبان پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرے۔

اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر غیر ملکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ‘پاکستان کو صرف یہ گندگی ٹھکانے لگانے کے تناظر میں کارآمد سمجھا گیا ہے جو 20 سال سے ایک فوجی حل تلاش کرنے کی کوشش میں پیچھے رہ گیا ہے جبکہ کوئی عسکری حل تھا ہی نہیں’۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد افغانستان میں طرف داریاں نہیں کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘میرے خیال میں امریکیوں نے فیصلہ کرلیا ہے اب ان کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہندوستان ہوگا اور میرے خیال میں اسی وجہ سے پاکستان کے ساتھ مختلف طرح سے سلوک کیا جارہا ہے’۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں افغانستان میں ایک سیاسی تصفیہ مشکل لگ رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب طالبان کسی تصفیے پر پہنچنے کے لیے پاکستان کے دورے پر آئے تھے اس وقت انہوں نے ان کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔ وزیر اعظم کے مطابق طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ‘معاملہ یہ ہے کہ جب تک صدر اشرف غنی یہاں موجود ہیں وہ افغان حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے’۔

طالبان اشرف غنی اور ان کی حکومت کو امریکی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں

واضح رہے کہ طالبان اشرف غنی اور ان کی حکومت کو امریکی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں، ان کے اور افغان مذاکراتی ٹیم کے درمیان بات چیت کا آغاز گزشتہ برس ستمبر میں ہوا تھا لیکن اس میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہوسکی۔ امریکہ سمیت متعدد ممالک کے نمائندے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جنگ بندی کرانے کی آخری کوشش کے طور پر دونوں فریقین سے بات چیت کررہے ہیں۔

امریکی افواج نے طالبان کی پیش قدمی کے خلاف افغان فورسز کی مدد کے لیے فضائی حملے جاری رکھے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ کیا 31 اگست کے بعد بھی یہ تعاون جاری رہے گا۔’

اسی کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان واضح کرچکا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ملک میں کوئی امریکی فوجی اڈہ نہیں چاہتا۔

واضح رہے کہ امریکہ سال 2001 میں طالبان کی حکومت ختم کرنے کے 20 سال بعد 31 اگست کو اپنی افواج افغانستان سے نکال لے گا لیکن جیسا کہ امریکہ جا رہا ہے آج طالبان اس وقت سے کہیں زیادہ علاقے پر قابض ہیں۔

طالبان کا خوف، افغان قائم مقام وزیر خزانہ ملک چھوڑ کر فرار

0
طالبان کا خوف، افغان قائم مقام وزیر خزانہ ملک چھوڑ کر فرار
طالبان کا خوف، افغان قائم مقام وزیر خزانہ ملک چھوڑ کر فرار

افغانستان میں طالبان کا خوف بڑھتا جا رہا ہے۔ طالبان کی افغان سرزمین پر قبضے میں تیزی کے باعث خالد پائندہ نے استعفیٰ دیا ہے۔

کابل: افغانستان میں طالبان کا خوف بڑھتا جا رہا ہے۔ طالبان کی بڑھتی پیش قدمی اور متعدد صوبوں پر کنٹرول کرنے کے باعث خوف سے افغانستان کے شہری اور اقتدار میں شامل کردہ افراد ہی نہیں وزیر بھی ملک سے فرار ہونے لگے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق چند روز قبل امریکی فوجیوں کے مترجم کی بڑی تعداد خصوصی طیارے کے ذریعے واشنگٹن روانہ ہونے کا واقعہ خبر آئی تھی۔ آج افغانستان کے قائم مقام وزیر خزانہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔

افغان وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کی افغان سرزمین پر قبضے میں تیزی کے باعث خالد پائندہ نے استعفیٰ دیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ خالد پائندہ کی ملک چھوڑنے کی دوسری وجہ ان کی بیمار اہلیہ ہیں۔ انہیں بیرون ملک علاج کیلئے لے جانا وقت کی اہم ضرورت تھی۔

یورپی یونین کے مطابق غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے ملک کے پینسٹھ فیصد حصے کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ طالبان کی کابل کی جانب پیش قدمی تیزی سے جاری ہے۔ اس سے قبل آج افغانستان سے متعلق بڑی خبر آئی تھی کہ افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے ہاتھوں افغان فورسز کی شکست کے بعد افغان آرمی چیف ولی محمد احمد زئی کوعہدے سے ہٹایا اور ہیبت اللہ کو نیا آرمی چیف تعینات کیا تھا۔

یاد رہے کہ طالبان نے چھ روز میں نو صوبائی دارالحکومت پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ قندھار میں طالبان اور فورسز میں جاری لڑائی میں شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔

طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ قندوز ایئرپورٹ پر افغان فورسز کے درجنوں سپاہی ہتھیار ڈال کر متعدد گاڑیوں، اسلحے سمیت طالبان کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔

افغان اپنی لڑائی خود لڑیں، افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر کوئی ملال نہیں: بائیڈن

0
افغان اپنی لڑائی خود لڑیں، افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر کوئی ملال نہیں: بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان فوج اب اس قابل ہے کہ طالبان دہشت گردوں کا مقابلہ کرسکے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ ہم افغان حکومت کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ساتھ ہی امریکی صدر جو بائیڈن نے افغان رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف متحد ہو کر لڑیں۔

صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور ہم افغان حکومت کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ 20 سال تک افغانستان میں فوج تعینات رکھنے کے لئے امریکہ کو کئی کھربوں ڈالر سے زیادہ کے اخراجات برداشت کرنے پڑے۔ جب کہ لڑائی کے دوران ہزاروں امریکی فوجیوں نے جان کی بازی بھی ہار دی جبکہ ہم نے افغانستان کی 300000 حفاظتی دستوں کو بہترین فوجی تربیت اور درکار اسلحہ اور رقوم فراہم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان فوج اب اس قابل ہے کہ طالبان دہشت گردوں کا مقابلہ کرسکے۔

علاوہ ازیں، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ افغان حکومت کو درکار فضائی مدد فراہم کرتا رہے گا۔

دوسری جانب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا کہ کابل میں امریکی سفارت خانے کو ممکنہ خطرات کا جائزہ روزانہ کی بنیاد پر لے رہے ہیں۔

مسٹر نیڈ پرائس نے کہا کہ افغانستان میں بنیادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جو ہمارے لیے اہم ہیں، پرُتشدد واقعات طالبان کے معاہدوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

عاپ کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ کو ہتک عزت کا نوٹس

0
عاپ کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ کو ہتک عزت کا نوٹس
عاپ کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ کو ہتک عزت کا نوٹس

عاپ لیڈر سنجے سنگھ کو ہتک عزت کا نوٹس دیتے ہوئے ان سے 15 دنوں میں معافی مانگنے کو کہا گیا ہے۔ وکیل نے 15 دنوں میں جواب نہیں دینے پر عاپ لیڈر پر مجرمانہ ہتک عزت کا دعوی کرنے کی دھمکی دی ہے۔

لکھنؤ: اترپردیش کے جل شکتی وزیر مہندر سنگھ پر بدعنوانی کے الزامات کے سلسلے میں عام آدمی پارٹی (عاپ) کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ کو ہتک عزت کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔

ڈاکٹر سنگھ کے وکیل پرشانت سنگھ اٹل نے عاپ لیڈر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا بتاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے الزامات سے جل شکتی وزیر کی شبیہ داغدار ہوئی ہے۔ جھوٹے الزامات سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مشتہر کرنے کا غلط کام کیا گیا ہے جو بالکل برداشت کرنے کے لائق نہیں ہے۔

عاپ لیڈر سنجے سنگھ کو ہتک عزت کا نوٹس دیتے ہوئے ان سے 15 دنوں میں معافی مانگنے کو کہا گیا ہے۔ وکیل نے 15 دنوں میں جواب نہیں دینے پر عاپ لیڈر پر مجرمانہ ہتک عزت کا دعوی کرنے کی دھمکی دی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ رکن پارلیمان سنجے سنگھ کی جانب سے جل جیون مشن کے کام میں 30 ہزار کروڑ روپئے کے بدعنوانی کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور جل شکتی وزیر مہندر سنگھ کو اس میں ملوث بتایا گیا تھا۔

وکیل نے عاپ لیڈر کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عاپ لیڈر کی جانب سے لگائے گئے الزامات مکمل طور سے بے بنیاد ہیں۔ محکمہ کی جانب سے کسی بھی فرم کو پائپ سپلائی کا آرڈر نہیں دیا گیا ہے۔

ریاستوں کو او بی سی کی فہرست بنانے کا حق ملا

0
ریاستوں کو او بی سی کی فہرست بنانے کا حق ملا
ریاستوں کو او بی سی کی فہرست بنانے کا حق ملا

ایوان بالا راجیہ سبھا نے آج 105 واں آئینی ترمیمی بل منظور کیا، جو اب ریاستوں کو دوسرے پسماندہ طبقات (او بی سی) کی فہرست کو دوبارہ بنانے کا اختیار دیتا ہے۔

نئی دہلی: ایوان بالا راجیہ سبھا نے آج 105 واں آئینی ترمیمی بل کو منظور کرلیا، جو اب ریاستوں کو دوسرے پسماندہ طبقات (او بی سی) کی فہرست دوبارہ بنانے کا اختیار دیتا ہے۔

ایوان زیریں لوک سبھا پہلے ہی اس بل کو پاس کرچکا ہے اور اس طرح اس آئینی ترمیمی بل کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا۔ اس بل کے حق میں 187 ووٹ جبکہ اس بل پر کسی نے بھی مخالفت نہیں کی۔

ایوان بالا میں راجیہ سبھا میں تقریبا پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث کا جواب دینے کے بعد سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے وزیر ڈاکٹر ویرندر کمار نے ایوان کو ووٹوں کی تقسیم کے ذریعے منظور کر لیا۔ آئینی ترمیمی بل ہونے کی وجہ سے اس پر ووٹ ڈالنا پڑا کیونکہ اس طرح کے بل کو ایوان میں موجود دو تہائی ارکان کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔ تاہم تمام سیاسی پارٹیوں نے اس بل کی حمایت کی اور اسے منظور کرانے کی یقین دہانی کرائی۔

بل کی منظوری سے پہلے آئین (127 ویں ترمیم) بل کا نام آئینی (105 ویں ترمیم) بل میں تبدیل کر دیا گیا۔

او بی سی برادری کے لوگوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں ریزرویشن حاصل کرنے کی راہ ہموار

بحث کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر ویرندر کمار نے کہا کہ اس بل کی منظوری کے بعد ریاستی حکومتوں کی فہرست کے مطابق، او بی سی برادری کے لوگوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں ریزرویشن حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی اور اس سے فلاحی اسکیموں کے فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ او بی سی برادری کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کی پالیسی اور نیت دونوں واضح ہیں۔

سال 2018 میں 102 ویں آئینی ترمیم کے وقت سب نے اس کی حمایت کی اور تضادات کی نشاندہی نہیں کی۔ اس بل کے ذریعے، جن سے ریاستوں کے اختیارات ختم ہوگئے تھے ان کے حقوق بحال کردیئے گئے ہیں۔

ڈاکٹر کمار نے کہا کہ حکومت نے ریزرویشن کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے واضح کیا کہ 102 ویں ترمیم آئین اور وفاقی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یکم جولائی کو سپریم کورٹ کی نظرثانی کی درخواست خارج کرنے کے بعد بل لانے کا فیصلہ کیا۔ مہاراشٹر کے علاوہ دیگر ریاستیں بھی اس بل کی منظوری سے فائدہ اٹھائیں گی۔

اس کے بعد پریزائیڈنگ افسر سسمت پاترا نے ووٹوں کی تقسیم کے ذریعے یہ بل پاس کرایا۔ کچھ ارکان نے اس میں ترامیم کی تجویز پیش کی تھی جسے تقسیم اور صوتی ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔

افغان صدر اشرف غنی سلامتی امور پر مذاکرات کے لئے مزار شریف پہنچے

0
افغان صدر اشرف غنی سلامتی امور پر مذاکرات کے لئے مزار شریف پہنچے
افغان صدر اشرف غنی سلامتی امور پر مذاکرات کے لئے مزار شریف پہنچے

افغانستان کے صدر اشرف غنی بغلان کے دارالحکومت پل خمری پر طالبان کا کنٹرول ہونے کے ایک روز بعد مزار شریف کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ طالبان کے اب مزار شریف کی طرف بڑھنے کی بھی رپورٹ سامنے آئی ہے۔

کابل: افغانستان کے صدر اشرف غنی سلامتی امور پر مذاکرات کے لئے صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف پر پہنچ گئے ہیں۔

صدر کے ترجمان نے اطلاع دی ہے کہ مسٹر غنی، سابق نائب صدر عبدالرشید دوستم اور بلخ کے سابق گورنر محمد نور مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں گے اور مزار شریف کی حفاظت کو یقینی بنانے کے اقدامات پر توجہ دیں گے۔

مسٹر غنی بغلان کے دارالحکومت پل خمری پر طالبان کا کنٹرول ہونے کے ایک روز بعد مزار شریف کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ طالبان کے اب مزار شریف کی طرف بڑھنے کی بھی رپورٹ سامنے آئی ہے۔

افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے درمیان طالبان نے صرف پانچ دنوں میں ملک کے آٹھ صوبوں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔