ہفتہ, اپریل 18, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 290

غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 1.91 بلین ڈالر بڑھ کر 642.02 بلین ڈالر ہوئے

0
غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 1.91 بلین ڈالر بڑھ کر 642.02 بلین ڈالر ہوئے
غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 1.91 بلین ڈالر بڑھ کر 642.02 بلین ڈالر ہوئے

ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 29 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں 1.91 ارب ڈالر اضافے کے ساتھ 642.02 ارب ڈالر ہو گئے۔

ممبئی: ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پچھلے ہفتے کی کمی سے ابھر کر 29 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں 1.91 بلین ڈالر بڑھ کر 642.02 بلین ڈالر ہو گئے۔

جمعہ کو ریزرو بینک کے جاری کردہ ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق، 29 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کا سب سے بڑا جزو غیر ملکی کرنسی کے اثاثے 1.4 ارب ڈالر کے اضافے سے 578.5 ارب ڈالر ہو گئے۔ اس دوران سونے کے ذخائر 57.2 کروڑ ڈالر بڑھ کر 39.01 بلین ڈالر پر پہنچ گئے۔

وہیں زیر جائزہ ہفتے میں خصوصی ڈرائنگ رائٹس ( ایس ڈی آر) 1.7 کروڑ ڈالر کی کمی سے 19.3 ارب ڈالر رہ گئے۔ تاہم، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس ریزرو فنڈ 10 لاکھ ڈالر بڑھ کر 5.24 ارب ڈالر ہو گیا۔

ایم پی جانگڑا کے پروگرام کی مخالفت کرنے آئے کسانوں پر لاٹھی چارج

0
ایم پی جانگڑا کے پروگرام کی مخالفت کرنے آئے کسانوں پر لاٹھی چارج
ایم پی جانگڑا کے پروگرام کی مخالفت کرنے آئے کسانوں پر لاٹھی چارج

کسان ایم پی رام چندر جانگڑا کے پروگرام کی مخالفت کرنے پہنچے جہاں پولیس سے ان کا تصادم ہوا۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔

حصار: تین مرکزی زرعی قوانین کی مخالفت میں کسان تحریک کے تحت آج کسان ایم پی رام چندر جانگڑا کے پروگرام کی مخالفت کرنے پہنچے جہاں پولیس سے ان کا تصادم ہوا۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔

راجیہ سبھا رکن اور بی جے پی لیڈر جانگڑا کا آج حصار ضلع کے نارنوند گاؤں میں وشو کرما دھرم شالا کا سنگ بنیاد رکھنے کا پروگرام تھا۔ کسانوں کو جب اس کی بھنک لگی تو وہ بڑی تعداد میں جمع ہوکر ان کی مخالفت کرنے کے لیے وہاں پہنچے۔

کسان کالے جھنڈے لیے ہوئے تھے اور انہوں نے ایک گلی کو جہاں سے ایم پی کو گزرنا تھا، ٹریکٹر لگاکر بند کردیا۔ ادھر پولیس بھی موقع پر پہنچی اور پولیس و مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ جس میں بی جے پی لیڈر کی گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا جس میں کچھ کسانوں کو چوٹ آئی۔ دو مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بعد میں کسانوں نے احتجاجاً حصار ۔ دہلی روڈ پر واقع رامائن ٹول پلازہ پر جام لگادیا جس سے سینکڑوں گاڑیاں قومی شاہ راہ پر پھنس گئیں۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں قدرے تخفیف

0
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں قدرے تخفیف
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں قدرے تخفیف

قومی دارالحکومت میں پٹرول 6.07 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 11.75 روپے سستا ہو گیا۔ یہاں پٹرول 103.97 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 86.67 روپے فی لیٹر پر آ گیا ہے۔

نئی دہلی: حکومت کی طرف سے دیوالی کے تحفے کے طور پر سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی میں قدرے تخفیف کی وجہ سے قومی دارالحکومت میں جمعرات کو پٹرول 6.07 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 11.75 روپے سستا ہو گیا۔ فی الحال یہاں پٹرول 103.97 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 86.67 روپے فی لیٹر پر آ گیا ہے۔

حکومت نے گذشتہ رات، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 5 روپے اور 10 روپے فی لیٹر کی قدرے تخفیف کی تھی۔ اس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حکومت والی ریاستوں نے بھی ویٹ (وی اے ٹی) میں کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اتر پردیش میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں 12 روپے فی لیٹر کم کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ گجرات میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری طور پر فی لیٹر 7 روپے کم کرنے کا اعلان کیا۔ ہماچل پردیش میں پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس کم کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ آسام میں 7 روپے کی تخفیف کا اعلان کیا گیا ہے۔

بہار حکومت نے سب سے کم تخفیف کی

تریپورہ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی 7 روپے کی کم کیے گئے ہیں۔ کرناٹک اور گوا کی حکومتوں نے بھی اپنی اپنی ریاستوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 7 روپے فی لیٹر کی تخفیف کا اعلان کیا ہے۔ اتراکھنڈ میں بھی پٹرول پرویٹ (وی اے ٹی) روپے فی لیٹر کم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ منی پور حکومت بھی فوری اثر سے پٹرول اور ڈیزل پر ویٹ (وی اے ٹی) میں 7 روپے کم کرے گی۔ بہار حکومت نے سب سے کم تخفیف کی ہے۔ بہار حکومت نے پٹرول پر 1 روپے 30 پیسے اور ڈیزل پر 1 روپے 90 پیسے ہی کم کیے ہیں۔

اس تخفیف کے بعد آج ممبئی میں پٹرول 109.98 روپے اور ڈیزل 94.14 روپے فی لیٹر ہے، مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں سب سے مہنگا پٹرول 112.56 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 95.40 روپے فی لیٹر، پٹنہ میں پٹرول 107.92 روپے اور ڈیزل 93.10 روپے فی لیٹر، بنگلور میں پٹرول 107.64 روپے اور ڈیزل 92.03 روپے فی لیٹر پر آگیا ہے۔ کولکاتا میں پٹرول کی قیمت 104.67 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 89.79 روپے فی لیٹر ہے۔ دہلی این سی آر کے نوئیڈا میں پٹرول کی قیمت 101.29 روپے اور ڈیزل کی قیمت 87.31 روپے فی لیٹر ہے۔

ملک کے تمام بڑے شہروں میں پٹرول کی قیمت 110 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی تھی لیکن اب ایکسائز ڈیوٹی کم کیے جانے کے باعث 105 روپے فی لیٹر پر آ گئی ہے۔ ڈیزل نے بھی بیشتر شہروں میں سنچری لگائی تھی لیکن اب یہ بھی 90 روپے فی لیٹر سے نیچے آ گیا ہے۔

عالمی بازار میں خام تیل کی قدر میں نرمی

عالمی بازار میں آج خام تیل کی قدر میں نرمی رہی۔ جمعرات کو سنگاپور میں خام تیل کی تجارت کا آغاز تخفیف کے ساتھ ہوا۔ برینٹ کروڈ 0.93 فیصد کم ہوکر 81.23 ڈالر فی بیرل اور یو ایس کروڈ 1.20 فیصد کم ہوکر 79.89 ڈالر فی بیرل پر ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر ہر دن صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں کا نفاذ کیا جاتا ہے۔

شہر کا نام—-—— پٹرول   -—————  ڈیزل

دہلی —————  103.97  —————  86.67
ممبئی-—————109.98——————  94.14
چنئی ————— 101.40 —————— 91.43
کولکتہ ————  104.67——————  89.79

مسلمانوں کی حالت زار خود مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور عوام الناس کی جذباتی جبلّت کا نتیجہ

0
مسلمانوں کی حالت زار خود مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور عوام الناس کی جذباتی جبلّت کا نتیجہ
مسلمانوں کی حالت زار خود مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور عوام الناس کی جذباتی جبلّت کا نتیجہ

مسلمان کے آپسی اختلافات کی وجہ سے پہلے برطانوی سامراج نے مظالم ڈھائے، پھر روس اور امریکہ مسلمانوں پر مسلط ہوئے اور اب شاید چین بھی اسی راستے پر ہے۔

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے اپنی تمام تر توانائی باہمی اختلافات، خلفشار اور جنگ و جدال میں صرف کر دی۔ جس کے نتیجے میں پہلے برطانوی سامراج نے ظلم و جبرکی داستان رقم کی، پھر روس اور امریکہ مسلمانوں پر مسلط ہوئے اور اب حالات بتا رہے ہیں کہ چین بھی اسی راستے پر ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دور حاضر کے مسلمان اپنے سب سے خراب دور سے گزر رہے ہیں۔ ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سب سے زیادہ شکار ہونے کے باوجود دہشت گردی کا الزام بھی وہ اپنے ہی سر پر لے کر گھوم رہے ہیں۔ اگر موجودہ حالات اور اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو تعداد اور اقتصادی وسائل کے اعتبار سے برتری رکھنے کے باوجود دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان مسلسل عتاب کا شکار ہیں۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ اس کی سب سے بنیادی وجہ مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور عوام الناس کی جذباتی جبلّت ہے۔

مسلمان اوج ثریا پر جانے کے بجائے پستیوں کی جانب

بے شمار قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود مسلم حکمرانوں نے اپنے افعال و کردار سے ذلت و رسوائی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ اپنی ذاتی مفادات، باہمی چپقلش، دنیاوی عیش و عشرت اور منصب و عظمت کی چاہ نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ مسلمان اوج ثریا پر جانے کے بجائے پستیوں کی جانب بڑھتے چلے گئے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج عرب سے لے کر مغرب تک اور چین سے لے کر یوروپ تک مسلمانوں کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں۔ آج دنیا میں جو جب چاہتا ہے مسلمانوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ جہاں چاہتا ہے انہیں تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ کیا حکمراں، کیا رعایا، سب کی حالت زار پر بس کف افسوس ہی ملا جا سکتا ہے۔

تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے اپنی تمام تر توانائی باہمی اختلافات، خلفشار اور جنگ و جدال میں صرف کر دی۔ جس کے نتیجے میں پہلے برطانوی سامراج نے ظلم و جبر کی داستان رقم کی، پھر روس اور امریکہ مسلمانوں پر مسلط ہوئے اور اب حالات بتا رہے ہیں کہ چین بھی اسی راستے پر ہے۔ چین کے مسلمانوں پر مظالم کا ایک لمبا سلسلہ ہے۔ اس سے متعلق خبریں آئے دن اخبارات کی زینت بنتی ہیں، جو وہیں تک محدود رہ جاتی ہیں۔

چینی مسلمانوں کی بد قسمتی یا مسلم حکمرانوں کی بے حسی

اسے چینی مسلمانوں کی بد قسمتی کہیں یا عالم اسلام کی بے حسی کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر تو آواز بلند کی جاتی ہے، لیکن چینی مسلمانوں پر مسلم حکمراں خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ چین کی داداگیری سے پوری دنیا عاجز ہے، لیکن یہاں کے مسلمانوں اور اقلیتوں پر ہونے والے چینی حکومت کے مظالم اب کوئی راز کی بات نہیں۔ چین نے صدر شی جن پنگ کے دور میں اقلیتوں کو ان کی مذہبی شناخت ختم کرکے چینی تہذیب و ثقافت میں رنگنے کا کام شدت کے ساتھ ہوا ہے۔ حالات و واقعات کا مشاہدہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے پر آمادہ ہے۔

حال ہی میں چین نے مسلمانوں کی ثقافتی شناخت کو تباہ کرنے کی مہم تیز کر دی ہے اور مساجد سے گنبد اور مینار ہٹائے جا رہے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ چین نے یہ حکمت عملی براہ راست سوویت یونین سے اختیار کی ہے، جس کے نتیجے میں اقلیتوں کو بہت کم مذہبی آزادی دی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے سنکیانگ صوبے کی تقریباً سات سو سال پرانی مسجد ڈونگ گوان چینی جبر کا تازہ ترین شکار ہوئی ہے۔ یہی نہیں صوبہ سنکیانگ کے علاقے آتوش میں ایک مسجد کے انہدام کے بعد اس کی جگہ عوامی بیت الخلا بنا دیا گیا ہے۔

چین مساجد سے میناروں اور گنبدوں کو ختم کرنے میں مصروف

چینی حکومت کا واضح طور پر کہنا ہے کہ وہ مساجد کو ’چینی‘ بنانا چاہتی ہے، تاکہ وہ بیجنگ کے تیانمن چوک کی طرح نظر آئے۔ بات یہی پر ختم نہیں ہوتی، حکومت کی جانب سے مقامی لوگوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ میناروں اور گنبدوں کو توڑنے کے بارے میں کوئی بات نہ کریں۔

یہ ایک جگہ کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ چین کی حکومت پورے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں مساجد سے میناروں اور گنبدوں کو ختم کرنے میں مصروف ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ گنبد اور مینار غیر ملکی مذہبی اثر و رسوخ کی علامت ہیں۔ اس لیے وہ مسلمانوں کو مزید ’روایتی چینی مسلمان‘ بنانے کے لیے اسے منہدم کر رہے ہیں۔ چین میں یہ مہم ایک ایسے وقت میں تیز کی گئی ہے جب چین ہی نہیں پوری دنیا میں اسلاموفوبیا بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

نومولود بچوں کا نام محمد رکھنے پر حکومتی سطح پر پابندی عائد

در اصل اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ چین کے موجودہ حکمراں اب چینی تہذیب و ثقافت کے نام پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ اسی مہم کے تحت سعودی یا عربی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے مساجد سے گنبد و مینار ہٹا رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے چین سے یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ چین کے مسلمانوں کو ان کی مذہبی رسومات سے روکا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن پاک کی تلاوت، نماز پر پابندی، نومولود بچوں کا نام محمد رکھنے پر حکومتی سطح پر پابندی عائد کر دی گئی، بلکہ مسلمانوں کو حرام اشیاء کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ یقیناً ایک طرف جہاں مذہبی استحصال ہے، وہیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔ اس سب کے باوجود دنیا کی خاموشی بہت سارے سوالات پیدا کرتی ہے۔

چین میں مسلمانوں کی آبادی

اس پورے قضیہ کو سمجھنے کے لئے تاریخ کے اوراق پلٹنے کی بھی ضرورت ہے۔ فی الوقت سرکاری طور پر چین میں ہوئی مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ پانچ لاکھ بتائی جاتی ہے۔ ایغور مسلمانوں کی آبادی ایک کروڑ سے کچھ زیادہ ہے۔ غیر سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چین میں چھ تا آٹھ کروڑ کے مابین مسلمان بستے ہیں۔ نیم خود مختار چینی علاقے سنکیانگ میں آباد ایغور ترک نسل سے ہیں۔ یہ آبادی کے لحاظ سے (ترک، آذر بائیجانی، ازبکستانی اور قازقستانی ترکوں کے بعد) چوتھی بڑی ترک قوم ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ترکوں اور چینیوں کے ڈی این اے کے موازنے سے حال ہی میں یہ حیرت انگیز اور دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ ترک نسل کے اجداد بھی چینی تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکوں کے اجداد پانچ ہزار سال قبل شمال مشرقی چین میں رہتے بستے تھے۔ دو ہزار قبل مسیح میں مانچوریا میں قحط پڑ گیا۔ تبھی بہت سے چینی منگولیا ہجرت کر گئے۔ وہاں انھوں نے خانہ بدوشی اختیار کر لی اور مویشی پالنے لگے۔ منچورین چینیوں اور منگولین قوم کے اختلاط سے ایک نئی نسل نے جنم لیا جسے بعد ازاں ترک کہا گیا۔ جو ترک خاندان جنوبی سنکیانگ میں آباد ہوئے، انھیں ایغور کہا گیا۔

ارطغرل کی مسلم حکمرانوں کو متحد کرنے کی کوشش

اسی طرح وسطی ایشیا سے لے کر اناطولیہ (ترکی) تک بسنے والے ترک خاندان اپنے اپنے علاقوں کی مناسبت سے مختلف ناموں سے جانے گئے۔ جب دین اسلام وسطی ایشیا پہنچا تو دھیرے دھیرے ترک اس نئے دین کے شیدائی بن کر مسلمان ہو گئے۔ ایغوروں کی اکثریت نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ جب چنگیز خان کی زیر قیادت منگول عالم اسلام پر حملہ آور ہوئے تو ایک ترک شہزادے، جلال الدین خوارزم شاہ نے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور مختلف معرکوں میں شکست دی۔ بعد ازاں اوغوز ترک قبیلے کے ایک سردار ارطغرل نے بھی مسلم حکمرانوں کو متحد کرنا چاہا تو انھیں جزوی کامیابی ملی۔ انھوں نے بہرحال سلطنت عثمانیہ کی بنیاد ضرور ڈال دی۔ اس سلطنت کے زوال کی اہم وجوہات بھی باہمی اختلافات، خلفشار اور جنگ و جدال ہی ہیں۔

بہرحال، ہمارے اسلاف کی درخشاں داستانِ شجاعت یقیناً قابل رشک ہے، مگر ہم اپنے درخشاں ماضی اور عظمت رفتہ کا حوالہ دے کر آج کی دنیا کا مقابلہ ہرگز نہیں کر سکتے۔ اور نہ ہی ہمیں موجودہ حالات میں مایوس اور ماتم کناں ہونے کی ضرورت ہے۔ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی توانائی تعلیم اور اقتصادی ترقی پر صرف کریں۔ ہم دنیا کے ساتھ اور سینہ سپر ہو کر اسی وقت چل سکتے ہیں جب تمام شعبہ ہائے زندگی میں ترقی کو اپنا ہدف بنائیں۔

تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: yameen@inquilab.com]

مضمون میں پیش کئے گئے آراء و افکار سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

اترپردیش: بہرائچ میں پٹاخہ بازار میں آتشزدگی، لاکھوں کا نقصان

0
اترپردیش: بہرائچ میں پٹاخہ بازار میں آتشزدگی، لاکھوں کا نقصان
اترپردیش: بہرائچ میں پٹاخہ بازار میں آتشزدگی، لاکھوں کا نقصان

بہرائچ میں پٹاخہ بازار میں آتشزدگی، 50 لاکھ سے زیادہ کی ملکیت کا نقصان

بہرائچ: اترپردیش کے ضلع بہرائچ کے موتی پور علاقے میں بدھ کی دیر شام پٹاخہ بازار کی ایک دکان میں لگی آگ نے 12 دیگر دکانوں کو اپنی زد میں لے لیا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ مہی پوروا میں واقع نو یوگ انٹر کالج احاطے میں پٹاخوں کی بازار لگی ہوئی تھی جہاں کافی تعداد میں مقامی افراد پہنچ کر خریداری کررہے تھے۔ اسی اثنا ایک پٹاخہ کی دکان میں نامعلوم وجوہات سے آگ لگ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے خوفناک شکل اختیار کرلیا۔ ایک ایک کر کے پٹاخے کی دکانوں میں آگ لگتی چلی گئی ہے وہاں بھگدڑ مچ گئی۔

تھانہ انچارج برج آنند سنگھ پولیس ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ فائر ملازمین کو مطلع کیا گیا۔ فائر ملازمین نے مقامی افراد کی مدد سے ڈیڑھ گھنٹوں کی سخت مشقت کے بعد آگ پر کنٹرول حاصل کیا۔ تھانہ انچارج نے بتایا کہ پٹاخہ بازار میں 13 دکانوں کا سامان پوری طرح سے جل کر خاکستر ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محتاط اندازے کے مطابق 50 لاکھ سے زیادہ کی ملکیت کا نقصان ہوا ہے۔ رپورٹ ملنے کے بعد ہی آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ چل سکے گا۔

’کوویکسین‘ کو عالمی ادارہ صحت نے دے دی منظوری

0
’کوویکسین‘ کو عالمی ادارہ صحت نے دے دی منظوری
’کوویکسین‘ کو عالمی ادارہ صحت نے دے دی منظوری

طویل انتظار کے بعد ڈبلیو ایچ او نے ہندوستان میں تیار کردہ کووڈ ویکسین ’کوویکسین‘ کو منظوری دے دی ہے۔

نئی دہلی: طویل انتظار کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہندوستان میں تیار کردہ کووڈ ویکسین ’کوویکسین‘ کو منظوری دے دی ہے۔ اب یہ ویکسین کووڈ وبا سے بچاؤ کے لئے عالمی ادارہ صحت کی ایمرجنسی ویکسین لسٹ‘ میں شامل کیا جائے گا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)نے بدھ کو یہاں کہا کہ تنظیم کی تکنیکی کمیٹی کے اجلاس میں کوویکسین کو منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

’ کوویکسین‘ ویکسین ہندوستانی کمپنی بھارت بایوٹیک نے تیار کی ہے اور یہ مکمل طور پر دیسی ہے۔ ’کوویکسین‘ کو عالمی ادارہ صحت کی منظوری کے لیے ایک طویل عمل اور مذاکرات کے کئی دور سے گزرنا پڑا اور بات چیت کے کئی دور چلے۔ کوویکسین ٹیکہ 18 برس کے عمر سے زیادہ سبھی افراد کو دیا جاسکتا ہے۔ یہ ٹیکہ آر این اے تکنیک پر مبنی ہے۔

نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے کوویکسین کو عالمی ادارہ صحت کی منظوری ملنے پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت بایو ٹیک، انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ، سائنس دانوں اور محققین اس کے لئے مبارکباد کے مستحق ہیں۔

مرکزی صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر من سکھ مانڈویہ نے عالمی ادارہ صحت کی طرف سے ’کوویکسین‘ کی منظوری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’یہ ہندوستان کی قابل قیادت کی علامت ہے۔ یہ مودی جی کے عزم کی کہانی ہے۔ یہ اہل وطن کے اعتماد کی بات ہے۔ یہ آتم نربھر بھارت کی دیوالی ہے‘‘۔ مسٹر مانڈویہ نے ’کوویکسین‘ کو منظوری دینے کے لیے عالمی ادارہ صحت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

عالمی ادارہ صحت میں جنوبی مشرقی ایشیا کے لیے علاقائی ڈائریکٹر پونم کھترپال سنگھ نے ویکسین حاصل کرنے پر ہندوستان سے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

اب کوویکسین ٹیکے لینے والے شخص کو بین الاقوامی سفر کر سکیں گے

’کوویکسین‘ کے لیے عالمی ادارہ صحت کی منظوری کے بعد اب کوویکسین ٹیکے لینے والے شخص کو بین الاقوامی سفر کی سہولت حاصل ہوگی۔

دریں اثنا، سنٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن نے ہندوستانی کووڈ ویکسین ’کوویکسین‘ کے استعمال کی مدت کو تیاری کی تاریخ سے بڑھا کر 12 ماہ کر دیا ہے۔

’کوویکسین‘ بنانے والی کمپنی بھارت بایوٹیک نے بدھ کو یہاں کہا کہ ’کوویکسین‘ ویکسین کے استعمال کی مدت کو 12 ماہ تک بڑھانے کی تجویز کو سنٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن کی منظوری مل گئی ہے۔

بھارت بایوٹیک نے کہا ہے کہ یہ منظوری نئے ڈیٹا اور مطالعہ کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ اس کے لیے تمام ضروری دستاویزات سینٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن کو دستیاب کرائے گئے تھے۔

اقوام متحدہ نے کابل کے اسپتال میں ہوئے ہولناک حملے کی مذمت کی

0
اقوام متحدہ نے کابل کے اسپتال میں ہوئے ہولناک حملے کی مذمت کی
اقوام متحدہ نے کابل کے اسپتال میں ہوئے ہولناک حملے کی مذمت کی

اقوام متحدہ نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک اسپتال پر ہوئے مہلک حملے کی مذمت کی ہے۔

کابل: اقوام متحدہ نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک اسپتال پر ہوئے مہلک حملے کی مذمت کی ہے، جس میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور تقریباً 50 زخمی ہوگئے ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) نے کہا کہ جن لوگوں نے بھی یہ حملہ کیا ہے، انہیں اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

یو این اے ایم اے نے ٹویٹ کیا ’’اقوام متحدہ کابل میں ایک اسپتال پر ہوئے ہولناک حملے کی مذمت کرتا ہے۔ طبی عملے اور زیر علاج شہریوں کو نشانہ بنا کر کیا گیا حملہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے لئے ذمہ دار لوگوں کو حساب دینے کی ضرورت ہے‘‘۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے سب سے بڑے فوجی اسپتال میں منگل کے روز ہوئے دو زبردست دھماکوں میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ بھی کی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کے لئے ذمہ دار داعش خراسان کو ٹھہرایا ہے۔ طالبان کا ایک دیگر عہدیدار مارا گیا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ٹیلی فون پر بات چیت

0
اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ٹیلی فون پر بات چیت
اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ٹیلی فون پر بات چیت

اسرائیلی وزیر دفاع اور امریکی وزیر دفاع نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

واشنگٹن: اسرائیلی وزیر دفاع بینجامن گانٹز اور امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

مسٹر گینٹز نے خود ٹویٹر پر اس کی اطلاع دی ہے۔ انہوں نے منگل کو ٹویٹ کیا، "میں نے اپنے دوست اور ساتھی لائیڈ آسٹن کے ساتھ ایران کی جوہری خواہشات پر اہم بات چیت کی ہے۔”

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ وہ اور مسٹر آسٹن نے اسٹریٹجک امور اور فوجی تعاون پر مزید بات چیت کے لیے جلد ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

افغانستان: کابل کے ہسپتال میں حملہ، 19 افراد ہلاک، 50 زخمی

0
افغانستان: کابل کے ہسپتال میں حملہ، 19 افراد ہلاک، 50 زخمی
افغانستان: کابل کے ہسپتال میں حملہ، 19 افراد ہلاک، 50 زخمی

کابل کے ایک ہسپتال میں دو بم دھماکوں میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہو گئے ہیں۔

کابل: افغانستان میں بدامنی پھیلانے کی ناپاک کوشش کے تناظر میں افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ہسپتال میں دو دھماکے میں 19 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے دو دھماکوں کی تصدیق کی گئی جبکہ عینی شاہدین نے فائرنگ کی بھی اطلاع دی۔ افغان وزارت صحت کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کابل کے ہسپتالوں میں 19 لاشوں اور تقریباً 50 زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے‘۔

قبل ازیں وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی نے کہا کہ دھماکے 400 بستروں پر مشتمل سردار محمد داؤد خان ہسپتال میں ہوئے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ میں کہا کہ ’سیکیورٹی فورسز کو علاقے میں تعینات کردیا ہے، جبکہ جانی نقصان سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے‘۔

مقامی افراد کی جانب سے شیئر کی جانے والی تصاویر میں وسطی کابل کے سابق سفارتی زور کے قریب وزیر اکبر خان علاقے سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا۔ ہسپتال کے ڈاکٹر نے بتایا کہ ’میں ہسپتال کے اندر ہوں، میں نے پہلے چیک پوائنٹ سے زور دار دھماکے کی آواز سنی جس کے بعد ہمیں محفوظ کمروں میں جانے کا کہا گیا، میں نے فائرنگ کی آواز بھی سنی‘۔

دہشت گردوں کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ

ڈان کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی لیکن سرکاری ’بختار‘ نیوز ایجنسی نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد تنظیم ’داعش‘ کے متعدد دہشت گرد ہسپتال میں داخل ہوئے اور ان کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔

زخمی طالبان دہشت گردوں اور سابق افغان سیکیورٹی فورسز کے زخمی اہلکاروں کا علاج کرنے والے ہسپتال میں 2017 میں بھی حملہ کیا گیا تھا اور طبی اہلکاروں کے بھیس میں آنے والے مسلح افراد نے کم از کم 30 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

واضح رہے کہ غیر ملکی افواج اور امریکی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف 20 سال تک برسر پیکار طالبان کو اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں استحکام لانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کے بعد گزشتہ چند ہفتے میں داعش کی جانب سے متعدد خوفناک حملے کیے جا چکے ہیں۔

ہماچل ضمنی انتخابات میں کانگریس کی 4-0 سے کلین سویپ، بی جے پی کی کراری شکست

0
ہماچل ضمنی انتخابات میں کانگریس کی 4-0 سے کلین سویپ، بی جے پی کی کراری شکست
ہماچل ضمنی انتخابات میں کانگریس کی 4-0 سے کلین سویپ، بی جے پی کی کراری شکست

کانگریس نے ہماچل پردیش ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو 4-0 سے شکست دی۔ جوبل کوٹکھائی سیٹ پر بی جے پی امیدوار کی ضمانت بھی نہیں بچ سکی۔

شملہ: کانگریس نے ہماچل پردیش میں ایک لوک سبھا اور تین اسمبلی سیٹوں کے ضمنی انتخابات میں ریاست میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 4-0 سے شکست دی۔

کانگریس امیدواروں نے منڈی لوک سبھا کے علاوہ کانگڑا ضلع کے فتح پور، سولن ضلع کے آرکی اور شملہ ضلع کے جوبّل کوٹکھائی سے کامیابی حاصل کی ہے۔ جبکہ کانگریس نے جہاں منڈی لوک سبھا سیٹ اور جوبّل کوٹکھائی سیٹ بی جے پی سے چھین لی، وہیں دو دیگر سیٹیں برقرار رکھی ہیں۔ تاہم ان نتائج کا باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے۔

جوبل کوٹکھائی سیٹ پر بی جے پی امیدوار کی ضمانت بھی نہیں بچ سکی

ضمنی انتخابات کے نتائج اکثر حکمراں جماعت کے حق میں جاتے ہیں لیکن ریاست میں جہاں بی جے پی کو دھچکا لگا ہے وہیں وزیر اعلیٰ جئے رام ٹھاکر کی ذاتی ساکھ اور ان کی حکومت کے کام کرنے کے انداز پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان منڈی پارلیمانی اور آرکی اور فتح پور اسمبلی سیٹوں پر سخت مقابلہ تھا لیکن جوبل کوٹکھائی سیٹ پر بی جے پی امیدوار کی ضمانت بھی نہیں بچ سکی۔

منڈی پارلیمانی حلقہ میں، کانگریس امیدوار اور سابق وزیر اعلی ویربھدر سنگھ کی بیوی پرتیبھا سنگھ نے براہ راست انتخابی مقابلے میں اپنے قریبی حریف بی جے پی کے بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) خوشحال چند ٹھاکر کو 8766 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ کانگریس نے یہ سیٹ بی جے پی سے چھین لی ہے۔

محترمہ سنگھ کو 365650 ووٹ۔ جبکہ بریگیڈیئر ٹھاکر کو 356884 ووٹ ملے۔ اس ضمنی انتخاب میں 12626 لوگوں نے نوٹا کا بٹن دبایا۔ دیگر امیدواروں کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ اس الیکشن میں کل 742771 ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ان میں سے 12626 نے نوٹا دبایا۔ اس ضمنی انتخاب کے نتیجے سے وہ پرانا وہم بھی ختم ہوگیا کہ منڈی کا رکن پارلیمنٹ کبھی اپوزیشن میں نہیں بیٹھا۔ یہاں سے اسی پارٹی کا امیدوار جیتتا ہے جس کی ریاست میں حکومت ہوتی ہے۔