ہفتہ, اپریل 18, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 289

ہماچل ضمنی انتخابات میں تین نو منتخب اراکین اسمبلی نے حلف لیا

0
ہماچل ضمنی انتخابات میں تین نو منتخب اراکین اسمبلی نے حلف لیا
ہماچل ضمنی انتخابات میں تین نو منتخب اراکین اسمبلی نے حلف لیا

ہماچل پردیش کی تین اسمبلی سیٹوں پر حالیہ ہوئے ضمنی انتخابات میں منتخب ہونے والے تین اراکین اسمبلی نے آج یہاں حلف لیا۔

شملہ: ہماچل پردیش کی تین اسمبلی سیٹوں پر حالیہ ہوئے ضمنی انتخابات میں منتخب ہونے والے تین اراکین اسمبلی نے آج یہاں حلف لیا۔ ریاستی اسمبلی کے اسپیکر وپن پرمار نے اپنے چیمبر میں ایک سادہ تقریب میں ان اراکین اسمبلی کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔

انہوں نے نو منتخب اراکین اسمبلی کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کو تیز کرنے اور ایوان میں ہونے والی بحث میں حصہ لینے اور اپنے علاقوں کے مسائل اجاگر کرنے اور انہیں حل کرنے پر زور دیا۔

ضمنی انتخابات میں تینوں اراکین اسمبلی کانگریس پارٹی کے جیت کر آئے ہیں۔ یہ ضمنی انتخابات کانگڑا ضلع کی فتح پور اسمبلی سیٹ، سولن ضلع کی آرکی اور شملہ ضلع کی جبل کوٹ کھائی اسمبلی سیٹوں کے لیے ہوئے تھے، جو کانگریس رکن اسمبلی سوجن سنگھ پٹھانیا، رکن اسمبلی اور سابق وزیر اعلی ویربھدر سنگھ اور حکمراں بی جے پی کے چیف وہپ اور رکن اسمبلی نریندر باگٹا کی موت کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔

فتح پور میں سوجن سنگھ کا بیٹا بھوانی سنگھ پٹھانیا، آرکی میں سنجے اوستھی اور جبل پور میں روہت ٹھاکر نے جیت حاصل کی ہے۔ اس طرح کانگریس نے ایوان میں ایک سیٹ کا اضافہ کیا ہے جبکہ بی جے پی کو ایک سیٹ کا نقصان ہوا ہے۔

بی جے پی لیڈروں کی زبان سن کر لگتا ہے کہ طالبان سے ان کا تعلق ہے: ٹکٹ

0
بی جے پی لیڈروں کی زبان سن کر لگتا ہے کہ طالبان سے ان کا تعلق ہے: ٹکٹ
بی جے پی لیڈروں کی زبان سن کر لگتا ہے کہ طالبان سے ان کا تعلق ہے: ٹکٹ

کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے ایم پی اروند شرما کے مبینہ متنازعہ بیان پر رد عمل میں آج کہا کہ بی جے پی لیڈروں کی زبان سن کر لگتا ہے کہ طالبان سے ان کا تعلق ہے۔

حصار: کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے ایم پی اروند شرما کے مبینہ متنازعہ بیان پر رد عمل میں آج کہا کہ بی جے پی لیڈروں کی زبان سن کر ایسا لگتا ہے کہ کہیں ان کا تعلق طالبان سے تو نہیں ہے۔

مسٹر ٹکیت یہاں ہانسی میں ایم پی اور بی جے پی لیڈر رام چندر جانگڑا کے خلاف پولیس کیس درج کرنے اور کسانوں کے خلاف درج کیس کو واپس لینے کا مطالبہ کرنے کے لیے متحدہ کسان مورچہ کے دھرنے میں آئے تھے۔ مسٹر اروند شرما کے ‘آنکھیں نکال لینے…’ کے تبصرے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے تمام لیڈر اس طرح کی بات کرتے ہیں۔ انہیں اسی کی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کی زبان سن کر لگتا ہے کہ طالبان سے ان کا تعلق ہے۔

ادھر کسانوں کے ذریعہ پولیس سپرنٹنڈنٹ کے دفتر کے گھیراؤ کا اعلان کیے جانے بعد ہانسی کے ایس پی آفس کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ایس پی آفس کی طرف جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں لگا کر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ حصار کے آئی جی راکیش کمار بھی سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے صبح ہی ہانسی پہنچ گئے۔ سیکیورٹی کے حوالے سے 2 اے ایس پی، 7 ڈی ایس پی، پیرا ملٹری فورس کی 2 کمپنیاں اور چار اضلاع کی پولیس تعینات کی گئی ہے۔

مظاہرین کو پولیس کی جانب سے سخت ہدایات

منی سیکرٹریٹ کے سامنے سے گزرنے والی پرانی قومی شاہراہ کو دونوں طرف سے رکاوٹیں لگا کر مکمل طور پر بندکر دیا گیا ہے۔ نیز اس راستے کو سیکٹر 5 کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ کسان صبح سے ہی ہانسی میں احتجاج کے لیے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اس دوران انہیں پولیس کی جانب سے سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اپنی گاڑیاں ایس پی آفس سے 300 میٹر دور کھڑی کرکے پیدل چل کر منی سیکرٹریٹ کے سامنے پرامن احتجاج کر سکتے ہيں۔ مگر منی سیکرٹریٹ میں کسی کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

دوسری طرف، ہانسی پولیس نے وضاحت کی ہے کہ پولیس نے کوئی لاٹھی چارج نہیں کیا۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کلدیپ ساتروڑ نامی کسان کو پولیس کی کارروائی میں کوئی چوٹ نہیں آئی، بلکہ اسے مرگی کے دورے پڑے، جس کی وجہ سے اسے برین ہیمرج ہوا۔ اس بیان سے ناراض مظاہرین نے ایس پی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ تین روز قبل مسٹر جانگڑا نارنود میں ایک پروگرام میں آئے تھے، جہاں تین زراعتی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسان بھی پہنچ گئے۔ الزام ہے کہ پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا جس کے دوران کلدیپ ساتروڑ بری طرح زخمی ہوگئے اور وہ آئی سی یو میں ہیں۔

مدھیہ پردیش میں کورونا کے 100 ایکٹو کیسز

0
مدھیہ پردیش میں کورونا کے 100 ایکٹو کیسز
مدھیہ پردیش میں کورونا کے 100 ایکٹو کیسز

مدھیہ پردیش میں کورونا کے کل ایک سو فعال مریض ہیں، جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔

بھوپال: مدھیہ پردیش میں کورونا کے چھ نئے معاملے آنے اور 13 مریضوں کے صحت یاب ہونے کے بعد ریاست میں کل ایک سو فعال مریض ہیں، جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔

یہاں ریاستی ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ کی طرف سے جاری ہیلتھ بلیٹن کے مطابق 34362 نمونوں کی جانچ میں کل چھ نئے کورونا مریض سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے تین معاملے بھوپال میں، دو اندور اور ایک سیہور میں سامنے آیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 13 مریض صحت یاب ہو گئے، جس کے بعد ریاست میں فعال مریضوں کی تعداد ایک سو ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انفیکشن کی شرح بھی 0.01 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

ریاست میں اب تک کل 792907 کورونا مریض پائے گئے جن میں سے اب تک 782283 مریض ٹھیک ہو چکے ہیں اور اب تک 10524 مریض جان گنوا چکے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم الکاظمی ڈرون حملے میں زخمی

0
عراقی وزیر اعظم الکاظمی ڈرون حملے میں زخمی
عراقی وزیر اعظم الکاظمی ڈرون حملے میں زخمی

سلامتی دستوں نے بتایا کہ الکاظمی کے گھر پر حملے میں شامل ایک ڈرون کو پکڑ لیا گیا ہے۔

بغداد: عراق کے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی اتوار کی صبح ایک ڈرون حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ العربیہ نے اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔

رپورٹ کے مطابق ڈرون حملے میں عراق کے وزیر اعظم کے گھر کو ہدف بناکر راکٹ داغا گیا۔ اس حملے میں الکاظمی اور ان کے کئی محافظین بھی زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بغداد میں گرین زون کے پاس بھی شدید گولہ باری ہوئی ہے۔

سلامتی دستوں نے بتایا کہ الکاظمی کے گھر پر حملے میں شامل ایک ڈرون کو پکڑ لیا گیا ہے۔

میکسیکو: کار اور ٹرک کی ٹکر میں 19 افراد ہلاک

0
میکسیکو: کار اور ٹرک کی ٹکر میں 19 افراد ہلاک
میکسیکو: کار اور ٹرک کی ٹکر میں 19 افراد ہلاک

میکسیکو سٹی کو پیوبلا شہر سے ملانے والی ہائی وے پر کار اور ٹرک کی ٹکر سے 19 افراد ہلاک ہو گئے۔

میکسیکو سٹی: میکسیکو میں میکسیکو سٹی کو پیوبلا شہر سے ملانے والی ہائی وے پر ایک ٹرک کے کئی کاروں سے ٹکرا جانے سے 19 افراد ہلاک ہو گئے۔

فیڈرل ہائی وے اتھارٹی نے اس حادثہ کی اطلاع دی۔

حکام نے بتایا کہ حادثہ ہفتہ کی دوپہر کو اس وقت پیش آیا جب ایک بے قابو ٹرک ہائی وے پر ٹول بوتھ پر کھڑی کاروں سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں 19 افراد ہلاک جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔ مرنے والوں میں ٹرک کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔

ناگالینڈ کے سابق وزیر اعلی ایس سی ضمیر نے مودی سے کی ملاقات

0
ناگالینڈ کے سابق وزیر اعلی ایس سی ضمیر نے مودی سے کی ملاقات
ناگالینڈ کے سابق وزیر اعلی ایس سی ضمیر نے مودی سے کی ملاقات

ناگالینڈ کے سابق وزیر اعلیٰ ایس سی ضمیر نے آج یہاں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور ریاست سے متعلق مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

نئی دہلی: ناگالینڈ کے سابق وزیر اعلی ایس سی ضمیر نے آج یہاں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کر کے ریاست سے متعلق مختلف مسئلوں پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر اعظم نے ہفتے کو ٹویٹ پیغام میں کہا،’’ناگالینڈ کے سابق وزیر اعلی ایس سی ضمیر کے ساتھ آج بہت اچھی ملاقات ہوئی۔ ہم نے مختلف مسئلوں پر بات چیت کی۔‘‘

مسٹر مودی نے کہا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے مسٹر ضمیر کے سال 2009 میں گجرات کے گورنر کے طور پر دور اقتدار سے منسلک باتوں کو بھی یاد کیا۔ اس وقت مسٹر مودی گجرات کے وزیر اعلی تھے۔

وزیر اعظم نے مسٹر ضمیر کو اعزاز ی لیڈر بتایا اور ان کے ساتھ ملاقات کی کچھ تصویریں بھی شیئر کی ہیں۔

مسٹر ضمیر ناگالینڈ کے مقبول وزرائے اعلی میں شمار ہیں اور ان کے دور اقتدارمیں ریاست میں متعدد ترقیاتی کام کئے گئے جنہوں نے ریاست کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ 14 دن کی عدالتی حراست میں

0
مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ 14 دن کی عدالتی حراست میں
مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ 14 دن کی عدالتی حراست میں

سی بی آئی نے اس سال اپریل میں اس وقت کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے خلاف بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزام میں ایف آئی آر درج کی تھی، جس کی بنیاد پر ای ڈی اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

ممبئی: ممبئی کی ایک خصوصی پی ایم ایل اے عدالت نے ہفتہ کو مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے دیشمکھ کی حراست میں مزید نو دن کی توسیع کی درخواست کی تھی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ ایجنسی مسٹر دیشمکھ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی جانچ کر رہی ہے۔ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے اس سال اپریل میں اس وقت کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ کے خلاف بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزام میں ایف آئی آر درج کی تھی، جس کی بنیاد پر ای ڈی اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

مسٹر دیش مکھ کو 2 نومبر کو ممبئی کی چھٹی عدالت نے اس معاملے میں 6 نومبر تک ای ڈی کی حراست میں بھیج دیا تھا۔ ای ڈی نے مسٹر دیش مکھ کے خلاف ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ کی طرف سے لگائے گئے رشوت کے الزامات پر مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد انہیں وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

پرم بیر سنگھ کا وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو خط

پرم بیر سنگھ نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو خط لکھ کر الزام لگایا کہ اس وقت کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے اسسٹنٹ انسپکٹر سچن واجے کے ذریعے دسمبر 2020 سے فروری 2021 کے درمیان کئی آرکسٹرا اور بار مالکان سے تقریباً 4.7 کروڑ روپے کی رقم وصول کی۔

ای ڈی نے 2 نومبر کو عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ مسٹر دیش مکھ منی لانڈرنگ کیس میں براہ راست ملوث تھے۔ ای ڈی نے شریک ملزم واجے سمیت دو اور پولیس اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔
ایڈیشنل سالیسٹر جنرل انیل سنگھ اور اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ہیتن وینیگاوکر نے عدالت کو بتایا کہ مسٹر دیشمکھ نے دہلی کی پیپر کمپنیوں کی مدد سے یہ رقم اپنے تعلیمی ٹرسٹ سری سائی سکھشن سنستھا کو عطیہ کے طور پر دلائی تھی۔

احمد نگر کے اسپتال میں خوفناک آگ، 10 مریض ہلاک، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا اظہار رنج

0
احمد نگر کے اسپتال میں خوفناک آگ، 10 مریض ہلاک، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا اظہار رنج
احمد نگر کے اسپتال میں خوفناک آگ، 10 مریض ہلاک، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا اظہار رنج

احمد نگر کے سول اسپتال میں ہفتہ کو شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگنے سے دس مریض ہلاک اور دس سے زیادہ زخمی ہوگئے۔

احمد نگر/نئی دہلی: مہاراشٹر کے احمد نگر کے سول اسپتال میں ہفتہ کو شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگنے سے دس مریض ہلاک اور دس سے زیادہ زخمی ہوگئے۔

احمد نگر کے ضلع مجسٹریٹ راجیندر بھوسلے نے بتایا کہ حادثہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا۔

اسپتال کے عملے نے آج یہاں بتایا کہ آگ انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں تقریباً 11.30 بجے لگی اور تیزی سے پورے کمرے میں پھیل گئی۔ کمرے میں تقریباً 25 کووڈ مریض داخل تھے۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

سات فائر ٹینڈرز کی مدد سے آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے احمد نگر اسپتال میں حادثے میں مریضوں کی موت پر غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی تمنا کی ہے۔

وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ’’مہاراشٹر کے احمد نگر کے سول اسپتال میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے حادثے سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔ غم کی اس گھڑی میں میری تعزیت سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہے اور میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتا ہوں۔

حکام نے بتایا کہ مریضوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

مہاراشٹر حکومت کے وزیر حسن مشرف نے کہا کہ اس واقعے میں دس افراد کی المناک موت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اگر غفلت پائی گئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

مسٹر مشرف احمد شہر کے نگران وزیر ہیں۔

عراق میں انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں، 100 سے زائد افراد زخمی

0
عراق میں انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں، 100 سے زائد افراد زخمی
عراق میں انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں، 100 سے زائد افراد زخمی

عراق کی وزارت صحت نے کہا کہ جھڑپوں میں 125 افراد زخمی ہوئے جس میں 27 شہری ہیں اور بقیہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہیں۔

بغداد: عراق میں گزشتہ ماہ سامنے آنے والے انتخابی نتائج کے خلاف دارالحکومت بغداد میں احتجاج کرنے والے سینکڑوں مظاہرین کی پولیس اور سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عراق کی وزارت صحت نے کہا کہ جھڑپوں میں 125 افراد زخمی ہوئے جس میں 27 شہری ہیں اور بقیہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہیں۔

ایران کی حمایت یافتہ حشد الشعبی کا سیاسی بازو تصور کی جانے والی جماعت کی گزشتہ انتخابات میں نشستیں کم ہوئی تھیں اور اس جماعت نے ان انتخابات سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اسے فراڈ قرار دیا ہے۔

مظاہرین نے گرین زون تک جانے والے راستے تین اطراف سے بند کردیئے تاہم اس کے بعد پولیس نے ہوائی فائرنگ کرکے انہیں منتشر ہونے پر مجبور کردیا۔

وزارت صحت کے مطابق جھڑپوں میں کوئی بھی شخص ہلاک نہیں ہوا لیکن ایران کے حامی کچھ گروپس نے پیغام رسائی کی ایپلی کیشن ’ٹیلی گرام‘ پر پولیس پر مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کا الزام عائد کیا ہے۔

تاہم وزارت صحت کے دعوت کے برعکس ہشد کے طاقتور دھڑے حزب اللہ بریگیڈ نے کہا کہ پولیس کی فائرنگ سے دو مظاہرین مارے گئے۔

دہلی کے مسلمانوں پر اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے کہنے پر دہلی پولیس نے کیا حملہ؟

0
دہلی کے مسلمانوں پر اعلیٰ طبقے کے ہندوؤں کے کہنے پر دہلی پولیس والوں نے حملہ کیا۔

منگل کی رات، اونچی ذات کے ہندوؤں کے کہنے پر دہلی پولیس نے مسلمانوں پر مبینہ طور پر تشدد کا مظاہرہ کیا

نئی دہلی: بتایا جا رہا ہے کہ منگل کی رات کو شمال مغربی دہلی ریٹھالہ میں مسلمانوں پر دہلی پولیس نے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی ہدایت پر حملہ کیا ہے۔ پولیس نے رات کے آخری پہر بغیر کسی وجہ کے کسی قانون یا طریقہ کار پر عمل نہ کرتے ہوئے مسلم خواتین کو مارا پیٹا اور مسلمان مردوں کو اٹھا کر لے گئے۔

ڈانا کورنبرگ نامی ایک خاتون کے مطابق پولیس اہلکاروں نے موٹی لاٹھی اور ڈنڈوں سے درجنوں افراد کو شدید زخمی کر دیا جن میں کم از کم 3 حاملہ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ فون سے کچھ لوگ ریکارڈ کرنے کی کوشش کی تو ریکارڈنگ والے فونز بھی توڑ دیے گئے۔

ڈانا کورنبرگ کہتی ہیں، "یہ ہندو بالادستی (#HinduSpremacy) کا ایک ایسا عمل ہے جو پچھلے سال دہلی فسادات (#DelhiRiot) کی طرح خوفناک ہے۔ انہیں اس وقت قانونی اور میڈیا سپورٹ کی اشد ضرورت ہے۔

بدقسمتی سے اس واقعہ کو کسی بھی میڈیا نے کور نہیں کیا حالانکہ یہ واقعہ دردناک حد تک خوفناک تھا کیونکہ رات کے وقت تقریباً چار پولیس وین بغیر کسی اطلاع یا وارننگ کے علاقے میں داخل ہوئیں اور خواتین سمیت رہائشیوں کو وحشیانہ طریقے سے مارنا شروع کر دیا، اور غلیظ فحش گالیاں بھی دی گئیں۔ لوگوں کو موٹی لاٹھیوں سے مارا گیا، یہاں تک کہ حاملہ خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ایک عورت نے کہاں کہ ان کے پیٹ میں مارا گیا۔

علاقے کا مسلم طبقہ بنیادی طور پر فیکٹری ورکرز کے طور پر کام کرتا ہے۔ وہ روزانہ کام پر جاتے ہیں اور تھک ہار کر گھر آتے ہیں۔ ایک خاتون نے کہا، ’’ہمارے پاس کسی سے الجھنے یا کسی سے لڑنے کا وقت نہیں ہے۔‘‘

ایک فیس بک پوسٹ اس واقعے کو شیئر کرتی ہے جب خوف زدہ مسلم خواتین اس واقعے کو بیان کرتی ہیں اور اب سبھی اپنے گھروں میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، یہاں تک کہ پولیس سے بھی تحفظ حاصل نہیں ہے، جن کے پاس عموما ایسے حالات میں لوگ حفاظت اور یقین دہانی کے لیے رجوع کرتے ہیں۔ اگر کسی قوم کی پولیس فورس ہی اپنے عوام کے خلاف کام کرنے لگ جاتی ہے تو وہ قوم یقینا شدید مصیبت میں مبتلا ہو جاتی ہے اور اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ میڈیا نے اس کی رپورٹنگ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔

فیس بک پوسٹ دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

https://www.facebook.com/watch/live/?ref=watch_permalink&v=256841083070784

منگل کی رات کے واقعے نے 2020 میں شمال مشرقی دہلی کے فسادات کے ساتھ ابتدائی خوفناک مماثلتیں ظاہر کیں ہیں۔ لگتا ہے کہ شرپسند عناص اس طرح کے خوفناک نتائج سے پوری طرح سے باز نہیں آئے ہیں۔ شمال مشرقی دہلی میں خونریزی، املاک کی تباہی اور فسادات کی متعدد لہریں، جو 23 فروری 2020 سے شروع ہوئیں تھیں۔ ان حملوں میں تب تریپن لوگ مارے گئے تھے، دو تہائی مسلمان تھے جنہیں گولی مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔
ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار، ایک انٹیلی جنس افسر اور ایک درجن سے زائد ہندو بھی شامل ہیں، جنہیں گولی مار دی گئی یا حملہ کیا گیا۔

تشدد کے خاتمے کے ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد، سینکڑوں زخمی طبی سہولیات کی ناکافی سہولیات میں پڑے ہوئے تھے اور لاشیں کھلے نالوں سے مل رہی تھیں۔ مارچ کے وسط تک بہت سے لوگ لاپتہ ہو چکے تھے۔

مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مذہب کا پتہ لگانے کے لیے، مسلمان مردوں کو – جو ہندوؤں کے برعکس عام طور پر ختنہ کیے جاتے ہیں – بعض اوقات ان کے نچلے کپڑے اتارنے پر مجبور کیا جاتا تھا، اس سے پہلے کہ ان کے اعضا کو بھی سفاکانہ بنایا جائے۔

تباہ شدہ املاک غیر متناسب طور پر مسلمانوں کی ملکیت تھیں اور ان میں چار مساجد بھی شامل تھیں، جنہیں فسادیوں نے نذر آتش کر دیا تھا۔ فروری کے آخر تک بہت سے مسلمان ان محلوں کو چھوڑ چکے تھے۔

یہاں تک کہ دہلی کے ان علاقوں میں بھی جو تشدد سے اچھوت نہیں تھے، کچھ مسلمان دارالحکومت دہلی میں اپنی ذاتی عدم تحفظ کے خوف سے اپنے آبائی گاؤں چلے گئے تھے۔

دہلی پولیس پر متاثرہ شہریوں، عینی شاہدین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دنیا بھر کے مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کی حفاظت میں کوتاہی کا الزام لگایا تھا۔ ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ پولیس مسلمانوں کے خلاف مربوط انداز میں کام کرتی ہے، اور موقع پر ہندو گروہوں کی جان بوجھ کر مدد کرتی ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ کچھ پولیس افسران بھی مسلمانوں پر حملوں میں شامل ہوئے تھے۔

شمال مشرقی دہلی کے گھنے آباد ہندو مسلم محلوں میں تشدد کے کم ہونے کے بعد، کچھ ہندو تنظیموں نے واقعات کے حساب کتاب کو نئی شکل دینے اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی کو مزید بھڑکانے کی کوشش میں مسلم تشدد کے مبینہ ہندو متاثرین کی پریڈ جاری رکھی تھیں۔

تقریباً 1000 مسلمانوں نے دہلی کے کنارے پر ایک ریلیف کیمپ میں پناہ مانگی۔ 9 مارچ کو 2020 میں منائے جانے والے ہندو تہوار ہولی سے پہلے کے دنوں میں کئی مسلم محلوں میں ہندوؤں کے گروہ نمودار ہوئے، تاکہ مسلمانوں کو خوفزدہ کر کے اپنے گھر چھوڑ دیں۔

مسلم مخالف رویوں کے درمیان دہلی کے سینئر وکلاء فساد متاثرین کی طرف سے مقدمات کو قبول نہیں کر رہے تھے۔

ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو اپنے محلوں میں رہتے رہے، تشدد نے ممکنہ طور پر طویل عرصے تک رہنے والی تقسیم کو جنم دیا۔ ہنگامہ آرائی کے بعد کم از کم دو ہفتوں تک، وہ دن کے وقت ایک دوسرے سے بچتے رہے تھے اور رات کے وقت اپنی گلیوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیتے تھے۔