ہفتہ, اپریل 18, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 288

مدھیہ پردیش میں نائٹ کرفیو سمیت دیگر پابندیاں بھی آج رات سے ختم

0
مدھیہ پردیش میں نائٹ کرفیو سمیت دیگر پابندیاں بھی آج رات سے ختم
مدھیہ پردیش میں نائٹ کرفیو سمیت دیگر پابندیاں بھی آج رات سے ختم

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ ریاست میں تمام لوگ جو آخری رسومات اور جنازے میں شرکت کے خواہش مند ہیں، شریک ہوسکیں گے۔ رات کا کرفیو آج رات سے ختم ہو رہا ہے۔

بھوپال: مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ ریاست میں کووڈ-19 تقریباً کنٹرول میں ہے۔ اس لیے ریاستی حکومت کی جانب سے ایسی پابندیوں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے، جو اب تک نافذ تھیں۔ یہ پابندیاں کووڈ وبا کے دوران لگائی گئی تھیں۔

مسٹر چوہان نے آج یہاں سکریٹریٹ میں ریاست میں کووڈ کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ ہدایات دیں۔ صحت عامہ اور خاندانی فلاح و بہبود کے وزیر پربھورام چودھری، طبی تعلیم کے وزیر وشواس سارنگ، چیف سکریٹری اقبال سنگھ بینس، ایڈیشنل چیف سکریٹری ہوم ڈاکٹر راجیش راجورا، ہیلتھ کمشنر آکاش ترپاٹھی اور دیگر افسران میٹنگ میں موجود تھے۔

میٹنگ میں مسٹر چوہان نے بتایا کہ اب تمام سماجی، سیاسی، کھیل، تفریحی، ثقافتی اور مذہبی تقریبات پوری صلاحیت کے ساتھ منعقد کی جائیں گی۔ ریاست میں مختلف مقامات پر میلوں کا انعقاد بھی کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ تقریبات منعقد کی جا سکیں گی اور شادی میں شرکت بغیر کسی حد کے کی جا سکے گی۔ مسٹر چوہان نے بتایا کہ ایک طویل عرصہ پابندیوں کے ساتھ گزرا ہے۔ پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ مجموعی صورتحال پر غور و خوض کے بعد کیا گیا ہے۔

اسکول، کالج، ہاسٹل، کوچنگ کلاسز اب پوری صلاحیت کے ساتھ چلائی جا سکیں گی

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ تمام لوگ جو آخری رسومات اور جنازے میں شرکت کے خواہش مند ہیں، شریک ہوسکیں گے۔ رات کا کرفیو آج رات سے ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سنیما ہال، مالز، سوئمنگ پول، جم، یوگا سنٹر، ریستوراں، کلب وغیرہ 100 فیصد گنجائش کے ساتھ کھولے جائیں گے۔ اسکول، کالج، ہاسٹل، کوچنگ کلاسز اب پوری صلاحیت کے ساتھ چلائی جا سکیں گی۔ یہ یقینی ہے کہ ہم ہر قسم کی سرگرمیاں شروع کر رہے ہیں۔ لیکن اس کی شروعات کورونا دوستانہ رویے سے ہوگی۔

مسٹر چوہان نے بتایا کہ ضروری ہے کہ انفیکشن پھیلانے کے لیے ذمہ دار کوئی کارروائی نہ کی جائے کسی بھی سطح پر کوئی لاپرواہی نہ برتی جائے، باہمی فاصلے کی احتیاط اور ماسک کا استعمال سب کے لیے ضروری ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ دکاندار میلوں میں اسی صورت میں دکان لگا سکیں گے جب انہیں دونوں ڈوزیں لگ جائیں گی۔ سینما ہال میں عملے کے لیے دونوں ڈوزیں لینا اور تماشائیوں کے لیے کم از کم ایک ڈوز لازمی ہو گی۔

میلوں کے علاوہ دکاندار کے لیے شہری اور دیہی علاقوں میں ویکسین کی دونوں خوراکیں لینا لازمی ہوگا۔ دونوں خوراکیں 18 سال سے زیادہ عمر کے طلباء اور ہاسٹل کے تمام عملے کے لیے درکار ہوں گی۔

مسٹر چوہان نے میڈیا کے ذریعے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ اگر حکومتی ٹیم کووڈ ٹیسٹ کے لیے آتی ہے تو اس کا نمونہ دینا ضروری ہے، تاکہ اگر یہ بیماری زیادہ لوگوں کو ہو رہی ہو، انفیکشن پھیل رہا ہو، تو اس کا فوری پتہ لگایا جا سکے۔ جس کی دوسری خوراک رہ جائے تو ضرور ویکسین لگوائیں۔ دونوں خوراکیں سرکاری ملازمین کے لیے لازمی ہیں۔

کولگام میں دو الگ الگ تصادم آرائیوں میں ٹی آر ایف کمانڈر سمیت 4 دہشت گرد ہلاک: آئی جی کشمیر

0
کولگام میں دو الگ الگ تصادم آرائیوں میں ٹی آر ایف کمانڈر سمیت 4 دہشت گرد ہلاک: آئی جی کشمیر
کولگام میں دو الگ الگ تصادم آرائیوں میں ٹی آر ایف کمانڈر سمیت 4 دہشت گرد ہلاک: آئی جی کشمیر

کولگام کے پمبائی اور گوپال پورہ علاقوں میں دو الگ الگ تصادم آرائیوں کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔

سری نگر: جنوبی ضلع کولگام کے پمبائی اور گوپال پورہ علاقوں میں دو الگ الگ تصادم آرائیوں کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔

آئی جی کشمیر وجے کمار نے بتایا کہ ’سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد بدھ کی شام کو ضلع کولگام کے پمبائی اور گوپال پورہ علاقوں کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ جونہی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار مشتبہ مقامات کے قریب پہنچے تو وہاں پر موجود ملی ٹینٹوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ چنانچہ حفاظتی عملے نے بھی جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس دوران کئی منٹوں تک دو بدو گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔

آئی جی کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ ’تصادم آرائیوں کے دوران چار ملی ٹینٹ مارے گئے جن میں سے ایک کی شناخت ٹی آر ایف کمانڈر آفاق سکندر کے بطور ہوئی ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران مارے گئے تین ملی ٹینٹوں کی شناخت اور اُن کی تنظیمی وابستگی کے بارے میں جانچ پڑتال شروع کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پمبائی اور گوپال پورہ علاقوں میں تلاشی آپریشن جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق گاﺅں میں اور ایک ملی ٹینٹ چھپا بیٹھا ہیں جس کو مار گرانے کی خاطر کارروائی جاری ہے۔

کچھ سوشل میڈیا اور کچھ غیر جانب دار صحافیوں کے ہاتھوں حقیقی صحافت کی باگ ڈور

0
کچھ سوشل میڈیا اور کچھ غیر جانب دار صحافیوں کے ہاتھوں حقیقی صحافت کی باگ ڈور
کچھ سوشل میڈیا اور کچھ غیر جانب دار صحافیوں کے ہاتھوں حقیقی صحافت کی باگ ڈور

‘نیشنل پریس ڈے’ یعنی قومی یوم صحافت کے موقع پر انقلابی شاعر حبیب جالبؔ کا شعر "اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا – رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا” بر محل ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

نیشنل پریس ڈے اور حرف صداقت

‘نیشنل پریس ڈے’ یعنی قومی یوم صحافت کے موقع پر اچانک انقلابی شاعر حبیب جالبؔ کی ایک نظم یاد آئی گئی۔ اگرچہ یہ نظم انھوں نے کئی دہائی پہلے لکھی تھی، لیکن اس کی معنویت آج اس سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ صحافت کی موجودہ صورت حال پر اس سے بہتر اور کچھ نہیں کہا جا سکتا، تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ اس نظم کے پہلے شعر میں ہی وہ ملک کی موجودہ صحافت کی بھرپور عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔ نظم کے پہلے مصرعہ میں ان صحافیوں کی تصویر نظر آتی ہے، جنھیں آج ہم ’گودی میڈیا‘ کے نام سے جانتے ہیں، جبکہ دوسرے مصرعہ میں وہ صحافی نظر آتے ہیں جو تمام مشکلات اور نا مساعد حالات کے باوجود آج بھی صحافتی اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔ صحافیوں کے تعلق سے آج حالات یہ ہو چکے ہیں کہ یا تو ’اِدھر‘ یا ’اُدھر‘۔ حبیب جالبؔ کی نظم کا مطلع بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا
رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا

اگر آج سوشل میڈیا، یو ٹیوب چینل اور غیر جانبدار صحافی نہیں ہوتے تو ملک کے عوام کو صرف حکومت کی قصیدہ خوانی پر ہی اکتفا کرنا پڑتا

ہندوستان میں پہلے’پریس کمیشن‘ نے ملک میں صحافت کی آزادی کے تحفظ اور صحافتی اصولوں کو مزید تقویت دینے کے مقصد سے ایک پریس کونسل کا تصور کیا گیا تھا۔ جس کے بعد 4 جولائی 1966ء کو پریس کونسل کا قیام عمل میں آیا۔ اس کونسل نے 16 نومبر 1966ء سے باضابطہ طور پر اپنا کام شروع کیا۔ تبھی سے ہر سال 16 نومبر کو ’نیشنل پریس ڈے‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہم نے 2021 ء کا ’نیشنل پریس ڈے‘ ان حالات میں منایا، جب صحافت کے پیشے سے وابستہ افراد یا تو ’حرف صداقت‘ لکھنا بھول گئے ہیں، یا پھر انھیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور جو ایسا نہیں کر رہے ہیں، ان کے کام کو ’بغاوت‘ کے زمرے میں ڈال دیا جا رہا ہے، انھیں ہراساں کیا جا ہا ہے، ان پر شکنجہ کسا جا رہا ہے، جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ بہت زیادہ پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تری پورہ میں پیش آنے والے واقعات اور پھر ان کی خبر گیری کرنے پر کس طرح صحافیوں کو قید و بند کی صعوبتیں اٹھانا پڑ رہی ہیں، وہ سب ہمارے سامنے ہے۔

تری پورہ فسادات کے خلاف بولنے والے صحافیوں پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج

تری پورہ میں مسلمانوں پر حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر اس کے خلاف بولنے والے تقریباً 70 افراد اور تنظیموں کے خلاف پولیس نے یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا۔ ان میں صحافیوں کے علاوہ سماجی کارکن اور وکلا بھی شامل ہیں۔ یہاں تک کہ دہلی سے تری پورہ واقعہ کی حقیقت جاننے گئیں دہلی کی دو نوجوان خاتون صحافیوں پر بھی مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ محض بیس اور بائیس سال کی سمردھی سکونیا اور سورنا جھا کا قصور یہ تھا کہ وہ زمینی سچائی جاننے کے بعد اپنی کچھ رپورٹس اپنے ادارے ’ایچ ڈبلیو نیوز نیٹ ورک‘ کے ذریعہ منظر عام پر لائیں۔ بھلے ہی انھیں ضمانت مل گئی ہے، لیکن قانونی چارہ جوئی اور اس سے متعلق معاملات کے لئے انھیں آئندہ بھی مشکلات کا سامنا رہے گا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ دونوں اپنی رپورٹنگ کے ذریعہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا کام کر رہی تھیں۔ کاش، مقامی انتظامیہ اس وقت بھی ایسی ہی مستعدی اور سرگرمی کا مظاہرہ کرتی جب اس کے سامنے کھلے عام مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ظاہر ہے اگر ایسا کیا ہوتا تو تری پورہ کا معاملہ قومی میڈیا سے لے کر بین الاقوامی میڈیا تک کی سرخیوں میں نہیں آتا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس سے کچھ اور پیچھے جائیں تو کسان تحریک کے دوران ایک نوجوان صحافی مندیپ پونیا کی گرفتاری بھی قومی سطح پر سرخیوں میں رہی۔ یہ خوش قسمت تھے کہ انھیں بھی چند روز میں ضمانت مل گئی۔ لیکن کیرل کے ایک نوجوان صحافی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا، کیوں کہ اس کا نام ’صدیق کپن‘ ہے۔ وہ ایک سال سے زائد عرصہ سے یو پی کی جیل میں قید ہیں۔ اس دوران انھوں نے اپنی ماں کو بھی کھو دیا۔

ہاتھرس اجتماعی عصمت دری و قتل معاملہ

صدیق کو گزشتہ برس پانچ اکتوبر کو ہاتھرس جاتے وقت گرفتار کیا گیا تھا۔ جہاں ایک دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کے بعد موت ہو گئی تھی اور پولیس نے رات کے اندھیرے میں اس کی آخری رسوم ادا کر دی تھیں۔ پورے ملک میں اس واقعہ پر ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ یو اے پی اے کے تحت درج مقدمہ میں الزام لگایا گیا تھا کہ کپن اور ان کے دیگر ساتھی ہاتھرس اجتماعی عصمت دری و قتل معاملے میں فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے اور سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

اس سے پہلے یوپی میں ہی راج دیپ سردیسائی اور سدھارتھ ورداراجن جیسے نامور صحافیوں پر بھی مقدمات درج کئے گئے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا ہندوستان میں صحافت کا مطلب صرف جی حضوری اور حکومت کی مدح سرائی ہی رہ گیا ہے؟ کیا ملک میں صحافت اور اظہار رائے کی آزادی بالکل ختم ہو رہی ہے؟ کیوں کہ آج ملک میں مین اسٹریم میڈیا کا یہ حال ہے کہ حکومت سے سوال کرنے کے بجائے حزب اختلاف سے سوال کیا جا رہا ہے۔ مشہور صحافی رویش کمار نے کچھ عرصہ پہلے حالات کی بالکل صحیح عکاسی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جیل کی دیواریں آزاد آوازوں سے اونچی نہیں ہوسکتی ہیں، جو اظہار خیال کی آزادی پر پہرہ لگانا چاہتے ہیں، وہ دیش کو جیل میں بدلنا چاہتے ہیں۔ ‘‘اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آج سوشل میڈیا، یو ٹیوب چینل اور غیر جانبدار صحافی نہیں ہوتے تو ملک کے عوام کو صرف حکومت کی قصیدہ خوانی پر ہی اکتفا کرنا پڑتا۔ آزاد اور غیر جانب دار صحافیوں نے کافی حد تک صحافتی اصلوں کی لاج بچا رکھی ہے۔

صحافیوں کو قید کرکے انھیں تشدد کا نشانہ بنانے ممالک کی فہرست

رواں سال کے جولائی ماہ میں صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے ایسے ملکوں کے سربراہان کی فہرست جاری کی تھی، جو ان کے مطابق اپنے ملک میں سنسرشپ، صحافیوں کو قید کرکے انھیں تشدد کا نشانہ بنانے، ہراساں کرنے یا انھیں نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل کروا کر آزادی صحافت کو مسلسل دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان 37 ممالک کے سربراہان میں وزیر اعظم مودی سمیت پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای، چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے ولادیمیر پوتن اور شمالی کوریا کے کم جونگ ان کے نام بھی شامل تھے۔ جبکہ ایشیا کی دو خاتون سربراہان مملکت بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لام شامل تھیں۔ جبکہ چند یورپی ممالک کے سربراہ بھی اسی فہرست میں نظر آئے۔ ہندوستان کی اگر بات کی جائے تو اس کے علاوہ ’رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز‘ کی رپورٹ میں ہندوستان کو بھی صحافت کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شامل کیا گیا۔

180 ممالک میں 142 ویں نمبر پر ہندوستان

تنظیم کے ذریعہ جاری کردہ 2021ء کے ’ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس‘ میں ہندوستان کو 180 ممالک میں 142 ویں نمبر پر رکھا گیا، جو میڈیا کی آزادی کی خراب حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مئی 2019ء سے اگست 2021ء کے درمیان ہندوستان میں صحافیوں پر 256 حملے ہوئے۔ نیو یارک میں واقع تنظیم ’پولیس پروجیکٹ نے ہندوستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد پر ایک تحقیق کی، جس میں ان حملوں کا ذکر کیا گیا۔ پولیس پروجیکٹ نے مختلف موضوعات کی کوریج کے دوران پیش آنے والے واقعات کو جمع کیا ہے۔ اس کے مطابق جموں و کشمیر میں 51 واقعات، سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران 26، دہلی فسادات کے دوران 19 اور کورونا بحران کی کوریج کے دوران 46 واقعات رونما ہوئے۔ کسانوں کی تحریک کے دوران صحافیوں پر تشدد کے اب تک 10 واقعات ہو چکے ہیں۔ باقی 104 واقعات ملک بھر میں مختلف اوقات اور کوریج سے متعلق ہیں۔ ان سب کے باوجود ملک میں اپنے پیشے کے ساتھ انصاف کرنے والے صحافی موجود ہیں۔ ایمانداری اور دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ حبیب جالب کے اس شعر کو جلا بخش رہے ہیں، کہ ؎

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

20 مہینے بعد بنگال میں 16 نومبر سے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کھلنے کو تیار

0
20 مہینے بعد بنگال میں 16 نومبر سے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کھلنے کو تیار
20 مہینے بعد بنگال میں 16 نومبر سے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کھلنے کو تیار

ایک طرف طلبا و طالبات میں اسکول و کالج کھلنے پر خوشی کا ماحول ہے تاہم انتظامیہ کیلئے صاف صفائی اور معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھنا چیلنج سے کم نہیں ہے۔ حکومت بنگال نے اسکولوں کیلئے گائیڈ لائن جاری کیا ہے اور اس پر عمل کرنا لازمی قرار دیا ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال میں 20 مہینے بعد یونیورسٹی، کالج اور نویں جماعت سے بارہویں جماعت تک اسکول کل سے کھل رہے ہیں۔ گرچہ اس وقت کورونا کی صورت حال قابو میں ہے۔ تاہم اب بھی کلکتہ، شمالی 24 پرگنہ، جنوبی 24 پرگنہ اور ہوڑہ جیسے اضلاع میں کورونا کے کیسز آ رہے ہیں۔ اس کے پیش نظر حکومت نے طلبا و طالبات کو کورونا انفیکشن سے بچانے کیلئے سخت ہدایات جاری کئے ہیں۔

ایک طرف طلبا و طالبات میں اسکول و کالج کھلنے پر خوشی کا ماحول ہے تاہم انتظامیہ کیلئے صاف صفائی اور معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھنا چیلنج سے کم نہیں ہے۔ حکومت بنگال نے اسکولوں کیلئے گائیڈ لائن جاری کیا ہے اور اس پر عمل کرنا لازمی قرار دیا ہے۔

اسکولوں کیلئے گائیڈ لائن

حکومت کے گائیڈ لائن کے مطابق طلباء اور والدین کو اسکول میں داخل ہونے سے پہلے درج ذیل ہدایات کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔

طلباء کو کلاس شروع ہونے سے آدھا گھنٹہ پہلے اسکول و کالج پہنچنا ہوگا۔

نویں اور گیارہویں جماعت کے کلاسیس کا وقت صبح 10 بجے سے 3.30 بجے تک رہے گا۔

دسویں اور بارھویں کلاسز صبح 11 بجے سے شام 4.30 بجے تک۔

پریکٹیکل کلاسز بھی شروع ہوں گی۔

والدین فی الحال سکول میں داخل نہیں ہو سکتے!

ا سکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبا کو انگوٹھی، بریسلٹ یا پھر ہار پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اسکولوں کیلئے بھی گائیڈ لائن جاری کیا گیا ہے اس کے مطابق
بینچ پر دو سے زیادہ طلبہ نہیں بیٹھ سکتے۔

اگر دو طالب علم ایک بینچ پر بیٹھتے ہیں، تو ایک طالب علم اگلے بینچ پر بیٹھ سکتا ہے۔

اسکول میں، پکا ہوا مڈ ڈے میل فراہم نہیں کیا جائے گا۔

اسکول میں فی الحال کسی کھیل یا ثقافتی پروگرام کی اجازت نہیں ہے۔

ایک استاد ہمیشہ کلاس میں موجود رہے گا۔

اسکول میں جنک فوڈ نہیں کھایا جا سکتا۔

کتابیں اور پانی نہ دے سکتے ہیں نہ کسی سے لے سکتے ہیں۔

اس سے قبل حکومت نے 30 اکتوبر تک صاف صفائی مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی اور یکم نومبر سے اساتذہ اسکول و کالج میں حاضری دینے لگے تھے۔ اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی استاد کلاس روم میں رہنا ضروری ہوگا۔

کشمیر میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے: ڈاکٹر عقیل احمد

0
کشمیر میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے: ڈاکٹر عقیل احمد
کشمیر میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے: ڈاکٹر عقیل احمد

ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ کشمیر میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اسکل ڈیولپمنٹ کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔

سری نگر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عقیل احمد کا کہنا ہے کہ کشمیر میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ موقعے فراہم کرنے کے لئے یہاں اسکل ڈیولپمنٹ کو بھاری پیمانے پر متعارف کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این سی پی یو ایل نے سی بی ایس ای کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت 13 مختلف کورسز کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں کشمیر میں شروع کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرافٹ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی مدد سے کشمیر میں پیپر ماشی کا ایک خصوصی سینٹر بھی شروع کیا گیا ہے جس میں چالیس بچوں نے داخلہ بھی لیا ہے۔

موصوف ڈائریکٹر نے ان باتوں کا اظہار یو این آئی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کیا ہے۔

 کشمیر کے اندر اسکل ڈیولپمنٹ کا کام بھاری پیمانے پر

انہوں نے کہا: ’مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ کشمیر کے اندر روزگار کے موقعے بڑھ جائیں اس کے لئے یہاں اسکل ڈیولپمنٹ کا کام بھاری پیمانے پر ہو اور جن شعبوں میں کام شروع کیا جا سکتا ہے ان میں کیا جائے‘۔

ان کا کہنا تھا: ’اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے این سی پی یو ایل نے سی بی ایس ای کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت ٹورزم، ہینڈی کرافٹس، ٹیچنگ ٹریننگ، کوڈنگ کورسز جیسے تیرہ کورسز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جن کو کشمیر میں چلایا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو روز گار مل سکے اور کشمیر میں خوشحالی پیدا ہو‘۔

ایم ڈی ٹی پی کے سب سے زیادہ سینٹرز کشمیر میں

ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ ایم ڈی ٹی پی کے سب سے زیادہ سینٹرز کشمیر میں ہی چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کرافٹ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی مدد سے یہاں پیپر ماشی کا ایک خصوصی سینٹر بھی شروع کیا ہے جس میں چالیس بچوں نے داخلہ بھی لیا ہے اور پندرہ بچے ویٹنگ میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو مسجدوں وغیرہ میں اعلان کر کے جانکاری فراہم کی جائے گی تو مجھے یقین ہے کہ ہمارے کورسز میں کافی تعداد میں بچے داخلہ لیں گے۔

موصوف ڈائریکٹر نے کہا کہ پیپر ماشی کشمیر کی ایک بہت بڑی صنعت کے طور پر ابھر رہی ہے اور اس کے مصنوعات بیرونی ممالک بھی بھیجے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مصنوعات کو بڑھانے سے نہ صرف کشمیر میں ترقی ہوگی بلکہ کشمیر کے تہذیب اور ہنر کی بھی دنیا میں تشہیر ہوگی۔

دہلی میں اسکول اور سرکاری دفاتر ایک ہفتے تک رہیں گے بند: کیجریوال

0
دہلی میں اسکول اور سرکاری دفاتر ایک ہفتے تک رہیں گے بند: کیجریوال
دہلی میں اسکول اور سرکاری دفاتر ایک ہفتے تک رہیں گے بند: کیجریوال

بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے پیر سے دہلی میں اسکول اور سرکاری دفاتر کو ایک ہفتے کے لیے بند کرنے کا فیصلہ

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے پیر سے اسکولوں اور سرکاری دفاتر کو ایک ہفتے کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسٹر کیجریوال نے فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے آج ایک ہنگامی میٹنگ بلائی اور اس کے بعد اسکولوں کو ایک ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا، حالانکہ آن لائن اسکول چلتے رہیں گے۔ میٹنگ میں نائب وزیر اعلی منیش سسودیا، وزیر صحت ستیندر جین، وزیر ماحولیات گوپال رائے اور دہلی کے چیف سکریٹری موجود تھے۔

اس کے ساتھ ہی دہلی میں تعمیراتی کام 14 سے 17 نومبر تک مکمل طور پر بند رہیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے ہفتہ کو آلودگی کے معاملے پر دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے جلد از جلد کارروائی کرنے کو کہا۔

میرٹھ: انتظامیہ کی اجازت نہ ملنے سے اویسی کی ریلی ملتوی

0
میرٹھ: انتظامیہ کی اجازت نہ ملنے سے اویسی کی ریلی ملتوی
میرٹھ: انتظامیہ کی اجازت نہ ملنے سے اویسی کی ریلی ملتوی

اویسی کی میرٹھ میں ہونے والی عوامی ریلی انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ملتوی کردی گئی ہے۔

میرٹھ: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کی میرٹھ میں سنیچر کو ہونے والی عوامی ریلی انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ملتوی کردی گئی ہے۔

پارٹی کے ریاستی صدر شوکت علی نے یہاں میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں بتایا کہ ریاستی حکومت کے دباؤ میں میرٹھ ضلع انتظامیہ نے عوامی ریلی کی اجازت نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی انتظامیہ سے اجازت لینے کے بعد ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔

علی نے کہا کہ ریلی کی اجازت کے لئے درخواست دینے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے اس بات کا تیقن دیا گیا تھا کہ وہ اپنی تیاریاں کرلیں۔ اجازت دے دی جائے گی لیکن جمعہ کی رات 12 بجے اچانک پولیس انتظامیہ نے تیاریاں رکوا کر ریلی کو ملتوی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ٹینٹ وغیرہ ہٹوانا شروع کردیا۔

اس کی مخالفت میں ناراض پارٹی کارکنوں نے تھانہ نوچندی میں ہنگامہ کرتے ہوئے دھرنا بھی دیا۔ بعد میں پولیس افسران کے ذریعہ کسی دیگر مقام پر ریلی کرائے جانے کی اجازت دینے کا تیقن ملنے کے بعد دھرنے کو ختم کردیا گیا۔

ایس پی (شہر) ونیت بھٹناگر نے بتایا کہ شہر میں جگہ جگہ ہورڈنگ لگا دئیے گئے تھے لیکن نوچندی گراؤنڈ میں ریلی کے انعقاد کے لئے کوئی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ویسے بھی اس جگہ کے سلسلے میں نگر نگم اور ضلع پنچایت دونوں کے درمیان مالکانہ تنازع چل رہا ہے اور ایسے میں انتظامی سطح پر کوئی اجازت نہیں دی جاسکتی تھی۔

کنگنا رناوت کے ہندوستان کی آزادی پر تبصرہ پر سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کا شدید ردعمل

0
کنگنا رناوت کے ہندوستان کی آزادی پر تبصرہ پر سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کا شدید ردعمل
کنگنا رناوت کے ہندوستان کی آزادی پر تبصرہ پر سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کا شدید ردعمل

کنگنا رناوت کو گرفتار کرنے اور ان کے پدم ایوارڈ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

متنازعہ تبصرہ کرنے کے لیے جانی جانے والی اداکارہ کنگنا رناوت نے برطانوی راج کے خلاف ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے بارے میں اپنے خیالات کو لے کر ایک بار پھر تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔

34 سالہ پدم شری ایوارڈ یافتہ نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو 1947 میں آزادی نہیں ملی تھی بلکہ وہ ‘بھیک’ تھی اور ملک کو حقیقی آزادی 2014 میں اس وقت ملی جب نریندر مودی کی قیادت والی حکومت آئی۔ اس تبصرے پر سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے ان کی فلم Queen of Jhansi (جھانسی کی رانی) کا بھی مذاق اڑایا ہے، جس کے لیے انہیں قومی ایوارڈ ملا تھا۔

کنگنا رناوت کے اس بیان کی بی جے پی سمیت سیاسی جماعتوں نے سخت مذمت کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے ٹویٹ کیا ہے کہ یہ ایک ملک مخالف تبصرہ ہے اور اسے اسی تناظر میں لیا جانا چاہیے۔

کانگریس نے جمعہ کو مطالبہ کیا کہ مرکز رناوت سے پدم شری واپس لے کیونکہ اس نے ملک کی تحریک آزادی کی توہین کی ہے۔

مہاراشٹر میں حکمراں مہا وکاس اگھاڑی حکومت میں اتحادی شیوسینا نے کہا کہ کنگنا کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔

مہاراشٹر بی جے پی کے صدر چندرکانت پاٹل نے کہا ہے کہ ‘ملک کی آزادی’ کی جدوجہد پر کنگنا رناوت کا تبصرہ بالکل غلط ہے۔ کسی کو بھی تحریک آزادی پر منفی تبصرہ کرنے کا حق نہیں ہے۔

مہیلا کانگریس نے ان کے خلاف چورو پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرایا

مہیلا کانگریس کی ریاستی صدر ریحانہ ریاض نے جمعہ کو چورو میں کانگریس کے دفتر میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ مہیلا کانگریس کی ضلع صدر نرملا سنگھل نے اداکارہ کنگنا کے خلاف کوتوالی میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ ریاستی صدر ریحانہ ریاض نے کہا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہندوستان ہزاروں لوگوں کی قربانیوں کے بعد 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔

سول سوسائٹی "آزادی کا امرت مہوتسو” کے معنی پر بھی سوال اٹھا رہی ہے، جو حکومت ہند کی طرف سے ترقی پسند ہندوستان کے 75 سال اور ہندوستان کے لوگوں کی شاندار تاریخ، ثقافت اور کامیابیوں کا جشن منانے کی پہل تھی۔

راجستھان: ضلع باڑمیر میں بس اور ٹریلر میں ٹکر سے 12 افراد ہلاک، 27 زخمی

0
راجستھان: ضلع باڑمیر میں بس اور ٹریلر میں ٹکر سے 12 افراد ہلاک، 27 زخمی
راجستھان: ضلع باڑمیر میں بس اور ٹریلر میں ٹکر سے 12 افراد ہلاک، 27 زخمی

باڑمیر جودھپور ہائی وے پر بھنڈیا واس گاؤں کے قریب آج صبح بس اور ٹریلر کے درمیان تصادم میں 12 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہو گئے۔

باڑمیر: راجستھان کے باڑمیر ضلع میں باڑمیر-جودھپور ہائی وے پر بھنڈیا واس گاؤں کے قریب آج صبح بس اور ٹریلر کے درمیان تصادم میں 12 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق صبح تقریباً 10.30 بجے پیش آنے والے اس حادثے میں بارہ افراد کی موت ہو گئی۔ آگ لگنے سے دونوں گاڑیوں میں 9 افراد جھلس کر ہلاک ہوگئے جب کہ بس میں سوار ایک شخص ہلاک اور ایک شخص ٹریلر میں جھلس گیا جب کہ حادثے میں شدید زخمی ایک شخص اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ حادثے میں ایک معصوم بچی کی بھی موت ہوگئی۔

حادثے کے زخمیوں کو بلوترا کے ناہٹا اور دیگر اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے اور کئی زخمیوں کو جودھ پور بھیجا گیا ہے۔ جلنے کی وجہ سے حادثے میں مرنے والوں کی شناخت نہیں ہوسکی تو ان کی لاشوں کو جودھ پور روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ ڈی این اے ٹیسٹ سے ان کی شناخت کی جاسکے۔

وزیر اعظم نریندر مودی، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، گورنر کلراج مشرا، وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی صدر ڈاکٹر ستیش پونیا، سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے اور کانگریس کے ریاستی صدر اور وزیر تعلیم گووند سنگھ دوتاسرا وغیرہ نے حادثے پر غم کا اظہار کیا، سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے ایشور سے دعا کی۔

ہلاک ہونے والے افراد اور زخمیوں کے لیے امداد کا اعلان

وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نے ہلاک ہونے والے افراد اور زخمیوں کے لیے امداد کا اعلان کیا۔  ریاستی حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کو 5-5 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 1-1 لاکھ روپے اور مرکزی حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50,000 روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے جیسے ہی حادثے کی اطلاع ملی، مسٹر گہلوت نے حادثے کے تعلق سے ضلع کلکٹر، باڑمیر سے فون پر بات کی اور انہیں راحت اور بچاؤ کاموں کے بارے میں ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کا بہترین علاج کو یقینی بنایا جائے گا۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی جنگلات اور ضلع انچارج وزیر سکھرام وشنوئی، پچ پدرا کے ایم ایل اے مدن پرجاپت، ڈویژنل کمشنر راجیش شرما، ضلع کلکٹر لوک بندھو اور پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپک بھارگوا موقع پر پہنچ گئے۔

کوہلی کی بیٹی کی عصمت دری کی دھمکی دینے والا نوجوان حیدرآباد میں گرفتار

0
کوہلی کی بیٹی کی عصمت دری کی دھمکی دینے والا نوجوان حیدرآباد میں گرفتار
کوہلی کی بیٹی کی عصمت دری کی دھمکی دینے والا نوجوان حیدرآباد میں گرفتار

ممبئی پولیس نے ہندوستانی کرکٹر وراٹ کوہلی کی بیٹی کی عصمت دری کرنے کی دھمکی دینے والے نوجوان کو حیدرآباد سے گرفتار کر لیا ہے۔ اس نوجوان کی شناخت رام ناگیش کے طور پر کی گئی ہے۔

حیدرآباد: ممبئی پولیس نے ہندوستانی کرکٹر وراٹ کوہلی کی بیٹی کی عصمت دری کرنے کی دھمکی دینے والے نوجوان کو حیدرآباد سے گرفتار کر لیا۔

اس نوجوان کی شناخت رام ناگیش کے طور پر کی گئی ہے۔ اس نے یہ دھمکی آن لائن دی تھی۔ ممبئی پولیس سائبر سیل نے 23 سالہ شخص کو حیدرآباد سے گرفتار کیا۔ اس کو ممبئی لے جایا گیا۔

اس نے ٹی 20 عالمی کپ میں پاکستان کے ہاتھوں ہندوستانی ٹیم کی شکست کے بعد کوہلی کی جانب سے فاسٹ بولر محمد سمیع کی حمایت کے بعد ٹوئٹر پوسٹ پر آن لائن یہ دھمکی دی تھی۔

مختلف میڈیا ایجنسیوں کی جانچ نے اس بات کا اشارہ کیا تھا کہ یہ ٹوئٹر ہینڈل جس سے یہ دھمکی دی گئی تھی، پاکستان سے ہے۔ تاہم کوئنٹ ویب فیکٹ چیکنگ ٹیم نے پتہ چلایا کہ یہ اکاؤنٹ جس سے دھمکی دی گئی تھی وہ جاریہ سال اپریل میں بنایا گیا ہے۔ اس کے یوزرنام اور ٹوئٹر ہینڈل کو کئی مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ اس ٹوئٹر کو چلانے والے کا تعلق حیدرآباد سے ہے جس پر کارروائی کرتے ہوئے اس شخص کی گرفتاری کو یقینی بنایا گیا۔