جمعہ, اپریل 17, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 287

سعودی عرب کا ہندوستان سمیت پانچ دیگر ممالک کے درمیان براہ راست پرواز شروع کرنے کا اعلان

0
سعودی عرب کا ہندوستان سمیت پانچ دیگر ممالک کے درمیان براہ راست پرواز شروع کرنے کا اعلان
سعودی عرب کا ہندوستان سمیت پانچ دیگر ممالک کے درمیان براہ راست پرواز شروع کرنے کا اعلان

سعودی عرب نے ہوائی مسافروں کے سفر کو آسان بنانے کے لئے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے یکم دسمبر سے ہندوستان، پاکستان، انڈونیشیا، مصر اور دیگر دو ممالک کے درمیان براہ راست پرواز سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ریاض: سعودی عرب نے ہوائی مسافروں کے سفر کو آسان بنانے کے لئے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے یکم دسمبر سے ہندوستان اور دنیا کے پانچ دیگر ممالک سے براہ راست پروازیں دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان جمعرات کو کیا گیا۔

ہندوستانی سفارت خانے نے اس فیصلے کے لئے ریاض میں سعودی اتھارٹی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ فضائی سروس دونوں ممالک کی دوستی کو ایک نئی جہت تک لے جائے گی۔

انہوں نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ سعودی عرب نے ہندوستان کے لیے براہ راست فضائی سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا اطلاق یکم دسمبر سے ہوگا۔ ہم اس فیصلے پر سعودی اتھارٹی کے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یہ فضائی سروس ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی اور یہ دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی جہت پر لے جائے گی۔

سعودی عرب نے جمعرات کو ہندوستان، پاکستان، انڈونیشیا، مصر اور دیگر دو ممالک کے درمیان براہ راست پرواز سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اب ان ممالک سے سفر کرنے والے مسافر کو سعودی عرب میں 14 دن تک قرنطینہ میں نہیں رہنا پڑے گا۔

سعودی پریس ایجنسی نے وزارت داخلہ کے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ نئے حکم نامے کا اطلاق یکم دسمبر سے ہوگا۔ برازیل اور ویتنام بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہیں جہاں سعودی عرب سے براہ راست فلائٹ سروس شروع کی جا رہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ان ممالک سے سفر کرنے والے مسافروں کو اب صرف پانچ دن ادارہ جاتی قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ گرچہ ملک سے باہر ان کے ویکسینیشن کی حیثیت کچھ بھی ہو۔

پریاگ راج: ایک ہی خاندان کے چار افراد کا قتل

0
پریاگ راج: ایک ہی خاندان کے چار افراد کا قتل
پریاگ راج: ایک ہی خاندان کے چار افراد کا قتل

اترپردیش کے ضلع پریاگ راج کے پھاپھا مئو علاقے میں ایک ہی کنبے کے چار اراکین کا قتل کردیا گیا۔ ان کے سر پر کلہاڑی سے کئے گئے حملے کے زخم ہیں۔

پریاگ راج: اترپردیش کے ضلع پریاگ راج کے پھاپھا مئو علاقے میں ایک ہی کنبے کے چار اراکین کا قتل کردیا گیا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ لال موہن گنج گاؤں باشندہ پھول چند (50)، بیوی مینو (45)، بیٹی سپنا (17) اور بیٹا شیو (13) کے ساتھ رہتا تھا۔ دیر رات کسی وقت نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر ان کا قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سروسریشٹھ ترپاٹھی نے بتایا کہ صبح واقعہ کی اطلاع پولیس کو ملی۔ پولیس مقتولین سے ملنے والوں کے بارے میں اطلاعات اکٹھا کررہی ہے۔ گھر کے اندر چار لوگوں کی لاشیں ملی ہیں۔ ان کے سر پر کلہاڑی سے کئے گئے حملے کے زخم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تینوں افراد کی لاشیں باہر برآمدے میں جبکہ لڑکی کی لاش گھر کے اندر ملی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قتل کی وجوہات کا فی الحال پتہ نہیں چل سکا ہے۔ کنبے سے موصول اطلاع کے مطابق پھول چند نے سال 2019 اور 2021 میں زمینی تنازع میں ایس ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔ اس کیس میں کوئی کاروائی نہ ہونے کا انہیں پر الزام تھا۔ اس کے بارے میں جانکاری یکجا کرتے ہوئے سخت کاروائی کریں گے۔

مسٹر ترپاٹھی نے بتایا کہ مشتبہ افراد پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے۔ واقعہ کا جلد ہی انکشاف کردیا جائے گا۔

شیئر مارکیٹ میں تیزی، سنسیکس 454 اور نفٹی میں 121 پوائنٹس کا اضافہ

0
شیئر مارکیٹ میں تیزی، سنسیکس 454 اور نفٹی میں 121 پوائنٹس کا اضافہ
شیئر مارکیٹ میں تیزی، سنسیکس 454 اور نفٹی میں 121 پوائنٹس کا اضافہ

آج شیئر مارکیٹ میں تیزی آئی اور بی ایس ای کا نڈیکس 454.10 پوائنٹ کی سبقت کے ساتھ 58,795.09 پوائنٹ پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچنج (این ایس ای) کا نفٹی 121.20 پوائنٹ کی تیزی لیکر 17,536.25 پوائنٹ پر پہنچ گیا۔

ممبئی: عالمی بازار میں تیزی کے درمیان مقامی سطح پر ریلائنس انڈسٹریز کے شیئروں میں چھ فیصد سے زیادہ اضافہ کی بدولت آج شیئر مارکیٹ ایک دن کی گراوٹ سے نکل کر مضبوطی کے ساتھ بند ہوا۔

ریلائنس انڈسٹریز (آر آئی ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے بدھ کو اعلان کیا کہ اس نے گیسی فکیشن انڈرٹیکنگ کو مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی کو ٹرانسفر کرنے کے لئے ایک اسکیم کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے اس اعلان کے بعد آج اس کے شیئر کی قیمت میں چھ فیصد سے زیادہ کی تیزی درج کی گئی۔

نیشنل اسٹاک ایکسچنج کا نفٹی 17,536.25 پوائنٹ پر پہنچ گیا

آر آئی ایل کے اس اعلان سے آج شیئر مارکیٹ میں تیزی آئی اور بی ایس ای کا انڈیکس 454.10 پوائنٹ کی سبقت کے ساتھ 58,795.09 پوائنٹ پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچنج (این ایس ای) کا نفٹی 121.20 پوائنٹ کی تیزی لیکر 17,536.25 پوائنٹ پر پہنچ گیا۔ بڑی کمپنیوں کی طرح چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں بھی خریداری کا زور رہا۔ مڈکیپ 174.79پوائنٹ بڑھ کر 25,675.41 پوائنٹ اور اسمال کیپ 247.69 پوائنٹ چڑھ کر 28,822.75 پوائنٹ پر رہا۔

بی ایس ای میں مجموعی طورپر 3411 کمپنیوں کے شیئروں میں کاروبار ہوا، جن میں سے 2114 میں خریداری جبکہ 1178 میں فروخت ہوئی جبکہ 119 مستحکم رہیں۔ این ایس ای میں 25 ہرے اور 25 لال نشان پر رہیں۔

اس دوران بی ایس ای میں توانائی گروپوں کے شیئر نے سب سے زیادہ 4.47 فیصد کا فائدہ کمایا۔ اسی طرح بیسک میٹریلس 0.54، ہیلتھ کے ئر 1.53، آئی ٹی 0.89، مواصلات 1.51، یوٹلی ٹیز 1.26، کنزیومر ڈیوریبلس 0.63، تیل اور گیس 1.19، پاور 0.69، ٹیک 0.98 اور ریلٹی گروپ 1.86فیصد چڑھا۔ بین الاقوامی سطح پر تیزی کا رخ رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.13، جرمنی کا ڈیکس 0.30، جاپان کا نکئی 0.67 اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.22فیصد سبقت میں رہا جبکہ چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.24فیصد اتر گیا۔

بنگال بی جے پی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی تیاریاں، جمعرات کو دہلی میں ہوگی میٹنگ

0
بنگال بی جے پی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی تیاریاں، جمعرات کو دہلی میں ہوگی میٹنگ
بنگال بی جے پی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی تیاریاں، جمعرات کو دہلی میں ہوگی میٹنگ

بی جے پی کی مغربی بنگال یونٹ تنظیمی سطح پر بڑے پیمانے پر ردوبدل کی تیاری کر رہی ہے۔

کلکتہ: بی جے پی کی مغربی بنگال یونٹ تنظیمی سطح پر بڑے پیمانے پر ردوبدل کی تیاری کر رہی ہے۔ ریاستی بی جے پی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو دہلی میں مرکزی قیادت کے ساتھ ریاست کے اعلیٰ لیڈروں کی میٹنگ ہونی ہے۔ اس میں ریاست میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کے انتظام کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ممکنہ ریاستی کمیٹی کے بارے میں بھی تفصیلی بات چیت ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار کمیٹی میں خواتین ارکان اور نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش کی جگہ ڈاکٹر سوکانتا مجمدار کو نیا صدر بنایا گیا ہے۔ ان کی جانب سے پہلی دسمبر میں نئی ​​کمیٹی کا اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔

31 رکنی ریاستی کمیٹی بنانے پر بھی بات چیت کی جارہی ہے۔ دسمبر کے اوائل میں اس کا اعلان متوقع ہے۔ کمیٹی میں 12 نائب صدر، پانچ جنرل سیکرٹری، 12 سیکرٹری، ایک خزانچی ہوگا۔

تریپورہ اور میگھالیہ کے سابق گورنر تتھاگت رائے کے خلاف پولیس اور خواتین کمیشن میں شکایت درج

0
تریپورہ اور میگھالیہ کے سابق گورنر تتھاگت رائے کے خلاف پولیس اور خواتین کمیشن میں شکایت درج
تریپورہ اور میگھالیہ کے سابق گورنر تتھاگت رائے کے خلاف پولیس اور خواتین کمیشن میں شکایت درج

تریپورہ اور میگھالیہ کے سابق گورنر اور مغربی بنگال بی جے پی کے سابق صدر تتھاگت رائے کے ذریعہ یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی نے بڑے پیمانے پر روپے اور خواتین کا استعمال کیا ہے۔

کلکتہ: تریپورہ اور میگھالیہ کے سابق گورنر اور مغربی بنگال بی جے پی کے سابق صدر تتھاگت رائے کے ذریعہ یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی نے بڑے پیمانے پر روپے اور خواتین کا استعمال کیا ہے۔ اب کلکتہ میں مقیم ایک وکیل نے کلکتہ پولیس اور مغربی بنگال کمیشن برائے خواتین میں الگ الگ شکایتیں درج کرائی ہیں۔

شکایت کنندہ اور کلکتہ ہائی کورٹ کے وکیل سیون بنرجی نے کہا کہ رائے نے یہ الزامات ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے جس میں تریپورہ اور میگھالیہ کے سابق گورنر تتھاگت رائے پر انتخابات کے دوران کچھ بی جے پی لیڈروں کی طرف سے خواتین اور پیسے کا استعمال کرنے کے سنگین الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بنرجی نے کہا کہ انہوں نے خواتین کے بارے میں رائے کے دعوے کے سلسلے میں مغربی بنگال کمیشن برائے خواتین میں ایک اور شکایت درج کرائی ہے۔

رقم کے لین دین اور خواتین کے استعمال کرنے کے سنگین الزمات

انہوں نے کہا کہ انہوں نے رقم کے لین دین اور خواتین کا استعمال کرنے کے سنگین الزمات لگائے ہیں۔ یہ تعزیرات ہند کے تحت قابل سزا جرم ہیں۔ بنرجی نے 19 نومبر کو پولیس میں شکایت درج کرائی اور ایک ہفتہ بعد کمیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔

دوسری جانب بنگال کے سابق گورنر رائے نے کہا کہ وہ اپنے ریمارکس پر قائم ہیں اور اس سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

جب ان کے ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا تو، انہوں نے کہا کہ "ہاں، میں اس کے بارے میں جانتا ہوں… میں اس شخص سے پوچھوں گا جس نے شکایت کی ہے کہ انہیں قانون کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہیے۔ میں نے یہ بیان کس خاتون کے خلاف دیا ہے، کیا وہ اس کے بارے میں بتا سکتا ہے؟

رائے نے ہفتہ کو کہا تھا کہ انہوں نے فی الحال بی جے پی کی ریاستی اکائی کو الوداع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رائے نے ہفتے کے روز مائیکروبلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر کہا تھا، ’’میں ٹوئٹر پر لوگوں سے تعریف حاصل کرنے کے لیے یہ نہیں لکھ رہا ہوں۔ میں یہ پارٹی کو یہ بتانے کے لیے کر رہا ہوں کہ کچھ لیڈر خواتین اور پیسے کے اثر میں آ گئے ہیں۔

ممتا بنرجی کی بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی سے ملاقات

0
ممتا بنرجی کی بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی سے ملاقات
ممتا بنرجی کی بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی سے ملاقات

ترنمول کانگریس کی توسیع کے مشن پر دہلی میں ممتا بنرجی نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے سے قبل بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی سے ملاقات کی۔

کلکتہ: ترنمول کانگریس کی توسیع کے مشن پر دہلی میں موجود وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج شام 5 بجے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے سے قبل بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن اور اپنی ہی حکومت کے خلاف تبصرہ کرنے کے لئے مشہور سبرامنیم سوامی سے ملاقات کی۔

سبرامنیم سوامی نے ممتا بنرجی سے ملاقات کرنے کے بعد کہا ہے کہ وہ اپنی سائیڈ نہیں تبدیل کر رہے ہیں۔ پہلے بھی وہ ممتا بنرجی کی طرفداری کی ہے۔ مجھے سائیڈ بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔

سخت گیر نظریات کی وجہ سے مشہور سبرامنیم سوامی کے حالیہ دنوں میں بی جے پی سے تعلقات میں سرد مہری آئی ہے۔ انہیں گزشتہ دنوں بی جے پی کی آل انڈیا ورکنگ کمیٹی سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ پہلے بھی کئی بار عوام میں ممتا کی تعریف کرچکے ہیں۔

وزارت خارجہ سے ممتا بنرجی کو روم کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں ملنے پر سوامی نے مرکزی حکومت کی سخت تنقید کی تھی۔ کل ممتا بنرجی نے کانگریسی لیڈران کرتی آزاد، اشوک تنور اور سابق جے ڈی یو لیڈر پون ورما کو ترنمول کانگریس میں شامل کرایا تھا۔

زرعی قوانین کی واپسی: یوپی کانگریس نے منایا کسان وجے دیوس

0
زرعی قوانین کی واپسی: یوپی کانگریس نے منایا کسان وجے دیوس
زرعی قوانین کی واپسی: یوپی کانگریس نے منایا کسان وجے دیوس

ریاستی صدر اجئے کمار للو نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کسان تحریک کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کبھی ‘آندولن جی وی، کبھی خالصتانی اور کبھی موالی کہہ کر کسانوں کی جو توہین کی ہے۔ زرعی قوانین کی واپسی کے باوجود مرکزی حکومت اس کی تلافی کیسے کرے گی۔

لکھنؤ: زرعی قوانین کی واپسی کو کسان جدوجہد کی جیت قرار دیتے ہوئے کانگریس نے آج پورے اترپردیش میں کسان وجے دیوس منایا۔

اس موقع پر ریاستی کانگریس دفتر میں شہید کسانوں کی روح کی تسکین کے لئے چراغاں کیا گیا اور ان کے تصاویر پر گلپوشی کرکے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ پارٹی کے ریاستی صدر اجئے کمار للو نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کسان تحریک کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کبھی ‘آندولن جی وی، کبھی خالصتانی اور کبھی موالی کہہ کر کسانوں کی جو توہین کی ہے۔ زرعی قوانین کی واپسی کے باوجود مرکزی حکومت اس کی تلافی کیسے کرے گی۔

پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر کہا ہے کہ مرکزی مملکتی وزیر برائے داخلی امور اجے مشرا ٹینی کے بیٹے نے لکھیم پور میں گاڑیوں سے کچل کر کسانوں کا قتل کردیا تھا جس کی تصدیق جانچ ایجنسی نے کی۔ فورنسک رپورٹ میں صاف صاف لکھا ہے کہ اس کی بندوق سے ہی واقعہ کو انجام دیا گیا ہے۔ اتنے سارے ثبوت کے بعد بھی مملکتی وزیر کو برخاست نہ کیا جانا ان کے خلاف کارروائی نہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت قاتلوں کو تحفظ فراہم کرکے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

پرینکا نے کہا کہ کسان تحریک میں جن 700 کسانوں نے پانی شہادت دی ہے ان کے اہل خانہ کو مالی تعاون دی جائے۔ ایم ایس پی کی گارنٹی دی جائے اور جو تین زرعی قوانین ہیں ان کے لئے آرڈیننس لانے کا انتظام حکومت کے ذریعہ کیا جائے۔ ان سبھی مطالبات کو حکومت جلد سے جلد پورا کرے۔

فرائض اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موزوں ہیں جو بائیڈن

0
فرائض اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موزوں ہیں جو بائیڈن
فرائض اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موزوں ہیں جو بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن اپنے فرائض اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موزوں ہیں۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن اپنے فرائض اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موزوں ہیں۔

یہ جانکاری مسٹر بائیڈن کے معالج کیون او کونر نے وائٹ ہاؤس کو دیئے ایک میمورنڈم میں دی ہے۔ انہوں نے جمعہ کے روز کہا ’’صدر ڈیوٹی کے لیے موزوں ہیں اور بغیر کسی آرام کے اپنی تمام ذمہ داریاں نبھا سکتے ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر بائیڈن تقریر دیتے وقت ‘گلا صاف کرنے’ کے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعدد اور سخت گیری کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی تفصیلی تحقیقات کی جائے گی۔ مسٹر بائیڈن کے چلنے کے انداز میں بھی تبدیلی آئی ہے اور انہوں نے ایک سال پہلے کی بنسبت کم مائع مادہ لیا ہے جس کی جانچ بھی ضروری ہے۔

متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے کے وزیر اعظم کے اعلان پر حزب اختلاف کا رد عمل

0
متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے کے وزیر اعظم کے اعلان پر حزب اختلاف کا رد عمل
متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے کے وزیر اعظم کے اعلان پر حزب اختلاف کا رد عمل

متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ کئے جانے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے ساتھ ہی جہاں حزب اختلاف نے مختلف الفاظ میں اس کا خیر مقدم کیا ہے وہیں اویسی اور ٹکیت نے کہہ دیں یہ بڑی باتیں

رپورٹ: جلیس اختر نصیری

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور زیرو بجٹ فارمنگ کی سفارش کرنے کے لیے ایک کثیر جہتی کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

جناب مودی نے دیوالی اور گرو نانک دیو جی کے پرکاش تیوہار کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے آج نئی دہلی میں کہا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے یہ تینوں زرعی قوانین لائے تھے۔ کافی عرصے سے اس کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ کسان بھلے ہی تعداد کم ہو، اس کی مخالفت کی۔ غالباً یہ ہمارے عزم کی کمی تھی کہ ہم انہیں ان تینوں قوانین کے بارے میں سمجھا نہ کر سکے۔

جناب مودی نے کہا کہ ان تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کا عمل پارلیمنٹ کے اسی اجلاس میں کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کا اجلاس 29 نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایم ایس پی پر انتخاب کے لیے کمیٹی میں مرکزی حکومت کے نمائندوں کے علاوہ ریاستی حکومتوں، کسان تنظیموں، زرعی ماہرین اور زرعی ماہرین اقتصادیات رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں کسانوں اور دیہی لوگوں کے لیے پہلے سے زیادہ محنت کرتا رہوں گا۔

بی جے پی نے کہا کہ وزیر اعظم فیصلہ ملک کے مفاد میں

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس پر وضاحت کی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے مفاد میں زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بی جے پی کسان مورچہ کے صدر راجکمار چاہر نے کہا ہے کہ جناب مودی نے یقینی طور پر کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی راجدھانی کی سرحدوں پر کسان تقریباً ایک سال سے احتجاج کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت نے تینوں نئے زرعی قوانین کو واپس لے لیا ہے۔ وزیر اعظم نے آج ملک سے اپنے خطاب میں یہ بڑا اعلان کیا۔

تین نئے زرعی قوانین کی منظوری گزشتہ سال ستمبر میں پارلیمنٹ نے دی گئی تھی۔ اس کے بعد صدر رام ناتھ کووند نے تینوں قوانین کی تجویز پر دستخط کئے تھے۔ تب سے کسانوں کی تنظیموں نے زرعی قوانین کے خلاف تحریک شروع کی ہوئی ہے۔

ٹکیت نےکسانوں کا احتجاج فوری طور پر واپس لینے سے کیا انکار

بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ کسانوں کا احتجاج فوری طور پر واپس نہیں ہو گا۔ انہوں نے جمعہ کو ٹوئٹ کیا ’’احتجاج فوری طور پر واپس نہیں لیا جائے گا، ہم اس دن کا انتظار کریں گے جب پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ حکومت ایم ایس پی کے ساتھ ساتھ کسانوں کے دیگر مسائل پر بھی بات کرے۔‘‘

اویسی نے حکومت کی مجبوری قرار دیا

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر جناب اسد الدین اویسی نے متنازعہ زرعی قوانین کے واپسی کے اعلان کو حکومت کی مجبوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی قوانین شروع سے ہی غیر آئینی تھے۔ حکومت کی انا نے کسانوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اگر حکومت اتنی بچگانہ ضد نہ کرتی تو 700 سے زیادہ کسانوں کی جان نہ جاتی۔

اویسی نے ٹویٹ کرکے کسان تحریک کو مبارکباد دی ہے۔ اویسی نے کہا کہ یوپی اور پنجاب میں آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اس سے ظاہر ہے کہ پورے ملک میں ایک ہی الیکشن کیوں غلط ہے۔

یوپی اور پنجاب میں آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ پورے ملک میں ایک ہی الیکشن کیوں غلط ہے۔

اسد الدین اویسی

اویسی نے کہا کہ آنے والے انتخابات اور احتجاجی تحریکوں نے ہندوستان کے وزیر اعظم کو فارم قوانین پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عوامی تحریک کو ختم نہیں کرسکتے بلکہ وہ صرف لوگوں کو ہراساں کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی اے اے مخالف تحریک سے بھی اایسے قانونوں کی روک تھام کو یقینی بنایا گیا ہے۔ گوکہ سی اے اے کے قوانین ابھی بننا باقی ہیں لیکن کسانوں کی تحریک ان کی استقامت کی وجہ سے کامیاب ہوئی ہے۔

راہل گاندھی نے دی کسانوں کو مبارکبادی

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے حکومت کے اعلان کو ناانصافی کی شکست قرار دیتے ہوئے کسانوں کو جیت کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انیہ داتا کے ستیہ گرہ کے سامنے غرور کا سر جھکا ہے۔

راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا ’’ملک کے ان داتا نے ستیہ گرہ سے غرور کا سر جھکا دیا۔ ناانصافی کے خلاف اس جیت پر مبارکباد! جئے ہند، جئے ہند کا کسان۔‘‘

ڈاکٹر نریش نے اسے مغرور حکومت کی شکست قرار دیا

دہلی ریاستی کانگریس کمیٹی کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کر کے کسانوں پر کوئی احسان نہیں کیا ہے، بلکہ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور دوسری پارٹیوں کے ان لیڈروں کی شکست ہے جو کسانوں کو دہشت گرد اور ملک دشمن کہہ رہے تھے

ایک بیان میں ڈاکٹر کمار نے کہا کہ ان قوانین کے حوالے سے مرکزی حکومت کی نیت شروع سے ہی غلط تھی اور جناب مودی کا مقصد ان قوانین کے ذریعے اپنے صنعتکار دوستوں کو فائدہ پہنچانا تھا اور اگر یہ کالے قوانین ملک میں لاگو ہوتے تو کاشتکار برادری کارپوریٹ دنیا کی غلام بن کر رہ جاتی۔

اس کا کریڈٹ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور کانگریس لیڈر پرینکا واڈرا کو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان لیڈروں نے پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک کسانوں کے مفادات کے لیے جدوجہد کی اور لوگوں اور کسانوں کو ان کے بارے میں آگاہ کیا۔

ہم اس دن کا انتظار کریں گے جب پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا

راکیش ٹکیت

انگریس کے ترجمان نے کہا کہ جس طرح مہاتما گاندھی نے ستیہ گرہ کے ذریعے متکبر برطانوی حکومت کو جھکایا تھا، اسی طرح کسانوں نے ملک بھر میں پرامن طریقے سے اپنی تحریک چلائی تھی اور اس متکبر حکومت کو سمجھادیا کہ اس کی من مانی نہیں چلے گی۔

جناب کمار نے کہا کہ ملک کے لوگ وزیر اعظم مودی سے مایوس ہو چکے ہیں اور وہ جس ترقی اور اچھے دنوں کی بات کرتے تھے وہ سب انتخابی چالیں ثابت ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، ڈیزل اور پٹرول کے علاوہ کھانا پکانے کی گیس، سرسوں کے تیل اور غذائی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ہم وطنوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور اس کا نتیجہ مرکزی حکومت کو حال ہی میں ہونے والے اسمبلی اور لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں دیکھنے کو مل گیا ہے۔

مرکزی حکومت نے ان قوانین کو واپس لے کر کسانوں پر کوئی احسان نہیں کیا ہے کیونکہ اسے اگلے سال کئی ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اپنی شکست کا خدشہ ہے

ڈاکٹر نریش اگروال

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ان قوانین کو واپس لے کر کسانوں پر کوئی احسان نہیں کیا ہے کیونکہ اسے اگلے سال کئی ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اپنی شکست کا خدشہ ہے اور اسی وجہ سے اس نے ان کالے قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ اس نے انہیں واپس لینے کا اعلان کیا ہے اور اگر اس حکومت کی نیت ٹھیک ہوتی تو یہ قانون کبھی نہیں لاتی اور نہ ہی اس حکومت کے وزراء اپنی تقریروں میں کسانوں کو دہشت گرد قرار دیتے۔

کیپٹن امریندر نے اعلان کا خیر مقدم کیا

پنجاب کے سابق وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے زرعی قوانین منسوخ کرنے کے اعلان پر وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ آج اپنے ٹویٹ میں اسے بڑی خبر قرار دیتے ہوئے گرو نانک جینتی کے موقع پر پنجاب کے لوگوں کے بات مان کر زعی قوانین کو منسوخ کرنے پر وزیر اعظم کا اظہار تشکرکیا۔

دیگر ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے یہ معاملہ مرکز کے ساتھ اٹھا رہے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ لوگوں کی آوازوں کو سنیں۔

ایک اور ٹویٹ میں سابق وزیر اعلیٰ نے کسانوں کی ترقی کے لیے مستقبل میں بی جے پی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امید ظاہر کی اور کہا کہ ’میں پنجاب کے لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھوں گا جب تک ہر آنکھ کا ہر آنسو نہیں پونچھ لیتا۔‘‘

واضح رہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ، جنہوں نے چند ماہ قبل کانگریس چھوڑنے اور وزیراعلی کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپنی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا، بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں الیکشن لڑنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

کیجریوال نے کہا "کسانوں کی شہادت لازوال”

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے زراعت کے تین قوانین کی منسوخی کو اچھی خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک کے دوران مرنے والے کسانوں کی شہادت ہمیشہ زندہ رہے گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے زراعت کے تین قوانین کو منسوخ کرنے کے اعلان کے بعد جناب کیجریوال نے ٹویٹ کیا ’’آج پرکاش دیوس پر کتنی بڑی خوش خبری ملی۔ تینوں قوانین منسوخ کر دیے گئے۔ 700 سے زیادہ کسان شہید ہوئے، ان کی شہادت لازوال رہے گی۔ آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی کہ کس طرح اس ملک کے کسانوں نے اپنی جان کی بازی لگاکر کاشتکاری اور کسانوں کو بچایا تھا۔ میرے ملک کے کسانوں کو سلام۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج قوم سے اپنے خطاب میں تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان قوانین کو واپس لینے کا عمل اس ماہ کے آخر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شروع ہو جائے گا۔

کسانوں کی کئی تنظیموں نے دہلی کی سرحدوں پر مورچے بنارکھے ہیں اور ان کے احتجاج کو تقریباً ایک سال ہونے والا ہے۔

 

کیپیٹل ہل حملہ: ٹرمپ کے حامی کو 41 ماہ قید کی سزا

0
کیپیٹل ہل حملہ: ٹرمپ کے حامی کو 41 ماہ قید کی سزا
کیپیٹل ہل حملہ: ٹرمپ کے حامی کو 41 ماہ قید کی سزا

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی جیکب چانسلی کو عدالت نے 41 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔ جیکب چانسلی کیپیٹل ہل کی عمارت میں زبردستی داخل ہونے والوں میں شامل تھا۔

واشنگٹن: امریکہ میں کیپیٹل ہل پر حملہ میں شامل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی جیکب چانسلی کو عدالت نے 41 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق قدیم قبائلی کے روپ میں جیکب چانسلی کیپٹل ہل کی عمارت میں زبردستی داخل ہونے والوں میں شامل تھا۔

نیزہ اٹھائے اور سینگوں والی ٹوپی پہنے جیکب کی تصاویر دنیا بھر میں میڈیا کی زینت بنی تھیں۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر کے حامیوں نے 6 جنوری کو کیپیٹل ہل پر حملہ کیا تھا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ملزم کو سنائی گئی سزا کیپیٹل ہل کے کسی بھی حملہ آور کو دی جانے والی سب سے سخت سزا ہے۔

اس سے قبل ایک سابق مکسڈ مارشل آرٹسٹ کو حملے کے دوران ایک پولیس افسر کو مکا مارنے پر 41 مہینوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

خیال ریے کیپٹل حملہ میں متعدد افراد اور ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔