جمعہ, اپریل 17, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 286

متنازعہ زرعی قوانین منسوخی بل ایوان زیریں میں پیش

0
متنازعہ زرعی قوانین منسوخی بل ایوان زیریں میں پیش 
متنازعہ زرعی قوانین منسوخی بل ایوان زیریں میں پیش 

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے والا بل بغیر کسی بحث کے منظور کر لیا گیا

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے والا بل بغیر کسی بحث کے منظور کر لیا گیا اور اس کے بعد ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

ایک بار التوا کے بعد جب ایوان کی کارروائی 12 بجے شروع ہوئی تو اسپیکر اوم برلا نے سب سے پہلے مغربی بنگال کے آسنسول سے منتخب ہونے والے بابل سپریو کے استعفیٰ کی اطلاع دی اور اسے 22 اکتوبر سے منظور کر لیا۔ اور یہ بھی کہا کہ انہیں التوا کے کچھ نوٹس ملے ہیں جس پر بحث کرانے کے لیے اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے بعد اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ شروع کردیا اور وہ چیئر کے ارد گرد جمع ہو گئے اور نعرے بازی شروع کردی۔

ایوان کی میز پر ضروری دستاویزات رکھنے کے بعد مسٹر برلا نے زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر نریندر سنگھ تومر کا نام لیا، جنہوں نے تین متنازعہ زرعی قوانین – زرعی پیداوار تجارت اور کامرس (فروغ اور سہولت)، زرعی پیداوار (امپاورمنٹ اور پروٹیکشن) کی قیمت کی یقین دہانی، اور زرعی خدمات ایکٹ 2020 اور ضروری اشیاء (ترمیمی) ایکٹ 2020 کو منسوخ کرتے ہوئے زرعی قانون منسوخی بل 2021 پیش کیا۔

اسپیکر نے کہا کہ وہ بل پر بحث کرانے کے حق میں ہیں لیکن اتنے شور اور ہنگامے میں بحث نہیں ہو سکتی۔ اگر ممبران بحث کرنا چاہیں تو وہ اپنی اپنی نشستوں پر جائیں۔ لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

ایوان کے اصول و ضوابط کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں

سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ آج یہاں ایوان کے اصول و ضوابط کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی قوانین کی تنسیخ کے لیے لائے گئے بلوں پر بحث ہوتی رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھ برسوں میں 14 قوانین کو منسوخ کرنے کے بل لائے گئے لیکن اب ان پر بحث نہیں کرائی جا رہی ہے۔

اس پر اسپیکر نے کہا کہ ایوان کے حالات کو بحث کے لیے بنائے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے مسٹر تومر کے ذریعہ پیش کردہ بل کو صوتی ووٹوں سے منظور کرایا اور ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

موبائل ٹیرف کی شرحوں میں اضافہ: ریلائنس جیو کا پلان 20 فیصد تک مہنگا

0
موبائل ٹیرف کی شرحوں میں اضافہ: ریلائنس جیو کا پلان 20 فیصد تک مہنگا
موبائل ٹیرف کی شرحوں میں اضافہ: ریلائنس جیو کا پلان 20 فیصد تک مہنگا

ائرٹیل اور ووڈافون آئیڈیا کی طرف سے موبائل ٹیرف کی شرحوں میں اضافے کے بعد آج ریلائنس جیو نے بھی اپنے ٹیرف کی شرحوں میں 20 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔

نئی دہلی: بھارتیہ ائرٹیل اور ووڈافون آئیڈیا کی طرف سے موبائل ٹیرف کی شرحوں میں اضافے کے بعد آج سب سے بڑی کمپنی ریلائنس جیو نے بھی اپنے ٹیرف کی شرحوں میں 20 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔

جیو نے آج ایک نئے لامحدود پلان کا اعلان کیا، یہ پلان یکم دسمبر سے نافذ ہوں گے۔ ریلائنس جیو کا دعویٰ ہے کہ ان کے ٹیرف کی شرحیں اب بھی سب سے کم ہیں۔

جیو کے مختلف پلان میں 31 روپے سے 480 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ جیو فون کے لیے خاص طور پر لائے گئے پرانے 75 روپے والے پلان کی نئی قیمت اب 91 روپے ہوگی۔ ساتھ ہی لامحدود پلان میں سے 129 روپے کا ٹیرف پلان اب 155 روپے میں دستیاب ہوگا۔ شرحوں میں سب سے زیادہ اضافہ ایک سال کی مدت والے پلان میں ہوا ہے۔ پہلے یہ پلان 2399 روپے کا تھا جسے اب 2879 روپے کر دیا گیا ہے۔

ریلائنس جیو کے ڈیٹا ایڈ آن پلان کی شرح بھی بڑھ گئی ہے۔ 6 جی بی والے 51 روپے والے پلان کی قیمت اب 61 روپے ہوگی اور 101 والے 12 جی بی ایڈ آن پلان کی قیمت 121 روپے ہوگی۔ 50 جی بی کا سب سے بڑا پلان بھی 50 روپے مہنگا ہو کر 301 روپے ہو گیا ہے۔

مایاوتی کا یوپی ٹی ای ٹی پرچہ افشاں معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا مطالبہ

0
مایاوتی کا یوپی ٹی ای ٹی پرچہ افشاں معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا مطالبہ
مایاوتی کا یوپی ٹی ای ٹی پرچہ افشاں معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا مطالبہ

پرچہ افشاں ہونے کے معاملے کی وجہ سے یوپی ٹی ای ٹی کے منسوخ ہونے کو سنگین مسئلہ بتاتے ہوئے مایاوتی نے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

لکھنؤ: پرچہ افشاں ہونے کے معاملے کی وجہ سے اترپردیش ٹیچر اہلیتی امتحان (یوپی ٹی ای ٹی) کے منسوخ ہونے کو سنگین مسئلہ بتاتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی نے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

محترمہ مایاوتی نے اتوار کو ٹویٹ کیا ‘جس طرح ایس پی حکومت میں نقل عام بات ہوتی تھی۔ اسی طرح بی جے پی حکومت میں بھی پرچہ افشاں ہونے سے یوپی میں ٹیچروں کی تقرری کے لئے آج کا یوپی ٹی ای ٹی امتحان منسوخ ہو جانا کافی سنگین معاملہ ہے۔ تقریبا 21 لاکھ امیدواروں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ مناسب نہیں’۔

انہوں نے کہا ‘بی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ یوپی حکومت اس تازہ واقعہ کا سخت نوٹس لے کر اس کی فورا سے پیشتر اعلی سطح جانچ کرائے اور خاطیوں کو سخت قانونی سزا یقینی کرے اور آگے جلد ہی اس امتحان کو بہتر ڈھنگ سے کرانے کے پختہ انتظام کو یقینی کرے۔

قابل ذکر ہے کہ پرچہ افشاں ہونے کی وجہ سے یو پی ٹی ای ٹی امتحان صبح منسوخ کرنا پڑا تھا۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب سوالنامے تقسیم کئے جا رہے تھے۔

کشن گنج بہار کا غریب ترین ضلع، سیمانچل غریب ترین خطہ: نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ

0
کشن گنج بہار کا غریب ترین ضلع، سیمانچل غریب ترین خطہ: نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ
کشن گنج بہار کا غریب ترین ضلع، سیمانچل غریب ترین خطہ: نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ

نیتی آیوگ کی ایک رپورٹ میں کشن گنج کو غریب ترین ضلع قرار دئے جانے کے بعد علاقے کی غریبی اور سرکار کی بدنیتی ایک بار پھر موضوع بحث بن چکی ہے

تحریر: جلیس اختر نصیری

نیتی آیوگ کی حالیہ رپورٹ سے کشن گنج سے متعلق بالخصوص اور سیمانچل کے بارے میں جو انکشاف ہوا وہ حالانکہ بہت زیادہ چونکانے والی نہیں ہے لیکن بے حد افسوسناک ہے۔ اس رپورٹ میں کشن گنج ضلع کو بہار کا سب سے غریب ضلع بتایا گیا ہے۔

نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق بہار کے 38 اضلاع میں سے کشن گنج سب سے غریب ضلع ہے۔ نیتی آیوگ کے کثیر جہتی غربت انڈیکس (multidimensional poverty index) کی اس تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہار کے پانچ اضلاع کے 60 فیصد لوگوں کا تعلق امیر طبقات سے ہے جبکہ ان میں سے 11 اضلاع میں 60 فیصد سے زیادہ لوگ غریب لوگوں کے زمرے میں آتے ہیں۔

سیمانچل علاقے کا کشن گنج ضلع کے 64.75 فیصد لوگ خط افلاس سے نیچے

سیمانچل علاقے کا کشن گنج ضلع جہاں کی آبادی کی اکثریت کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہے یہاں کے 64.75 فیصد لوگ خط افلاس سے نیچے (بی پی ایل) کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کشن گنج کے بعد خط افلاس سے نیچے جن اضلاع میں لوگ ہیں ان کی تعداد ارریہ میں 64.65 فیصد، مدھے پورہ ضلع میں 64.43 فیصد، مشرقی چمپارن میں 64.13 فیصد، سپول میں 64.10 فیصد، جموئی میں 64.01 فیصد، سیتامڑھی میں 63.46 فیصد، پورنیہ میں 63.29 فیصد، کٹیہار میں 62.80 فیصد، سہرسہ میں 61.48 فیصد، اور شیوہر میں 60.30 فیصد ہے۔

مذکورہ اضلاع کے علاوہ جن اضلاع کے 50 فیصد لوگ غریب کے زمرے میں آتے ہیں وہ ہیں ضلع مونگیر جہاں غریبوں کی تعداد 40.99 فیصد، روہتاس میں 40.75 فیصد، سیوان میں 40.55 فیصد، اور بھوجپور میں 40.50 فیصد ہے۔

رپورٹ میں پٹنہ کو سب سے زیادہ امیر سمجھا جانے والا بتایا گیا

واضح رہے کہ رپورٹ میں پٹنہ کو سب سے زیادہ امیر سمجھا جانے والا بتایا گیا ہے۔ نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق پٹنہ میں بسنے والے 29.20 فیصد لوگ امیروں کے زمرے میں آتے ہیں۔ پٹنہ کے بعد مظفر پور، گیا اور بھاگلپور اضلاع آتے ہیں جہاں امیروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نتیش کمار کو "خود پر شرم آنی چاہیے کیونکہ ان کے مطابق ریاست بہار تعلیم، صحت اور غربت سمیت ہر شعبے میں پچھڑا ہوا ہے۔”

جناب لالو پرساد کا قول اس حد تک تو درست سمجھا جاسکتا ہے کہ بہار تقریبا ہر شعبہ زندگی میں پسماندہ ہے لیکن اس کے لیے محض نتیش کمار کو ہی تنقید کا نشانہ بنانا شاید درست نہیں ہے، کیوںکہ ریاست میں ترقیاتی کام پہلے ہی سے ناگفتہ بہ ہے۔ اور اس میں سیمانچل کا خطہ جہاں غریب ترین ضلع کشن گنج واقع ہے، سب سے زیادہ متاثر رہا ہے۔

کشن گنج ضلع جغرافیائی اعتبار سے کافی اہمیت کا حامل

حالانکہ کشن گنج ایسے خطے میں واقع ہے جو جغرافیائی اعتبار سے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ مثلا یہاں ٹرانسپورٹ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ نیشنل ہائی وے کشن گنج کے پیچ سے گزرتا ہے جو ملک کے اکثر تجارتی علاقوں اور شہروں تک رسائی کو آسان بناتا ہے وہیں ریلوے لائن بھی ایسی ہے کہ شمال مشرقی علاقے کے لیے کشن گنج گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ باگ ڈوگرا ایئرپورٹ بھی بہت نزدیک ہے۔ اس کے علاوہ کئی عالمگیر شہرت کے حامل سیاحتی مقامات جیسے دارجلنگ، سکیم، مرک اور گیگٹاک وغیرہ بھی 2 سے 3 گھنٹے کے فاصلے میں واقع ہے۔

پیداوار کے لحاظ سے بھی کشن گنج میں دھان، گیہوں، جوٹ سے لے کر چائے تک کی کھیتی ہوتی ہے لیکن کسانوں کی حالت ہمیشہ خراب ہی رہتی ہے۔ سالوں سے اس پر باتیں ہوتی ہیں لیکن کسانوں کی پیداوار کی خاطر خواہ قیمت نہ ملنے کی وجہ سے ان کی حالت بس زندگی گزارنے بھر تک ہے۔

۵ اسمبلی حلقوں میں مجلس اتحاد المسلمین کے امیدواروں کو زبردست کامبیابی

گزشتہ اسمبلی الیکشن میں سیمانچل کے لوگوں کے اندر اپنے پرانے عوامی نمائندوں کے خلاف کافی غصہ نظر آیا جہاں پرانے ممبران اسمبلی کو شکست دے کر ۵ اسمبلی حلقوں میں اسد الدین اویسی کی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کے امیدواروں کو زبردست کامبیابی ملی ہے۔

اسمبلی الیکشن سے قبل میڈیا کی بھی پوری توجہ محض اس بات پر رہی کہ یہاں کے رائے دہندگان کا رجحان اویسی کی پارٹی کی جانب کیوں کر ہوسکتا ہے، اور کیوں یہ اسے متبادل کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ حالانکہ میڈیا کو اس کی وجوہات پر بھی غور کرنے کی ضرورت تھی جہاں پر کانگریس یا راشٹریہ جنتادل جیسی سیکولرازم کی علمبردار پارٹیوں نے علاقے کی ترقیاتی کاموں پر ادنی سی توجہ دینے کی بھی کوشش نہیں کی۔

کشن گنج ایسا علاقہ ہے جہاں پورے علاقے میں صرف ایک ایسا سرکاری ہسپتال ہے جہاں سو لوگوں سے زیادہ کا علاج ممکن نہیں ہے۔ باقی چند ہسپتال بلاک کی سطح پر ریفرل ہسپتال ہیں جن میں سے اکثر کاغذوں پر ہی چلتے ہیں۔ پورے ضلع میں تقریبا کوئی بھی ڈھنگ کا کالج یا دوسرا سرکاری تعلیمی ادارہ نہیں۔

اب ظاہر ہے غریبی کے جس دہانے پر کشن گنج کو پہنچایا گیا وہ ایک یا دو سال میں تو ہوا نہیں ہے بلکہ اس میں سیاسی پارٹیوں اور عوامی نمائندوں کی مستقل نااہلی کارفرما رہی ہے۔

اسرائیل نے ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی 

0
اسرائیل نے ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی 
اسرائیل نے ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی 

اسرائیل نے کورونا وائرس وبا کی ایک اور نئی شکل ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دو ہفتوں کے لیے غیر ملکیوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

تل ابیب: اسرائیل نے کورونا وائرس (کووڈ-19) وبا کی ایک اور نئی شکل ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دو ہفتوں کے لیے ملک میں غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے دفتر نے یہ اطلاع دی ہے۔

وزیر اعظم آفس کے مطابق ہفتے کی رات ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں غیر ملکیوں کے لیے تمام سرحدیں 14 روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے واپس آنے والے اسرائیلی شہریوں کا ہوائی اڈے پر کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ پھر ان کے لیے خود کو الگ تھلگ رکھنا ضروری ہوگا۔ جس کے بعد ان کا دوبارہ ٹیسٹ کرانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک سے واپس آنے والے اسرائیلی شہریوں کو مخصوص ہوٹلوں میں خود کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ان تمام لوگوں کی نگرانی کی جائے گی جن کا ’اومیکرون ٹسٹ مثبت آیا ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ جمعہ کو اسرائیل میں کورونا وائرس کے ’اومیکرون‘ ویرینٹ کا ایک کیس سامنے آیا ہے۔ کئی دیگر مشتبہ کیسز کی ٹیسٹ رپورٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے تصدیق زیر التواء ہے۔

راہل گاندھی کا حکومت کو کورونا کے نئے ویریئنٹ کی بابت چوکنا رہنے کا مشورہ

0
راہل گاندھی کا حکومت کو کورونا کے نئے ویریئنٹ کی بابت چوکنا رہنے کا مشورہ
راہل گاندھی کا حکومت کو کورونا کے نئے ویریئنٹ کی بابت چوکنا رہنے کا مشورہ

راہل گاندھی نے حکومت ہند کو کورونا کے نئے ویریئنٹ کے بارے میں چوکنا رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطرناک ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے حکومت ہند کو کورونا کے نئے ویریئنٹ کے بارے میں چوکنا رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطرناک ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کانگریس کے رہنما نے کہا کہ جنوبی افریقہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کورونا کا ایک نیا ویریئنٹ ملا ہے جو کہ بہت سنگین ہے اور کسی بھی قسم کی لاپرواہی سب سے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اس لیے حکومت کو بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

مسٹر گاندھی نے اس ویریئنٹ کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا، ’نئی شکل بہت سنگین خطرہ ہے۔ یہی صحیح وقت ہے جب حکومت ہند، تمام ہم وطنوں کو ویکسین سے تحفظ فراہم کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے کام کرے۔ ایک شخص کی تصویر کے پیچھے ویکسینیشن کے خراب اعداد و شمار زیادہ دیر تک چھپائے نہیں جا سکتے‘۔

اسی کے ساتھ، اعداد و شمار بھی دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں مکمل ویکسین شدہ آبادی کا 31.19 فیصد، گذشتہ ہفتے ہر روز 68 لاکھ افراد کو لگا ٹیکہ جبکہ دو کروڑ افراد کو یومیہ ٹیکہ لگانا چاہیے۔

کووڈ 19: بین الاقوامی پروازوں میں نرمی کے منصوبے پر ہو نظر ثانی: مودی

0
کووڈ 19: بین الاقوامی پروازوں میں نرمی کے منصوبے پر ہو نظر ثانی: مودی
کووڈ 19: بین الاقوامی پروازوں میں نرمی کے منصوبے پر ہو نظر ثانی: مودی

افریقہ میں ملے کورونا کے نئے ویریئنٹ کے سبب عالمی سطح پر پھیلے خوف کے درمیان ہفتہ کو کووڈ 19 وبا کی موجودہ صورتحال اور اس سے نمٹنے کے عنوان پر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ

نئی دہلی: افریقہ میں ملے کورونا کے نئے ویریئنٹ کے سبب عالمی سطح پر پھیلے خوف کے درمیان ہفتے کو وزیر اعظم نریندر مودی نے کووڈ 19 وبا کی موجودہ صورتحال اور اس سے نمٹنے کے عنوان پر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔

مسٹر مودی نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہندوستان میں بین الاقوامی پروازیں کھولنے کے منصوبے کا جائزہ لیں اور اس سمت میں احتیاط سے آگے بڑھیں۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق، اس میٹنگ میں مسٹر مودی کو کووڈ-19 کی نئی افریقی شکل کے بارے میں بتایا گیا، جسے عالمی ادارہ صحت نے اومیکرون کا نام دیا ہے۔ بیان کے مطابق مسٹر مودی نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ نئے خطرے کے پیش نظر بچاؤ پر زیادہ توجہ دیں۔ بیان میں کہا گیا ہے، ’وزیر اعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ نئے ابھرتے ہوئے شواہد (کووڈ-19 کی نئی شکل) کے پیش نظر بین الاقوامی سفر پر پابندیوں میں نرمی کے منصوبے کا جائزہ لیں‘۔

میٹنگ میں وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کووڈ وبا کے نئے خطرے کے پیش نظر عوام کو بھی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے جیسے کہ ماسک پہننا اور عوامی مقامات پر ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھنا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’خطرے میں پڑنے والے ممالک‘ سے آنے والے ہر مسافر کا اعلان کردہ قوانین اور ہدایات کے مطابق سختی سے طبی معائنہ کیا جائے گا۔

متنازعہ زرعی قوانین کی منسوخی سے متعلق بل پہلے ہی دن لوک سبھا میں لانے کا فیصلہ

0
متنازعہ زرعی قوانین کی منسوخی سے متعلق بل پہلے ہی دن لوک سبھا میں لانے کا فیصلہ
متنازعہ زرعی قوانین کی منسوخی سے متعلق بل پہلے ہی دن لوک سبھا میں لانے کا فیصلہ

حکومت پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا میں متنازعہ زرعی قوانین کی منسوخی سے متعلق بل پیش کرے گی۔

نئی دہلی: حکومت پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا میں زراعت کے تینوں متنازع قوانین کو منسوخ کرنے کا بل پیش کرے گی۔

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس پیر سے شروع ہو رہا ہے اور زرعی قانون کی منسوخی بل 2021 لوک سبھا کے پہلے دن کے ایجنڈے میں درج ہے۔

خیال رہے وزیر اعظم نریندر مودی نے 29 نومبر کو ہی ان بلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد گزشتہ بدھ کو مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں زرعی قوانین کی منسوخی سے متعلق اس بل کو منظوری دی گئی۔

اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر نے اس وقت کہا تھا کہ حکومت سرمائی اجلاس کے پہلے ہفتے میں ہی ترجیحی بنیادوں پر متنازع زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کرے گی۔

اس کے پیش نظر کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے وہپ جاری کرتے ہوئے اپنے اپنے اراکین کو پہلے دن ایوان میں موجود رہنے کو کہا ہے۔

تینوں نئے زرعی قوانین گزشتہ سال ستمبر میں منظور کیے گئے تھے لیکن کسانوں کی کئی تنظیموں نے ان قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے گزشتہ سال 26 نومبر سے ان کے خلاف احتجاج اور دھرنا شروع کر دیا تھا۔ کسانوں کی تنظیمیں اس وقت سے ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

عالمی بازار میں تیل اوندھے منہ گرا، پھر بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں

0
عالمی بازار میں تیل اوندھے منہ گرا، پھر بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں
عالمی بازار میں تیل اوندھے منہ گرا، پھر بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں

آج مسلسل 23 ویں دن گھریلو سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

نئی دہلی: افریقہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کورونا کی نئی اقسام کی دریافت کے ساتھ ہی ہندوستان اور امریکہ سمیت بڑی معیشتیں اپنے اسٹریٹجک ذخائر کو جاری کرنے کا اعلان کرنے کے دباؤ میں خام تیل ہفتے کے آخر میں بین الاقوامی مارکیٹ اوندھے منہ گر گیا۔ اور آج مسلسل 23 ویں دن گھریلو سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

ہندوستان اور امریکہ سمیت بیشتر بڑی معیشتوں کی جانب سے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر سے تیل جاری کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی کئی ممالک میں کورونا کی نئی اقسام کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن نافذ ہونے کا امکان ہے۔ طلب میں کمی کے خدشے کی وجہ سے ہفتے کے آخر میں امریکی مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر خام تیل کی قیمت میں 13 فیصد تک کی گراوٹ آئی۔ برینٹ کروڈ 10 فیصد سے زیادہ گر کر 72.72 ڈالر فی بیرل اور یو ایس کروڈ 70 ڈالر سے 13.046 فیصد گھٹ کر 68.17 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔

ہندوستان اور امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے خام تیل نکالنے کا اعلان کیا

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے پیداوار نہ بڑھانے کے بعد ہندوستان اور امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے خام تیل نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ چین، جاپان اور جنوبی کوریا پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ذخائر سے تیل جاری کرے۔  ہندوستان 50 لاکھ بیرل تیل چھوڑے گا۔ ہندوستان کے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر 38 ملین بیرل ہے اور یہ ملک کے مشرقی اور جنوبی ساحل پر واقع ہیں۔

مرکزی حکومت کی طرف سے دیوالی کے موقع پر پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں بالترتیب 5 اور 10 روپے فی لیٹر کی کمی نے ملک میں دونوں ان ایندھنوں کی قیمتوں میں کمی لائی ہے۔ اس کے بعد، اتر پردیش، کرناٹک سمیت ملک کی 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ان دونوں مصنوعات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ) کو کم کر دیا ہے، جس سے متعلقہ ریاستوں میں ان دونوں ایندھنوں کی قیمتوں میں مزید کمی آئی ہے۔

گھریلو بازار میں 23 ویں دن بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں

گھریلو بازار میں 23 ویں دن بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ قومی دارالحکومت دہلی میں ملک کی سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل) کے پمپ پر پٹرول کی قیمت 103.97 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 86.67 روپے فی لیٹر ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی کی بنیاد پر نئی قیمتیں ہر روز صبح 6 بجے سے لاگو ہوتی ہیں۔ آج ملک کے چار بڑے میٹرو میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کچھ یوں رہیں:

شہر کا نام ————   پٹر ول    —————   ڈیزل 

دہلی —————     103.97-—————   86.67
ممبئی-——————109.98—————— 94.14
چنئی ——————  101.40 —————— 91.43
کولکاتہ ————     104.67——————-89.79

سپریم کورٹ نے راکیش استھانا کی تقرری پر مرکز کو نوٹس جاری کیا

0
سپریم کورٹ نے راکیش استھانا کی تقرری پر مرکز کو نوٹس جاری کیا
سپریم کورٹ نے راکیش استھانا کی تقرری پر مرکز کو نوٹس جاری کیا

مرکزی حکومت کے ذریعہ مسٹر راکیش استھانا کی تقرری کو دہلی ہائی کورٹ نے 12 اکتوبر کو قانونی قرار دیا تھا اور اس تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کمشنر کے طور پر راکیش استھانا کی تقرری کے سلسلے میں جمعہ کو مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔

جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس اے ایس بوپنا نے مرکزی حکومت کے علاوہ گجرات کیڈر کے 1984 بیچ کے انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) افسر مسٹر استھانا کو نوٹس جاری کیا ہے۔

مرکزی حکومت کے ذریعہ مسٹر استھانا کی تقرری کو دہلی ہائی کورٹ نے 12 اکتوبر کو قانونی قرار دیا تھا اور اس تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے دو ہفتے کے اندر جواب دینے کو کہا

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر آج مرکز اور مسٹر استھانا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے دو ہفتے کے اندر جواب دینے کو کہا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے 18 نومبر کو جلد سماعت کی سینئر وکیل پرشانت بھوشن کی اپیل پر اس معاملے میں آج سماعت کی اجازت دی تھی۔ مسٹر بھوشن نے ’خصوصی تذکرہ‘ کے تحت اپیل کی تھی، جسے قبول کرلیا گیا تھا۔

اس سے قبل ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ نے تقرری سے متعلق نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔

مسٹر استھانا کو مرکزی وزارت داخلہ نے اس سال 27 جولائی کو ان کی ریٹائرمنٹ سے چار دن پہلے تقرری کی تھی۔ وہ 31 جولائی کو ریٹائر ہونے والے تھے۔

صدر عالم نے قانون کے خلاف تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔ اس معاملے میں سینٹر فار پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (سی پی آئی ایل) نامی ایک رضاکار تنظیم (این جی او) کی جانب سے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے مداخلت کی درخواست دائر کی تھی۔ مسٹر بھوشن نے اس سے قبل سپریم کورٹ میں تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے ایک پی آئی ایل دائر کی تھی۔

مرکزی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ مسٹر استھانا کی تقرری دہلی کے مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجوں کے پیش نظر ان کے وسیع تجربے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کی کئی تقرریاں ہوئی ہیں۔