جمعہ, اپریل 17, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 282

حسینی برہمن: سنیل دت خاندان کا حضرت امام حسین سے تعلق کی دلچسپ تاریخی حقیقت

0
حسینی برہمن: سنیل دت خاندان کا حضرت امام حسین سے تعلق کی دلچسپ تاریخی حقیقت
حسینی برہمن: سنیل دت خاندان کا حضرت امام حسین سے تعلق کی دلچسپ تاریخی حقیقت

راہب دت کے خاندان کے حوالے سے مشہور فلم ادکار سنیل دت بے حد احترام کے ساتھ اپنا اور اپنے آباؤ اجداد کا امام حسین سے عقیدت کا اظہار کرتے تھے۔

ہم آپ کو پچھلے حصوں میں بتا چکے ہیں کہ ہندوستان اور عرب ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات اسلام کے عروج سے بھی پہلے قائم تھے اور اسلام کے عروج کے بعد یہ تعلقات مزید قریب تر ہوتے گئے۔ ہندوستان کے تاجر وہاں جاتے تھے اور عرب سے تاجر یہاں آتے تھے۔ اسی سلسلے میں ہندوستان کے پنجاب کے علاقے کے برہمن خاندان کے تاجر حضرت محمد ﷺ کے عہد میں مدینہ شہر گئے۔ ان تاجروں کا سردار راہب دت نام کا ایک ہندوستانی شخص تھا۔

راہب دت کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ ایک دن وہ حضرت محمد ﷺ کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ آپ ﷺ ان کو بیٹا ہونے کے لئے دعا فرمائیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت محمد نے اپنے نواسے حضرت امام حسین جوکہ پاس ہی کھیل رہے تھے ہ راہب دت کے لئے دعا کرنے کو کہا۔ اس کے بعد امام حسین نے اپنے ننھے ہاتھوں کو اٹھا کر دعا مانگی، اور پھر راہب دت کو بیٹا ہوا۔ اس معجزے کے بعد دت خاندان نے خود کو حسینی برہمن کہنا شروع کر دیا۔

680ء میں کربلا کے میدان میں جب امام حسین کے محاصرے اور شہید ہونے کی خبر ملی تو ہندوستان سے حسینی برہمنوں کی 700 سپاہیوں کی ایک فوج عراق کی طرف روانہ ہوئی اور ان بہادر مجاہدین نے حضرت مختار بن ابی عبید ثقفی کی فوج کو شکست دی۔ فوج نے یزید کے ان سپاہیوں (جنہوں نے حضرت امام حسین اور ان کے خاندان کے افراد کو ستایا تھا) کو چن چن کر قتل کرنے میں حضرت مختار کا ساتھ دیا اور ان کی مدد کی۔ عراق سے واپس آنے کے بعد ان لوگوں نے محرم کے دنوں میں امام حسینؑ کی یاد میں مجالس اور لنگر وغیرہ کا اہتمام شروع کیا جو آج تک دت خاندان کے لوگ کرتے ہیں۔

سنیل دت اور راہب دت کا حضرت امام حسین کے ساتھ تعلق

مشہور فلم اداکار سنیل دت کا تعلق بھی راہب دت کے خاندان سے تھا، وہ کئی مواقع پر اپنے اور اپنے آباؤ اجداد کے لئے امام حسین کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ہمارا ملک جن اعلیٰ روایات کے لیے مشہور ہے، حسینی برہمنوں کی طرف سے امام حسین کی یاد میں منعقدہ تقریب اس کی بہترین مثال ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دت خاندان کے لوگوں نے اپنا مذہب نہیں چھوڑا اور ہندو ہوتے ہوئے دنیا کو بتا دیا کہ انسانیت مذہب کا عظیم حصہ ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ یزید کی فوج مسلمانوں پر مبنی تھی پھر بھی اسے اپنے ہی نبی کی آل پر ظلم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوئی کیونکہ اس کے لئے مذہب سے زیادہ طاقت اہم تھی جب کہ حسینی برہمنوں کا مذہب الگ تھا لیکن انہوں نے سچائی پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہندوستان میں پناہ لینے والے عربوں اور ایرانیوں کی ہجرت

بنو امیہ کے اقتدار کے آخری چند سالوں میں بنو عباس نامی قبیلے نے ان کے خلاف جنگ شروع کر دی جس کی وجہ سے پورے ملک میں بدامنی پھیل گئی اور عام شہری ملک چھوڑ کر قریبی ممالک میں پناہ لینے لگے۔ بنو عباس نے 750ء میں بنو امیہ کو اقتدار سے معزول کردیا۔

جب بنو عباس نے اپنی حکومت قائم کی تو انہوں نے بھی اپنے مخالفین پر بہت مظالم کئے جس کی وجہ سے عرب اور ایران سے مسلمانوں کی بڑی تعداد ہندوستان میں پناہ لینے کے لئے آنے لگی۔

چونکہ ہندوستان میں مختلف ریاستیں تھیں اس لئے ہر حکمران مقامی طور پر اپنے علاقے میں آباد ہونے والوں پر نظر رکھتا تھا۔ پرامن طریقے سے ملک میں آنے والوں سے کسی حکمران کو کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔

جب پیغمبر اسلام کی اولاد اور شیعہ طبقے کے آٹھویں امام حضرت علی رضا کو عباسی سلطنت کے دور میں زہر دیا گیا تو ان کے ایک بیٹے حضرت علی ولی اپنے خاندان کے ساتھ شروع میں ایران کے شہر مشہد سے فرار ہوگئے۔ 9ویں صدی میں ہندوستان آئے اور پٹیالہ کے قریب ایک گاؤں میں رہے۔ پٹیالہ اس وقت تھانیسر کے بادشاہ کے ماتحت تھا، بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو یہ معلوم کرنے کے لئے بھیجا کہ کون آیا ہے، تو سپاہیوں نے بتایا کہ ایران سے کچھ مہاجرین آئے ہیں، ان کے ساتھ خواتین اور بچے بھی ہیں۔ اس کے بعد تھانیسر کے حکمران نے انہیں وہاں رہنے کی اجازت دے دی، جس کے بعد وہ آس پاس کے لوگوں سے زمین خرید کر وہاں رہنے لگے اور ایک نیا گاؤں قائم کیا جس کا نام انہوں نے اپنی والدہ حضرت سمانہ کے نام پر رکھا (سمانہ پٹیالہ سے 28 کلومیٹر دور واقع ہے)۔

سمانہ کی درگاہ حضرت علی ولی

خاص بات یہ ہے کہ 1947 کے فسادات کے بعد سمانہ میں کوئی مسلمان نہیں بچا، سب یا تو پاکستان چلے گئے یا مارے گئے، لیکن وہاں کے ہندو اور سکھ پورے پچاس سال تک درگاہ حضرت علی ولی کی دیکھ بھال کرتے رہے اور پھر 2003 میں یہ درگاہ مسلم وقف بورڈ پنجاب کے حوالے کر دی گئی، جہاں اب بھی مجالس اور محفلیں منعقد ہوتی ہیں۔

حضرت علی ولی کا مزار ان لوگوں کو بھی جواب ہے جو کہتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلام بیرونی حملہ آوروں کے ساتھ آیا۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہندوستان میں اسلام کو وہ لوگ اپنے ساتھ لے کر آئے جن لوگوں نے پر امن طریقے سے یہاں آکر رہائش اختیار کی اور اس عظیم ملک کو اپنا گھر سمجھ کر یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ ویسے بھی ان دنوں ہجرت بہت آسان تھی کیونکہ کسی بھی ملک میں داخلے کے لئے ویزا اور پاسپورٹ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اسی وجہ سے مسلمان ہندوستان میں آباد ہوتے گئے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

شہریت ترمیمی قانون اور اس کے خلاف تحریک کے دو سال بعد کیا اب یہ قانون واپس ہوگا؟

0
شہریت ترمیمی قانون اور اس کے خلاف تحریک کے دو سال بعد کیا اب یہ قانون واپس ہوگا؟
شہریت ترمیمی قانون اور اس کے خلاف تحریک کے دو سال بعد کیا اب یہ قانون واپس ہوگا؟

زرعی قوانین کی واپسی سے یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا۔ اسی لئے کسانوں کو اتنی لمبی تحریک چلانی پڑی۔ اسی طرح شہریت ترمیمی قانون بھی حکومت کا ایک غلط فیصلہ ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ موجودہ حکومت جلد یا بدیر اسے واپس لے کر ملک کی اقدار و روایات اور قانون کی بالا دستی کو قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔

ڈاکٹر یامین انصاری

شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے کے خلاف احتجاج کو دو سال مکمل ہو گئے۔اس احتجاج کا سلسلہ اگرچہ شمال مشرقی ریاستوں سے شروع ہوا، لیکن بعد میں مختلف سماجی تنظیموں اور یونیورسٹیوں سے ہوتا ہوا احتجاج کا یہ سلسلہ ’شاہین باغ‘ تک پہنچا۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی یہ منفرد تحریک کورونا کی وبا کے سبب اگرچہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکی، مگر آئین کے تحفظ اور ہندوستانی اقدار و روایات کی بقا کے لئے چلائی جانے والی اس تحریک نے اپنے حقوق کی حصولیابی کے لئے جدو جہد کے نئے راستے کھول دئے۔

’شاہین باغ تحریک‘ کو بدنام کرنے اور ختم کرنے کے لئے ہر قسم کے حربے استعمال کئے گئے، ظلم و بربیت اور سازشوں کے ریکارڈ قائم کئے گئے۔ ٹھیک اسی طرح، جیسے ہم نے کسان تحریک کے دوران دیکھا۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ کسان تحریک کو شاہین باغ سے تحریک اور تقویت ملی۔ یقیناً سی اے اے مخالف یا شاہین باغ تحریک کے تجربات کا کسان تنظیموں کو فائدہ ہوا اور انھوں نے اپنی تحریک کو انجام تک پہنچایا۔

کیا سی اے اے مخالف تحریک دوبارہ شروع ہوگی؟

اب کسان تحریک کی کامیابی کے بعد بہت سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ جیسے کہ کیا اب سی اے اے مخالف تحریک دوبارہ شروع ہوگی؟ کیا سی اے اے کے مخالفین مودی سرکار کو جھکانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟ جس طرح ایک مضبوط حکومت نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لیا، اسی طرح شہریت ترمیمی قانون کو بھی واپس لیا جائے گا؟ اور سب سے بڑا سوال کہ جس طرح کسان تحریک کے دوران لگے مقدمات کو واپس لیا گیا ہے، کیا سی اے اے مخالف تحریک میں شامل لوگوں پر عائد الزامات کو بھی واپس لیا جائے گا؟ انہی سوالوں کی روشنی میں اس تحریک کو شروع ہوئے دو سال مکمل ہونے پر یہ مضمون قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے۔

شہریت ترمیمی قانون مخالف تحریک میں شامل کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا کے سبب احتجاج کا سلسلہ بھلے ہی منقطع ہو گیا تھا، لیکن یہ تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ مختلف شکلوں میں یہ تحریک اب بھی جاری ہے۔ پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر شہریت ترمیمی قانون کیا ہے اور اس کی مخالفت کیوں ہوئی؟ شہریت (ترمیم) ایکٹ 2019 ایک قانون ہے، جس کے ذریعہ 1955 کے شہریت قانون کو ترمیم کرکے یہ التزام کیا گیا کہ31 دسمبر2014 سے پہلے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندوستان آنے والے ہندو، بودھ، سکھ، جین، پارسی اور عیسائیوں (مسلمان نہیں) کو ہندوستان کی شہریت دی جاسکتی ہے۔ اس بل میں ہندوستانی شہریت دینے کے لئے ضروری 11 سال ہندوستان میں رہنے کی شرط میں بھی نرمی کی گئی۔ اس مدت کو صرف پانچ سال ہندوستان میں رہنے کی شرط میں تبدیل کر دیا گیا۔

شہریت ترمیمی قانون کے ضابطے ابھی تیار نہیں

شہریت ترمیمی بل کو لوک سبھا نے10 دسمبر 2019 کو اور 11 دسمبر 2019 کو راجیہ سبھا نے منظور کر لیا تھا۔ صدر جمہوریہ ہند نے 12 دسمبر کو اس پر اپنی مہر ثبت کر دی۔ اس طرح یہ متنازع بل ایک قانون بن گیا۔ یہ قانون 10 جنوری 2020 سے نافذ العمل بھی ہو گیا۔ 20 دسمبر 2019 کو پاکستان سے آنے والے 7 پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت دے کر اس قانون کو نافذ کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے شہریت ترمیمی قانون کے ضابطے ابھی تک تیار نہیں ہوئے ہیں۔

جولائی 2021 میں پارلیمنٹ میں وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ سی اے اے کو 12 دسمبر 2019 کو نوٹیفائی کیا گیا تھا، 2020 میں یہ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ لیکن لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کمیٹیوں سے اس قانون کے تحت ضابطے تیار کرنے کے لئے جنوری 2022 تک کا وقت مانگا گیا ہے۔ اب اسے شاہین باغ کی تحریک کا اثر مانا جائے یا حکومت کی مجبوری، لیکن ایسا مانا جا رہا ہے کہ فی الحال حکومت نے اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمراں جماعت کا مقصد پڑوسی ملکوں کے غیر مسلموں کی ہمدردی سے زیادہ ملک میں فرقہ وارانہ خطوط پر اپنی سیاست چمکانا تھا۔ جس میں کافی حد تک وہ کامیاب بھی ہو گئے۔ اب یہ سوال کون پوچھے کہ آپ نے اس قانون کے تحت پڑوسی ملکوں میں ستائے گئے کتنے غیر مسلموں کو ہندوستان کی شہریت دی؟ ہاں، حکومت نے یہ ضرور بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران 6 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی۔

سی اے اے مخالف تحریک

سی اے اے مخالف تحریک کا سلسلہ شمال مشرق سے نکل کر جب قومی دارالحکومت دہلی پہنچا، تو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر کی نگاہیں اس احتجاج کی جانب مرکوز ہو گئیں۔ ہر کوئی یہ دیکھ کر انگشت بدنداں تھا کہ جن مسلم خواتین کو گھر کی چہار دیواری تک محدود سمجھا جاتا تھا، حقیقی معنوں میں انہی خواتین نے اس احتجاج کی قیادت کی۔ چاہے وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دیگر جامعات کی طالبات ہوں، یا پھر شاہین باغ کی تین دادیوں کی رہنمائی میں 101 دنوں تک دھرنا دینے والی ہزاروں گھریلو خواتین۔ دسمبر اور جنوری کی سرد ترین راتوں میں جب کوئی اپنے ذاتی کام سے بھی گھر سے باہر نکلنا نہیں چاہتا، ان خواتین نے ملک اور قوم کے مستقبل کی خاطر اپنے نرم اور گرم بستروں کے ساتھ اپنے سکون کو بھی قربان کر دیا۔

ہندوستان کی تاریخ میں عدیم المثال مظاہرے

جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے پورے ملک اور دنیا میں اس تاریخی تحریک کو جنم دیا۔ پہلے 13 دسمبر اور پھر 15 دسمبر کو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہوئے احتجاج میں پولیس کی بربریت نے جیسے جامعہ کے طلبہ کے حوصلوں کو نئی اڑان دے دی۔ جامعہ کے بعد اے ایم یو، جے این یو، دہلی یونیورسٹی، ممبئی، کولکاتہ، چنئی، احمد آباد وغیرہ کی مختلف یونیورسٹیوں، آئی آئی ٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں عدیم المثال مظاہرے اور احتجاج ہوئے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں شاید ہی اتنے بڑے پیمانے پر اور اتنے لمبے عرصے تک اس طرح کے مظاہرے ہوئے ہوں۔ کسان تحریک اگرچہ ایک سال سے زائد چلی، لیکن اس کا دائرہ بہت محدود تھا۔

واضح رہے کہ 13 دسمبر 2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس نے احتجاج کر رہے طلبہ پر زبردست لاٹھی چارج کیا تھا۔ اس دوران بڑی تعداد میں طلبہ اور کچھ اسٹاف کے لوگ زخمی ہو گئے۔ پولیس کی اس زیادتی کے خلاف 15 دسمبر کو جامعہ کے طلبہ بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور احتجاج کیا، لیکن اس دوران ایک بار پھر پولیس نے طاقت کا استعمال کیا اور یہ احتجاج تشدد کی شکل اختیار کر گیا۔

شاہین باغ تحریک کا آغاز کیسے ہوا؟

واقعہ سے ناراض کچھ طلبہ جامعہ ملیہ میں دھرنے پر بیٹھ گئے، جبکہ کچھ لوگوں نے جامعہ سے کچھ فاصلے پر واقع شاہین باغ میں دھرنا شروع کر دیا۔ اس میں مقامی لوگ بھی شامل ہوئے۔ آخر کار شاہین باغ کا یہ دھرنا ایک بڑی تحریک میں تبدیل ہو گیا۔ اس کے بعد فروری 2020 میں منصوبہ بند طریقے سے شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ فساد بھڑک اٹھا۔ جس کے بعد تحریک میں شامل متعدد کارکنان کو فساد میں ماخوذ کیا گیا اور انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں اکثر کارکنان کے خلاف یو اے پی اے لگا دیا گیا۔ خود حکومت نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ 2020 میں دہلی پولیس نے یو پی اے کے تحت کل 9 کیس درج کئے، جن میں 34 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ کو ضمانت مل گئی اور کچھ ابھی بھی جیلوں میں بند ہیں۔ امید ہے کہ ان لوگوں کو بھی جلد انصاف ملے گا اور اپنے جمہوری حق کے لئے جد و جہد کرنے والے یہ لوگ جیل سے باہر آئیں گے۔

زرعی قوانین کی واپسی سے یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا۔ اسی لئے کسانوں کو اتنی لمبی تحریک چلانی پڑی۔ اسی طرح شہریت ترمیمی قانون بھی حکومت کا ایک غلط فیصلہ ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ موجودہ حکومت جلد یا بدیر اسے واپس لے کر ملک کی اقدار و روایات اور قانون کی بالا دستی کو قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔ فی الحال قانون واپس ہوگا یا نہیں، تحریک دوبارہ شروع ہوگی یا نہیں، اس سوال کا جواب ندا فاضلیؔ کے اس شعر میں تلاش کر سکتے ہیں۔

کوشش بھی کر امید بھی رکھ راستہ بھی چن
پھر اس کے بعد تھوڑا مقدر تلاش کر

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

اسلامی نظام حکومت اور نظام ملوکیت میں فرق

0
اسلامی نظام حکومت اور نظام ملوکیت میں فرق
اسلامی نظام حکومت اور نظام ملوکیت میں فرق

خلافت راشدہ کے خاتمے کے بعد مسلم اکثریتی ممالک میں وہی نظام رائج ہو گیا جو رومی بادشاہوں، ایرانی شہنشاہوں اور ہندوستانی حکمرانوں میں تھا۔

اس حصے میں ہم آپ کو اسلامی نظام حکومت اور شاہی نظام کا فرق بتائیں گے۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وسیع ملک کی ذمہ داری سنبھالنی پڑی تو آپ نے کسی شہنشاہ یا بادشاہ کی طرح حکومت نہیں کی بلکہ دنیا کے سامنے حکمرانی کی ایک ایسی مثال پیش کی جس میں ہمدردی، صلہ رحمی، انسانیت و مہربانی کے عناصر شامل تھے۔ ایک وسیع ملک کا حکمران بننے کے بعد بھی انہوں نے اپنے رہن سہن اور رکھ رکھاؤ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

نبی کی شہنشاہی میں فقیری

حضرت محمد ﷺ نے اپنے اور اپنے خاندان کے لئے نہ کوئی محل بنایا، نہ دربار سجایا، نہ اپنی حفاظت کے لیے محافظ تعینات کیے، نہ فوج بنائی، نہ ہیرے جواہرات سے مزین تاج پہنا اور نہ اپنے لباس میں کوئی تبدیلی لائی۔ کندھے پر سیاہ کمبل، جسم پر سادہ لباس، مقدس پیروں میں پرانے جوتے اور ہاتھوں میں اسلامی ریاست کی لگام اس حکمران کی پہچان تھی جسے زمین پر اس لئے اتارا گیا تاکہ انسانوں کو سیدھے راستے (صراط مستقیم) پر چلنے کی دعوت دے سکیں۔ بنی اکرم ﷺ کی بنائی ہوئی مسجد میں کھجور کے پتوں کی چھت کچی دیواروں پر پڑی تھی اور اس میں بیٹھ کر حضرت محمد ﷺ اپنی حکمت عملی تیار کرتے تھے، وہ وعظ و نصیحت کرتے تھے اور ان کے پاس کوئی فوج نہیں تھی۔ جب کوئی حملہ ہوتا تھا تو مسلمانوں کو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جمع ہونے کی دعوت دی جاتی تھی اور مدینہ شہر کے اندر یا باہر کسی میدان میں جھنڈا بلند کیا جاتا تھا جس کے بعد مجاہدین وہاں جمع ہونا شروع ہوتے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے بعد دنیا ایک ایسے اسلامی نظام حکومت سے متعارف ہوا جسے خلافت راشدہ کا نام دیا گیا۔

خلافت راشدہ

خلافت راشدہ کے اس نظام میں خلیفہ (حکمران) انسان جیسی زندگی بسر کرتا تھا۔ خلیفہ کا گھر، لباس اور رہن سہن سادہ ہوتا تھا اور وہ ایک عام آدمی کی طرح بغیر محافظوں کے رہتے تھے۔ خلیفہ کو بیت المال (سرکاری خزانے) سے بھی وہی تنخواہ ملتی تھی جو ایک عام ملازم کو ملنے والی اجرت کے برابر ہوتی تھی، لیکن چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد خلافت راشدہ کا خاتمہ ہوگیا۔

ملوکیت اور شان و شوکت والی حکمرانی کا آغاز

خلافت راشدہ کے خاتمے کے بعد مسلم اکثریتی ممالک میں وہی نظام رائج ہو گیا جو رومی بادشاہوں، ایرانی شہنشاہوں اور ہندوستانی راجاؤں میں تھا۔ مسلم شہنشاہوں نے بھی بڑے بڑے محلات بنا کر رہنا شروع کردیا، سونے چاندی کے زیورات اور مہنگے کپڑے ہی حکمران کی پہچان سمجھے جانے لگے۔ درباریں سجائے جانے لگے، فوجی افسروں اور سپاہیوں کو بھاری بھرکم تنخواہوں پر تقرری کی جانے لگی، عظیم الشان اور پرتکلف مساجد تعمیر کروانے کا رواج بھی شروع ہوگیا۔ بہت سے شاہی خاندانوں نے اپنے ناموں کے آگے خلیفہ کا لفظ لگا کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی بھی کوشش کی لیکن کسی مسلمان نے انہیں خلیفہ کا اصل درجہ نہیں دیا بلکہ حکمران سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا۔

جب بادشاہوں نے خلافت کا نقاب اوڑھ کر مسلم ممالک پر حکومت کرنا شروع کی تو اس سے صرف حکمران اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا ہی ہوا اور دربار تک عام لوگوں کی رسائی مشکل ہو گئی اور پھر جس حکمران کو جو طاقت ملی اس کی مدد سے اس نے اپنی سلطنت کو ترقی دینے کے لیے کام شروع کر دیا۔ حالانکہ یہ طرزِ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کے بالکل خلاف تھا کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کسی ملک پر حملہ نہیں کیا، آپ نے صرف اپنی حکومت کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے جنگیں لڑیں۔

اسلامی حکومت کی شاہی نظام میں تبدیلی

رسول اللہ ﷺ کی وفات کو چالیس سال بھی نہیں گزرے تھے کہ اسلامی حکومت کو شاہی نظام میں بدلنے کے لئے خلافت راشدہ کے نظام پر حملہ ہوا جس کی وجہ سے مسلمانوں کو تباہ کن جنگوں کا سامنا کرنا پڑا اور حضرت علی کی شہادت کے ساتھ ہی اسلامی نظام حکومت مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور پھر بنو امیہ کی حکومت قائم ہوئی جس کی سب سے بڑی قیمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان والوں (اہل بیت) کو چکانی پڑی۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے صرف ساٹھ سال بعد شام کے حکمران یزید کی عظیم فوج نے عراق میں کربلا نامی مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور خاندان کے دیگر افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ یہ ساری باتیں سن کر آپ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ وہ بادشاہ دوسرے مذہب کا کیا احترام کرے گا جو اپنے ہی مذہب کے بانی کے خاندان والوں کو شہید کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔

اس حصے کے آخر میں بتاتے چلیں کہ امام حسین علیہ السلام کی دل سوز شہادت کے بعد اموی خاندان کے حکمران یزید کو حضرت مختار ثقفی اور حضرت عبداللہ ابن زبیر کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت مختار کی افواج کے ساتھ ہندوستانیوں کا ایک دستہ بھی یزید کی فوجوں سے متصادم ہوا۔ اگلے حصے میں اس دستے سے متعلق معلومات پیش کریں گے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

جنگیں کبھی مذہبی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ طاقت اور حکومت حاصل کرنے کے لئے لڑی گئیں

0
جنگیں کبھی مذہبی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ طاقت اور حکومت حاصل کرنے کے لئے لڑی گئیں
جنگیں کبھی مذہبی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ طاقت اور حکومت حاصل کرنے کے لئے لڑی گئیں

بادشاہ ہو یا راجہ، ان کا عموماً مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کا اپنی سلطنت کو وسعت دینے اور اقتدار میں رہنے کے علاوہ کوئی مقصد نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے کسی بادشاہ، شہنشاہ یا راجہ کی کسی فوجی مہم کو مذہب سے جوڑنا بالکل غلط ہے۔

یزید کی جنگ اور امام حسین کا قتل

پچھلے حصے میں میں نے آپ کو حضرت علی کی صاحبزادی حضرت رقیہ بنت علی کی ہندوستان آمد کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور پیغمبر کے نواسے حضرت امام حسین کو کربلا کے میدان میں جب شام کے حکمران یزید کے ایک بہت بڑے لشکر نے گھیر لیا تھا تب امام حسین کے ساتھ خواتین اور بچوں کے بشمول صرف 72 لوگ تھے۔ امام حسین کا محاصرہ کرنے کی واحد وجہ یہ تھی کہ امام حسین یزید کو اسلامی حکمران تسلیم کرنے پر راضی نہیں تھے۔ یزید کی وسیع فوج نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو گھیر کر قتل کر دیا، جنگ کے بعد یزیدی فوج گھوڑوں پر سوار ہو کر امام حسین علیہ السلام کے کیمپوں میں داخل ہوئی اور لوٹ مار کے بعد کیمپوں کو آگ لگا دی، اس ہنگامے کے دوران بہت سے بچے خوفزدہ ہو کر جنگل کی طرف بھاگ گئے۔

کیمپوں کو جلانے کے بعد، یزید کے سپاہیوں نے حضرت حسین کے خاندان کے افراد کو جن میں پیغمبر اسلام کے رشتہ دار بھی شامل تھے قید کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ہنگامہ میں حضرت علی کی ایک اور بیٹی رقیہ کے دو بچے لاپتہ ہو گئے۔ واضح رہے کہ حضرت رقیہ بنت علی کی شادی حضرت علی کے بھتیجے حضرت مسلم بن عقیل سے ہوئی تھی اور ان کے چار بیٹے تھے۔

اس واقعہ کے بعد مزید مسلمانوں نے ہندوستان میں پناہ لی

واقعہ کربلا سے پہلے دو بیٹے اپنے باپ کے ساتھ کوفہ گئے جہاں حضرت مسلم اور دونوں بچے شہید ہوگئے۔ دو بچے اپنی والدہ (حضرت رقیہ) کے ساتھ کربلا میں تھے جو شیواروں میں فوج کے داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔ جب حضرت امام حسین کے اہل خانہ کو جیل سے رہا کیا گیا اور سب مدینہ واپس آئے تو حضرت مسلم کے دونوں لاپتہ بچوں کے ہندوستان میں ہونے کی اطلاع ملی جس کے بعد حضرت رقیہ اپنے خاندان کے کچھ افراد، حضرت مسلم کی بہنیں اور ان کی بیٹیاں ہندوستان روانہ ہوگئیں اور (غیرمنقسم) ہندوستان کے شہر لاہور پہنچے، لیکن بچوں کا کہیں پتہ نہ چلا اور پھر ان کی وہیں پراسرار حالات میں وفات ہوگئی۔ بعد میں پنجاب کے حکمران کے بیٹے کمار وکرم ساہی نے ان کی قبروں پر مقبرہ بنوایا جو آج بھی عوام الناس کا مرکز عقیدت بنا ہواہے۔

ان کے علاوہ مسلمان بھی ہندوستان میں پناہ لیتے رہے۔ ہندوستان کی سرحدی ریاستوں بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں ایسے بہت سے مسلمانوں کی آمد کے تاریخی شواہد موجود ہیں جنہیں ہندوستان کے بادشاہوں نے پناہ دی تھی۔ جب محمد الفی نامی ایک عرب سردار جس نے بنی امیہ کے ظالم حکمران حجاج بن یوسف کے دور میں صوبہ مکران میں بغاوت کی تھی اور وہاں کے امیر کو اپنے ساتھیوں سمیت قتل کر دیا تھا تو راجہ داہر کی سلطنت میں پناہ لی۔ سندھ کے بادشاہ داہر نے محمد الفی کو نہ صرف پناہ دی بلکہ الفی اور اس کے ساتھیوں کو بھی اپنی فوج میں شامل کر لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندو مسلم تعلقات کتنے خوشگوار تھے۔

اسلام اور ہندو ازم کی جنگ

بعد میں بنی امیہ کے حکمرانوں نے راجہ داہر پر ایک اور الزام لگا کر حملہ کیا اور اس کے ایک جرنیل محمد بن قاسم نے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ کچھ لوگ اسے اسلام اور ہندو ازم کی جنگ کہتے ہیں، جب کہ یہ جنگ مذہب کے نام پر نہیں لڑی گئی تھی بلکہ کچھ مسلمانوں کو پناہ دینے والے ہندو بادشاہ کے خلاف خلافت بنوامیہ کی ایک فوجی مہم تھی۔

بنو امیہ نے رسول اللہ ﷺ کے نواسے حضرت امام حسین سمیت اتنے مقدس لوگوں کو قتل کیا اور خود مسلمانوں کے خلاف اتنی مہمیں چلائیں کہ بنی امیہ کی پوری تاریخ خون آلود نظر آتی ہے۔ اسی طرح خود بادشاہ داہر نے بھی ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے حکمرانوں کے ساتھ کئی لڑائیاں لڑیں جن میں بہت خون بہایا گیا۔ یہاں ایک بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں سندھی مسلمان ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ راجہ داہر کی مورتی بھی نصب کیا جائے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان بادشاہ داہر سے کتنی محبت کرتے تھے۔

بادشاہ ہو یا راجہ، ان کا عموماً مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کا اپنی سلطنت کو وسعت دینے اور اقتدار میں رہنے کے علاوہ کوئی مقصد نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے کسی بادشاہ، شہنشاہ یا راجہ کی کسی فوجی مہم کو مذہب سے جوڑنا بالکل غلط ہے۔ بادشاہ اچھے بھی تھے برے بھی، رحمدل اور ظالم بھی تھے، نماز پڑھنے والے بھی تھے اور شرابی کبابی بھی، اس لیے کسی بھی شہنشاہ، بادشاہ یا راجہ کی کسی بھی فوجی مہم کو مذہب سے جوڑنا بالکل غلط ہے۔

یاد رہے کہ جب پیغمبر اسلام نے تبلیغ دین کے ساتھ اسلامی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو دنیا کے سامنے ایک بالکل نیا نظام حکومت پیش کیا گیا۔ اگلے شمارے میں ہم اسلامی نظام حکومت اور بادشاہت کے درمیان فرق کی وضاحت کریں گے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد اور اسلام کا عروج

0
ہندوستان میں مسلماںوں کی آمد اور اسلام کا عروج
ہندوستان میں مسلماںوں کی آمد اور اسلام کا عروج

مسلمانوں کے خلاف بات کرنے والے یہی پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلام غوری اور غزنوی کے حملوں کے دوران آیا، جب کہ سچ یہ ہے کہ مسلمان تاجر، علمائے کرام اور عام مسلمانوں کی ہجرت سے ہجرت کے پہلے سال ہندوستان آنے لگے تھے۔

ہندو مسلم اتحاد قائم کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، میں اب ایک بہت اہم موضوع کی طرف آیا ہوں۔ اس حصے میں میں ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد اور اسلام کے پھیلاؤ کے بارے میں بات کروں گا۔ آپ نے سنا ہوگا کہ کچھ دن پہلے ممبئی میں ایک میٹنگ میں آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ اسلام ہندوستان میں حملہ آوروں کے ذریعے آیا۔ جبکہ ان کا یہ قول سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ مسلمانوں کے خلاف بات کرنے والے یہی پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلام غوری اور غزنوی کے حملوں کے دوران آیا، جب کہ سچ یہ ہے کہ مسلمان تاجر، علمائے کرام اور عام مسلمانوں کی ہجرت سے ہجرت کے پہلے سال ہندوستان آنے لگے تھے۔

بہت سے تاجر جو ہندوستان سے مصالحہ جات اور جواہرات خرید کر عرب ممالک کو بیچتے تھے وہ صدیوں تک فیری کے ذریعے گجرات اور کیرالہ کی بندرگاہوں پر آتے تھے اور جب عرب میں اسلام کا ظہور ہوا تو عرب تاجروں نے اسلام قبول کرلیا اور ہندوستان آتے رہے۔

ہندوستان کی سرزمین پر پہلی مسجد

بعض اوقات عرب تاجروں کو موسم کی خرابی کی وجہ سے مہینوں ہندوستان میں رہنا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے انہیں نماز پڑھنے کے لیے مسجد کی ضرورت پڑتی تھی، اس لیے اس وقت کے ہندوستانی حکمرانوں نے انہیں مسجد بنانے کی اجازت دے دی۔ اسی وجہ سے اس زمانے میں ہندوستان کی سرزمین پر پہلی مسجد بنائی گئی جب کہ عرب کے بہت سے علاقوں میں کوئی مسجد نہیں تھی۔

گجرات کے شہر بھاؤ نگر کے گاؤں گھوگھا میں آج بھی 1400 سال پرانی مسجد موجود ہے جس کا رخ کعبہ کی طرف نہیں بلکہ یروشلم میں بنی مسجد اقصیٰ کی طرف ہے جس کی طرف ابتدائی دور میں مسلمان اپنی نمازیں ادا کرتے تھے۔ لیکن ہجرت کے دوسرے سال جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم آیا تو مساجد کا رخ مکہ کی طرف ہونا شروع ہو گیا۔ چونکہ بھاؤ نگر کی قدیم ترین مسجد کا رخ یروشلم کی طرف ہے، اس لیے یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ یہ مسجد 622 عیسوی میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دوران) مکمل ہوئی تھی۔ یہ مسجد اتنی چھوٹی ہے کہ اس میں صرف 25 لوگوں کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔

صحابی حضرت مالک بن دینار کی ہندوستان آمد

اس مسجد کے علاوہ ایک اور 1400 سال پرانی مسجد ہے جو کیرالہ کے تھریسور ضلع کے کوڈنگلور تعلقہ میں واقع ہے جسے چیرامن کی جامع مسجد کہا جاتا ہے۔ بی بی سی کی 13 اکتوبر 2015 کوشائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ہندوستان کی پہلی مسجد تھی جو کہ نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں تعمیر کی گئی تھی، جس کے لئے یہ زمین بادشاہ چیرامن پیرومل نے دی تھی۔ کچھ دوسرے حوالوں کے مطابق، چیرامن کی جامع مسجد 629 عیسوی میں حضرت محمد ﷺ کے ایک صحابی حضرت مالک بن دینار کی ہندوستان آمد کے بعد بادشاہ چیرامن پیرومل کی طرف سے دی گئی زمین پر تعمیر کی گئی تھی۔ اس طرح ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں تعمیر ہونے والی یہ دوسری مسجد تھی۔

ہندوستانی سادھوؤں کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات

ویسے تو کئی ہندوستانی سادھوؤں کی مدینہ جا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی باتیں بھی بعض تاریخی کہانیوں کا حصہ ہیں۔ ان میں سے ایک بابا رتن سین کا نام بہت مشہور ہے۔ وہ شق القمر (چاند کے دوٹکڑے ہونے کا معجزاتی واقعہ) کے بعد مدینہ تشریف لے گئے تھے اور نبی ﷺ سے اس وقت ملاقات کی جب آپ اور صحابہ جنگِ خندق (دفاعی خندق کی جنگ) لڑ رہے تھے تاکہ مدینہ شہر کو مسلم دشمن قوتوں کے حملے سے بچایا جا سکے)۔

کہا جاتا ہے کہ حضورﷺ نے انہیں لمبی عمر سے نوازا، جس کی وجہ سے بابا رتن سین تقریباً 600 سال زندہ رہے، ان کا مقبرہ آج بھی پنجاب کے شہر بھٹنڈہ کے محلہ حاجی رتن نگر میں موجود ہے۔ ویسے کچھ عقائد کے مطابق بابا رتن سین کی سمادھی امروہہ ضلع کے گاؤں دھنورہ میں واقع ہے۔ اسلامی دنیا میں وہ بابا رتن الہند کے نام سے معروف ہیں۔

کسی مہاجر سے اس کا مذہب پوچھا نہیں جاتا تھا

دوسری طرف کئی مسلم مذہبی رہنما اور تاجر بھی ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں مسلسل آ رہے تھے۔ اس وقت پرامن طریقے سے کسی ملک میں داخل ہونے پر کوئی پابندی نہیں تھی، کسی کو ویزا دکھانے کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی کسی مہاجر سے اس کا مذہب پوچھا جاتا تھا۔ اس لئے کوئی بھی شخص کہیں بھی اپنا گھر بنا سکتا تھا۔

چونکہ ہندوستان مسلم ممالک کی سرحدوں سے ملتا تھا اس لیے کافی تعداد میں لوگ ہندوستان آتے تھے۔ ایسے پہلے زائرین میں سے ایک حضرت علی کی بیٹی حضرت رقیہ بنت علی تھیں۔ حضرت علیؓ یہ صاحبزادی بی بی پاک دامن کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ حضرت رقیہ بنت علی اور ان کے ساتھ جانے والی دیگر خواتین کے مزارات پاکستان کے شہر لاہور میں واقع ہیں (جو 1947 تک غیر منقسم ہندوستان کا حصہ تھا)۔ اگلے حصے میں، میں بی بی پاک دامن اور دیگر مسلمانوں کے بارے میں بات کی جائے گی، جنہوں نے ہندوستان کو ہمیشہ کے لیے اپنا مسکن بنایا۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی – 4

0
ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی - 4
ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی - 4

اس سیریز کے ذریعہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان نفرت کو کم کیا جائے۔ اگر آپ کو ہماری مہم پسند آئے تو مضمون کو شیئر ضرور کریں…  پانچواں حصہ کل پڑھیں۔

ہندو مسلم تنازعہ: اس حصے میں میں آپ کو اس اصطلاح سے متعارف کرواؤں گا جو بظاہر قرآن میں سناتن دھرم کے لئے استعمال ہوا ہے۔ میرے خیال میں اس راز سے اس لئے بھی پردہ اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دیوار کو کھڑا کرنے کے لیے لفظ کافر سب سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ جبکہ کافر کا لغوی معنی ہے انکار کرنے والا۔ (سناتن دھرم نے بھی اسی مفہوم کے اظہار کے لئے ہزاروں سال پہلے دنیا کو "ملحد” کا لفظ دیا تھا)۔

ظاہر ہے یہ لفظ توحید کا عقیدہ رکھنے والوں کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ 1400 سال پہلے وہ لوگ جنہوں نے پیغمبر اسلام کی توحید کے پیغام کو رد کردیا تھا انہیں قرآن میں کافر کہا گیا ہے، اور کئی آیات میں اسے کفار قریش کہا گیا ہے۔ یہ اصطلاح ایک خاص گروہ کے لیے استعمال ہوتی تھی جو مکہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں آباد تھا۔ اس گروہ کے علاوہ تین اور مذاہب کے نام قرآن میں آئے ہیں، ایک مذہب کا نام نصاری (عیسائی) بتایا گیا ہے، دوسرے کا یہودی اور تیسرے کا نام صابئین ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ علمائے اسلام نے طویل عرصے تک یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ صابئین کو کس گروہ کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ اکثر لوگ کہتے رہے کہ صابئین کو ایک مذہبی گروہ کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو ستاروں اور برجوں پر یقین رکھتا ہے۔ اردو لغات کے مطابق بھی اس لفظ کا معنی ستاروں پر اعتقاد رکھنے والی قوم ہے۔

لیکن پچھلی صدی میں بعض مسلم علمائے کرام نے لفظ صابئین کی تشریح کرتے ہوئے لکھا کہ قرآن نے جس مذہب کے گروہ کو صابئین کے نام سے مخاطب کیا ہے وہ سناتن دھرم ہے۔ ویسے بھی لفظ صابئین اور سناتن کا (ہندی اور سنسکرت میں) پہلا اور آخری حرف ایک ہی ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جس طرح قرآن نے عیسائیوں کو عیسائی کے بجائے نصاری کے نام سے مخاطب کیا ہے، اسی طرح سناتن دھرم کو شاید صابئین کہا جاتا ہو۔

ایک قابل غور نکتہ یہ ہے کہ قرآن میں سورہ بقرۃ کی 62ویں آیت میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ ’’یقیناً جو لوگ ایمان والے (صادق اور سچے مسلمان) ہیں اور جو یہودی ہیں اور نصاریٰ (عیسائی) اور صابئین ہیں، ان میں سے جو اللہ (خدا) پر اور آخری دن (قیامت کے دن) پر ایمان رکھتے ہوں، اور نیک عمل کرتے ہوں، تو ان کے رب کے پاس ان کے لیے اجر ہے، نہ ان پر کوئی خوف غالب ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے)۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اجر دینے کا وعدہ کر رہا ہے جو خدا کے وجود، یوم قیامت پر یقین رکھتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں۔

صابئین کے سناتن دھرم ہونے کا دعویٰ اس لئے بھی لیا جا سکتا ہے کہ ابن کثیر کی تفسیر القرآن (تفسیر ابن کثیر) میں عبدالرحمٰن بن زید نے لکھا ہے کہ صابئین اپنے آپ کو حضرت نوح علیہ السلام کی امت (منو کے پیروکار) کہا کرتے تھے۔” مزید لکھا ہے کہ صابئین صابی کی جمع ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو شروع میں کسی نہ کسی سچے مذہب کی پیروی کرتے رہے ہوں گے کیونکہ قرآن میں ان کا نام یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ آیا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صابئین اپنے آپ کو حضرت نوح (منو) کی پیروی کرنے والا طبقہ کہتے تھے۔

ویکیپیڈیا میں ہے کہ صابئین ایک مذہبی طبقہ تھا جو توحید پر یقین رکھتا تھا اور خدا کے رسولوں (اوتاروں) پر بھی یقین رکھتا تھا؛ یہ طبقہ دراصل اہل کتاب (الہامی صحیفوں والی جماعت) تھا۔

ویسے مسلم مذہبی رہنما مولانا شمس نوید عثمانی نے صابئین کو سناتن دھرم ثابت کرنے کے لیے اپنی کتاب "اگر بھی نہیں جانے تو” میں کئی دلائل پیش کئے ہیں۔ مولانا عثمانی نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ قرآن کی سورۃ شوریٰ اور سورۃ النحل میں دیگر مذہبی متون کے لیے عربی زبان میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان سے مراد صحائف اور بڑے صفحات ہیں (زمانہ قدیم سے کسی بھی چیز کے لیے پتے استعمال ہوتے تھے۔ لکھنا، تاکہ الگ الگ صفحات کی صورت میں رکھا جا سکے، اس لیے قرآن میں خدا کی بھیجی ہوئی دوسری کتابوں کو بڑے صفحات کا نام دیا گیا تھا)۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ بعض علمائے کرام نے ہندو اور مسلم لکھ کر مذہب کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی۔ دونوں مذاہب کو قریب کریں۔ میری بھی یہی کوشش ہے۔ (جاری)

اس سیریز کے ذریعہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان نفرت کو کم کیا جائے۔ اگر آپ کو ہماری مہم پسند آئے تو مضمون کو شیئر ضرور کریں…  پانچواں حصہ کل پڑھیں۔

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

گجرات فسادات کی نئے سرے سے جانچ کے مطالبہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

0
گجرات فسادات کی نئے سرے سے جانچ کے مطالبہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ
گجرات فسادات کی نئے سرے سے جانچ کے مطالبہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے 2002 میں گودھرا فسادات کے بعد گجرات کے مختلف حصوں میں بھڑکے فسادات کے معاملات کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے تحقیقات کے طریقوں پر سوال اٹھاتے ہوئے اسکی نئے سرے سے جانچ کی مانگ والی عرضی پر سماعت کے بعد جمعرات کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2002 میں گودھرا فسادات کے بعد گجرات کے مختلف حصوں میں بھڑکے فسادات کے معاملات کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے تحقیقات کے طریقوں پر سوال اٹھاتے ہوئے اسکی نئے سرے سے جانچ کی مانگ والی عرضی پر سماعت کے بعد جمعرات کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جج اے ایم خانولکر کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے آنجہانی سابق رکن پارلیمان احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ احسان جعفری کے علاوہ ایس آئی ٹی اور دیگر کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد اپنے فیصلہ محفو ظ کرلیا۔ فساد میں سابق رکن پارلیمان جعفری مارے گئے تھے۔

عرضی گزار نے فسادات میں سیاستدانوں اور گجرات پولیس پر ساز باز کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ایس آئی ٹی نے ٹھیک طرح سے تفتیش کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، جس سے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی اور دیگر الزام سے بری ہوگئے۔ اس لئے اس معاملے کی نئے سرے سے تفتیش کئے جانے کی ضرورت ہے۔

ملزمین کے خلاف ٹھوس ثبوت اور ضروری دستاویزات دستیاب ہونے کے باوجود بری

سینئر وکیل کپل سبل نے سماعت کے دوران سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے بنچ کے سامنے کہا کہ ملزمین کے خلاف ٹھوس ثبوت اور ضروری دستاویزات دستیاب ہونے کے باوجود ایس آئی ٹی نے ملزمین کو قصوروار نہیں مانا۔ اس کا فائدہ ملزمین کو ملا اور وہ عدالت سے بری ہوگئے۔

ایس آئی ٹی کا موقف رکھتے ہوئے ہندوستان کے سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے عرضی گزاروں کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں سنگین طریقہ سے تفصیلی جانچ کی گئی تھی۔ تمام ثبوتوں اور دستاویزات کی مکمل تحقیقات کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ 27 فروری 2002 کو گجرات کے گودھرا ریلوے اسٹیشن پر سابرمتی ایکسپریس ٹرین پر سینکڑوں لوگوں کی ایک بے قابو بھیڑ نے حملہ کردیا تھا جس میں 59 مسافر مارے گئے تھے۔ اس واقعہ کے اگلے دن 28 فروری کو گجرات کے مختلف حصوں میں فسادا ت بھڑک گئے تھے، جس میں احسان جعفری سمیت سیکڑوں لوگ مارے گئے تھے۔

شیئر مارکیٹ میں آج مسلسل تیسرے دن تیزی

0
شیئر مارکیٹ میں آج مسلسل تیسرے دن تیزی
شیئر مارکیٹ میں آج مسلسل تیسرے دن تیزی

شیئر مارکیٹ میں تیزی کا سلسلہ جاری، سینسیکس 157.45 پوائنٹس بڑھ کر 58807.13 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 47.10 پوائنٹس کے اضافے سے 17516.85 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

ممبئی: عالمی سطح سے ملے جلے اشاروں کے درمیان گھریلو سطح پر کیپٹل گڈس، انرجی، ٹیلی کام اور انڈسٹریل جیسے گروپوں میں خرید کی وجہ سے شیئر مارکیٹ میں آج مسلسل تیسرے دن تیزی رہی۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا سینسری انڈیکس سینسیکس 157.45 پوائنٹس بڑھ کر 58807.13 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 47.10 پوائنٹس کے اضافے سے 17516.85 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ بی ایس ای پر چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں نے بھی زبردست خرید کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے مڈ کیپ 0.38 فیصد بڑھ کر 25608.33 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.80 فیصد بڑھ کر 29014.46 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

بی ایس ای میں زبردست منافع میں رہنے والوں میں کیپٹل گڈس 1.98 فیصد، انرجی 1.38 فیصد، ٹیلی کام 1.14 فیصد اور انڈسٹریل 1.08 فیصد شامل ہیں۔ بینکنگ 0.53 فیصد اور فائنانس 0.39 فیصد گراوٹ کا شکار ہیں۔

بی ایس ای پر کل 3398 کمپنیوں کا کاروبار ہوا، جن میں سے 2111 میں اضافہ اور 1165 میں کمی جبکہ 122 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

عالمی سطح پر، ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 1.08 فیصد اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.98 فیصد اضافہ کے ساتھ ملا جلا رجحان رہا، جبکہ برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.06 فیصد، جرمنی کے ڈی ای ایکس میں 0.22 فیصد اور جاپان کے نکئی میں 0.74 فیصد اضافہ ہوا۔

ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی [تیسری قسط]

0
ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی [تیسری قسط]
ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی [تیسری قسط]

اس سیریز کے ذریعہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان نفرت کو کم کیا جائے۔ اگر آپ کو ہماری مہم پسند آئے تو مضمون کو شیئر ضرور کریں…  چوتھا حصہ کل پڑھیں۔

تحریر: شکیل حسن شمسی

ہندو مسلم تنازعہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ سناتن (ہندو) مذہب اس وقت دنیا کے تمام مذاہب میں سب سے قدیم ہے اور اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ سناتن دھرم نے سب سے پہلے سناتن دھرم نے دنیا کو سچ، جھوٹ، انسانیت، شیطانی، گناہ پن، اور ہمدردی جیسے الفاظ کے درمیان فرق بتایا ہے۔ سناتن دھرم نے سب سے پہلے دنیا کو بتایا کہ اچھے کام کرنے والے جنت میں جائیں گے اور برے کام کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ اسی مذہب نے اپسرا اور یمدوت جیسے نام متعارف کروائے تھے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہزاروں سال کے بعد ہندوستان سے ہزاروں میل دور سرزمین عرب سے وہی باتیں کہی گئیں، اسلام نے ستیہ اور استیہ کو حق و باطل، مانوتا اور دانوتا کو انسانیت اور حیوانیت، پاپ اور پونیہ کو گناہ اور ثواب، اور کرونا و کرورتا کو صلہ رحمی اور ظلم کہا؟ سورگ کو جنت اور نرک کو جہنم مسلمان بھی کہتے ہیں۔

جس طرح ہندو جنت میں رہنے والی لڑکیوں کو اپسرا کہتے ہیں، اسی طرح مسلمان جنت میں رہنے والی لڑکیوں کو حور کہتے ہیں۔ ہندو مذہب میں یمدوت کسی کی جان لینے کے لیے آتے ہیں جبکہ مسلمانوں میں ملک الموت روح کو جسم سے نکالنے کے لیے آتا ہے۔

جب مسلمان حج پر جاتے ہیں تو وہ کعبہ کے 7 چکر لگاتے ہیں اور صفا اور مروہ نامی دو پہاڑیوں کے 7 چکر بھی لگاتے ہیں۔ جبکہ ہندو مذہب کے پیروکار بعض مندروں میں سات مرتبہ طواف کرتے ہیں۔ روزنامہ پنجاب کیسری میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ "یہ سب کو معلوم ہے کہ ہندو مذہب کی قدیم روایات کے مطابق مندر میں عبادت کے بعد خدا کا طواف کرنا بہت ضروری ہے۔ کچھ یہ گنتی 3 اور کچھ 7 کی گنتی میں کرتے ہیں۔

کیا کبھی کسی نے آپ کو بتایا ہے کہ رگ وید میں جوا اور شراب پینا ممنوع ہے (رگ وید 7*.86.*6 – ضمیر کی آواز کو سن کر کیا جانے والا عمل ‘گناہ’ کا باعث نہیں بنتا، لیکن اس آواز کو نظر انداز کرنے سے غم اور مایوسی پیدا ہوتی ہے، جو ہمیں نشہ میں مبتلا کر دیتی ہے جو ہمیں نشے اور جوئے ہی کی طرح تباہ کردیتے ہیں) اسلام ان دونوں چیزوں سے بھی منع کرتا ہے جبکہ عرب سے شروع ہونے والی دیگر دو مذاہب میں شراب پینے پر کوئی پابندی نہیں ہے، بلکہ یہودیوں کی مقدس کتا ب میں شراب کی تعریف کی گئی ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے تمام تہوار قمری (چاند کے) کیلنڈر کے مطابق منائے جاتے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسلام نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اس زمین پر حضرت محمد کے علاوہ کوئی دوسرا شخص خدا کا خلیفہ بن کر نہیں آیا بلکہ ہر مسلمان کو یہ عقیدہ رکھنا واجب ہے کہ اللہ (خدا) نے اس دنیا میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس چار ہزار نبی (پیغمبر ، پیامبر یا نمائندے) بھیجے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مسلمان علماء اس بات کا بھی امکان ظاہر کرتے ہیں کہ شاید رام چندر جی، کرشنا جی اور گوتم بدھ بھی پیغمبر تھے۔

یہاں ایک اہم نکتہ بتانے کی ضرورت یہ ہے کہ بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ وید اور دیگر مذہبی کتابوں، ویدوں، پرانوں اور اپنشدوں میں پیغمبر محمد ﷺ کی آمد کی پیش گوئی کی ہے۔ روزنامہ جاگرن کی ویب سائٹ میں ’’ویدوں، پرانوں اور اپنشدوں میں پیغمبر محمد‘‘ (‘’वेद,पुराण,और उपनिषद में पैगम्बर मोहम्मद’’) کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے، ’’ویدوں کے مطابق چڑھنے والے کا نام ’نارشن‘ ہوگا۔ ‘نارشان’ کا عربی ترجمہ ‘محمد’ ہے۔ (سیانا تفسیر، رگ وید سمہیتا، 5/5/2)۔ اصل منتر مندرجہ ذیل ہے- “نارشان: سسوداتیم یجنامادابھیا (–‘‘नराशंस: सुषूदतीमं यज्ञामदाभ्यः ।)۔

کاویری رگ وید میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ‘احمدی پیتوشپری میڈھامرتسیا جگربھ۔ احم سوریا ایوجانی.. یہ سموید میں بھی ہے: ‘احمدی پٹھو پرمیڈھمرتسیا جگربھ۔ احم سوریا ایوجانی۔ (سمویدا pr. 2 d. 6 m. مہارشی ویاس کے اٹھارہ پران ‘بھویشیا پرانا’ ہیں۔ ان کی ایک آیت یہ ہے: "ایک آچاریہ اپنے دوستوں کے ساتھ دوسرے ملک آئے گا۔ اس کا نام محمد ہوگا۔ وہ صحرا کے ہوں گے۔ علاقے میں آئیں گے۔ (بھویشیا پرانا اے 323 ایس یو۔ 5 تا 8) "ہندوؤں کی دیگر مذہبی تحریروں میں بھی حضرت محمد کی آمد کی پیش گوئی کی گئی ہے، لیکن اس قدر تفصیل یہاں ممکن نہیں ہے۔

اگلی قسط میں آپ کو بتاؤں گا کہ قرآن شریف میں ہندوؤں (سناتن دھرمیوں) کا کس نام سے ذکر کیا گیا ہے۔

اس سیریز کے ذریعہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان نفرت کو کم کیا جائے۔ اگر آپ کو ہماری مہم پسند آئے تو مضمون کو شیئر ضرور کریں…  چوتھا حصہ کل پڑھیں۔

سلسلہ وار پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنکوں پر کلک کریں:

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر 11 افراد کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت

0
جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر 11 افراد کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت
جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر 11 افراد کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت

جنرل راوت ایئر فورس کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر میں ویلنگٹن کے ڈیفنس سروسز کالج میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں 14 افراد سوار تھے۔

نئی دہلی: ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ مدھولیکا راوت اور دیگر 11 افراد کی آج اس وقت موت ہو گئی جب تمل ناڈو کے کنور میں ایئر فورس کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔ فضائیہ نے ایک ٹویٹ میں یہ جانکاری دی۔ ہیلی کاپٹر میں سوار گروپ کیپٹن ورون سنگھ حادثے میں زخمی ہو گئے اور ان کا ویلنگٹن کے ملٹری ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔

جنرل راوت ایئر فورس کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر میں ویلنگٹن کے ڈیفنس سروسز کالج میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں 14 افراد سوار تھے۔ ہیلی کاپٹر تمل ناڈو کے ضلع نیلگیری کے کنور علاقے میں سلور سے ٹیک آف کرنے کے بعد گر کر تباہ ہو گیا۔

راوت کی موت پر راج ناتھ سنگھ کا اظہار رنج و غم

جنرل راوت کی موت پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ان کی موت سے ملک اور مسلح افواج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

ایک ٹویٹ پیغام میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ "چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور مسلح افواج کے دیگر 11 اہلکاروں کی اچانک موت سے انہیں دلی تکلیف ہوئی ہے۔ ان کی بے وقت موت ملک اور مسلح افواج کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔‘‘

فضائیہ نے ایک ٹویٹ میں جنرل راوت کی موت کی تصدیق کی۔ فضائیہ نے کہا کہ انتہائی افسوس کے ساتھ اس بات کی تصدیق کی جا رہی ہے کہ اس افسوسناک واقعہ میں جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور 11 دیگر افراد کی موت ہو گئی ہے۔  فضائیہ نے کہا کہ ہیلی کاپٹر میں سوار گروپ کیپٹن ورون سنگھ اس حادثے میں زخمی ہوگئے ہیں اور ان کا ویلنگٹن کے ملٹری ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔