اتوار, مئی 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 438

ہم جیت رہے ہیں: جوبائیڈن، ہم جیت چکے: ٹرمپ

0

امریکی نیٹ ورکس کے مطابق ڈیموکریٹ نے ایوان نمائندگان میں اکثریت برقرار رکھی ہے، جوبائیڈن نے 238 جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 213 الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیئے ہیں۔

واشنگٹن: ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے جہاں امریکی عوام سے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ فتح کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی جیت کا اعلان کر دیا ہے۔

صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج آنے سے پہلے جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ان کے حامی یقین رکھیں وہ کامیابی کے راستے پر ہیں۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ اپنے طور پر وہ الیکشن جیت چکے ہیں اور انہیں ایک شاندار فتح حاصل ہوئی ہے۔

جوبائیڈن نے کہا ہے کہ الیکشن کون جیتے گا یہ میرا یا ٹرمپ کا فیصلہ نہیں بلکہ عوام کا فیصلہ ہوگا۔ ویسے بعض ریاستوں کے نتائج ان کے حق میں توقع سے زیادہ اچھے رہے۔ اس لئے جن لوگوں نے بھی ڈیموکریٹکس کے لیے مہم چلائی اور محنت کی وہ ان سب کے شکر گزار ہیں۔

امریکی نیٹ ورکس کے مطابق ڈیموکریٹ نے ایوان نمائندگان میں اکثریت برقرار رکھی ہے، جوبائیڈن نے 238 جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 213 الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیئے ہیں۔ باوجودیکہ 19 ریاستوں میں ری پبلکن امیدوار ٹرمپ کو ہی برتری حاصل ہے، 16 ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدوار بائیڈن آگے ہیں۔ ابھی 16 ریاستوں سے صدارتی انتخاب کے نتائج آنا باقی ہیں۔

جوبائیڈن نے جہاں نیوہیپمشائر میں کامیابی حاصل کر لی وہیں الاباما میں سینیٹ کی نشست ری پبلکن کے پاس ہی برقرار رہی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض انتخابی نتائج روکنے کو فراڈ قرار دے کر صورتِ حال پر سپریم کورٹ جانے کا اشارہ بھی دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ واضح طور پر جیت رہے تھے کہ اچانک سب کچھ روک دیا گیا، نتائج آتے آتے رک گئے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ امریکی عوام کے ساتھ دھوکا اور بڑا فراڈ ہے، سپریم کورٹ جائیں گے تاکہ تمام ووٹنگ کو روک دیا جائے۔

امریکہ میں رائے دہندگان کے لئے اقتصادی، نسلی اور عدم مساوات اہم مسائل

0
امریکہ میں اقتصادی مسائل
امریکہ میں اقتصادی مسائل

34 فیصد رائے دہندگان کے لئے معیشت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ 21 فیصد کے لئے نسلی عدم استحکام بنیادی مسئلہ ہے، جبکہ صرف 18 فیصد نے کورونا وائرس کی وبا کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔

واشنگٹن: امریکہ میں اقتصادی مسائل اور نسلی عدم استحکام رائے دہندگان کے لئے سب سے اہم مسائل ہیں، جب کہ رائے دہندگان میں صرف ایک تہائی ووٹرز کووڈ – 19 کو ایک اہم مسئلہ سمجھتے ہیں۔

سی این این نیوز چینل کے ذریعہ کئے گئے سروے میں 34 فیصد رائے دہندگان نے معیشت کو ایک بڑا مسئلہ قراردیا۔ اسی دوران 21 فیصد نے نسلی عدم استحکام کو بنیادی مسئلہ قرار دیا، جبکہ صرف 18 فیصد نے کورونا وائرس کی وبا کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔

قابل ذکر ہے کہ کووڈ – 19 سے امریکہ بری طرح متاثر ہے اور اس کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں اور متاثرین کے معاملہ میں دنیا میں پہلے نمبر ہے۔ اسی طرح 11 فیصد رائے دہندگان نے جرائم، سیکیورٹی اور صحت کی دیکھ بھال کی پالیسی کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔

یہ اعداد و شمار فون کے ذریعے 115 مقامات پر 7،774 رائے دہندگان کے درمیان کرائے گئے سروے کے ساتھ 4،919 ووٹروں کے ساتھ تیار کیے گئے ہیں۔

ارنب گوسوامی ممبئی پولیس کی حراست پر جاوڈیکر نے ایسا رد عمل ظاہر کیا

0
ارنب گوسوامی ممبئی پولیس کی حراست پر جاوڈیکر نے ایسا رد عمل ظاہر کیا
ارنب گوسوامی ممبئی پولیس کی حراست پر جاوڈیکر نے ایسا رد عمل ظاہر کیا

ارنب کو آج ان کے گھر سے پولیس حراست میں لیا گیا۔ ارنب نے پولیس پر اپنے ساتھ مارپیٹ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

ممبئی: مہاراشٹر کے ممبئی میں بدھ کی صبح ریپبلک کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ارنب کو پولیس نے آج ان کے گھر سے حراست میں لیا ہے۔ انہوں نے پولیس پر اپنے ساتھ مارپیٹ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

مرکزی اطلاعات و نشریات کے وزیر جناب پرکاش جاوڈیکر نے ٹویٹر پر ارنب پر پولیس کی کارروائی کی مذمت کی ہے اور اسے ایمرجنسی کے واقعہ سے تشبیہ دی ہے۔ 

پرکاش جاوڈیکر نے بدھ کو ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کو پولیس حراست میں لئے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ہمیں ایمرجنسی کی یاد دلا دی۔

جناب جاوڈیکر نے ٹویٹ کیا،’’ہم مہاراشٹر میں پریس کی آزادی پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔یہ پریس کے ساتھ برتاؤ کا طریقہ نہیں ہے۔ اس نے ہمیں ایمرجنسی کی یاد دلا دی،اس وقت بھی پریس کے ساتھ ایس اہی کیا گیا تھا۔

ممبئی پولیس نے ر ارنب گوسوامی کو 53 سالہ انٹیریئر ڈیزائنر انوے نائک کو خودکشی کرنے کے لئے اکسانے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا۔

پولیس نے ارنب کو آرکیٹیکٹ انوے کو خودکشی کےلئے اکسانے کے معاملے میں گرفتار کیا۔ آرکیٹیکٹ انوے نے مئی 2018 میں خودکشی کی تھی۔

انوے نے اپنے خودکشی نوٹ میں الزام لگایا تھا کہ وہ خودکشی کےلئے مجبور ہے۔ اس نے ارنب پر 5.40 کروڑ روپے کی بقایا رقم کی ادائیگی نہیں کرنے کا ذکرکیا تھا۔

ایڈیٹرز گلڈ نے گرفتاری کی مذمت کی

ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر انچیف ارنب گوسوامی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی تشویشناک اقدام قرار دیا ہے۔

ایڈیٹرز گلڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہم اچانک گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں اور اسے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہیں”۔

گلڈ نے مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے اور میڈیا کی تنقیدی رپورٹنگ کے خلاف ریاست کی طاقت کا استعمال نہ کی جائے۔

ریپبلک ٹی وی نے دعوی کیا ہے کہ ان کے چیف ایڈیٹر کی گرفتاری کے وقت، عمارت کے احاطے میں پولیس کی 8 گاڑیاں اور کم سے کم 40–50 پولیس اہلکار موجود تھے، جن میں سے بہت سے افراد مسلح تھے۔

شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے دفاع کیا

شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے ارنب کی گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی پولیس قانون کی پیروی کرتی ہے۔ مسٹر راوت نے کہا کہ جب ارنب کو حراست میں لیا گیا تو مہاراشٹرا پولیس نے اس قانون کی پیروی کی۔

اگر پولیس کے پاس کسی کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو وہ کارروائی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے ریاست میں ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت حکومت اقتدار میں آئی ہے، کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

بہار میں اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے کے لئے ووٹ ضرو کریں: راہل

0
بہار میں اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے کے لئے ووٹ ضرو کریں: راہل
بہار میں اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے کے لئے ووٹ ضرو کریں: راہل

بہار میں آج دوسرے مرحلے میں 17 ضلعوں کی 94 سیٹوں پر ووٹنگ ہونی ہے۔ پہلے مرحلے میں 28 اکتوبر کو 16 ضلعوں کی 71 سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی تھی اور آخری مرحلے میں سات نومبر کو باقی 78 سیٹوں کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اسمبلی انتخابات میں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ میں بھی بہار کے ووٹروں سے پسند کی نئی حکومت کا چناؤ کرنے کے لئے لازمی طور پر ووٹنگ کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر گاندھی نے منگل کی صبح ٹویٹ کیا، ’’آج بہار کے کچھ ضلعوں میں ووٹنگ کا دوسرا مرحلہ ہے۔ ووٹ ضرور کریں تاکہ آپ کی پسند کی نئی حکومت بنے۔‘‘

انہوں نے بہار میں انتخابی تشہیر کے اپنے پروگرام کی بھی معلومات دی اور لکھا، ’’آج آپ سب سے ملنے بہار کے کوڑھا اور کشن گنج آرہا ہوں۔ بڑھتی بے روزگاری، کسانوں پر آفات، کمزور معیشت جیسے کئی مسئلوں پر بات ہوگی۔‘‘

واضح رہے کہ بہار میں دوسرے مرحلے میں 17 ضلعوں کی 94 سیٹوں پر آج ووٹنگ ہونی ہے۔ پہلے مرحلے میں 28 اکتوبر کو 16 ضلعوں کی 71 سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی تھی اور آخری مرحلے میں سات نومبر کو باقی 78 سیٹوں کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے اور دس نومبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔

آندھرا پردیش میں اسکول دوبارہ کھل گئے، کووڈ – 19 کے اصولوں پر سختی سے عمل

0
آندھرا پردیش میں اسکول دوبارہ کھل گئے، کووڈ - 19 کے اصولوں پر سختی سے عمل
آندھرا پردیش میں اسکول دوبارہ کھل گئے، کووڈ - 19 کے اصولوں پر سختی سے عمل

آندھرا پردیش میں آج سے اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں۔ تعلیمی سال 2020-21 کو 30 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے۔  کارپوریٹ اور پرائیویٹ اسکولز ہنوز نہیں کھولے گئے ہیں۔

حیدرآباد: آندھرا پردیش میں آج سے اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں جس کے لئے تمام احتیاطی اقدامات کئے گئے ہیں اور حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔

تعلیمی سال 2020-21 کو 30 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اسکولز مرحلہ وار طور پر کھلیں گے۔ روزانہ کے شیڈول سے لے کر مڈ ڈے میل تک کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ کووڈ – 19 کی صورتحال کے پیش نظر حفاظتی پروٹوکول پر عمل کیاجائے۔ نویں اور دسویں جماعتوں کی کلاسز کا آج سے آغاز ہوا۔ صبح میں پرنسپلز کی جانب سے کورونا سے متعلق بیداری پیدا کی گئی۔

کارپوریٹ اور پرائیویٹ اسکولز ہنوز نہیں کھولے گئے ہیں۔ ریاست میں کورونا کے معاملات میں کمی کے پیش نظر ریاستی حکومت نے اسکولز کھولنے کا فیصلہ لیا ہے۔ریاست میں مرحلہ وار طور پر اسکولز کھولے جائیں گے۔

مارچ میں کورونا کے پیش نظر ریاست کے تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے تھے۔ طلبہ ہر متبادل دن دوپہر تک جماعتوں میں شرکت کریں گے۔ ہر کلاس روم میں صرف 16 طلبہ تک گنجائش رکھی گی ہے۔ اس کے لئے سماجی دوری کے پروٹوکول پر عمل کیاجائے گا۔ ماسک پہننا، ہاتھ دھونا اور جسمانی دوری برقرار رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے جس پر ہر بچہ عمل کررہا ہے۔ کلاسز کا آغاز صبح 9.15 بجے ہوا جو 1.45 تک چلائی جارہی ہیں۔ دوپہر میں اُن طلبہ کے لئے آن لائن کلاسس چلائی جارہی ہیں جو اسکولس نہیں آرہے ہیں۔

اقامتی اسکولز میں 23 نومبر تک ہاسٹل کی سہولت دستیاب

تعلیمی سال 2020-21 کو 30 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے جس میں جملہ 180دن کام کے ہوں گے۔ گھر میں رہنے کو ترجیح دینے اور آن لائن تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے بھی متبادل انتظامات کئے گئے ہیں اور ٹیکنالوجی تک طلبہ کی دستیابی کی بنیاد پر یوٹیوب چینل اور دوردرشن کے ساتھ مخصوص موبائل ایپس شروع کئے گئے ہیں۔ جہاں تک اقامتی اسکولس کا تعلق ہے ان میں 23 نومبر تک ہاسٹل کی سہولت دستیاب رہے گی اور ان طلبہ کو ترجیح دی جارہی ہے جن کے پاس رہنے کے لئے متبادل جگہ نہیں ہے۔

بہرائچ: سڑک حادثے میں کچھوچھہ سے لوٹ رہے 6 زائرین ہلاک، 10 زخمی

0
بہرائچ: سڑک حادثے میں کچھوچھہ سے لوٹ رہے 6 زائرین ہلاک، 10 زخمی
بہرائچ: سڑک حادثے میں کچھوچھہ سے لوٹ رہے 6 زائرین ہلاک، 10 زخمی

کچھ عقیدت مند ضلع امبیڈکر نگر کے کچھوچھہ میں زیارت کیلئے گئے تھے۔ زیارت کے بعد لکھیم پور کیلئے لوٹ رہے تھے۔

بہرائچ: اتر پردیش کے ضلع بہرائچ کے پریاگ پور علاقہ میں ایک خوفناک سڑک حادثے میں وین سوار چھ زائرین کی موت ہوگئی، جبکہ 10 افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع نے آج یہاں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ عقیدت مند ضلع امبیڈکر نگر کے کچھوچھہ شریف میں زیارت کیلئے گئے تھے۔ زیارت کے بعد وین سوار اتوار کی شب تقریباً 12 بجے لکھیم پور کیلئے لوٹ رہے تھے۔

پریاگ پور کے علاقے میں گونڈا بہرائچ شاہراہ پر شیوڈھا موڑ کے قریب ایک تیز رفتار ٹرک نے وین کو ٹکر مار دی، جس سے وہ الٹ گئی۔ حادثے میں چھ افراد نے موقع پر ہی دم توڑ دیا، جبکہ دس افراد زخمی ہوگئے۔

تمام زخمیوں کو بہرائچ میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے، جس میں کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ مرنے والوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔

لوکل ٹرینیں چلانے کیلئے مشرقی ریلوے اور مغربی بنگال حکومت کے عہدیداروں کے درمیان میٹنگ

0

ریاستی حکومت نے مشرقی ریلوے کو خط لکھا تھا کہ کووڈ – 19 کے قواعد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے روزانہ کچھ لوکل ٹرینیں چلائی جائیں۔

کلکتہ: لوکل ٹرینیں نہ چلنے کی وجہ سے عوامی ناراضگی میں اضافے کے پیش نظر مغربی بنگال کی حکومت اور مشرقی ریلوے کے افسران کل پیر کے روز اس مسئلے پر میٹنگ کریں گے۔

ایک دن قبل ہی ریاستی حکومت نے مشرقی ریلوے کو خط لکھا تھا کہ کووڈ – 19 کے قواعد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے روزانہ کچھ لوکل ٹرینیں چلائی جائیں۔ ریاستی سیکرٹریٹ میں کل ایک میٹنگ ہوگی۔ جس میں مشرقی ریلوے کے جنرل منیجر اور ریلوے کے دیگر عہدیدار شریک ہوں گے۔ چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری ریاستی حکومت کی طرف سے موجود ہوں گے۔

ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم) ایچ کے ڈی تروید نے اپنے خط میں کہا کہ ریاستی حکومت نے ریلوے حکام کو میٹرو ٹرینوں کو پرامن اور موثر طریقے سے چلانے میں مدد فراہم کی ہے۔

اردو یونیورسٹی کے فاصلاتی کورسز میں داخلے کا اعلان

0

مولانا آزاد قومی اردو یونیورسٹی میں داخلہ کا آغاز ہوگیا ہے۔ بی ۔ ایڈ سمیت مختلف انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ، ڈپلوما اور سرٹیفکیٹ فاصلاتی پروگراموں میں جولائی 2021-2020 سیشن کیلئے آن لائن داخلے جاری ہیں۔

حیدرآباد: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، نظامت فاصلاتی تعلیم میں داخلوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ یونیورسٹی میں بی ۔ ایڈ سمیت مختلف انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ، ڈپلوما اور سرٹیفکیٹ فاصلاتی پروگراموں میں جولائی 2021-2020 سیشن کیلئے آن لائن داخلے لئے جارہے ہیں۔

درخواست داخل کرنے کی آخری تاریخ 25 نومبر ہے۔

پروفیسر ابوالکلام ڈائریکٹر نظامت کے بموجب اردو میڈیم کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے والی واحد قومی یونیورسٹی میں ایم اے (اردو، انگریزی، تاریخ، ہندی، اسلامک اسٹڈیز اور عربی)، بی ایڈ (برائے بسر خدمت اساتذہ) میں داخلہ لیئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ بی اے، بی کام، بی ایس سی۔ (لائف سائنسز – بی زیڈ سی اور فزیکل سائنسز – ایم پی سی)، ڈپلوما کورسس (ٹیچ انگلش اور ترسیل عامہ و صحافت) اور سرٹیفکیٹ کورس (اہلیت اردو بذریعہ انگریزی اور فنکشنل انگلش برائے اردو داں) میں بھی داخلے دستیاب ہیں۔

یونیورسٹی کے فاصلاتی طرز کے کورسز کو ملک بھر کے اردو حلقوں میں مقبول ہیں، ڈسٹنس ایجوکیشن بیورو (یو جی سی) اور این سی ٹی ای سے مسلمہ حیثیت حاصل ہے۔ مانو کا فاصلاتی نیٹ ورک اپنے 9 علاقائی، 5 ذیلی علاقائی مراکز اور 155 لرنر سپورٹ سنٹرس (اسٹڈی سینٹرس) کے ذریعے تعلیمی خدمات فراہم کر رہا ہے۔

ای پراسپیکٹس اور آن لائن درخواست فارم ڈائریکٹوریٹ کی ویب سائٹ manuu.edu.in/dde پر ”ADMISSIONS” پر دستیاب ہیں۔ فارم آن لائن جمع کروانے ہوں گے۔ بی ایڈ کے لیے رجسٹریشن فیس 1000 روپے ہے اور دیگر کورسز کے لیے 300 روپے۔ آن لائن درخواست فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ 25 نومبر 2020 ہے۔

مزید تفصیلات کے لئے اسٹوڈنٹ سپورٹ سروسز یونٹ (ایس ایس ایس یو) ہیلپ لائن نمبر 040-23008463، 23120600 (ایکسٹیشن 2207) سے رابطہ کریں یا یونیورسٹی کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔

امیدوار حیدرآباد، نئی دہلی، کولکاتہ، بنگلورو، ممبئی، پٹنہ، دربھنگہ، بھوپال، رانچی، امراوتی، سری نگر، جموں، نوح (میوات)، لکھنؤ میں واقع مانو کے علاقائی و ذیلی علاقائی مراکز سے رابطہ بھی کرسکتے ہیں۔

میڈیکل ایجوکیشن سے متعلق نیشنل میڈیکل کمیشن نے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا

0

میڈیکل ایجوکیشن کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کے لئے پہلے کے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں ہیں، جن کے تحت اب میڈیکل کالجوں میں ‘اسکل لیب’ ہونا ضروری ہے۔

نئی دہلی: نیشنل میڈیکل کمیشن نے آج ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں ملک میں میڈیکل ایجوکیشن کو زیادہ سے زیادہ اور موثر بنانے کے سلسلے میں پہلے کے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں۔ اب میڈیکل کالجوں میں ‘اسکل لیب’ ہونا ضروری ہے اور ساتھ ہی دو نئے تعلیمی محکموں ایمرجنسی میڈیکل سروسز اور فزیکل میڈیسن اور ری ہیبیلیٹیشن محکمہ کو بھی لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

مرکزی وزارت صحت و خاندانی فلاح و بہبود نے بتایا کہ آج جاری کردہ سالانہ ایم بی بی ایس داخلہ ریگولیشن (2020) کے نوٹیفکیشن میں میڈیکل کالجوں کے لئے اس وقت کی میڈیکل کونسل آف انڈیا "کم سے کم معیاری ضرورتوں1999، (50/100/150/200 / 250 سالانہ داخلہ) کا مقام لیا ہے۔

یہ نیا نوٹیفکیشن ان تمام میڈیکل کالجوں پر لاگو ہوگا جنہیں قائم کرنے کی تجویز ہے یا پہلے سے قائم ہیں اور وہ تعلیمی سال 2021-22 سے ایم بی بی ایس کی سالانہ نشست میں اضافہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس نوٹیفکیشن سے قبل قائم میڈیکل کالجوں کو متعلقہ قواعد کے ذریعہ انتظام کرنے ہوں گے۔

نیشنل میڈیکل کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہر سال ایم بی بی ایس داخلے کے لئے منظور شدہ تمام میڈیکل کالجوں اور میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں 24 محکموں کا ہونا لازمی ہے جس میں شعبہ ریڈی ایشن آنکولوجی اختیاری ہے۔

جن محکموں کو لازمی قرار دیا گیا ہے ان میں ہیومن فزولوجی، بائیو کیمسٹری، پیتھالوجی، مائکرو بایولوجی، فارماسولوجی، فارنسک میڈیسن اینڈ ٹاکسولوجی، کمیونٹی میڈیسن، بچوں کے امراض، نفسیات، ڈرمیٹولوجی، ریسپائیریٹری میڈیسن، سرجری، آسٹولوجی، ریڈیولاجی، کان ناک اور گلے کی پیتھالوجی، نیتھالوجی، پرسوتی اور نسائی امراض، اینستھیسیولوجی، معدے، فیزیکل میڈیسن اور ری ہیبیلیٹیشن، ایمرجنسی میڈیسن، ریڈیشن آنکولوجی شامل ہیں۔

اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی مذہب کے عظیم شخصیت کی توہین گستاخانہ عمل: آصف صدیقی

0
اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی مذہب کے عظیم شخصیت کی توہین گستاخانہ عمل: آصف صدیقی
اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی مذہب کے عظیم شخصیت کی توہین گستاخانہ عمل: آصف صدیقی

فرانس میں پیغمبر اسلام کی توہین کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے غیر جانب داری اور انصاف پر مبنی رہی ہے۔

پرتاپ گڑھ: اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی بھی مذہب کی عظیم شخصیتوں کی توہین نہیں کی جا سکتی یہ ایک گستاخانہ عمل ہے۔ ہندوستان کی ہمیشہ غیر جانبدارانہ پالیسی رہی ہے۔ ماضی میں ہندوستان نے دنیا کے سامنے حقیقت کہنے سے گریز نہیں کیا۔

حیرت ہے کہ حکومت ہند نے فرانسیسی صدر کی ’توہین‘ پر اپنے دکھ اور ہمدردی کا اظہار تو کیا لیکن خود فرانسیسی صدر کے قابل مذمت اور دہشت گردانہ عمل کی چشم پوشی کی ہے۔ مہاراشٹر سماج وادی پارٹی کے صوبائی نائب صدر آصف نظام الدین صدیقی نے جاری پریس ریلیز میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

آصف نظام الدین صدیقی نے فرانس میں آخری رسولً کی توہین کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے غیر جانب داری اور انصاف پر مبنی رہی ہے۔ اس طرح کی یک طرفہ کارروائی ہماری پالیسی اور روایت کے برعکس ہے۔

حکومت ہند نے حمایت کا جو طریقہ اختیار کیا ہے، اس سے اسلام دشمنی اور نفرت عیاں ہوتی ہے جس سے نہ صرف ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں بلکہ سارے عالم کے مسلمانوں اور سیکولر افراد کی دل آزاری ہوتی ہے۔

ہندوستان کا ’سیکولرزم‘ کسی بھی مذہب یا مذہبی شخصیت کی توہین کی ہرگز اجازت نہیں دیتا بلکہ تمام مذاہب اور ان کی عظیم شخصیتوں کا یکساں احترام ہمارے سیکولرزم ہندوستانی ثقافت کا ایک لازمی جز ہے۔ ی

یہ ایک آئینی حقیقت ہے کہ ہماراسیکولرزم، فرانس کے سیکولرزم سے بالکل مختلف ہے جس کی بنیاد مذہب سے بیزاری پر ہے۔ اسلام ہر طرح کی دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے، چاہے وہ کسی ریاست کی طرف سے ہو یا کسی فرد یا تنظیم کی طرف سے ہو۔ لیکن آج فرانس خود انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے رہاہے۔

اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہماری حمایت اور مخالفت میں توازن قائم ہو۔ انہوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ عظیم شخصیتوں کی توہیں کرنے والی تنظیم و غیر ملکی حکومت فرانس کی حمایت نہ کی جائے۔