اتوار, مئی 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 437

امریکی انتخابات: پنسیلوانیا میں تاخیر سے پہنچے بیلٹ پیپرز کو الگ رکھا جائے: سپریم کورٹ

0

 

پنسیلوانیا میں ریپبلکن پارٹی نے دیر سے آئے بیلٹ کو قانونی چیلنج کیا ہے، لیکن عدالت نے اسے تاحال قبول نہیں کیا ہے۔ عدالت نے صرف اتنا کہا ہے کہ 3 نومبر کی تاریخ والے بیلٹ پیپرز کو علیحدہ رکھا جائے۔

واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے ایک حکم جاری کرکے کہا ہے کہ ریاست پنسیلوانیا کی سبھی کاؤنٹی کو 3 نومبر کے بعد پہنچنے والے بیلٹ پیپرز کو علیحدہ رکھا جائے۔ ان ووٹوں کی گنتی الگ سے کی جائے گی۔

سپریم کورٹ کے ایسوسی ایٹ جسٹس سیموئل الیٹو نے جمعہ کے روز اس حکم میں لکھا ’’ریاست پنسیلوانیا میں تمام کاؤنٹیز کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ 3 نومبر کی رات آٹھ بجے کے بعد پہنچنے والے بیلٹ باکس کو الگ سے ایک محفوظ اورسیل بند کنٹینر میں رکھیں، اس کی گنتی الگ سے کی جائے گی‘‘۔

پنسیلوانیا میں ریپبلکن پارٹی نے دیر سے آئے بیلٹ کو قانونی چیلنج کیا ہے، لیکن عدالت نے اسے تاحال قبول نہیں کیا ہے۔ عدالت نے صرف اتنا کہا ہے کہ 3 نومبر کی تاریخ والے بیلٹ پیپرز کو علیحدہ رکھا جائے گا۔

پنسیلوانیا میں گنتی کا سلسلہ بدستور جاری ہے، ابتدا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں برتری بنائی تھی لیکن پوسٹل بیلٹوں کی گنتی کے ساتھ ہی ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن ان سے آگے نکل گئے۔

جو بائیڈن کو صرف 6 الیکٹورل ووٹ کی ضرورت

ریپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک 214 انتخابی ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے 264 انتخابی ووٹ حاصل کیے ہیں۔ فاکس نیوز نے اطلاع دی ہے کہ مسٹر بائیڈن نے سخت لڑائی کے بعد مشی گن اور وسکونسن ریاستوں میں کامیابی کے بعد 264 انتخابی ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ انہیں اب امریکہ کے اگلے صدر بننے کے لئے 270 کے جادوئی اعداد و شمار تک پہنچنے کے لئے صرف چھ الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہے۔

امریکہ میں لوگ براہ راست صدر کا انتخاب نہیں کرتے ہیں، بلکہ الیکٹورل کالج کے ممبران کا انتخاب کرتے ہیں۔ الیکٹورل کالج کے ممبران بعد میں صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔ الیکٹورل کالج میں کل 538 ووٹ ہیں اور کسی بھی امیدوار کو جیتنے کے لئے 270 انتخابی ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ریاست کیلیفورنیا میں سب سے زیادہ 55 الیکٹورل ووٹ ہیں۔

ملک بھر میں جلد ہی شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) نافذ کیا جائے گا: امت شاہ

0
ملک بھر میں جلد ہی شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) نافذ کیا جائے گا: امت شاہ
ملک بھر میں جلد ہی شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) نافذ کیا جائے گا: امت شاہ

وزریر داخلہ امیت شاہ نے آج ملک بھر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بس کورونا وبا کے کنٹرول ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے

کولکاتا: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج ملک بھر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کنٹرول میں آنے کے بعد ملک بھر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کو نافذ کردیا جائے گا۔

امیت شاہ دو روزہ مغربی بنگال کے دورے پر تھے ،اگلے سال اپریل یا مئی میں اسمبلی انتخاب ہونے ہیں۔ انہوں نے مودی کی قیادت میں بنگال اسمبلی انتخابات جیتنے کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ بنگال میں ممتا بنرجی کا دور اقتدار ختم ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام رفیوجیوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔ بس کورونا وبا کے کنٹرول ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے

شہریت (ترمیمی) ایکٹ یا سی اے اے ، پہلی بار مذہب کی بنیاد پر ہندوستانی شہریت کا نظم کیا گیا ہے ۔اس قانون کے تحت پاکستان،افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو، سکھ، جین ،بدھشٹ اور عیسائی رفیوجیوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔جب کہ اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے اور آئین کے سیکولر اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

کورونا وبا کی وجہ سے تاخیر

امیت شاہ نے گزشتہ سال دسمبر میں ہی پارلیمنٹ سے ہی اس قانون کو پاس کرایا تھا ۔قانون کے پاس ہونے کے بعد ملک بھر میں مظاہرے ہوئے اور کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نفاد کے بعد احتجاج کا سلسلہ روک گیا۔

امیت شاہ نے کہا کہ ان ملکوں میں مذہبی مظالم کے شکار افراد کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔ جب کہ کانگریس، کمیونسٹ پارٹیاں، سماجوادی پارٹی، اسد الدین اویسی کی مجلس اتحاد المسلمین اس قانون کے خلاف ہے۔

شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے مخالف جماعتوں کی دلیل کے مطابق امیت شاہ ملک بھر میں این آر سی کے نفاذ کی بات کرچکے ہیں ایسے میں شہریت ترمیمی ایکٹ کی وجہ سے مسلمانوں کی شہریت ختم ہوسکتی ہے۔ جب کہ امیت شاہ اور بی جے پی مسلسل یہ کہتی رہی کہ یہ قانون مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔

صدر رام ناتھ کووند نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں تین ججوں کا تقرر کیا

0

صدر رام ناتھ کووند نے آئین کے آرٹیکل 217 میں حاصل کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گوہاٹی ہائی کورٹ میں باقاعدہ تین ججوں کا تقرر کیا ہے۔

نئی دہلی: گوہاٹی ہائی کورٹ میں تین ججوں کا تقرر ہوا ہے یہ معلومات وزارت قانون وانصاف نے جمعہ کو دی۔

صدر رام ناتھ کووند نے آئین کے آرٹیکل 217 میں حاصل کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گوہاٹی ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج سنجے کمار میدھی، جج نانی تاگیا اور جج منیش چودھری کو اسی ہائی کورٹ میں باقاعدہ جج مقرر کیا ہے۔

ان کی تقرریوں کا اطلاق اس روز سے ہوگا جب وہ کام کاج سنبھالیں گے۔

مہاراشٹر اسمبلی کے سکریٹری کو سپریم کورٹ نے جاری کیا توہین عدالت کا نوٹس

0

عدالت نے نوٹس جاری کر کے خط لکھنے والے سکریٹری سے پوچھا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔ بینچ نے نوٹس کے جواب کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں مہاراشٹر اسمبلی سکریٹریٹ کے سکریٹری کو جمعہ کے روز نوٹس جاری کر کے پوچھا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروئی شروع کی جائے۔ 

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی صدارت والی تین رکنی بینچ نے توہین عدالت کی نوٹس اس وقت جاری کیا جب اسے ارنب کی جانب سے پیش سینیئر وکیل ہریش سالوے نے آگاہ کیا کہ سکریٹریٹ کے سکریٹری نے 30 اکتوبر کو ارنب کو خط لکھ کر کہا ہے کہ انہوں نے رازداری کی شرط کی خلاف ورزی کی ہے۔ 

مسٹر سالوے کے مطابق مہاراشٹر اسملبی سکریٹریٹ کے سکریٹری کی جانب سے خط میں کہا گیا تھا کہ ارنب کو بتایا گیا تھا کہ کارروائی خفیہ ہے لیکن انہوں (ارنب) نے بغیر اسمبلی اسپیکر کی اجازت کے اس بات کی اطلاع سپریم کورٹ کو دے دی۔ 

جسٹس بوبڈے نے سکریٹری کے اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے پوچھا، ’آئین کی دفعہ 32 کس لیے ہے؟ سکریٹری کا یہ خط ایک شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے کیونکہ خط کے ذریعے متعلقہ شخص کو عدالت جانے پر ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے‘۔ 

بعد ازاں عدالت نے نوٹس جاری کر کے خط لکھنے والے سکریٹری سے پوچھا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔ بینچ نے نوٹس کے جواب کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ 

اس دوران ارنب کی اس معاملے میں گرفتاری نہیں ہو گی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں سینیئر وکیل اروند دَتَّار کو انصاف دوست بنایا ہے۔

سری نگر کی تاریخی پتھر مسجد میں دوران شب لگی آگ

0

دریائے جہلم کے کناروں پر واقع تاریخی پتھر مسجد کو مغل بادشاہ جہانگیر کی شریک حیات نور جہاں نے سال 1623 میں تعمیر کروایا تھا۔ اس مسجد کے نو محراب ہیں جن میں مرکزی محراب سب سے بڑا ہے۔

سری نگر: سری نگر کے زینہ کدل علاقے میں واقع تاریخی پتھر مسجد کو دوران شب آگ کی ایک واردات میں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پتھر مسجد میں دوران شب آگ نمودار ہوئی جس سے مسجد کا منبر مکمل طور پر خاکستر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ مسجد پتھروں کی بنی ہوئی ہے لہٰذا آگ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ فائرٹینڈرس، پولیس اور مقامی لوگوں کی کوششوں کے نتیجے میں آگ پر جلد ہی قابو پالیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ آگ شارٹ سرکٹ ہونے سے لگی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ پائین شہر کے زینہ کدل میں دریائے جہلم کے کناروں پر واقع تاریخی پتھر مسجد کو مغل بادشاہ جہانگیر کی شریک حیات نور جہاں نے سال 1623 میں تعمیر کروایا تھا۔

اس مسجد کی تعمیر وادی کی دیگر مساجد کی تعمیر سے بالکل منفرد ہے۔ روایتی چھت کے برعکس اس کا چھت ڈھلوان ہے۔ اس مسجد کے نو محراب ہیں جن میں مرکزی محراب سب سے بڑا ہے۔

پلوامہ میں دہشت گردوں کے ساتھ تصادم، ایک دہشت گرد اور ایک عام شہری ہلاک

0
پلوامہ میں دہشت گردوں کے ساتھ تصادم، ایک دہشت گرد اور ایک عام شہری ہلاک
پلوامہ میں دہشت گردوں کے ساتھ تصادم، ایک دہشت گرد اور ایک عام شہری ہلاک

پلوامہ میں مسلح تصادم میں اب تک ایک عدم شناخت دہشت گرد اور ایک عام شہری مارا گیا ہے۔ علاقے میں آپریشن جاری ہے۔

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے میج پانپور میں جمعرات کی شام شروع ہونے والے مسلح تصادم میں اب تک ایک عدم شناخت دہشت گرد اور ایک عام شہری مارا گیا ہے۔

جموں و کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پانپور میں جاری تصادم میں ایک عدم شناخت دہشتگرد مارا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں آپریشن جاری ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تصادم کی جگہ پر جمعرات کی شام زخمی ہونے والے دو عام شہریوں میں سے ایک سری نگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ہے۔ انہوں نے مہلوک شہری کی شناخت عابد نبی کے طور پر ظاہر کی ہے۔

ذرائع نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جموں و کشمیر پولیس، فوج کی 50 راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے جب جمعرات کی شام میج پانپور میں ایک مشتبہ جگہ کو محاصرے میں لیا تو وہاں موجود دہشتگردوں نے ان کو نشانہ بنا کر فائرنگ کی اور گرینیڈ داغے۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے میں دو عام شہری زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان میں سے جہاں عابد نبی نامی شہری کی جمعہ کی صبح ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں موت واقع ہوئی وہیں کفایت احمد سری نگر کے برزلہ علاقے میں قائم ہڈیوں و جوڑوں کے ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ دہشتگردوں کی ابتدائی فائرنگ کے بعد طرفین کے درمیان تصادم چھڑ گیا جس میں اب تک ایک عدم شناخت دہشتگرد مارا گیا ہے۔

امریکی صدارتی انتخابات: بائیڈن کامیابی سے محض چھ الیکٹورل ووٹ سے دور

0
امریکی صدارتی انتخابات میں بائیڈن کامیابی سے محض چھ الیکٹورل ووٹ سے دور
امریکی صدارتی انتخابات میں بائیڈن کامیابی سے محض چھ الیکٹورل ووٹ سے دور

مسٹر بائیڈن نوادہ صوبہ میں بھی برتری بنائے ہوئے ہیں جس سے ان کے لئے وہائٹ ہاوس تک رسائی آسان ہوسکتی ہے۔ تاہم، رواں ہفتے کے آخر تک صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج متوقع ہیں۔

واشنگٹن: امریکہ میں ہوئے صدارتی انتخابات کے لیے گنتی جاری ہے جس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن اور نائب صدر کے لیے ہندوستانی نژاد ان کی ساتھی امیدوار کملا ہیرس جیت کی جانب بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

اب تک ہوئی گنتی میں مسٹر بائیڈن سخت مقابلے کے بعد مشیگن اور وسکانسن صوبوں میں جیت حاصل کرنے کے بعد 264 الیکٹورل ووٹ حاصل کرچکے ہیں۔امریکہ کا اگلا صدر بننے کے لیے انہیں 270 کے جادوئی اعدادوشمار تک پہنچنے کے لیے اب محض چھ الیکٹورل ووٹ کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار مسٹر بائیڈن نوادہ صوبہ میں بھی برتری بنائے ہوئے ہیں جس سے ان کی وہائٹ ہاوس تک پہنچنے کی راہ آسان ہوسکتی ہے۔ حالانکہ صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج اس ہفتہ کے آخر تک آنے کی امید ہے۔

مسٹر بائیڈن منیسوٹا، نیوہیمشائر اور ایریزونا میں آگے چل رہے ہیں جبکہ ریپبلک پارٹی کے امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا، آئیووا، اوہیو، ٹکساس، نارتھ کیرولنا، پنسلوانیا اور جارجیا میں برتری بنائے ہوئے ہیں۔

مسٹر بائیڈن اور مسٹر ٹرمپ کے درمیان سخت مقابلہ چل رہا ہے اور دونوں ہی لیڈران اپنی اپنی جیت کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن دونوں ہی ابھی 270 کے اعدادوشمار سے دور ہیں۔

جارجیا میں ووٹوں کی گنتی روکنے کے لئے ٹرمپ پہنچے عدالت

0

ٹرمپ اس سے قبل مشیگن اور پینسلوینیا میں بیلٹ ووٹوں کی گنتی رکوانے کے لئے عدالت میں اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے آبزروروں کو غیر قانونی طریقے سے انتخابات میں داخل ہونے سے محروم رکھا گیا۔

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جارجیا میں ووٹوں کی گنتی کو روکنے کے لئے عدالت پہنچ گئے ہیں۔

ایسوسیئٹڈ پریس نے اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی ہے۔ اس سے پہلے بدھ کو مشیگن اور پینسلوینیا میں بیلٹ ووٹوں کی گنتی رکوانے کے لئے عدالت میں اپیل کی تھی۔ مسٹر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے آبزروروں کو غیر قانونی طریقے سے انتخابات میں داخل ہونے سے محروم رکھا گیا۔

ادھر فاکس نیوز کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار اس وقت آگے چل رہے ہیں۔ انہوں نے صدارتی عہدے کے لئے طے 270 الیکٹورل ووٹوں میں سے 264 ووٹ حاصل کرلئے ہیں، جبکہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 214 ووٹ ملے ہیں۔

جو بائیڈن ریاست مشی گن میں کامیاب: سی این این

0

جو بائیڈن نے ریاست مشی گن میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ گزشتہ الیکشن میں مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ اس ریاست میں کامیاب ہوئے تھے۔

واشنگٹن: امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے ریاست مشی گن میں کامیابی حاصل کی ہے۔

یہ اطلاع سی این این نیوز چینل نے دی ہے۔

سی این این کے مطابق مسٹر بائیڈن اس کے ساتھ ہی 16مزید الیکٹورل ووٹ حاصل کریں گے۔ گزشتہ الیکشن میں مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ اس ریاست میں کامیاب ہوئے تھے۔

سی بی ایس ای کا سی ٹیٹ امتحان 31 جنوری کو ہوگا

0

کورونا وبا کے درمیان سماجی دوری اور دیگر احتیاطی تدابیر قائم رکھنے کے لیے سی بی ایس ای کی جانب سے 135 شہروں میں سی ٹیٹ امتحان کا انعقاد کیا جائے گا۔

نئی دہلی: سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کی جانب سے انتظامی کاموں کی وجہ سے ملتوی کی گئی 14ویں سینٹرل ٹیچنگ ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (سی ٹی ای ٹی) اب 31 جنوری 2021 کو منعقد کی جائے گی۔ اس سلسلے میں سی بی ایس ای نے بدھ کے روز نوٹیفکیشن جاری کی ہے۔ 

کورونا وبا کے درمیان سماجی دوری اور دیگر احتیاطی تدابیر قائم رکھنے کے لیے سی بی ایس ای کی جانب سے 135 شہروں میں سی ٹیٹ امتحان کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ اس سے پہلے پانچ جولائی 2020 کو 112 شہروں میں اس کا انعقاد کیا جانا تھا۔ نئے شہروں کی فہرست میں لکھیم پور، نوگاؤں، بیگوسرائے، گوپال گنج، پورنیہ، روہتاش، سہرسہ، سارن، بھلائی/دُرگ، بلاس پور، ہزاری باغ، جمشید پور، لدھیانہ، امبیڈکر نگر، بجنور، بلند شہر، دیوریا، گونڈہ، مین پوری، پرتاپ گڑھ، شاہجہاں پور، سیتا پور اور اودھم سنگھ نگر شامل ہے۔ 

سی بی ایس ای نے نوٹیفکیشن میں کہا، ’کورونا وائرس وبا کے سبب امیدواروں کو ہونے والی پریشانی کے پیش نظر انھیں شہر چننے کے آپشن میں اصلاح کے لیے ایک موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وہ سات سے 16 نومبر تک آن لائن کے آپشن میں اصلاح کر سکتے ہیں۔

امیدواروں کی جانب سے منتخب شہروں میں انھیں ایڈجسٹ کرنے کی مکمل کوشش کی جائے گی لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو امیدوار ان کی جانب سے منتخب چار شہروں کے علاوہ کوئی بھی شہر الاٹ کیا جا سکتا ہے۔