جمعہ, مارچ 20, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 437

آندھرا پردیش میں اسکول دوبارہ کھل گئے، کووڈ – 19 کے اصولوں پر سختی سے عمل

0
آندھرا پردیش میں اسکول دوبارہ کھل گئے، کووڈ - 19 کے اصولوں پر سختی سے عمل
آندھرا پردیش میں اسکول دوبارہ کھل گئے، کووڈ - 19 کے اصولوں پر سختی سے عمل

آندھرا پردیش میں آج سے اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں۔ تعلیمی سال 2020-21 کو 30 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے۔  کارپوریٹ اور پرائیویٹ اسکولز ہنوز نہیں کھولے گئے ہیں۔

حیدرآباد: آندھرا پردیش میں آج سے اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں جس کے لئے تمام احتیاطی اقدامات کئے گئے ہیں اور حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔

تعلیمی سال 2020-21 کو 30 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اسکولز مرحلہ وار طور پر کھلیں گے۔ روزانہ کے شیڈول سے لے کر مڈ ڈے میل تک کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ کووڈ – 19 کی صورتحال کے پیش نظر حفاظتی پروٹوکول پر عمل کیاجائے۔ نویں اور دسویں جماعتوں کی کلاسز کا آج سے آغاز ہوا۔ صبح میں پرنسپلز کی جانب سے کورونا سے متعلق بیداری پیدا کی گئی۔

کارپوریٹ اور پرائیویٹ اسکولز ہنوز نہیں کھولے گئے ہیں۔ ریاست میں کورونا کے معاملات میں کمی کے پیش نظر ریاستی حکومت نے اسکولز کھولنے کا فیصلہ لیا ہے۔ریاست میں مرحلہ وار طور پر اسکولز کھولے جائیں گے۔

مارچ میں کورونا کے پیش نظر ریاست کے تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے تھے۔ طلبہ ہر متبادل دن دوپہر تک جماعتوں میں شرکت کریں گے۔ ہر کلاس روم میں صرف 16 طلبہ تک گنجائش رکھی گی ہے۔ اس کے لئے سماجی دوری کے پروٹوکول پر عمل کیاجائے گا۔ ماسک پہننا، ہاتھ دھونا اور جسمانی دوری برقرار رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے جس پر ہر بچہ عمل کررہا ہے۔ کلاسز کا آغاز صبح 9.15 بجے ہوا جو 1.45 تک چلائی جارہی ہیں۔ دوپہر میں اُن طلبہ کے لئے آن لائن کلاسس چلائی جارہی ہیں جو اسکولس نہیں آرہے ہیں۔

اقامتی اسکولز میں 23 نومبر تک ہاسٹل کی سہولت دستیاب

تعلیمی سال 2020-21 کو 30 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے جس میں جملہ 180دن کام کے ہوں گے۔ گھر میں رہنے کو ترجیح دینے اور آن لائن تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے بھی متبادل انتظامات کئے گئے ہیں اور ٹیکنالوجی تک طلبہ کی دستیابی کی بنیاد پر یوٹیوب چینل اور دوردرشن کے ساتھ مخصوص موبائل ایپس شروع کئے گئے ہیں۔ جہاں تک اقامتی اسکولس کا تعلق ہے ان میں 23 نومبر تک ہاسٹل کی سہولت دستیاب رہے گی اور ان طلبہ کو ترجیح دی جارہی ہے جن کے پاس رہنے کے لئے متبادل جگہ نہیں ہے۔

بہرائچ: سڑک حادثے میں کچھوچھہ سے لوٹ رہے 6 زائرین ہلاک، 10 زخمی

0
بہرائچ: سڑک حادثے میں کچھوچھہ سے لوٹ رہے 6 زائرین ہلاک، 10 زخمی
بہرائچ: سڑک حادثے میں کچھوچھہ سے لوٹ رہے 6 زائرین ہلاک، 10 زخمی

کچھ عقیدت مند ضلع امبیڈکر نگر کے کچھوچھہ میں زیارت کیلئے گئے تھے۔ زیارت کے بعد لکھیم پور کیلئے لوٹ رہے تھے۔

بہرائچ: اتر پردیش کے ضلع بہرائچ کے پریاگ پور علاقہ میں ایک خوفناک سڑک حادثے میں وین سوار چھ زائرین کی موت ہوگئی، جبکہ 10 افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع نے آج یہاں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ عقیدت مند ضلع امبیڈکر نگر کے کچھوچھہ شریف میں زیارت کیلئے گئے تھے۔ زیارت کے بعد وین سوار اتوار کی شب تقریباً 12 بجے لکھیم پور کیلئے لوٹ رہے تھے۔

پریاگ پور کے علاقے میں گونڈا بہرائچ شاہراہ پر شیوڈھا موڑ کے قریب ایک تیز رفتار ٹرک نے وین کو ٹکر مار دی، جس سے وہ الٹ گئی۔ حادثے میں چھ افراد نے موقع پر ہی دم توڑ دیا، جبکہ دس افراد زخمی ہوگئے۔

تمام زخمیوں کو بہرائچ میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے، جس میں کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ مرنے والوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔

لوکل ٹرینیں چلانے کیلئے مشرقی ریلوے اور مغربی بنگال حکومت کے عہدیداروں کے درمیان میٹنگ

0

ریاستی حکومت نے مشرقی ریلوے کو خط لکھا تھا کہ کووڈ – 19 کے قواعد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے روزانہ کچھ لوکل ٹرینیں چلائی جائیں۔

کلکتہ: لوکل ٹرینیں نہ چلنے کی وجہ سے عوامی ناراضگی میں اضافے کے پیش نظر مغربی بنگال کی حکومت اور مشرقی ریلوے کے افسران کل پیر کے روز اس مسئلے پر میٹنگ کریں گے۔

ایک دن قبل ہی ریاستی حکومت نے مشرقی ریلوے کو خط لکھا تھا کہ کووڈ – 19 کے قواعد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے روزانہ کچھ لوکل ٹرینیں چلائی جائیں۔ ریاستی سیکرٹریٹ میں کل ایک میٹنگ ہوگی۔ جس میں مشرقی ریلوے کے جنرل منیجر اور ریلوے کے دیگر عہدیدار شریک ہوں گے۔ چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری ریاستی حکومت کی طرف سے موجود ہوں گے۔

ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم) ایچ کے ڈی تروید نے اپنے خط میں کہا کہ ریاستی حکومت نے ریلوے حکام کو میٹرو ٹرینوں کو پرامن اور موثر طریقے سے چلانے میں مدد فراہم کی ہے۔

اردو یونیورسٹی کے فاصلاتی کورسز میں داخلے کا اعلان

0

مولانا آزاد قومی اردو یونیورسٹی میں داخلہ کا آغاز ہوگیا ہے۔ بی ۔ ایڈ سمیت مختلف انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ، ڈپلوما اور سرٹیفکیٹ فاصلاتی پروگراموں میں جولائی 2021-2020 سیشن کیلئے آن لائن داخلے جاری ہیں۔

حیدرآباد: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، نظامت فاصلاتی تعلیم میں داخلوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ یونیورسٹی میں بی ۔ ایڈ سمیت مختلف انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ، ڈپلوما اور سرٹیفکیٹ فاصلاتی پروگراموں میں جولائی 2021-2020 سیشن کیلئے آن لائن داخلے لئے جارہے ہیں۔

درخواست داخل کرنے کی آخری تاریخ 25 نومبر ہے۔

پروفیسر ابوالکلام ڈائریکٹر نظامت کے بموجب اردو میڈیم کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے والی واحد قومی یونیورسٹی میں ایم اے (اردو، انگریزی، تاریخ، ہندی، اسلامک اسٹڈیز اور عربی)، بی ایڈ (برائے بسر خدمت اساتذہ) میں داخلہ لیئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ بی اے، بی کام، بی ایس سی۔ (لائف سائنسز – بی زیڈ سی اور فزیکل سائنسز – ایم پی سی)، ڈپلوما کورسس (ٹیچ انگلش اور ترسیل عامہ و صحافت) اور سرٹیفکیٹ کورس (اہلیت اردو بذریعہ انگریزی اور فنکشنل انگلش برائے اردو داں) میں بھی داخلے دستیاب ہیں۔

یونیورسٹی کے فاصلاتی طرز کے کورسز کو ملک بھر کے اردو حلقوں میں مقبول ہیں، ڈسٹنس ایجوکیشن بیورو (یو جی سی) اور این سی ٹی ای سے مسلمہ حیثیت حاصل ہے۔ مانو کا فاصلاتی نیٹ ورک اپنے 9 علاقائی، 5 ذیلی علاقائی مراکز اور 155 لرنر سپورٹ سنٹرس (اسٹڈی سینٹرس) کے ذریعے تعلیمی خدمات فراہم کر رہا ہے۔

ای پراسپیکٹس اور آن لائن درخواست فارم ڈائریکٹوریٹ کی ویب سائٹ manuu.edu.in/dde پر ”ADMISSIONS” پر دستیاب ہیں۔ فارم آن لائن جمع کروانے ہوں گے۔ بی ایڈ کے لیے رجسٹریشن فیس 1000 روپے ہے اور دیگر کورسز کے لیے 300 روپے۔ آن لائن درخواست فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ 25 نومبر 2020 ہے۔

مزید تفصیلات کے لئے اسٹوڈنٹ سپورٹ سروسز یونٹ (ایس ایس ایس یو) ہیلپ لائن نمبر 040-23008463، 23120600 (ایکسٹیشن 2207) سے رابطہ کریں یا یونیورسٹی کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔

امیدوار حیدرآباد، نئی دہلی، کولکاتہ، بنگلورو، ممبئی، پٹنہ، دربھنگہ، بھوپال، رانچی، امراوتی، سری نگر، جموں، نوح (میوات)، لکھنؤ میں واقع مانو کے علاقائی و ذیلی علاقائی مراکز سے رابطہ بھی کرسکتے ہیں۔

میڈیکل ایجوکیشن سے متعلق نیشنل میڈیکل کمیشن نے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا

0

میڈیکل ایجوکیشن کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کے لئے پہلے کے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں ہیں، جن کے تحت اب میڈیکل کالجوں میں ‘اسکل لیب’ ہونا ضروری ہے۔

نئی دہلی: نیشنل میڈیکل کمیشن نے آج ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں ملک میں میڈیکل ایجوکیشن کو زیادہ سے زیادہ اور موثر بنانے کے سلسلے میں پہلے کے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں۔ اب میڈیکل کالجوں میں ‘اسکل لیب’ ہونا ضروری ہے اور ساتھ ہی دو نئے تعلیمی محکموں ایمرجنسی میڈیکل سروسز اور فزیکل میڈیسن اور ری ہیبیلیٹیشن محکمہ کو بھی لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

مرکزی وزارت صحت و خاندانی فلاح و بہبود نے بتایا کہ آج جاری کردہ سالانہ ایم بی بی ایس داخلہ ریگولیشن (2020) کے نوٹیفکیشن میں میڈیکل کالجوں کے لئے اس وقت کی میڈیکل کونسل آف انڈیا "کم سے کم معیاری ضرورتوں1999، (50/100/150/200 / 250 سالانہ داخلہ) کا مقام لیا ہے۔

یہ نیا نوٹیفکیشن ان تمام میڈیکل کالجوں پر لاگو ہوگا جنہیں قائم کرنے کی تجویز ہے یا پہلے سے قائم ہیں اور وہ تعلیمی سال 2021-22 سے ایم بی بی ایس کی سالانہ نشست میں اضافہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس نوٹیفکیشن سے قبل قائم میڈیکل کالجوں کو متعلقہ قواعد کے ذریعہ انتظام کرنے ہوں گے۔

نیشنل میڈیکل کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہر سال ایم بی بی ایس داخلے کے لئے منظور شدہ تمام میڈیکل کالجوں اور میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں 24 محکموں کا ہونا لازمی ہے جس میں شعبہ ریڈی ایشن آنکولوجی اختیاری ہے۔

جن محکموں کو لازمی قرار دیا گیا ہے ان میں ہیومن فزولوجی، بائیو کیمسٹری، پیتھالوجی، مائکرو بایولوجی، فارماسولوجی، فارنسک میڈیسن اینڈ ٹاکسولوجی، کمیونٹی میڈیسن، بچوں کے امراض، نفسیات، ڈرمیٹولوجی، ریسپائیریٹری میڈیسن، سرجری، آسٹولوجی، ریڈیولاجی، کان ناک اور گلے کی پیتھالوجی، نیتھالوجی، پرسوتی اور نسائی امراض، اینستھیسیولوجی، معدے، فیزیکل میڈیسن اور ری ہیبیلیٹیشن، ایمرجنسی میڈیسن، ریڈیشن آنکولوجی شامل ہیں۔

اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی مذہب کے عظیم شخصیت کی توہین گستاخانہ عمل: آصف صدیقی

0
اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی مذہب کے عظیم شخصیت کی توہین گستاخانہ عمل: آصف صدیقی
اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی مذہب کے عظیم شخصیت کی توہین گستاخانہ عمل: آصف صدیقی

فرانس میں پیغمبر اسلام کی توہین کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے غیر جانب داری اور انصاف پر مبنی رہی ہے۔

پرتاپ گڑھ: اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی بھی مذہب کی عظیم شخصیتوں کی توہین نہیں کی جا سکتی یہ ایک گستاخانہ عمل ہے۔ ہندوستان کی ہمیشہ غیر جانبدارانہ پالیسی رہی ہے۔ ماضی میں ہندوستان نے دنیا کے سامنے حقیقت کہنے سے گریز نہیں کیا۔

حیرت ہے کہ حکومت ہند نے فرانسیسی صدر کی ’توہین‘ پر اپنے دکھ اور ہمدردی کا اظہار تو کیا لیکن خود فرانسیسی صدر کے قابل مذمت اور دہشت گردانہ عمل کی چشم پوشی کی ہے۔ مہاراشٹر سماج وادی پارٹی کے صوبائی نائب صدر آصف نظام الدین صدیقی نے جاری پریس ریلیز میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

آصف نظام الدین صدیقی نے فرانس میں آخری رسولً کی توہین کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے غیر جانب داری اور انصاف پر مبنی رہی ہے۔ اس طرح کی یک طرفہ کارروائی ہماری پالیسی اور روایت کے برعکس ہے۔

حکومت ہند نے حمایت کا جو طریقہ اختیار کیا ہے، اس سے اسلام دشمنی اور نفرت عیاں ہوتی ہے جس سے نہ صرف ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں بلکہ سارے عالم کے مسلمانوں اور سیکولر افراد کی دل آزاری ہوتی ہے۔

ہندوستان کا ’سیکولرزم‘ کسی بھی مذہب یا مذہبی شخصیت کی توہین کی ہرگز اجازت نہیں دیتا بلکہ تمام مذاہب اور ان کی عظیم شخصیتوں کا یکساں احترام ہمارے سیکولرزم ہندوستانی ثقافت کا ایک لازمی جز ہے۔ ی

یہ ایک آئینی حقیقت ہے کہ ہماراسیکولرزم، فرانس کے سیکولرزم سے بالکل مختلف ہے جس کی بنیاد مذہب سے بیزاری پر ہے۔ اسلام ہر طرح کی دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے، چاہے وہ کسی ریاست کی طرف سے ہو یا کسی فرد یا تنظیم کی طرف سے ہو۔ لیکن آج فرانس خود انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے رہاہے۔

اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہماری حمایت اور مخالفت میں توازن قائم ہو۔ انہوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ عظیم شخصیتوں کی توہیں کرنے والی تنظیم و غیر ملکی حکومت فرانس کی حمایت نہ کی جائے۔

عید میلاد النبی کا جشن کافی جوش و خروش لیکن حفاظتی اقدامات و احتیاطی تدابیر کے ساتھ منایا گیا

0
عید میلاد النبی کا جشن کافی جوش و خروش لیکن حفاظتی اقدامات و احتیاطی تدابیر کے ساتھ منایا گیا
عید میلاد النبی کا جشن کافی جوش و خروش لیکن حفاظتی اقدامات و احتیاطی تدابیر کے ساتھ منایا گیا

عالم اسلام میں جشن عید میلاد النبی جوش و خروش سے منایا گیا۔ عروس البلاد ممبئی میں سخت پولیس بندوبست میں عید میلادالنبی کا جلوس نکلا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور پرینکا و راہل گاندھی نے اس موقعے پر دی مبارکبادی

ممبئی / دہلی: عید میلاد النبی کا جشن پورے ملک و دنیا کے کئی ممالک میں جمعرات کے دن اور بعض ممالک بشموم برصغیر ہندو پاک میں آج کے دن پڑے تزک احتشام کے ساتھ منایا گیا۔ کرونا وائرس وبا کی وجہ سے جلوسوں کا زیادہ اہتمام نہیں ہوا، مگر جہاں بھی جلوس نکلے عقیدت مند ماسک میں نظر آئے۔

ممبئی میں سخت پولیس بندوبست میں جلوس عید میلادالنبی ﷺ نکلا۔ جنوبی ممبئی میں واقع تاریخی خلافت ہاؤس میں شمع رسالت کے پروانوں کا جوش وجذبہ برقرارنظرآیا واضح رہے کہ خلافت کمیٹی کے زیر اہتمام عید میلادالنبی ﷺ کے جلوس کے 10 قائدین کے لیے ممبئی پولیس کے ایک ہزار سے زائد افسران، جوان اور اہلکار خلافت ہاؤس پر اور آس پاس تعینات کیے گئے تھے۔ جوکہ ایک رنگ برنگے پھولوں سے سجی ٹرک میں روانہ ہوئے۔

جنوبی ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں بھنڈی بازار، مدنپورہ، ہنس روڈ، اگری پاڑہ، ناگپاڑہ، محمدعلی روڈ، جے جے جنکشن، پائیدھونی اور کرافورڈ مارکیٹ اور محلوں کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

شہر اور مضافاتی مسلم علاقوں میں چپے چپے پر باوردی اور سادہ لباس میں ہزاروں پولیس اہلکاروں کو مسلمانوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا بیشتر اپنے موبائل فون سے ویڈیو گرافی کرہے تھے۔ عید میلاد کے موقع پر پولیس کی سختی کا اثر نظر آیا، لیکن مسلمانوں کا عقیدت، محبت اور جذبہ میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا تھا۔

آل انڈیا خلافت کمیٹی کے احاطہ میں واقع ہال میں ایک چھوٹے سے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عالم دین اور ہندوستانی مسجد بائیکلہ کے پیش امام وخطیب مولاناجبار ماہر القادری نے حضور ﷺ کی حیات طیبہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے مائیکل ایچ ہارٹ کی کتاب ہنڈریڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مصنف نے دنیا کی سو ایسی شخصیات کی فہرست بنائی اور ان میں حضور ﷺ کو اول مقام دیا ہے۔ مائیکل ایچ ہارٹ نے آپ کے بارے میں کہا ہے کہ ابتداء میں جب حضور نے نبوت کا اعلان کیا تو ان پر صرف چار افراد نے ایمان لایا، لیکن آج 1400 سال گزر جانے پر دنیا میں دیڑھ ارب سے زیادہ لوگ اللہ اور اس رسول ﷺ پر ایمان لا چکے ہیں اور ہر روزاُن کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسلام کے ماننے والوں کے لیے اللہ پر ایمان کے ساتھ ساتھ رسول اللہ پر بھی یقین ضروری ہے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ اطیعواللہ واطیعو الرسول۔ اس سے قبل حافظ سید اطہر علی نے رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ پر روشنی ڈالی اور واضح طور پر کہاکہ مسلمان کبھی بھی اپنے محبوب ﷺ کے بارے میں اہانت برداشت نہیں کرسکتا ہے۔

اس موقع پرمولانا خلیل الرحمن نوری نے فرانس کے صدر میکرون کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ انہیں اظہاررائے کی آزادی کے نام پر دیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کا بھی خیال نہیں ہے کیونکہ انہیں محبت رسول ﷺ کا پتہ نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک عاشق رسول ﷺ اپنی جان بھی نچھاورکردیتا ہے۔ اس لیے انہیں اس معاملہ میں ہوش کے ناخن لینا چاہیے۔

ابتداء میں خلافت کمیٹی کے چیئرمین سرفراز آرزو نے مہمانوں کا استقبال کیا اورپولیس کی سختی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے جلوس کی اجازت کے لیے تعاون کرنے والے لیڈران اور عوامی نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔

ہاشمیہ ہائی اسکول کے پرنسپل مولانا رضوان خان نے سیرت النبی ﷺ پر اظہار خیال کرتے ہوئے مائیکل ہا رٹ کی کتاب کے اقتسابات پیش کیے اور کہاکہ ہارٹ کا کہنا ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کے ہر ایک پہلو کو پیش کیا جاسکتا ہے بلکہ ریکارڈ موجود ہے۔

اس تقریب میں اہم مسلم شخصیات اور عوامی نمائندے ایم ایل اے امین پٹیل، ایم۔ ایل اے رئیس شیخ، کانگریس ترجمان نظام الدین، راعین، میمن کیمونٹی کے سربراہ اقبال میمن، کارپوریٹر جاویدجنیجا، نعت گو تاج قریشی، اور دیگر معززین شامل تھے۔

مسلم محلوں میں جگہ جگہ استقبال کیا گیا۔ حالانکہ اسٹیج کی اجازت نہیں دی گئی تھی، لیکن جگہ جگہ جلوس کے قائدین کا شاندار استقبال کیا گیا۔ نعرے تکبیر اللہ اکبر اور نعرہ رسالت یا رسول اللہ ﷺ سے فضاء گونج اٹھی۔

شہرمیں ریاستی حکومت نے دو ہی جلوس کی اجازت دی تھی۔ خلافت کمیٹی کے علاوہ سینٹرل عید میلادالنبی کمیٹی گھاٹ کوپر کے زیر اہتمام عارف نسیم خان، سابق وزیر کی قیادت میں جلوس نکلا۔ امیرسنی دعوت اسلامی شاکر نوری نے قیادت کی جبکہ سابق ایم پی مولانا عبیداللہ اعظمی نے خیالات کا اظہار کیا۔

میلاد النبی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز میلاد النبی کے موقع پر لوگوں کو مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر لوگوں کو ایک پیغام دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ، ‘میلاد النبیabi پر نیک خواہشات۔ امید ہے کہ اس دن سے تمام ممالک میں ہمدردی اور بھائی چارے کو مزید فروغ ملے گا۔ سب صحت مند اور خوش و خرم رہیں۔ عید مبارک!’

میلادالنبی پر راہل گاندھی اور پرینکا کی مبارکباد

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جمعہ کے روز میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ملک کے باشندوں کو مبارکباد پیش کی مسٹر راہل گاندھی نے ٹویٹ کرکے کہا کہ "سب کو عید میلاد النبی مبارک ہو۔ امید ہے کہ اس تہوار سے ہم سب کے درمیان پیار اور بھائی چارے میں اضافہ ہوگا۔ عید میلاد النبی مبارک ہو”۔

محترمہ پرینکا گاندھی نے کہا کہ "آپ سب کو عید میلاد النبی مبارک ہو۔ اس تہوار سے معاشرے میں بھائی چارے، ہمدردی اور محبت کا پیغام ملتا ہے”

初创网站与开源软件

0

前面有一篇文章中提到过开源软件,不过主要是在系统运维的角度去讲的,主要分析一些系统级的开源软件(例如bind,memcached),这里我们讨论的是用于搭建初创网站应用的开源软件(例如phpbb,phparticle),运行在Linux,MySQL,Apache,PHP,Java等下面。

创业期的网站往往采用比较简单的系统架构,或者是直接使用比较成熟的开源软件。使用开源软件的好处是搭建速度快,基本不需要开发,买个空间域名,下个软件一搭建,用个半天就搞定了,一个崭新的网站就开张了,在前期可以极大程度的节约时间成本和开发成本。

当然使用开源软件搭建应用也存在一些局限性,这是我们要重点研究的,而研究的目的就是如何在开源软件选型时以及接下来的维护过程中尽量避免。

一方面是开源软件一般只有在比较成熟的领域才有,如果是一些创新型的项目很难找到合适的开源软件,这个时候没什么好的解决办法,如果非要用开源的话一般会找一个最相似的改一下。实际上目前开源的项目也比较多了,在sf.net上可以找到各种各样的开源项目。选型的时候尽量应该选取一个程序架构比较简单的,不一定越简单越好,但一定要简单,一目了然,别用什么太高级的特性,互联网应用项目不需要太复杂的框架。原因有两个,一个是框架复杂无非是为了实现更好的可扩展性和更清晰的层次,而我们正在做的互联网应用范围一般会比开源软件设计时所考虑的范围小的多,所以有的应用会显得设计过度,另外追求完美的层次划分导致的太复杂的继承派生关系也会影响到整个系统维护的工作量。建议应用只需要包含三个层就可以了,数据(实体)层,业务逻辑层,表现层。太复杂的设计容易降低开发效率,提高维护成本,在出现性能问题或者突发事件的时候也不容易找到原因。

另外一个问题是开源软件的后期维护和继续开发可能会存在问题,这一点不是绝对的,取决于开源软件的架构是否清晰合理,扩展性好,如果是较小的改动可能一般不会存在什么问题,例如添加一项用户属性或者文章属性,但有些需求可能就不是很容易实现了。例如网站发展到一定阶段后可能会考虑扩展产品线,原来只提供一个论坛加上cms,现在要再加上商城,那用户系统就会有问题,如何解决这个问题已经不仅仅是改一下论坛或者cms就可以解决了,这个时候我们需要上升到更高的层次来考虑问题,是否需要建立针对整个网站的用户认证系统,实现单点登录,用户可以在产品间无缝切换而且保持登录状态。由于网站初始的用户数据可能大部分都存放在论坛里,这个时候我们需要把用户数据独立出来就会碰到麻烦,如何既能把用户数据独立出来又不影响论坛原有系统的继续运行会是件很头痛的事情。经过一段时间的运行,除非是特别好的设计以及比较好的维护,一般都会在论坛里存在各种各样乱七八糟的对用户信息的调用,而且是直接针对数据库的,这样如果要将用户数据移走的话要修改代码的工作量将不容忽视,而另外一个解决办法是复制一份用户数据出来,以新的用户数据库为主,论坛里的用户数据通过同步或异步的机制实现同步。最好的解决办法就是在选型时选一个数据层封装的比较好的,sql代码不要到处飞的软件,然后在维护的时候保持系统原有的优良风格,把所有涉及到数据库的操作都放到数据层或者实体层里,这样无论对数据进行什么扩展,代码修改起来都比较方便,基本不会对上层的代码产生影响。

网站访问速度问题对初创网站来说一般考虑的比较少,买个空间或者托管服务器,搭建好应用后基本上就开始运转了,只有到真正面临极大的速度访问瓶颈后才会真正对这个问题产生重视。实际上在从网站的开始阶段开始,速度问题就会一直存在,并且会随着网站的发展也不断演进。一个网站最基本的要求,就是有比较快的访问速度,没有速度,再好的内容或服务也出不来。所以,访问速度在网站初创的时候就需要考虑,无论是采用开源软件还是自己开发都需要注意,数据层尽量能够正确,高效的使用SQL。SQL包含的语法比较复杂,实现同样一个效果如果考虑到应用层的的不同实现方法,可能有好几种方法,但里面只有一种是最高效的,而通常情况下,高效的SQL一般是那个最简单的SQL。在初期这个问题可能不是特别明显,当访问量大起来以后,这个可能成为最主要的性能瓶颈,各种杂乱无章的SQL会让人看的疯掉。当然前期没注意的话后期也有解决办法,只不过可能不会解决的特别彻底,但还是要吧非常有效的提升性能。看MySQL的SlowQuery Log是一个最为简便的方法,把执行时间超过1秒的查询记录下来,然后分析,把该加的索引加上,该简单的SQL简化。另外也可以通过Showprocesslist查看当前数据库服务器的死锁进程,从而锁定导致问题的SQL语句。另外在数据库配置文件上可以做一些优化,也可以很好的提升性能,这些文章在网站也比较多,这里就不展开。

这些工作都做了以后,下面数据库如果再出现性能问题就需要考虑多台服务器了,一台服务器已经解决不了问题了,我以前的文章中也提到过,这里也不再展开。

其它解决速度问题的办法就不仅仅是在应用里面就可以实现的了,需要从更高的高度去设计系统,考虑到服务器,网络的架构,以及各种系统级应用软件的配合,这里也不再展开。

良好设计并实现的应用+中间件+良好的分布式设计的数据库+良好的系统配置+良好的服务器/网络结构,就可以支撑起一个较大规模的网站了,加上前面的几篇文章,一个小网站发展到大网站的过程基本上就齐了。这个过程会是一个充满艰辛和乐趣的过程,也是一个可以逐渐过渡的过程,主动出击,提前考虑,减少救火可以让这个过程轻松一些。

ICE-高效的中间件平台,牛刀小试

0

ICE(Internet Communications Engine)是ZeroC提供的一款高性能的中间件,基于ICE可以实现电信级的解决方案。前面我们提到过在设计网站架构的时候可以使用ICE实现对网站应用的基础对象操作,将基础对象操作和数据库操作封装在这一层,在业务逻辑层以及表现层(java,php,.net,python)进行更丰富的表现与操作,从而实现比较好的架构。基于ICE的数据层可以在未来方便的进行扩展。ICE支持分布式的部署管理,消息中间件,以及网格计算等等。

大道理讲完,言归正传,最近育儿网新增了不少新服务,服务间经常会需要相互调用数据,例如用户中心要取博客系统里的文章啊,论坛里发文后要在积分系统里增加用户积分啊。由于设计时这些服务仅仅基于统一的用户中心,服务间基本是独立的,所以要实现这些调用只能在每个服务上新增为其它服务提供服务的服务-_-!。这个时候有几个可选方案,我们开始选择了xml-rpc,基于http和xml的选程调用,用了一段时间,发现维护成本和访问性能都存在问题。

由于这些中间服务部署的时候是和各自所属的服务部署在一起的,对这些服务做整体的改动就非常困难,要维护起来就比较麻烦。另外由于是什么http和xml作为通信协议,由php实现业务逻辑,性能问题也很明显,而且这些http请求都会在http日志留下足迹,导致我们的日志分析很不精确。这个问题不是太大,但很郁闷,所以我们考虑使用ICE来解决这个问题,至于SOAP什么的就不考虑了,同样效率低下。

实现的过程还是比较顺利,花了三天的时间用c++实现了大部分常用的接口,服务端采用deamon的方式运行,错误日志记在syslog里(/var/log/messages),客户端PHP,编译进去了IcePHP,调用的方法很简单。现在还存在一些问题,运行的时候会异常退出,还需要一段时间来解决,暂时加了只狗看着,一旦进程里没了就重新启动。

既然要跨平台通讯,就涉及对象描述,ICE使用Slice来对结构,类,方法等进行定义。完了以后服务器端,客户端都按这个来调用和实现。ICE内置的Linux 下后台Deamon实现方案非常简单,只需要从Ice::Service里派生出一个类来,实现run方法,在这个方法里创建adapter对象,并在adapter对象里添加Servants,然后激活这个adapter就可以了,网络层的通信都由ICE接管了。由于是基于tcp/ip的直接通信,比更高层的http通信效率要高很多。

在客户端实现时,我们也碰到了一些小麻烦。一个是内置的$ICE对象用的时候有时需要用global声明,否则可能会出错,另外由于默认情况下Slice中struct对应到php的类型是一个类的实例,而不是一个数组,所以在赋值给页面的时候,smarttemplate以及其它模板系统中可能都会存在问题,可以通过修改模板系统的数据赋值显示代码解决。

我们做了一些性能的测试,同样运行1千次请求,使用xml-rpc实现需要28秒左右,使用ICE实现,只需要3秒多,性能的差距还是很大的,同时在这个过程中没发现有内存泄露的情况,效果还比较理想。

最后感慨一下,ICE是适合人类使用的中间件!

mixi.jp:使用开源软件搭建的可扩展SNS网站

0

于敦德 2006-6-27

Mixi目前是日本排名第三的网站,全球排名42,主要提供SNS服务:日记,群组,站内消息,评论,相册等等,是日本最大的SNS网站。Mixi从2003年12月份开始开发,由现在它的CTO – Batara Kesuma一个人焊,焊了四个月,在2004年2月份开始上线运行。两个月后就注册了1w用户,日访问量60wPV。在随后的一年里,用户增长到了21w,第二年,增长到了200w。到今年四月份已经增长到370w注册用户,并且还在以每天1.5w人的注册量增长。这些用户中70%是活跃用户(活跃用户:三天内至少登录一次的用户),平均每个用户每周在线时间为将近3个半小时。

下面我们来看它的技术架构。Mixi采用开源软件作为架构的基础:Linux 2.6,Apache 2.0,MySQL,Perl 5.8,memcached,Squid等等。到目前为止已经有100多台MySQL数据库服务器,并且在以每月10多台的速度增长。Mixi的数据库连接方式采用的是每次查询都进行连接,而不是持久连接。数据库大多数是以InnoDB方式运行。Mixi解决扩展问题主要依赖于对数据库的切分。

首先进行垂直切分,按照表的内容将不同的表划分到不同的数据库中。然后是水平切分,根据用户的ID将不同用户的内容再划分的不同的数据库中,这是比较通常的做法,也很管用。划分的关键还是在于应用中的实现,需要将操作封装在在数据层,而尽量不影响业务层。当然完全不改变逻辑层也不可能,这时候最能检验以前的设计是否到位,如果以前设计的不错,那创建连接的时候传个表名,用户ID进去差不多就解决问题了,而以前如果sql代码到处飞,或者数据层封装的不太好的话那就累了。

这样做了以后并不能从根本上解决问题,尤其是对于像mixi这种SNS网站,页面上往往需要引用大量的用户信息,好友信息,图片,文章信息,跨表,跨库操作相当多。这个时候就需要发挥memcached的作用了,用大内存把这些不变的数据全都缓存起来,而当修改时就通知cache过期,这样应用层基本上就可以解决大部分问题了,只会有很小一部分请求穿透应用层,用到数据库。Mixi的经验是平均每个页面的加载时间在0.02秒左右(当然根据页面大小情况不尽相似),可以说明这种做法是行之有效的。Mixi一共在32台机器上有缓存服务器,每个Cache Server 2G内存,这些Cache Server与App Server装在一起。因为Cache Server对CPU消耗不大,而有了Cache Server的支援,App Server对内存要求也不是太高,所以可以和平共处,更有效的利用资源。

图片的处理就显得相对简单的多了。对于mixi而言,图像主要有两部分:一部分是经常要使用到的,像用户头像,群组的头像等等,大概有100多GB,它们被Squid和CDN所缓存,命中率相对比较高;另一部分是用户上传的大量照片,它们的个体访问量相对而言比较小,命中率也比较低,使用Cache不划算,所以对于这些照片的策略是直接在用户上传的时候分发到到图片存储服务器上,在用户访问的时候直接进行访问,当然图片的位置需要在数据库中进行记录,不然找不到放在哪台服务器上就郁闷了。

文章参考:Batara Kesuma在MySQL Users Con 2006上的发言