اتوار, مئی 10, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 435

کشمیریوں کو پاکستانی قرار دینا بی جے پی کا پرانا ہتھکنڈہ: فاروق عبداللہ

0
کشمیریوں کو پاکستانی قرار دینا بی جے پی کا پرانا ہتھکنڈہ: فاروق عبداللہ
کشمیریوں کو پاکستانی قرار دینا بی جے پی کا پرانا ہتھکنڈہ: فاروق عبداللہ

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بی جے پی کا یہ پرانا ہتھکنڈہ ہے کہ وہ جموں کے لوگوں کو ڈرانے اور اپنے ساتھ جوڑنے کے لئے کہتی رہتی ہے کہ کشمیر کے لوگ پاکستانی ہیں اورہم ہی صرف ہندوستانی ہیں

جموں: نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو پاکستانی قرار دینا بھارتیہ جنتا پارٹی کا پرانا ہتھکنڈہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی وہ جماعت ہے کہ جس نے ملک کو کافی پیچھے دھکیل دیا ہے جس کے لئے انہیں ملک کے سامنے جواب دینا ہوگا۔

ڈاکٹر عبداللہ نے یہاں میڈیا کو بتایا کہ ‘بی جے پی کا یہ پرانا ہتھکنڈہ ہے کہ وہ جموں کے لوگوں کو ڈرانے اور اپنے ساتھ جوڑنے کے لئے کہتی رہتی ہے کہ کشمیر کے لوگ پاکستانی ہیں اورہم ہی صرف ہندوستانی ہیں۔’

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کو سوچنا چاہئے کہ انہوں نے جموں کے ساتھ کیا کیا، آج ہماری زمین اور نوکریوں کو باہر کے لوگوں کو دیا جا رہا ہے اس صورتحال میں ہمارے بچے بچیاں کہاں جائیں گی۔

انہوں نے کہا، ‘فاروق عبداللہ کو یہ لوگ کچھ بھی کہیں اس کا جواب فاروق عبداللہ دے سکتا ہے لیکن انہیں ایک دن جموں کے لوگوں کو جواب دینا پڑے گا’۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد جو جموں کے لوگوں کے ساتھ وعدے کئے گئے انہیں بھی پورے نہیں کئے گئے۔

مین اسٹریم سیاسی لیڈروں کو بند کرنا

انہوں نے کہا کہ مین اسٹریم سیاسی لیڈروں کو بند کرنا ان کی کمزوری ہے اور ان لوگوں نے جتنا ہم کو بند کیا اتنا ان کے خلاف طوفان اٹھ گیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر ملک کو سب سے زیادہ کسی جماعت نے دھکا دیا ہے تو وہ یہی حکمران جماعت ہے لیکن ان کو ایک دن ملک کے سامنے جواب دینا ہوگا۔

گپکار اعلامیہ کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ‘جو بھی، نہ صرف جموں و کشمیر میں بلکہ پورے ملک میں، بی جے پی کے خلاف بات کرتا ہے اس پر ملک دشمن اور پاکستانی ہونے کا لیبل لگایا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ خود نیشنلسٹ ہیں۔’

مغربی بنگال میں سات ماہ بعد لوکل ٹرین خدمات دوبارہ شروع

0

مسافروں کے لئے ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ داخلے اور خارجی راستوں کے نشانات ہوں گے۔ واش روم کی صفائی کے ساتھ بڑی تعداد میں صابن اور سینیٹائزر بھی مہیا کیے جائیں گے۔ ٹرین کے اندر صفائی کے ساتھ ساتھ پلیٹ فارم پر بھی صفائی ہوگی۔

کلکتہ: مغربی بنگال میں سات مہینے کے بعد آج سے لوکل ٹرین کی خدمات آج سے شروع ہوگئی ہیں۔ تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے سخت انتظامات اور نگرانی کی جارہی ہے اور مسافر بھی قوانین پر عمل کررہے ہیں۔

مشرقی اور جنوب مشرقی ریلوے کے تحت چلنے والی لوکل ٹرین خدمات آج سے شروع ہوگئی ہے۔ تاہم پہلے دن ای ایم یو ٹرینوں میں آج اتنی بھیڑ نظر نہیں آرہی ہیں جو کورونا عہد سے قبل تھی۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق آہستہ آہستہ مسافروں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ مہنگے ٹرانسپورٹ کے بجائے مسافر لوکل ٹرین میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ریلوے انتظامیہ نے مسافروں سے کووڈ – 19 کے قواعد پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسٹیشن کے احاطے اور ٹرینوں میں ماسک پہننا لازمی ہے۔ ریلوے افسر نے بتایا کہ مشرقی ریلوے کے سیالدہ سیکشن میں 413 مضافاتی ٹرینیں اور ہوڑہ سیکشن میں 202 ٹرینیں بدھ سے چلنا شروع ہوگئی ہیں۔ جب کہ جنوب مشرقی ریلوے 81 باقاعدہ ٹرینیں چلائی جارہی ہیں۔

حکومت اور ریلوے انتظامیہ کے درمیان طویل میٹنگوں کے بعد ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار جاری

کورونا انفیکشن کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے نتیجے میں لوکل ٹرین کی خدمات بند کردی گئی تھیں۔عوام کے شدید مطالبے کے بعد اب لوکل ٹرین کی خدمات شروع کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت اور ریلوے انتظامیہ کے درمیان طویل میٹنگوں کے بعد ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ہر مسافر کو ماسک لگانے کے ساتھ 50 فیصد سیٹوں پر بھی بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔

حکومت نے اور ریلوے انتظامیہ کے مابین ذمہ داری شیئر کی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ نے ایس او پی جاری کیا۔ ریلوے ضرورت کے مطابق ٹرینوں کی مناسب تعداد کو یقینی بنائے گی۔

حکومت کے مطابق مسافروں کے لئے ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ داخلے اور خارجی راستوں کے نشانات ہوں گے۔ ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے جی آر پی کی مدد کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی ای ٹکٹنگ اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ ساتھ واش روم کی صفائی کے ساتھ بڑی تعداد میں صابن اور سینیٹائزر بھی مہیا کیے جائیں گے۔ ٹرین کے اندر صفائی کے ساتھ ساتھ پلیٹ فارم پر بھی صفائی ہوگی۔ تھرمل چیکنگ کے ساتھ دیگر حفاظتی معیارات بھی طے کیے جائیں گے، تاکہ متاثرہ شخص اسٹیشن کے اندر داخل نہ ہوسکے۔ اسٹیشنوں تک آمد و رفت کی مناسب موجودگی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

کولمبیا: کوئلے کی کان میں دھماکہ، دو ہلاک، دو زخمی

0

دھماکہ گیس کے اخراج سے ہوا ہے۔ حادثے میں 2 مزدور ہلاک اور 2 شدید طور پر جھلس گئے ہیں۔ راحت اور بچاؤ کا کام شروع ہوگیا ہے۔

بوگوٹا: کولمبیا میں ٹوپاگا کے گاؤں پناس ڈی اگوئیلا میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

یہ حادثہ گیس کے اخراج سے ہوا ہے۔ ٹوپاگا کے میئر الوارو برّیرا نے بتایا کہ دھماکے میں دو مزدور شدید طور پر جھلس گئے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد راحت اور بچاؤ کا کام شروع ہوگیا ہے۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی قومی مائننگ ایجنسی کے ارکان، بائیکا پولیس اور سول سیکیورٹی کا عملہ موقع پر پہنچ گیا۔

انہوں نے کہا کہ کاربن ڈائی آکسائڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے معائنہ کرتے وقت سانس لینے کے آلات کا استعمال کیا جارہا ہے۔ ہلاک شدگان کی شناخت ہوگئی ہے جن میں ایک کا تعلق کولمبیا اور دوسرا وینزویلا سے ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات: پارٹیوں کی پوزیشن، جیت اور سبقت کی تعداد

0

پٹنہ: ریاست کے 55 مراکز پر صبح 11 بجے تک بہار قانون ساز اسمبلی کی 243 نشستوں کے لئے ووٹوں کی گنتی میں رجحان / سبقت مندرجہ ذیل ہے: 

کل نشستیں ………………………………… 243
نتائج کا اعلان …………….……………… 000
پارٹی……………………… جیت ………… سبقت
بھارتیہ جنتا پارٹی ……….. 00 ………….. 62
جنتادل متحدہ ……………. 00 ………….. 49
راشٹریہ جنتا دل …………. 00 ………….. 60
کانگریس ……………………00 ………….. 20
لوک جن شکتی پارٹی……. 00 …………… 05
راشٹریہ لوک سمتا پارٹی… 00 …………… 00
ہندوستانی عوام مورچہ … 00 …………… 01
وکاس شیل انسان پارٹی… 00 …………… 06
جن ادھیکار پارٹی ………. 00 …………… 00
بہوجن سماج پارٹی …….. 00 …………… 01
(سی پی آئی – ایم ایل) … 00 …………… 13
ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) 00 00
مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) 00 03
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) 00 00
آزاد ………………………. 00 ……………. 04
دیگر …………………….. 00 …………….. 01
مجموعی………………. 243 …………… 226

بہار اسمبلی انتخابات: پارٹی پوزیشن

0

بہار میں 243 اسمبلی نشستوں کے تین مرحلے کے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوچکا ہے۔

پٹنہ: کل نشستیں …………………………… 243
اعلان کردہ نتائج …………………
پارٹی………………… جیت …………… سبقت
بھارتیہ جنتا پارٹی ………… 00 ……….. 05
جنتا دل یونائٹیڈ …………… 00 ………. 02
راشٹریہ جنتا دل …………… 00 ………. 01
کانگریس ……………………..00 ………. 01
لوک جن شکتی پارٹی ……… 00 ………. 00
راشٹریہ لوک سمتا پارٹی ….. 00 ………. 00
ہندوستانی عوام مورچہ …… 00 ………. 00
وکاس شیل انسان پارٹی ….. 00 ………. 01
جن ادھیکار پارٹی …………. 00 ……….. 00
بہوجن سماج پارٹی ……….. 00 ……….. 01
آزاد ………………………….. 00 ……….. 00
دیگر ………………………… 00 ……….. 00
مجموعی ………………….. 243 ………. 11

بہار اسمبلی الیکشن: سخت سیکیورٹی کے درمیان ووٹوں کی گنتی کا آغاز

0

بہار میں اسمبلی الیکشن کے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی مدھیہ پردیش سمیت 11 ریاستوں کی 58 نشستوں پر اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی بھی کی جائے گی۔

پٹنہ: بہار میں 243 اسمبلی نشستوں کے تین مرحلے کے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا آغاز آج صبح آٹھ بجے کورونا وائرس روک تھام پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان شروع ہوگئے۔

الیکشن کمیشن نے سماجی دوری کے رہنما خطوط پر عمل پیرا ہونے کے لئے بہار کے 38 اضلاع میں گنتی مراکز کی تعداد بڑھا کر 55 کردی ہے۔

ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی مدھیہ پردیش سمیت 11 ریاستوں کی 58 نشستوں پر اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی بھی کی جائے گی۔

کاؤنٹنگ سینٹرز میں کورونا وائرس روک تھام پروٹوکول پر عمل

کاؤنٹنگ سینٹر میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے سوشل ڈسٹنسنگ کی سختی سے پیروی کی جاتی ہے۔  الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق ایک ہال میں سات ٹیبل پر ہی ووٹوں کی گنتی کا انتظام کیا گیا ہے۔ دوسرے قریبی ہال میں سات دیگر ٹیبل پر ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

اس سے قبل ووٹوں کی گنتی کے لئے ایک ہال میں 14 میزیں لگائی جاتی تھیں، لیکن اس بار کورونا کی وجہ سے دو ہال میں سات سات میزیں لگائی گئی ہیں۔ مرکزی ہال میں انتخابی افسران اور دوسرے ہال میں معاون انتخابی افسران تعینات کئے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ ہر سینٹر پر مائیکرو آبزرور بھی تعینات ہیں۔

مشرقی چمپارن ، گیا اور بیگوسرائے میں گنتی کے تین مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ مدھوبانی، پورنیہ، سہرسہ، دربھنگہ، گوپال گنج، بھاگل پور، نالندہ، نوادہ اور بانکا میں دو دو سینٹرز بنائے گئے ہیں۔

بہار پہلی ریاست ہے جہاں ہندستان میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد مکمل انتخابات ہوئے۔

ریاست کے تمام 38 اضلاع میں 55 گنتی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں 3،755 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے 28 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو تین مراحل میں ووٹ ڈالے گئے تھے۔

ایگزٹ پول میں سبقت بھلے ہی مہا گٹھ بندھن کو ہو لیکن ایگزیکٹ پول کے نتائج این ڈی اے کے حق میں ہوں گے: شاہنواز

0

ایگزٹ پول کے نتائج مہا گٹھ بندھن کے لوگوں کیلئے دو دن کی خوشی لیکر آئی ہے لیکن کل اکثریت سے این ڈی اے کی حکومت بہار میں پھر سے بنے گی شاہنواز حسین نے کہا۔

پٹنہ: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آج دعویٰ کیا کہ انتخاب کے بعد سروے ( ایگزٹ پول) میں مہا گٹھ بندھن کو آگے بتایا جارہا ہے لیکن کل ووٹوں کی گنتی کے بعد جب انتخابی نتائج آئیں گے تو وہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے حق میں ہوں گے۔

بی جے پی کے قومی ترجمان سید شاہنواز حسین نے آج کہا کہ بہا رمیں ختم ہوئے تینوں مراحل کے انتخاب میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعلیٰ نتیش کمار کے تئیں لوگوں میں کافی جوش وخرش دیکھنے کو ملا۔ کثیر تعداد میں رائے دہندوں نے این ڈی اے کے حق میں ووٹ کیا ہے۔ حالانکہ آخری مرحلہ کی ووٹنگ کے بعد 07 نومبر کی شام جو ایگزٹ پول دکھائے گئے تھے اس میں سبقت بھلے ہی مہا گٹھ بندھن کو ہو لیکن دس نومبر کو ایگزیکٹ پول (حقیقی رائے شمای) کے نتائج این ڈی اے کے حق میں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کل ہی دو پہر 12 بجے تک یہ طے ہو جائے گا کہ بہار میں اکثریت سے این ڈی اے کی حکومت بننے جارہی ہے اور مسٹر نتیش کمار پھر سے بہار کے وزیراعلیٰ عہدہ کی کمان سنبھالیں گے۔

2015 میں ایگزٹ پول غلط ثابت ہوا تھا

مسٹر حسین نے کہا کہ سبھی کو یاد ہوگا کہ سال 2015 میں ایگزٹ پول میں این ڈی اے کی حکومت بننے کے اشارے کئے گئے تھے لیکن اس وقت یہ غلط ثابت ہوا تھا۔ اس وقت این ڈی اے میں جنتادل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) شامل نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح اب تک کئی ایگزٹ پول غلط ثابت ہوچکے ہیں۔ اس کے پیچھے کی وجہ ایگزٹ پول کا سیمپل سائز ہوتا ہے جو کہ ریاست کی آبادی کے حساب سے کافی چھوٹا ہوتا ہے اس لئے حقیقی صورتحال کا ادراک نہیں ہو پاتا ہے۔

بی جے پی کے قومی ترجمان نے کہا کہ ان کی پارٹی بوتھ سطح کے کارکنان سے ملے فیڈ بیک کی بنیاد پر اندازہ کرتی ہے۔ اس لحاظ سے بی جے پی کا سیمپل سائز ایگزٹ پول کے سیمپل سائز سے کئی گنا بڑا ہوتا ہے۔

اسی اندازہ کی بنیاد پر وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایگزٹ پول کے نتائج مہا گٹھ بندھن کے لوگوں کیلئے دو دن کی خوشی لیکر آئی ہے۔ کل جب ایگزیکٹ پول کی گنتی شروع ہوگی تو اکثریت سے این ڈی اے کی حکومت بہار میں پھر سے بنے گی اور بہار کے مفاد میں پھر سے آئندہ پانچ سال کیلئے مسٹر نتیش کمار سوشاسن اور ترقی کا راج قائم کریں گے۔

علامہ اقبال کا تعلق دنیا کے کسی بھی خطے سے ہوتا تب بھی اقبال ہی ہوتے: ستیش ومل

0

مسٹر ومل نے کہا: ‘علامہ اقبال ترکمانستان کے ہوتے تب بھی وہی ہوتے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کشمیر کے تھے یا نہیں، شاعر کبھی کسی مخصوص خطے کا نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کا تعلق عالم انسانیت سے ہوتا ہے’۔

سری نگر: معروف براڈکاسٹر اور مصنف ستیش ومل کا کہنا ہے کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کشمیر کی بجائے دنیا کے کسی بھی خطے کے ہوتے تب بھی اقبال ہی ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ نے اپنے دور کی روایت سے ہٹ کر شاعری کر کے ایک نیا مزاج پیدا کیا جو آج بھی جاری ہے۔

موصوف نے ان باتوں کا اظہار یو این آئی اردو کے ساتھ علامہ اقبال کی یوم پیدائش کے حوالے سے ایک مختصر ٹیلی فونک بات چیت کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا: ‘علامہ اقبال ترکمانستان کے ہوتے تب بھی وہی ہوتے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کشمیر کے تھے یا نہیں، شاعر کبھی کسی مخصوص خطے کا نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کا تعلق عالم انسانیت سے ہوتا ہے’۔

مورخین کے مطابق علامہ اقبال کے آبا و اجداد جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں رہتے تھے جنہوں نے یہاں کے ابتر حالات سے مجبور ہو کر اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں کشمیر سے ہجرت کی اور سیالکوٹ میں آباد ہو گئے۔

علامہ اقبال نے اپنے دور کی روایتی شاعری سے ہٹ کر لکھا

مسٹر ومل نے کہا کہ علامہ اقبال نے اپنے دور کی روایتی شاعری سے ہٹ کر لکھا۔ ان کا کہنا تھا: ‘ہر ایک فنکار کی ایک منفرد پہچان ہوتی ہے۔ علامہ نے اپنے دور کی روایتی شاعری سے ہٹ کر لکھا اور اپنے لئے ایک الگ مزاج پیدا کیا جو آج بھی جاری ہے اور جس کو کئی لوگوں نے نقل کر کے آگے بڑھانے کی کوشش کی’۔

ستیش ومل نے کہا علامہ چھوٹے چھوٹے خیالات کو بڑے انداز میں پیش کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شاعر کا کلام آفاقی ہوتا ہے اور ان کو مخصوص فریم میں بند کرنا ان کا درجہ گھٹانے کے مترادف ہے۔

موصوف نے کہا کہ علامہ کے کلام و حیات کے ہزار پہلو ہیں اور ہر کوئی ان کو اپنے حساب سے دیکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معروف شعرا حضرات شیخ العالم، احد زرگر، رسول میر وغیرہ کا کلام بھی آفاقی نوعیت کا ہے لہٰذا وہ بھی آفاقی شعرا ہیں۔

مسٹر ومل کا کہنا ہے کہ شاعر یا مفکر کے ساتھ اختلاف کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ادب، فن اور علم کی بھی بازار کی مصنوعات کی طرح توضیح کی جاتی ہے جو ایک غلط روش ہے۔

حج 2021 کے لیے بڑی تبدیلیوں کا اعلان، عازمین حج پر انکم ریٹرن کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

0
حج 2021 کے لیے بڑی تبدیلیوں کا اعلان، انکم ریٹرن کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ
حج 2021 کے لیے بڑی تبدیلیوں کا اعلان، انکم ریٹرن کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

حج 2021 کے لیے”حفاظت کے ساتھ عبادت” کے عزم کا اعلان کیا گیا ہے۔  روانگی صرف 10 مراکز سے ہوگی اور اس بار عازمین حج کی تعداد میں کمی واقع ہونے امکان ہے۔ انکم ٹیکس ریٹرن پرتبادلہ خیال جاری

ممبئی: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور اور حج مختار عباس نقوی نے حال ہی میں حج 2021 کا اعلان "حفاظت کے ساتھ عبادت” کے نعرے کے ساتھ کیا ہے۔ انہوں نے اس بار سعودی عرب حکومت کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کے ساتھ حج کا فریضہ ادا کرنے کی بات کی ہے، جس کا مقصد اپنی اور پوری دنیا کی صحت وسلامتی کا بھی خیال رکھنا ہے

روانگی اور واپسی کے مراکز میں احتیاطی طور پر کمی کردی گئی ہے۔ اب صرف دس ہوائی اڈوں کا استعمال کیا جائے گا۔ ماضی میں روانگی کے لیے 21 مقامات شامل تھے۔ انکم ٹیکس ریٹرن فائنل کرنے کے معاملہ میں وزارت مالیات اور دیگر وزارت اور شعبوں سے گفت وشنید جاری ہے۔ اور مثبت حل نکلنے کاامکان بتایا جارہا ہے۔

ممبئی میں حج کمیٹی آف انڈیا کے صدر دفتر میں حج 2021 کے درخواست فارم اور کمیٹی کی ہدایات کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ سنیچر کے روز مختار عباس نقوی نے کہا تھا کہ اس بار عازمین حج کی تعداد میں کمی واقع ہونے امکان ہے۔

ہرایک عازم حج کو سعودی عرب آمد کے بعد کئی گھنٹے کورائنٹائن میں رکھا جائے گا۔ رہائش گاہ میں مکینوں کی تعداد بھی کم کی گئی ہے۔ بلامحرم جانے والی خواتین کے لیے بھی شرائط شامل ہوں گی۔ عازمین کی عمر کے بارے میں بھی سعودی حکومت کی ہدایات پر عمل ہوگا۔

آن لائن درخواستیں دینے کا عمل شروع

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کے ذتعہ کوروناکے چیلنجوں کے پیش نظر بڑی تبدیلیوں اورحج 2021ء کے اعلان کے ساتھ ہی آن لائن درخواستیں دینے کا عمل شروع ہوگیا ہے جوکہ 10 دسمبر تک جاری رہے گا۔ اس موقع پر جناب نقوی نے کہا کہ وبائی امراض کے حالات کے پیش نظر قومی و بین الاقوامی پروٹوکول کے رہنما خطوط پر مستعدی سے عمل کیا جائے گا۔

حج 2021 کے لئے درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 10 دسمبر ہوگی۔ حج کے لئے درخواستیں آن لائن، موبائل ایپ اور آن لائن کے ذریعہ دی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حج 2021 کی ادائیگی کا عمل جون جولائی کے مہینے میں شروع ہوگا۔

حج کا پورعمل اہلیت و عمر کے معیار، محنت کے حالات اور دیگر ضروری ہدایات کے تحت حکومت سعودی عرب اور حکومت ہند کی طرف سے کورونا وبا کے بعد کیے گئے فیصلوں کے مطابق ہوگا۔

صحت عامه، حفاظت اور حکومت سعودی عرب، وزارت اقلیتتی امور، وزارت صحت، وزارت خارجہ، وزارت شہری ہوابازی، حج کمیٹی آف انڈیا، سعودی عرب میں ہندوستانی سفارت خانہ، قونصل جنرل ہند، جدہ وغیرہ نے بڑے غور خوض کے بعد حج 2021 کے ہوتے عمل کو حتمی شکل دی ہے۔

عازمین حج پر سے ریٹرن فائل کرنے کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

عازمین حج پر سے ریٹرن فائل کرنے سے متعلق عازمین کے درمیان کافی بے چینی محسوس کی جارہی ہے۔ ملک کے کئی سرکردہ دینی و سماجی تنظیموں نے اس پابندی پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

راجستھان میں اجمیر کے سلطان الہند ویلفیئر ادارہ کے صدر اور خواجہ غریب نوا ز کی درگاہ کے گدی نشین ایس ایف حسن چشتی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر عازمین حج پرسے ریٹرن فائل کرنے کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

چشتی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مطلع کیا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے حج پر جانے والوں کے لئے ریٹرن فائل کرنے کی پابندی کئی عازمین حج کو حج سے محروم کردے گی۔ اس لئے مرکزی حکومت کی طرف سے ریٹرن فائل کیے بغیر حج پر جانے کی پہلے کی طرح اجازت دی جائے۔

انہوں نے اس مطالبہ کی وجہ بھی بتائی کہ حج پر جانے والے بیشتر عازمین حج غیرتعلیم یافتہ اور غریب ہوتے ہیں اور اپنی سخت محنت کی کمائی سے حج پر جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ ریٹرن فائل کروا سکیں گے۔ انہوں نے جناب مودی سے عازمین حج کے لئے ریٹرن فائل کرنے کی پابندی مکمل طورپر ختم کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی درخواست کی۔

دیگر لوازمات حج

اقلیتی امور اور حج کے وزیر مختار عباس نقوی نے مطلع کیا ہے کہ بغیر محرم جانے والی خواتین کو سعودی عرب حکومت کے ذریعہ مقررہ شرط کے بعد ہی جانے دیا جائے گا۔ البتہ سن رجسٹریشن فیس تین سو روپئے نہیں لی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ سال کی درخواستوں کو قبول نہیں کیا جائے گا، بلکہ نئی درخواستیں قبول کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ حج پر جانے والے ہر ایک عازم کو کورونا ٹیکہ لگانا ہوگا اور 72 گھنٹے پہلے کورونا ٹیسٹ بھی لازمی ہوگا۔

انہوں نے اطلاع دی کہ اب 21 کے بجائے روانگی صرف 10 مقامات سے ہوگی۔ ممبئی، دہلی، احمدآباد، بنگلورو، کوچی، گوہاٹی، لکھنو، حیدرآباد، کولکاتا، سری نگر شامل ہیں۔ ممبئی سے ایم پی، گوا، دمن دیو، دہلی سے ہریانہ، پنجاب، ہماچل، اتراکھنڈ اور مغربی یوپی، راجستھان کے عازمین سفر کریں گے جبکہ احمد آباد سے گجرات، کوچی سے کیرالا، تمل ناڈو، پڈوچری، بنگلورو سے کرناٹک، حیدراباد سے آندھراپردیش اور تلنگانہ کے عازمین سفر کریں گے۔

[ہمس لائیو]

ترنمول کے ورکروں کو قبرستان یا اسپتال پہنچانے کا انتظام کیا جائے گا: دلیپ گھوش

0

 بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے ایک بار پھر ترنمول کانگریس کے ورکروں کو مبینہ طور پر اسپتال یا قبرستان پہنچانے کی بات کہہ کر ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

کلکتہ: متنازع بیانات کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہنے والے بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے ایک بار پھر ترنمول کانگریس کے ورکروں کو مبینہ طور پر قبرستان پہنچانے کی بات کہہ کر ایک بڑا تنازع کھڑا کردیا ہے۔

مسٹر گھوش نے اس دعوے کیساتھ کہ ان کی پارٹی اگر اقتدار میں آتی ہے تو ریاست میں ’’جمہوریت بحال‘‘ کرے گی مبینہ طور پر کہا کہ ترنمول کانگریس کے کارکنان نے اپنا رویہ درست نہیں کیا تو انہیں اسپتال یا قبرستان پہنچانے کا انتظام کیا جائے گا۔

دلیپ گھوش مشرقی مدنی پور ضلع کے ہلدیہ میں ایک ریلی سے خطاب کر تے ہوئے کہا میں یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ مرکزی حکومت آپ سب کے ساتھ ہے۔ مرکز ریاست میں آزادانہ اور منصفانہ اسمبلی انتخابات کو یقینی بنائے گی۔ عوام بلا خوف و خطر اپنے جمہوری حق کا استعمال کر یں گے۔

ترنمول کانگریس کے ورکروں کو مبینہ طور پر دھمکی

انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی حکومت کے دن گنتی کے چند رہ گئے ہیں۔ اسمبلی انتخابات ریاستی پولیس کی موجودگی میں نہیں بلکہ مرکزی فورسوں کی موجودگی میں ہوں گی۔ انہوں نے ترنمول کانگریس کے لیڈروں کو اپنے طریقے بہتر کرنے اور عام لوگوں پر ظلم و تشدد کرنے سے گریز کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا کہ اگلے چھ مہینوں میں خود کو بہتر بنالیں ورنہ ان کے ہاتھ، پیر اور پسلیاں ٹوٹ جائیں گی اور انہیں اسپتال جانا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ پھر بھی اپنی شرارتوں کو جاری رکھتے ہیں تو انہیں قبرستان جانا پڑے گا۔

مسٹر گھوش کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے ترنمول کانگریس نے کہا ہے کہ گھوش ریاست کی سیاسی فضا کو خراب کر رہے ہیں۔ اس قسم کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی دہشت گردی کے ذریعہ ریاست کے سیاسی ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریاست کے عوام انہیں مناسب جواب دیں گے۔