جمعہ, مارچ 20, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 435

فوجی کمانڈر مذاکرات: فوجی دستوں کو پیچھے ہٹانے پر اتفاق نہیں ہوسکا

0

 

دونوں افواج منفی حالات میں اس علاقے میں ڈٹے رہنے کو تیار ہیں اور وہ اس کے لیے تمام تیاریاں کررہی ہیں۔ دونوں نے متنازعہ علاقوں میں بہت بڑی تعداد میں فوجیوں اور ہتھیاروں کو جمع کر رکھا ہے۔

نئی دہلی: مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر گزشتہ چھ ماہ سے بھی زیادہ وقت سے چلے آرہے تعطل کوختم کرنے کے لئے ہند اورچین کے فوجی کمانڈروں کے درمیان آٹھویں دور کی بات چیت میں بھی فوجیوں کو پیچھے ہٹانے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

فوجی کمانڈروں کے درمیان آٹھویں دور کی بات چیت ہندوستانی سرحدی علاقے چشول میں گزشتہ جمعہ کو ہوئی تھی۔ لیکن تقریباً دس گھنٹوں تک چلے اس مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا اور یہ طے پایا کہ فریقین کے درمیان جلد ہی دوبارہ بات چیت ہوگی۔

فوجی کمانڈروں کی بات چیت ختم ہونے کے تقریباً 48 گھنٹے بعد وزارت دفاع نے اس بارے میں مختصر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان لائن آف ایکچول کنٹرول پر تناؤ اور تعطل ختم کرنے کے لیے واضح نظریہ اور تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ دونوں کے درمیان فوجیوں کی واپسی کے سلسلے میں مثبت خیالات کا تبادلہ ہوا۔

اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ دونوں فریق دونوں ممالک کے رہنماؤں کے مابین ہوئے اہم معاہدے کو سنجیدگی کے ساتھ عمل میں لائیں گے۔ وہ یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ محاذوں پر تعینات فوجی تحمل برتیں گے نیز غلط فہمی اور ناسمجھی سے اجتناب کریں گے۔

فریقین کے درمیان چند امور پر اتفاق

دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کا اظہار کیا کہ وہ فوجی اور سفارتی ذرائع سے بات چیت اور رابطے کو برقرار رکھیں گے اور اب تک ہوئی بات چیت کی بنیاد پر زیر التوا امور کو حل کریں گے، جس سے سرحدی علاقوں میں امن اور دوستی کی فضا قائم رہ سکے۔ دونوں فریقوں کے مابین اگلے دور کے مذاکرات جلد ہی ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ہندوستان نے یہ واضح کردیا کہ وہ فوجیوں کو پیچھے ہٹانے کی چین کی یکطرفہ تجویز سے متفق نہیں ہے۔

بات چیت میں کوئی ٹھوس اتفاق رائے قائم نہ ہونے سے یہ واضح ہوگیا کہ دونوں افواج منفی حالات میں اس علاقے میں ڈٹے رہنے کو تیار ہیں اور وہ اس کے لیے تمام تیاریاں کررہی ہیں۔ اس سے یہ تقریباً ثابت ہوگیا کہ موسم سرما کے باوجود یہ تعطل طویل ہوگا کیونکہ دونوں ہی فریق اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ دونوں نے متنازعہ علاقوں میں بہت بڑی تعداد میں فوجیوں اور ہتھیاروں کو جمع کر رکھا ہے۔

اب سبھی کی نگاہیں وزیراعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ پر مرکوز ہیں۔ دونوں لیڈران رواں ماہ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر ورچوول میٹنگوں میں شامل ہونے جارہے ہیں اور اس دوران ان کے درمیان کسی طرح کی بات چیت کا امکان پیدا ہوتا ہے تو اس معاملے پر بھی گفتگو ہوسکتی ہے۔

ہندوستان نے اعلیٰ سطح پر چین کو واضح کردیا ہے کہ وہ ملک کی خودمختاری کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا چاہے اس کے لئے اسے کوئی بھی قربانی دینی پڑے۔

سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے بائیڈن اور ہیرس کو دلی مبارکباد پیش کی

0
سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے بائیڈن اور ہیرس کو دلی مبارکباد پیش کی
سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے بائیڈن اور ہیرس کو دلی مبارکباد پیش کی

جو بائیڈن کو امریکہ کے 46 ویں صدر منتخب ہونے اور محترمہ ہیرس کو امریکہ کی پہلی خاتون نائب صدر منتخب ہونے پر محترمہ سونیا گاندھی اور مسٹر راہل گاند نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

نئی دہلی: کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور سابق صدر راہل گاندھی نے مسٹر جو بائیڈن کو امریکہ کے 46 ویں صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے۔

محترمہ گاندھی نے مسٹر بائیڈن کے ساتھ کملا ہیریس کے نائب صدر منتخب ہونے پر بھی خوشی کا اظہار کیا اور انہیں دلی مبارکباد پیش کی۔ راہل گاندھی نے بھی ٹویٹ کرکے مبارکبادی دی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ مسٹر بائیڈن اور محترمہ ہیرس کی سربراہی میں امریکہ اور ہندوستان کے مابین تعلقات گہرے ہوں گے اور ہمارے خطے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی امن اور ترقی کو ایک نئی سمت ملے گی۔

مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مسٹر بائیڈن کی قیادت میں امریکہ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے محترمہ ہیرس کو امریکہ کی پہلی خاتون نائب صدر منتخب ہونے کو فخر کی بات بتایا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کے دور میں ہندوستان اور امریکہ کے مابین تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچیں گی۔

متحدہ عرب امارات میں غیر شادی شدہ جوڑوں کو ساتھ رہنے، آزادانہ طور پر شراب پینے کی اجازت

0
متحدہ عرب امارات میں غیر شادی شدہ جوڑوں کو ساتھ رہنے اور شراب پینے کی اجازت
متحدہ عرب امارات میں غیر شادی شدہ جوڑوں کو ساتھ رہنے اور شراب پینے کی اجازت

امارات میں نئی تبدیلیوں کے تحت 21 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے شراب نوشی اور فروخت کی سزائیں ختم کردی گئیں ہیں اور غیر شادی شدہ جوڑوں کو ہم آہنگی کی اجازت دی گئی ہے۔

ابوظبی: انفرادی معاملات سے متعلق پرسنل لا میں متحدہ عرب امارات نے غیر معمولی تبدیلیاں کرتے ہوئے غیر شادی شدہ جوڑوں کو ایک ساتھ رہنے کی اجازت دے دی ہے اور شراب سے متعلق سختی میں بھی نمایاں کمی کر دی ہے۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق نئے قوانین کے بعد نام نہاد ’غیرت کے نام پر قتل‘ ایک قابل گرفت جرم ہوگا۔
حکومت نے کہا کہ یہ قانونی اصلاحات بنیادی طور پر ’رواداری کے اصولوں‘ کو مستحکم کرنے اور ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

نئی تبدیلیوں کے تحت 21 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے شراب نوشی اور فروخت کی سزائیں ختم کردی گئیں ہیں۔ قانونی اصلاحات کا اعلان کل سرکاری نیوز ایجنسی ’ڈبلیو ای ایم‘ پر کیا گیا تھا اور سرکاری اخبار ’دی نیشنل‘ میں اس کی تفصیل بتائی گئی۔

یو اے ای میں پہلے شہریوں کو شراب خریدنے، نقل و حمل کرنے گھروں میں رکھنے یا پینے کے لیے شراب کے لائسنس کی ضرورت ہوتی تھی، اس نئے قانون کے تحت بظاہر آزادانہ طور پر شراب پینے کی اجازت ہوگی۔

ایک اور ترمیم کے تحت ’غیر شادی شدہ جوڑوں کو ہم آہنگی‘ کی اجازت دی گئی ہے جو طویل عرصے سے متحدہ عرب امارات میں جرم رہا ہے۔ دی نیشنل کے مطابق ایسے مردوں کے لیے سخت سے سخت سزا ہوں گی جو خواتین کو کسی بھی طرح ہراساں کرتے ہیں۔

اقلیتی طبقہ کے خلاف تشدد کے واقعات کے بعد بنگلہ دیش کے رابطے میں ہندوستان

0
اقلیتی طبقہ کے خلاف تشدد کے واقعات کے بعد بنگلہ دیش کے رابطے میں ہندوستان
اقلیتی طبقہ کے خلاف تشدد کے واقعات کے بعد بنگلہ دیش کے رابطے میں ہندوستان

مشرقی بنگلہ دیش کے کومیلا کے مراد نگر میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے خلاف مظاہرے کے دوران اقلیتی برادری کے خلاف تشدد کی خبریں

نئی دہلی: ہندوستان کی وزارت خارجہ نے سنیچر کے روز کہا کہ بنگلہ دیش میں اقلیتی برادریوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر ڈھاکہ میں ہندوستانی ہائی کمیشن بنگلہ دیش کے حکام سے رابطے میں ہے۔ ہندوستانی عہدیداروں نے کہا ہے کہ معاشرتی اور فرقہ وارانہ تناؤ کو فروغ دینے کی اس طرح کی کوششوں کو ‘بہت سنجیدگی سے’ لیا جارہا ہے۔

وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ ہندوستانی حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار تشدد کے پھیلنے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی ناگوار مسئلے کو روکنے کے لئے چوکس رہیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ ‘ہمیں مشرقی بنگلہ دیش کے کومیلا کے مراد نگر ضلع میں اقلیتی طبقہ کے خلاف تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہمارے ہائی کمیشن اور پوسٹس بنگلہ دیش حکومت میں مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے اس واقعہ اور دیگر تمام واقعات میں معاشرتی اور فرقہ وارانہ تناؤ کو بہت سنجیدگی سے لینے کی بات کہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت کو مطلع کیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار تشدد کے پھیلنے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور وہ کسی بھی طرح کے تشدد کو روکنے کے لئے چوکس رہیں گے۔

2 نومبر کو  بنیاد پرست اسلام پسندوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ضلع کومیلہ میں اقلیتی برادری کے متعدد گھروں کو لوٹ لیا اور آگ لگا دی۔ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقلیتی برادریوں کے کچھ عبادت گاہوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔

[ہمس لائیو]

بہار میں تیسرے مرحلے میں 54.06 فیصد ووٹنگ، کشن گنج میں سب سے زیادہ 59.99 فیصد ووٹنگ ہوئی

0

بہار میں آخری مرحلے کے انتخابات میں شام پانچ بجے تک 54.06 فیصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ ابھی بھی ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے جاری ہے۔

پٹنہ: بہار میں آخری مرحلے میں 78 اسمبلی حلقوں کے لئے جاری ووٹنگ میں شام پانچ بجے تک 54.06 فیصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا وہیں چار اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ چار بجے ختم ہوگئی۔

الیکشن کمیشن کے دفتر کے مطابق تیسرے مرحلے کے انتخابات میں شام پانچ بجے تک 54.06 فیصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ ابھی بھی ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے جاری ہے۔ اس دوران کشن گنج میں سب سے زیادہ 59.99 فیصد جبکہ ویشالی میں سب سے کم 49.97 فیصد ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اسی طرح والمیکی نگر لوک سبھا حلقہ کے ضمنی انتخابات میں ابھی تک 52.08 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔

وہیں سلامتی وجوہات سے مغربی چمپارن ضلع کے والمیکی نگر اور رام نگر (محفوظ) اور سہرسہ ضلع کے سمری بختیارپور اور مہیشی اسمبلی حلقہ میں ووٹنگ چار بجے ختم ہوگئی۔ ووٹنگ ختم ہونے پر والمیکی اسمبلی حلقہ میں 49.80 فیصد اور رام نگر میں 46 فیصد، سمری بختیار میں 56.95 فیصد اور مہیشی میں 57.83 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔

آخری مرحلے کے ووٹنگ والے پندرہ ضلعوں مغربی چمپارن میں 52.08 فیصد، مشرقی چمپارن میں 55.31، سیتامڑھی میں 52.27، مدھوبنی میں 54.84، سپول میں 57.90، ارریہ میں 50.43، کشن گنج میں 59.99، پورنیہ میں 55.50، کٹیہار میں 52.22، مدھے پورہ میں 54.03فیصد، سہرسہ میں 55.73فیصد، دربھنگہ میں 53.44، مظفرپور میں 54.54 فیصد، ویشالی میں 49.97 فیصد اور سمستی پور میں 52.76 فیصد ووٹنگ ہوئی۔

راہل گاندھی کی بہار کے رائے دہندگان سے بڑھ چڑھ کر ووٹ ڈالنے اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کی اپیل

0
بہار میں اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے کے لئے ووٹ ضرو کریں: راہل
بہار میں اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے کے لئے ووٹ ضرو کریں: راہل

بہار قانون ساز اسمبلی کے لئے ووٹنگ کا تیسرا اور آخری مرحلہ میں آج ووٹنگ ہو رہی ہے جبکہ ووٹوں کی گنتی 10 نومبر کو ہوگی۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بہار اسمبلی کے آخری مرحلے میں تمام رائے دہندگان سے ووٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر گاندھی نے ہفتہ کے روز کہا کہ آج بہار اسمبلی انتخابات کے لئے ووٹنگ کا آخری مرحلہ ہے اور تمام ووٹرز کو اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے لازمی طور پر ووٹ دینا چاہئے۔

مسٹر گاندھی نے کہا ’’آج بہار میں ووٹنگ کا آخری مرحلہ ہے۔ تمام رائے دہندگان سے اپیل ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیں اور اپنے ووٹوں کے ذریعے جمہوریت کو مستحکم کریں۔

خیال رہے بہار قانون ساز اسمبلی کے لئے ووٹنگ کا تیسرا اور آخری مرحلہ میں آج ووٹنگ ہو رہی ہے جبکہ ووٹوں کی گنتی 10 نومبر کو ہوگی۔

امریکی انتخابات: پنسیلوانیا میں تاخیر سے پہنچے بیلٹ پیپرز کو الگ رکھا جائے: سپریم کورٹ

0

 

پنسیلوانیا میں ریپبلکن پارٹی نے دیر سے آئے بیلٹ کو قانونی چیلنج کیا ہے، لیکن عدالت نے اسے تاحال قبول نہیں کیا ہے۔ عدالت نے صرف اتنا کہا ہے کہ 3 نومبر کی تاریخ والے بیلٹ پیپرز کو علیحدہ رکھا جائے۔

واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے ایک حکم جاری کرکے کہا ہے کہ ریاست پنسیلوانیا کی سبھی کاؤنٹی کو 3 نومبر کے بعد پہنچنے والے بیلٹ پیپرز کو علیحدہ رکھا جائے۔ ان ووٹوں کی گنتی الگ سے کی جائے گی۔

سپریم کورٹ کے ایسوسی ایٹ جسٹس سیموئل الیٹو نے جمعہ کے روز اس حکم میں لکھا ’’ریاست پنسیلوانیا میں تمام کاؤنٹیز کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ 3 نومبر کی رات آٹھ بجے کے بعد پہنچنے والے بیلٹ باکس کو الگ سے ایک محفوظ اورسیل بند کنٹینر میں رکھیں، اس کی گنتی الگ سے کی جائے گی‘‘۔

پنسیلوانیا میں ریپبلکن پارٹی نے دیر سے آئے بیلٹ کو قانونی چیلنج کیا ہے، لیکن عدالت نے اسے تاحال قبول نہیں کیا ہے۔ عدالت نے صرف اتنا کہا ہے کہ 3 نومبر کی تاریخ والے بیلٹ پیپرز کو علیحدہ رکھا جائے گا۔

پنسیلوانیا میں گنتی کا سلسلہ بدستور جاری ہے، ابتدا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں برتری بنائی تھی لیکن پوسٹل بیلٹوں کی گنتی کے ساتھ ہی ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن ان سے آگے نکل گئے۔

جو بائیڈن کو صرف 6 الیکٹورل ووٹ کی ضرورت

ریپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک 214 انتخابی ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے 264 انتخابی ووٹ حاصل کیے ہیں۔ فاکس نیوز نے اطلاع دی ہے کہ مسٹر بائیڈن نے سخت لڑائی کے بعد مشی گن اور وسکونسن ریاستوں میں کامیابی کے بعد 264 انتخابی ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ انہیں اب امریکہ کے اگلے صدر بننے کے لئے 270 کے جادوئی اعداد و شمار تک پہنچنے کے لئے صرف چھ الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہے۔

امریکہ میں لوگ براہ راست صدر کا انتخاب نہیں کرتے ہیں، بلکہ الیکٹورل کالج کے ممبران کا انتخاب کرتے ہیں۔ الیکٹورل کالج کے ممبران بعد میں صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔ الیکٹورل کالج میں کل 538 ووٹ ہیں اور کسی بھی امیدوار کو جیتنے کے لئے 270 انتخابی ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ریاست کیلیفورنیا میں سب سے زیادہ 55 الیکٹورل ووٹ ہیں۔

ملک بھر میں جلد ہی شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) نافذ کیا جائے گا: امت شاہ

0
ملک بھر میں جلد ہی شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) نافذ کیا جائے گا: امت شاہ
ملک بھر میں جلد ہی شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) نافذ کیا جائے گا: امت شاہ

وزریر داخلہ امیت شاہ نے آج ملک بھر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بس کورونا وبا کے کنٹرول ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے

کولکاتا: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج ملک بھر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کنٹرول میں آنے کے بعد ملک بھر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کو نافذ کردیا جائے گا۔

امیت شاہ دو روزہ مغربی بنگال کے دورے پر تھے ،اگلے سال اپریل یا مئی میں اسمبلی انتخاب ہونے ہیں۔ انہوں نے مودی کی قیادت میں بنگال اسمبلی انتخابات جیتنے کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ بنگال میں ممتا بنرجی کا دور اقتدار ختم ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام رفیوجیوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔ بس کورونا وبا کے کنٹرول ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے

شہریت (ترمیمی) ایکٹ یا سی اے اے ، پہلی بار مذہب کی بنیاد پر ہندوستانی شہریت کا نظم کیا گیا ہے ۔اس قانون کے تحت پاکستان،افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو، سکھ، جین ،بدھشٹ اور عیسائی رفیوجیوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔جب کہ اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے اور آئین کے سیکولر اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

کورونا وبا کی وجہ سے تاخیر

امیت شاہ نے گزشتہ سال دسمبر میں ہی پارلیمنٹ سے ہی اس قانون کو پاس کرایا تھا ۔قانون کے پاس ہونے کے بعد ملک بھر میں مظاہرے ہوئے اور کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نفاد کے بعد احتجاج کا سلسلہ روک گیا۔

امیت شاہ نے کہا کہ ان ملکوں میں مذہبی مظالم کے شکار افراد کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔ جب کہ کانگریس، کمیونسٹ پارٹیاں، سماجوادی پارٹی، اسد الدین اویسی کی مجلس اتحاد المسلمین اس قانون کے خلاف ہے۔

شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے مخالف جماعتوں کی دلیل کے مطابق امیت شاہ ملک بھر میں این آر سی کے نفاذ کی بات کرچکے ہیں ایسے میں شہریت ترمیمی ایکٹ کی وجہ سے مسلمانوں کی شہریت ختم ہوسکتی ہے۔ جب کہ امیت شاہ اور بی جے پی مسلسل یہ کہتی رہی کہ یہ قانون مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔

صدر رام ناتھ کووند نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں تین ججوں کا تقرر کیا

0

صدر رام ناتھ کووند نے آئین کے آرٹیکل 217 میں حاصل کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گوہاٹی ہائی کورٹ میں باقاعدہ تین ججوں کا تقرر کیا ہے۔

نئی دہلی: گوہاٹی ہائی کورٹ میں تین ججوں کا تقرر ہوا ہے یہ معلومات وزارت قانون وانصاف نے جمعہ کو دی۔

صدر رام ناتھ کووند نے آئین کے آرٹیکل 217 میں حاصل کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گوہاٹی ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج سنجے کمار میدھی، جج نانی تاگیا اور جج منیش چودھری کو اسی ہائی کورٹ میں باقاعدہ جج مقرر کیا ہے۔

ان کی تقرریوں کا اطلاق اس روز سے ہوگا جب وہ کام کاج سنبھالیں گے۔

مہاراشٹر اسمبلی کے سکریٹری کو سپریم کورٹ نے جاری کیا توہین عدالت کا نوٹس

0

عدالت نے نوٹس جاری کر کے خط لکھنے والے سکریٹری سے پوچھا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔ بینچ نے نوٹس کے جواب کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں مہاراشٹر اسمبلی سکریٹریٹ کے سکریٹری کو جمعہ کے روز نوٹس جاری کر کے پوچھا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروئی شروع کی جائے۔ 

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی صدارت والی تین رکنی بینچ نے توہین عدالت کی نوٹس اس وقت جاری کیا جب اسے ارنب کی جانب سے پیش سینیئر وکیل ہریش سالوے نے آگاہ کیا کہ سکریٹریٹ کے سکریٹری نے 30 اکتوبر کو ارنب کو خط لکھ کر کہا ہے کہ انہوں نے رازداری کی شرط کی خلاف ورزی کی ہے۔ 

مسٹر سالوے کے مطابق مہاراشٹر اسملبی سکریٹریٹ کے سکریٹری کی جانب سے خط میں کہا گیا تھا کہ ارنب کو بتایا گیا تھا کہ کارروائی خفیہ ہے لیکن انہوں (ارنب) نے بغیر اسمبلی اسپیکر کی اجازت کے اس بات کی اطلاع سپریم کورٹ کو دے دی۔ 

جسٹس بوبڈے نے سکریٹری کے اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے پوچھا، ’آئین کی دفعہ 32 کس لیے ہے؟ سکریٹری کا یہ خط ایک شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے کیونکہ خط کے ذریعے متعلقہ شخص کو عدالت جانے پر ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے‘۔ 

بعد ازاں عدالت نے نوٹس جاری کر کے خط لکھنے والے سکریٹری سے پوچھا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔ بینچ نے نوٹس کے جواب کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ 

اس دوران ارنب کی اس معاملے میں گرفتاری نہیں ہو گی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں سینیئر وکیل اروند دَتَّار کو انصاف دوست بنایا ہے۔