ہفتہ, مارچ 21, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 424

بابری مسجد کے عوض دی گئی زمین پر بننے والی مسجد، ‘مسجد ضرار’ ہوگی

0
بابری مسجد کے عوض دی گئی زمین پر بننے والی مسجد، 'مسجد ضرار' ہوگی
بابری مسجد کے عوض دی گئی زمین پر بننے والی مسجد، 'مسجد ضرار' ہوگی

مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے اورنگ آباد میں ‘کُل جماعتی وفاق مسلم نمائندہ کونسل’ کی جانب سے ‘بابری مسجد’ سے متعلق اجلاس منوقد کیا گیا، جس میں ‘بابری مسجد: عدالتی کارروائیاں عدل و انصاف کے ترازو میں’ کے عنوان پر، ‘میڈیا ٹرائل اور بھارتی مسلمان’ اور ‘بابری مسجد کی موجودہ صورت حال پر مسلمانوں کا شرعی موقف’ جیسے عنوانوں پر دانشوروں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا


اورنگ آباد:
آج بابری مسجد کی شہادت کی سالگرہ کے موقعے پر مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے اورنگ آباد میں ‘کُل جماعتی وفاق مسلم نمائندہ کونسل’ کی جانب سے"اجلاس بابری مسجد” کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ‘بابری مسجد: عدالتی کارروائیاں عدل و انصاف کے ترازو میں’ کے عنوان پرحافظ محمد مختارخان اشاعتی، ایڈوکیٹ ہائی کورٹ، سبھاش ساؤنگی کر نے اور ‘میڈیا ٹرائل اور بھارتی مسلمان’ عنوان پر ڈاکٹر تنویر (شعبہ صحافت ایم جی ایم کالج) اور ڈاکٹر بالا صاحب جادھو نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اسی طرح "بابری مسجد کی موجودہ صورت حال پر مسلمانوں کا شرعی موقف” پر مولانا نعمان ندوی (جمیعۃ الشباب) نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ‘بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے حقائق و شواہد اور قانونی بنیادوں و واضح ثبوتوں کو یکسر نظرانداز و درکنار کیا۔’

محض عقیدت کی بنیاد پر دئے گئے عجیب و غریب فیصلے کے نتیجے میں دی جانے والی 5 ایکڑ اراضی پر بنائے جانے والی مسجد کو ‘مسجد ضرار’ سے تعبیر کرتے ہوئے، مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ مسجد کے لیے دی گئی جگہ اور وہاں بنائی جانے والی مسجد سے اپنی لا تعلقی کا اظہار کریں۔ اس کے لیے کسی بھی قسم کا تعاون یا چندہ وغیرہ نہ دیں۔

اورنگ آباد میں ‘کُل جماعتی وفاق مسلم نمائندہ کونسل’ کی جانب سے "اجلاس بابری مسجد” عنوان کے تحت منعقدہ ایک اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر کونسل ضیاءالدین صدیقی نے اترپردیش کے سنی وقف بورڈ کو، جس نے حکومت سے یہ زمین لینے کی حامی بھری ہے، سخت ہدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھوں چند ٹکوں میں بکنے والوں کا گروہ ہے جو بھارت اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی رائے عامہ اور دیگر مذاہب کے سیکولر، انصاف پسند، صاحب بصیرت اور وسیع النظر افراد کے مشوروں کے باوجود جگہ حاصل کر کے وہاں مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسی کوئی مسجد تعمیر کی جاتی ہے تو وہ ‘مسجدضرار’ ہوگی۔

بابری مسجد کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں مسلمانوں کی راہ نمائی کے لیے منعقدہ اس اجلاس میں "بابری مسجد: عدالتی کارروائیاں عدل و انصاف کے ترازو میں” اس عنوان پرحافظ محمد مختارخان اشاعتی، ایڈوکیٹ ہائی کورٹ، سبھاش ساؤنگی کر نے اور "میڈیا ٹرائل اور بھارتی مسلمان” عنوان پر ڈاکٹر تنویر (شعبہ صحافت ایم جی ایم کالج) اور ڈاکٹر بالا صاحب جادھو نے، اسی طرح "بابری مسجد کی موجودہ صورت حال پر مسلمانوں کا شرعی موقف” پر مولانا نعمان ندوی (جمیعۃ الشباب) نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اجلاس کا مقصد

ضیاء الدین صدیقی نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ بابری مسجد سے متعلق ہمارا جو موقف ہے وہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔ آج بھی ہمارا یہی موقف ہے کہ بابری مسجد، مسجد تھی، مسجد ہے اور مسجد ہی رہے گی۔ انھوں نے واضح کیا کہ گو کہ زمینی حقیقت آج مختلف ہے، مسجد شہید کی جا چکی ہے، وہاں مندر بنانے کی تیاریاں ہو چکی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر نو اب ناممکن ہو چکی ہے۔ لیکن ہم بھارتی ملسلمان اپنے موقف کو رتی برابر بھی تبدیل کرنے کو تیار نہں ہیں۔ 

انھوں نے کہا کہ وقت اور حالات میں تغیر اور تبدیلیاں نمایاں ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہوگا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار اور طاقت صرف انہی کے پاس رہے گی، وہ خام خیالی میں مبتلا ہیں۔ وقت اور حالات کا پہیہ ہمیشہ گردش میں رہتا ہے۔ اس لیے ہمیں مایوس و ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

موجودہ صورتحال کے تناظر میں مسلمانوں کی راہ نمائی کے لیے اورنگ آباد میں ‘کُل جماعتی وفاق مسلم نمائندہ کونسل’ کی جانب سے"اجلاس بابری مسجد” کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں بابری مسجد: عدالتی کارروائیاں عدل و انصاف کے ترازو میں” کے عنوان پرحافظ محمد مختارخان اشاعتی، ایڈوکیٹ ہائی کورٹ، سبھاش ساؤنگی کر نے اور "میڈیا ٹرائل اور بھارتی مسلمان” عنوان پر ڈاکٹر تنویر (شعبہ صحافت ایم جی ایم کالج) اور ڈاکٹر بالا صاحب جادھو نے، اسی طرح "بابری مسجد کی موجودہ صورت حال پر مسلمانوں کا شرعی موقف” پر مولانا نعمان ندوی (جمیعۃ الشباب) نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انھوں نے طاقت کے نشہ میں چور من مانی اور ناانصافی کرنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ظالمو! اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو، ۔۔ دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے۔۔وہ یقیناً سُنے گا صدائیں میری،۔۔ کیا تمہارا خدا ہے، ہمارا نہیں۔

سپریم کورٹ اب سپریم نہیں رہا

ایڈوکیٹ ہائی کورٹ، سبھاش ساؤنگی کر، نے کہا کہ توہین عدالت کا ڈر دکھا کر ہمیں اس فیصلے کے خلاف ہمیں اظہار رائے سے روکا جارہا ہے۔ یہ ہمارےاظہار آزادی رائے کے خلاف ہے۔ "سپریم کورٹ اب سپریم نہیں رہا”۔ "سپریم کورٹ کا ایک رخ ایسا ہونا چاہئے کہ اس کی قابلیت، میرٹ اور سچ کو اس کے فیصلوں سے ٹپکنا چاہیے۔” لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے اس لیے ہم باہر چرچہ کر رہے ہیں۔ اور اسی طرح کے مباحثے نہ ہوں اس کے لیے ہمیں توہین عدالت کا ڈر بتا کر ہماری اظہار رائے کی آزادی چھینی جا رہی ہے۔

مسلمانوں کو میڈیا ٹرائل کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش

ڈاکٹر تنویر نے میڈیا ٹرائل کو کسی خاص طبقے کو نشانہ بناکر ایوان اقتدار تک پہنچنے کا عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2014 کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف میڈیا ٹرائل کے ذریعے انھیں بدنام کرنے، انھیں دہشت گرد قرار دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ دنیا کے مختلف مقامات پر ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے اور آج بھی جاری ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے ایک افریقی ملک روانڈا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں ”ریڈیو روانڈ ” کی نشریات سے متاثر ہو کر وہاں تقریباً 7 لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔ برما میانمار میں میڈیا ٹرائل کے ذریعے سے ہی لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کیا گیا۔ وہاں سوشل میڈیا پر 2 لاکھ جھوٹے اکاونٹ بنا کر مسلمانوں کے خلاف عوامی جذبات کو مشتعل کیا گیا۔

مولانا نعمان ندوی نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے جتنے بھی خطا کار ہیں وہ آخرکار اپنے انجام بد کو پہنچ رہے ہیں، انھوں نے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور نرسمہا راؤ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انجام آج دنیا دیکھ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے اعمال درست کرنے اور دین پر چلنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اسی کے ذریعے سے ہم اپنی منزل مقصود کو پا سکتے ہیں۔

اجلاس میں منظور شدہ قراردادیں

اجلاس کے آخر میں قراردادیں منظور کی گئں۔ (1) مسلم نمائندہ کونسل اورنگ آباد کا یہ اجلاس، بابری مسجد، کو مسجد سمجھتا ہے، اور اپنے موقف کا اظہار کرتا ھے کہ بابری مسجد، مسجد تھی مسجد ھے اور مسجد رہیگی، انشاءاللہ، وقتی حالات کے پیش نظر حیثیت بدلنے سے مسجد کی حقیقی حثییت نہیں بدلتی، ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ہمت حوصلہ اور قوت عطا فرمائے کہ ہم اللہ کے اس گھر کو تیری اذانوں سے آباد کرسکیں۔

(2) کونسل کا یہ اجلاس میڈیا کے بےمہار طور طریقوں کی سخت مذمت کرتا ھے۔ میڈیا عدالتوں اور حکومتوں کے تال میل کے ساتھ کی جا رہی ناانصافیوں کے خلاف اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتا ہے۔ ارباب اقتدار سے مطالبہ کرتا ہے کہ میڈیا کے لیے ایک Moral Code Of Conduct بنایا جائے۔

(3) کونسل کا یہ اجلاس بابری کے فیصلے پر اپنی بے اطمینانی کا اظہار کرتا ھے۔ مطالبہ کرتا ھے کہ عقیدت کے بجائے فیصلے کی بنیاد حقائق پر رکھی جائے اور دوبارہ اس کیس کو ثبوتوں اور حقائق کی بنیاد پر طے کیا جائے۔

(4) بابری مسجد کے بدلے جو زمین دی گئی ھے اسے مسلمان قبول نہ کریں اور وہاں جو مسجد بنائی جائیگی اسکے لئے کوئی چندہ نہ دیں کیونکہ یہ اجلاس بت پرستی کے لئے لی گئی مسجد کے بدلے جو زمین دی جارہی ھے اس پر بننے والی مسجد کو مسجد ضرار سمجھتا ھے۔

(5) مسلم نمائندہ کونسل کا یہ اجلاس ED کے چھاپوں کی مذمت کرتا ھے اور متنبہ کرتا ھے کہ ایسی اوچھی حرکتوں سے حق بات بولنے والوں کو دبایا نہیں جاسکتا۔

(6) یہ اجلاس کسانوں کے احتجاج کو صحیح سمجھتا ھے اور انکے مطالبوں کو قبول کرنے اور کسان مخالف قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتا ھے۔

(7) یہ اجلاس مسلمانوں سے اپیل کرتا ھے اتحاد واتفاق کے ساتھ جماعتوں اور مسلکوں سے اوپر اٹھ کر حق کا ساتھ دینے کی کوشش کریں اور حق کے طرف دار بنیں ناکہ غیر جانبدار۔

کانگریس کسانوں کے بھارت بند کی حمایت کرے گی

0

 

کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کسانوں کے بھارت بند کو کامیاب بنانے کے لئے پارٹی کے کارکنان ملک بھر میں تحصیل کی سطح پر کام کرکے اس بند کو کامیاب بنانے کے لئے کسانوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ نئے زرعی قوانین کے خلاف 8 دسمبر کو کسان تنظیموں کی جانب سے بھارت بند کی پکار پر پارٹی اس کی حمایت کرے گی اور اس کے کارکنان اسے کامیاب بنانے کے لئے کام کریں گے۔

کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے اتوار کو یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ کسانوں کے بھارت بند کو کامیاب بنانے کے لئے پارٹی کے کارکنان ملک بھر میں تحصیل کی سطح پر کام کرکے اس بند کو کامیاب بنانے کے لئے کسانوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے ساتھ ہونے والی کسی بھی ناانصافی کے خلاف سبھی ریاستوں کے ہیڈ کوارٹر، ضلع ہیڈ کوارٹر اور تحصیل ہیڈ کوارٹر پر کسانوں کے ساتھ مظاہرہ کریں گے۔ بھارت بند کو کامیاب بنانے کی پرزور کوشش کریں گے۔

شاہ، راجناتھ، جاوڈیکر، نقوی نے امبیڈکر کو مہاپرینروان دیوس پر خراج عقیدت پیش کیا

0

آج ڈاکٹر امبیڈکر کی 64 ویں برسی ہے۔ 06 دسمبر 1956 کو دہلی میں ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ امت شاہ،  راجناتھ سنگھ، پرکاش جاوڈیکر اور مختار عباس نقوی نے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو ان کے مہاپرینروان دیوس پر خراج عقیدت پیش کیا۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، وزیر اطلاعات نشریات پرکاش جاوڈیکر اور اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے اتوار کے روز بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو ان کے مہاپرینروان دیوس پر خراج عقیدت پیش کیا۔ یہ ملک ان کی شراکت کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔
آج ڈاکٹر امبیڈکر کی 64 ویں برسی ہے۔ 06 دسمبر 1956 کو دہلی میں ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ

مسٹر شاہ نے ڈاکٹر امبیڈکر کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’’ایک مستقبل اور ہمہ جہت آئین دے کر ملک میں ترقی، خوشحالی اور مساوات کی راہ ہموار کرنے والے بابا صاحب کو مہاپرینروان دیوس پرخراج عقیدت۔ باباصاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، مودی حکومت کئی دہائیوں سے محروم طبقوں کی فلاح و بہبود کے لئے لگن کے ساتھ کام کر رہی ہے۔‘‘

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ

مسٹر سنگھ نے کہا، ’’میں بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر جی کی برسی کے موقع پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ان کی زندگی اور افکار ہم سب کے لئے متاثر کن ہیں۔ سب کا ساتھ اور سب کا وکاس کے ان کے خیالات تحریک دینے والے اور متاثر کن ہیں۔ یہ ملک بابا صاحب کے تعاون کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔‘‘

وزیر اطلاعات نشریات پرکاش جاوڈیکر

مسٹر جاوڈیکر نے ٹویٹ کیا، “مہاپرینروان دیوس پر بھارت رتن باباصاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو خراج عقیدت۔ ان کی زندگی کے پانچ تیرتھوں کی ترقی کرکے اور 26 نومبر کو یوم آئین منا کر مودی حکومت نے ان کی زندگی کو سچا خراج عقیدت پیش کیا۔‘‘

 اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی

مسٹر نقوی نے کہا، "معاشرتی مساوات اور انصاف کے حامی، ہندوستانی آئین کے معمار، ‘مہاپرینروان دیوس’ پر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جی کو خراج عقیدت۔‘‘
بھیم راؤ رام جی امبیڈکر، جو ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے نام سے مشہورتھے، ایک انڈین پالیمیتھ، جیورسٹ، ماہر اقتصادیات، سیاست دان اور معاشرتی اصلاح پسند تھے۔ انہوں نے دلت بدھ مت کو تحریک دی اور اچھوتوں سے معاشرتی امتیاز کے خلاف مہم چلائی۔ مزدوروں، کسانوں اور خواتین کے حقوق کی بھی حمایت کی۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، ممبئی میں پٹرول 90 روپے سے متجاوز

0

 ملک کے چار بڑے میٹرو شہروں میں پٹرول میں 28 پیسے اور ڈیزل میں 30 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ تجارتی شہر ممبئی میں پٹرول 90.01 روپے اور ڈیزل کی قیمت 80.20 روپے فی لیٹر ہے۔

نئی دہلی: سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اتوار کے روز مسلسل پانچویں دن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ تجارتی شہر ممبئی میں آج پٹرول کے دام 90 روپے فی لیٹر کے ہوگئے ہیں، جبکہ دارالحکومت میں دو سال بعد کل ہی یہ 83 روپے سے تجاوز کر گئے تھے۔

آج ملک کے چار بڑے میٹرو شہروں میں پٹرول میں 28 پیسے اور ڈیزل میں 30 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ دہلی میں آج پٹرول 83.41 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 73.62 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔

تجارتی شہر ممبئی میں پٹرول 90.01 روپے اور ڈیزل کی قیمت 80.20 روپے فی لیٹر ہے۔ چنئی میں قیمتیں بالترتیب 86.21 اور 78.93 فی لیٹر ہیں۔ کولکاتہ میں پٹرول کی قیمت میں 84.86 روپے اور ڈیزل کی قیمت 77.15 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

ملک کے چار بڑے میٹرو شہروں میں آج دونوں ایندھن کی قیمت فی لیٹر اس طرح رہیں۔

شہر…..       پٹرول…….. ڈیزل

دہلی        83.41         73.62

ممبئی.     90.01        80.20

چنئی      86.21        78.93

کولکاتہ    84.86       77.15

"اپنی جوتی پہ رکھتا ہوں ان کے حب الوطنی کے سرٹیفیکٹ کو”: بیرسٹر اسد الدین اویسی

0
"اپنی جوتی پہ رکھتا ہوں ان کے حب الوطنی کے سرٹیفیکٹ کو": بیرسٹر اسد الدین اویسی
"اپنی جوتی پہ رکھتا ہوں ان کے حب الوطنی کے سرٹیفیکٹ کو": بیرسٹر اسد الدین اویسی

جن کو پاکستان جانا تھا وہ چلے گئے، ہمیں تو بھارت سے مطلب تھا، ہے اور رہے گا۔ بی جے پی نیشنلزم اور کانگریس سیکولرزم کا سرٹیفیکٹ دینے میں مصروف: اویسی

نئی دہلی: مجلس اتحاد المسلمین کے صدر جناب بیرسٹر اسد الدین اویسی نے ایک پرائیوٹ ٹیلی ویژن چینل میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان جناب سدھانشو تریویدی کے ساتھ ایک مباحثے کے دوران کہا کہ جن کو پاکستان سے مطلب تھا وہ پاکستان چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ "جن کو جانا تھا وہ بھاگ گئے پاکستان، ہم کو بھارت سے ہمیشہ مطلب تھا۔ اور یاد رکھئے جتنے بھارت میں قبرستان ہیں، کبھی جائے ان قبرستانوں میں وہ ہماری وفاداری کی نشانی ہے۔ ہمارے بزرگ آج بھی وہاں سینہ تان کر سو رہے ہیں۔ اور میں کبھی بھی کسی کے سامنے اپنی وفاداری کو ثابت نہیں کروں گا۔

جناب اویسی نے مزید کہا کہ "بھاڑ میں جاؤ، جو کرنا ہے کرلو آپ۔ میں بھارت کا تھا، بھارت کا رہوں گا۔ مجھے کسی کی سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں ہے۔”

بی جے پی نیشنلزم کا سرٹیفیکٹ، کانگریس سیکولرزم کا

انہوں نے پرجوش انداز میں کہا کہ "یہ کب تک چلے گا؟ کیا آپ دکان کھول کر بیٹھے ہیں، کہ آپ نیشنلزم کا سرٹیفیکٹ دیں اور کانگریس سیکولرزم کا سرٹیفیکٹ دے۔ اسد الدین اویسی نے کافی تلخ انداز میں مشورہ دیا کہ ایسی دکان نہ چلائیں بلکہ ملک چلانے میں محنت صرف کریں۔

اس ضمن میں انہوں نے دہلی ہریانہ سرحد پر زرعی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والے کساںوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ "دہلی کے باہر کسان سردی میں تڑپ رہے ہیں۔۔۔ آپ لوگوں کی ہمت نہیں ہے کسانوں کے مسائل حل کرنے کی۔”

اویسی نے کہا کہ مرکزی حکومت ایک طرف کسانوں کو برباد کرنا چاہتی ہے اور دوسرے طرف ہمیں حب الوطنی ثابت کرنے کہہ رہی ہے۔

مجلس نے اپنے ٹوئیٹر ہینڈل پر مباحثے کی اس کلپ کو شیئر کرتے ہوئے ” اپنی جوتی پہ رکھتا ہوں ان کے حب الوطنی کے سرٹیفیکٹ کو” کی سرخی بھی لگائی ہے۔

[ہمس لائیو]

انتظامیہ سے اجازت نہ ملنے کے باوجود تیجسوی کا گاندھی میدان میں دھرنا

0

 

انتظامیہ نے جب دھرنے کی اجازت نہیں دی تو تیجسوی یادو نے ہفتے کے روز ٹویٹ کرکے چیلنج کرتے ہوئے کہا ‘نتیش جی، گاندھی میدان پہنچ رہا ہوں۔ روک سکو تو روک لیجیے۔ اس کے بعد تیجسوی دیگر رہنماؤں اور کارکنان کے ساتھ گاندھی کے مجسمے کے پاس پہنچے اور کسانوں کی جنگ لڑنے کے لیے اپنا انتخابی منشور پڑھا۔

پٹنہ: نئے زرعی قوانین کی مخالفت میں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں تحریک چلانے والے کسانوں کی حمایت میں پٹنہ گاندھی میدان میں واقع گاندھی جی کے مجسمے کے سامنے مظاہرے کی اجازت نہ ملنے کے باوجود اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے حزب مخالف کے رہنماؤں کے ساتھ دھرنا دیا۔

پہلے سے انتظامیہ نے جب دھرنے کی اجازت نہیں دی تو تیجسوی یادو نے ہفتے کے روز ٹویٹ کرکے چیلنج کرتے ہوئے کہا، ’گوڈسے کو پوجنے والے لوگ پٹنہ آئے ہیں۔ ان کے خیر مقدم میں وزیراعلیٰ نتیش کمار نے پٹنہ کے گاندھی میدان میں بابائے قوم گاندھی جی کے مجسمے کو قید کر لیا تاکہ گاندھی کو ماننے والے لوگ کسانوں کی حمایت میں گاندھی کے سامنے عزم نہ کر سکیں۔ نتیش جی، وہاں پہنچ رہا ہوں۔ روک سکو تو روک لیجیے‘۔

اس کے بعد تیجسوی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنماؤں اور کارکنان کے ساتھ گاندھی میدان پہنچ گئے۔  گاندھی میدان کے گیٹ نمبر چار کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ بالآخر انتظامیہ نے گاندھی میدان کا چھوٹا گیٹ کھول دیا۔ اس کے بعد تیجسوی یادو دیگر رہنماؤں اور کارکنان کے ساتھ گاندھی کے مجسمے کے پاس پہنچے اور کسانوں کی جنگ لڑنے کے لیے اپنا انتخابی منشور پڑھا۔

تیجسوی نے نئے زرعی قوانین کو کسان مخالف اور کالا قانون قرار دیا

تیجسوی یادو نے نئے زرعی قوانین کو کسان مخالف اور کالا قانون قرار دیتے ہوئے مودی حکومت سے فوراً واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے کسان اور مزدور مخالف فیصلوں میں وزیراعلیٰ نتیش کمار بھی معاون ہیں۔ 

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مودی حکومت آج جو بات چیت کر رہی ہے، وہ قانون بنانے سے قبل ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے ریاست کے تمام کسانوں اور تنظیموں سے نئے زرعی قوانین کے خلاف سڑکوں پر اترنے کی اپیل کی اور الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے کھیتی کے شعبے کو بھی پرائیویٹ کمپنیوں کو دینے کی سازش رچ دی ہے۔ 

دھرنے پر موجود اہم افراد میں آر جے ڈی کے ریاستی صدر جگدانند سنگھ، کانگریس کے ریاستی صدر مدن موہن جھا، سابق وزیر آلوک مہتا، شیام رجک اور داناپور کے باہوبلی رکن اسمبلی ریتلال یادو شامل تھے۔

بائیں بازو کے پانچ جماعتوں کی کسانوں کے بھارت بند کی حمایت، سبھی پارٹیوں سے حمایت کی اپیل

0

بائیں بازو کی پانچ جماعتوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ کسان تین زرعی قوانین اور مجوزہ بجلی بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہم لوگ کسانوں کے ساتھ ہیں۔ بھارت بند کی ہم خود حمایت کرتے ہیں اور سبھی پارٹیوں سے بھی اس بند کی حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

نئی دہلی: بائیں بازو کی پانچ جماعتوں نے زرعی قانون کے خلاف 8 دسمبر کے ’’بھارت بند‘‘ کو کامیاب بنانے کے لئے سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں سے اپیل کی ہے۔
مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، سی پی آئی (ایم ایل) فارورڈ بلاک اور آل انڈیا سوشلسٹ پارٹی نے آج یہاں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے ملک میں جاری کسان تحریک کے بارے میں قابل اعتراض تبصرے اور پروپیگنڈا کیا جارہا ہے جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کسان تین زرعی قوانین اور مجوزہ بجلی بل کی مخالفت کررہے ہیں اور ہم لوگ ان کی اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔ بائیں بازو کی پارٹیوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بھارت بند کی حمایت کرتے ہیں اور سبھی سیاسی پارٹیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی اس بند کی حمایت کریں۔
بیان پر سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجا، سی پی آئی مالے کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹا چاریہ، فارورڈ بلاک کے جنرل سکریٹری دیب برت وشواس اور ریوولیوشن سوشلسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری منوج بھٹا چاریہ کے دستخط ہیں۔

جی ایچ ایم سی انتخابات کے نتائج نے خاندانی، رشوت خوری اور خوشامد کی سیاست کو مسترد کردیا: نڈا

0

بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ جی ایچ ایم سی کے نتائج خاندانی، رشوت خوری اور خوشامد کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ یقین اور بھروسہ کے لئے میں حیدرآباد کے شہریوں کا مشکور ہوں۔

حیدرآباد: بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے کہا ہے کہ جی ایچ ایم سی انتخابات کے نتائج خاندانی اور رشوت خوری کی سیاست کو مسترد کرنے کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ”جی ایچ ایم سی کے نتائج خاندانی، رشوت خوری اور خوشامد کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں، میں ریاستی صدر بنڈی سنجے اور سخت محنت کرنے والے بی جے پی کے کارکنوں کو اس کامیابی کے لئے جذبہ کے ساتھ کی گئی مساعی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یقین اور بھروسہ کے لئے میں حیدرآباد کے شہریوں کا مشکور بھی ہوں“۔
نڈا نے کہا ”حیدرآباد کے جی ایچ ایم سی انتخابات میں بی جے پی کے لئے تاریخی نتائج رہے جنہوں نے یہ بتادیا ہے کہ ملک کے عوام صرف اور صرف ترقی کے ایجنڈہ کی ہی حمایت کرتے ہیں۔ یہ نتائج عوام کی واضح طور پر وزیراعظم نریندر مودی کے ترقی اور حکمرانی کے ماڈل کو حمایت کا اظہار ہے“۔

پانچویں دور کی بات چیت ہوگی آج، کسانوں نے بھارت بند کی پکار دیکر بڑھایا دباؤ

0

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین ہفتے کے روز پانچویں دور کی بات چیت ہوگی، جبکہ کسان تنظیموں نے کہا ہے کہ اگر تین نئے زرعی قوانین منسوخ نہیں ہوئے تو 8 دسمبر کو بھارت بند کیا جائے گا۔ پچھلے دس دن سے قومی دارالحکومت میں جاری اس تحریک کی کامیابی کے پیش نظر دوسری ریاستوں میں بھی اس تحریک کا آغاز ہوگیا ہے۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحاتی قوانین کے بارے میں کسانوں اور حکومت کے مابین ہفتے کے روز پانچویں دور کی بات چیت ہوگی جبکہ کسان تنظیموں نے بھارت بند کی پکار دیکر دباؤ بڑھایا ہے۔
کسان تنظیموں نے کہا ہے کہ اگر تین نئے زرعی قوانین منسوخ نہیں ہوئے تو 8 دسمبر کو بھارت بند کیا جائے گا۔ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا ہے کہ کسان تنظیمیں احتجاج کا راستہ چھوڑ دیں اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کو حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ اگر بھارت بند بھی کیا جاتا ہے تو صرف مذاکرات سے ہی راستہ نکل سکتا ہے۔

دیگر ریاستوں میں بھی اس تحریک کا آغاز

پچھلے دس دن سے قومی دارالحکومت میں جاری اس تحریک کی کامیابی کے پیش نظر دوسری ریاستوں میں بھی اس تحریک کا آغاز ہوگیا ہے یا ریاستوں کی جانب سے کسانوں کی حمایت کی گئی ہے۔
بہار میں راشٹریہ جنتا دل نے آج سے دھرنے مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی (مارکسی لیننسٹ) نے بھی کسانوں کے مسائل پرتحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کل ترنمول کانگریس کی جانب سے پارٹی کے سینئر لیڈر ڈیرک او برائن کو کسانوں سے ملاقات کے لئے بھیجا اور وہ تقریباً چار گھنٹے کسانوں کے ساتھ رہے۔ اس دوران محترمہ بنرجی نے متعدد کسان لیڈروں سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور ان کو ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔

دارالحکومت کے تمام راستوں کو بند کرنے کی دھمکی

دہلی کی سرحد پر کسانوں کی تحریک بڑھتی ہی جارہی ہے اور وہ قومی دارالحکومت کے تمام راستوں کو بند کرنے کی دھمکی بھی دے رہے ہیں۔
دریں اثنا ہریانہ، پنجاب، اترپردیش اور متعدد ریاستوں کے احتجاجی کسانوں کو کھانے کی اشیاء کی بھرپور مدد کی جارہی ہے۔ اس تحریک کو ٹریڈ یونین تنظیموں، ٹرانسپورٹ یونینوں اور کچھ دیگر افراد کی بھی حمایت مل رہی ہے۔

ممتا بنرجی کی کسان رہنماؤں سے فون پر بات چیت، ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی

0

ترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ڈیرک او برائن ممتا بنرجی کی ہدایت پر دہلی ۔ ہریانہ سنگھو بارڈر پر پہنچ کر سکھ رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ممتا نے ڈیرک کے ذریعہ کسان رہنماؤں سے بات کر کے اخلاقی ہمدردی اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے دہلی میں کسان تحریک کے رہنما پرمجیت سنگھ سے فون پر بات کرکے اخلاقی ہمدردی اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کسان لیڈروں سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔

ترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ڈیرک او برائن ممتا بنرجی کی ہدایت پر دہلی ۔ ہریانہ سنگھو بارڈر پر پہنچ کر سکھ رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس کے بعد ممتا نے ڈیرک کے ذریعہ کسان لیڈروں سے بات کی۔ ترنمول کانگریس شروعات سے ہی زرعی قوانین کی مخالفت کر رہی ہیں۔

نئے زرعی قوانین کو واپس نہ لیا گیا تو ملک گیر احتجاج

ممتا بنرجی نے جمعرات کو دھمکی دی ہے کہ اگر ’’کسان مخالف‘‘ نئے زرعی قوانین کو واپس نہیں لیا گیا تو ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ میں کسانوں کی زندگی اور ان کے معاش کو لے کر فکر مند ہوں، مرکزی حکومت کو بہر صورت ’’کسان مخالف بل‘‘ واپس لینا ہی ہوگا۔ اگر مرکزی حکومت کسانوں کی آواز نہیں سنتی ہے تو ہم ریاست بھر میں احتجاج کریں گے اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی ہم احتجاج کریں گے۔

سنگور تحریک کے 14سال مکمل ہونے پر ممتا کا ٹویٹ

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سنگور تحریک کے 14سال مکمل ہونے پر ٹویٹ کیا کہ ’’14 سال پہلے، 4 دسمبر، 2008 کو، میں کلکتہ میں 26 دن کی بھوک ہڑتال پر بیٹھی تھی۔” بھوک ہڑتال کا مقصد یہ تھا کہ زرعی زمین کو صنعتی مقاصد کے لئے نہ لی جائے۔ میں مرکز کے سخت زرعی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کرنے کے لئے ملک میں کسانوں کی نقل و حرکت کی مکمل حمایت کرتی ہوں۔ بل کاشتکاروں سے مشورہ کیے بغیر منظور کیا گیا ہے۔ اس ٹویٹ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اسمبلی ووٹ سے قبل ممتا ترنمول کانگریس ایک بار پھر اس تحریک کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہی ہیں۔

ممتا بنرجی نے لکھا تھا کہ مرکزی حکومت ریلوے، ایئر انڈیا، کوئلہ، بی ایس این ایل، بی ایچ ای ایل، بینک، دفاع وغیرہ بیچ نہیں سکتی ہے۔ غیر منقولہ تخریب کاری اور نجکاری کی پالیسی کو واپس لے لیں۔ ہمیں اپنی قوم کے خزانوں کو بی جے پی پارٹی میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔