پیر, مئی 11, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 423

وزارت داخلہ نے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو طلب کیا

0

وزارت داخلہ نے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو ایک مکتوب ارسال کرکے پیر کے روز انھیں طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام ریاستی حکومت کی جانب سے رپورٹ ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر جے پی نڈا کے قافلے پر مغربی بنگال میں جمعرات کو پتھراؤ کے واقعہ کو بے حد سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو پیر کے روز طلب کیا ہے۔ 

وزارت نے اس معاملے میں جمعرات کو ہی ریاستی حکومت سے لاء اینڈ آرڈر (امن عامہ) کی صورتحال اور اس واقعہ کے بارے میں رپورٹ مانگی تھی۔ 

وزارت داخلہ نے مزید ایک اقدام کرتے ہوئے جمعہ کے روز مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو ایک مکتوب ارسال کرکے پیر کے روز انھیں طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام ریاستی حکومت کی جانب سے رپورٹ ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مسٹر نڈا مغربی بنگال کے دو روزہ دورے کے دوسرے دن یعنی جمعرات کو جب ڈائمنڈ ہاربر جا رہے تھے تو ان کے قافلے پر پتھراؤ کیا گیا۔ بدھ کے روز مغربی بنگال یونٹ کے صدر نے وزارت داخلہ کو خط لکھ کر مسٹر نڈا کی سیکیورٹی کے سلسلے میں برتی گئی لاپرواہی کا معاملہ اٹھایا تھا۔

مرکزی حکومت اس حملے کی مکمل سنجیدگی سے نوٹس لے رہی ہے

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ مرکز اس واقعہ کی سنجیدگی سے نوٹس لے رہا ہے۔ 

انہوں نے ٹویٹ کیا، ’بنگال میں بی جے پی کے قومی صدر جگت پرکاش نڈا پر ہوا حملہ بہت ہی قابل مذمت ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ مرکزی حکومت اس اسپانسرڈ حملے کو مکمل سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ بنگال حکومت کو اس حملے کے لیے ریاست کے امن پسند عوام کو جواب دینا ہوگا۔ ترنمول حکومت میں بنگال ظلم، انارکی اور اندھیرے کے زمانے میں جا چکا ہے۔ ٹی ایم سی کی حکومت میں مغربی بنگال کے اندر جس طرح سے سیاسی تشدد کو ادارہ جاتی بنا کر انتہا پر پہنچایا گیا ہے، وہ جمہوری اقدار میں یقین رکھنے والے تمام لوگوں کے لیے تکلیف دہ بھی ہے اور تشویشناک بھی‘۔

کیا اصلاحات کے لیے بھارت کی جمہوریت صحت مند ہونے کی بجائے حد سے زیادہ ہوگئی ہے؟

0
کیا اصلاحات کے لیے بھارت کی جمہوریت صحت مند ہونے کی بجائے حد سے زیادہ ہوگئی ہے؟

نیتی آیوگ کے سی ای او امیتابھ کانت نے اصلاحات میں رکاوٹ کا سارا ٹھیکرا ملک کی جمہوریت یا "حد سے زیادہ جمہوریت” پر پھوڑ ڈالا، لیکن جن کی فلاح کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے اگر وہی نا خوش ہیں، تو ایسے قانون کا فائدہ ہی کیا؟

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

جمہوریت کی اصطلاح کے لیے مختلف معانی اور تشریحات بیان کی جاتی ہیں۔ جمہوریت کو ایک سیاسی، اخلاقی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کا نام دیا جاتا ہے۔ جمہوریت کے وضع کردہ اصولوں کی بنا پر ہم کسی حکومت، ریاست، معاشرے یا نظریے کو جانچ سکتے ہیں کہ کیا وہ نظام یا نظریہ جمہوری ہے یا نہیں۔ جہاں تک جمہوری حکومت کا تعلق ہے تو کہا جاتا ہے کہ "عوام کے ذریعہ، عوام کے لیے، عوام کی حکمرانی” ہی جمہوری حکومت ہے۔ لیکن الگ الگ ادوار اور حالات میں جمہوریت کے استعمال سے اس کی اصطلاح کچھ پیچیدہ ہو گئی ہے۔

عام طور پر جمہوری حکومت سے مراد ایک ایسی حکومت ہے جس میں اختیارات اور فیصلہ سازی کا منبع عوام ہوتے ہیں۔ عوام اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ انہیں کس طرح کا حکومتی، انتظامی، عدالتی، معاشی اور معاشرتی نظام پسند ہے۔ جمہوری نظامِ حکومت کی ایک شکل نمائندہ حکومت ہوتی ہے جس میں عوام اپنے نمائندے منتخب کر کے نظامِ حکومت انہیں سونپ دیتے ہیں۔ اب یہ منتخب حکومت یا جماعت کی صوابدید پر ہے کہ وہ اُن عوام کی کتنی خیر خواہ ثبت ہوتی ہے جنہوں نے اسے یہ منصب سونپا ہے۔

موجودہ حکومت اور جمہوری اصول

پھر یہ حکومت اپنے عوام کے لیے کتنی سود مند ثابت ہوئی ہے، اس کو جانچنے اور پرکھنے کا پیمانہ یہ ہے کہ کیا اس ملک میں لوگوں کو اپنی بات کے اظہار اور سرکار کی پالیسیوں پر آزادانہ طریقہ سے اپنی رائے رکھنے اور تنقید کرنے کی آزادی ہے یا نہیں؟ کیا اس ملک میں مضبوط اپوزیشن موجود ہے یا نہیں؟ کیا وہاں آئین اور قانون کی حکمرانی ہے یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج ہے؟

اس کی جانچ کا پیمانہ یہ بھی ہے کہ کیا اس ملک میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی ہے یا نہیں؟ چونکہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں یا قانون کا اطلاق مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ کیا ہر کسی کی جان اور مال محفوظ ہے یا نہیں؟ معاشی اور معاشرتی انصاف موجود ہے یا معاشرہ طبقاتی نظام میں تقسیم ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا اس ملک کا میڈیا آزاد ہے یا اس پر قدغن لگائی گئی ہے؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں، جن کی روشنی میں ہم اپنی اپنی جمہوری حکومتوں کے کام کاج اور اس کے طریقہ کار کو جانچ سکتے ہیں۔

کیا اس ملک میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی ہے؟ کیا ہر کسی کی جان اور مال محفوظ ہے؟ معاشی اور معاشرتی انصاف موجود ہے یا معاشرہ طبقاتی نظام میں تقسیم ہے؟ اور کیا اس ملک کا میڈیا آزاد ہے یا اس پر قدغن لگائی گئی ہے؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں، جن کی روشنی میں ہم اپنی اپنی جمہوری حکومتوں کے کام کاج اور اس کے طریقہ کار کو جانچ سکتے ہیں۔

اب اس تناظر میں ہم اپنی موجودہ حکومت کی کارکردگی کو دیکھیں اور پرکھیں، تو پائیں گے کہ موجودہ حکومت مذکورہ جمہوری اصولوں پر کھری نہیں اترتی ہے۔ اگر کہا جائے کہ ’عوام کے ذریعہ، عوام کے لیے، عوام کی حکمرانی‘ کا اصول بالائے طاق رکھ دیا گیا ہےتو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔

فی الحال ملک کے کسان جن قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، اس سے پہلے بھی موجودہ مودی حکومت نے ایسے قوانین وضع کئےیا ایسے اقدامات کئے کہ ان اقدامات سے براہ راست جن لوگوں (عوام) کا تعلق تھا، انھیں یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ نہ کسانوں سے یا ان کے نمائندوں سے کوئی رائے مشورہ اور نہ ہی دوسرے طبقہ سے کو ئی گفت و شنید کی گئی۔ مثال کے طور پر جس طرح حال ہی میں لائے گئے زرعی قوانین میں کسانوں یا ان کے نمائندوں سے کوئی رائے مشورہ نہیں کیا گیا، ٹھیک اسی طرح گزشتہ برس طلاق ثلاثہ سے متعلق قانون بنانے سے پہلے مسلمانوں، ان کے نمائندوں یا ماہرین شریعت سے کوئی گفت و شنید نہیں کی گئی۔

 کیا اس ملک میں لوگوں کو اپنی بات کے اظہار اور سرکار کی پالیسیوں پر آزادانہ طریقہ سے اپنی رائے رکھنے اور تنقید کرنے کی آزادی ہے؟ کیا اس ملک میں مضبوط اپوزیشن موجود ہے؟ کیا آئین اور قانون کی حکمرانی ہے یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج ہے؟

لاکھوں مسلمان مخالفت اور احتجاج کرتے رہے، لیکن ایک نہیں سنی گئی۔ اس کے بعد شہریت ترمیم بل، این آر سی اور این پی آر جیسے اقدامات ہوں یا حال ہی میں یو پی کی آدتیہ ناتھ حکومت کے ذریعہ مفروضہ پر مبنی مبینہ لو جہاد سے متعلق آرڈیننس، یا پھر جموںو کشمیر سے دفعہ 370 اور 35 اے کا خاتمہ، یا اس سے پہلے  نوٹ بندی کرنے کا فیصلہ۔ ان تمام اقدامات میں بہت کچھ یکسانیت پائی جاتی ہے۔

پہلی تو یہی کہ جن لوگوں سے متعلق یہ قوانین بنائے گئے یا اقدامات کئے گئے، نہ تو ان سے کوئی رائے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی ان کو اعتماد میں لیا گیا۔ دوسرا یہ کہ اگر حکومت کے یہ اقدامات متعلقہ طبقوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئے گئے تو پھر وہی طبقات ان کے خلاف سراپا احتجاج کیوں ہیں؟ پھر تو ’عوام کے ذریعہ، عوام کے لیے، عوام کی حکمرانی‘ کا اصول بے معنی ہو کر رہ گیا۔

کیا حکومت کوئی اعداد و شمار پیش کر سکتی ہے کہ طلاق ثلاثہ کے خلاف جب سے قانون بنایا گیا ہے، ایسی طلاق کے واقعات میں کتنے فیصد کی کمی آئی ہے؟ اسی طرح گزشتہ برس 11 دسمبر کو حکومت نے متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا اور 11 جنوری 2020 میں اسے نافذ کر دیا گیا۔ اس بارے میں بھی کوئی بہت خوش آئند اطلاعات نہیں ہیں۔

شہریت ترمیمی ایکٹ اور جمہوریت

گزشتہ 26 نومبر کو  ٹی وی 9 (TV9) نے ایک رپورٹ دی تھی کہ سی اے اے کے بھروسہ ہندوستان آئے پاکستانی ہندو اور سکھ مایوس ہیں اور مالی تنگی اور دیگر پریشانیوں کے سبب تقریباً 243 پناہ گزین واپس جائیں گے۔ ان لوگوں کو واگہا سرحد سے واپس جانے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔ افسران کے مطابق پاکستانی پناہ گزینوں کے واپس جانے کی زیادہ تردرخواستیں گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور دہلی سے آئی ہیں۔

غور طلب ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ نافذ ہونے کے بعد 31 دسمبر 2014 تک پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے ہندوستان آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی (مسلمان نہیں) پناہ گزینوں کو ہندوستان کی شہریت دی جائے گی۔ ابھی یہ تنازع ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ این آر سی کا مسئلہ پیدا کر دیا گیا۔

سی اے اے کے بھروسہ ہندوستان آئے پاکستانی ہندو اور سکھ مایوس ہیں اور مالی تنگی اور دیگر پریشانیوں کے سبب تقریباً 243 پناہ گزین واپس جائیں گے۔ ان لوگوں کو واگہا سرحد سے واپس جانے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔

این آر سی یعنی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن۔ پہلے یہ آسام تک محدود تھا، لیکن مودی حکومت نے بغیر کسی وضاحت کے اسے پورے ملک میں نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ آسام میںاین آر سی کے تحت تقریباً 20 لاکھ افراد شہریت کی فہرست میں جگہ نہیں بنا سکے۔

بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سے ہی آسام کے باشندوں کا کہنا تھا کہ ان کے یہاں بڑی تعداد میں لوگوں کے آ جانے سے ان کے تشخص کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ یہ بی جے پی کے لیے ایک سیاسی ایشو تھا، لہذا اس نے اس مسئلہ کو خوب اٹھایا، لیکن جب حتمی فہرست تیار ہوئی تو باہر ہونے والوں میں اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ اس کے بعد بی جے پی نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ پھر بی جے پی سے وابستہ لوگ طرح طرح کے بیانات دیتے رہے، جس سے معاملہ پیچیدہ ہوتا گیا۔

شہریت ترمیمی ایکٹ اور خدشات

یہ ٹھیک ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ ہندوستان کے شہریوں کے لیے نہیں ہے، لیکن این آر سی اور سی اے اے کی مخالفت اس لئے ہوئی کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے خود اپنی تقاریر اور بیانات میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی دونوں کو ایک دوسرے سے منسلک بتایا۔

لوگوں میں خدشات کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ مودی نے ایک عوامی جلسہ میں کہا کہ این آر سی پر ابھی کوئی بات نہیں ہوئی ہے، جبکہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا کہ این آر سی آکر رہے گا۔ اس کے علاوہ مودی حکومت نے نوٹ بندی کا اعلان کیا۔

نوٹ بندی اور کالا دھن

دعویٰ کیا گیا یہ اقدام کالا دھن واپس لانے، نقلی کرنسی باہر کرنے، دہشت گردی اور نکسل ازم پر قدغن لگانے، رشوت خوری روکنے وغیرہ وغیرہ کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن اس فیصلہ کے بعد جو اعداد و شمار سامنے آئے، اور غریبوں اور متوسط طبقہ پر کیا قیامت گزری، وہ سب کے سامنے ہیں۔

غرض یہ کہ مودی حکومت نے مذکورہ جو بھی فیصلے کئے، ان میں وہ پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ساتھ ہی جن لوگوں کی فلاح و بہبود اور خیر خواہی کا دعویٰ کیا گیا، وہی اس کا سب سے بڑا شکار بنے۔

کسانوں کا صاف کہنا ہے کہ نئے زرعی قوانین در اصل یہ کاشتکاری میں نجکاری کو فروغ دینے اور اپنے پسندیدہ کارپوریٹ گھرانوں کو بڑھاوا دینے کے لیے ہیں۔ ان قوانین کے خلاف لاکھوں کسان سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں

یہی حال کسانوں سے متعلق تین نئے زرعی قوانین کا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ نئے زرعی قوانین ملک کے کسانوں کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی و خوشحالی کے لیے لائے گئے ہیں۔ لیکن کسان کہتے ہیں کہ ہمیں ایسی ترقی و خوشحالی نہیں چاہئے۔

کسانوں کا صاف کہنا ہے کہ یہ در اصل یہ کاشتکاری میں نجکاری کو فروغ دینے اور اپنے پسندیدہ کارپوریٹ گھرانوں کو بڑھاوا دینے کے لیے ہیں۔ ان قوانین کے خلاف لاکھوں کسان (مرد،خواتین، بوڑھے، بچے) سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔

’دہلی چلو‘ کے بعد ’بھارت بند‘ کیا جا رہا ہے، لیکن حکومت اسے اپنی انا کا مسئلہ بنائے بیٹھی ہے۔ اگر حکومت ان تمام اقدامات کا محاسبہ کرے تو اسے خود احساس ہوگا کہ یہ فیصلے کسی بھی صحت مند اور کامیاب جمہوریت کی علامت نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں اصلاحات کے لیے ملک میں ‘حد سے زیادہ جمہوریت’ کو رکاوٹ قرار دینے کا مطلب صرف یہ ہے کہ عوامی رائے اور اختیارت کو کم سے کم اہمیت دی جائے، جو اپنے آپ میں جمہوریت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں، ای میل: yameen@inquilab.com]

ایف ڈی اے مشاورتی پینل کی فائزر کو کورونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت

0

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مشاورتی پینل نے 17.4 کی اکثریت سے فائزر اور جرمنی کی تیار بائیو ٹیک کو کورونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی ہے۔

واشنگٹن: امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے مشاورتی پینل نے امریکی عوام کو فائزر کا کووڈ – 19 ٹیکہ لگانے کی منظوری دے دی ہے۔

ایف ڈی اے پینل کے ممبر نے اس میٹنگ کے بعد بتایا کہ پینل نے 17.4 کی اکثریت سے فائزر اور جرمنی کی تیار بائیو ٹیک کو کورونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی ہے۔

مہاراشٹر: زنا بالجبر کے مجروں کو اب ہوگی سزاۓ موت، کیبنٹ میں منظوری، آئندہ اجلاس میں ہوگا پیش

0

 

حکومت مہاراشٹر ممبئی میں 14 دسمبر 2020 سے شروع ہونے والے دو روزہ اسمبلی اجلاس میں ایک جامع اور سخت مسودہ قانون پیش کررہی ہے۔ جس میں عصمت دری کے مرتکب افراد کو سزائے موت اور دیگر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

ممبئی: خواتین اور بچوں کو جنس زدہ بھیڑیوں کی جنسی زیادتیوں سے بچانے کے لیے، ایک موثر قدم اٹھاتے ہوئے، حکومت مہاراشٹرا ایک جامع اور سخت مسودہِ قانوں، 14 دسمبر 2020 کو ممبئی میں شروع ہونے والے دو روزہ اسمبلی اجلاس میں متعارف کرا رہی ہے۔ جس میں زنا بالجبر کے مجروں کو سزائے موت کے بشمول دیگر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

مہاراشٹرا میں ریاستی کابینہ نے کل بدھ کے روز دو مسودوں کے بلوں کی منظوری دے دی ہے۔ جس میں عصمت دری، تیزاب حملوں اور بچوں سے زیادتی کے سنگین اور گھناؤنے مقدمات میں سزائے موت کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ حکومت کا یہ نیا قانون، آندھرا پردیش میں نافذ قانوں "دِیشا” کی بنیاد اور اسی طرز پر بنایا گیا ہے۔ بلوں میں سزا کی معیاد میں اضافہ، بشمول عمر قید، جرائم کی نئی اقسام کا احاطہ کرنے اور جلد از جلد مقدمات چلانے کے لئے ایک طریقہ کار تجویز کرنے کی بھی شقیں موجود ہیں۔

 اب سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو دھمکیاں دینا اور بدنام کرنا جرائم میں شمار ہوں گے

اس مسودہ قانون کے مطابق، اب سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو دھمکیاں دینا اور بدنام کرنا۔ عصمت دری، چھیڑ چھاڑ اور تیزاب حملوں کے بارے میں جھوٹے الزامات لگانا۔ سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور موبائل سروس فراہم کرنے والوں کی تحقیقات میں عدم تعاون۔ تفتیش میں سرکاری ملازم کا عدم تعاون وغیرہ معاملات بھی جرائم میں شمار ہوں گے۔

اس مجوزہ قانون کی خصوصیات میں یہ بھی شامل ہے کہ اب تک صرف عصمت دری کا شکار لڑکی کا نام چھپانے پر پابندیاں عائد تھیں۔ یہ پابندیاں اب چھیڑ چھاڑ اور تیزاب کے حملوں پر بھی لاگو ہوں گی۔
تیزاب حملوں کے لیے 10 لاکھ جرمانے کی سزا بھی رکھی کی گئی ہے اور یہ رقم متاثرہ کو علاج اور پلاسٹک سرجری کے لئے ادا کی جائے گی۔ جرم کی تفتیش کی مدت دو ماہ سے کم کرکے 15 دن کردی گئی ہے۔

20 دن کے اندر چارج شیٹ داخل کرنا لازمی ہوگا

کسی بھی صورت میں 20 دن کے اندر چارج شیٹ داخل کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے لئے ضابطہ اخلاق کی دفعہ 173 میں ایک ترمیم کی تجویز کی گئی ہے۔ مقدمے کی سماعت کی مدت دو ماہ کے بجائے 30 دن اور اپیل کی مدت چھ ماہ کے بجاۓ 45 دن کردی گئی ہے۔ ریاستوں میں مقدمات کے فیصلے کے لئے 36 نئی خصوصی عدالتیں کھولی جائیں گی۔ ہر عدالت میں ایک خصوصی سرکاری وکیل مقرر کیا جائے گا۔

"مہاراشٹرا شکتی فوجداری قانون (مہاراشٹر ترمیمی) ایکٹ "2020 اور "مہاراشٹر شکتی فوجداری قانون 2020 کے نفاذ کے لئے خصوصی عدالت اور مشینری” ایک دوسرے سے منسلک یہ بل، جو 14 دسمبر کو ریاستی مقننہ کے سرمائی اجلاس میں شکتی ایکٹ کے ایک حصے کے طور پر پیش کیے جائیں گے۔

آندھرا پردیش کے ذریعہ وضع کردہ دیشا ایکٹ کی شکل پر تیار کردہ، ان بلوں میں، ہندوستانی تعزیرات (آئی پی سی)، فوجداری ضابطہ اخلاق (سی آر پی سی) اور بچوں سے تحفظ برائے جنسی جرائم کے قانون کے متعلقہ حصوں میں ترمیمات تجویز کی گئیں ہیں۔ ریاستی
وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے کہا کہ ایک بار جب مقننہ کے دونوں ایوانوں سے بل منظور ہوجاتے ہیں تو وہ منظوری کے لئے مرکز کو بھیج دیئے جائیں گے۔

بی جے پی کے کارکنوں نے نائب وزیر اعلیٰ سسودیا کی رہائش گاہ پر حملہ کیا: اے اے پی

0

 

بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں پر پولیس کی ملی بھگت سے ڈپٹی چیف منسٹر کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اے اے پی کے ترجمان آتشی مارلینا نے کہا کہ ایسا واقعہ دہلی کی سیاسی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہے۔ کیا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نائب وزیر اعلی کے اہل خانہ کو مروانا چاہتے ہیں؟

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں پر پولیس کی ملی بھگت سے ڈپٹی چیف منسٹر کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اے اے پی کے ترجمان آتشی مارلینا نے جمعرات کو بتایا "آج پولیس کی ملی بھگت سے نائب وزیر اعلی کے گھر پر حملہ کیا گیا ہے۔ ایسا واقعہ دہلی کی سیاسی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کیا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نائب وزیر اعلی کے اہل خانہ کو مروانا چاہتے ہیں۔ کیا بی جے پی دہلی اسمبلی انتخابات میں نقصان کا بدلہ لے رہی ہے؟

عام آدمی پارٹی کے رہنما سورو بھاردواج نے کہا کہ دہلی کے وزیر اعلی کو نظربند کرنے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ کی سرپرستی میں نائب وزیر اعلی کے گھر پر ان کی غیر موجودگی میں بی جے پی کے غنڈوں نے حملہ کیا۔ دہلی پولیس نے بی جے پی کے غنڈوں کی حملہ کرنے میں مدد کی ہے۔

حج 2021 کے لیے محض 43 ہزار درخواستیں موصول، حج ہوگا مہنگا: نقوی

0

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور اور حج مختار عباس نقوی نے اعلان کیا کہ حج 2021 کے لیے صرف 43 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ حج 2021 کے اخراجات کے تخمینے کی بنیاد پر فیس مقرر کی گئی ہے۔ ممبئی سے 3.5 لاکھ اور گوہاٹی سے چار لاکھ، ادا کرنے ہوں گے۔

ممبئی: آج یہاں مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور اور حج مختار عباس نقوی نے اعلان کیا کہ حج 2021 کے لیے صرف 43 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اس کے پیش نظر آخری تاریخ میں 10جنوری تک توسیع کردی گئی ہے۔ جبکہ اس بار ملک میں 21 کے بجائے 10 روانگی مراکز ہوں گے اور محرم بغیر حج کاسفر کرنے والی خواتین کی 500 درخواستیں ملی ہیں اور انہیں بلاقرعہ اندازی سے منظور کرلیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حج 2021 کے اخراجات کے تخمینے کی بنیاد پر فیس مقرر کی گئی اور سعودی عرب سے موصولہ اطلاع کی بنیاد پر اس میں کمی کی گئی ہے۔ ممبئی اور احمدآباد سے سفر کرنے والے عازمین حج تقریباً تین لاکھ تیس ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے۔ بنگلورو، لکھنئو، دہلی اور حیدرآباد مراکز سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے اور کوچین اور سری نگر سے تین لاکھ ساٹھ ہزار روپے، جبکہ کولکاتا سے تین لاکھ ستر ہزار اور گوہاٹی سے سب سے زیادہ چار لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے۔

ون نیشن، ون فئیر (ایک ملک، ایک کرایہ) فی الحال ممکن نہیں

مختار نقوی نے ایک سوال کے جواب میں کہا "ون نیشن، ون فئیر” (ایک ملک، ایک کرایہ) فی الحال ممکن نہیں ہے، لیکن یہ ایک اچھی تجویز ہے، جس پر سبھی ائیر لائنز کو عمل کرناچاہئیے۔ موجودہ کرایہ تخمینہ کی بنیاد پر ہے اور صرف عزیزیہ کیٹگری کے لیے ہے، اس میں کم و بیش ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ وبائی مرض کے پیش نظر عالمی پروٹوکال کے رہنما خطوط پر مستعدی سے عمل کیا جائے گا۔ ابھی سعودی عرب حکومت نے عمرہ کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں جاری کی ہے، لیکن عمرہ کے لیے سعودی حکومت نے 18-50 کی عمر والے عازمین عمرہ کو منظوری دی تھی اور اب اس میں 65 سال تک کی توسیع کی جاسکتی ہے۔

پاکستان اور سعودیہ سمیت کچھ تشویشناک ممالک کو اقتصادی پابندیوں سے چھوٹ

0

امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے صدر کی طرف سے ایک استثنیٰ جاری کیا ہے جس سے ان دس ممالک میں سے جن کو سال 20-2019 کے دوران تشویشناک ممالک قرار دیا گیا تھا کچھ ملکوں کو اقتصادی پابندیوں سے چھوٹ مل جائے گی۔

واشنگٹن: امریکہ نے جن دس [10] ملکوں کو سال 20-2019 کے دوران مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر خاص طور سے تشویشناک ممالک قرار دیا تھا ان میں سے کچھ ملکوں کو اقتصادی پابندیوں سے چھوٹ دی گئی ہے۔ جن میں پاکستان سمیت سعودی عرب، نائیجیریا، تاجکستان اور ترکمانستان شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے صدر کی طرف سے یہ استثنیٰ جاری کیا ہے جس سے ان ممالک کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر لگنے والی پابندیوں سے چھوٹ مل جائے گی۔ امریکہ کے اہم قومی مفادات کی وجہ سے استثنٰی دینے کے اختیار کو استعمال کیا گیا ہے۔

پاکستان کو اس فہرست میں امریکی بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ 1998 کے تحت شامل کیا گیا جس کے نتیجے میں مبینہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں۔

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی ہندوستان کو بھی ان ممالک میں شامل کرنے کی تجویز

ہر چند کہ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے ہندوستان کو بھی ان ممالک میں شمار کرنے کی تجویز دی تھی لیکن ہندوستان نے جہاں اسے دو ٹوک مسترد کر دیا تھا وہیں پیر کو جاری کردہ فہرست میں ہندستان کا نام شامل نہیں تھا۔

روزنامہ ڈان کے مطابق امریکی ایمبیسیڈر ایٹ لارج برائے مذہبی آزادی سیموئل ڈی براؤن بیک کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا بھر میں توہین مذہب کے الزام میں قید لوگوں کی نصف تعداد پاکستان میں ہے اور اس نکتے کو بھی پاکستان کو اس فہرست میں شامل کرتے ہوئے مدِ نظر رکھا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ان ممالک میں بھی شامل ہے جہاں جبری طور پر زیادہ تر اقلیتی دلہنوں کو چین بھیجا جاتا ہے۔

ترکی کے شہریوں کو کووڈ – 19 کا ٹیکہ مفت دیا جائے گا

0

ترکی کے وزیر صحت فرحتین کوکا نے کہا کہ آئندہ ہفتہ ہمیں کورونا وائرس کا ٹیکہ مل جائے گا۔ ترک شہریوں کو کووڈ – 19 ٹیکہ مفت دیا جائے گا۔ شہریوں کو یہ ٹیکہ 14 دن کے اندر دو مرتبہ لگایا جائے گا‘‘۔

انقرہ: ترکی کے شہریوں کو کورونا وائرس کا ٹیکہ مفت دیا جائے گا۔ یہ اطلاع ملک کے وزیر صحت فرحتین کوکا نے دی ہے۔
مسٹر کوکا نے کہا ’’آئندہ ہفتہ ہمیں یہ ٹیکہ مل جائے گا۔ اس کی جانچ کی جائے گی اور اگر یہ سبھی ٹیسٹ میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ہم اس کے استعمال کی اجازت دیں گے۔ شہریوں کو یہ ٹیکہ 14 دن کے اندر دو مرتبہ لگایا جائے گا‘‘۔
وزیر نے توقع ظاہر کی کہ کورونا ٹیکہ آنے سے اس وبا کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ نومبر میں مسٹر کوکا نے بتایا تھا کہ ترکی کے مختلف علاقوں میں کورونا سب سے اوپر ہے۔ یہاں کورونا معاملات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
ترکی کی وزارت صحت نے بتایا تھا کہ یہاں کورونا کے 31712 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس سے ملک میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 558517 ہوگئی ہے۔ 217 اموات کے ساتھ مرنے والوں کی تعداد 15531 ہوگئی ہے۔

کسان تنظیموں نے حکومت کی تجویزوں کو کردیا مسترد

0

آل انڈیا کسان سنگھرش کوآرڈینیشن کمیٹی (اے آئی کے ایس سی سی) نے آج صحافیوں کو بتایا کہ کسانوں کے مسئلے کو حل کرنے کے بارے میں مودی حکومت کا رویہ غیر سنجیدہ اور متکبرانہ ہے۔ لہذا تمام کسان تنظیموں نے نئی شکل میں دیئے گئے ان پرانی تجویزوں کو مسترد کردیا ہے۔

نئی دہلی: زرعی قوانین کے خاتمے کے مطالبے پر احتجاج کرنے والے کسان تنظیموں نے کسانوں کے مسئلے کو حل کرنے کے بارے میں مودی حکومت کے رویے کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے حکومت کی تجویز کو مسترد کردیا۔

آل انڈیا کسان سنگھرش کوآرڈینیشن کمیٹی (اے آئی کے ایس سی سی) نے آج صحافیوں کو بتایا کہ کسانوں کے مسئلے کو حل کرنے کے بارے میں مودی حکومت کا رویہ غیر سنجیدہ اور متکبرانہ ہے۔ لہذا تمام کسان تنظیموں نے نئی شکل میں دیئے گئے ان پرانی تجویزوں کو مسترد کردیا ہے۔

اے آئی کے ایس سی سی اور تمام کسان تنظیموں نے کاشتکاری کے تین قوانین اور بجلی بل 2020 کو منسوخ کرنے کے مطالبے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج جاری رہے گا۔ دہلی میں کسانوں کی تعداد بڑھے گی۔ ضلعی سطح پر تمام ریاستوں میں دھرنا شروع ہوں گے۔

اے آئی کے ایس سی سی کی قومی ایگزیکٹو میٹنگ میں مرکزی حکومت کی نام نہاد "نئی” تجاویز کو غیر سنجیدہ قرار دے کر مسترد کردیا گیا۔ ان تجاویز کو مسترد کرنے میں تمام کسان تنظیمیں ان کے ساتھ ہیں۔

اے آئی کے ایس سی سی نے کسانوں کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ تمام اضلاع اور ریاستی دارالحکومتوں میں معاون تنظیموں کے ساتھ مل کر عوامی مقامات پر دھرنا کا انعقاد کریں۔

انہوں نے کہا کہ 8 دسمبر کے بھارت بند نے کسانوں کے اس ملک گیر مقبول احتجاج کو استحکام فراہم کیا اور تمام شکوک و شبہات کو مسترد کردیا۔

22 ہزار 810 کروڑ روپے کی ‘خود انحصاری بھارت روزگار یوجنا’ کو منظوری

0

وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت بدھ کے روز منعقدہ مرکزی کابینہ کے اجلاس میں 22 ہزار 810 کروڑ روپے کی ‘خود انحصاری بھارت روزگار یوجنا’ کو منظوری دی گئی۔

نئی دہلی: روزگار کو فروغ دینے کے لئے مرکزی حکومت نے 22 ہزار 810 کروڑ روپے کی ‘خود انحصاری بھارت روزگار یوجنا’ کو منظوری دی ہے، جس سے ماہانہ 15 ہزار سے کم تنخواہ پانے والے ملازمین کو فائدہ ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت بدھ کے روز منعقدہ مرکزی کابینہ کے اجلاس میں اس سے متعلق تجویز کو منظوری دی گئی۔
میٹنگ کے بعد وزیر محنت و روزگار سنتوش کمار گنگوار نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کل 22 ہزار 810 کروڑ روپے خود انحصاری بھارت روزگار یوجنا میں خرچ ہوں گے۔ یہ منصوبہ سال 2020 سے 2023 تک کے لیے ہوگا۔ رواں مالی سال میں 1584 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم سے تقریبا 58.5 لاکھ ملازمین مستفید ہوں گے۔
مسٹر گنگوار نے کہا کہ اس اسکیم کا فائدہ ان آجر اداروں کو دیا جائے گا جن میں 1000 ملازمین کام کرتے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت آنے والے اداروں میں حکومت ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ میں 24 فیصد حصہ ادا کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر گنگوار نے دعوی کیا کہ ملک میں منظم شعبے کے ملازمین کی تعداد 10 کروڑ ہوچکی ہے، جو سال 2014 میں چھ کروڑ تھی۔