کسانوں کی تحریک دارالحکومت میں 20 ویں دن بھی جاری
کورونا وائرس: ڈاکٹروں کو راحت دینے کا سپریم کورٹ کا مشورہ
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ ڈاکٹروں کو کچھ راحت (تعطیل) دینے پر غور کرے گی۔ یہ یقین دہانی اس وقت کرائی گئی جب کچھ ججوں پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ڈاکٹروں کو چھٹی دینے پر غور کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے منگل کے روز سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کی ڈیوٹی پر تعینات طبی عملہ (ڈاکٹروں) کو کچھ راحت (تعطیل) دینے پر غور کرے گی۔
مرکزی حکومت نے یہ یقین دہانی اس وقت کرائی جب جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ڈاکٹروں کو چھٹی دینے پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔
جسٹس بھوشن نے کہا کہ پچھلے سات آٹھ مہینوں سے مسلسل کورونا وائرس کے علاج میں مصروف ڈاکٹروں کی ذہنی صحت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ لہذا انہیں راحت دینے پر غور کرنا چاہئے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت عظمی کو یقین دلایا کہ وہ (حکومت) بنچ کے مشورے پر غور کرے گی۔ عدالت کورونا کے مریضوں کے مناسب علاج اور اسپتالوں میں لاشوں کی باعزت نگہداشت کے معاملے کی سماعت کررہی تھی۔
کورونا وائرس سے متعلق ایک اور معاملے میں عدالت عظمی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ لوگوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو ماسک پہننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف اس بات پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا کہ کسی ریاست نے ماسک نہیں پہننے والوں سے 80 یا 90 کروڑ روپے جرمانہ وصول کرلیا ہے۔
بی جے پی اور آر ایس ایس کا ’’حقیقی ہندو ازم‘‘ سے کوئی تعلق نہیں، یہ لوگ نفرت کے پیامبر ہیں: ممتا بنرجی
جلپائی گوڑی میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ نفرت انگیز سیاست سے بنگال کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں’’حقیقی ہندو نہیں‘‘ ہیں یہ لوگ صرف نفرت پھیلانے میں یقین رکھتے ہیں۔
کلکتہ: وزیر اعلی ممتا بنرجی نے آج شمالی بنگال کے عوام سے بی جے پی کو نکال باہر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا تعلق بنگال کی ثقافت اور کلچر سے نہیں ہے۔ نفرت انگیز سیاست سے بنگال کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں’’حقیقی ہندو نہیں‘‘ ہیں یہ لوگ صرف نفرت پھیلانے میں یقین رکھتے ہیں۔
جلپائی گوڑی میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ہم نے گزشتہ دس سالوں میں شمالی بنگال کی ترقی کے لئے بہت کچھ کیا۔ اس کے باوجود ہمیں شمالی بنگال سے ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ باہر سے آنے والی بی جے پی نے تمام سیٹوں پر جیت حاصل کی۔ آخر ہمارا قصور کیا تھا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی اپنے مخصوص مفاد کے لئے بنگال پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اصل میں وہ ہندو نہیں ہیں۔ ان کا رام کرشن یا سوامی ویویکانند کے نظریات اور فکر سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ لوگ صرف نفرت پھیلانے میں یقین رکھتے ہیں۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2021 کے اپریل، مئی میں ہونے کے امکانات
ترنمو ل کانگریس کے لیڈروں اور کارکنوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2021 کے اپریل یا پھر مئی میں ہونے کے امکانات ہیں۔ اس لئے ہمیں شمالی بنگال میں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ممتا بنرجی شمالی بنگال کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ انتخابی حکمت عملی طے کرنے اور ترنمول کانگریس کے لیڈروں، ورکروں سے ملاقات کریں گے۔ جلپائی گوڑی اور علی پوردوار اضلاع کے بوتھ صدور کے ساتھ ایک کور کمیٹی کے ساتھ میٹنگ کریں گی۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ بنگال کو بھی گجرات بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آئی پی ایس افسران کو دہلی طلب کرکے ریاست کے معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
شہریت ترمیمی ایکٹ کے نام پر دھوکہ
ممتا بنرجی نے بنگلہ دیش سے آنے والے رفیوجیوں کا اعتماد جیتنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے نام پر دھوکہ دیا جارہا ہے۔ ہم نے پہلے ہی اعلان کردیا ہے کہ ریاست میں تمام پناہ گزیں نہ صرف ہندوستانی شہری ہیں بلکہ وہ جس جگہ پر آباد ہیں وہ ان کی ملکیت ہے اور کوئی بھی ان کی زمین نہیں چھین سکتا ہے۔
شمالی بنگال میں گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ممتا بنرجی کو کراری شکست
خیال رہے کہ شمالی بنگال میں لوک سبھا انتخابات میں ممتا بنرجی کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب ممتا بنرجی دوبارہ اس کو حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہیں۔ شمالی بنگال میں کوچ بہار، علی پوردوار، جلپائی گوڑی، دارجلنگ، رائے گنج، بالورگھاٹ، شمالی مالدہ اور جنوبی مالدہ سمیت آٹھ لوک سبھا نشستوں میں سے ممتا بنرجی کی پارٹی ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ 7 سیٹوں پر بی جے پی کو کامیابی ملی اور ایک جنوبی مالدہ کی سیٹ پر کانگریس کے ابو ہاشم خان چودھری نے کامیابی حاصل کی۔
شمالی بنگال کی راج بنشی برادری کا دبدبہ ہے۔ اور شمالی بنگال کے 30 فیصد آبادی ان پر مشتمل ہے۔ شمالی بنگال کی 54 سیٹوں میں سے 50 سیٹوں پر راج بنشی کا اہم کردار ہے۔ ممتا بنرجی ان کے اعتماد کو حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہیں۔
آندھراپردیش کے ضلع کرنول میں دردناک سڑک حادثہ، 4 بچے ہلاک، دیگر 8 افراد زخمی
پولیس ذرائع کے مطابق، چرچ میں ہونے والے دعائیہ اجتماع میں شرکت کے لئے 40 افراد پیدل جارہے تھے کہ تیز رفتار لاری نے ان کو روند ڈالا۔ حادثے میں 15سالہ جھانسی، 15سالہ سشمیتا، 10سالہ ومشی اور 10سالہ ہرش وردھن ہلاک ہوگئے۔
حیدرآباد: آندھراپردیش کے ضلع کرنول میں پیش آئے سڑک حادثہ میں چار بچے ہلاک اور دیگر 8 افراد زخمی ہوگئے۔ یہ خطرناک حادثہ کرنول۔چتور ریاستی شاہراہ پر یراگنٹلہ گاؤں کے قریب اُس وقت پیش آیا جب بے قابو لاری نے ان کو روند ڈالا۔
پولیس ذرائع کے مطابق، چرچ میں ہونے والے دعائیہ اجتماع میں شرکت کے لئے 40 افراد پیدل جارہے تھے کہ تیز رفتار لاری نے ان کو روند ڈالا۔ اس حادثہ میں 15سالہ جھانسی، 15سالہ سشمیتا، 10سالہ ومشی اور 10سالہ ہرش وردھن ہلاک ہوگئے۔ جھانسی موقع پر ہی ہلاک ہوگئی جبکہ سشمیتا، ومشی اور ہرش وردھن نے نندیال کے سرکاری اسپتال میں علاج کے دوران آخری سانس لی۔
زخمیوں کو علاج کے لئے نندیال کے سرکاری اسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔ سرکاری اسپتال میں ہیجان انگیز مناظر دیکھے گئے کیونکہ مرنے والے بچوں کے والدین اور زخمیوں کے رشتہ داروں کو اشکبار دیکھا گیا۔ دو طلبہ کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
اس حادثہ کے بعد لاری کا ڈرائیور وہاں سے فرار ہوگیا، تاہم پولیس نے اس لاری کا تعاقب کیا اور ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہے۔ حادثہ میں مرنے والے بچوں کے ماں باپ اور رشتہ داروں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ان کے علاقوں میں مایوسی چھائی ہوئی ہے۔
انا ہزارے آئے سامنے، دی بھوک ہڑتال کی دھمکی
انا ہزارے نے وزیر زراعت کو ارسال کئے گئے مکتوب میں کہا کہ 5 فروری 2019 کو وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ اور کئی دوسرے لیڈروں کی درخواست پر بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔ انہیں تحریری یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ اب وہ کہیں بھی اور کسی وقت بھی بھوک ہڑتال شروع کریں گے، حکومت کو اس تعلق سے اطلاع دے دی جائے گی۔
انا ہزارے نے وزیر زراعت کو ارسال کئے گئے مکتوب میں کہا کہ 5 فروری 2019 کو وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ اور کئی دوسرے لیڈروں کی درخواست پر بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔ انہیں تحریری یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ اب وہ کہیں بھی اور کسی وقت بھی بھوک ہڑتال شروع کریں گے، حکومت کو اس تعلق سے اطلاع دے دی جائے گی۔
انا ہزارے نے کہا کہ کمیشن فار ایگریکلچر کاسٹ اینڈ پرائس کو الیکشن کمیشن جیسا آئینی درجہ دے کر خود مختاری دینا، سوامی ناتھن کمیشن کی سفارش کے مطابق زرعی پیداوار کی قیمت سی 2 + 50 طے کرنا، پھلوں، سبزیوں اور دودھ کے لئے منیمم سپورٹ پرائس لاگو کرنا، کسانوں کو قرض سے مبرا کے لئے اقدامات کرنا، درآمدات اور برآمدات کی پالیسی کا تعین کرنا، جدید تکنیکی زرعی آلات اور پانی بچانے کے لئے ڈریپ ایریگیشن جیسی سہولت پر 80 فیصد گرانٹ دینا، ان تمام مطالبات پر غوروخوض کر کے صیحح فیصلہ لینے کے لئے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ کمیٹی میں مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت، نیتی آیوگ کے ممبر رمیش چند سمیت دیگر ممبر شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی 30 اکتوبر 2019 سے پہلے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
5 فروری 2019 کی زیر التوا بھوک ہڑتال پھر سے شروع
انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کی رپورٹ کے تحت مرکزی حکومت مذکورہ معاملات پر مناسب کارروائی کرے گی۔ اس طرح کی تحریری یقین دہانی 5 فروری 2019 کو وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ اور مہاراشٹر کے اس وقت کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے رالیگن سدھی آ کر کرائی تھی۔ اس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا۔ اس لئے پانچ فروری 2019 کی زیر التوا بھوک ہڑتال پھر سے شروع کرنے کی سوچ شروع ہوگئی ہے۔ جلد ہی بھوک ہڑتال کہاں اور کب شروع کرنی ہے، تاریخ کے طے ہونے کے بعد آپ کو اطلاع دے دی جائے گی۔
امریکہ نے ترکی کی دفاعی صنعت پر لگائی پابندی
امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ مصطفی ڈینس، سیرہاٹ گینکوگلو اور فاروق یزیت دفاعی صنعت کے صدارتی عہدے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سبھی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
مغربی بنگال: سابق ڈی جی پی نپرجیت مکھرجی کی آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات
ذرائع کے مطابق، موہن بھاگوت کو اتوار کی شام نپرجیت مکھرجی کے گھر جانا تھا۔ لیکن سابق ڈی جی پی خود آر ایس ایس کے سربراہ کے پاس ملاقات کے لئے گئے۔ اس کے بعد سے ہی سیاسی میدان میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ دوسری طرف، نپرجیت مکھرجی کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
کلکتہ: مغربی بنگال کے سابق ڈی جی پی نپرجیت مکھرجی نے اتوار کو کلکتہ میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کی۔ اس کے بعد سے ہی سیاسی میدان میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔
موہن بھاگورت مغربی بنگال کے دو روزہ دورے پر تھے۔ انہوں نے کلکتہ میں پارٹی آفس کیشب بھون میں مکھرجی سے ملاقات کی۔ آر ایس ایس کا دعوی ہے کہ یہ ملاقات خیر سگالی کی ملاقات تھی۔ دوسری طرف، نپرجیت مکھرجی کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، موہن بھاگوت کو اتوار کی شام نپرجیت مکھرجی کے گھر جانا تھا۔ لیکن سابق ڈی جی پی خود آر ایس ایس کے سربراہ کے پاس ملاقات کے لئے گئے۔ جب وہ کیشب بھون میں داخل ہو رہے تھے تو اس وقت نپرجیت مکھرجی کے ہاتھ میں کچھ فائلیں تھیں۔
ذرائع کے مطابق بھاگوت اور نپرجیت کے درمیان کم از کم ایک گھنٹہ ملاقات کا سلسلہ جاری رہا۔ تاہم دونوں کے درمیان ملاقات کے وقت کیا بات ہوئی یہ بات سامنے نہیں آئی ہے۔ بھاگوت ہفتے کے روز دو روزہ دورے پر کولکاتہ پہنچے تھے۔ اتوار کے دن، وہ آرٹسٹ تیجندر نارائن مجمدار کے گھر گئے۔ تیجندر نارائن نے بتایا کہ وہ قریب دو گھنٹے تک ان کے گھر پر موجود تھے۔ وہاں انہوں نے کلاسیکل میوزک کا لطف لیا۔ تاہم، وہ اسمبلی انتخابات سے قبل ایک بار پھر کلکتہ آسکتے ہیں۔
امریکی الیکشن کمیشن کی جانب سے جو بائیڈن کی فتح اور ٹرمپ کی شکست کا باضابطہ اعلان
امریکی الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کی فتح اور ٹرمپ کی شکست کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ انتخابی نتائج کےمطابق جو بائیڈن کو 548 الیکٹورل ووٹ میں سے 306 جبکہ ٹرمپ نے 232 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے۔
واشنگٹن: امریکی الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کی فتح اور ٹرمپ کی شکست کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج کی تمام 50 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا نے تصدیق کی ہے۔
نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس کے جو بائیڈن نے 81 اعشاریہ 3 ملین یعنی 8 کروڑ 13 لاکھ جبکہ ریپبلکن کے ٹرمپ نے 7 کروڑ 42 لاکھ ووٹ حاصل کیے ہیں۔
انتخابی نتائج کےمطابق جو بائیڈن کو 548 الیکٹورل ووٹ میں سے 306 جبکہ ٹرمپ نے 232 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے۔
پرتاپ گڑھ میں بولیرو درخت سے ٹکرا گئی، ایک فوجی سمیت 5 افراد ہلاک
اترپردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ کے کندھائی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب کانسٹیبل سنجیو یادو اور اس کے رشتہ دار منگنی کی تقریب سے واپس آرہے تھے۔ گھنے دھند کے سبب تیز رفتار بولیرو ایک درخت سے جا ٹکرائی۔ جس سے ایک فوجی سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
ریپبلک ٹی وی کے سی ای او گرفتاری کے بعد 15 دسمبر تک پولیس تحویل میں
ٹی آر پی گھوٹالے میں گرفتار ہونے والا 13 واں ملزم ریپبلک ٹی وی کے سی ای او وکاس خان چندانی کو 15دسمبر تک پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں ممبئی پولیس نے ریپبلک ٹی وی سمیت کم از کم تین ٹیلی ویژن چینلز کے خلاف کاروائی کی تھی۔
ممبئی: ممبئی پولیس نے اتوار کے روز ٹی آر پی گھوٹالہ کیس کی جاری تحقیقات کے سلسلے میں ریپبلک ٹی وی کے سی ای او وکاس خان چندانی کو گرفتار کیا ہے۔ بعد میں اسے تعطیل کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جس نے اسے 15دسمبر تک پولیس تحویل میں دئیے جانے کا حکم جاری کیا۔
وکاس ٹی آر پی گھوٹالے میں گرفتار ہونے والا 13 واں ملزم ہے اس معاملے میں پولیس نے ریپبلک ٹی وی سمیت کم از کم تین ٹیلی ویژن چینلز کے خلاف کاروائی کی تھی۔
ریپبلک ٹی وی نے اس گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے سی او کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے تقریبا نصف شب تین بجے انکے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ چینل ریپبلک ٹی وی نے ایک آزاد نیوز تنظیم پر حملے روکنے کے لئے عدالتوں سے مداخلت کی قومی اپیل جاری کی ہے، جس میں ایک # ہیش ٹیگ، # فری ری پبلک ای سی او کے ساتھ ہے۔
چینل نے بتایا کہ وکاس کو گرفتاری سے قبل متعدد مرتبہ پولیس نے طلب کیا تھا اور تقریبا 100 گھنٹوں سے زائد اس سے تفتیش کی گئی۔ نیز اسکی گرفتاری سے بچنے کی درخواست قبل از گرفتاری کی سماعت ابھی سیشن عدالت میں التواء میں پڑی ہے۔ اس کے باوجود بھی انھیں گرفتار کرکے ممبئی پولیس حق کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے جو ناقابل برداشت ہے۔










