ہفتہ, مارچ 21, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 421

فیڈیکس کو فائزر- بایو انٹیک سے ویکسین ملنا شروع، امریکی ریاستوں کو پیر سے ویکسین ملنے کی امید

0

فیڈیکس کے نمائندے بونی ہیریسن کے بیان کے مطابق، فائزر-بایو انٹیک سے کووڈ – 19 اینٹی ویکسین ملنا شروع ہوگیا ہے۔ امریکہ میں ویکسین کی فراہمی کے لئے ’آپریشن وارپ اسپیڈ‘ کے ایک افسر کے مطابق، امریکی ریاستوں کو پیر سے ’فائزر بایو انٹیک‘ کی ویکسین مل سکتی ہے۔

واشنگٹن: ملٹی نیشنل ڈلیوری سروسز کمپنی فیڈیکس کو ’فائزر-بایو انٹیک‘ سے کووڈ – 19 اینٹی ویکسین ملنا شروع ہوگیا ہے۔ ’کمرشیل اپیئل‘ اخبار نے اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی ہے۔

فیڈیکس کے نمائندے بونی ہیریسن نے کہا ’’یہ ویکسین ہمارے نیٹ ورک تک پہنچنا شروع ہوگیا ہے۔‘‘

امریکہ میں ویکسین کی فراہمی کے لئے ’آپریشن وارپ اسپیڈ‘ کے ایک افسر جنرل گستاؤ پیرنا نے بتایا کہ امریکی ریاستوں کو پیر سے ’فائزر بایو انٹیک‘ کی ویکسین مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا امید ہے کہ پیر کی صبح پہلی کھیپ آئے گی ۔ ہم نے ویکسین کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی اور مقامی لا انفورسمنٹ ایجنسیوں سمیت ’فازئر‘، ’میک کیسن‘، ’یو پی ایس‘ اور ’فیڈیکس‘ کے ساتھ حکمت عملی بنائی ہے۔ بغیر کسی غلطی کے فی الحال سپلائی کا کام شروع ہوچکا ہے‘‘۔

عالمی رہنماؤں سے اقوام متحدہ کی ’موسمیاتی ایمرجنسی حالات‘ کا اعلان کرنے کی اپیل

0

پیرس معاہدہ کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر اقوام متحدہ، برطانیہ اور فرانس نے 2020 کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ سربراہی اجلاس کے شرکاء نے موسمیاتی تبدیلی کے حالات سے نمٹنے کے لئے اقدامات پر توجہ دی۔ سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کو اپنی آنے والی نسلوں کے لئے زمین کو بچانے کے لئے آگے آنا چاہئے۔

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے 2020 کے موسمیاتی تبدیلی کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم ’کاربن نیوٹرلٹی‘ کی پوزیشن حاصل نہیں کرلیتے، موسمیاتی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا جانا چاہئے۔
مسٹر گوٹریس نے کہا ’’آج میں دنیا بھر کے تمام رہنماؤں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جب تک ’کاربن نیوٹرلٹی‘ کی حیثیت حاصل نہیں کر لیتے تب تک وہ اپنے اپنے ملکوں میں ’موسمیاتی ایمرجنسی‘ کا اعلان کریں۔‘‘
پیرس معاہدہ کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر اقوام متحدہ، برطانیہ اور فرانس نے 2020 کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ سربراہی اجلاس کے شرکاء نے تبدیلی موسمیاتی کے حالات سے نمٹنے کے لئے اقدامات پر توجہ دی۔
سکریٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کو اپنی آنے والی نسلوں کے لئے زمین کو بچانے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا ’’میں سبھی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عزم کا مظاہرہ کریں اور ہماری زمین کے استحصال کو روکیں۔ ہمیں اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے مستقبل کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے‘‘۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر عالمی سطح پر اخراج کو 2010 کی سطح کے مقابلے میں 2030 تک 45 فیصد تک کم کیا گیا تو عالمی برادری ’کاربن نیوٹرلٹی‘ حاصل کرسکتی ہے۔
پیرس معاہدہ کو 196 ممالک نے 12 دسمبر 2015 کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی معاہدے اپنایا اور اس کو 4 نومبر 2016 کو نافذ کیا گیا تھا۔

اتراکھنڈ: شادی میں ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر 25 افراد کے خلاف مقدمہ درج

0

ہلدوانی پولیس کے مطابق شیث محل کے کینال روڈ پر کچھ لوگوں کے ذریعہ شادی کے بہانے سڑک جام کیا گیا اور کورونا وائرس کے ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی۔ پولیس نے 25 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

نینی تال: اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں پولیس نے شادی کی تقریبات میں کورونا وائرس کے ہدایات کی خلاف ورزی کرنے اور سڑک پر جام کرنے کے الزام میں 25 افراد کے خلاف ہفتہ کے روز مقدمہ درج کیا۔

یہ معاملہ شیث محل تھانہ کے شیوالک وہار فیز 2 کا ہے۔ ہلدوانی پولیس کے مطابق شیث محل کے کینال روڈ پر کچھ لوگوں کے ذریعہ شادی کے بہانے سڑک جام کیا گیا اور شادی کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی۔ جس سے عام لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیس کے مطابق علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے پولیس نے آج ملزم بھولا دتہ اور 25 دیگر افراد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 341 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ پولیس معاملے کی مزید چھان بین کر رہی ہے۔

جھانسی: کسانوں کے سوالات پر لاجواب ہوئے بی جے پی نائب صدر

0

بھارتیہ جنتا پارٹی نائب صدر رادھا موہن سنگھ کسانوں کے مسائل سے متعلق میڈیا نمائندوں کے ذریعہ پوچھے گئے سوالوں پر لاجواب ہوگئے اور کسانوں کے مسائل پر پوچھے گئے تلخ سوالوں کو نظر انداز کردیئے۔

جھانسی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے راشٹریہ نائب صدر اور ریاست کے انچارج رادھا موہن سنگھ کے ہفتہ کو اپنے دورے کے دوران کسانوں کے مسائل سے متعلق میڈیا نمائندوں کے ذریعہ پوچھے گئے چبھتے سوالوں پر لاجواب ہوگئے۔

نائب صدر نے یہاں سرکاری آڈیٹوریم میں ڈویژن انچارجوں کے ساتھ میٹنگ کی۔ میٹنگ سے قبل میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران مرکز کی نریندر مودی حکومت کی جم کر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 100سال میں یہ پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے کہ ملک کی عوام وزیر اعظم مودی کے ساتھ کھڑی ہے۔ بہار کے الیکشن، اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے ضمنی انتخابات اس بات کے ثبوت ہیں۔

لیکن میڈیا نمائندوں کے کسانوں کے مسائل پر پوچھے گئے تلخ سوالوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کارکنوں کی میٹنگ میں مشغول ہوگئے۔ اس میٹنگ میں وہ کارکنوں اور پارٹی کے لیڈروں سے کئی موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے اور آنے والے انتخابات میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے بھی بات چیت کریں گے۔

حکومت جلد ہی کسانوں کا ڈیٹا بینک تیار کرے گی

0

مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت نے جلد ہی کسانوں کا ڈیٹا بینک تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا مقصد کاشتکاروں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے، زرعی شعبے کو فائدہ ہو اور نئی نسل زراعت کی طرف راغب ہو۔

نئی دہلی: حکومت جلد ہی کسانوں کا ڈیٹا بینک تیار کرے گی، تاکہ سیلاب کی وارننگ، سیٹلائٹ کی تصاویر، زمین کے محصولات کے ریکارڈ وغیرہ کے بارے میں معلومات گھر پر دستیاب ہوں۔
مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے ہفتہ کے روز کہا کہ مرکزی حکومت کسانوں اور زرعی شعبہ کو خوشحال بنانے کے لئے پوری کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں اس سمت میں اہم اقدامات کئے گئے ہیں، جس کے ثمرات کاشتکاروں کو ملنا بھی شروع ہوگئے ہیں۔ حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں کو بھی فائدہ پہنچا رہی ہے۔
تومر نے یہ بات ’ایلیٹس ٹیکنومیڈیا‘ کے زیر اہتمام سہ روزہ ’نالج ایکسچینج سمٹ‘ کے دسویں ایڈیشن کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کاشتکاروں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے، زرعی شعبے کو فائدہ ہو اور نئی نسل زراعت کی طرف راغب ہو۔
ملک میں زرعی اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ اس اجلاس میں وزیر زراعت نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصہ میں زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں کچھ نئی جہتیں شامل کی گئیں۔ وزیر اعظم نے اس سیکٹر کو ترجیح دی ہے، ریاستوں کے ساتھ مل کر گاؤں کے غریب کسانوں کی ترقی بنیادی مقصد ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہمارے دیہات اور زرعی علاقے برسوں سے اس ملک کی طاقت بنے ہوئے ہیں، جن کو حکومت مزید مضبوط بنانے پر پوری توجہ دے رہی ہے۔

کسانوں کو اور کتنی قربانی دینی ہوگی: راہل

0

کانگریس نے کہا ’’پچھلے 17 دنوں میں 11 کسان بھائیوں کی شہادت کے باوجود بے لگام مودی حکومت کا دل نہیں پسیج رہا۔ وہ اب بھی کسانوں کے ساتھ نہیں، اپنے صنعت کاروں کے ساتھ کیوں کھڑی ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ حکومت شدید ٹھنڈ کے باوجود تحریک کرنے کے لئے مجبور کسانوں کی بات سننے کو تیار نہیں ہے اس لئے اسے بتانا چاہئے کہ کسانوں کو ابھی کتنی قربانی دینی ہوگی۔

کانگریس مواصلاتی محکمے کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا ’’پچھلے 17 دنوں میں 11 کسان بھائیوں کی شہادت کے باوجود بے لگام مودی حکومت کا دل نہیں پسیج رہا۔ وہ اب بھی کسانوں کے ساتھ نہیں، اپنے صنعت کاروں کے ساتھ کیوں کھڑی ہے۔ ملک جاننا چاہتا ہے – ’راج درھم‘ بڑا ہے یا ’راج ہٹھ‘ کسان تحریک۔‘‘

انہوں نے کہا ’’جمہوریت میں بے لگامی کی کوئی جگہ نہیں۔ آپ اور آپ کے وزرا کی پالیسی ہر مخالف کو ماؤنوازی اور ملک سے غدار قرار دینے کی ہے۔ شدید سردی اور برسات میں جائز مطالبات کے لئے دھرنے پر بیٹھے کسانوں سے معافی مانگئے اور ان کے مطالبات فوری طور پر پورے کرئے۔‘‘

ڈبلیو ایچ او کی کووڈ 19 ویکسین کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی اپیل

0

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے دنیا بھر کی حکومتوں سے شہریوں کو کوڈ – 19 ویکسین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت ہی کم لوگ قطرے پلانے کے لئے تیار ہیں۔

ماسکو: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے دنیا بھر کی حکومتوں اور صحت سے متعلق حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ شہریوں کو کوڈ – 19 ویکسین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہ کریں۔
محترمہ سوامی ناتھن نے کہا ’’دنیا بھر کی حکومتیں اور صحت عامہ کے عہدیداروں کو اپنے ملکوں کے شہریوں پر ویکسین لگانے کے عمل کی وضاحت کے لئے اقدامات کرنا شروع کردیں۔ کیونکہ معاملات تیزی سے چل رہے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔ کووڈ – 19 کے حوالے سے بہت سارے حقیقی سوالات ہیں جن کے جوابات لوگوں کو دینے کی ضرورت ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ بہت ہی کم لوگ قطرے پلانے کے لئے تیار ہیں۔

موجودہ ڈبلیو ایچ او کی فہرست میں کووڈ – 19 سے متعلق 48 ویکسین ہیں۔ کچھ ویکسین تیار کرنے والوں نے ویکسین کے فیز III ٹرائلز کے عبوری نتائج جاری کرنا شروع کردیئے ہیں۔ روس کے اسپوتنک وی، امریکہ کے فائزر / بائیوٹیک اور موڈیرنا نے ابتدائی اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق یہ ویکسین کورونا سے 90 فیصد بچاؤ کرتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس سے اب تک دنیا بھر میں مجموعی طور پر 69،143،017 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 1،576،516 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ریل مسافروں کے لئے خوشخبری، جلد چلیں گی عام ٹرینیں: پنت

0

شمال مشرقی ریلوے عزت نگر ڈویژن کے ریلوے منیجر آشوتوش پنت نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ ریلوے بورڈ کی ہدایت پر ‘زیرو وے ورکنگ ٹائم ٹیبل’ کا عمل پورا ہونے پر ہی معمول کے مطابق ٹرینوں کا آغاز مرحلہ وار طریقے سے ممکن ہو پائے گا۔

فرخ آباد: شمال مشرقی ریلوے عزت نگر ڈویژن کے ریلوے منیجر آشوتوش پنت نے جمعہ کو کہا کہ ریلوے بورڈ کی ہدایت پر ‘زیرو وے ورکنگ ٹائم ٹیبل’ کا عمل پورا ہونے پر ہی جنرل ٹرینیں دھیرے دھیرے چلائی جائیں گی۔

مسٹر پنت نے ڈویژن کے کاس گنج ۔ فرخ آباد ریلوے روٹ کے مختلف اسٹیشنوں اور ٹریک لائن کا ونڈو جائزہ لیا۔ اس کے بعد فرخ آباد جنکشن اسٹیشن پر مسٹر پنت نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ ریلوے بورڈ سے ٹرینوں کے چلانے کا فیصلہ ہونے پر ہی دھیرے دھیرے گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جن میں پرائیویٹ شعبے کی ٹرینیں الگ سے چل رہی ہیں۔

ڈویژن ریل منیجر نے کہا کہ معمول کے مطابق لوکل ٹرینوں کے بند رہنے سے ریل مسافروں کو کافی دقتوں کا سامنا ہے لیکن کورونا انفیکشن سے بچاؤ کے لئے اچانک سبھی ٹرینیں نہیں چل سکتی ہیں۔ ریلوے بورڈ کی ہدایت پر ‘زیرو وے ورکنگ ٹائم ٹیبل’ کا عمل پورا ہونے پر ہی معمول کے مطابق ٹرینوں کا آغاز مرحلہ وار طریقے سے ممکن ہو پائے گا۔ اس ٹائم ٹیبل کا سبھی انتظار کررہے ہیں۔

وزارت داخلہ نے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو طلب کیا

0

وزارت داخلہ نے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو ایک مکتوب ارسال کرکے پیر کے روز انھیں طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام ریاستی حکومت کی جانب سے رپورٹ ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر جے پی نڈا کے قافلے پر مغربی بنگال میں جمعرات کو پتھراؤ کے واقعہ کو بے حد سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو پیر کے روز طلب کیا ہے۔ 

وزارت نے اس معاملے میں جمعرات کو ہی ریاستی حکومت سے لاء اینڈ آرڈر (امن عامہ) کی صورتحال اور اس واقعہ کے بارے میں رپورٹ مانگی تھی۔ 

وزارت داخلہ نے مزید ایک اقدام کرتے ہوئے جمعہ کے روز مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو ایک مکتوب ارسال کرکے پیر کے روز انھیں طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام ریاستی حکومت کی جانب سے رپورٹ ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مسٹر نڈا مغربی بنگال کے دو روزہ دورے کے دوسرے دن یعنی جمعرات کو جب ڈائمنڈ ہاربر جا رہے تھے تو ان کے قافلے پر پتھراؤ کیا گیا۔ بدھ کے روز مغربی بنگال یونٹ کے صدر نے وزارت داخلہ کو خط لکھ کر مسٹر نڈا کی سیکیورٹی کے سلسلے میں برتی گئی لاپرواہی کا معاملہ اٹھایا تھا۔

مرکزی حکومت اس حملے کی مکمل سنجیدگی سے نوٹس لے رہی ہے

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ مرکز اس واقعہ کی سنجیدگی سے نوٹس لے رہا ہے۔ 

انہوں نے ٹویٹ کیا، ’بنگال میں بی جے پی کے قومی صدر جگت پرکاش نڈا پر ہوا حملہ بہت ہی قابل مذمت ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ مرکزی حکومت اس اسپانسرڈ حملے کو مکمل سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ بنگال حکومت کو اس حملے کے لیے ریاست کے امن پسند عوام کو جواب دینا ہوگا۔ ترنمول حکومت میں بنگال ظلم، انارکی اور اندھیرے کے زمانے میں جا چکا ہے۔ ٹی ایم سی کی حکومت میں مغربی بنگال کے اندر جس طرح سے سیاسی تشدد کو ادارہ جاتی بنا کر انتہا پر پہنچایا گیا ہے، وہ جمہوری اقدار میں یقین رکھنے والے تمام لوگوں کے لیے تکلیف دہ بھی ہے اور تشویشناک بھی‘۔

کیا اصلاحات کے لیے بھارت کی جمہوریت صحت مند ہونے کی بجائے حد سے زیادہ ہوگئی ہے؟

0
کیا اصلاحات کے لیے بھارت کی جمہوریت صحت مند ہونے کی بجائے حد سے زیادہ ہوگئی ہے؟

نیتی آیوگ کے سی ای او امیتابھ کانت نے اصلاحات میں رکاوٹ کا سارا ٹھیکرا ملک کی جمہوریت یا "حد سے زیادہ جمہوریت” پر پھوڑ ڈالا، لیکن جن کی فلاح کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے اگر وہی نا خوش ہیں، تو ایسے قانون کا فائدہ ہی کیا؟

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

جمہوریت کی اصطلاح کے لیے مختلف معانی اور تشریحات بیان کی جاتی ہیں۔ جمہوریت کو ایک سیاسی، اخلاقی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کا نام دیا جاتا ہے۔ جمہوریت کے وضع کردہ اصولوں کی بنا پر ہم کسی حکومت، ریاست، معاشرے یا نظریے کو جانچ سکتے ہیں کہ کیا وہ نظام یا نظریہ جمہوری ہے یا نہیں۔ جہاں تک جمہوری حکومت کا تعلق ہے تو کہا جاتا ہے کہ "عوام کے ذریعہ، عوام کے لیے، عوام کی حکمرانی” ہی جمہوری حکومت ہے۔ لیکن الگ الگ ادوار اور حالات میں جمہوریت کے استعمال سے اس کی اصطلاح کچھ پیچیدہ ہو گئی ہے۔

عام طور پر جمہوری حکومت سے مراد ایک ایسی حکومت ہے جس میں اختیارات اور فیصلہ سازی کا منبع عوام ہوتے ہیں۔ عوام اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ انہیں کس طرح کا حکومتی، انتظامی، عدالتی، معاشی اور معاشرتی نظام پسند ہے۔ جمہوری نظامِ حکومت کی ایک شکل نمائندہ حکومت ہوتی ہے جس میں عوام اپنے نمائندے منتخب کر کے نظامِ حکومت انہیں سونپ دیتے ہیں۔ اب یہ منتخب حکومت یا جماعت کی صوابدید پر ہے کہ وہ اُن عوام کی کتنی خیر خواہ ثبت ہوتی ہے جنہوں نے اسے یہ منصب سونپا ہے۔

موجودہ حکومت اور جمہوری اصول

پھر یہ حکومت اپنے عوام کے لیے کتنی سود مند ثابت ہوئی ہے، اس کو جانچنے اور پرکھنے کا پیمانہ یہ ہے کہ کیا اس ملک میں لوگوں کو اپنی بات کے اظہار اور سرکار کی پالیسیوں پر آزادانہ طریقہ سے اپنی رائے رکھنے اور تنقید کرنے کی آزادی ہے یا نہیں؟ کیا اس ملک میں مضبوط اپوزیشن موجود ہے یا نہیں؟ کیا وہاں آئین اور قانون کی حکمرانی ہے یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج ہے؟

اس کی جانچ کا پیمانہ یہ بھی ہے کہ کیا اس ملک میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی ہے یا نہیں؟ چونکہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں یا قانون کا اطلاق مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ کیا ہر کسی کی جان اور مال محفوظ ہے یا نہیں؟ معاشی اور معاشرتی انصاف موجود ہے یا معاشرہ طبقاتی نظام میں تقسیم ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا اس ملک کا میڈیا آزاد ہے یا اس پر قدغن لگائی گئی ہے؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں، جن کی روشنی میں ہم اپنی اپنی جمہوری حکومتوں کے کام کاج اور اس کے طریقہ کار کو جانچ سکتے ہیں۔

کیا اس ملک میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی ہے؟ کیا ہر کسی کی جان اور مال محفوظ ہے؟ معاشی اور معاشرتی انصاف موجود ہے یا معاشرہ طبقاتی نظام میں تقسیم ہے؟ اور کیا اس ملک کا میڈیا آزاد ہے یا اس پر قدغن لگائی گئی ہے؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں، جن کی روشنی میں ہم اپنی اپنی جمہوری حکومتوں کے کام کاج اور اس کے طریقہ کار کو جانچ سکتے ہیں۔

اب اس تناظر میں ہم اپنی موجودہ حکومت کی کارکردگی کو دیکھیں اور پرکھیں، تو پائیں گے کہ موجودہ حکومت مذکورہ جمہوری اصولوں پر کھری نہیں اترتی ہے۔ اگر کہا جائے کہ ’عوام کے ذریعہ، عوام کے لیے، عوام کی حکمرانی‘ کا اصول بالائے طاق رکھ دیا گیا ہےتو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔

فی الحال ملک کے کسان جن قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، اس سے پہلے بھی موجودہ مودی حکومت نے ایسے قوانین وضع کئےیا ایسے اقدامات کئے کہ ان اقدامات سے براہ راست جن لوگوں (عوام) کا تعلق تھا، انھیں یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ نہ کسانوں سے یا ان کے نمائندوں سے کوئی رائے مشورہ اور نہ ہی دوسرے طبقہ سے کو ئی گفت و شنید کی گئی۔ مثال کے طور پر جس طرح حال ہی میں لائے گئے زرعی قوانین میں کسانوں یا ان کے نمائندوں سے کوئی رائے مشورہ نہیں کیا گیا، ٹھیک اسی طرح گزشتہ برس طلاق ثلاثہ سے متعلق قانون بنانے سے پہلے مسلمانوں، ان کے نمائندوں یا ماہرین شریعت سے کوئی گفت و شنید نہیں کی گئی۔

 کیا اس ملک میں لوگوں کو اپنی بات کے اظہار اور سرکار کی پالیسیوں پر آزادانہ طریقہ سے اپنی رائے رکھنے اور تنقید کرنے کی آزادی ہے؟ کیا اس ملک میں مضبوط اپوزیشن موجود ہے؟ کیا آئین اور قانون کی حکمرانی ہے یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج ہے؟

لاکھوں مسلمان مخالفت اور احتجاج کرتے رہے، لیکن ایک نہیں سنی گئی۔ اس کے بعد شہریت ترمیم بل، این آر سی اور این پی آر جیسے اقدامات ہوں یا حال ہی میں یو پی کی آدتیہ ناتھ حکومت کے ذریعہ مفروضہ پر مبنی مبینہ لو جہاد سے متعلق آرڈیننس، یا پھر جموںو کشمیر سے دفعہ 370 اور 35 اے کا خاتمہ، یا اس سے پہلے  نوٹ بندی کرنے کا فیصلہ۔ ان تمام اقدامات میں بہت کچھ یکسانیت پائی جاتی ہے۔

پہلی تو یہی کہ جن لوگوں سے متعلق یہ قوانین بنائے گئے یا اقدامات کئے گئے، نہ تو ان سے کوئی رائے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی ان کو اعتماد میں لیا گیا۔ دوسرا یہ کہ اگر حکومت کے یہ اقدامات متعلقہ طبقوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئے گئے تو پھر وہی طبقات ان کے خلاف سراپا احتجاج کیوں ہیں؟ پھر تو ’عوام کے ذریعہ، عوام کے لیے، عوام کی حکمرانی‘ کا اصول بے معنی ہو کر رہ گیا۔

کیا حکومت کوئی اعداد و شمار پیش کر سکتی ہے کہ طلاق ثلاثہ کے خلاف جب سے قانون بنایا گیا ہے، ایسی طلاق کے واقعات میں کتنے فیصد کی کمی آئی ہے؟ اسی طرح گزشتہ برس 11 دسمبر کو حکومت نے متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا اور 11 جنوری 2020 میں اسے نافذ کر دیا گیا۔ اس بارے میں بھی کوئی بہت خوش آئند اطلاعات نہیں ہیں۔

شہریت ترمیمی ایکٹ اور جمہوریت

گزشتہ 26 نومبر کو  ٹی وی 9 (TV9) نے ایک رپورٹ دی تھی کہ سی اے اے کے بھروسہ ہندوستان آئے پاکستانی ہندو اور سکھ مایوس ہیں اور مالی تنگی اور دیگر پریشانیوں کے سبب تقریباً 243 پناہ گزین واپس جائیں گے۔ ان لوگوں کو واگہا سرحد سے واپس جانے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔ افسران کے مطابق پاکستانی پناہ گزینوں کے واپس جانے کی زیادہ تردرخواستیں گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور دہلی سے آئی ہیں۔

غور طلب ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ نافذ ہونے کے بعد 31 دسمبر 2014 تک پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے ہندوستان آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی (مسلمان نہیں) پناہ گزینوں کو ہندوستان کی شہریت دی جائے گی۔ ابھی یہ تنازع ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ این آر سی کا مسئلہ پیدا کر دیا گیا۔

سی اے اے کے بھروسہ ہندوستان آئے پاکستانی ہندو اور سکھ مایوس ہیں اور مالی تنگی اور دیگر پریشانیوں کے سبب تقریباً 243 پناہ گزین واپس جائیں گے۔ ان لوگوں کو واگہا سرحد سے واپس جانے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔

این آر سی یعنی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن۔ پہلے یہ آسام تک محدود تھا، لیکن مودی حکومت نے بغیر کسی وضاحت کے اسے پورے ملک میں نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ آسام میںاین آر سی کے تحت تقریباً 20 لاکھ افراد شہریت کی فہرست میں جگہ نہیں بنا سکے۔

بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سے ہی آسام کے باشندوں کا کہنا تھا کہ ان کے یہاں بڑی تعداد میں لوگوں کے آ جانے سے ان کے تشخص کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ یہ بی جے پی کے لیے ایک سیاسی ایشو تھا، لہذا اس نے اس مسئلہ کو خوب اٹھایا، لیکن جب حتمی فہرست تیار ہوئی تو باہر ہونے والوں میں اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ اس کے بعد بی جے پی نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ پھر بی جے پی سے وابستہ لوگ طرح طرح کے بیانات دیتے رہے، جس سے معاملہ پیچیدہ ہوتا گیا۔

شہریت ترمیمی ایکٹ اور خدشات

یہ ٹھیک ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ ہندوستان کے شہریوں کے لیے نہیں ہے، لیکن این آر سی اور سی اے اے کی مخالفت اس لئے ہوئی کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے خود اپنی تقاریر اور بیانات میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی دونوں کو ایک دوسرے سے منسلک بتایا۔

لوگوں میں خدشات کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ مودی نے ایک عوامی جلسہ میں کہا کہ این آر سی پر ابھی کوئی بات نہیں ہوئی ہے، جبکہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا کہ این آر سی آکر رہے گا۔ اس کے علاوہ مودی حکومت نے نوٹ بندی کا اعلان کیا۔

نوٹ بندی اور کالا دھن

دعویٰ کیا گیا یہ اقدام کالا دھن واپس لانے، نقلی کرنسی باہر کرنے، دہشت گردی اور نکسل ازم پر قدغن لگانے، رشوت خوری روکنے وغیرہ وغیرہ کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن اس فیصلہ کے بعد جو اعداد و شمار سامنے آئے، اور غریبوں اور متوسط طبقہ پر کیا قیامت گزری، وہ سب کے سامنے ہیں۔

غرض یہ کہ مودی حکومت نے مذکورہ جو بھی فیصلے کئے، ان میں وہ پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ساتھ ہی جن لوگوں کی فلاح و بہبود اور خیر خواہی کا دعویٰ کیا گیا، وہی اس کا سب سے بڑا شکار بنے۔

کسانوں کا صاف کہنا ہے کہ نئے زرعی قوانین در اصل یہ کاشتکاری میں نجکاری کو فروغ دینے اور اپنے پسندیدہ کارپوریٹ گھرانوں کو بڑھاوا دینے کے لیے ہیں۔ ان قوانین کے خلاف لاکھوں کسان سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں

یہی حال کسانوں سے متعلق تین نئے زرعی قوانین کا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ نئے زرعی قوانین ملک کے کسانوں کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی و خوشحالی کے لیے لائے گئے ہیں۔ لیکن کسان کہتے ہیں کہ ہمیں ایسی ترقی و خوشحالی نہیں چاہئے۔

کسانوں کا صاف کہنا ہے کہ یہ در اصل یہ کاشتکاری میں نجکاری کو فروغ دینے اور اپنے پسندیدہ کارپوریٹ گھرانوں کو بڑھاوا دینے کے لیے ہیں۔ ان قوانین کے خلاف لاکھوں کسان (مرد،خواتین، بوڑھے، بچے) سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔

’دہلی چلو‘ کے بعد ’بھارت بند‘ کیا جا رہا ہے، لیکن حکومت اسے اپنی انا کا مسئلہ بنائے بیٹھی ہے۔ اگر حکومت ان تمام اقدامات کا محاسبہ کرے تو اسے خود احساس ہوگا کہ یہ فیصلے کسی بھی صحت مند اور کامیاب جمہوریت کی علامت نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں اصلاحات کے لیے ملک میں ‘حد سے زیادہ جمہوریت’ کو رکاوٹ قرار دینے کا مطلب صرف یہ ہے کہ عوامی رائے اور اختیارت کو کم سے کم اہمیت دی جائے، جو اپنے آپ میں جمہوریت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں، ای میل: yameen@inquilab.com]