ہفتہ, مارچ 21, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 415

ٹینیسی کے گورنر کی ٹرمپ سے ایمرجنسی کے اعلان کرنے کی اپیل

0
ٹینیسی کے گورنر کی ٹرمپ سے ایمرجنسی کے اعلان کرنے کی اپیل
ٹینیسی کے گورنر کی ٹرمپ سے ایمرجنسی کے اعلان کرنے کی اپیل

جمعہ کے روز کرسمس کے موقع پر نیش ول میں دھماکہ ہوا تھا، جس سے 41 کاروبار متاثر ہوئے ہیں جن کو حکومت کی مدد کی ضرورت ہے۔

ماسکو: امریکی ریاست ٹینیسی کے گورنر بل لی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کرسمس کے موقع پر نیش ول میں ہونے والے دھماکے کے بعد ہنگامی حالات کا اعلان کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر لی نے ایک خط لکھا ’’میں صدر ٹرمپ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ نیش وِل میں ہونے والے دھماکے کے بعد ریاست ٹینیسی میں ایمرجنسی کا اعلان کریں‘‘۔ خط میں انہوں نے کہا کہ دھماکے کی وجہ سے 41 کاروبار متاثر ہوئے ہیں جن کو حکومت کی مدد کی ضرورت ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جمعہ کے روز نیش ول میں دھماکہ ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر اس دھماکے میں کسی کے مارے جانے کی کوئی خبر نہیں تھی۔ لیکن نیش ول کے پولیس چیف جان ڈریک نے بتایا کہ دھماکے کی جگہ کسی انسان کے ہونے کا امکان ہے۔

عآپ کی وارننگ: زرعی قانون واپس نہیں ہوئے تو عآپ ہریانہ میں بی جے پی ممبران اسمبلی کا گھیراؤ کرے گی

0

حکومت نے اگر جلد ہی تینوں زرعی قوانین واپس نہیں لیتی ہے تو عآپ کسانوں کی حمایت میں بی جے پی رہنماؤں کا گھیراؤ کرے گی۔

حصار: ہریانہ ریاستی عام آدمی پارٹی (عآپ) نے وارننگ دی ہے کہ مرکزی حکومت نے اگر جلد ہی تینوں زرعی قوانین واپس نہیں لیے تو پارٹی کسانوں کی حمایت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) رہنماؤں کا گھیراؤ کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

عآپ ضلع صدر سنجے بورا کی قیادت میں پارٹی کے ایک وفد نے زرعی قانون واپس لینے کے مطالبہ کے تعلق سے نلوا حلقے کے پارٹی عہدیداروں کے ساتھ اسمبلی ڈپٹی اسپیکر رنبیر گنگوا سے ملاقات کی۔ انہیں اس تعلق سے ایک میمورنڈم پیش کیا اور اس مطالبے کو مناسب پلیٹ فارم پر اٹھانے کے لیے کہا۔ مسٹر گنگوا نے وفد کو ان کا مطالبہ مناسب پلیٹ فارم پر رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

عآپ لیڈران نے کہا کہ کسان گزشتہ ایک ماہ سے سڑکوں پر بیٹھے ہیں لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت ان کے مطالبات پورے کرنے کے بجائے محض باتوں سے انہیں ورغلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کسانوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عآپ پوری طرح سے کسانوں کے ساتھ ہے اور ان کی ہر جدوجہد میں ہمیشہ ساتھ رہے گی۔

اسے بھی پڑھیں:

مجلس نے زرعی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کی حمایت کی

فون پے کے بزنس ایپ پر اب مقامی زبانوں میں صوتی معلومات

0

اب کسی بھی صارف کو اپنے فون کی اسکرین چیک کرنے، یا کسی بینک ایس ایم ایس کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

نئی دہلی: ڈیجیٹل ادائیگی کے پلیٹ فارم فون پے نے اپنے کاروباری ایپ پر 9 سے زیادہ مقامی زبانوں میں صوتی معلومات کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فون پے نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ کاروبار کے مصروف ترین اوقات کے دوران، خریداروں کو آواز کے ذریعہ معلومات حاصل کرنے میں مدد ملے گی جو وصول کی جانے والی رقم کا اعلان کرتی ہیں، جس سے کسی صارف کو اپنے فون کی اسکرین چیک کرنے، یا کسی بینک ایس ایم ایس کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

کمپنی نے فون پے فار بزنس ایپ کو 2018 میں لانچ کیا تھا، جو انگریزی، ہندی، مراٹھی، بنگالی، گجراتی، تمل، تیلگو، ملیالم، کنڑ، اوڈیہ اور آسامی میں دستیاب ہے۔

اس وقت اسے پورے ہندوستان میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ تجارتی شراکت دار استعمال کررہے ہیں۔

فون پے ایپ متعدد مصنوعات اور لانچوں کے بارے میں معلومات ان کی آسان ترین زبان میں تاجروں کو بھیجتا ہے۔ جب کسی کاروباری کو ایپ پر آن بورڈ کیا جاتا ہے تو فون پے فیلڈ ٹیم بھی تعلیمی مواد شیئر کرتی ہے جو انہیں مختلف مصنوعات اور سہولیات کی خصوصیات کے بارے میں مختلف زبانوں میں معلومات فراہم کرتی ہے، جس میں بغیر کسی رکاوٹ کے سائن اپ عمل کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

‘لو جہاد’ روکنے کے لئے مدھیہ پردیش مذہبی آزادی بل 2020 کو ریاستی کونسل کی منظوری

0
'لو جہاد' روکنے کے لئے مدھیہ پردیش مذہبی آزادی بل 2020 کو ریاستی کونسل کی منظوری
'لو جہاد' روکنے کے لئے مدھیہ پردیش مذہبی آزادی بل 2020 کو ریاستی کونسل کی منظوری

ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا نے کہا کہ جب یہ بل قانون کی شکل اختیار کرے گا تو پھر 1968 کا فریڈم آف ریلیجنس ایکٹ ختم ہوجائے گا۔ 

 

بھوپال: مدھیہ پردیش قانون ساز اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے آغاز سے صرف دو دن پہلے، آج یہاں ریاستی کابینہ نے لو جہاد اور مذہب کی تبدیلی کو روکنے سے متعلق اہم مدھیہ پردیش مذہبی آزادی بل 2020 کو منظوری دے دی۔

ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا نے وزرا کی مجلس کی میٹنگ کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اس بل میں مذہب تبدیل کرنے کو روکنے کے لئے سخت التزام کئے گئے ہیں۔ اس میں سزا کے بہت سخت الترامات ہیں اور بہت سارے التزامات ملک میں فی الحال صرف اسی ریست میں کئے گئے ہیں۔

مسٹر مشرا نے کہا کہ جب یہ بل قانون کی شکل اختیار کرے گا تو پھر 1968 کا فریڈم آف ریلیجنس ایکٹ ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو پیر سے شروع ہونے والے اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

جعلسازی سے یا دیگر طریقے سے کسی کا مذہب تبدیل کرانے کی کوشش نہیں کرسکے گا۔ کوئی بھی شخص مذہب تبدیل کرنے کی تحریک یا سازش نہیں کرسکے گا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس بل میں مذہب تبدیل کرنے اور کرانے والوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے لئے سخت سزا التزام کیا گیا ہے۔

ایک نظر ادھر بھی:

لو جہاد قانون بنانے والے محبت سے ناآشنا: ابھیشیک مشرا

 کسان تحریک 31 واں دن بھی جاری، کسانوں کا آج ’یوم پھٹکار‘ منانے کا فیصلہ

0
 کسان تحریک 31 واں دن بھی جاری، کسانوں کا آج ’یوم پھٹکار‘ منانے کا فیصلہ
 کسان تحریک 31 واں دن بھی جاری، کسانوں کا آج ’یوم پھٹکار‘ منانے کا فیصلہ

’یوم پھٹکار‘ حکومت کی بے حسی اور کسانوں کے گذشتہ سات ماہ کے احتجاج اور سردی میں دہلی کے ایک مہینے کے دھرنے کے باوجود مطالبات نہ ماننے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ حکومت کسانوں کے ’تین زرعی قوانین‘ اور ’بجلی بل 2020‘ کو منسوخ کرنے کے مطالبے کو حل نہیں کرنا چاہتی۔

نئی دہلی: بھارتیہ کسان سنگھرش سمنویہ سمیتی (اے آئی کے ایس سی سی) نے اپنی سبھی اکائیوں سے 26 دسمبر کو جب دہلی کے خلاف احتجاج کا ایک ماہ مکمل ہورہا ہے ’یوم پھٹکار‘ اور ’امبانی و اڈانی کی سروسز اور مصنوعات کے بائیکاٹ‘ کی شکل میں کارپوریٹ یوم احتجاج منانے کی اپیل کی۔

’یوم پھٹکار‘ حکومت کی بے حسی اور کسانوں کے گذشتہ سات ماہ کے احتجاج اور سردی میں دہلی کے ایک مہینے کے دھرنے کے باوجود مطالبات نہ ماننے کیلئے کیا جا رہاہے۔ تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کسانوں کے ’تین زرعی قوانین‘ اور ’بجلی بل 2020‘ کو منسوخ کرنے کے مطالبے کو حل نہیں کرنا چاہتی۔

کسان قائدین قانون واپس کروا کر ہی اپنے گھروں کو واپس جائیں گے

آئی کے ایس سی سی ورکنگ گروپ نے کہا کہ حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ کھلے دل اور ہمدردی کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔ اس کا دماغ مکمل طور پر بند ہے اور وہ قوانین میں کچھ اصلاحات پر قائم ہے۔ وہ ملک کے عوام کو دھوکہ اور کسانوں کی تحریک کو بدنام کرنا چاہتی ہے۔ اس کا منصوبہ ہے کہ یہ ظاہر کرکے کہ کسان مذاکرات کیلئے نہیں آرہے ہیں، وہ کسانوں کے حوصلہ کو توڑ دے یہ تحریک ناکام ہوجائے گی۔ ورکنگ گروپ کا کہنا ہے کہ کسان قائدین نے کبھی بھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ انہیں کوئی جلدی نہیں ہے اور وہ قانون واپس کروا کر ہی اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔

24 دسمبر کو حکومتی خط میں 3 دسمبر کی بات چیت میں نشانزد ایشوز کا بار بار حوالہ دیاگیا ہے، جن کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ایشوز کو حل کردیا ہے اور وہ ’دوسرے ایشوز‘ کی مانگ کررہے ہیں جن پر کسان گفت و شنید کرناچاہتے ہیں۔

اے آئی کے ایس سی سی نے کہا ہے کہ کسان یونینوں کے جواب میں، انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ حکومت نے ہی قوانین کے شقوں پر اعتراضات کا مطالبہ اٹھایا تھا۔ انہیں نشانزد کرنے کے ساتھ ہی کسان رہنماؤں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ان قوانین کے تحت یہ شقیں کسانوں کی اراضی اور مارکیٹ کی سیکیورٹی پر حملہ کرتی ہیں اور کارپوریٹ اور غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعہ کاشتکاری کے بازار میں داخلے کی ہمنوائی کرتی ہیں۔ انھیں یہ اسٹریٹجک، نقطہ نظر، مقصد اور آئینی بنیاد پر قبول نہیں ہے، لیکن حکومت نے جان بوجھ کر اسے نظرانداز کیا۔

حکومت گذشتہ سات ماہ سے جاری جدوجہد کے مسئلے کو حل کرنے پر راضی نہیں

یہ بات واضح ہے کہ حکومت گذشتہ سات ماہ سے جاری جدوجہد کے مسئلے کو حل کرنے پر راضی نہیں ہوئی ہے، جس میں دو لاکھ سے زائد کسان گذشتہ 30 دنوں سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔

دھرنا و مظاہرہ کی چہار جانب سے طاقت بڑھ رہی ہے اور کسان کئی مہینوں کی تیاری کے بعد یہاں آئے ہیں۔ اس احتجاج و مظاہرہ میں قرب و جوار کے علاقوں اور دور دراز کی ریاستوں سے کسانوں کی شرکت بڑھ رہی ہے۔ آج مہاراشٹر سے 1000 کسانوں کا ایک جتھا شاہجہاپور پہنچا ہے، جبکہ اتراکھنڈ کے 1000 سے زیادہ کسان غازی پور کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔ دو سو سے زیادہ اضلاع میں باقاعدہ احتجاج اور مستقل دھرنے و مظاہرے کئے جارہے ہیں۔

اے آئی کے ایس سی سی نے حکومت کی ہٹ دھرمی والے رویے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کسانوں کے مستقبل، ان کی بقاء اور سردی کی وجہ سے ان کی دکھوں اور پریشانیوں سے بھی بے نیاز ہے۔ اے آئی کے ایس سی سی نے ہریانہ، اتر پردیش، مدھیہ پردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے استحصال اور ظلم و زیادتی کی شدید مذمت کی ہے۔ ہریانہ کے 13 کسانوں کے ذریعہ وزیر اعلی منوہر لال کھٹر کی مخالفت کرنے پر ان تیرہ کسانوں کیخلاف دفعہ 307 کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، جو حقیقی احتجاج و مخالفت کو دبانے کیلئے کیا گیا ہے جس سے احتجاج میں اضافہ ہوگا۔

کسان تحریک کو تیز کرنے کی کوششیں، کسان تنظیموں کے نمائندوں کا دارالحکومت آنا شروع

0
کسان تحریک کو تیز کرنے کی کوششیں، کسان تنظیموں کے نمائندوں کا دارالحکومت آنا شروع
کسان تحریک کو تیز کرنے کی کوششیں، کسان تنظیموں کے نمائندوں کا دارالحکومت آنا شروع

متحدہ کسان مورچہ کا اجلاس آج ہونے والا ہے، جس میں حکومت کی جانب سے مذاکرات کی تجویز اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحاتی قوانین کے خلاف کسان تنظیموں کا احتجاج آج 31 واں دن بھی جاری ہے۔

کسانوں کی تنظیم قومی دارالحکومت کی سرحدوں پر مسلسل مظاہرہ کر رہی ہے۔ دریں اثنا، سرحدوں پر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

متحدہ کسان مورچہ کا اجلاس آج ہونے والا ہے، جس میں حکومت کی جانب سے مذاکرات کی تجویز اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

کسان تنظیموں کے نمائندوں نے دارالحکومت آنا شروع کردیا ہے۔ یہ لوگ پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور بہت سی دوسری ریاستوں سے آ رہے ہیں۔

اسے بھی پڑھیں:

کسان تحریک سے 14 ہزار کروڑ روپے کا نقصان، حکومت سے جلد سے جلد احتجاج کو ختم کرنے کا مطالبہ

شمس الرحمن فاروقی کی موت سے ممبئی کے ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار

0

شمس الرحمن فاروقی کے انتقال کی خبر کے بعد ممبئی کے ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ برصغیر ہندوپاک میں اردو زبان اور ادب کا یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔

 

ممبئی: مشہور و معروف اردو شاعر، نقاد اور مصنف اور محمد حسین آزاد کی مشہور زمانہ کتاب آب حیات کے انگریزی مترجم ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی کے آج الہ آباد میں انتقال کی خبر کے بعد ممبئی کے اردو ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برصغیر ہندوپاک میں اردو زبان اور ادب کا یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔

معروف شاعر و نغمہ نگار، صحافی حسن کمال

مشہور و معروف شاعر و نغمہ نگار اور صحافی حسن کمال نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شب خون کے ذریعہ ان کی ادبی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتے۔ انہوں رسالہ میں حسن کمال کا ایک گیت شائع کیاتھا۔ حسن کمال کا نام اسی وجہ سے لوگوں نے جانا اور شہرت حاصل کی۔ ان سے اکثر ملاقاتیں ہو تی تھیں۔ممبئی میں قیام کے دوران بھی تعلقات بنے رہے۔

شخصیت نہایت مہربان تھے۔ ان کے مہذب انداز کا ذکر کرتے ہوئے حسن کمال نے کہا کہ ادبی اختلاف پر مشتمل ہوجانے کے بجائے وہ مدلل طریقے سے جواب دیتے تھے اور سامنے والوں کو متاثر کرتے تھے۔ اور یہ اعتراف کیا کہ اردو ادب کے بارے میں ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، وہ ایک عالم تھے۔

روزنامہ ممبئی اردو نیوز کے مدیر شکیل رشید

معروف صحافی اور روزنامہ ممبئی اردو نیوز کے مدیر شکیل رشید نے کہا "میرا خیال ہے کہ یہ اردو زبان و ادب کا سب سے بڑا نقصان ہے۔ یہ برصغیر ہندوپاک کا نقصان ہے، ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ میری ان سے کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں، زبان کی معمولی معمولی غلطیاں بلاجھجک سدھارتے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ اردو زبان اور ادب کا اتنا قدآور کوئی نہیں بچا ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہمیشہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔

ممبئی میں انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالستار دلوی

ممبئی میں انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور سابق ایچ او ڈی اردو ڈپارٹمنٹ کے صدر ڈاکٹر عبدالستار دلوی نے کہا کہ شمس الرحمن فاروقی حالیہ دور کے بہت دانشور و نقاد تھے۔ انہوں نے اردو زبان کے فروغ اور اس کی بقاء کے لئے اہم اقدامات کیے اور کئی میدانوں میں کام کیا اور اس مت میں کامیاب بھی رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی اے ایس افسر اور پوسٹ ماسٹر جنرل کے عہدہ پر فائز رہتے ہوئے بھی انہوں نے اردو کے لیے جو خدمات کی۔ اور اردو ادب کے ساتھ ساتھ عالمی ادب پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ ایک قابل اور لائق مصنف ہے اور یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مرحوم پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے محمد حسین آزاد کی تصنیف آب حیات کا ایک اردو داں امریکی خاتون مصنف فرانسیس رچرڈ کے ساتھ انگریزی میں ترجمہ کیا، وہ خود بھی انگریزی میں ایم اے تھے۔

ممبئی یونیورسٹی کے سابق کارگزار صدر شعبہ اردو ڈاکٹر یونس اگاسکر

معروف مصنف اور ممبئی یونیورسٹی کے سابق کارگزار صدر شعبہ اردو ڈاکٹر یونس اگاسکر نے کہا کہ وہ ایک پہلو دار شخصیات کے مالک تھے، اپنے رسالہ شب خون کے ذریعہ جس طرح اردو زبان و ادب کی خدمت کی ہے اس کی ہمیشہ پذیرائی کی۔ انہوں نے اردو کے ابتدائی ادوار پر ریسرچ کرتے ہوئے یہ بتایا کہ ہندی زبان کسی بھی طرح سے فطری طور پر نہیں پنپی ہے، بلکہ اسے سرکاری سرپرستی میں آگے بڑھایا گیا۔ انہیں 21 ویں صدی میں بھی انہیں شہرت حاصل رہی۔ اس میں تخلیقی اپچ بھی تھی اور ذہانت بھی رہی۔ وہ کبھی بھی بندھے ٹکے انداز میں ادب پر بات نہیں کرتے تھے بلکہ مدلل انداز میں بات کرتے تھے۔

اردوزبان میں ترقی پسند ادب کے بعد جدید یا نئے ادب کو فروغ دینے میں ان کا اہم رول رہا ہے۔

رسالہ اردو چینل کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر قمر صدیقی

رسالہ اردو چینل کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر قمر صدیقی نے شمس الرحمن فاروقی کا انتقال اردو ادب کا ناتلافی نقصان قرار دیتے ہوئے مرحوم کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو ادب میں تنقید کو نئے انداز میں متعارف کرایا۔ اور تنقید کو ایک سمت عطا کی وہ بے مثال ہے۔ فاروقی صاحب جدیدیت کے رجحان کی سرپرستی کی۔ رسالہ شب خون کے ذریعہ زبان اور ادب کی خدمات ایک مثال ہے۔

قمر صدیقی نے مزید کہا کہ یہ اردو ادب کے لیے اس صدی کا بڑا صدمہ ہے۔ تقریبا 25 سال کے تعلقات رہے۔ زبان کے تعلق سے بڑے حساس تھے اور معمولی غلطی بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔ کتنی بھی بڑی شخصیت سامنے ہو اسے ٹوک دیتے تھے۔

چین میں اویغور مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کی تحقیقات کرے گا امریکہ

0

چین میں اویغور مسلمانوں کی جبراً نسبندی کرنا، انہیں حراستی مراکز میں رکھنا اور زبردستی مزدوری کروانا جیسی اذیتیں دی جارہی ہیں۔ جس کی بنیاد پر امریکہ نے چین پر اویغور مسلمانوں کے قتل عام کا الزام عائد کیا ہے۔

واشنگٹن: امریکہ نے چین میں اویغور مسلمانوں پر عائد کی جا رہی مختلف پابندیوں کو اقلیتی برادری کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے اس کی تفصیلی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بات امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے جمعرات کے روز بتائی۔

خبر رساں ایجنسی کیوڈو کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے عالمی فوجداری انصاف کے سفیر مورسے ٹین کو اویغور مسلمانوں پر ہورہی اذیتوں کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ مسٹر ٹین محدود وقت میں اس کی جانچ کرکے جلد ہی اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔

اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق کسی بھی اقلیتی برادری کے لوگوں کا بڑی تعداد میں قتل عام ہونا اور اس کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے اٹھائے جا رہے اقدامات کو نسل کشی کے زمرہ میں شمار کیا جائے گا۔

امریکہ، چین کے سنکیانگ خودمختار خطے میں اقلیتی اویغور مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کے پیش نظر بیجنگ پر مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ چین میں اویغور مسلمانوں کی جبراً نسبندی کرنا، انہیں حراستی مراکز میں رکھنا اور زبردستی مزدوری کروانا جیسی اذیتیں دی جارہی ہیں۔ جس کی بنیاد پر امریکہ نے چین پر اویغور مسلمانوں کے قتل عام کا الزام عائد کیا ہے۔

برطانیہ، جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کی نئی شکل و صورت سے نائب صدر کو متعارف کرایا گیا

0

ڈاکٹر مشرا نے مسٹر نائیڈو کو بتایا کہ اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ ہندوستان میں کورونا وائرس کی نئی شکل موجود ہے یا نہیں۔

حیدرآباد: سنٹر فار سیلولر اینڈ مالی کیولر بایولوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راکیش مشرا نے جمعرات کو یہاں نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو سے ملاقات کرکے انہیں حال ہی میں برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں ملے کورونا وائرس کی نئی شکل و صورت سے واقف کرایا۔

ڈاکٹر مشرا نے نائب صدر کو بتایا کہ کورونا وائرس کی نئی شکل سے ٹیکوں کے اثرات میں تبدیلی کا امکان کم ہے۔ اس کے علاوہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جو بتاتا ہو کہ نئی شکل مریضوں کے لئے زیادہ نقصان دہ ہے حالانکہ وہ زیادہ متعدی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وائرس کی اس شکل سے بھی اسی طرح نپٹا جاسکتا ہے جس طرح اس کی پہلی شکل سے نپٹنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

نائب صدر نے سی سی ایم بی میں کورونا وائرس کی نئی شکل کے ہندوستان میں ہونے والے اثرات اور وائرس کے مختلف پہلوؤں پر کئے جارہے کاموں کے بارے میں معلومات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ 

یہاں جاری ایک سرکاری بیان کے مطابق اس موقع پر سی سی ایم بی کے سینئر سائنسداں ڈاکٹر کے لکشمی راو بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر مشرا نے مسٹر نائیڈو کو بتایا کہ اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ ہندوستان میں کورونا وائرس کی نئی شکل موجود ہے یا نہیں۔

انسانی اخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم کانسٹیبل نے بیمار عورت کو پیٹھ پر بٹھا کر 6 کلومیٹر پیدل چل کر اسپتال پہنچایا

0

مسلم کانسٹیبل ارشد نے لارڈ وینکٹیشورا سوامی کے درشن کے لئے انامایامارگم کی سمت پیدل چل رہی 58 سالہ شردھالو ناگیشور ماں کو پیٹھ پر بٹھا کر 6 کلومیٹر پیدل چل کر اسپتال پہنچایا۔

حیدرآباد: ایک انسانی اخوت کے مظاہرہ میں ایک مسلم کانسٹیبل نے اے پی کے تروملا ہلز کی مشہور مندر جانے کے دوران بیمار ہوئی ضعیف خاتون کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر تقریبا 6 کلومیٹر تک پیدل چلتے ہوئے اس کو چتور ضلع کے راجم پیٹ کے قریب واقع اسپتال میں داخل کروایا۔

اطلاعات کے مطابق 58 سالہ شردھالو ناگیشور ماں، لارڈ وینکٹیشورا سوامی کے درشن کے لئے انامایامارگم کی سمت پیدل چل رہی تھی تاہم راستہ میں ہی وہ بی پی کے زیادہ ہونے کی وجہ سے بے ہوش ہوکر گر گئی۔ یہ خاتون مدد کی منتظر تھی کہ اسپیشل پولیس پارٹی سے تعلق رکھنے والا مسلم کانسٹیبل جس کی شناخت شیخ ارشد کے طور پر کی گئی ہے، وہاں پہنچا۔ ارشد اس پہاڑی پر ڈیوٹی کررہا تھا۔ اس ضعیف خاتون کو اونچائی پر پہنچانے کیلئے کسی بھی قسم کے دوسرے ٹرانسپورٹ ذرائع نہ ہونے پر ارشد نے اس ضعیف بیمار خاتون کو اپنی پیٹھ پر بٹھالیا اور 6 کیلومیٹر پیدل چلتے ہوئے اس کو راجم پیٹ کے پرائیویٹ اسپتال میں داخل کروایا۔

اس خاتون کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر لے جانے والے کانسٹیبل کی تصاویر اس راستہ سے گذرنے والوں نے لیتے ہوئے اس کو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر پوسٹ کردیا۔ ان تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ یہ کانسٹیبل ضعیف خاتون کو پہاڑی راستوں سے کافی احتیاط کے ساتھ اپنی پیٹھ پر سوار کرتے ہوئے لے جارہا ہے۔ کانسٹیبل کے اس قدم کی ڈی جی پی گوتم سوانگ نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانسٹیبل کا یہ قدم اپنے فرض کے تئیں جذبہ پیدا کرنے والا ہے۔