اتوار, مارچ 22, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 412

ڈی سی جی آئی نے ملک میں تیار کو ویکسین اور کووڈ شیلڈ کے ایمرجنسی استعمال کو دی منظوری

0

ہندوستان بایوٹیک کی ملک میں تیار کورونا ویکسین، کو ویکسین اور پنے کے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی تیار کردہ کووڈ شیلڈ کو ہندوستان میں ایمرجنسی استعمال کی ملی منظوری۔

نئی دہلی: ڈرگس کنٹرولر جنرل آف انڈیا (ڈی سی جی آئی) نے ہندوستان بایوٹیک کی ملک میں تیار کورونا ویکسین، کو ویکسین اور پنے کے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ایس آئی آئی) کی تیار کردہ کووڈ شیلڈ کے ہندوستان میں ایمرجنسی استعمال پر آج اپنی مہر ثبت کردی ہے۔

ڈی سی جی آئی ڈاکٹر وینو گوپال جی سومانی نے اتوار کو نیشنل میڈیا سینٹر میں صحافیوں کو یہ جانکاری دی کہ ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات کو تسلیم کرتے ہوئے سنٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) نے کو ویکسین اور کووڈ شیلڈ کے ہنگامی حالات میں استعمال کو منظوری دی ہے۔

کووڈ شیلڈ اصل میں آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی اسٹراجنیکا کی تیار کردہ ہے۔ ایس آئی آئی نے ایک معاہدے کے تحت ہندوستان میں اس کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے معیار کا تجربہ کیا ہے اور ساتھ ہی اسے یہاں تیار بھی کیا ہے۔

ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات

ملک میں کورونا ویکسین کے استعمال کے سلسلے میں بنائی گئی سی ڈی ایس سی او کی سبجیکٹ کمیٹی نے جمعہ اور ہفتہ کے روز میٹنگ کی تھی۔ اس کمیٹی نے میٹنگ میں کووڈ شیلڈ اور کو ویکسین کے ہنگامی حالات میں استعمال کے تعلق سے اپنی سفارشات ڈی سی جی آئی کے سامنے پیش کیں۔ کمیٹی نے اس کے ساتھ ہی دوا ساز کمپنی کیڈیلا ہیلتھ کیئر کے تیسرے مرحلے کے معیار کے تجربے کے سلسلے میں بھی سفارش کی۔

انڈیا بایوٹیک نے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ساتھ مل کر کو ویکسین کو تیار کیا ہے۔ انڈیا بایو ٹیک نے سنیچر کو یہ اطلاع دی کہ کو ویکسین کے معیار کے تجربے میں شامل والنٹیئر کی تعداد جلد ہی اس کے نانے کے مطابق 26000 ہوجائے گی۔

محمد رفیق مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف لیں گے

0
محمد رفیق مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف لیں گے
محمد رفیق مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف لیں گے

محمد رفیق اب تک اڈیشہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ حال ہی میں ان کا تبادلہ مدھیہ پردیش کے چیف جسٹس کے طور پر کیا گیا ہے۔

بھوپال: مدھیہ پردیش کی گورنر محترمہ آنندی بین پٹیل آج یہاں راج بھون میں منعقدہ ایک باوقار تقریب میں اسٹیٹ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد رفیق کو حلف دلائیں گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق راج بھون میں دوپہر 2 بجے منعقد حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کے علاوہ سینئر وزراء، ممتاز عدالتی شخصیات اور سینئر ایڈمنسٹریٹیو آفیسر بھی موجود ہوں گے.

واضح ہو کہ محترم محمد رفیق اب تک اڈیشہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ حال ہی میں ان کا تبادلہ مدھیہ پردیش کے چیف جسٹس کے طور پر کیا گیا ہے۔

اسرائیلی نوجوان کی موت سے مشتعل ہجوم کا یروشلم میں مظاہرہ، 5 پولیس اہلکار زخمی

0
اسرائیلی نوجوان کی موت سے مشتعل ہجوم کا یروشلم میں مظاہرہ، 5 پولیس اہلکار زخمی
اسرائیلی نوجوان کی موت سے مشتعل ہجوم کا یروشلم میں مظاہرہ، 5 پولیس اہلکار زخمی

پولیس افسران کے مطابق اسرائیلی نوجوان کی موت کے واقعہ سے مشتعل ہجوم کے مظاہرہ میں 5 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ 11 مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تل ابیب: اسرائیل میں ایک نوجوان کی کار حادثے میں موت سے مشتعل لوگوں کے مظاہرے کے دوران پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ وہیں 11 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس افسران کے مطابق نوجوان کی موت کے واقعہ سے مشتعل ہجوم نے ہفتہ کے روز یروشلم میں مظاہرہ کیا۔ اسی دوران مظاہرین نے پتھراؤ شروع کردیا جس میں 5 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ 11 مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 21 دسمبر کو یروشلم میں فلسطینیوں کے مبینہ طور پر پتھراؤ کئے جانے سے ایک کار حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔ جس کی زد میں آکر 17 سالہ ایک اسرائیلی نوجوان کی موت ہوگئی تھی۔ واقعہ کے بعد یروشلم اور ویسٹ بینک میں کشیدگی کا ماحول ہے۔

کسان تنظیموں نے دی دھمکی، بات چیت ناکام ہونے پر کریں گے تحریک تیز

0
 کسان تنظیموں نے دی دھمکی، بات چیت ناکام ہونے پر کریں گے تحریک تیز
 کسان تنظیموں نے دی دھمکی، بات چیت ناکام ہونے پر کریں گے تحریک تیز

4 جنوری کو حکومت کے ساتھ آٹھویں دور کی بات چیت ہے اور اس کے ناکام ہونے پر 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت دہلی میں ٹریکٹر ٹرالی پریڈ نکالی جائے گی۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحات قوانین کو واپس لینے اور کم از کم امدادی قیمت کو قانونی تصدیق دینے کے مطالبے پر 4 جنوری کو حکومت کے ساتھ میٹنگ میں معاہدہ نہ ہونے پر کسان تنظیموں نے پورے ملک میں تحریک تیز کرنے کی دھمکی دی ہے۔

کسان رہنما بی ایس راجے وال، درشن پال، گرنام سنگھ چڈھونی، حنان مولا، جگجیت سنگھ ڈلے والا، شیو کمار شرما ککا جی اور یوگیندر یادو نے ہفتے کو پریس کانفرنس میں کہا کہ 4 جنوری کو حکومت کے ساتھ آٹھویں دور کی بات چیت ہے اور اس کے ناکام ہونے پر 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت دہلی میں ٹریکٹر ٹرالی پریڈ نکالی جائے گی۔ اس سے پہلے دہلی کے آس پاس کے کسانوں کے ٹریکٹر ٹرالی کو 25 جنوری کو قومی دارالحکومت میں بلایا جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ 23 جنوری کو سبھاش چندر بوس کی جینتی کے موقع پر ملک بھر میں راج بھونوں پر مظاہرہ کیا جائےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر مرکز کے نمائندے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے احتجاجی مظاہرہ کیا جائےگا۔

بات چیت ناکام ہونے پر 5 جنوری سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرہ تیز

کسان رہنماؤں نے کہا کہ بات چیت ناکام ہونے پر 5 جنوری سے ہی ملک بھر میں احتجاجی مظاہرہ تیز کردیا جائےگا۔ کسان تنظیموں نے چھ جنوری کو پہلے ہی کے ایم پی ہائی وے پر ٹریکٹر ٹرالی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت پر دباؤ بڑھانے کا وقت آگیا ہے جس کی وجہ سے احتجاجی مظاہرہ کے ہر طریقے اختیار کئے جائیں گے۔

کسان تنظیم پچھلے 38 دنوں سے زرعی اصلاحات قانونوں کو واپس لینے اور کم از کم امدادی قیمت کو قانونی حیثیت دینے کے مطالبے کے سلسلے میں قومی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔

مزید اسے بھی پڑھیں:

چھٹے دور کی بات چیت: کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز

اکھلیش کا بڑا بیان، ملک میں کہیں بھی کوئی کورونا نہیں

0
اکھلیش کا بڑا بیان، ملک میں کہیں بھی کوئی کورونا نہیں
اکھلیش کا بڑا بیان، ملک میں کہیں بھی کوئی کورونا نہیں

اپوزیشن سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ میں یہاں بغیر ماسک کے آیا ہوں اور آپ تمام کے درمیان بیٹھا ہوں۔ آپ لوگ ہی ہمیں مطلع کریں ‘کہاں ہے کورونا’۔

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے ہفتہ کو اپنے ایک متنازع بیان میں دعوی کیا کہ ملک میں کوئی بھی کورونا نہیں ہے۔ حکومت اپوزیشن و عوام کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں خائف کرنے کے لئے کورونا کا رونا رو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ نہ تو وہ بی جے پی کی ویکسین لیں گے اور نہ ہی اس کی کسی سازش کا شکار ہونگے۔

بی جے پی کورونا کی کہانیاں گڑھ کر عوام کو ڈرا رہی ہے

مسٹر یادو نے ہفتہ کو میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ ملک میں کہیں بھی کوئی کورونا نہیں ہے۔ بی جے پی کورونا کی کہانیاں گڑھ کر اپوزیشن سیاسی پارٹیوں اور ان کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں خائف کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں بغیر ماسک کے آیا ہوں اور آپ تمام کے درمیان بیٹھا ہوں۔ آپ لوگ ہی ہمیں مطلع کریں ‘کہاں ہے کورونا’۔

انہوں نے کہا کہ کورونا بحران کا اعلان کرنے کے باجود بی جے پی ہر چیز کررہی ہے اور جب اپوزیشن کسی بھی پروگرام کے انعقاد کے لئے اجازت طلب کرتا ہے تو انہیں کورونا کا حوالہ دیتے ہوئے منع کردیا جاتا ہے۔ جو اس بات کا غماز ہے کہ کس طرح حکمراں جماعت کورونا کے نام پر اپوزیشن کو ٹارگیٹ کررہی ہے۔

میں بی جے پی کی ویکسین پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں

سابق وزیر اعلی نے کہا کہ میں ابھی کورنا ویکسین کا ٹیکہ نہیں لگواؤنگا میں بی جے پی کی ویکسین پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں۔ جب ہماری حکومت آئے گی ہر شہری کو مفت میں کورنا ویکسین فراہم کی جائے گی۔ ہم بی جے پی کی ویکسین کو نہین لے سکتے ہیں۔

سماج وادی سربراہ کا یہ متنازع بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یوپی حکومت کووڈ ویکسین کے لئے ‘ڈرائی رن’ مہم چلارہی ہے اور مکرسنکرانتی کے مناسبت سے ریاست میں ویکسینیشن کا آغاز کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ انہوں اس پر ٹویٹ بھی کیا۔

اکھلیش کی اجودھیا کے سادھو سنتوں سے ملاقات

اکھلیش یادو نے آج اجودھیا کے کئی سادھو سنتوں سے ملاقات کی اور ان سے سال 2022 کے اسمبلی انتخابات کے لئے دعا کی گذار ش کی۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ جب ان کی ریاست میں حکومت بنے گی پورا اجودھیا ٹیکس فری ہوگا۔ جس کے بعد ہر دن یا سال کے 365 دن اجودھیا کے لوگ دیوالی مناسکیں گے۔

اکھلیش نے کہا کہ اجودھیا اتحاد و ہم آہنگی کی علامت ہے لیکن بی جے پی نے سیاسی مفاد کے پیش نظر اسے سیاسی رشتہ کشی کے مقام پر تبدیل کردیا ہے۔ ہم نے تمام مذاہب کی قدر اور ان کی حمایت کر کے جمہوریت و انسانیت کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ بی جے پی مذہب کے نام پر سماج کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔

جبری تبدیلی مذہب آرڈیننس پر تبصرہ

جبری تبدیلی مذہب آرڈیننس پر تبصرہ کرتے ہوئے اکھلیش نے کہا کہ ایک طرف بی جے پی حکومت بین ذاتیوں کی شادی کے لئے 50 ہزار روپے فراہم کررہی ہے تو وہیں دوسری جانب وہ لوجہاد قانون لے کر آئی ہے۔ یہ ان کے دوہرے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کسانوں کے حالت زار کو نظر انداز کرنے کے لئے بھی بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا۔

 

میں بی جے پی کی ویکسین پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں: اکھلیش

0
میں بی جے پی کی ویکسین پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں: اکھلیش
میں بی جے پی کی ویکسین پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں: اکھلیش

اکھلیش یادو نے کہا کہ جب میری حکومت ریاست میں تشکینل پائے گی ہر کسی کو مفت میں ویکسین فراہم کی جائے گی۔ ہم بی جی پی کی ویکسین نہیں لے سکتے۔

لکھنؤ: اترپردیش کی یوگی حکومت کے ذریعہ مکر سنکراتی سے کووڈ ۔ ویکسین کا ٹیکہ لگانے کی تیاریاں زوروں پر ہیں تو دوسری طرف اب ویکسینیشن میں بھی سیاست در در آئی ہے اور اکھلیش یادو نے ‘بی جے پی کی ویکسین’ نہ لگوانے کا دعوی کیا ہے۔

اپنے ایک اچانک فیصلے میں ریاست کی مین اپوزیشن سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے ہفتہ کو کہا کہ وہ بی جے پی کی ویکسین کا ٹیکہ نہیں لگوائیں گے۔ مسٹر یادو نے کہا کہ ‘اس وقت میں کووڈ ویکسین کا ٹیکہ نہیں لگوا رہا۔ میں بی جے پی کی ویکسین پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں۔ جب میری حکومت ریاست میں تشکیل پائے گی ہر کسی کو مفت میں ویکسین فراہم کی جائے گی۔ ہم بی جی پی کی ویکسین نہیں لے سکتے۔

یوپی حکومت ہفتہ کو ریاستی راجدھانی کے لئے 6 اسپتالوں میں ویکسین کے لئے ڈرائی مہم کا انعقاد کررہی ہے۔ یہ مہم آئندہ منگل کو پوری ریاست میں منعقد کی جائے گی۔ تاہم آفیشیل ذرائع نے بتایا کہ ریاست میں ویکسینیشن عمل کا آغاز ‘مکر سنکراتی’ کے موقع پر ہوسکتا ہے جو کہ 15 جنوری کو ہے۔

کانگریسی سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر بوٹا سنگھ کا انتقال

0
کانگریسی سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر بوٹا سنگھ کا انتقال
سردار بوٹا سنگھ 21 مارچ 1934 کو پنجاب کے ضلع جالندھر کے گاؤں مصطفیٰ پور میں پیدا ہوئے، بوٹا سنگھ سیاست میں آنے سے پہلے صحافت سے وابستہ تھے۔ انہوں نے پہلا الیکشن اکالی دل سے جیتا تھا، بعد میں وہ کانگریس میں شامل ہوگئے۔

سردار بوٹا سنگھ 21 مارچ 1934 کو پنجاب کے ضلع جالندھر کے گاؤں مصطفیٰ پور میں پیدا ہوئے، بوٹا سنگھ سیاست میں آنے سے پہلے صحافت سے وابستہ تھے۔ انہوں نے پہلا الیکشن اکالی دل سے جیتا تھا، بعد میں وہ کانگریس میں شامل ہوگئے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر سردار بوٹا سنگھ کا ہفتہ کے روز یہاں انتقال ہوگیا۔ وہ 86 سال کے تھے ۔ ان کی فیملی میں اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

سردار بوٹا سنگھ 21 مارچ 1934 کو پنجاب کے ضلع جالندھر کے گاؤں مصطفیٰ پور میں پیدا ہوئے، بوٹا سنگھ سیاست میں آنے سے پہلے صحافت سے وابستہ تھے۔ انہوں نے پہلا الیکشن اکالی دل سے جیتا تھا، بعد میں وہ کانگریس میں شامل ہوگئے۔

آنجہانی بوٹا سنگھ نے آٹھ بار لوک سبھا کا انتخاب جیتا تھا۔ مرکزی وزیر کی حیثیت سے انہوں نے داخلہ، زراعت، ریلوے اور مواصلات اور دیگر اہم وزارتوں کے ساتھ بہار کے گورنر کی ذمہ داری بھی نبھائی۔ وہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور حکومت میں قومی درج فہرست ذات و قبائل کمیشن کے چیئرمین (2007 سے 2010 ) بھی رہے تھے۔

امریکی سینیٹ نے دفاعی بل پر ٹرمپ کے ویٹو کو کیا مسترد

0
امریکی سینیٹ نے دفاعی بل پر ٹرمپ کے ویٹو کو کیا مسترد
امریکی سینیٹ نے دفاعی بل پر ٹرمپ کے ویٹو کو کیا مسترد

سینیٹ نے قومی دفاع اتھارٹی ایکٹ (اے ڈی اے اے) کے نام سے یہ دفاعی بل 81–13 کے فرق سے منظور کیا ہے۔

واشنگٹن: امریکی کانگریس کے ایوان بالا سینیٹ نے مالی سال 2021 کے قومی دفاعی بل پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ویٹو کو مسترد کردیا ہے۔

جمعہ کے روز اس بل کی حمایت کرنے والے سینیٹ کے دو تہائی سے زیادہ ارکان نے ٹرمپ کے اس ویٹو کو مسترد کردیا۔

سینیٹ کے اس فیصلہ کو مسٹر ٹرمپ کے لئے ایک بڑا دھچکا سمجھا جارہا ہے کہ ان کے دور میں یہ ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ سینیٹ نے قومی دفاع اتھارٹی ایکٹ (اے ڈی اے اے) کے نام سے یہ دفاعی بل 81–13 کے فرق سے منظور کیا ہے۔

23 دسمبر کو امریکی صدر نے اس بل پر ویٹو کا اعلان کیا تھا۔ امریکی اراکین پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ایوان نمائندگان نے 740 ارب ڈالر کے دفاعی اخراجات کے بل کو 322۔87 کے فرق سے پیر کو ہی منظور کرلیا تھا۔ ایوان نمائندگان نے بل پر غور کے لئے اسے ریپبلکن اکثریتی سینیٹ کو بھیجا تھا۔

صرف اس بل کے ذریعے ہی آئندہ ایک سال تک امریکہ کی دفاعی پالیسی پر خرچ کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بل کی کچھ شقوں پر مخالفت کی

ڈونلڈ ٹرمپ جو چند ہفتوں میں صدارت چھوڑنے والے ہیں، نے بل کی کچھ شقوں پر مخالفت کی تھی۔ انہوں نے ان پالیسیوں کی مخالفت کی ہے جو افغانستان اور یوروپ سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی تعداد کو محدود کرتی ہیں۔

این ڈی اے اے میں نارڈ اسٹریم 2 پائپ لائن منصوبے پر پابندی عائد کرنے اور روسی میزائل دفاعی نظام ایس -400 خریدنے کے حوالہ سے ترکی کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے بھی ایک شق ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ امریکی کانگریس کو قانون سازی کے لئے منظور کردہ بل پر صدر کے دستخط لازمی ہیں۔

کچھ غیر معمولی حالات میں صدر بل پر دستخط نہیں کرتے اور نہ ہی اسے ویٹو کرتے ہیں۔ ایسے پالیسی ساز معاملوں میں اختلافات ہوتا ہے۔ لیکن ایوان کے اراکین دونوں ایوانوں میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ساتھ بل پاس کرکے صدر کے ویٹو کو مسترد کرکے اس بل کو قانون بنا سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے بایوٹک اور فائزر ویکسین کو دی منظوری

0

دنیا کے متعدد ممالک نے کورونا ویکسین تیار کی ہے، لیکن اس وقت ڈبلیو ایچ او نے صرف بایوٹک اور فائزر ویکسین کو ہی تسلیم کیا ہے۔

ماسکو: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے فائزر اور بائیوٹک کمپنیوں کے ذریعہ تیار کردہ عالمی وبا کورونا وائرس کی ویکسین کو ہنگامی استعمال کے لئے منظوری دے دی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وبا کے آغاز کے بعد پہلی بار اس ویکسین کی منظوری دی ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے جمعرات کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ’’ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے آج ہنگامی استعمال کے لئے فائزر اور بایوٹک ویکسین کو منظوری دے دی ہے‘‘۔
قابل ذکر ہے کہ دنیا کے متعدد ممالک نے کورونا ویکسین تیار کی ہے، لیکن اس وقت ڈبلیو ایچ او نے صرف ان دو ویکسین کو ہی تسلیم کیا ہے۔

ریلائنس جیو کا اپنے گاہکوں کو نئے سال کا تحفہ، یکم جنوری سے سبھی نیٹ ورک پر کال فری

0
ریلائنس جیو کا اپنے گاہکوں کو نئے سال کا تحفہ، یکم جنوری سے سبھی نیٹ ورک پر کال فری
ریلائنس جیو کا اپنے گاہکوں کو نئے سال کا تحفہ، یکم جنوری سے سبھی نیٹ ورک پر کال فری

ریلائنس جیو نے اپنے گاہکوں کو نئے سال کا شاندار تحفہ دیتے ہوئے یکم جنوری سے سبھی نیٹ ورک پر کال فری کیا۔


ممبئی: مکیش انبانی کی ریلائنس جیو نے اپنے گاہکوں کو نئے سال کا شاندار تحفہ دیتے ہوئے وعدے کے مطابق یکم جنوری سے انٹرکنیکٹ یوز چارج ( آئی یو سی) کو ختم کرنے کا جمعرات کو اعلان کیا۔

آئی یو سی کے تحت جیو سروس کے گاہک کو اسے پلان سے ملے منٹ ختم ہوجانے پر گراہک کو دوسرے نیٹ ور ک پر کال کرنے کیلئے ری چارج کروانا پڑتا تھا اور چھ پیسے فی منٹ یا فی کال چارج دینا پڑتا تھا جبکہ جیو کے گاہکوں کو آپس میں ان لمیٹڈ فری کال کی سہولت تھی۔

جیو نے جمعرات کو بیان جاری کر کہا کہ بھارتی ٹیلی مواصلات ریگولیٹری اتھارٹی (ٹرائی) کی ہدایت کے مطابق ’بل اور کیپ دور‘ ملک میں یکم جنوری 2021 سے لاگو ہورہا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے جیو گاہکوں سے کئے گئے وعدے کے مطابق آئی یو سی چارج ختم ہورہا ہے اور جمعہ یکم جنوری سے جیو گاہک بھی سبھی نیٹ ورک پر گھریلو وائس کال کا فری میں لطف اٹھا سکیں گے۔

جیو نے کہا ہے کہ ستمبر 2019 سے ٹرائی نے جب ’بل اینڈ کیپ دور‘ عمل درآمد کی مدت کو بڑھایا تو اس کے پاس آئی یو سی چارج لگانے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا تھا۔ جیو نے کہا کہ ٹرائی کے اس بندوبست کو لاگو کرنے کے ساتھ ہی وہ اپنے گاہکوں سے کئے گئے وعدے کو فوری اثر سے عمل میں لارہا ہے۔

جیو نے اکتوبر 2019 میں آئی یو سی چارج شروع کیا تھا

ٹرائی نے یکم اکتوبر 2017 کو آئی یو سی چارج 14 پیسے سے گھٹا کر 6 پیسے کیا تھا اور اسے یکم جنوری 2020 سے پوری طر ح ختم کرنے کی تجویز تھی لیکن ریگولیٹری اس پر پھر سے کنسلٹیشن پیپر لے آیا تھا جسے دیکھتے ہوئے جیو نے اکتوبر 2019 میں آئی یو سی چارج شروع کیا تھا۔

جیو نے چارج شروع کرتے وقت کہا تھا کہ پچھلے تین سالوں میں وہ آئی یو سی چارج کے طو ر پر 13,500 کروڑ روپے کا بھگتان دوسرے آپریٹروں کو کرچکا ہے۔ پچھلے تین سالوں سے آئی یو سی چارج کا بوجھ گاہکوں پر نہیں ڈال رہے تھے۔ کمپنی نے کہا تھا کہ چارج 31 دسمبر 2019 کے بعد بھی جاری رہنے کے امکان کو دیکھتے ہوئے مجبوراً اس کا بوجھ گاہکوں پر ڈال رہی ہے۔

ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کو ایک دوسرے کو آئی یو سی چارج کا بھگتان کرنا پڑتا ہے۔ آئی یو سی چارج گراہکوں کے ذریعہ ایک دوسرے نیٹ ورک پر کال کرنے کی وجہ سے دینا پڑتاہے۔ جیسے کہ اگر جیو کے گاہک ایئر ٹیل پر کال کرتا ہے تو جیو کو ایئر ٹیل کو آئی یو سی چارج دینے ہونگے۔ اس کی شرح ٹرائی طے کرتی تھی۔

جیو کے آئی یو سی چارج ختم کرنے سے ملک کے نجی سیکٹر کی سرکردہ کمپنی کے 40 کروڑ سے زیادہ گاہک مستفیض ہونگے۔