اتوار, مارچ 22, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 408

وائٹ ہاؤس کے سینئر نمائندے کی بحالی کا مطالبہ

0
وائٹ ہاؤس کے سینئر نمائندے کی بحالی کا مطالبہ
وائٹ ہاؤس کے سینئر نمائندے کی بحالی کا مطالبہ

گریگوری میکس اور رینکنگ ریپبلکن مائیکل میک کال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سینئر نمائندے پاٹسی ویڈاکسوارہ کو گذشتہ ہفتہ کیپیٹل ہل پر حملے کے بارے میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے سوالات پوچھنے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

واشنگٹن: امریکی پارلیمنٹ میں خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین اور رینکنگ ریپبلکن نے وائس آف امریکہ (وی او اے) ایجنسی کے وائٹ ہاؤس نمائندے کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین گریگوری میکس اور رینکنگ ریپبلکن مائیکل میک کال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سینئر نمائندے پاٹسی ویڈاکسوارہ کو گذشتہ ہفتہ کیپیٹل ہل پر حملے کے بارے میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے سوالات پوچھنے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’اس قدم کا کوئی جواز نہیں پیش کیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں بحال کیا جانا چاہئے‘‘۔

پارلیمان اراکین نے تلخ لہجے میں کہا کہ مسٹر ویڈاکسوارا کو ہٹایا جانا ممکنہ طور پر امریکی ایجنسی فار گلوبل میڈیا (یو ایس اے جی ایم) اور وائس آف امریکہ کے اعلی عہدیداروں کے مابین کانگریس کے ذریعے قائم فائر وال کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا ’’یہ امریکہ ہے۔ ہم اپنے صحافیوں کو ان کے سوالات کے جوابات مانگنے کی سزا نہیں دے سکتے ہیں۔ ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ پریس ہماری جمہوریت اور آئین کی بنیاد ہے‘‘۔

6 سے 7 بی جے پی ممبران پارلیمنٹ ترنمول کانگریس میں ہوسکتے ہیں شامل: جیوتری پریا ملک

0
6 سے 7 بی جے پی ممبران پارلیمنٹ ترنمول کانگریس میں ہوسکتے ہیں شامل: جیوتری پریا ملک
6 سے 7 بی جے پی ممبران پارلیمنٹ ترنمول کانگریس میں ہوسکتے ہیں شامل: جیوتری پریا ملک

ترنمول کانگریس کے صدر جیوتری پریا ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی کے چھ سے سات ارکان فوری طور پر ہماری پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور ہماری پارٹی کے ایم ایل اے جو بی جے پی میں گئے تھے وہ واپس آنے کے لئے قطار میں کھڑے ہیں۔

کلکتہ: ایک ایسے وقت میں جب ترنمول کانگریس کے ممبران اسمبلی اور ممبر ان پارلیمنٹ پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں تو ریاستی وزیر شمالی 24 پرگنہ ترنمول کانگریس کے صدر جیوتری پریا ملک نے آج دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی کے 6 سے 7 ممبران پارلیمنٹ ترنمول کانگریس میں شامل ہونے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی تقسیم کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا ہے۔ بی جے پی کے چھ سے سات ارکان فوری طور پر ہماری پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ وہ مئی کے پہلے ہفتے میں شامل ہوں گے کچھ لوگ ووٹ سے پہلے شامل ہو سکتے ہیں اور ہماری پارٹی کے ایم ایل اے جو بی جے پی میں گئے تھے وہ واپس آنے کے لئے قطار میں کھڑے ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی نے ملک کے اس دعویٰ کو مسترد کردیا ہے۔ بی جے پی لیڈر شیامک بھٹا چاریہ نے کہا کہ ترنمول کانگریس کے لیڈران پارٹی کو متحد رکھنے کے لئے اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ جب کہ ارجن سنگھ نے کہا کہ ملک اپنا دماغی توازن کھودیا ہے۔

اسے بھی پڑھیں:

اسدالدین اویسی کی پھرپھرا شریف کے پیرزادہ سے ملاقات کے ساتھ مغربی بنگال میں نئی سیاسی تحریک کا اغاز

نشنک نے امریکہ میں ہندوستانی سفیر سے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا

0
نشنک نے امریکہ میں ہندوستانی سفیر سے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا
نشنک نے امریکہ میں ہندوستانی سفیر سے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا

مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک ہندوستانی سفیر ترنجیت سنگھ سندھو سے ملاقات کر کے امریکہ کے مختلف اعلی تعلیمی اداروں میں اس کے فروغ میں ان سے تعاون کی خواہش کی۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک نے منگل کے روز امریکہ میں ہندوستان کے سفیر ترنجیت سنگھ سندھو سے ملاقات کر کے ملک کی نئی تعلیمی پالیسی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور اس کے امریکہ کے مختلف اعلی تعلیمی اداروں میں اس کی تشہیر کے لئے تعاون طلب کیا۔

ڈاکٹر نشنک نے مسٹر سندھو کو یہاں کہا کہ ہندوستان کا سفارت خانہ امریکہ کے مختلف اعلی تعلیمی اداروں میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی وسیع پیمانے پر تشہیر کے لئے کئی سیمینار / ویبنار / کانفرنسوں / ورکشاپس وغیرہ کے انعقاد کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس طرح کے اہتمام ہندوستانی قونصل خانے کی جانب سے بھی کئے جا سکتے ہیں۔

امریکی طلبا کو ہندوستان کی طرف راغب کرنے کے طریقے کی تلاش

انہوں نے مسٹر سندھو سے امریکہ کے ہندوستانی قونصل خانوں سے مشورہ کر کے مختلف فریقین سے یہ معلوم کرنے پر زور دیا کہ ہندوستان میں اپنے کیمپس کھولنے کے لئے امریکی یونیورسٹیوں کی کیا توقعات ہیں، جس سے اسٹڈی ان انڈیا اسکیم کے تحت امریکی طلباء کو ہندوستان میں متوجہ کرنے کے طریقے تلاش کئے جا سکیں۔

مرکزی وزیر نے سفیر کو یہ بھی بتایا کہ رابطے کے تحت امریکہ کی طرف سے مشترکہ تحقیقاتی تجاویز (74.80 کروڑ) کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو منظور کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’مجھے امید ہے کہ امریکہ میں ہندوستان کا سفارت خانہ اس اسکیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا‘‘۔

انہوں نے امریکہ میں ہندوستان کے سفارت خانہ کے ذریعہ جاری تعلیمی سرگرمیوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’میں چاہتا ہوں کہ وہاں پڑھنے والے ہندوستانی طلباء کی اضافی دیکھ بھال کی جائے اور یہ بھی امید ہے کہ جب بھی ضرورت پڑے انہیں ہر ممکن امداد اور تعاون فراہم کیا جائے‘‘۔

شیوسینا کا بی جے پی پر حملہ، کیا برڈ فلو کے پیچھے بھی پاکستان اور خالصتان کا ہاتھ ہے؟

0
شیوسینا کا بی جے پی پر حملہ، کیا برڈ فلو کے پیچھے بھی پاکستان اور خالصتان کا ہاتھ ہے؟
شیوسینا کا بی جے پی پر حملہ، کیا برڈ فلو کے پیچھے بھی پاکستان اور خالصتان کا ہاتھ ہے؟

شیوسینا نے بی جے پی سے سوال کیا ہے کہ اب تک اس کی پارٹی کے ترجمانوں نے یہ اعلان کیوں نہیں کیا کہ مرغیوں اور پرندوں کی پراسرار ہلاکتوں کے پس پشت بھی پاکستانی اور نکسلیوں کا ہاتھ ہے۔


ممبئی: شیوسینا نے اپنی سابقہ ہمنوا سیاسی پارٹی بی جے پی سے سوال کیا کہ کیا ملک میں برڈ فلو کی وباء پھیلنے کے پس پشت بھی کوئی پاکستانی, خالصتانی اور ماؤ نواز تنظیموں کا ہاتھ ہے؟

سینا کے ترجمان اخبار سامنا میں لکھے گئے اداریہ میں مھاراشٹرا کی حکمراں جماعت میں شامل شیوسینا نے بی جے پی قائدین کے زرعی بل کے خلاف کسانوں کے جاری احتجاج پر دئیے گئے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانیوں، خالصتانیوں، چینیوں، نکسلیوں اور ماؤن وازوں کی کسانوں کے احتجاج کو حمایت حاصل ہے اور پردے کے پیچھے یہی ملک دشمن طاقتیں ان کو اکسا رہی ہیں۔

سینا نے بی جے پی سے سوال کیا کہ کیا ملک میں برڈ فلو پھیلنے میں بھی کوئی پاکستانی، خالستانی یا نکسلی ہاتھ ہے؟

اداریہ میں مزید لکھا ہے کہ کسان نئے زرعی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور اس دوران برڈ فلو پھیلنے کا نیا بحران سامنے آیا ہے۔ نیز چند سرکاری عہدے داران کا کہنا ہے کہ کسانوں کے احتجاج کے پیچھے ملک دشمن طاقتیں شامل ہیں۔

سینا نے بی جے پی سے یہ سوال کیا کہ اب تک اس کی پارٹی کے ترجمانوں نے یہ اعلان کیوں نہیں کیا کہ مرغیوں اور پرندوں کی پراسرار ہلاکتوں کے پس پشت بھی پاکستانی اور نکسلیوں کا ہاتھ ہے۔

کورونا ویکسین پر وزیر اعظم کا اعلان، ویکسین پر سیاست، کمپنیوں کی چپقلش اور عوام کے خدشات

0
کورونا ویکسین پر وزیر اعظم کا اعلان، ویکسین پر سیاست، کمپنیوں کی چپقلش اور عوام کے خدشات
کورونا ویکسین پر وزیر اعظم کا اعلان، ویکسین پر سیاست، کمپنیوں کی چپقلش اور عوام کے خدشات

16 جنوری سے کورونا کے خلاف ٹیکا کاری مہم شروع کئے جانے سے متعلق وزیر اعظم کے اعلان سے پہلے اور بعد میں سیاست دانوں کے بیانات سیاست پر مبنی ہو سکتے ہیں، لیکن ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کی آپسی چپقلش اور بیان بازی افسوسناک ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک کورونا کی وبا کے خلاف مہم کے فیصلہ کن مرحلے میں ہے اور سبھی کو یہ یقینی بنانا ہے کہ ویکسن کے سلسلے میں کسی طرح کی افواہ نہ پھیلے اور شرارتی عناصر اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں۔

ملک بھر میں 16 جنوری سے کورونا کی وبا کے خلاف ٹیکاکاری مہم شروع کئے جانے سے پہلے جناب مودی نے پیر کو سبھی ریاستوں اور مرکزی کے زیرانتظام علاقوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ ویکسن کی مناسب تقسیم اور دیگر مسئلوں پر بات چیت کی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں تین کروڑ لوگوں کی ٹیکاکاری کی جائے گی جن میں طبی اہلکار اور عبوری محاذ پر تعینات ملازمین شامل ہیں۔ حکومت نے آنے والے کچھ ہی مہینوں میں 30 کروڑ لوگوں کو ٹیکا لگانے کا ہدف رکھا ہے۔

انڈیا میں کووڈ 19 کا پہلا معاملہ 30 جنوری 2020 کو منظر عام پر آیا تھا۔ شروع میں اگرچہ کورونا وائرس کے شکار لوگوں کی تعداد میںبہت دھیرے دھیرے اضافہ ہوا، لیکن چند ماہ بعد حکومت کے تمام تر اقدامات اور عوام کے ذریعہ اختیار کی گئیں ہر ممکن احتیاطی تدابیر کے باوجود مریضوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوتا گیا اور پھر جانوں کا اتلاف سیکڑوں سے ہزاروں اور پھر لاکھوں میں پہنچ گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں تقریباً ایک سال کے عرصہ میں کووڈ 19 کے شکار لوگوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد اور مرنے والوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہو چکی ہے۔ اس دوران انڈیا کے باشندے جن آلام و مصائب سے گزرے ہیں، وہ تقریباً ہر شہری نے محسوس کیا ہے۔

کووڈ 19 کے بارے میں شروع سے لے کر اب تک طرح طرح کی باتیں اور طرح طرح کی افواہیں ہمارے سامنے آئیں۔ بین الاقوامی اداروں اور ایجنسیوں سے لے کر حکومت ہند اور قومی اداروں تک اور سائنسدانوں سے لے کر ماہرین امراض تک، جس نے جو معلومات فراہم کی، عوام نے اس پر بھروسہ کیا اور اس وائرس سے نجات کا راستہ تلاش کرنے کی تگ و دو میں مصروف رہے۔ ملک میںکورونا وائرس کو سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا گیا اور نفرت انگیز مہم کے لئے بھی۔

انتخابات جیتنے پر مفت ویکسین لگانے کا جھوٹا وعدہ بھی کیا گیا اور وائرس کے پھیلاؤ میں ایک خاص مذہب اور جماعت کو موردلزام ٹھہرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ بہر حال، اب جبکہ لوگوں کا کورونا کی ویکسین کا انتظار ہے ختم ہونے کو ہے تو اس پر ایک بار پھر سیاست بھی ہو رہی ہے اور کاروباری لڑائی بھی۔

انتخابات جیتنے پر مفت ویکسین لگانے کا جھوٹا وعدہ بھی کیا گیا اور وائرس کے پھیلاؤ میں ایک خاص مذہب اور جماعت کو موردلزام ٹھہرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ بہر حال، اب جبکہ لوگوں کا کورونا کی ویکسین کا انتظار ہے ختم ہونے کو ہے تو اس پر ایک بار پھر سیاست بھی ہو رہی ہے اور کاروباری لڑائی بھی۔ اس طرح عوام کے درمیان طرح طرح کی قیاس آرائیاں اور خدشات کا اظہار فطری ہے۔

انڈیا ہی نہیں، پوری دنیا ایک سال سے کورونا کی ویکسین کا انتظار کر رہی تھی۔ خوشی اور اطمینان کی بات ہے کہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں ویکسین تیار بھی ہو گئی اور اس کو لگانے کا عمل بھی جاری ہے۔مختلف ملکوں کے سربراہان نے ویکسین کے ٹرائل میں بھی حصہ لیا اور ما بعد ٹرائل ٹیکہ لگوا کرعوام کے خدشات کو بھی دور کیا۔ لیکن ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں کہ عوام کو ٹیکہ کاری کے لئے راحتی پیغام دینے کی بجائے ان کے خدشات اور تحفظات میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔

بعض  لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے وزیر اعظم کو یہ ویکسین لگوانی چاہئے اور عوام کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ یہ دوا ہے، کوئی زہر نہیں۔ کوئی سیاستداں کہہ رہا ہے کہ بی جے پی حکومت نے یہ ویکسین بنائی ہے تو ہم اسے نہیں لگوائیں گے۔ کہیں بحث ہو رہی ہے کہ ویکسین حرام ہے یا حلال، لیکن عوام کشمکش اور تذبذب کا شکار ہو رہے ہیں۔

انڈیا میں فی الحال دو ویکسین کو منظوری مل گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی تنازعات بھی شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے دو ویکسین کی منظوری کے بعد مبارکباد دی تو کانگریس کے لیڈران نے کہا کہ ویکسین کی اجازت جلد بازی میں دی گئی، یہ خطرناک ہے۔

بعض نے کہا کہ پہلے وزیر اعظم کو یہ ویکسین لگوانی چاہئے اور عوام کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ یہ دوا ہے، کوئی زہر نہیں۔ کوئی سیاستداں کہہ رہا ہے کہ بی جے پی حکومت نے یہ ویکسین بنائی ہے تو ہم اسے نہیں لگوائیں گے۔ کہیں بحث ہو رہی ہے کہ ویکسین حرام ہے یا حلال۔ وہیں ایک مذہب کے لوگ  کہتے ہیں کہ اس میں خنزیر کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو دوسرے مذہب کے لوگ کہتے ہیں کہ ویکسین میں گائے کا خون استعمال کیا گیا ہے، لہذا ہم نہیں لگوائیں گے۔ یعنی جس کو  جو صحیح لگتا ہے، وہ کہہ رہا ہے۔ لیکن عوام کشمکش اور تذبذب کا شکار ہو رہے ہیں۔

انڈیا میںجن دوویکسین کو ایمرجنسی میں استعمال کی منظوری دی گئی ہے ان میں ایک کا نام ’کووی شیلڈ‘ اور دوسری ویکسین ’کوویکسن‘ ہے۔ کووی شیلڈکو برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی اور ایسٹرا زینیکا کمپنی نے مل کر بنایا ہے۔ دنیا میں کورونا کی سب سے پہلی ٹیکہ کاری برطانیہ نے اسی ویکسین سےشروع کی۔

جب یہ ویکسین برطانیہ میں تیار کی جارہی تھی، تب انڈیا میں سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے اس کے ساتھ اشتراک کیا۔ سیرم انسٹی ٹیوٹ ایک پرائیویٹ ادارہ ہے ۔ انڈیا میں آکسفورڈ نے سیرم انسٹی ٹیوٹ کی ویکسین کا نام ’کووی شیلڈ‘ رکھا۔ انڈیا کے ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا نے 3 جنوری 2021 کو اعلان کیا کہ ہمارے ’سنٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن‘ یعنی سی ڈی ایس سی او نے سیرم انسٹی ٹیوٹ اور بھارت بائیوٹیک دونوں کی ویکسین کے محدود استعمال کی منظوری دی ہے۔ یعنی انڈیا میں اب کچھ شرائط کے ساتھ ویکسین لگائی جاسکتی ہے۔

اس کے بعد سیرم انسٹی ٹیوٹ کے سی ای او ادار پونا والا نے بتایا کہ ان کی کمپنی ویکسین کی پہلی 10 کروڑ خوراکیں حکومت ہند کو ایک خاص قیمت پر فروخت کرے گی۔ اس کی قیمت ہوگی 200 روپے کی ایک خوراک۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے علاوہ کوئی نجی کمپنی ویکسین کی خوراک خریدتی ہے تو اسے 1000 روپے فی خوراک فروخت کیا جائے گا۔ اگرچہ مرکزی وزیر صحت نے کہا تھا کہ پہلے مرحلے میں مفت ویکسین دی جائے گی ۔ بعد میں وضاحت کی کہ ترجیحی بنیاد پر پہلے ایک کروڑ صحت کارکن کو،دوکروڑ فرنٹ لائن ورکرس کو، اس کے بعد جولائی تک27 کروڑ مزید لوگوں کو ویکسین دی جائے گی۔

دوسری ویکسین کا نام ’کوویکسین‘ ہے اور اسے پوری طرح دیسی بتایا جا رہا ہے۔ یہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (Indian Council of Medical Research) اور حیدرآباد کی کمپنی ’بھارت بائیوٹیک‘ نے مل کر بنایا ہے۔ یعنی سرکاری ایجنسی اور ایک نجی کمپنی نے مل کر یہ ویکسین تیار کی ہے۔ اس ویکسین کو بھی ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا نے محدود استعمال کی منظوری دے دی ہے ۔ اسی ویکسین کی منظوری کے بعد  حزب اختلاف نے اعتراض کیا، جس سے تنازع پیدا ہو گیا۔

در اصل  ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا کے وی جی سومانی نے کہاتھا کہ’کوویکسین 110 فیصد محفوظ ہے۔ جبکہ کووی شیلڈ 70 فیصد موثر ہے اور کوویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘ یعنی جس ویکسین کا ٹرائل بھی ابھی مکمل نہیں ہوا ہے، اسے ڈرگ کنٹرولر جنرل 110 فیصد محفوظ بتا رہے ہیں۔ اسی پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے ٹوئیٹ کیا کہ ’کوویکسین کا تیسرا مرحلہ ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ اس کو اتنی جلدی اجازت دےدی، جو خطرناک ہوسکتی ہے۔‘

یہ حقیقت ہے کہ بھارت بائیوٹیک کی کوویکسین کے تیسرے مرحلے کی آزمائش ابھی جاری ہے۔ آزمائشی نتائج بھی نہیں آئے ہیں۔ اسی لئے سوال اٹھ رہے ہیں کہ اس ویکسین کو استعمال کی منظوری میں اتنی عجلت کیوں کی گئی ہے؟در اصل چند روز پہلے سیرم انسٹی ٹیوٹ ادار پونا والا نے بھارت بائیو ٹیک کا نام لئے بغیر کہا تھا کہ صرف تین ہی ویکسین کے اندر کورونا سے لڑنے کی صلاحیت ہے۔ جس میں فائزر، ماڈرنا اور ایسٹرینزیکاشامل ہیں، باقی ساری ویکسین پانی کی طرح ہیں۔ جس کے بعد بھارت بائیو ٹیک کے ڈاکٹر کرشنا ایلا کا کہنا تھا کہ  ویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے۔

ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا کے وی جی سومانی نے کہاتھا کہ’کوویکسین 110 فیصد محفوظ ہے جبکہ کووی شیلڈ 70 فیصد موثر ہے اور کوویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘ یعنی جس ویکسین کا ٹرائل بھی ابھی مکمل نہیں ہوا ہے، اسے ڈرگ کنٹرولر جنرل 110 فیصد محفوظ بتا رہے ہیں۔

ویکسین پر سیاست ہو رہی ہے، لہذا میں آپ کو بتادوں کہ ہم اس ویکسین کا ٹرائل نہ صرف انڈیا، بلکہ برطانیہ سمیت12 ممالک میں کررہے ہیں۔ اس پر آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بلرام بھارگوا اور ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا کا کہنا ہے کہ انڈیا بائیوٹیک کی ویکسین کو  ہنگامی استعمال کے لئے منظور کیا گیا ہے، لیکن ہم اس کو سیرم انسٹی ٹیوٹ ویکسین کی طرح استعمال نہیں کریں گے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ویکسین کو بیک اپ کے لئے رکھا جائے گا۔اس کے بعد پھر بھارت بائیو ٹیک نے بیان دیا کہ لوگوں کو بیان سے بچنا چاہئے۔ کو ویکسین ایک ویکسین ہے، نہ کہ ایک بیک اپ۔

بہر حال، تنازع بڑھنے کے بعد بھلے ہی بھارت بائیو ٹیک اور سیرم انسٹیٹیوٹ نے کہا ہےکہ ہمارے درمیان کوئی تنازع نہیں ہے اور ہم مل کر کام کریں گے۔ لیکن اس دوران دونوں جانب سے جو بیان بازی ہوئی اور ایک دوسری ویکسین کے بارے میں منظر عام پر بولا گیا، عوام کے ذہنوں میں کہیں نہ کہیں سیاستدانوں کی باتیں گردش کرنے لگیں۔ یعنی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے وقت جس طرح کی باتیں اورقسم قسم کی اطلاعات سے عوام کشمکش کا شکار تھے، اب کورونا کی ویکسین آنے پر اسی طرح کے حالات کا سامنا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت، سرکاری ادارے، ویکسین تیار کرنے والی کمپنیاںسب مل کر بیٹھیں اور عوام کے خدشات کا ازالہ کریں۔کوشش کریں کہ سائنسدانوں کی محنت ضائع نہ جائے۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: yameen@inquilab.com]

ادارے کا مضمون نگار کے آراء و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں

کیپیٹل ہلس پر حملے کے بعد ٹرمپ اور پینس کی پہلی ملاقات

0
کیپیٹل ہلس پر حملے کے بعد ٹرمپ اور پینس کی وہائٹ ہاؤس میں پہلی میٹنگ
کیپیٹل ہلس پر حملے کے بعد ٹرمپ اور پینس کی وہائٹ ہاؤس میں پہلی میٹنگ

 ٹرمپ حامیوں کے کیپیٹل ہلس پر حملے کے بعد مسٹر پینس اور مسٹر ٹرمپ کے رشتے میں تلخی آگئی تھی۔ اس تشدد کے لئے ڈیموکریٹس نے مسٹر ٹرمپ پر اپنے حامیوں کو بھڑکانے کا الزام لگایا تھا۔

واشنگٹن: امریکہ میں کیپیٹل ہلس پر حملے کے بعد پہلی بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مائک پینس نے وائٹ ہاؤس میں ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ وہ اپنی مدت کار کے باقی وقت ایک ساتھ کام کے لئے پابند عہد ہیں۔ صدر اور نائب صدر کی پیر کو ہوئی میٹنگ کے بعد ایک سینئر افسر نے کہا ’’دونوں لیڈروں کے مابین اچھی بات چیت ہوئی۔

انہوں نے انتظامیہ کے گزشتہ چار برسوں کے کاموں اور کامیابیوں پر تبادلہ خیال کیا اور اپنی مدت کار کے باقی دنوں کے لئے ملک کی جانب سے کام جاری رکھنے کی عہد بستگی ظاہر کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکی پارلیمنٹ میں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی فتح کی کانگریس میں تصدیق کے دوران ٹرمپ حامیوں کے کیپیٹل ہلس پر حملے کے بعد مسٹر پینس اور مسٹر ٹرمپ کے رشتے میں تلخی آگئی تھی۔ اس تشدد کے لئے ڈیموکریٹس نے مسٹر ٹرمپ پر اپنے حامیوں کو بھڑکانے کا الزام لگایا تھا۔

مزید اسے بھی پڑھیں:

ٹرمپ حالیہ واقعات کیلئے خود کو معاف نہ کریں: اٹارنی جنرل

ٹرمپ حالیہ واقعات کیلئے خود کو معاف نہ کریں: اٹارنی جنرل

0
ٹرمپ حالیہ واقعات کیلئے خود کو معاف نہ کریں: اٹارنی جنرل
ٹرمپ حالیہ واقعات کیلئے خود کو معاف نہ کریں: اٹارنی جنرل

6 جنوری کو مسٹر ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں نے کیپیٹل ہلس بلڈنگ پر حملہ کردیا تھا جہاں کانگریس صدارتی انتخابات کے نتائج کی تصدیق کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ مسٹر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو انتخابی عمل کو روکنے کے لئے لڑنے کو کہا تھا۔

واشنگٹن: امریکی انتظامیہ کے دو سابق سینئر ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خود کو معاف نہ کریں۔ سی این این نے یہ رپورٹ دی ہے۔

میڈیا رپورٹوں میں مختلف ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سابق اٹارنی جنرل ولیم بر نے گزشتہ ماہ اپنے استعفی سے قبل مسٹر ٹرمپ کو صورتحال سے واقف کرایا تھا، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک دیگر افسر پیٹ سپولون نے بھی صدر کو اسی طرح کا مشورہ دیا ہے۔

ذرائع کو اس سلسلے میں شبہ ہے کہ نائب صدر مائک پنس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد کیپیٹل ہلس پر ہوئے حملے کے لئے مسٹر ٹرمپ کو معاف کریں گے۔

واضح رہے کہ چھ جنوری کو مسٹر ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں نے کیپیٹل ہلس بلڈنگ پر حملہ کردیا تھا جہاں کانگریس صدارتی انتخابات کے نتائج کی تصدیق کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ مسٹر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو انتخابی عمل کو روکنے کے لئے لڑنے کو کہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مسٹر ٹرمپ کی حال ہی میں اپنے اور اپنے کاروباریوں کو معاف کرنے کی بات سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر کے پاس خود کو معاف کرنے کی طاقت ہے لیکن خود کو معافی کرنا صرف فیڈرل کرائم تک ہی محدود ہے۔

انڈین یونین مسلم لیگ نے قومی اقلیتی کمیشن کو اہم مطالبات پر مشتمل عرضداشت سونپا

0
انڈین یونین مسلم لیگ نے قومی اقلیتی کمیشن کو اہم مطالبات پر مشتمل عرضداشت سونپا
انڈین یونین مسلم لیگ نے قومی اقلیتی کمیشن کو اہم مطالبات پر مشتمل عرضداشت سونپا

انڈین یونین مسلم لیگ کے اے ایم محمد ابوبکر ایم ایل اے نے اقلیتی برادری کے مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بلائی گئی میٹنگ میں شرکت کی اور انڈین یونین مسلم لیگ کی جانب سے مندرجہ ذیل مطالبات پر مشتمل ایک عرضداشت سونپا۔

چنئی: گورنمنٹ گیسٹ ہاؤس، چیپاک، چنئی میں قومی اقلیتی کمیشن کے ساتھ اقلیتی برادری کے مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بلائی گئی میٹنگ میں انڈین یونین مسلم لیگ کے اے ایم محمد ابوبکر ایم ایل اے نے شرکت کی اور انڈین یونین مسلم لیگ کی جانب سے مندرجہ ذیل مطالبات پر مشتمل ایک عرضداشت سونپا۔

حکومت ہند کی طرف سے اقلیتوں کی ترقی کے لیے وزیر اعظم کے 15نکاتی منصوبے کمیونٹی تک پہنچ نہیں پارہے ہیں۔ پہلے کی طرح اسے تشہیر کرکے اس منصوبے کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ اقلیتی برادری کے طلباء کو اسکالرشپ تک رسائی حاصل کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ خاص کر اسکولوں کے ذریعہ اسکالرشپ کے لیے درخواست دینے کے عمل کی وجہ سے طلباء اسکالر شپ سے محروم ہورہے ہیں۔ لہذا، اسلامی برادری کے فطری ڈھانچہ یعنی محلہ جماعت کے ذریعہ بھیجے جانے والے تعلیمی درخواست فارم کو حکومت قبول کرے۔ اس سے مسلم طلبہ کو سرکاری اسکالرشپ حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

جسٹس رنگاناتھ مشرا کمیشن کی سفارش کی بنیاد پر مرکزی او ر ریاستی حکومتوں کی طرف سے مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 10فیصد ریزرویشن فراہم کیاجائے۔

جیسا کہ وزیر اعظم کے 15نکاتی منصوبے میں ذکر کیا گیا ہے، ان اضلاع میں جہاں اقلیتوں کی آبادی زیادہ ہے ان اضلاع میں سرکاری منصوبوں کو نافذ کرنے کے لیے اقلیتی برادری کے درمیان بیداری مہم چلائی جائے۔ اس کے علاوہ، جب اس منصوبے کے جائزہ اجلاس ریاستی وضلعی سطح پر ہوتے ہیں تو ان اجلاس میں اقلیتی برادری کے اراکین پارلیمان، اراکین اسمبلی اور بلدیہ کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے۔

منصوبے میں اردو زبان کی ترقی پر توجہ دینے کی بات کہی گئی ہے۔لیکن تمل ناڈو میں اردو اکیڈمی گزشتہ ساڑھے نو سالوں سے غیر فعال ہے اور ہم آپ سے گذارش کرتے ہیں اس سلسلے میں مناسب کارروائی کریں۔

پولیس تھانوں میں متعدد حکام کی سفارش کے مطابق بعض مخصوص برادریوں کے ساتھ ہونے والے ناانصافی کو روکنے کے لیے اقلیتی مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو اسسٹنٹ انسپکٹر آف پولیس کے عہدے پر مقرر کیا جانا چاہیے۔

ہندوستان میں مقبوضہ وقف جائیداد کی بازیابی کرکے وقف جائیدا د کا تحفظ کرکے مسلمانوں کی ترقی کے لیے استعمال کرنے کے لیے اقدامات اٹھایا جانا چاہیے۔

مرکزی حکومت کی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ماتحت جو (مندروں، گرجاگھروں اور مساجد) بند پڑے ہیں انہیں کو دوبارہ کھولنے اور اس میں عبادت کرنے کے لیے مرکزی حکومت کو مناسب اقدامات کرنا چاہیے۔

ورشیپ پلیس اسپیشل ایکٹ1991کے حوالے سے مرکزی حکومت کو تمام ریاستوں کو ایک سرکولر جاری کرنا چاہیے۔ تب ہی تمام عبادت گاہوں کا تحفظ کیا جاسکتا ہے اور زہر افشانی کو ختم کیا جاسکتا ہے اور مذہبی ہم آہنگی بحال کیا جاسکتا ہے۔

معیشت میں تمام لوگوں کی ترقی کے لیے ہندوستان میں بلاسودی بینک کاری کو متعارف کرایا جائے۔

ہندوستان جس کو دنیا کی سب سے بڑ ی جمہوریت کی حیثیت سے سراہا جاتا ہے، تمام برادریوں کو اسمبلی اور پارلیمنٹ میں مناسب نمائندگی ہونی چاہیے۔ نچلے سطح سے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے ہندوستان میں متناسب نمائندگی انتخابی نظام لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔

تمل ناڈو میں مسلم قیدیوں کو بار بار حکومت کے ذریعہ خصوصی ادوار کے دوران اعلان کردہ عمر قید سزا یافتہ قیدیوں کو رہائی سے انکار کیا گیا ہے۔ آئین ہند کی دفعہ 161کے تحت ریاست تمل ناڈو کے گورنر کو حاصل اختیار کے مطابق تمل ناڈو حکومت ہی سفارش کرکے قیدیوں کو رہا کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اس کے مطابق،وہ تمام افراد بلا تفریق نسل، مذہب یا مقدمہ جو 14سال سے زیادہ عرصہ جیل کی سزا کاٹ چکے ہیں انہیں ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح تمل ناڈو کے جیلوں میں 47مسلم عمر قیدیوں کو بھی بلا امتیاز رہا کیا جانا چاہیے۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جمہوری طریقے سے لڑنے والوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو واپس لیا جائے۔

لو جہاد اور گؤ رکشا کے نام پراقلیتی برادری پر بھیڑ تشدد کے وحشیانہ منصوبہ بند حملوں کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

ہندوستان کے انتھروپولوجیکل سروے کے مطابق ہندوستان میں 4924 کمیونیٹیز آباد ہیں۔ ہندوستان میں تمام برادریوں کی انفرادیت،ثقافت اور وقار کو برقرار رکھنے سے ہی دنیا میں ہم ہندوستانیوں کا وقار قائم رہ سکتا ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ نفرت بھڑکانے والے، ذات پات اور مذہبی منافرت پھیلانے سے روکنے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بناکر اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

[پریس ریلیز]

دہلی مارچ کو نکلے کسان یونین کے سربراہ اکھل سنگھرشی حراست میں

0
دہلی مارچ کو نکلے کسان یونین کے سربراہ اکھل سنگھرشی حراست میں
دہلی مارچ کو نکلے کسان یونین کے سربراہ اکھل سنگھرشی حراست میں

آل انڈیا کسان یونین کے سربراہ اکھل سنگھرشی کو متعدد کسان لیڈروں کے ساتھ پولیس نے آج نیشنل ہائی وے ۔ 91 سے حراست میں لے لیا۔ کسان یونین لیڈران اور کارکنان کسانوں کی 26 جنوری کو دہلی میں ہونے والی پیریڈ میں شامل ہونے جارہے تھے۔

ایٹہ: زرعی قوانین کے خلاف اترپردیش کے ضلع ایٹہ سے سینکڑوں کارکنوں کے ساتھ دہلی تک مارچ پر نکلے آل انڈیا کسان یونین کے سربراہ اکھل سنگھرشی کو متعدد دیگر کسان لیڈروں کے ساتھ پولیس نے آج حراست میں لے لیا۔

آل انڈیا کسان یونین کے لیڈروں و کارکنوں کو نیشنل ہائی وے ۔ 91 سے حراست میں لیا گیا۔ کسان یونین لیڈران اور کارکنان کسانوں کی 26 جنوری کو دہلی میں ہونے والی پیریڈ میں شامل ہونے جارہے تھے۔ اکھل سنگھرشی نے کہا کہ پولیس کا رویہ ہراساں کرنے کا ہے۔ ان کے مارچ سے ریاست میں نظم ونسق خراب نہیں ہونا تھا۔

اسے بھی پڑھیں:

سپریم کورٹ نے مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زرعی قوانین پر روک لگانے کا عندیہ دیا

سپریم کورٹ نے مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زرعی قوانین پر روک لگانے کا عندیہ دیا

0
سپریم کورٹ نے مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زرعی قوانین پر روک لگانے کا عندیہ دیا
سپریم کورٹ نے مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زرعی قوانین پر روک لگانے کا عندیہ دیا

سپریم کورٹ نے کہا کہ کچھ کسانوں نے خودکشی کی ہے، بوڑھے مرد اور خواتین اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ آخر ہو کیا رہا ہے؟ آج تک ایک بھی درخواست دائر نہیں کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہو کہ زرعی قوانین اچھے ہیں۔‘‘

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے دریافت کیا ہے کہ تینوں قوانین پر پابندی کیوں نہیں لگائی جائے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ تینوں قوانین پر اس وقت تک روک لگادی جائے جب تک عدالت کے ذریعہ تشکیل کمیٹی اس پر غور نہ کرلے اور اپنی رپورٹ نہ سونپ دے۔

حالانکہ اٹارنی جنرل کے ۔ کے وینو گوپال نے قوانین کو روکنے کی عدالت کے مشورہ کی سخت مخالفت کی۔

جسٹس بوبڈے نے دریافت کیا کہ "آپ ہمیں بتائیں کہ کیا آپ کسانوں کے قوانین پر پابندی عائد کرتے ہیں یا ہم لگائیں”۔ ان قوانین کو ملتوی کیجئے۔ اس میں کیا مسئلہ ہے؟ ہم اسے آسانی سے روکنے کے حق میں نہیں ہیں، لیکن ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس وقت اس قانون کو نفاذ نہ کریں۔‘‘

بوڑھے مرد اور خواتین اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ آخر ہو کیا رہا ہے؟

عدالت نے کہا کہ کچھ کسانوں نے خودکشی کی ہے، بوڑھے مرد اور خواتین اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ آخر ہو کیا رہا ہے؟ آج تک ایک بھی درخواست دائر نہیں کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہو کہ زرعی قوانین اچھے ہیں۔‘‘

چیف جسٹس نے مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات پر کسی پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسان تنظیموں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے آٹھ دور ہوچکے ہیں لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ جب کہ اگلی میٹنگ 15 جنوری کو طے ہے۔

طویل بحث کے بعد اٹارنی جنرل نے بنچ سے جلد بازی میں کوئی حکم پاس نہ کرنے کی درخواست کی، لیکن جسٹس بوبڈے نے اس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "مسٹر اٹارنی جنرل آپ ہمیں صبر سے متعلق لیکچر نہ دیں۔ ہمیں جلد بازی میں کیوں نہ روک لگانی چاہئے؟”

جسٹس بوبڈے نے سماعت مکمل کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج یا کل اس معاملے میں اپنا حکم جاری کریں گے۔ ممکن ہے کہ آج ایک جزوی آرڈر جاری ہو اور کل ایک مکمل آرڈر۔