جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 355

سمستی پور: گردابی طوفان یاس کے باعث 9 ایکسپریس ٹرینیں منسوخ

0
سمستی پور: گردابی طوفان یاس کے باعث 9 ایکسپریس ٹرینیں منسوخ
سمستی پور: گردابی طوفان یاس کے باعث 9 ایکسپریس ٹرینیں منسوخ

مشرقی وسطی ریلوے کے سمستی پور ریلوے بورڈ کے انتظامیہ نے خلیج بنگال میں طوفان ‘یاس’ کی وجہ سے احتیاطی اقدام کے طور پر نو بڑی ایکسپریس ٹرینوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سمستی پور: خلیج بنگال میں اٹھے گردابی طوفان ’یاس‘ کی وجہ سے مشرقی وسطی ریلوے کی سمستی پور ریلوے بورڈ انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر 9 بڑی ایکسپریس ٹرینوں کے آپریشن کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سینئر ڈویژنل کمرشل منیجر اور میڈیا انچارج سرسوتی چندر نے آج یہاں بتایا کہ گردابی طوفان کے سبب 03021 ہاوڑہ-ایکسپریس ٹرین، 03019 ہاوڑہ-کٹھگودام ایکسپریس ٹرین، 03043 ہاوڑہ-ریکسول ایکسپریس ٹرین 26 مئی کو منسوخ رہیں گی۔ اس تاریخ کو 03185 سیالدہ – جیان نگر خصوصی ٹرین سیالدہ سے منسوخ رہے گی۔

انہوں نے بتایا اس کے علاوہ مظفر پور سے چلنے والی 03158 مظفر پور ۔ کولکاتہ خصوصی ٹرین، 05234 دربھنگہ – کولکاتہ خصوصی ٹرین دربھنگہ سے، ریکسول سے 03022 ریکسول۔ہاوڑہ اسپیشل ٹرین اور جیان نگر سے 03186 جیان نگر – سیالدہ خصوصی ٹرین 26 مئی کو منسوخ کردی جائے گی ہے۔ مسٹر چندر نے بتایا کہ اسی طرح کولکتہ سے چلنے والی 05233 کولکتہ دربھنگہ خصوصی ٹرین آئندہ 27 مئی کو منسوخ کر دی گئی ہے۔

بہار سے برطانیہ برآمد کی گئی شاہی لیچی

0
بہار سے برطانیہ برآمد کی گئی شاہی لیچی
بہار سے برطانیہ برآمد کی گئی شاہی لیچی

زرعی پروڈکٹ ایکسپورٹ پروموشن اتھارٹی (اپڈا) نے شاہی لیچی کی برآمد کو آسان بنانے کے لئے بہار کے محکمہ زراعت سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز جیسے کسانوں، برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کے ساتھ مل کر اقدامات اٹھائے ہیں۔

نئی دہلی: بہار سے لذیذ و ذائقہ دار والے جی آئی سرٹیفائیڈ شاہی لیچی کے اس سیزن کی پہلی کھیپ کو برطانیہ برآمد کیا گیا۔ شاہی لیچی کو برآمد کرنے کے لئے پٹنہ میں نئے قائم فائٹو سینٹری سرٹیفکیشن سے جاری کیا گیا۔ یہ پھل بہار کے مظفر پور میں کسانوں سے حاصل کیا گیا تھا اور اسے ’سرا انٹرپرائزز‘ برآمد کررہی ہے۔

زرعی پروڈکٹ ایکسپورٹ پروموشن اتھارٹی (اپیڈا) نے شاہی لیچی کی برآمدات کو آسان اور سہل بنانے کے لئے بہار کے محکمہ زراعت سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز جیسے کسانوں، برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کی شراکت کے ساتھ پہل کی ہے۔

گذشتہ روز شاہی لیچی کو برآمد کرنے کے لئے منعقدہ اس پروگرام میں ایپیڈا کے صدر ڈاکٹر ایم انگمتھو اور بہار کے شعبۂ زراعت کے چیف سکریٹری این سرون کمار اور دیگر اعلی افسران نے حصہ لیا۔

لیچی کی زندگی کا دورانیہ کم ہونے کے سبب پروسیسڈ شدہ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے لئے برآمدات کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ بہار سے دوسرے ممالک میں بھی لیچی برآمد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

زردالو آم، کترنی چاول اور مگھہی پان کے بعد 2018 میں جی آئی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والی شاہی لیچی بہار کی چوتھی زرعی پیداوارتھی۔ شاہی لیچی کے لئے جی آئی رجسٹریشن مظفر پور کے ’لیچی گروورز ایسوسی ایشن آف بہار‘ کو دیا گیا۔

مظفر پور، ویشالی، سمستی پور، چمپارن، بیگوسرائے اضلاع اور اس کے متصل علاقوں میں شاہی لیچی کی کاشت کے لئے سازگار آب و ہوا موجود ہے۔

چین کے بعد ہندوستان لیچی کا دوسرا بڑا پیداواری ملک

چین کے بعد ہندوستان لیچی کا دوسرا بڑا پیداواری ملک ہے۔ لیچی کا شفاف، ذائقہ دار یا بیج چول یا خوردنی گودا ہندوستان میں ٹیبل فروٹ کی حیثیت سے مشہور ہے۔ جبکہ چین اور جاپان میں اسے خشک یا ڈبے والے شکل میں ترجیح دی جاتی ہے۔ لیچی کی پیداوار میں بہار ہندوستان میں سرفہرست ہے۔

اسٹیٹ اگریکلچر ایکسپورٹ اسکیم تیار کرنے میں اپیڈا حکومت بہار کو زرعی برآمدات اسکیم بنانے میں مدد فراہم کررہا ہے، جو ریاست سے زرعی اور پروسیسڈ فوڈ مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے کے لئے روڈ میپ فراہم کرے گا۔ اسٹیٹ اگریکلچر ایکسپورٹ اسکیم کو حتمی شکل دینے کے بعد مکھانا، آم، لیچی اور دیگر پھلوں اور سبزیوں کی برآمدی صلاحیت کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

حکومت بہار اپیڈا اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ضروری بنیادی ڈھانچے جیسے کسٹم کلیئرنس سہولت، لیبارٹری ٹیسٹنگ کی سہولت ، پیک ہاؤسز اور پری کولنگ سہولیات جیسی ضرروی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لئے کوششیں کر رہی ہے، جو ریاست کی زرعی برآمدات کی صلاحیت کو بروئے کار لاکر اس کو فروغ دے گی۔

بہار کے محکمہ زراعت کے مطابق اپیڈا کے چیئرمین نے اس موقع پر کہا کہ کووڈ کی وبا کے خاتمے کے بعد پٹنہ میں فوڈ پروسیسنگ سے وابستہ تجارتی ایسوسی ایشنوں کے ساتھ ویلیو ایڈیشن اور پروسیسنگ کے بارے میں ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اپیڈا بہار کے کسانوں اور کاشتکاری پروڈکشن کرنے والی تنظیموں کو پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات کے لئے تربیت دے گی۔ اپیڈا، پھلوں اور سبزیوں کی زندگی کا دورانیہ بڑھانے کے لئے ریاست میں ایک پیک ہاؤس بنانے میں بھی مدد کرے گی۔

آندھرا پردیش: نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کو لے جانے والی کشتیوں کے ڈوبنے سے 8 افراد غرق

0
آندھرا پردیش: نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کو لے جانے والی کشتیوں کے ڈوبنے سے 8 افراد غرق
آندھرا پردیش: نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کو لے جانے والی کشتیوں کے ڈوبنے سے 8 افراد غرق

آندھرا پردیش کے سلیرو ندی میں مہاجر مزدوروں کو لے جانے والی دو کشتیاں ڈوب گئیں، آٹھ افراد ڈوب گئے۔ اطلاعات کے مطابق حیدرآباد کے مضافات میں اینٹوں کے بھٹوں میں کام کرنے والے افراد گھر واپس جانے کے لئے سیلور پہنچے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے، گاڑیوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے، وہ دیر رات دیسی کشتیوں پر سوار ہوکر جارہے تھے کہ اچانک کشتیاں ڈوب گئیں۔

حیدرآباد: ریاست آندھرا پردیش کے سلیرو ندی میں نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کو لے جانے والی دو کشتیاں ڈوب گئیں جس کے نتیجہ میں 8 افراد غرق ہوگئے۔

فوری ملی اطلاعات کے مطابق حیدرآباد کے نواح میں اینٹ کی بھٹیوں میں کام کرنے والے افراد اپنے ارکان خاندان کے ساتھ آبائی ریاست واپس ہونے کیلئے کل رات سیلور پہنچے۔ لاک ڈاون کی وجہ سے گاڑیوں کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ رات دیرگئے دیسی کشتیوں میں سوار ہوکر جارہے تھے کہ اچانک کشتیاں ڈوب گئیں۔

بتایا گیا ہے کہ ان کی تعداد تقریبا 35 تھی۔ کشتیوں میں دس تا 11 افراد کو ایک کے بعد ایک لے جایا جارہا تھا کہ یہ حادثہ ہوا۔ معلوم ہوا ہے اس وقت کشتیوں میں 11 سوار تھے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ اس واقعہ میں 8 افراد غرق ہوگئے۔ تین افراد بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ ضلع حکام کی جانب سے بچاؤ راحت کاری کے کام جاری ہیں۔

پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ، ممبئی میں پٹرول کی قیمت 99.71 روپے فی لیٹر

0
پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ، ممبئی میں پٹرول کی قیمت 99.71 روپے فی لیٹر
پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ، ممبئی میں پٹرول کی قیمت 99.71 روپے فی لیٹر

گزشتہ 4 مئی سے اب تک، پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں 13 دن اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ان کی قیمتوں میں 9 دن کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔۔ اس دوران، ممبئی میں پٹرول کی قیمت 99.71 روپے فی لیٹر پہنچ گئی۔

نئی دہلی: پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں منگل کے روز ایک بار پھر اضافہ کیا گیا جس کی وجہ سے ممبئی میں پٹرول کی قیمت 99.71 روپے فی لیٹر پہنچ گئی۔

ملک کے چار بڑے میٹرو شہروں میں آج پٹرول کی قیمت میں 23 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 27 پیسے کا اضافہ کیا گیا، جو ایک نئی تاریخی سطح تک پہنچ گیا۔

گزشتہ 04 مئی سے اب تک، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 13 دن اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ان کی قیمتوں میں نو دن کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔۔ اس دوران، دہلی میں پٹرول 3.04 روپے اور ڈیزل میں 3.59 روپے مہنگا ہوگیا ہے۔

معروف آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کی ویب سائٹ کے مطابق ممبئی میں آج پٹرول کی قیمت 22 پیسے اضافے کے ساتھ 99.71 روپے فی لیٹر ہوگئی۔  ملک کے کچھ شہروں میں یہ پہلے ہی 100 روپے فی لیٹر عبور کرچکا ہے۔

قومی دارالحکومت دہلی میں پٹرول 23 پیسے مہنگا ہوکر 93.44 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 25 پیسے بڑھ کر 84.32 روپے فی لیٹر پہنچ گیا۔ چنئی میں پٹرول کی قیمت 20 پیسے اور کولکاتہ میں 22 پیسے کے اضافے کے ساتھ بالترتیب 95.06 اور 93.49 روپے فی لیٹر ہوگئی۔

ممبئی میں ڈیزل کی قیمت میں 27 پیسے، چنئی میں 24 پیسے اور کولکاتہ میں 25 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ ممبئی میں ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت 91.57 روپے، چنئی میں 89.11 روپے اور کولکتہ میں 87.16 روپے پہنچ گئی۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر، ہر روز صبح چھ بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔

ملک کے چار میٹرو شہروں میں آج پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں حسب ذیل رہیں:

شہر  ——— پیٹرول —— ڈیزل

دہلی ——— 93.44 —— 84.32
ممبئی ——— 99.71 ——91.57
چنئی ———95.06 —— 89.11
کولکتہ ——— 93.49 ——87.16

امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے اخترالایمان نے اپنے حلقے کی بدترین عوامی صحت کے لیے پھر اٹھائی آواز

0
امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے اخترالایمان نے اپنے حلقے کی بدترین عوامی صحت کے لیے پھر اٹھائی آواز
امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے اخترالایمان نے اپنے حلقے کی بدترین عوامی صحت کے لیے پھر اٹھائی آواز

بہار پورنیہ ضلع کے تحت آنے والے امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے جناب اختر الایمان صاحب نے سرسی اسپتال کا جائزہ لیا اور غیر حاضر، لا پرواہ اسٹاف پر کارروائی کے لیے محکمہ صحت کے افسران سے رابطہ کیا

رپورٹ: مفتی منظر محسن

پورنیہ: اے آئی ایم آئی ایم سے منتخب امور اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے جناب اختر الایمان نے پیر کے روز اپنے حلقے کا دورہ کیا اور حلقے کی پسماندگی دور کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی بات کہی۔ در اصل امور اسمبلی حلقہ کا موازنہ اگر بہار کے دوسرے اسمبلی حلقوں سے کیا جائے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ بہار کے پسماندہ ترین اسمبلی حلقوں میں اس کا نمبر سر فہرست ہے، جس کے کئی اسباب ہیں:

آزادی کے بعد سے اب تک کشن گنج پارلیمانی حلقہ اور اسمبلی حلقہ امور پر زیادہ تر کانگریس کا قبضہ رہا ہے، تو اس کی پسماندگی کی ذمہ داری بھی ان سیاسی پارٹیوں اور ان کے نمائندوں پر عائد ہونی چاہیے جن کا یہاں قبضہ رہا ہے، مگر بہار اسمبلی الیکشن 2020 کے نتائج کے بعد غیر منصفانہ طریقے سے بعض افراد کی جانب سے اس کی ذمہ داری مجلس اتحاد المسلمین پر عائد کی جانے کی کوشش ہو رہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ 2020 اسمبلی الیکشن میں امور اسمبلی حلقہ کے ووٹروں نے مجلس کے ریاستی صدر، محترم اخترالایمان صاحب کو بطور امیدوار کام یاب کرایا۔

بتایا جاتا ہے کہ جب سے بہار اسمبلی الیکشن کے بعد سے ہی ریاست بہار سمیت پورا ملک کورونا اور لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہا ہے ایسے میں بھی اسمبلی کے اندر جب بھی سیشن ہوا ہے، اخترالایمان صاحب نے پُر زور طور پر اس پسماندہ ترین اسمبلی حلقہ امور سمیت پورے سیمانچل کے لیے آواز بلند کرنے کی کوشش کی ہے۔

وہ کام جو سابق نمائندے تیس، بیس، دس اور پانچ سالوں میں نہیں کروا سکے اخترالایمان صاحب سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ کام پانچ مہینے میں کروا دیں، یہاں تک کہ ابھی سے لوگوں نے انہیں دھوکہ باز، وعدوں سے مکرنے والا لکھنا شروع کر دیا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ امور، بیسا کے خیر خواہان ابھی ابتدائی سالوں میں اپنے ایم ایل اے سے مطالبات کریں، انہیں اپنے گاؤں کی ضروریات سے آگاہ کریں۔ صحت، تعلیم، سڑک، پل، پلیا جہاں جس شعبے میں کام کی ضرورت ہو اس کی نشاندہی کریں۔ اگر دو تین برس گزرنے کے بعد بھی آپ کا ایم ایل اے آپ کے کسی کام کو پورا نہ کروا سکے تو پھر جمہوری طریقے سے عوامی تحریک چھیڑیں۔ ان سے کام لینے کے لیے پریشر گروپ تشکیل دیں۔ کم از کم دو سالوں میں آپ کے بہت سے کام ہوتے نظر آئیں گے۔ اگر پورے پانچ سالوں کی مدت پوری ہونے تک آپ کا منتخب نمائندہ ایم ایل اے/ ایم پی / مکھیا وغیرہ ایمان داری سے کام نہیں کرے اور واقعی وہ اپنے ووٹروں کے ساتھ دھوکہ کرے، پوری مدت یوں ہی باتوں، وعدوں پر گزار دے تب ووٹروں کو اختیار ہوگا کہ وہ جسے بہتر سمجھیں، جو ان کے وعدوں پر کھرے اتریں ان کا انتخاب کریں۔

عوام کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ ہم نے ووٹ دے دیا اب ہماری ذمہ داری پوری ہو گئی جب کہ ایسا نہیں ہے اگر آپ سچ میں اپنے علاقے کو ترقی یافتہ اور اپنے نمائندہ (نیتا/ لیڈر) کو ترقی کا عملبردار دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو سب سے پہلے بیدار ہونا ہوگا، آپ کو اپنے حقوق کے لیے کم از کم جان کار بننا ہوگا کہ کیا ایک سیاسی رہنما آپ کے ووٹ کی خاطر آپ کے دروازے پر بار بار آ کر خوشامد نہیں کرتا، آپ کے ہاتھ، پاؤں تک نہیں چوم لیتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ آخر وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ ظاہر ہے جواب ہوگا چوں کہ کہ اسے م ووٹ لے کر عہدے تک پہنچنا ہے اس ۔

کہتے ہیں کہ ماں بھی بچے کو دودھ تب پلاتی ہے جب بچہ روتا ہے تو ہمیں بھی اپنے رہنما کے سامنے جمہوری انداز، اخلاقی طریقے سے اپنے مطالبات رکھنے میں نہیں شرمانا چاہیے، ساتھ ہی صبر و یقین کا دامن بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ گزشتہ دنوں نو منتخب ایم ایل اے، صدر مجلس بہار، جناب اخترالایمان صاحب سے کچھ مطالبات رکھی بھی گئی تھیں:

گاؤں سرسی کے کئی لوگوں نے مجھ سے سرسی اسپتال اور بجلی کی آنکھ مچولی سے متعلق شکایت کی تھی، جس کے بعد 16 مئی 2021، شام پونے چھ بجے اخترالایمان صاحب کو فون کر کے اسپتال اور بجلی سے متعلق شکایت ان تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ آج جب وہ سرسی اور مضافات کے دورے پر آے تو میں انہیں پھر اسپتال اور بجلی کے متعلق شکایت کی یاد دہانی کرائی گئی۔

بجلی سے متعلق انہوں نے کہا کہ بولان پاور ہاؤس کو بارہ مسیا سے جوڑنے کی کوشش جاری ہے، اسپتال کے اسٹاف کی لا پرواہی کی یاد دلانے پر انہوں نے محکمہ صحت کے افسران سے اور سرسی اسپتال میں ڈیوٹی پر متعین ڈاکٹر سے ٹیلی فون پر بات کیا، پھر پوری ٹیم کے ساتھ اسپتال پہنچے تا کہ وہ تمام تر لا پرواہیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے آج اپنی نظروں سے سب کچھ دیکھ لیا، پھر وہاں سے دوبارہ محکمہ صحت سے رابطہ کر شکایت درج کروائی اور غیر حاضر اسٹاف کے خلاف کاروائی کا حکم جاری کیا۔

بہار میں لاک ڈاؤن میں مزید ایک ہفتے کی توسیع لیکن زراعت سے متعلق دکانیں روزانہ کھلی رہیں گی, دیگر پابندیاں حسب سابق رہیں گی

0
بہار میں لاک ڈاؤن میں ایک اور ہفتے کی توسیع لیکن زراعت سے متعلق دکانیں روزانہ کھلی رہیں گی, دیگر پابندیاں حسب سابق رہیں گی
بہار میں لاک ڈاؤن میں ایک اور ہفتے کی توسیع لیکن زراعت سے متعلق دکانیں روزانہ کھلی رہیں گی, دیگر پابندیاں حسب سابق رہیں گی

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے جمعرات کو اپنے کابینی رفقا اور سنیئر افسران کے ساتھ ریاست میں جاری لاک ڈاﺅن کے جائزے کے بعد اسے یکم جون 2021 تک بڑھانے کا فیصلہ لیا۔ لیکن اس مرتبہ زراعت سے معلق دکانوں کو ہر دن کھولنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ دیگر پابندیاں حسب سابق رہیں گی۔

پٹنہ: بہار میں پابندی اور تحمل کی وجہ سے کورونا انفیکشن کے معاملوں میں آئی کمی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے ایک بار پھر لاک ڈاﺅن کی مدت کو سات دنوں کیلئے بڑھا دیا ہے۔ لیکن اس مرتبہ زراعت سے معلق دکانوں کو ہر دن کھولنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ دیگر پابندیاں حسب سابق رہیں گی۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار نے جمعرات کو اپنے کابینی رفقا اور سنیئر افسران کے ساتھ ریاست میں جاری لاک ڈاﺅن کے جائزے کے بعد اسے یکم جون 2021 تک بڑھانے کا فیصلہ لیا۔ اجلاس کے بعد ریاست کے چیف سکریٹری تری پراری شرن، ڈیولپمنٹ کمشنر عامر سبحانی، پولیس ڈائریکٹر جنرل ایس کے سنگھل، ایڈیشنل چیف داخلہ سکریٹری چیتنیہ پرساد، صحت اور آفات مینجمنٹ محکمہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹر پرتیہ امرت نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کورونا کی اعلیٰ سطحی میٹنگ وزیراعلیٰ نتیش کمار کی صدارت میں ہوئی۔ جس میں لاک ڈاﺅن کے دوران انفیکشن میں آئی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو آئندہ سات دنوں کیلئے 26 مئی سے یکم جون تک بڑھانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

چیف سکریٹری نے کہا کہ اس بار لاک ڈاﺅن کے دوران کھاد، بیج، جراثیم کش دوائیں اور زرعی آلات سے متعلق دکانوں اور اداروں کو ہر دن کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اب ایسی دکانیں شہری علاقوں میں صبح 06 بجے سے 10 بجے دن تک اور دیہی علاقوں میں صبح 08 بجے سے 12 بجے دن تک کھلی رہیں گی۔ سبھی پابندیاں گذشتہ لاک ڈاﺅن کے رہنماء اصول کے مطابق ہی رہیں گی۔

مسٹر شرن نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ مقامی حالات کا جائزہ لیکر جاری امتناعات کے علاوہ مزید سخت پابندی لگا سکتے ہیں لیکن کسی بھی صورت میں محکمہ داخلہ کے رہنماء اصول کے مطابق لگائی گئی پابندیوں میں نرمی نہیں کرسکتے ہیں۔

شیئر بازار میں تیزی کا رجحان برقرار، سینسیکس میں 111 پوائنٹس کا اضافہ

0
شیئر بازار میں تیزی کا رجحان برقرار، سینسیکس میں 111 پوائنٹس کا اضافہ
شیئر بازار میں تیزی کا رجحان برقرار، سینسیکس میں 111 پوائنٹس کا اضافہ

پچھلے کچھ دنوں میں ملک میں کورونا وائرس کے کم ہونے والے نئے کیسوں کی تعداد کے ساتھ، گھریلو شیئر بازار میں آج مسلسل دوسرے کاروباری دن میں اضافہ ہوا اور سینسیکس میں 111 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

ممبئی: ملک میں گزشتہ چند دنوں سے کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد کم ہونے سے گھریلو شیئر بازاروں میں آج مسلسل دوسرے کاروباری دن تیزی کا رجحان رہا اور سنسیکس میں 111 پوائنٹس کا اضافہ در ج کیا گیا۔

بی ایس ای کا حساس انڈیکس سینسیکس 111.42 پوائنٹس یعنی 0.22 فیصد اضافے کے ساتھ 50651.90 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا، جو 12 مارچ کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی بھی 22.40 پوائنٹس یعنی 0.15 فیصد اضافے کے ساتھ 15197.70 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا، جو اس کی 3 مارچ کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔

مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی طرف سے آج صبح جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کووڈ – 19 کے 222315 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ انفیکشن کی رفتار مستقل طور پر کم ہوئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے مابین تالابندی ختم ہونے کی امیدیں بڑھ رہی ہیں۔

آج کے کاروبار میں درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا رجحان زیادہ مضبوط رہا۔ بی ایس ای کا مڈ کیپ 0.86 فیصد اضافے کے ساتھ 21669.64 پوائنٹس پر بند ہوا۔ چھوٹی کمپنیوں کا انڈیکس اسمال کیپ 0.70 فیصد اضافے سے 23291.87 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بینکاری اور مالیاتی شعبے کی کمپنیوں نے سینسیکس کی تیزی میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا۔ سینسیکس کی کمپنیوں میں پبلک سیکٹر کے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے حصص کی قیمتوں میں 2.73 فیصد کا اضافہ ہوا۔ ایل اینڈ ٹی میں 1.74 فیصد، ایکسس بینک 1.40 فیصد، پاور گرڈ 1.21، آئی ٹی سی 1.17، ماروتی سوزوکی میں 1.09 فیصد اور ڈاکٹر ریڈی لیب میں 1.06 فیصد اضافہ ہوا۔

دریں اثناء، ریلائنس انڈسٹریز میں 0.77 فیصد کی کمی آنے سے مارکیٹ پر دباؤ پڑا۔ جبکہ ٹائٹن کے حصص میں 1.22 فیصد، انڈس اینڈ بینک میں 1.20 فیصد، مہندرا اینڈ مہندرا میں 1.09 فیصد، ہندوستان یونیلیور میں 1.03 فیصد اور الٹرا ٹیک سیمنٹ میں ایک فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

ایشیائی منڈیوں میں ملا جلا رجحان رہا۔ چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.31 فیصد اور جاپان کا نکئی 0.17 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ جنوبی کوریا کے کوسپی میں 0.38 فیصد اور ہانگ کانگ کے ہینگسنگ میں 0.16 فیصد گراوٹ درج کی گئی۔ یورپ میں ابتدائی کاروبار میں جرمنی کے ڈی اے ایکس میں 0.44 فیصد اور برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.30 فیصد کا اضافہ ہوا۔

جموں و کشمیر میں بلیک فنگس وبائی مرض قرار

0
جموں و کشمیر میں بلیک فنگس وبائی مرض قرار
جموں و کشمیر میں بلیک فنگس وبائی مرض قرار

جموں و کشمیر ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے پیر کے روز ایک نوٹیفکیشن جاری کی جس کے تحت بلیک فنگس کو وبائی مرض قرار دیا گیا۔ وادی کشمیر میں سال گزشتہ اس وبائی مرض کے تقریبا نصف درجن معاملے سامنے آئے تھے جن میں سے تین کی موت واقع ہوئی تھی۔

سری نگر: جموں و کشمیر انتظامیہ نے پیر کے روز بلیک فنگس یا مکرمائیکوسس کو وبائی مرض قرار دیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے پیر کے روز ایک نوٹیفکیشن جاری کی جس کے تحت بلیک فنگس کو وبائی مرض قرار دیا گیا۔

بتادیں کہ جموں میں 21 مئی کو بلیک فنگس کا پہلا معاملہ سامنے آیا تھا اور ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والے اس مریض، جو کورونا سے صحتیاب ہوا تھا، کی اسی دن گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں موت واقع ہوئی تھی۔

وادی کشمیر میں بھی سال رواں کا پہلا سیاہ فنگس معاملہ سامنے آیا ہے اور مریض اس وقت گورنمنٹ ڈینٹل کالج سری نگر میں زیر علاج ہے۔

قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں سال گزشتہ اس وبائی مرض کے تقریبا نصف درجن معاملے سامنے آئے تھے جن میں سے تین کی موت واقع ہوئی تھی۔

اسرائیل اور فلسطین پر سلامتی کونسل کا جنگ بندی کی مکمل پاسداری پر زور

0
اسرائیل اور فلسطین پر سلامتی کونسل کا جنگ بندی کی مکمل پاسداری پر زور
اسرائیل اور فلسطین پر سلامتی کونسل کا جنگ بندی کی مکمل پاسداری پر زور

میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اس نئے تنازع کے بارے میں ہفتے کے روز پہلا بیان جاری کیا ہے۔ اس سے پہلے اس کے تین بیانات کو اسرائیل کے حامی امریکہ نے بلاک کردیا تھا۔

اقوام متحدہ: عالمی برادری، مسلم ملکوں اور خاص طور پر مصر کی کوششوں سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان 11 روز ہ لڑائی کے بعد ہونے والی جنگ بندی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دونوں فریق سے اس پر مکمل طور پر عمل کرنے پر زور دیا ہے۔

میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اس نئے تنازع کے بار ے میں ہفتے کے روز پہلا بیان جاری کیا ہے۔ اس سے پہلے اس کے تین بیانات کو اسرائیل کے حامی امریکہ نے بلاک کردیا تھا۔

سلامتی کونسل کا فلسطینیوں کو انسانی امداد مہیا کرنے کی ضرورت پر زور

اس میں سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے 21 مئی کو اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور اس جنگ بندی میں مصر اور دوسرے علاقائی ممالک کے اہم مصالحتی کردار کو سراہا ہے۔ سلامتی کونسل نے بیان میں فلسطینیوں اور بالخصوص اہلِ غزہ کو انسانی امداد مہیا کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

مصر اور دوسرے ممالک کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جمعہ کو جنگ بندی ہوئی تھی۔ اسرائیلی فوج کی گیارہ روزہ فضائی بمباری میں کم سے کم ڈھائی سو فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ ان میں 66 کم سن بچے شامل ہیں۔اس جنگ کے نتیجے میں پہلے سے تباہ حال اور محصورین غزہ کی مشکلات دوچند ہوگئی ہیں۔

آٹھ لاکھ مکین پینے کے صاف پانی سے محروم

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں کم سے کم آٹھ لاکھ مکین پینے کے صاف پانی سے محروم ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق غزہ پر اسرائیلی فوج کی تباہ کن بمباری کے نتیجے میں فلسطینی علاقے کا آب رسانی کا 50 فیصد نظام ناکارہ ہوگیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے غزہ کی تعمیراتِ عامہ اور مکانات کی وزارت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کے 11 روز تک تباہ کن فضائی حملوں میں 17 ہزار مکانات اور تجارتی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں یا انھیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

اس نے مزید بتایا کہ ان میں سے 769 مکانات اور تجارتی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور وہ بالکل استعمال کے قابل نہیں رہے ہیں۔ 258 عمارتوں میں 1042 یونٹس تباہ ہوئے ہیں اور 14538 مکانوں یا تجارتی عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔غزہ شہر اور دوسرے شہری علاقے بمباری سے جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں۔نیز شہر کے برقی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دہلی میں لاک ڈاؤن کو ایک ہفتے کے لئے بڑھانے کا فیصلہ

0
دہلی میں لاک ڈاؤن کو ایک ہفتے کے لئے بڑھانے کا فیصلہ
دہلی میں لاک ڈاؤن کو ایک ہفتے کے لئے بڑھانے کا فیصلہ

اروند کیجریوال نے کہا کہ دہلی میں لاک ڈاؤن اگلے پیر (31 مئی) کی صبح 5 بجے تک نافذ رہے گا اور پابندیاں پہلے کی طرح جاری رہیں گی۔ ویکسینوں کی بہت کمی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ اس پر بھی قابو پالیا جائے گا۔

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ دہلی والوں کی رائے کے مطابق، دہلی میں لاک ڈاؤن کو ایک ہفتے کے لئے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مسٹر کیجریوال نے کہا کہ لاک ڈاؤن اگلے پیر (31 مئی) کی صبح 5 بجے تک نافذ رہے گا اور پابندیاں پہلے کی طرح جاری رہیں گی۔ ویکسینوں کی بہت کمی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ اس پر بھی قابو پالیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگوں سے اس معاملے کے بارے میں پوچھا گیا تو لوگوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کو ایک ہفتے کے لئے بڑھایا جانا چاہئے، لہذا حکومت نے اسے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اگر اسی طرح کورونا کے معاملے کے کم ہونے کا تسلسل جاری رہا تو 31 مئی سے ‘ان لاک’ عمل شروع کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کے عوام کو ویکسین لگوانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ اگر سب کو ویکسین لگادی گئی تو، وہ کورونا کی تیسری لہر سے بچ جائیں گے۔ حکومت دہلی کے عوام کے لئے ویکسین پر زیادہ خرچ کرنے کے لئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کے لوگوں کے نظم و ضبط اور سخت محنت کی وجہ سے ایک ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد کورونا کنٹرول میں نظر ہوتا آرہا ہے۔ اپریل میں، ایک وقت تھا جب انفیکشن کی شرح 36 فیصد تک جا چکی تھی۔ اب انفیکشن کی شرح ڈھائی فیصد ہوگئی ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں 1600 معاملات سامنے آئے ہیں۔